Baaghi TV

Blog

  • ایران جنگ میں پاکستان کا کردار تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا، خواجہ آصف

    ایران جنگ میں پاکستان کا کردار تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا، خواجہ آصف

    ‎سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق حالیہ جنگ اور کشیدگی کے دوران پاکستان نے جو سفارتی کردار ادا کیا، وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یومِ عاشور ایسے وقت میں آیا جب خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام نے اپنے طرزِ عمل سے حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کی یاد تازہ کر دی۔
    ‎وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان صلح کی راہ ہموار کرنے کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں کیں، جس کے باعث ملک پوری امت مسلمہ کے سامنے سرخرو ہوا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا کردار تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آنے والی نسلیں بھی اس سفارتی کامیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گی۔
    ‎خواجہ آصف نے خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دعا ہے لبنان اسرائیلی جارحیت سے نجات حاصل کرے اور دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں آزادی، امن اور استحکام عطا فرمائے۔

  • 
تشدد کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، وزیراعظم کا پیغام

    
تشدد کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، وزیراعظم کا پیغام

    ‎اسلام آباد: تشدد کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار افراد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہر قسم کے تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ تشدد کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہے اور یہ انسانی وقار، بنیادی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام بھی انسانی جان، عزت اور وقار کے تحفظ پر زور دیتا ہے، اسی لیے پاکستان تشدد کے خاتمے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریوں پر کاربند ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ تشدد کا شکار افراد کو بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کا احتساب بھی ناگزیر ہے۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت متعلقہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد، قانونی اصلاحات اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
    ‎شہباز شریف نے فلسطین اور بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں علاقوں میں شہری ریاستی جبر، تشدد، غیر قانونی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں۔
    ‎وزیراعظم نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کا نوٹس لیں، ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائیں اور تشدد کے متاثرین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
    ‎انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، جو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی حق ہے۔

  • ملک بھر میں یومِ عاشور کے جلوس اپنے مقررہ راستوں پر گامزن

    ملک بھر میں یومِ عاشور کے جلوس اپنے مقررہ راستوں پر گامزن

    ‎ملک بھر میں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں یومِ عاشور کے جلوس اور مجالس عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہیں۔ کراچی، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، شیخوپورہ، ایبٹ آباد، لودھراں، پاکپتن، قصور اور دیگر شہروں میں مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں پر رواں دواں ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
    ‎کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک میں مجلسِ عزا کے اختتام کے بعد برآمد ہوا۔ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے پولیس کے پانچ ہزار سے زائد اہلکار اور رینجرز کے جوان تعینات ہیں۔ جلوس کے راستوں اور اطراف میں موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رکھی گئی ہے، ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر کے متبادل راستے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ اطراف کی گلیوں، بازاروں اور دکانوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔
    ‎راولپنڈی میں مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ سے برآمد ہوا، جہاں آٹھ ہزار سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کوئٹہ میں شہداء چوک سے مرکزی جلوس برآمد ہوا، جس کے روٹس مکمل طور پر سیل کر دیے گئے ہیں۔ شہر میں ایف سی، پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے تقریباً 17 ہزار اہلکار تعینات ہیں، جبکہ جلوس کے ساتھ 1200 رضاکار اور 30 طبی کیمپ بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    ‎پشاور، حیدرآباد، شیخوپورہ، ایبٹ آباد، لودھراں، پاکپتن، قصور اور دیگر شہروں میں بھی شبیہِ علم، ذوالجناح اور تعزیوں کے جلوس روایتی راستوں پر جاری ہیں۔ متعلقہ اضلاع میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور نگرانی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
    ‎ملک بھر میں یومِ عاشور کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  • حق مہر مانگنے پر خاتون کو جوتے سے پانی پلانے کا مبینہ تشدد، مقدمہ درج

    حق مہر مانگنے پر خاتون کو جوتے سے پانی پلانے کا مبینہ تشدد، مقدمہ درج

    ‎کوٹ ادو: پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں حق مہر کا مطالبہ کرنے پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور جوتے سے پانی پلانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
    ‎پولیس کے مطابق یہ واقعہ 20 جون کو تھانہ دائرہ دین پناہ کی حدود میں پیش آیا، جبکہ خاتون کے والد کی مدعیت میں 23 جون کو مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون کی شادی دو سے تین سال قبل حسنین نامی شخص سے ہوئی تھی اور نکاح کے وقت دو تولہ سونا حق مہر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔
    ‎مدعی کے مطابق خاتون کو پہلے بھی گھریلو تشدد کا سامنا رہا۔ واقعے کے روز جب اس نے اپنا حق مہر طلب کیا تو مبینہ طور پر شوہر اور دیگر ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی جوتے سے پانی پینے پر مجبور کیا۔ اس دوران واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
    ‎ایف آئی آر کے مطابق اس مقدمے میں خاتون کے شوہر حسنین، اعجاز اور ایک نامعلوم ملزم کو نامزد کیا گیا ہے۔ مدعی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمان نے انہیں اور ان کے بیٹے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی، انڈونیشیا کا بڑا اقدام

    16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی، انڈونیشیا کا بڑا اقدام

    ‎انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی اور سخت ڈیجیٹل ضوابط کا باقاعدہ نفاذ شروع کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کی لت، سائبر بُلیئنگ اور آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
    ‎نئے قوانین کے تحت ایسے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جنہیں حکومت نے "ہائی رسک” قرار دیا ہے، کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس فوری طور پر غیر فعال کریں۔ ان پلیٹ فارمز میں یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، ایکس، بیگو لائیو اور روبلوکس شامل ہیں۔
    ‎حکومتی اعداد و شمار کے مطابق نئے ضوابط پر عمل درآمد کے بعد ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت مختلف پلیٹ فارمز نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے 47 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
    ‎نئے قوانین کے تحت والدین اور سرپرستوں کو بھی زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔ اگر کوئی بچہ کسی ایسے صارف سے رابطہ کرنا چاہے جس کی شناخت واضح نہ ہو، تو اس کے لیے والدین کی اجازت لازمی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو نامعلوم افراد سے رابطے اور ممکنہ آن لائن استحصال سے بچانا ہے۔
    ‎حکومت نے تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مؤثر عمر کی تصدیق کا نظام متعارف کرانے کا بھی پابند بنایا ہے تاکہ کم عمر بچے غلط معلومات فراہم کر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نہ بنا سکیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
    ‎یہ اقدامات جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی نوعیت کے پہلے جامع قوانین قرار دیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انڈونیشیا نے بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل فلاح کو ترجیح دیتے ہوئے ایک اہم مثال قائم کی ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور عمر کی درست تصدیق سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

  • اسرائیل نے جنوبی لبنان کے قصبے پر انخلا کے پمفلٹس گرا دیے

    اسرائیل نے جنوبی لبنان کے قصبے پر انخلا کے پمفلٹس گرا دیے

    ‎بیروت: اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک قصبے پر فضائی ذریعے سے پمفلٹس گرا کر شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اس نوعیت کا انخلا کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
    ‎لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ قصبہ جنوبی لبنان میں اس علاقے کے قریب واقع ہے جہاں اسرائیلی فوج اب بھی اپنی پوزیشنیں برقرار رکھے ہوئے ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا، جبکہ دوسری جانب امریکا میں دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔
    ‎حالیہ پیش رفت نے جنگ بندی کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے اور علاقے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • ‎وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 589 ہو گئیں، بین الاقوامی امدادی ٹیمیں پہنچنا شروع

    ‎وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 589 ہو گئیں، بین الاقوامی امدادی ٹیمیں پہنچنا شروع

    ‎کاراکاس: وینزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 589 ہو گئی ہے، جبکہ 2,980 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی ادارے دن رات کام کر رہے ہیں اور ریسکیو آپریشن میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔
    ‎دوسری جانب زلزلے کے بعد عالمی برادری بھی وینزویلا کی مدد کے لیے متحرک ہو گئی ہے۔ اسپین کی وزارت دفاع کے مطابق درجنوں فوجی اہلکار اور آٹھ تربیت یافتہ ریسکیو کتے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ویلنشیا شہر پہنچ چکے ہیں۔
    ‎اس کے علاوہ سوئٹزرلینڈ اور جرمنی نے بھی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی ہیں، جبکہ برطانیہ نے متاثرین کی امداد کے لیے 20 لاکھ پاؤنڈ کی انسانی ہمدردی کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق متعدد علاقوں میں عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

  • جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو رشوت کیس میں 7 سال قید کی سزا

    جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو رشوت کیس میں 7 سال قید کی سزا

    ‎سیول: جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو رشوت لینے کے مقدمے میں عدالت نے سات سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے انہیں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کے بدلے قیمتی زیورات، مہنگے تحائف اور نقد رقوم وصول کرنے کا مجرم قرار دیا۔
    ‎عدالتی فیصلے کے مطابق سابق خاتون اول پر الزام تھا کہ انہوں نے ذاتی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے مختلف افراد سے قیمتی تحائف اور مالی مراعات قبول کیں۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے سات سال قید کی سزا سنائی۔
    ‎یہ پہلا موقع نہیں کہ سابق خاتون اول قانونی کارروائی کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس سے قبل انہیں اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے ایک مقدمے میں بھی چار سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ ان مقدمات نے جنوبی کوریا میں سیاسی شخصیات کے احتساب اور بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
    ‎دوسری جانب جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول بھی قانونی مشکلات سے دوچار ہیں اور وہ غداری کے مقدمے میں 30 برس قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ یوں ملک کی سابق حکمران جوڑی دونوں مختلف مقدمات میں سزائیں بھگت رہی ہے، جو جنوبی کوریا کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ان فیصلوں سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ جنوبی کوریا میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور طاقتور سیاسی شخصیات کے خلاف بھی قانون کا یکساں اطلاق کیا جا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ حکومتی احتسابی نظام پر بھی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
    ‎عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق خاتون اول کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے، تاہم موجودہ فیصلے کو جنوبی کوریا میں بدعنوانی کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • افسانچہ ۔ تضاد، مبصرہ : پارس کیانی

    افسانچہ ۔ تضاد، مبصرہ : پارس کیانی

    شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔ اندر کوٹھی میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔
    وہ چونکہ سیاسی آدمی تھے اس لیے محلے والوں نے اتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شیخ صاحب کے کچھ
    ہہی خواہوں نے تو کھانے پینے کی چیزوں کا بھی مفت بندوبست کروایا تھا۔ شیخ صاحب نے قبر بھی پچھلے حصے میں کھدوائی تھی تاکہ تدفین کے بعد انکی چہیتی نظروں کے سامنے رہے۔
    چھ ماہ بعد جب اچانک ہارٹ فیل ہو جانے کی وجہ سے شیخ صاحب کی موت واقع ہوگئی تو محلے والے یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ شیخ صاحب کی تدفین میں برائے نام لوگ شامل تھے۔تدفین سے واپسی پر ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے پوچھا “یار تعجب ھے شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔۔۔۔۔۔”

    شہانہ اقبال صاحبہ کے افسانچے "تضاد” کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک مختصر مگر معنی خیز افسانچہ ہے جو انسانی رویّوں، سماجی ترجیحات اور جذباتی وابستگیوں کے بدلتے ہوئے پیمانوں پر طنزیہ انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔ اگرچہ یہ افسانچہ فنی اعتبار سے بعض کمزوریوں کا حامل ہے، لیکن اس کا مرکزی خیال اور اختتامی ضربِ تاثر اسے قابلِ توجہ بنا دیتی ہے۔
    "تضاد” اس افسانچے کا نہایت موزوں عنوان ہے۔ پوری کہانی ایک ایسے تضاد کو آشکار کرتی ہے جس میں ایک بلی کی موت پر غیر معمولی ہجوم جمع ہو جاتا ہے، لیکن خود اس کے مالک کے جنازے میں چند افراد ہی شریک ہوتے ہیں۔ یہی فرق اور متناقض صورتِ حال عنوان کے مفہوم کو مکمل کرتی ہے۔
    افسانچہ اس جملے سے شروع ہوتا ہے:
    "شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔”
    آغاز میں قاری یہ گمان کرتا ہے کہ شاید شیخ صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور لوگ تعزیت کے لیے جمع ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجمع دراصل ان کی بلی کی موت پر اکٹھا ہوا تھا۔ اس طرح مصنفہ نے تجسس پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مختصر افسانچے میں ایسا آغاز ایک مثبت فنی وصف شمار ہوتا ہے۔
    افسانچے کا پلاٹ انتہائی مختصر ہے جیسے کہ
    شیخ صاحب کی بلی مر جاتی ہے۔
    سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لیے آتے ہیں۔
    چھ ماہ بعد خود شیخ صاحب کا انتقال ہو جاتا ہے۔
    ان کے جنازے میں نہایت کم لوگ شریک ہوتے ہیں۔
    آخری جملہ پوری کہانی کا مفہوم واضح کر دیتا ہے۔
    یہ پلاٹ سادہ اور یک رخی ہے، لیکن افسانچے کی صنف میں پیچیدہ واقعات ضروری نہیں ہوتے۔ یہاں مقصد ایک خیال یا نکتے کو ابھارنا ہے، جو کسی حد تک پورا ہو جاتا ہے۔
    شیخ صاحب مرکزی کردار ہیں لیکن ان کی شخصیت کی تفصیلات نہیں ملتیں۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ:
    وہ سیاسی شخصیت تھے۔
    انہیں اپنی بلی سے غیر معمولی محبت تھی۔
    انہوں نے اپنی قبر بھی گھر کے احاطے میں تیار کروائی تھی۔
    مختصر صنف ہونے کے باعث کردار نگاری علامتی نوعیت اختیار کر جاتی ہے۔ شیخ صاحب دراصل ان افراد کی نمائندگی کرتے ہیں جو سماجی نمود و نمائش یا وقتی تعلقات پر بھروسہ کرتے ہیں۔
    افسانچے کی سب سے بڑی خوبی اس کا ڈرامائی انکشاف (Dramatic Revelation) ہے۔
    ابتدا میں قاری یہ سمجھتا ہے کہ شاید کسی اہم شخصیت کی وفات ہوئی ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ایک بلی کی موت کا منظر تھا۔ پھر جب خود شیخ صاحب فوت ہوتے ہیں تو صورتِ حال بالکل الٹ ہو جاتی ہے۔ یہی الٹ پھیر افسانچے کی جان ہے۔

    اختتامی مکالمہ:
    "یار تعجب ہے، شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔”
    یہ اختتام پوری کہانی کا حاصل ہے۔ افسانچہ نگاری میں جسے ” punch line” یا "ضربِ اختتام” کہا جاتا ہے، وہ یہاں موجود ہے۔
    یہ جملہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:
    کیا لوگ واقعی انسانوں سے محبت کرتے ہیں؟
    کیا سیاسی وابستگیاں محض مفاد تک محدود ہوتی ہیں؟
    کیا زندہ انسان کی قدر اس کے عہدے اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہے؟
    یہ سوالات افسانچے کے بعد بھی ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں، جو ایک کامیاب افسانچے کی علامت ہے۔افسانچے میں کئی فکری پرتیں موجود ہیں مثلا :
    لوگ بلی کی موت پر اس لیے جمع ہوئے کہ شیخ صاحب زندہ تھے اور ان کا سیاسی و سماجی اثر و رسوخ موجود تھا۔انسانی رشتوں کی کھوکھلی بنیادوں کو نمایاں کیا گیا ہے کہ لوگ اصل انسان سے زیادہ اس کی حیثیت اور طاقت سے وابستہ ہوتے ہیں اور یہ کہ
    آخرکار انسان اپنی موت کے بعد تنہا رہ جاتا ہے۔
    زبان عام فہم اور سادہ ہے۔ افسانچہ پیچیدہ تراکیب سے گریز کرتا ہے، جو اس صنف کے لیے موزوں ہے۔
    تاہم ادبی اعتبار سے زبان میں مزید نکھار کی گنجائش موجود ہے۔ بعض جملے بیانیہ انداز میں ہیں اور ان میں تخلیقی چمک نسبتاً کم محسوس ہوتی ہے۔
    افسانچے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بلی کی موت پر اتنا بڑا مجمع آخر کیوں جمع ہوا۔ صرف سیاسی شخصیت ہونا اس قدر غیر معمولی ردعمل کی مکمل توجیہ فراہم نہیں کرتا۔شیخ صاحب کی شخصیت محض ایک علامت بن کر رہ جاتی ہے۔ اگر ان کے رویّے یا مزاج کی ایک دو جھلکیاں دی جاتیں تو اثر مزید گہرا ہو سکتا تھا۔بلی کی موت پر سینکڑوں افراد کا جمع ہونا حقیقت کے اعتبار سے کچھ مبالغہ آمیز محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ طنزیہ ادب میں مبالغہ قابلِ قبول ہے، لیکن یہاں بعض قارئین اسے غیر فطری بھی سمجھ سکتے ہیں۔جذباتی گہرائی کی کمی ہے۔افسانچہ فکر دیتا ہے مگر دل پر شدید جذباتی اثر نہیں چھوڑتا۔ یہ زیادہ تر طنزیہ اور فکری سطح پر کام کرتا ہے۔
    مجموعی طور پر یہ تحریر افسانچے کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرتی ہے کیونکہ
    مختصر ہے۔ایک مرکزی خیال رکھتی ہے۔تجسس پیدا کرتی ہے۔
    اختتام میں چونکا دیتی ہے۔
    سماجی پیغام رکھتی ہے۔
    البتہ اسے اعلیٰ درجے کا شاہکار افسانچہ کہنا مشکل ہوگا کیونکہ اس میں کرداروں کی نفسیاتی گہرائی، علامتی وسعت اور فنی پختگی محدود ہے۔
    شہانہ اقبال صاحبہ کا افسانچہ "تضاد” سماجی منافقت اور مفاد پرستانہ تعلقات کی ایک مختصر مگر معنی خیز تصویر پیش کرتا ہے۔ اس کی اصل قوت اس کے چونکا دینے والے اختتام اور طنزیہ تاثر میں مضمر ہے۔ مصنفہ نے چند سطروں میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا اکثر انسان سے زیادہ اس کے مفادات اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگرچہ فنی سطح پر بعض کمزوریاں موجود ہیں، تاہم اختتامی ضرب، عنوان کی مناسبت اور مرکزی خیال کی معنویت اسے ایک کامیاب اور مؤثر افسانچہ بناتی ہیں۔

    مختصر یہ کہ افسانچہ فنی اعتبار سے اچھی سطح کا افسانچہ ہے، فکری اعتبار سے معنی خیز ہے، اور طنزیہ و سماجی تنقید کے حوالے سے قابلِ توجہ تخلیق شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے افسانچہ نگاری کے اعلیٰ ترین نمونوں میں شامل کرنے کے لیے مزید فنی گہرائی، نفسیاتی تہہ داری اور علامتی وسعت درکار ہے۔

  • کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ کے عنوان سے وادی کالاش رمبور میں   احتجاج

    کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ کے عنوان سے وادی کالاش رمبور میں احتجاج

    امیر جماعت اسلامی لوئر چترال وجیہ الدین کی ہدایت پر ضلع بھر کی طرح وی سی رمبور میں بھی ’’کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ‘‘ مہم کے تحت احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ مین بازار رمبور میں بعد از نماز جمعہ منعقدہ احتجاج میں مقامی عوام نے شرکت کی اور کرپشن، بدعنوانی، عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

    شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ دار عناصر کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔ احتجاج کے اختتام پر عوامی قرارداد بھی پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کرپشن میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور چترال میں مبینہ کرپشن کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی مبینہ بدعنوانی سے متعلق آگاہی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے، خردبرد شدہ قومی رقم کی فوری ریکوری کی جائے اور اس میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے اور شفافیت و احتساب کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے۔