Baaghi TV

خاموش سفارتکاری، روشن ہوتی امیدیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

تناؤ کے سائے میں اُبھرتی امن کی کرن
آبنائے ہرمز سے امید کا سفر
تجزیہ شہزاد قریشی
آبنائے ہرمز، عالمی سیاست اور امن کی امید
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حالات بظاہر کشیدہ ضرور ہیں، مگر پسِ پردہ ایک بڑی سفارتی حکمت عملی بھی جاری ہے۔ آبنائے ہرمز جو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ ہے، اس پر ایران کا کردار انتہائی حساس اور فیصلہ کن ہے۔
ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند رکھا جائے تو نہ صرف عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہوگی بلکہ تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ عام آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائے گا۔ ایسی صورتحال میں دنیا کی وہ ہمدردی، جو کسی حد تک ایران کے ساتھ ہے، مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث اس کے خلاف بھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران غالباً مکمل بندش کے بجائے دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ٹھنڈے دل سے حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ، کسی نئی بڑی جنگ کے حق میں نظر نہیں آتے۔ امریکی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ دباؤ اور مذاکرات کو ساتھ ساتھ چلایا جائے، خصوصاً ایسے وقت میں جب داخلی سیاسی حالات اور انتخابات قریب ہوں۔ امریکہ بھی نہیں چاہتا کہ ایک نیا عالمی بحران جنم لے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ سفارتی روابط اور مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پسِ پردہ سنجیدہ کوششیں جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں تصادم کے بجائے حل کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ حالات مکمل طور پر نارمل نہیں ہوئے، مگر ایک بڑی جنگ کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا اس وقت ایک نازک توازن پر کھڑی ہے جہاں دانشمندی، سفارتکاری اور تحمل ہی مسائل کا حل ہیں۔

امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی مزید کم ہوگی اور صورتحال بتدریج بہتری کی جانب بڑھے گی، کیونکہ نہ ایران کسی عالمی معاشی بحران کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی امریکہ ایک نئی جنگ کا۔ یہی عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ معاملہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونے کی طرف جا رہا ہے

More posts