Baaghi TV

Blog

  • ایران کی کسی بھی قسم کی دھمکیاں اور مداخلت کو قابل قبول نہیں، یو اے ای

    ایران کی کسی بھی قسم کی دھمکیاں اور مداخلت کو قابل قبول نہیں، یو اے ای

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی قابلِ قبول نہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے اماراتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور آزاد فیصلہ سازی کے خلاف کسی بھی الزام یا دھمکی کو قطعی طور پر رد کرتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بین الاقوامی تعلقات اور دفاعی شراکت داریاں مکمل طور پر اس کی خودمختار پالیسی کا حصہ ہیں اور کسی بھی فریق کو ان تعلقات کو دھمکی، مداخلت یا اشتعال انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں، ملک کی سلامتی، شہری بنیادی ڈھانچے اور عوام کے تحفظ کو براہِ راست یا بالواسطہ نشانہ بنانے والی کوئی بھی زبان غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے، جو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے مترادف ہے متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا کہ دباؤ یا الزامات کی کوئی بھی کوشش امارات کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

    گذشتہ روز ایران کی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی میزائل یا ڈرون حملے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اماراتی وزارتِ دفاع کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا تھا ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی افواج نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات پر کوئی حملہ نہیں کیا اور اگر ایسا کوئی اقدام ہوتا تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا، ایران اب تک تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم اگر امارات کی سرزمین سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے امارات پر الزام عائد کیا کہ اس کی سرزمین خطے میں بیرونی فوجی موجودگی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جو علاقائی امن کے لیے خطرناک ہے۔

  • معرکہ حق کا ایک سال مکمل،مظفرآباد میں  پروقار تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل،مظفرآباد میں پروقار تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نڑول اسٹیڈیم میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ’پاکستان زندہ باد‘ اور ’پاک فوج زندہ باد‘ کے نعروں سے فضا گونج اٹھی اس موقع پر شہدا اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا،تقریب میں بھارت کے خلاف معرکہ حق کی کامیابی پر مبنی ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی، نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے متعلق فلم نے حاضرین کو افسردہ کر دیا-

    تقریب میں معروف گلوکارہ آئمہ بیگ اور علی عظمت سمیت دیگر معروف گلوکاروں نے پرفارم کرکے تقریب کو چار چاند لگا دیے پروگرام کے دوران مختلف ملی نغمے پیش کیے گئے، جبکہ بچوں نے ٹیبلو بھی پیش کیا کشمیری ثقافت سے جڑے نغموں نے بھی محفل کو چار چاند لگا دیے۔ شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم لہرا کر یکجہتی کا اظہار کیا تقریب میں نتاشہ خان اور ڈاکٹر عبدالباسط سمیت دیگر فنکاروں نے بھی ملی نغمے پیش کیے۔

    تقریب میں ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، طلبہ نے معرکہ حق کی کامیابی پر پاک فوج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جوشیلے نعرے بھی لگائے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھورنے کہاکہ گزشتہ برس بھارت نے مشکوک واقعے کو بنیاد پر پاکستان پر الزام تراشی کی اور پھر حملہ کردیا،پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن ہم اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پاکستان علاقائی سالمیت کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے، بھارت کی جانب سے خطے کا امن سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی،پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، جبکہ سفارتی محاذ پر بھی کامیابی حاصل کی۔

  • چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وقت کے وسیع دامن میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جو محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک خوشگوار لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی قیادت ایک ایسے صاحبِ علم، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان کے سپرد کی گئی، جنہیں میں نہ صرف ایک وائس چانسلر کے طور پر بلکہ ایک دیرینہ رفیق، ہم خیال ساتھی اور مخلص دوست کے طور پر جانتا ہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر تقرری بلاشبہ ایک ادارہ جاتی فیصلے سے کہیں بڑھ کر ایک فکری، علمی اور اخلاقی سمت کا تعین ہے—ایک ایسا فیصلہ جو آنے والے برسوں میں اس جامعہ کی شناخت کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرے گا۔

    زندگی کے سفر میں بہت سے لوگ ملتے ہیں، کچھ محض راہگزر کے ساتھی ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی انسان کی سوچ، فکر اور طرزِ عمل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید اُنہی شخصیات میں سے ہیں جن کے ساتھ گزرا ہوا وقت آج بھی ذہن کے دریچوں میں تازہ ہے۔جامع زرعیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر طارق جاوید ،ڈاکٹرمحسن رضا اور راقم شاہد نسیم یک جان تین قالب تھے۔چار دہائیوں سے ذیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اور خود غرض زمانے کے نشیب وفراز نے ہماری دوستی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ ہم آج بھی ایک دوسرے کے لئے ویسے ہی ہیں ۔ڈاکٹر طارق جاوید کی شخصیت میں جو سادگی ہے، وہ بناوٹ سے پاک ہے؛ جو محنت ہے، وہ دکھاوے سے عاری ہے؛ اور جو قابلیت ہے، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہی اوصاف انہیں ایک عام استاد سے ایک غیر معمولی قائد میں ڈھالتے ہیں۔

    تعلیم کے میدان میں اصل کامیابی صرف ڈگریوں کے حصول یا عہدوں کے ارتقاء سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ انسان اپنے علم کو کس حد تک دوسروں کے لیے روشنی بنا پاتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی زندگی اسی اصول کی عملی تصویر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ علم کو بانٹنے، طلبہ کو آگے بڑھانے اور تحقیق کے نئے دروازے کھولنے کو اپنا نصب العین بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ اس عظیم ذمہ داری پر فائز ہوئے ہیں تو دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منصب ان کے لیے نہیں بلکہ وہ اس منصب کے لیے بنے ہیں۔

    چولستان یونیورسٹی، جو پہلے ہی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے، اب ایک ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو نہ صرف ادارے کی علمی ضروریات کو سمجھتا ہے بلکہ دورِ حاضر کے تقاضوں سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ آج کا زمانہ صرف روایتی تعلیم کا نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور عملی مہارت کا زمانہ ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی سوچ میں یہی ہم آہنگی موجود ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک یونیورسٹی کی ترقی صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اسے معاشرے، صنعت اور معیشت کے ساتھ جڑنا ہوگا۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً تحقیق کو تجارتی مواقع میں بدلنے، طلبہ کو عملی میدان کے لیے تیار کرنے اور قومی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوگی۔

    مجھے بخوبی یاد ہے کہ بطور ساتھی انہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں اعتماد اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ وہ مسائل کو رکاوٹ نہیں بلکہ مواقع سمجھتے ہیں۔ یہی رویہ آج ایک وائس چانسلر کے طور پر ان کی سب سے بڑی طاقت بنے گا۔ کیونکہ اداروں کی ترقی صرف وسائل سے نہیں بلکہ وژن، عزم اور قیادت کی مضبوطی سے ہوتی ہے—اور یہ تینوں خوبیاں ان کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

    ایک سچا معلم ہمیشہ اپنے شاگردوں کے مستقبل کو اپنے حال پر ترجیح دیتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید بھی اُن اساتذہ میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی توانائیاں صرف اپنی ذات کی ترقی پر صرف نہیں کیں بلکہ اپنے طلبہ کو بھی کامیابی کی راہوں پر گامزن کیا۔ ان کے شاگرد آج مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، اور یہ ان کی تربیت کا عملی ثبوت ہے۔ ایسے میں جب وہ ایک بڑے ادارے کی قیادت سنبھالتے ہیں تو یہ توقع بجا ہے کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو روشن کریں گے۔

    چولستان کے وسیع میدان، جو کبھی صرف ریگستان کی پہچان تھے، آج علم و تحقیق کے نئے افق بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس خطے میں تعلیم کا فروغ نہ صرف مقامی سطح پر ترقی لائے گا بلکہ قومی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی تقرری اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی ادارہ بن سکتی ہے۔

    یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کے دور میں تعلیمی اداروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے—وسائل کی کمی، معیارِ تعلیم کا دباؤ، اور عالمی سطح پر مقابلہ۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب قیادت مضبوط ہو تو مشکلات راستہ نہیں روکتی بلکہ راستے بناتی ہیں۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی پیشہ ورانہ بصیرت اور انتظامی صلاحیتیں ان چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد ہیں بلکہ ایک مدبر منتظم بھی ہیں، اور یہی امتزاج کسی بھی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

    بطور دوست، ان کی کامیابی میرے لیے ذاتی خوشی کا باعث ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک اجتماعی مسرت ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک ایسے رہنما کے سپرد ہوا ہے جو دیانت، محنت اور قابلیت کا پیکر ہے۔ میں اور ڈاکٹر محسن رضا دل کی گہرائیوں سے انہیں اس عظیم منصب پر فائز ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، ہمت اور حکمت عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھا سکیں۔
    مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں چولستان یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرے گی بلکہ تحقیق، جدت اور معاشی ترقی کے نئے باب بھی رقم کرے گی۔ ان کا وژن، ان کی محنت اور ان کی قیادت اس ادارے کو ایک نئی شناخت دے گی—ایک ایسی شناخت جو قومی اور عالمی سطح پر باعثِ فخر ہوگی۔

    آخر میں، میں اپنے اس عزیز دوست، قابل ساتھی نو منتخب وائس چانسلر کو یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ کی یہ کامیابی،تعیناتی آپ کی محنت کا ثمر توہے ہی۔۔۔لیکن آج خوشی کے اس موقع پرمجھے آپ کے شریف النفس والد محترم یاد آرہے ہیں جو جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ایڈمن آفس کے قابل رشک ملازم تھے ،جنہوں نے کبھی اپنی خدمات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔۔۔۔۔ میرا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ ان ہی کی دعاؤں کی بدولت یہ ممکن ہوا ہے اور آپ کا مستقبل اس سے بھی زیادہ روشن ہے۔ آپ کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً ترقی کی نئی منازل طے کرے گی، اور آپ کا نام ان رہنماؤں میں شامل ہوگا جنہوں نے نہ صرف اداروں کو سنوارا بلکہ قوموں کے مستقبل کو بھی روشن کیا۔

    اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور آپ کے علم، بصیرت اور قیادت کو اس ملک و قوم کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین۔

  • مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    مزدور کے لیے مزدور ہونا اتنا تلخ احساس نہیں جتنا مجبور ہونا ہے مہنگائی بے روزگاری وہ سیاسی دہشت گردی ہے جو ایک مزدور کو مجبور بنا کر اُسی کے ہاتھوں مروا دیتی ہے اس بے حسی و بے یارو مددگار دور میں جی کر زندگی پہ احسان کرنے والے مزدور کے ہاتھوں کے چھالے ایک عبادت گزار کے ماتھے پر بنے سجدوں کے نشان سے زیادہ خدا کو محبوب ہیں۔

    حقیقی مزدور وہ ہے جو محنت میں دیانتدار ہو مزدور کی اُجرت کے بارے میں ایک حدیث بہت بیان کی جاتی ہے کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو اس حدیث کی حقیقی وضاحت سے آشنا ہونا ہی ایک حقیقی مزدور کی پہچان کرواتا ہے یعنی مزدوری اس ایمانداری سے کی جائے کہ پسینے سے شرابور ہو جائے جو مزدوری کے ساتھ مخلص نہیں وہ محنت چور ہے اُس کی اُجرت برکت سے محروم ہے سب سے بہترین کمائی انسانی ہاتھوں کی محنت ہے مزدور حادثے کا شکار تو ہو سکتا ہے مگر بیماری کا نہیں۔مزدوری کا جسم ورزش کا محتاج نہیں ہوتا۔مزدوری انبیاء اکرام کا پیشہ رہا ہے۔حضرت سلیمان ؑ کو خدا نے زمین کی ہر مخلوق پر حکومت عطا کی تھی مگر وہ اپنا گزارا ٹوکریاں بنانے کی مزدوری سے کیا کرتے تھے۔حضرت داود ؑ نے خدا سے مزدوری مانگ کر لی تھی اُن کے ہاتھوں میں لوہا موم کی طرح نرم ہو جایا کرتا وہ جنگی لباس زرا بناتے گویا بکریاں اونٹ چرانے سمیت ہر قسم کی مزدوری خدا کے محبوب بندوں کا پیشہ رہی وہ پیشہ جو خدا کی دوستی پر فائز کرتا ہے مزدور مزدوری سے نہیں حکومت کی طرف سے پیدا کیے گئے سخت حالات کی مجبوری سے مارا جاتا ہے۔روز کمانا،روز کھانا، مزدور ڈے کی چھٹی کے دن بھی کام پر لا کھڑا کرتا ہے اس دن چھٹی کی بجائے اُجرت دوگنی دے کر مزدور ں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

    میں نے ایسے انصاف پسند مزدور بھی دیکھے ہیں جو اپنی روٹی ساتھ لیکر کام پہ جاتے ہیں مزدور کی روٹی جواس کی ہتھیلی کی چنگیر پر رکھی ہے اس کے اوپر ایک پیاز ہوتا ہے تازہ پیاز وٹامن اے بی اور سی کا مجموعہ ہوتا ہے کسی اور غذا میں یہ تینوں وٹامن یکجا نہیں پائے جاتے پیاز مزدور کی مادری خوراک ہے۔

    مزدور کسی بھی ریاست کے حسن سلوک کا خاص مستحق طبقہ ہے مزدوروں کی تعداد اُس ملک میں سب سے زیادہ ہوتی ہے جہاں عام عوام کے لیے ماہر و قابل احباب کے زیرسایہ تعلیم و تربیت کے معیاری فری انتظامات نہ ہوں اور اگر ہوں تو وہ اتنے مہنگے ہوں کہ ایک مزدور باآسانی اپنے بچوں کو پرائیویٹ طور پر ترقی کے مقام پر نہ پہنچا سکے۔ترقی یافتہ ممالک میں مزدور بھی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ان کی یومیہ اُجرت اتنی پرکشش ہوتی ہے کہ انہیں مزدوری احساس کمتری کی نظر سے دیکھا جانے والا پیشہ نہیں لگتا۔حقوق کی فراوانی میں باوقار زندگی گزارنے والے مزدوری پیشے میں رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو شاندار مستقبل سے ہمکنار کر سکتے ہیں ہمارے ہاں انسانی حقوق کے فقدان نے مزدور کو صلہ رحمی کا مستحق بنا کے رکھا ہوا ہے کسی بھی دولت یافتہ کاروباری شخص کی ترقی کے پیچھے مزدورں کی محنت کا ہاتھ ہوتا ہے۔

    مزدور کے حالات زندگی کی عکاسی ایک دردناک کیفیت ہے جیسے بیان کرتے قلم بھی اشک بار ہو جاتا ہے مگر احساس مزدور اجاگر کرنے کے لیے اس کرب سے گزرنا بہت ضروری ہے تاکہ صاحب اختیار لوگ کی رُوحوں کو جھنجھوڑا جا سکے مزدور اور مجبور ایک ہی تصویر کے دورُخ ہیں وہ مزدور ہی ہوتا ہے جو بھیک میں ملے پانی کو ٹھکرا کر صبر کے گھونٹ پی کر سفید پوشی کی لاج رکھتا ہے بھٹے پر مزدوری کرتی ماں کو دیکھ کر اس کا بچہ اپنے نصیب کو اس لیے کوستا ہے کہ وہ اپنی جنت کو دھوپ میں جلتا دیکھ رہا ہوتا ہے اس مزدور ماں کے احساس و جذبات کی قیمت کاغذ کے نوٹ ادا نہیں کر سکتے اسی لیے خدا نے اپنی دوستی کا اجر قائم کر رکھا ہے۔جہاں مزدوری کی اُجرت سے زیادہ ضروریات زندگی مہنگی ہوں وہاں ناانصافی کی حکومت قائم ہوتی ہے۔زمین پر قائم ملکوں کے نام پر اُن انسانوں کی قربانیاں دی جاتیں ہیں جن کے لیے خدا نے زمین تخلیق کی ہے گویا حساب زمین کا نہیں زمین پر بسنے والے انسانوں کا لیا جائے گا۔اس زمین پر بسنے والی مزدورں کی لاتعداد گنتی نے خدا کو بتانا ہے کہ بجلی گیس پانی راشن دوائی انصاف سمیت تمام ضروریات زندگی اتنی مہنگی تھیں کہ ہم پسینے کی جگہ خون بھی بہا دیں تب بھی ساری سہولتیں خرید نہیں سکتے اور جنہوں نے یہ ظلم مسلط کیے ہیں اُن کے لیے یہ سب مفت دستیاب ہوتی ہیں اُس دن محب وطنی کا لبادے میں چھپے انسانی حقوق کے مجرموں کو حسرت ہو گئی کہ کا ش ہم بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھنے کی بجائے وہ مزدور ہی ہوتے جن کا دوست خدا آج ہم سے ان کے حقوق کا حساب مانگ رہا ہے۔مزدور سمیت تمام پیشوں سے وابستہ انسانوں کے جائز حقوق کی زمہ داری ریاست کو چلانے والوں پر ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے وہ ریاست انہی کے حقوق کی چوری سے اپنی نسلوں کے مقدر سنوار رہی ہے اس ناانصافی کے نظام میں کئی صاحب کردار لوگ بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے مزدور ابھی تک جیے جارہے ہیں۔ مزدور ملکی و عوامی ترقی کے معمار ہیں ان کو مہنگائی کی سولی سے اتار کر سستی ضروریات زندگی سے وابستہ کرنا ہی ان کا حق دینا ہے۔

  • پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج نے غیر فعال کر دیا،سینٹکام

    پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج نے غیر فعال کر دیا،سینٹکام

    امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پرچم والے ایک خالی آئل ٹینکر کو امریکی افواج نے غیر فعال کر دیا۔

    سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایم ٹی حسنا نامی ٹینکر بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی جانب سفر کر رہا تھا اور اس کا رخ ایک ایرانی بندرگاہ کی طرف تھا، امریکی افواج نے جہاز کو متعدد بار وارننگ جاری کی اور عملے کو آگاہ کیا کہ وہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    سینٹ کام کے مطابق جب ٹینکر کے عملے نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو امریکی بحریہ کے طیارے نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے اسٹیئرنگ سسٹم کو نشانہ بنایا، جس کے باعث ٹینکر اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا،یہ طیارہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے پرواز کرکے آیا تھا۔

  • رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    تحریروں میں اچھی باتیں لکھنے والا رائٹر ضروری نہیں عملی زندگی میں بھی اچھا آدمی ثابت ہو بہت سے مشہوررائٹر دیکھے ہیں جو رائٹر تو بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں جو اپنی تحریروں میں نفاست پاکیزگی ا حساس و جذبات سے بریزالفاظ و جملوں پر مبنی منظر کشی سے قارئین کی رُوح کو چھو لیتے ہیں گمان ہوتا ہے آسمان سے اترے منظر ہیں مگر وہ ذاتی زندگی میں غیر معیاری گفتگو کرتے ہیں ایک آدمی کے اندر بہت سے آدمی ہوتے ہیں پرتیں ہٹنے یا ہٹانے والے حالات کا سامنا ہو تو پتا چل جاتا ہے۔تین طرح کے لکھاری دریافت ہوئے ہیں ایک جیسا لکھتے ہیں ویسے ہی خود ہوتے ہیں۔دوسراجیسا لکھتے ہیں اُس سے بلکل مختلف ہوتے ہیں تیسرے جو ملے جھلے سے ہیں۔

    سینکڑوں الفاظ بغیر غلطی کے تاثیر سے لبریز لکھنے والے رائٹر خوش بیانی میں ناکام ہوتے ہیں چندجملے کیفیت آمیز لب و لہجے سے لوگوں کے سامنے نہیں بول سکتے اس کے برعکس ایک اداکار جو رائٹر نہیں مگر ایک رائٹر کے جملوں سے ادکاری میں لفطی بیانی کے زریعے انسانی اعصاب پر گہرا اثر چھوڑ دیتے ہیں۔باکرداررائٹرز بہت کم ہیں جو جیسا لکھتے ہیں ویسا بولتے بھی ہیں عام زندگی میں بھی اپنی تحریروں جیسا جیتے ہیں۔دوسرے درجے کے رائٹر جن کی شاعری و تحریروں میں انسانی قدروں کی اعلیٰ ترجمانی ملتی ہے مگر ذاتی طور پر وہ لالچی بدزبان بے فیض ہوتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کے دماغ کا ایک قلمی حصہ خوبصورت ہے اور باقی عملی حصہ غیر معیاری ہے لگتا ہے ساری اچھائی قلم کے زریعے کاغذ پر اتار کر عام زندگی میں اچھائی سے خالی ہوجا تے ہیں ان کا خلوص مفاداتی مال و شہرت کی غرض پر ہے یعنی مصنوعی حسن سلوک کی اداکاری کرتے ہیں یہ فنکار بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں کیمرے کے سامنے بہت متاثر و قیمتی اداکاری کرتے ہیں مگر خدا کے کیمروں کے سامنے اس کی مخلوق سے عملی طور پر بڑے آدمی کے احسا س میں چھوٹے سلوک کرتے ہیں انسانوں میں اداکار بہت ہیں مگر اداکاروں میں انسان بہت کم ملتے ہیں ہر شخص نے اچھائی کا ایک اپناطریقہ اور مقدار مقرر کی ہوتی ہے جو نسلی خصلت کا تعارف ہے کچھ لوگ صرف اتنے ہی اچھے رہتے ہیں کہ ان سے کسی کو فائدہ نہیں مگر نقصان بھی نہیں پہنچ رہا وہ اسی پر مطمن ہیں۔ کچھ بڑی برداشت وہمت کا ظرف رکھتے ہیں فائدہ دے کر نقصان اپنے اعمال نامے میں صلے کے طور پر محفوظ کر لیتے ہیں اس عمل کے اجر کا حسن میرے حسن بیان سے باہر ہے کیونکہ یہ خدائی معاملہ بن جاتا ہے۔

    فن فروش انسان کسی کو مفت میں میسر ہونا خسارہ سمجھتے ہیں شہرت سے دنیا کمانے والوں کو انسانیت کمانے کے گمان میں لانے سے پہلے انہیں معاملات کے ترازو میں تول لیں تاکہ ان کی بات اور ذات کا تضاد واضع ہو سکے۔ادکاری کے ذریعے معاشرے میں مصنوعی رنگ بھرنے سے نام تو کمایا جا سکتا ہے مگر اجر نہیں کیونکہ حقیقی کردار نبھانے سے بلند وقار اوراعلیٰ معیار میسر ہوتا ہے ایسے باکردار لوگوں کے مرنے کے بعد بھی ان کے نیکیاں لکھنے والے فرشتوں کو چھٹی نہیں ملتی۔علم کے سمندر سے عمل کا قطرہ زیادہ قیمتی ہے یہ دنیا بڑی حیرت ناک و پراسرار ہے یہاں اکثریت میں اچھائی کے پیچھے کمائی چھپی ہے جن کا نظریہ یہ ہے کہ پیسا ہو چاہے جیسا ہو۔میرے نزدیک دنیا کی دولت خدا کا انسانی ایمان و معیارچیک کرنے والا ایک ٹیسٹر ہے جیسے انسان بھی استعمال کرکے نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔

    انسان ہو کر انسانیت کمانا ہی اصل خدائی کمائی ہے بے وقعت کر دینے والی دولت کے تالاب میں غوطے کھا کر مرنے سے بہتر ہے غربت کی زمین پر خودداری کے فاقوں میں سینہ تان کر جیا جائے یہ حیات خودداری بڑے لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے جو چھوٹے فن کو بھی منتخب کرتے ہیں تو اسے عزت دلا دیتے ہیں ورنہ زیادہ تر چھوٹے لوگ بڑے فن کا انتخاب کرکے اُس فن کی عزت کا لباس پہنے پھرتے ہیں ان سے جب انسانی حسن سلوک کا واسطہ پڑتا ہے تونتیجہ افسوس نکلتا ہے چھوٹا آدمی بڑے فن کو بھی چھوٹابنا دیتاہے اوربڑا آدمی چھوٹے فن کو بھی بڑا بنا دیتا ہے۔بڑا آدمی بڑے فن سے وابستہ ہوتا ہے تو اس کے گزر جانے کے بعد بھی ان کی تخلیق زمانے میں ٹھہری رہتی ہے۔عام لوگ وقت تخلیق میں محدود وقت کے لیے خاص ہو جاتے ہیں یعنی جب وہ تخلیق کرتے ہیں تو وہ وہ نہیں ہوتے جو عام وقت میں ہوتے ہیں اسی لیے عام وقت میں انہیں ملیں تو دوسرا شخص پاتے ہیں عزت دلانے والا عمل عاجزی کا تقاضا کرتا ہے مگر جب عاجزی کی بجائے غرور تکبر بدسلوکی پاتا ہے تو آسمانی فضاؤں میں اُڑنے والے کو زمینی پستیوں پہ لا کھڑا کر دیتا ہے یہی وجہ ہے اکثر شہرت پانے والے لوگ گمنامی میں نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں جو وقت شہرت میں احترام انسانیت بھول کر لوگوں کا مزاق اُڑایا کرتے تھے وہ مرگ بسترپر آتے ہی آنسوؤں سے باتیں کرتے امداد کے طلبگار ہوجاتے ہیں کتنے ہی ایسے شہکار تھے جنہیں زمین کا معدہ پانی کی طرح پی گیا اور زمانہ دیکھتے کا دیکھتا ہی رہ گیا۔اور کئی ایسے بڑے تخلیق کا رجوساری زندگی فن فروشی سے بچتے ہوئے فاقوں میں زندگی گزار گئے ان کے چلے جانے کے بعد ان کی تخلیقات نے ان کو ایسا زندہ کیا کہ لوگ انہیں مل نہ سکنے پر پچھتا تے ہیں۔ رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے۔

  • چین اور بنگلہ دیش کا متعدد شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

    چین اور بنگلہ دیش کا متعدد شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

    بنگلہ دیشی قیادت نے چینی صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ‘مشترکہ مستقبل کی عالمی برادری’ کے تصور کو سراہتے ہوئے چین کے عالمی اقدامات کا خیرمقدم کیاہے-

    بنگلہ دیش اور چین نے بیجنگ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے اور جامع تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو آگے بڑھائیں گے بنگلہ دیش نے چین کے 15ویں 5 سالہ منصوبے کے کامیاب آغاز پر مبارکباد پیش کی، جبکہ چین نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں حمایت کا اظہار کیا۔

    دونوں ممالک نے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت اعلیٰ معیار کے تعاون کو فروغ دینے اور تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، ڈیجیٹل معیشت، آبی وسائل، صحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا بنگلہ دیش نے اپنی ترقی کے لیے چین کی دیرینہ حمایت کو سراہا اور تیستا دریا کے جامع انتظام و بحالی منصوبے میں بیجنگ کے تعاون کی خواہش ظاہر کی۔

    بنگلہ دیشی قیادت نے چینی صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ‘مشترکہ مستقبل کی عالمی برادری’ کے تصور کو سراہتے ہوئے چین کے عالمی اقدامات کا خیرمقدم کیا بین الاقوامی امور پر دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی تعلقات میں جمہوریت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں سے وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایک منصفانہ اور منظم کثیر القطبی عالمی نظام اور سب کے لیے مفید اقتصادی عالمگیریت کے فروغ پر بھی اتفاق کیا۔

    مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے بنگلہ دیش نے شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ چار نکاتی تجویز کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور جامع جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی، غیر فوجی اہداف کے تحفظ اور سفارتی کوششوں کی حمایت پر زور دیا، روہنگیا بحران کے حوالے سے چین نے بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان قابلِ قبول حل تلاش کرنے میں تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا اور واپسی کے عمل میں اپنی استطاعت کے مطابق مدد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

    وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے دورے کے دوران میزبانی پر وانگ یی اور چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مناسب وقت پر بنگلہ دیش کے دورے کی دعوت بھی دی۔

  • ایران کے فضائی حملوں میں فوجی تنیبات کو حکومتی دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ، واشنگٹن پوسٹ

    ایران کے فضائی حملوں میں فوجی تنیبات کو حکومتی دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ، واشنگٹن پوسٹ

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے فضائی حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو امریکی حکومت کے دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے-

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی فضائی حملوں میں کم از کم 15 امریکی فوجی اڈوں پر 228 عمارتوں اور فوجی ساز و سامان کو نقصان پہنچا، جن میں 217 عمارتیں اور 11 فوجی اثاثے شامل ہیں، متاثر ہونے والی تنصیبات میں ہینگرز، بیرکس، ایندھن کے ذخائر، طیارے، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی آلات اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ نقصانات کی یہ سطح امریکی حکومت کے عوامی سطح پر دیے گئے بیانات اور اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس سے کہیں زیادہ ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق زیادہ تر نقصان بحرین میں امریکی بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور کویت کے تین فوجی اڈوں پر ہوا، جہاں حملے زیادہ شدت کے ساتھ کیے گئے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ان مقامات کو ممکنہ طور پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہاں سے کارروائیاں کی جا رہی تھیں بحرین اور کویت میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام تباہ ہوئے جب کہ بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کے مقام پر سیٹلائٹ ڈش کو بھی نقصان پہنچا۔

    اس کے علاوہ اردن اور متحدہ عرب امارات میں تھاڈ ریڈار سسٹمز کو بھی نشانہ بنایا گیا سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک E-3 سینٹری طیارہ تباہ ہوا جب کہ ایک ایندھن بردار طیارہ بھی ضائع ہوا بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو فلوریڈا منتقل کرنا پڑا جب کہ بعض امریکی حکام کے مطابق مستقبل میں خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی واپسی کا امکان کم ہو سکتا ہے۔

    بعض خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین سے امریکی جارحانہ کارروائیوں کی اجازت نہیں دی تاہم بحرین اور کویت کے اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جس کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہاں سے HIMARS جیسے امریکی راکٹ سسٹمز کے ذریعے ایران پر حملے کیے جارہے تھے یہ جائزہ صرف دستیاب سیٹلا ئٹ تصاویر پر مبنی جزوی تخمینہ ہے اور اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

  • فرانسیسی  طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی شپنگ کمپنی کے ایک جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمانی ساحل کا رخ کر لیا، جب کہ اسی کمپنی کے ایک اور جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق فرانسیسی شپنگ کمپنی کے کنٹینر بردار جہاز سیگون نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمان کے ساحل کے ساتھ سفر شروع کر دیا ہے، یہ جہاز اس سے قبل خلیجی پانیوں میں موجود تھا اور منگل کے روز آبنائے ہرمز کے اندر دیکھا گیا تھا۔

    اعداد و شمار فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق بدھ کے روز یہ جہاز آبنائے ہرمز سے نکل کر محفوظ راستے پر گامزن ہو گیا، جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے تاہم اسی فرانسیسی کمپنی کے ایک اور جہاز سان انتونیو پر منگل کے روز اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اس حملے میں جہاز کے عملے کے بعض افراد زخمی ہوئے ہیں، کمپنی کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا،دوسری جانب فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈیگال کو ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کے لیے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب روانہ کر دیا،چارلس ڈیگال طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً 20 رافیل جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس کے ساتھ کئی جنگی فریگیٹس بھی موجود ہیں۔

    فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق فرانسیسی بحریہ کا فلیگ شپ جہاز اپنے ہمراہ جنگی جہازوں کے ساتھ نہر سویز عبور کرتے ہوئے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب بڑھ رہا ہے، اس پیشگی تعیناتی کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں، اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے درکار وقت کم سے کم ہو۔

    فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس اور اس کے شراکت دار نہ صرف آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے تیار ہیں بل کہ اس کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں فرانس چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ رکھا جائے۔

  • بشریٰ بی بی آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل

    بشریٰ بی بی آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کو سخت سیکیورٹی میں جیل سے اسپتال لایا گیا اور طبی معائنے کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کردیا جائے گا بشریٰ بی بی کی آنکھ کی 17 اپریل کو نجی اسپتال میں سرجری ہوئی تھی جس کے بعد بھی انہیں آنکھ میں کچھ تکلیف کی شکایت تھی۔