Baaghi TV

Blog

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:مائرہ سعید

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:مائرہ سعید

    جنگی معرکے چاہے ہتھیاروں کی مدد سے لڑے جائے یا پھر اپنی جسمانی طاقت کے بل بوتے پر؛ ہمت، دلیری، پامردی اور عزم و استقلال کی روشن مثالیں پیش کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے! جب بھی باطل قوتوں نے سر اٹھایا ہے۔ حق کے علمبرداروں نے انہیں اپنے زورِ بازو کے دم سے نیست و نابود کیا ہے۔ پاکستان کے ماضی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ایسے بہت سے واقعات صفحہ قرطاس پر بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ جب پاکستانی فوج نے متحد ہو کر ظلم و جبر کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ! اپنے عملی اقدام سے دشمنانِ پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اپنے اس اقدام سے افواجِ پاکستان نے تاریخ میں ہمت و جواں مردی کی کبھی نہ بھلائی جانے والی مثال رقم کی۔

    10 مئی 2025 کا دن بھی پاکستانی تاریخ میں ایک ایسے ہی یادگار باب کے طور پر ثبت ہوا۔ جب افواجِ پاکستان نے بنیان مرصوص "سیسہ پلائی دیوار” کی عمدہ مثال پیش کی۔ 7 مئی سے 10 مئی کے دوران بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف حصوں پر پے در پے کیے جانے والے حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہی۔ جن کے باعث دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدگی اختیار کر گئے۔ ان حالات نے پاکستان کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا، جہاں کسی بھی غلط فیصلے کے سنگین نتائج کا سامنا پوری قوم کو کرنا پڑ سکتا تھا۔ ایسے میں افواج نے اپنی فوجی طاقت کو استعمال میں لاتے ہوئے ان تمام حالات کے پیشِ نظر وطن عزیز کی بقاء اور سلامتی کی خاطر متحد ہو کر بھارتی حملوں کے منہ توڑ جواب میں آپریشن "بنیان مرصوص” کا باقاعدہ آغاز کیا۔ پاکستان کی سرحدوں پر بھارت کی جانب سے کیے جانے والے حملے جب شدت اختیار کر گئے؛ تو اس کے جواب میں پاکستانی فوج نے اپنے دفاع میں اس کاروائی کا آغاز کیا۔ پاکستان نے 10 مئی کو علی الصباح میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں مختلف ایئر بیسز اور عسکری تنصیبات کو تباہ کیا گیا تھا۔ بھارتی فوج کو نہ صرف مالی بلکہ جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    آپریشن” بنیان مرصوص” جو اپنے نام سے ہی اپنے مقصد کو عیاں کر رہا تھا۔ جس نے دشمن کو ایک واضح اور دو ٹوک پیغام دیا۔ انہیں نہ صرف شکست سے دوچار کیا بلکہ مستقبل کے لیے بھی واضح تنبیہہ کی کہ اگر دوبارہ جارحانہ رویہ اپنایا تو اس کے نتائج پہلے سے کئی گنا زیادہ سنگین اور ناقابلِ تلافی ہوں گے۔

    اس کاروائی کے ذریعے انہوں نے نہ صرف دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنایا بلکہ یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاعی سسٹم نہ صرف مضبوط ہے بلکہ ہر دم اپنے ملک کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔ اس اقدام کی بدولت نہ صرف پاکستان کو عسکری کامیابی حاصل ہوئی بلکہ قومی وقار اور خودداری میں بھی اضافہ ہوا۔ قوم کا افواج پر یقین مزید پختہ ہوا۔ پاکستان ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہے ایسی آہنی دیوار جسے کوئی بھی عبور کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ جو یہ کوشش کرتا ہے وہ اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ اس کے وجود کا کوئی ذرہ باقی نہیں رہتا۔

    آپریشن کا اختتام ہوتے ہی پاکستان کے مختلف علاقوں سے "اللہ اکبر” کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ یہ وہ موقع تھا جب پوری قوم نے اپنے جوانوں کے اس جرات مندانہ اقدام کو دل سے سراہا۔ ہر خاص و عام شخص کی آنکھوں میں فوج کے لیے محبت و عقیدت اور فخر کے ملے جلے تاثرات نمایاں تھے۔ عوام نے گھروں، سرکاری دفاتر اور سوشل میڈیا کے استعمال سے محافظوں کی کامیابیوں پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔غرض! ہر سوں فتح کی خوشی میں جشن سا سماں دیکھنے کو ملا۔ جبکہ دوسری جانب جھوٹے پروپیگنڈوں کا سہارا لے کر پاکستان کو نقصان پہچانے والوں کی تمام تر کوششیں رائیگاں گئی۔ وہ اپنی شکست کو چھپانے کے لیے دلیلیں پیش کرتے رہے۔ انہیں نہ صرف اپنی ہار کا سامنا کرنا پڑا بلکہ وہ اپنے ہی ملک و قوم کے سامنے شرمندہ تعبیر بن گئے۔
    پاکستان کا یہ اقدام ہمیشہ ہمارے لیے قابلِ تقلید رہے گا۔ پاکستان کا ہر فرد اس سیسہ پلائی دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ جب تمام اینٹیں متحد ہوتی ہیں تب ہی عمارت مضبوط اور مستحکم بنتی ہے۔

    میدان چاہے جنگ کا ہو یا نفرت کا، رشوت کا ہو یا بدعنوانی کا، قتل و غارتگری کا ہو یا فریب کاری کا، ظلم و جبر کا ہو یا پھر نا انصافی کا؛ ہر فرد اس میدان کو روکنے میں، اس کے خلاف آواز اٹھانے میں بنیان مرصوص ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ اپنی حقیقی زندگیوں میں بھی برائی کے تمام عوامل کے خلاف بنیان مرصوص بنیں۔ تاکہ ہم محض کسی خاص موقع پر نہیں بلکہ ہر دن، ہر لمحہ خود سے یہ کہ سکیں "ہم بنیان مرصوص ہیں”۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جان لڑانے اور خطرہ سہنے کے لیے تیار ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ کو جو فوج چاہیے۔ اس میں تین صفحات پائی جانی چاہئیں۔ ایک یہ کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر اللّٰہ کی راہ میں لڑے اور کسی ایسی لڑائی نہ لڑے جو کسی فی سبیل اللہ کی تعریف میں نہ آتی ہو۔ دوسری یہ کہ وہ بدنظمی انتشار میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ مضبوط کے ساتھ صف بستہ ہو کر لڑے۔تیسری یہ کہ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی کیفیت "سیسہ پلائی سی کی سی ہو۔”

    تاریخ شاہد ہے کہ ذلت ورسوائی ہمیشہ ان کے حصے میں آتی ہے جو پروپیگنڈا اور مادی برتری کے نشے میں بدمست ہو کر حیثیت سے بڑے خواب دیکھنے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔ کچھ ایسا ہی ہمارے ہمسایہ ملک نے گزشتہ برس مئی میں کیا۔ پہلے پہلگام کا سانحہ کروایا پھر بنا تحقیق و ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا دیا۔ اسی کو جواز بنا کر 7 مئی 2025 کو رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا۔ جواب میں پاکستان کا آپریشن بنیان المرصوص محض ایک عسکری جواب نہ تھا بلکہ تزویراتی انا کے منہ پر پڑنے والا وہ عالمی طمانچہ تھا جس کی حدت دشمن کے ایوانوں میں برسوں محسوس کی جاتی رہے گی۔ دشمن کی خام خیالی تھی کہ وہ سرحدوں پر مہم جوئی کرکے مغربی سرحدوں سے فتنۃ الخوارج کو مہرے بنا کر ارض پاکستان کی سالمیت سے کھلواڑ کر لے گا۔ مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا واسطہ اس سپہ سالار سے ہے جو سید بھی ہے حافظ قرآن بھی ہے۔ جس کے سینے میں قرآن ہو اس کے لشکر کا سکوت کسی مہیب طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اس کی ضرب کا کوئی مداوا نہیں ہوتا۔
    ستیزہ کار ہے ازل سے تا امروز
    چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی

    جب سرحد پر فضائیں خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیں اور شب کی سیاہی دشمن کے ناپاک عزائم میں ضم ہو جائے تو ایک آواز گونجتی ہے۔ ایک عہد، ایک قسم اور ایک نعرہ پاکستان زندہ باد۔ یہ نعرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ایک فوجی کا آخری سانس بن جاتا ہے جو وہ اپنے وطن پر وار دیتا ہے۔ یہ نعرہ ایک پائلٹ کا جگر ہے جو فضا میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ میں اقبال کا شاہین ہوں جو گرنا نہیں جھپٹنا جانتا ہوں۔ ہمارے محافظ دشمن کو بتاتے ہیں کہ یہ پاک دھرتی، یہ شہداء کے خون سے سینچی ہوئی دھرتی، یہ خطہ زریاب، یہ دھرتی لاوارث تو نہ تھی، یہ بزدلوں کا ٹھکانہ تو نہ تھی، یہ سڑک کے کنارے لگے درخت کا پھل تو نہ تھی۔ پھر کیوں میرا ہمسایہ 7 مئی کو رات کے اندھیرے میں اس پر چڑھ دوڑا۔ اس عیار کو یہ معلوم تھا کہ اس کے مذموم اور ناپاک ارادوں کو پاک فوج کے غیور، نڈر، جری اور جذبہ شہادت سے سرشار نوجوان ایک ہی وقت میں خاک میں ملا دیں گے۔

    پاکستان نے 10 مئی 2025 کو آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا دشمن کے جدید جنگی نظام کو منجمد کرنے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ ان کے چھ رافیل طیارے زمیں بوس کرکے ایسے دانت کھٹے کیے کہ رہتی دنیا تک قند و شیریں اشیا کو منہ لگانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ جن ہتھیاروں پر جن طیاروں پر بھارت کو ناز تھا۔ ہمارے شاہینوں کی مہارت کے سامنے بے بس نظر آئے۔ معرکہ حق نے بھارت کو یہ واضح پیغام دیا کہ
    نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
    تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

    معرکہ حق صرف ایک جنگ نہیں بلکہ فیصلہ کن موڑ تھا۔ جس نے پاکستان کی تقدیر کا رخ موڑ دیا۔ یہ معرکہ عزم و ہمت، حکمت عملی اور دلیر قیادت کا ایسا مظاہرہ تھا جس نے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا۔ پاکستان نہ صرف اپنی خود مختاری کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار کردار ادا کر سکتا ہے۔ جس کی مثال حالیہ ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کے کردار میں آپ کے سامنے ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور نظر انداز کیا جاتا تھا۔ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ قومیں آزمائشوں میں نکھرتی ہیں اور یہی وہ لمحات ہیں جب پاکستان نے خود کو دنیا کے سامنے منوایا۔ آئیں سب مل کر اس عزم کا اعادہ کریں کہ ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ اپنے وطن کی حفاظت کریں گے اور ہر سازش کا ناکام بنا دیں گے۔
    وطن کی خاک گواہ رہنا، ہم نے یہ عہد نبھایا ہے
    ہر دشمن کو للکارا ہے، ہر وار کو ٹھکرایا ہے

    قومیں صرف جغرافیائی سرحدوں کا نام نہیں ہوتیں بلکہ وہ نظریات، اقدار اور قربانیوں کی امین ہوتی ہیں۔ جب کوئی قوم اپنے مقصد، اپنے نصب العین اور اپنی شناخت پر متحد ہو جائے تو وہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن جاتی ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے اور تفرقہ کمزوری کی علامت۔ “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” دراصل اسی اتحاد، استقامت اور مضبوطی کی علامت ہے جو کسی بھی معرکۂ حق میں کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔
    بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

  • آبنائے ہرمز میں جہازوں کے کنٹرول اور فیس وصولی ،ایران نے بحری اتھارٹی قائم کردی

    آبنائے ہرمز میں جہازوں کے کنٹرول اور فیس وصولی ،ایران نے بحری اتھارٹی قائم کردی

    ایران نے آبنائے ہرمز میں باقاعدہ ایک بحری اتھارٹی قائم کردی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی قائم کردی بحری اتھارٹی آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے اور ان سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی مجاز ہوگی ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ’خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی‘ نے حالیہ دنوں میں ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں کو روانگی سے قبل ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا ہو گی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ایک فارم فراہم کیا جا رہا ہے جس میں ملکیت، انشورنس، عملے کی تفصیلات اور مجوزہ راستے سے متعلق مکمل معلومات مانگی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کے سرکاری چینل نے بھی رواں ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو ای میل کے ذریعے قواعد و ضوابط بھیج دیے ہیں،یران نے اس اہم ترین آبی گزرگاہ کو 28 فروری سے بند کر رکھا ہے ،حالات اس وقت اور کشیدہ ہوگئے جب 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کردی جو تاحال جاری ہے اور اس وجہ سے جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری دے دی

    آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری دے دی

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے قرض پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے اگلی قسط کی منظوری دے دی ہے، جس کی مالیت 1.2 ارب ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے-

    وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہےکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 1.2ارب ڈالر قسط کی منظوری دے دی آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے قسط کی منظوری واشنگٹن میں ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں دی آئی ایم ایف نے ایک ارب ڈالر ای ایف ایف پروگرام کے تحت جاری کرنے کی منظوری دی جبکہ موسمی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 20 کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔

    واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے قرض پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر سے زائد کی اگلی قسط کی منظوری دے دی گئی پاکستان کو مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی پروگرامز کے تحت رقوم فراہم کی جائیں گی۔

    وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ تیسری جائزہ رپورٹ کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر ملنے کا قوی امکان تھا جائزہ مشن نے پاکستان کی معیشت کا جائزہ لینےکے بعد قرض جاری کرنے کی سفارش کی تھی، ذرائع کے مطابق موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر 3.3 ارب ڈالر جاری ہو چکے ہیں، پاکستان نے ستمبر 2024 میں 37 ماہ کے لیے ای ایف ایف پروگرام لیا تھا۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے کے بعد پاکستان کو 210 ملین ڈالر اضافی رقم بھی فراہم کی جائے گی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 27 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد پاکستان نے پروگرام کی بیشتر شرائط پر عمل درآمد مکمل کر لیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ نے اسٹاف لیول معاہدے کی روشنی میں قرض کی منظوری دی ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے تمام پیشگی اقدامات مکمل کیے جا چکے تھے پاکستان نے اسٹاف لیول معاہدہ کامیابی سے مکمل کیا ہے اور تمام مطلوبہ شرائط پر عمل درآمد کیا گیا ہے، جس کے بعد قرض کی منظوری کی راہ ہموار ہوئی۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔

    پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 15روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 414 روپے58 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی پیٹرول کی قیمت میں 14روپے 92 پیسےفی لیٹر کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہوگئی پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں ایک ہفتہ کے لیے مقرر کی گئی ہیں، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے سے ہوگا۔

    ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار نمایاں اضافہ اور کمی ریکارڈ کی گئی۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلا بڑا اضافہ 6 مارچ 2026 کو کیا گیا، جب حکومت نے عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح تھی اسی طرح ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 55 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے ہوگئی تھی۔

    اس کے بعد دوسری بار 3 اپریل کو پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی جب کہ ڈیزل کی قیمت 184 روپے بڑھا کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی تھی،بعد ازاں عوامی ردعمل اور عالمی قیمتوں میں جزوی کمی کے تناظر میں حکومت نے ایک بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد قیمت کم ہو کر تقریباً 378 روپے فی لیٹر پر آ گئی تھی۔

    10 اپریل کو وزیراعظم نے ایک بار پھر پیٹرول کی قیمت میں صرف 10 اور جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے فی لیٹر کمی کی منظوری دی تھی۔ اس کمی کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 366 روپے جب کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 385 روپے ہوگئی تھی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے 17 اپریل کو ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 385 روپے 54 پیسے سے کم ہو کر 353 روپے 43 پیسے ہو گئی تھی جب کہ پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    18 اپریل کو لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 70 روپے 04 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 369 روپے 72 پیسے سے کم ہو کر 299 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی اسی طرح جیٹ فیول کی قیمت بھی 23 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 494 روپے 71 پیسے سے کم ہو کر 471 روپے 01 پیسہ فی لیٹر مقرر کی گئی۔

    24 اپریل کو حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر تک بڑھادی تھی اس کے بعد 30 اپریل کو بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔

  • 2026 کرہ ارض کا دوسرا گرم ترین سال بن سکتا ہے،ماہرین

    2026 کرہ ارض کا دوسرا گرم ترین سال بن سکتا ہے،ماہرین

    ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ نئے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں آنے والا ’ایل نینو‘ نہ صرف قریب ہے، بلکہ یہ تاریخ کا ایک انتہائی شدید یا ’سپر ایونٹ‘ بن سکتا ہے۔

    بحرِ الکاہل میں درجہ حرارت کی تیزی سے بدلتی صورتحال نے سائنسدانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ سمندر کی گہرائی میں توانائی تیزی سے جمع ہو رہی ہے جس سے سطح کے نیچے کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے،تازہ ترین پیشگوئی کے مطابق جولائی تک اس موسمیاتی رجحان کے ابھرنے کے امکانات 61 فیصد ہیں، جبکہ 25 فیصد خدشہ اس بات کا ہے کہ یہ ’سپر ایل نینو‘ کی صورت اختیار کرلے گا، جو گزشتہ 140 سالوں میں طاقتور ترین واقعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

    ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق موسمیاتی ماڈلز اس بات پر متفق ہیں کہ ایل نینو کا آغاز ہونے والا ہے جو وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کرے گا ماہرین اس صورتحال پر خاصے پریشان ہیں، کیونکہ اس وقت سمندر کی سطح کا درجہ حرارت پہلے ہی ریکارڈ حد تک بلند ہے اور مغربی بحرِ الکاہل میں اٹھنے والے غیر معمولی ’ٹرپل سائیکلونز‘ گرم پانی کو انتہائی تیز رفتاری سے مشرق کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

    رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر مغربی ہواؤں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا، تو عالمی درجہ حرارت ایک ایسی سطح پر پہنچ سکتا ہے جس کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایل نینو کے باعث 2026 کرہ ارض کا دوسرا گرم ترین سال بن سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر 2027 میں گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ پاش پاش کر دے گا۔

  • راولپنڈی  میں 1200 روپے کے تنازع پر دو افراد  قتل

    راولپنڈی میں 1200 روپے کے تنازع پر دو افراد قتل

    راولپنڈی میں 1200 روپے کے تنازع پر دو افراد کو قتل کردیا گیا۔

    پولیس کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں لڑائی جھگڑے کے دوران 25 سالہ سراج شدید زخمی ہوا جو اسپتال منتقلی دوران راستے میں دم توڑ گیا اور جب پولیس موقع پر پہنچی تو پتا چلا لڑائی جھگڑے میں ایک اور شخص بھی قتل ہوا ہے شہری زین اور دیگر کا 1200 رو پے کے معاملے پر دکان دار سے جھگڑا ہوا اور جھگڑے میں فائرنگ کرکے دکان دار کو قتل کیا گیا، جس پر دوسرے فریق نے زین کو ڈنڈوں کے وار کرکے قتل کردیا۔

    سی پی او سید خالد محمود ہمدانی نے تھانہ دھمیال کے علاقے میں دو شہریوں کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیا اور واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا۔

    پولیس نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ دونوں فریقین کے درمیان معمولی تلخ کلامی پر پیش آیا تاہم واقعےکی تمام زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ دونوں فریقین کا ایک ایک فرد جاں بحق ہوا ہے تاہم فرانزک ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔

    آئی جی پنجاب عبدالکریم نے بھی تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاون میں لین دین کے تنازع پر فائرنگ سے 2 افراد کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیا اور رپورٹ طلب کرلی آئی جی پنجاب نے سی پی او راولپنڈی کو فائرنگ میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا اور کہا کہ دہرے قتل کی وار دات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔

  • پینٹا گون نے خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کر دیا

    پینٹا گون نے خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کر دیا

    امریکی محکمہ جنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلائی مخلوق سے متعلق دہائیوں پرانے خفیہ دستاویزات اور تصاویر عوام کے لیے جاری کر دی گئی ہیں-

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعہ کو یو ایف اوز (نامعلوم اڑنے والی اشیا) المعروف اڑن طشتری سے متعلق پہلے سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات کا پہلا مجموعہ جاری کر دیا جن میں بعض رپورٹس سنہ 1940 کی دہائی تک پرانی ہیں، یہ مواد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایک سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے آسمان میں نظر آنے والے پراسرار مناظر سے متعلق نئی فائلوں کا اجرا کا آغاز کر دیا ہے ان ریکارڈز کے ذریعے عوام کو موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ خود اس حوالے سے دستیاب معلومات کا جائزہ لے کر اپنی رائے قائم کریں ،اس عمل میں صرف محکمہ دفاع ہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس، قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر، محکمہ توانائی، خلائی تحقیق کا ادارہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی شامل ہیں۔

    محکمہ دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے بعض معلومات کو کم اہم ظاہر کرنے یا عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاہم موجودہ انتظامیہ عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ شفافیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہےمزید دستاویزات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔

    امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بیان میں کہا ہے کہ یہ فائلیں برسوں سے خفیہ درجہ بندی میں چھپی رہیں جس کی وجہ سے عوام میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لیتی رہیں تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی عوام خود یہ معلومات دیکھ سکیں۔

    امریکی محکمہ جنگ کی ویب سائٹ پر 160 سے زائد فائلیں جاری کی گئی ہیں پینٹاگون یو ایف اوز کو باضابطہ طور پر ’نامعلوم غیر معمولی مظاہر‘ (یو اے پیز) قرار دیتا ہے،جاری کی گئی ایک فائل جو دسمبر 1947 کی ہے میں ’اڑنے والی ڈِسکس‘ سے متعلق رپورٹس شامل ہیں جبکہ سنہ 1948 کی ایک انتہائی خفیہ فضائیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں ’نامعلوم طیاروں‘ اور ’فلائنگ ساسرز‘ کو دیکھے جانے کے دعوؤں کا ذکر موجود ہے۔

    ایک اور فائل میں سنہ 2023 کے ایک واقعے کی تفصیل دی گئی ہے جس میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3 مختلف اہلکاروں نے آسمان پر نارنجی رنگ کے گول دائروں کو دیکھنے کا دعویٰ کیا جن سے چھوٹے سرخ رنگ کے گولے نکلتے دکھائی دیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کا عندیہ فروری سے دینا شروع کیا تھا وہ اس سے قبل بھی اہم شخصیات کے قتل سے متعلق ریکارڈز جاری کر چکے ہیں، جن میں سابق صدر جان ایف کینیڈی، سینیٹر رابرٹ ایف کینیڈی اور شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سے متعلق دستاویزات شامل ہیں، تاہم ان میں زیادہ تر وہی معلومات سامنے آئیں جو پہلے سے معلوم تھیں۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سابق صدر براک اوباما نے ایک پوڈکاسٹ میں ماورائے زمین زندگی سے متعلق ’خفیہ معلومات‘ کا ذکر کیا تھا۔ اوباما نے اس گفتگو میں کہا تھا کہ وہ حقیقی ہیں لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا اور انہیں ایریا 51 میں نہیں رکھا گیا تاہم اب تک زمین سے باہر ذہین مخلوق کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

    محکمہ دفاع گزشتہ کئی برسوں سے نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق ریکارڈز کو غیر خفیہ کرنے پر کام کر رہا ہے، جب کہ امریکی کانگریس نے 2022 میں اس مقصد کے لیے ایک خصوصی دفتر قائم کیا تھا۔ 2024 کی ایک رپورٹ میں سیکڑوں نئے واقعات کا ذکر کیا گیا، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ امریکی حکومت نے کسی بھی مرحلے پر خلائی مخلوق یا ان کی ٹیکنالوجی کی تصدیق کی ہو۔

    کانگریس نے 2022 میں پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ دہائیوں پرانے ایسے تمام ریکارڈز کو عوام کے لیے جاری کیا جائے، کیونکہ بعض فوجی اہلکاروں نے غیر واضح فضائی مشاہدات کی رپورٹس دی تھیں۔

    دوسری جانب بعض ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے مزید شفافیت کا مطالبہ کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پینٹاگون بعض دستاویزات کو روک رہا ہے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے مارچ میں 46 ویڈیوز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ مرحلے میں جاری کی جا سکتی ہیں۔

    ریپبلکن رکنِ کانگریس نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شفافیت کے وعدے کو پورا کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام معلومات ایک ساتھ جاری نہیں کی جا سکتیں بل کہ یہ عمل وقت کے ساتھ مکمل ہوگا۔

    ماہرین نے ان فائلوں کے اجرا کے حوالے سے احتیاط کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ نامعلوم فضائی مظاہر کی ویڈیوز اکثر غلط تشریح کا شکار ہو جاتی ہیں۔ 2024 کی سرکاری رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ اب تک کسی بھی غیر زمینی ٹیکنالوجی یا خلائی مخلوق کے وجود کے شواہد نہیں ملے۔

  • گلگت بلتستان الیکشن: نواز شریف نے ٹکٹ ہولڈرز کے ناموں کی منظوری دیدی

    گلگت بلتستان الیکشن: نواز شریف نے ٹکٹ ہولڈرز کے ناموں کی منظوری دیدی

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے مختلف حلقوں کے لیے نامزد امیدواروں کا اعلان کر دیا گیا۔

    جاری کردہ فہرست کے مطابق جی بی اے-1 گلگت-1 سے شفیق الدین، جی بی اے-2 گلگت-2 سے حافظ حفیظ الرحمٰن، جی بی اے-3 گلگت-3 سے محمد اقبال، جی بی اے-6 ہنزہ سے شہزادہ سلیم کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا ہےاسی طرح جی بی اے-7 اسکردو-1 سے محمد اکبر خان، جی بی اے-8 اسکردو-2 سے امتیاز حیدر خان، جی بی اے-9 اسکردو-3 سے اجمل حسین، جی بی اے-10 کھرمنگ سے سید محسن رضوی، جی بی اے-12 شگر سے محمد طاہر انہار شگری کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

    فہرست کے مطابق جی بی اے-13 استور-1 سے فرمان علی، جی بی اے-14 استور-2 سے رانا محمد فاروق، جی بی اے-15 دیامر-1 سے عبد الوجد، جی بی اے-16 دیامر-2 سے انجینئر محمد انور، جی بی اے-17 دیامر-3 سے محمد زمان جبکہ جی بی اے-18 دیامر-4 سے ملک کفایت الرحمٰن کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا اس کے علاوہ جی بی اے-19 غذر ایک سے ظفر محمد، جی بی اے-20 غذر 2 سے عبدالجہان، جی بی اے-21 غذر-3 سے غلام محمد اور جی بی اے-22 گانچھے-1 سے محمد ابراہیم ثنائی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا انس-نے-تیچکرت-ھہلدعرس-ک-نامہ-0کی-ممیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں عام انتخابات 7 جون کو ہونے جارہے ہیں، اور الیکشن کمیشن نے باضابطہ شیڈول بھی جاری کردیا ہے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں دلچسپی لے رہے ہیں –

  • خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے 5 دہشتگرد ہلاک

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے 5 دہشتگرد ہلاک

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے 2 مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 7 اور 8 مئی 2026 کی درمیانی شب ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان اضلاع میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ضلع ٹانک میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 4 خوارج مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کیا گیا، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں ایک خارجی کو ہلاک کردیا گیاہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے،یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے، علاقے میں مزید ممکنہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت ’عزم استحکام‘ وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گے۔