Baaghi TV

سرگودھا زیادتی کیس، 7 سالہ بچی واقعے کے روز دو مرتبہ دکان پر آئی تھی،ڈی پی او

سرگودھا: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سرگودھا محمد صہیب نے کہا ہے کہ کریانہ اسٹور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 7 سالہ بچی واقعے کے روز دو مرتبہ دکان پر آئی تھی۔ پہلی بار وہ صبح سویرے دکان پر آئی اور واپس چلی گئی، جبکہ بعد ازاں دوبارہ آنے پر افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

متاثرہ خاندان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی پی او نے بتایا کہ والدین کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی تو دکان کی تیسری منزل پر واقع ایک بند کمرے کے باہر خون کے دھبے موجود تھے۔ پولیس نے دکان پر موجود دیگر افراد کو طلب کیا اور مرکزی ملزم سے پوچھ گچھ کی، جس کے بعد اس نے بچی کی لاش کی نشاندہی کی۔انہوں نے بتایا کہ جس کمرے سے لاش برآمد ہوئی، اس کی چابی بھی مرکزی ملزم کے قبضے میں تھی۔ مزید یہ کہ قتل کے بعد ملزم کھانا لینے کا بہانہ بنا کر دکان سے نکل گیا تھا۔

ڈی پی او کے مطابق کیس کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش جاری ہے اور اب تک تقریباً 80 مشکوک افراد کے ڈی این اے نمونے فرانزک تجزیے کے لیے لاہور کی لیبارٹری بھجوائے جا چکے ہیں۔ حتمی فرانزک رپورٹ آئندہ دو ہفتوں میں موصول ہونے کی توقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ مقدمے میں مرکزی ملزم کے علاوہ مزید چار افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ کریانہ اسٹور دو پارٹنرز کی شراکت سے چلایا جا رہا تھا، جس کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔اس موقع پر مقتولہ کے والد نے کہا کہ پولیس نے میرٹ پر تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ اب تک کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔

واضح رہے کہ سرگودھا میں 7 سالہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ مرکزی ملزم بعد ازاں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

More posts