پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ایک اور بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکا میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی 400 وکٹیں مکمل کر لیں۔
26 سالہ قومی پیسر نے میچ کی پہلی اننگز میں تین وکٹیں حاصل کرکے یہ اہم سنگ میل عبور کیا۔ اس کامیابی کے بعد وہ پاکستان کے ان چند بولرز کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 400 یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔
شاہین آفریدی نے صرف 211 اننگز میں یہ کارنامہ انجام دیا، جسے ان کے کیریئر کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ پاکستان کے پانچویں فاسٹ بولر اور مجموعی طور پر نویں پاکستانی بولر ہیں جنہوں نے 400 انٹرنیشنل وکٹیں مکمل کیں۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق کم عمر میں اس سنگ میل کا عبور کرنا اس بات کی علامت ہے کہ شاہین آفریدی مستقبل میں پاکستان کے کامیاب ترین بولرز میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کی تیز رفتار بولنگ، سوئنگ اور نئی گیند کے ساتھ خطرناک اسپیلز نے انہیں دنیا کے بہترین فاسٹ بولرز میں شامل کر دیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ بین الاقوامی وکٹیں لینے کا اعزاز لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم کے پاس ہے، جنہوں نے اپنے شاندار کیریئر میں 916 وکٹیں حاصل کیں۔ اس فہرست میں وقار یونس 789 وکٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ عمران خان 544 وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
پاکستان کے نمایاں بولرز کی فہرست میں شاہد آفریدی، ثقلین مشتاق، سعید اجمل، شعیب اختر اور عمر گل جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ اب شاہین آفریدی نے بھی 400 وکٹوں کے ہندسے کو عبور کرکے اپنے نام کو پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں نمایاں کر لیا ہے۔
شائقینِ کرکٹ اور سابق کھلاڑیوں نے شاہین آفریدی کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں مزید ریکارڈز اپنے نام کریں گے۔
Blog
-

شاہین آفریدی 400 وکٹیں مکمل کرنے والے پاکستانی ایلیٹ بولرز میں شامل
-

ایران جنگ کے اخراجات 29 ارب ڈالر سے تجاوز، پینٹاگون کی خفیہ ای میل لیک
ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مالی اور سفارتی سطح پر بڑے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق جنگی اخراجات بڑھ کر 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ پینٹاگون کی ایک خفیہ ای میل لیک ہونے کے بعد نیٹو اتحاد میں بھی نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
پینٹاگون حکام کے مطابق صرف دو ہفتے قبل امریکی کانگریس کو ایران جنگ پر تقریباً 25 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ دیا گیا تھا، تاہم اب فوجی سازوسامان کی مرمت، ہتھیاروں کی تبدیلی اور آپریشنل اخراجات میں اضافے کے باعث یہ رقم بڑھ کر 29 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی جنگی اخراجات 50 ارب ڈالر تک جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل جنگ امریکی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران جنگ کے دوران امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ایک خفیہ ای میل منظرِ عام پر آنے کے بعد عالمی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس ای میل میں اسپین کو نیٹو سے باہر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسپین کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب اسپین نے ایران جنگ میں امریکا کی حمایت کرنے سے انکار کیا اور امریکی طیاروں کے لیے اپنا فضائی راستہ بند کر دیا۔ پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ اسپین نے نہ صرف تعاون نہیں کیا بلکہ ایران کے حق میں بیانات بھی دیے۔
لیک ہونے والی ای میل میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ امریکا برطانیہ کے فاک لینڈ جزائر پر دعوے سمیت یورپ کے بعض سامراجی معاملات پر اپنی سفارتی حمایت پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ امریکا مستقبل میں بعض اتحادیوں کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کر سکتا ہے۔
ای میل میں ترکیہ اور برطانیہ سمیت ان ممالک کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے جنہیں جنگ میں “کمزور اتحادی” قرار دیا گیا۔ تاہم اس دستاویز سے یہ بھی واضح ہوا کہ امریکا فی الحال نیٹو چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اتحاد کے اندر اپنے مخالف ممالک کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر غور کر رہا ہے۔ -

روس نے دنیا کے طاقتور ترین ’سرمت‘ جوہری میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا
روس نے اپنے جدید ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل “سرمت” کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر دفاعی اور سکیورٹی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ میزائل دنیا کے طاقتور ترین جوہری ہتھیاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق روسی اسٹریٹیجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکائیف نے صدر ولادیمیر پیوٹن کو اس کامیاب تجربے سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر صدر پیوٹن نے کہا کہ روس رواں سال کے اختتام تک سرمت میزائل کو باضابطہ طور پر فوجی سروس میں شامل کر لے گا۔
روسی صدر نے سرمت میزائل کو “دنیا کا سب سے طاقتور جوہری میزائل” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ہزاروں میل دور امریکا اور یورپ میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
روسی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ اس میزائل کے وارہیڈ کی طاقت مغربی ممالک کے کسی بھی مساوی نظام سے چار گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرمت میزائل کی رینج 35 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے، جس کے باعث یہ دنیا کے کسی بھی حصے تک پہنچ سکتا ہے۔
پیوٹن کا کہنا تھا کہ یہ جدید میزائل موجودہ اور مستقبل میں تیار کیے جانے والے میزائل دفاعی نظاموں کو بھی چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق سرمت روس کی اسٹریٹیجک دفاعی طاقت کو مزید مضبوط بنائے گا۔
روسی اسٹریٹیجک میزائل فورسز کے سربراہ سرگئی کاراکائیف نے کہا کہ سرمت میزائل سسٹم سے لیس لانچرز کی تعیناتی روسی فوج کی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گی اور ملک کے اسٹریٹیجک دفاعی مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔ -

اسرائیل سے منسلک 5 نیٹ ورکس ختم، 20 افراد گرفتار
ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں اسرائیل سے منسلک پانچ منظم نیٹ ورکس کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ کارروائیوں کے دوران 20 مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے دھماکا خیز مواد اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ انٹیلی جنس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ نیٹ ورکس مبینہ طور پر “صیہونی حکومت” سے رابطے میں تھے اور ملک کے مختلف علاقوں میں تخریبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے ان گروپس کو بے نقاب کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ گرفتار کیے گئے افراد سے بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد، اسلحہ اور دیگر حساس سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ وزارتِ انٹیلی جنس کے مطابق ملزمان سے تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے مبینہ روابط اور منصوبوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
ایرانی حکام نے اس کارروائی کو ملکی سلامتی کے لیے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی ادارے بیرونی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل متحرک ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر کسی بھی قسم کی تخریبی کارروائی یا جاسوسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایسے دعوے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے پر مختلف حملوں، سائبر کارروائیوں اور خفیہ سرگرمیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے ایرانی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سکیورٹی خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ایرانی حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ ملکی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ -

امریکا ایران جنگ بندی خطرے میں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے خدشات کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں ایک بار پھر بے چینی بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بڑھ کر 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 101 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سیز فائر کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔ یہی خدشات تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش یا محدود سرگرمیوں نے اوپیک ممالک کی پیداوار کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اوپیک کی تیل پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح تک گر گئی ہے۔ یومیہ پیداوار جو پہلے تقریباً 2 کروڑ بیرل تھی، اب کم ہو کر 8 لاکھ 30 ہزار بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کویت کی تیل پیداوار سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں توانائی کی ترسیل اور بحری راستوں کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں صورتحال مزید خراب ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں مہنگائی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں پر پڑیں گے۔
اقتصادی مبصرین کے مطابق عالمی منڈی اس وقت انتہائی حساس صورتحال سے گزر رہی ہے اور سرمایہ کار امریکا ایران تعلقات میں ہونے والی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ -

آئی ایم ایف کا پاکستان سے رئیل اسٹیٹ میں مشکوک لین دین پر سخت نگرانی کا مطالبہ
عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کے خدشات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے نگرانی کا نظام مزید سخت اور مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے خاص طور پر رئیل اسٹیٹ اور دیگر غیر مالیاتی کاروباری و پیشہ ورانہ شعبوں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی کم تعداد کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ادارے کو خدشہ ہے کہ پاکستان میں غیر ٹیکس شدہ اور کالے دھن کا بڑا حصہ جائیداد کے کاروبار میں استعمال ہو رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ “بینفیشل اونرشپ” یعنی حقیقی مالکان کی معلومات کے تبادلے میں موجود خامیوں کو بھی جلد دور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی نگرانی کے لیے قائم ڈی این ایف بی پی نظام کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ یہ نظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بنایا گیا تھا تاکہ مشکوک لین دین کی رپورٹس فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو بھجوائی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور جائیداد کے کاروبار سے وابستہ اداروں پر چھاپے مار کر فروخت اور آمدنی چھپانے کے الزامات کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔ تاہم آئی ایم ایف موجودہ نگرانی کے نظام اور رپورٹنگ کی رفتار سے مطمئن نہیں۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر طویل عرصے سے غیر دستاویزی سرمایہ کاری اور کالے دھن کے استعمال کے حوالے سے زیر بحث رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ مؤثر نگرانی کے بغیر منی لانڈرنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں جس سے معیشت اور بینکاری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی نگرانی، بینکاری شفافیت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق ان سفارشات پر عملدرآمد سے نہ صرف عالمی اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی طویل المدتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ -

مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا بڑا احتجاج، ہڑتال کا عندیہ
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی عوامی احتجاج کرے گی جبکہ ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے حساب سے پاکستان میں پیٹرول کی اصل قیمت تقریباً 271 روپے فی لیٹر بنتی ہے، مگر حکومت مختلف لیوی اور ٹیکسز کی مد میں 117 روپے وصول کر رہی ہے، جس کے بعد عوام کو مہنگا پیٹرول خریدنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور بنگلا دیش میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ نہیں ہوا تو پھر پاکستان میں ہی عوام پر اضافی بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی صورتحال یا عالمی بحران کا اثر صرف پاکستانی عوام پر ڈالنا ناانصافی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے بجلی اور گیس کے بلوں میں شامل فکس چارجز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں عوام سے بجلی کے ٹیکسز کی مد میں 19 کھرب روپے وصول کیے گئے، جس نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے آئی پی پیز معاہدوں پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت صرف چند آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی کر رہی ہے جبکہ باقی معاہدوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقہ اپنے مفادات کے لیے مہنگے معاہدوں کو طول دینا چاہتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 15 مئی کو اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف بڑا احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو ملک گیر ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال جیسے آپشنز بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ -

چین نے انسانوں کو لے جانے والا انوکھا روبوٹ متعارف کرا دیا
چین کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے ایسا حیرت انگیز روبوٹ متعارف کرا دیا ہے جو کسی سائنس فکشن فلم کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ جدید روبوٹ نہ صرف چل سکتا ہے بلکہ انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
چینی کمپنی یونی ٹری روبوٹیکس نے “جی ڈی 01” نامی یہ منفرد روبوٹ تیار کیا ہے۔ یہ روبوٹ عام انسان نما مشینوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ دو ٹانگوں پر چلنے کے ساتھ ساتھ خود کو چار ٹانگوں والے موڈ میں بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ اس منفرد فیچر کی وجہ سے یہ مختلف راستوں اور حالات میں بہتر انداز سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
روبوٹ کی ظاہری شکل ہالی وڈ کی مشہور فلم سیریز “ٹرانسفارمرز” کے کرداروں سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے مستقبل کی ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے تاکہ لوگ آسانی سے اس پر سوار ہو کر سفر کر سکیں۔
اس جدید روبوٹ کا وزن تقریباً 500 کلو گرام ہے اور اس میں ایک شخص یا پائلٹ کے بیٹھنے کے لیے خاص کاک پٹ بنایا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ روبوٹ نہ صرف انسان کو لے جا سکتا ہے بلکہ اپنے مضبوط بازوؤں کی مدد سے اینٹوں کی دیوار گرانے جیسی طاقتور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
جی ڈی 01 اپنی ساخت تبدیل کرکے چار ٹانگوں پر تیزی سے دوڑ بھی سکتا ہے، جس سے یہ مشکل راستوں پر بھی مؤثر انداز میں کام کر سکتا ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا ایسا روبوٹ ہے جو انسان کو لے جانے کے ساتھ دو اور چار ٹانگوں کے درمیان تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی نے اس روبوٹ کی قیمت تقریباً 39 لاکھ یوآن مقرر کی ہے۔ دوسری جانب یونی ٹری روبوٹیکس نے “آر 1” نامی ایک انسان نما روبوٹ بھی متعارف کرایا ہے جس کی قیمت صرف 6 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے، جو امریکی اور یورپی کمپنیوں کے مہنگے روبوٹس کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے روبوٹس نقل و حمل، ریسکیو آپریشنز اور صنعتی کاموں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ -

کویت میں پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے 4 افراد گرفتار
کویت کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے چار افراد کو سمندر کے راستے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے کے بعد کویت میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گرفتار افراد خفیہ طور پر کویت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سکیورٹی اداروں کو مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع ملی جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔
وزارت کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں کویتی مسلح افواج کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
کویتی حکام نے گرفتار افراد کی شناخت مکمل طور پر ظاہر نہیں کی تاہم ابتدائی تحقیقات میں ان کے ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ افراد کسی مخصوص مشن کے تحت ملک میں داخل ہونا چاہتے تھے یا نہیں۔
واقعے کے بعد کویت میں ساحلی نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے جبکہ سمندری حدود میں گشت تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غیر قانونی داخلے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ خلیجی ممالک پہلے ہی سکیورٹی خدشات کے باعث حساس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس گرفتاری کے بعد خطے میں سفارتی اور سکیورٹی سطح پر مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
کویتی وزارتِ داخلہ نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ تمام سکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ -

وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
وزیراعظم شہباز شریف نے آج آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات، دوطرفہ تعاون اور برادرانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور صدر الہام علییف نے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات اور تہنیتی پیغامات کا تبادلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستی اور قریبی تعلقات کو خطے کے لیے اہم قرار دیا۔
ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کی پاکستان کے لیے مسلسل حمایت کو سراہا جبکہ صدر الہام علییف نے بھی دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رکھنے پر زور دیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک عالمی و علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس رابطے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے، جبکہ مستقبل میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی سامنے آ سکتے ہیں۔