Baaghi TV

Blog

  • پاکستان آئندہ ہفتے امریکا، ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرے گا

    پاکستان آئندہ ہفتے امریکا، ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرے گا

    پاکستان آئندہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدرڈونلد ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی معاہدے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان تنازع سے متعلق تقریباً 85 فیصد معاملات پر پیشرفت ہو چکی ہے، تاہم جوہری پروگرام کا معاملہ اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ترک خبر رساں ادارے کے مطابق جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی بحالی متوقع ہے، جبکہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ 14 اور 15 مئی کو صدر ٹرمپ کے دورۂ چین سے قبل کسی ابتدائی سمجھوتے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ سفارتی پیشرفت کے تناظر میں اسلام آباد پر امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہوگا اور پاکستان اس سلسلے میں اہم ثالثی کردار ادا کرے گا۔سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم پیشرفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • سرگودھا،14 سالہ نوجوان کے ساتھ مبینہ بدفعلی کے بعد جان لے لی گئی

    سرگودھا،14 سالہ نوجوان کے ساتھ مبینہ بدفعلی کے بعد جان لے لی گئی

    سرگودھا میں 14 سالہ نوجوان کو مبینہ بدفعلی کے بعد زہریلی شراب پلا کر قتل کیے جانے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس نے مقتول کے والد کی مدعیت میں 2 نامزد جبکہ ایک نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نوجوان کو پہلے مبینہ طور پر بدفعلی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں اسے زہریلی شراب پلا کر قتل کیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق بچے کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے گا جس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد موت کی اصل وجوہات اور واقعے کی نوعیت کے حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔

  • گھر بیٹھے پاسپورٹ درخواست کی سہولت دینے کا فیصلہ

    گھر بیٹھے پاسپورٹ درخواست کی سہولت دینے کا فیصلہ

    حکومتِ پاکستان نے شہریوں کو گھر بیٹھے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت پاسپورٹ کے نظام کو جدید ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا۔

    ڈی جی پاسپورٹس محمد علی رندھاوا کی زیرِ صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں نادرا کی ٹیکنیکل ٹیم نے شرکت کی، جہاں پاسپورٹ کے موجودہ نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف اصلاحات کی منظوری دی گئی۔اجلاس کے دوران شہریوں کو آن لائن اور گھر بیٹھے پاسپورٹ اپلائی کرنے کی سہولت دینے کے فیصلے پر اتفاق کیا گیا، جس سے عوام کو دفاتر کے چکر لگانے سے نجات ملنے کی توقع ہے۔حکام کے مطابق وزیرِ داخلہ کے وژن کے تحت پاسپورٹ سسٹم میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروانے اور موجودہ پالیسیوں کو مکمل ڈیجیٹل نظام کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے پر بھی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید اصلاحات کے ذریعے پاسپورٹ کے اجرا کے عمل کو مزید تیز، شفاف اور آسان بنایا جائے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • معرکہ حق میں قوم کا اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا،اسحاق ڈار

    معرکہ حق میں قوم کا اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے جب قوم یکجا ہو جاتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی بنیادوں کو متزلزل نہیں کرسکتی، معرکہ حق میں قوم کا اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا۔

    معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اپنے ویڈیو بیان میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا آج ہماری قومی تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب ہے، یہ محض کیلنڈرکی ایک تاریخ نہیں بلکہ جرات، اتحاد و غیرمتزلزل عزم کی داستان ہے، پاکستانی قوم کو متحد ہونے پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتاہوں،اسحاق ڈار کا کہنا تھا عوام، مسلح افواج کے بہادر افسروں اور جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، جب قوم یکجا ہو جاتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی بنیادوں کو متزلزل نہیں کرسکتی، معرکہ حق میں قوم کا اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا، فیلڈ مارشل کی قیادت میں دشمن کو فیصلہ کن جواب دیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے جارحیت کا متوازن اور فیصلہ کن جواب دیا، بھارتی جنگی طیاروں سمیت مختلف عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، پاکستان نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ وہ اپنی خودمختاری پرکبھی سمجھوتا نہیں کرےگا۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا فعال سفارتکاری کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف بھر پور انداز میں پیش کیا، گزشتہ سال بھارت نے جارحیت مسلط کی، پاکستان نے ضبط وتحمل کا مظاہرہ کیا، کشمیر سمیت بنیادی تنازعات کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، مسئلہ کشمیرکاحل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہونا چاہیے،اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، قومی سلامتی کو لاحق ہرخطرےکا جواب پوری قوت سے دیا جائےگا، پاکستان معیشت، تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں بھی مضبوط ہوگا۔

  • 93 اساتذہ کی ترقی ے آرڈرز ،ےتعلیمی حلقوں میں خوی کی لہر

    93 اساتذہ کی ترقی ے آرڈرز ،ےتعلیمی حلقوں میں خوی کی لہر

    قصور
    93 خواتین اساتذہ کی ترقی کے آرڈرز جاری، تعلیمی حلقوں میں خوشی کی لہر

    ضلع قصور میں عرصہ دراز سے زیرِ التوا خواتین اساتذہ کی ترقیوں کا عمل مکمل ہونے پر تعلیمی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ایلیمنٹری ونگ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک پروقار تقریب میں 93 خواتین اساتذہ کو پی ایس ٹی (PST) سے ای ایس ٹی (EST) کے عہدوں پر ترقی کے آرڈرز تقسیم کیے گئے۔

    تقریب میں سی ای او ایجوکیشن قصور شوکت علی خاں اور ڈی ای او ایلیمنٹری محترمہ ناصرہ بشیر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ڈپٹی ڈی ای او پتوکی محترمہ صباء خالد اور ڈپٹی ڈی ای او کوٹ رادھا کشن محترمہ طلعت رانا بھی موجود تھیں۔

    اس موقع پر عربی، جنرل اور سائنس میتھ کے بی ایس آنرز حامل وہ اساتذہ جو کئی برسوں سے ترقی کے منتظر تھے، آرڈرز وصول کرتے ہوئے جذباتی دکھائی دیں۔ ترقی پانے والی اساتذہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی ذاتی دلچسپی اور اساتذہ دوست پالیسیوں کے باعث برسوں سے رکا ہوا ترقیوں کا عمل شفاف انداز میں مکمل ہوا۔

    تقریب کے اختتام پر خوشی کے اظہار کے طور پر کیک بھی کاٹا گیا اور اس یادگار موقع کو اساتذہ نے اپنے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا

  • معرکہ حق،ہر جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور عزم سے دیا جائے گا،افواج کا عزم

    معرکہ حق،ہر جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور عزم سے دیا جائے گا،افواج کا عزم

    معرکۂ حق کا پہلا سال مکمل ہونے پر پاک افواج کا اہم پیغام سامنے آیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر پاک افواج، خصوصاً پاک فضائیہ، قومی دفاع کی ایک فیصلہ کن اور تاریخی کامیابی کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں،معرکہ حق نے قومی اعتماد کو نئی جدت دی، ادارہ جاتی عزم کو مزید مستحکم کیا اور پاک فضائیہ کی جدید جنگی تیاریوں کو دنیا پر ثابت کیا،پاک فضائیہ جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ سسٹمز اور niche و disruptive صلاحیتوں کے ذریعے مستقبل کی فضائی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے،ملٹی ڈومین آپریشنز میں مہارت نے پاک فضائیہ کو جدید فضائی جنگ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک موثر اور فیصلہ کن فورس بنا دیا ہے،معرکہ حق کے دوران انجام دیے گئے آپریشنز فضائی جنگ کی تاریخ میں منفرد، غیر معمولی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر تھے،پاک فضائیہ کی کامیابیوں نے پاکستانی قوم کے اعتماد، حوصلے اور جذبۂ حب الوطنی کو مزید مضبوط کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، جبکہ اس کی مسلح افواج ذمہ دارانہ اور پختہ اسٹریٹجک سوچ کی حامل ہیں،پاکستانی مسلح افواج کی ہر تیاری، ہر کوشش اور ہر صلاحیت کا محور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا فروغ ہے،پاکستان کے لیے امن ہمیشہ عزت، وقار اور خودمختار برابری کے اصولوں سے جڑا رہا ہے،پاک افواج خطے کی بدلتی جیوپولیٹیکل صورتحال اور دشمن کی جارحانہ عسکری تیاریوں سے مکمل طور پر باخبر ہیں،پاکستانی مسلح افواج مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید صلاحیتوں، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہیں،پاک افواج مستقبل کے جنگی ماحول کے لیے پہلے سے زیادہ تیار، مرکوز اور مکمل طور پر مستعد ہیں،پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت یا دشمنانہ عزائم کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت، درستگی اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا،معرکہ حق میں دشمن نے پاکستان کی قوت، تیاری اور فیصلہ کن صلاحیت کا مشاہدہ کیا، آئندہ ہر مہم جوئی کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا، اِن شاء اللہ،آج رات پوری قوم پاک فضائیہ کے ہر جوان، افسر اور اہلکار کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت، قربانی، انتھک محنت اور غیر معمولی آپریشنل توجہ پر خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، جنہوں نے پاکستان کی فضائی حدود کے تاریخی دفاع میں کلیدی کردار ادا کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی جرات، تیاری اور بروقت کارروائی قوم کی عسکری تاریخ کا روشن باب بن چکی ہے،پاک فضائیہ نے اپنے عزم، مہارت اور جذبۂ قربانی سے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا اور قومی سلامتی کو ناقابلِ تسخیر بنایا،پاک فضائیہ اپنی پیشہ ورانہ برتری، جدید جنگی صلاحیت اور غیر متزلزل عزم کے باعث آج بھی دنیا کی بہترین فضائی افواج میں نمایاں مقام رکھتی ہے،پاک فضائیہ اِن شاء اللہ ہمیشہ “Second to None” رہے گی اور اس عظیم قوم کے لیے فخر، طاقت اور اعتماد کی علامت بنی رہے گی،پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • ایران کی کسی بھی قسم کی دھمکیاں اور مداخلت کو قابل قبول نہیں، یو اے ای

    ایران کی کسی بھی قسم کی دھمکیاں اور مداخلت کو قابل قبول نہیں، یو اے ای

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی قابلِ قبول نہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے اماراتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور آزاد فیصلہ سازی کے خلاف کسی بھی الزام یا دھمکی کو قطعی طور پر رد کرتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بین الاقوامی تعلقات اور دفاعی شراکت داریاں مکمل طور پر اس کی خودمختار پالیسی کا حصہ ہیں اور کسی بھی فریق کو ان تعلقات کو دھمکی، مداخلت یا اشتعال انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں، ملک کی سلامتی، شہری بنیادی ڈھانچے اور عوام کے تحفظ کو براہِ راست یا بالواسطہ نشانہ بنانے والی کوئی بھی زبان غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے، جو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے مترادف ہے متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا کہ دباؤ یا الزامات کی کوئی بھی کوشش امارات کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

    گذشتہ روز ایران کی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی میزائل یا ڈرون حملے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اماراتی وزارتِ دفاع کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا تھا ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی افواج نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات پر کوئی حملہ نہیں کیا اور اگر ایسا کوئی اقدام ہوتا تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا، ایران اب تک تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم اگر امارات کی سرزمین سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے امارات پر الزام عائد کیا کہ اس کی سرزمین خطے میں بیرونی فوجی موجودگی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جو علاقائی امن کے لیے خطرناک ہے۔

  • معرکہ حق کا ایک سال مکمل،مظفرآباد میں  پروقار تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل،مظفرآباد میں پروقار تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نڑول اسٹیڈیم میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ’پاکستان زندہ باد‘ اور ’پاک فوج زندہ باد‘ کے نعروں سے فضا گونج اٹھی اس موقع پر شہدا اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا،تقریب میں بھارت کے خلاف معرکہ حق کی کامیابی پر مبنی ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی، نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے متعلق فلم نے حاضرین کو افسردہ کر دیا-

    تقریب میں معروف گلوکارہ آئمہ بیگ اور علی عظمت سمیت دیگر معروف گلوکاروں نے پرفارم کرکے تقریب کو چار چاند لگا دیے پروگرام کے دوران مختلف ملی نغمے پیش کیے گئے، جبکہ بچوں نے ٹیبلو بھی پیش کیا کشمیری ثقافت سے جڑے نغموں نے بھی محفل کو چار چاند لگا دیے۔ شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم لہرا کر یکجہتی کا اظہار کیا تقریب میں نتاشہ خان اور ڈاکٹر عبدالباسط سمیت دیگر فنکاروں نے بھی ملی نغمے پیش کیے۔

    تقریب میں ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، طلبہ نے معرکہ حق کی کامیابی پر پاک فوج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جوشیلے نعرے بھی لگائے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھورنے کہاکہ گزشتہ برس بھارت نے مشکوک واقعے کو بنیاد پر پاکستان پر الزام تراشی کی اور پھر حملہ کردیا،پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن ہم اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پاکستان علاقائی سالمیت کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے، بھارت کی جانب سے خطے کا امن سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی،پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، جبکہ سفارتی محاذ پر بھی کامیابی حاصل کی۔

  • چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وقت کے وسیع دامن میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جو محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک خوشگوار لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی قیادت ایک ایسے صاحبِ علم، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان کے سپرد کی گئی، جنہیں میں نہ صرف ایک وائس چانسلر کے طور پر بلکہ ایک دیرینہ رفیق، ہم خیال ساتھی اور مخلص دوست کے طور پر جانتا ہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر تقرری بلاشبہ ایک ادارہ جاتی فیصلے سے کہیں بڑھ کر ایک فکری، علمی اور اخلاقی سمت کا تعین ہے—ایک ایسا فیصلہ جو آنے والے برسوں میں اس جامعہ کی شناخت کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرے گا۔

    زندگی کے سفر میں بہت سے لوگ ملتے ہیں، کچھ محض راہگزر کے ساتھی ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی انسان کی سوچ، فکر اور طرزِ عمل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید اُنہی شخصیات میں سے ہیں جن کے ساتھ گزرا ہوا وقت آج بھی ذہن کے دریچوں میں تازہ ہے۔جامع زرعیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر طارق جاوید ،ڈاکٹرمحسن رضا اور راقم شاہد نسیم یک جان تین قالب تھے۔چار دہائیوں سے ذیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اور خود غرض زمانے کے نشیب وفراز نے ہماری دوستی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ ہم آج بھی ایک دوسرے کے لئے ویسے ہی ہیں ۔ڈاکٹر طارق جاوید کی شخصیت میں جو سادگی ہے، وہ بناوٹ سے پاک ہے؛ جو محنت ہے، وہ دکھاوے سے عاری ہے؛ اور جو قابلیت ہے، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہی اوصاف انہیں ایک عام استاد سے ایک غیر معمولی قائد میں ڈھالتے ہیں۔

    تعلیم کے میدان میں اصل کامیابی صرف ڈگریوں کے حصول یا عہدوں کے ارتقاء سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ انسان اپنے علم کو کس حد تک دوسروں کے لیے روشنی بنا پاتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی زندگی اسی اصول کی عملی تصویر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ علم کو بانٹنے، طلبہ کو آگے بڑھانے اور تحقیق کے نئے دروازے کھولنے کو اپنا نصب العین بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ اس عظیم ذمہ داری پر فائز ہوئے ہیں تو دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منصب ان کے لیے نہیں بلکہ وہ اس منصب کے لیے بنے ہیں۔

    چولستان یونیورسٹی، جو پہلے ہی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے، اب ایک ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو نہ صرف ادارے کی علمی ضروریات کو سمجھتا ہے بلکہ دورِ حاضر کے تقاضوں سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ آج کا زمانہ صرف روایتی تعلیم کا نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور عملی مہارت کا زمانہ ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی سوچ میں یہی ہم آہنگی موجود ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک یونیورسٹی کی ترقی صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اسے معاشرے، صنعت اور معیشت کے ساتھ جڑنا ہوگا۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً تحقیق کو تجارتی مواقع میں بدلنے، طلبہ کو عملی میدان کے لیے تیار کرنے اور قومی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوگی۔

    مجھے بخوبی یاد ہے کہ بطور ساتھی انہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں اعتماد اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ وہ مسائل کو رکاوٹ نہیں بلکہ مواقع سمجھتے ہیں۔ یہی رویہ آج ایک وائس چانسلر کے طور پر ان کی سب سے بڑی طاقت بنے گا۔ کیونکہ اداروں کی ترقی صرف وسائل سے نہیں بلکہ وژن، عزم اور قیادت کی مضبوطی سے ہوتی ہے—اور یہ تینوں خوبیاں ان کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

    ایک سچا معلم ہمیشہ اپنے شاگردوں کے مستقبل کو اپنے حال پر ترجیح دیتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید بھی اُن اساتذہ میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی توانائیاں صرف اپنی ذات کی ترقی پر صرف نہیں کیں بلکہ اپنے طلبہ کو بھی کامیابی کی راہوں پر گامزن کیا۔ ان کے شاگرد آج مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، اور یہ ان کی تربیت کا عملی ثبوت ہے۔ ایسے میں جب وہ ایک بڑے ادارے کی قیادت سنبھالتے ہیں تو یہ توقع بجا ہے کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو روشن کریں گے۔

    چولستان کے وسیع میدان، جو کبھی صرف ریگستان کی پہچان تھے، آج علم و تحقیق کے نئے افق بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس خطے میں تعلیم کا فروغ نہ صرف مقامی سطح پر ترقی لائے گا بلکہ قومی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی تقرری اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی ادارہ بن سکتی ہے۔

    یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کے دور میں تعلیمی اداروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے—وسائل کی کمی، معیارِ تعلیم کا دباؤ، اور عالمی سطح پر مقابلہ۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب قیادت مضبوط ہو تو مشکلات راستہ نہیں روکتی بلکہ راستے بناتی ہیں۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی پیشہ ورانہ بصیرت اور انتظامی صلاحیتیں ان چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد ہیں بلکہ ایک مدبر منتظم بھی ہیں، اور یہی امتزاج کسی بھی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

    بطور دوست، ان کی کامیابی میرے لیے ذاتی خوشی کا باعث ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک اجتماعی مسرت ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک ایسے رہنما کے سپرد ہوا ہے جو دیانت، محنت اور قابلیت کا پیکر ہے۔ میں اور ڈاکٹر محسن رضا دل کی گہرائیوں سے انہیں اس عظیم منصب پر فائز ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، ہمت اور حکمت عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھا سکیں۔
    مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں چولستان یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرے گی بلکہ تحقیق، جدت اور معاشی ترقی کے نئے باب بھی رقم کرے گی۔ ان کا وژن، ان کی محنت اور ان کی قیادت اس ادارے کو ایک نئی شناخت دے گی—ایک ایسی شناخت جو قومی اور عالمی سطح پر باعثِ فخر ہوگی۔

    آخر میں، میں اپنے اس عزیز دوست، قابل ساتھی نو منتخب وائس چانسلر کو یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ کی یہ کامیابی،تعیناتی آپ کی محنت کا ثمر توہے ہی۔۔۔لیکن آج خوشی کے اس موقع پرمجھے آپ کے شریف النفس والد محترم یاد آرہے ہیں جو جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ایڈمن آفس کے قابل رشک ملازم تھے ،جنہوں نے کبھی اپنی خدمات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔۔۔۔۔ میرا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ ان ہی کی دعاؤں کی بدولت یہ ممکن ہوا ہے اور آپ کا مستقبل اس سے بھی زیادہ روشن ہے۔ آپ کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً ترقی کی نئی منازل طے کرے گی، اور آپ کا نام ان رہنماؤں میں شامل ہوگا جنہوں نے نہ صرف اداروں کو سنوارا بلکہ قوموں کے مستقبل کو بھی روشن کیا۔

    اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور آپ کے علم، بصیرت اور قیادت کو اس ملک و قوم کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین۔

  • مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    مزدور کے لیے مزدور ہونا اتنا تلخ احساس نہیں جتنا مجبور ہونا ہے مہنگائی بے روزگاری وہ سیاسی دہشت گردی ہے جو ایک مزدور کو مجبور بنا کر اُسی کے ہاتھوں مروا دیتی ہے اس بے حسی و بے یارو مددگار دور میں جی کر زندگی پہ احسان کرنے والے مزدور کے ہاتھوں کے چھالے ایک عبادت گزار کے ماتھے پر بنے سجدوں کے نشان سے زیادہ خدا کو محبوب ہیں۔

    حقیقی مزدور وہ ہے جو محنت میں دیانتدار ہو مزدور کی اُجرت کے بارے میں ایک حدیث بہت بیان کی جاتی ہے کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو اس حدیث کی حقیقی وضاحت سے آشنا ہونا ہی ایک حقیقی مزدور کی پہچان کرواتا ہے یعنی مزدوری اس ایمانداری سے کی جائے کہ پسینے سے شرابور ہو جائے جو مزدوری کے ساتھ مخلص نہیں وہ محنت چور ہے اُس کی اُجرت برکت سے محروم ہے سب سے بہترین کمائی انسانی ہاتھوں کی محنت ہے مزدور حادثے کا شکار تو ہو سکتا ہے مگر بیماری کا نہیں۔مزدوری کا جسم ورزش کا محتاج نہیں ہوتا۔مزدوری انبیاء اکرام کا پیشہ رہا ہے۔حضرت سلیمان ؑ کو خدا نے زمین کی ہر مخلوق پر حکومت عطا کی تھی مگر وہ اپنا گزارا ٹوکریاں بنانے کی مزدوری سے کیا کرتے تھے۔حضرت داود ؑ نے خدا سے مزدوری مانگ کر لی تھی اُن کے ہاتھوں میں لوہا موم کی طرح نرم ہو جایا کرتا وہ جنگی لباس زرا بناتے گویا بکریاں اونٹ چرانے سمیت ہر قسم کی مزدوری خدا کے محبوب بندوں کا پیشہ رہی وہ پیشہ جو خدا کی دوستی پر فائز کرتا ہے مزدور مزدوری سے نہیں حکومت کی طرف سے پیدا کیے گئے سخت حالات کی مجبوری سے مارا جاتا ہے۔روز کمانا،روز کھانا، مزدور ڈے کی چھٹی کے دن بھی کام پر لا کھڑا کرتا ہے اس دن چھٹی کی بجائے اُجرت دوگنی دے کر مزدور ں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

    میں نے ایسے انصاف پسند مزدور بھی دیکھے ہیں جو اپنی روٹی ساتھ لیکر کام پہ جاتے ہیں مزدور کی روٹی جواس کی ہتھیلی کی چنگیر پر رکھی ہے اس کے اوپر ایک پیاز ہوتا ہے تازہ پیاز وٹامن اے بی اور سی کا مجموعہ ہوتا ہے کسی اور غذا میں یہ تینوں وٹامن یکجا نہیں پائے جاتے پیاز مزدور کی مادری خوراک ہے۔

    مزدور کسی بھی ریاست کے حسن سلوک کا خاص مستحق طبقہ ہے مزدوروں کی تعداد اُس ملک میں سب سے زیادہ ہوتی ہے جہاں عام عوام کے لیے ماہر و قابل احباب کے زیرسایہ تعلیم و تربیت کے معیاری فری انتظامات نہ ہوں اور اگر ہوں تو وہ اتنے مہنگے ہوں کہ ایک مزدور باآسانی اپنے بچوں کو پرائیویٹ طور پر ترقی کے مقام پر نہ پہنچا سکے۔ترقی یافتہ ممالک میں مزدور بھی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ان کی یومیہ اُجرت اتنی پرکشش ہوتی ہے کہ انہیں مزدوری احساس کمتری کی نظر سے دیکھا جانے والا پیشہ نہیں لگتا۔حقوق کی فراوانی میں باوقار زندگی گزارنے والے مزدوری پیشے میں رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو شاندار مستقبل سے ہمکنار کر سکتے ہیں ہمارے ہاں انسانی حقوق کے فقدان نے مزدور کو صلہ رحمی کا مستحق بنا کے رکھا ہوا ہے کسی بھی دولت یافتہ کاروباری شخص کی ترقی کے پیچھے مزدورں کی محنت کا ہاتھ ہوتا ہے۔

    مزدور کے حالات زندگی کی عکاسی ایک دردناک کیفیت ہے جیسے بیان کرتے قلم بھی اشک بار ہو جاتا ہے مگر احساس مزدور اجاگر کرنے کے لیے اس کرب سے گزرنا بہت ضروری ہے تاکہ صاحب اختیار لوگ کی رُوحوں کو جھنجھوڑا جا سکے مزدور اور مجبور ایک ہی تصویر کے دورُخ ہیں وہ مزدور ہی ہوتا ہے جو بھیک میں ملے پانی کو ٹھکرا کر صبر کے گھونٹ پی کر سفید پوشی کی لاج رکھتا ہے بھٹے پر مزدوری کرتی ماں کو دیکھ کر اس کا بچہ اپنے نصیب کو اس لیے کوستا ہے کہ وہ اپنی جنت کو دھوپ میں جلتا دیکھ رہا ہوتا ہے اس مزدور ماں کے احساس و جذبات کی قیمت کاغذ کے نوٹ ادا نہیں کر سکتے اسی لیے خدا نے اپنی دوستی کا اجر قائم کر رکھا ہے۔جہاں مزدوری کی اُجرت سے زیادہ ضروریات زندگی مہنگی ہوں وہاں ناانصافی کی حکومت قائم ہوتی ہے۔زمین پر قائم ملکوں کے نام پر اُن انسانوں کی قربانیاں دی جاتیں ہیں جن کے لیے خدا نے زمین تخلیق کی ہے گویا حساب زمین کا نہیں زمین پر بسنے والے انسانوں کا لیا جائے گا۔اس زمین پر بسنے والی مزدورں کی لاتعداد گنتی نے خدا کو بتانا ہے کہ بجلی گیس پانی راشن دوائی انصاف سمیت تمام ضروریات زندگی اتنی مہنگی تھیں کہ ہم پسینے کی جگہ خون بھی بہا دیں تب بھی ساری سہولتیں خرید نہیں سکتے اور جنہوں نے یہ ظلم مسلط کیے ہیں اُن کے لیے یہ سب مفت دستیاب ہوتی ہیں اُس دن محب وطنی کا لبادے میں چھپے انسانی حقوق کے مجرموں کو حسرت ہو گئی کہ کا ش ہم بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھنے کی بجائے وہ مزدور ہی ہوتے جن کا دوست خدا آج ہم سے ان کے حقوق کا حساب مانگ رہا ہے۔مزدور سمیت تمام پیشوں سے وابستہ انسانوں کے جائز حقوق کی زمہ داری ریاست کو چلانے والوں پر ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے وہ ریاست انہی کے حقوق کی چوری سے اپنی نسلوں کے مقدر سنوار رہی ہے اس ناانصافی کے نظام میں کئی صاحب کردار لوگ بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے مزدور ابھی تک جیے جارہے ہیں۔ مزدور ملکی و عوامی ترقی کے معمار ہیں ان کو مہنگائی کی سولی سے اتار کر سستی ضروریات زندگی سے وابستہ کرنا ہی ان کا حق دینا ہے۔