Baaghi TV

Blog

  • پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی کے خیرمقدم کی قرارداد جمع کرا دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق یہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے ایوان وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں –

    قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پرامن سفارتی کاوشوں کو آج پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے یہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے جس پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی تھی، آج وہی پاکستان دنیا کے اہم فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلامی دنیا کے ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں،یہ ایوان امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں کی تائید کرتا ہے۔

  • آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔

    ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کےساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد افغان طالبان صوبے نورستان اورکنڑ میں سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوئے، افغان طالبان سرحدی چوکیوں سے پسپائی کے بعد مساجد میں نا صرف چھپ گئے بلکہ عام شہریوں کے روپ میں علاقوں سے فرار بھی ہوگئے۔

    افغان میڈیا کے مطابق قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سیکیورٹی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام اور اپنی عبرتناک شکست چھپانے کیلئے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، افغان طالبان رجیم کی غفلت نےعوام کو فاقہ کشی پر مجبور کیا، مقامی آبادی نے مدد کیلئے پاکستانی سیکیورٹی فورسز سے رجوع کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف حالیہ کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسزکسی بھی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر یہ واضح پیغام دے دیا کہ اب دہشتگردوں کی سرپرستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، کامیاب سفارتکاری پر قیادت کو خراجِ تحسین، جمعہ کو یومِ تشکر کا فیصلہ

    وفاقی کابینہ اجلاس، کامیاب سفارتکاری پر قیادت کو خراجِ تحسین، جمعہ کو یومِ تشکر کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ان کی آمد پر کابینہ اراکین نے تالیاں بجا کر پُرجوش خیرمقدم کیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کابینہ اراکین نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے بھی ڈیسک بجا کر مبارکباد پیش کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔اجلاس میں تمام اراکین نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کی گئی کامیاب سفارتی کوششوں اور مثبت اقدامات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سطح پر اپنے مؤثر سفارتی کردار کے باعث نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ قومی قیادت نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی سفارتی کاوشیں عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں اور ملک امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

    وزیراعظم نے اجلاس کے دوران کابینہ کو جنگ بندی کے لیے ہونے والی پیش رفت اور پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔جنگ بندی کی خوشی میں کابینہ اراکین میں مٹھائی تقسیم کی گئی، جبکہ جمعہ کے روز یومِ تشکر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہترین قومی مفاد میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی اور عالمی سطح پر ملک کے امن پسند کردار کو اجاگر کیا۔

  • ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے،پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا،پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

    ادھر سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

    سعودی میڈیا نے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوششوں کو سراہا گیا ہے جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔

    سعودی عرب پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنائے اور ان تمام عوامل کا حل فراہم کرے جو طویل عرصے سے عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی قانو ن، خصوصاً 1982 کے اقوامِ متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت، جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جانا چاہیے اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امید کا اظہار کیا گیا کہ جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بنے گی، جس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا اور ایسے تمام اقدامات کا خاتمہ ہوگا جو خطے کے ممالک کی خودمختاری، امن اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔

  • پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی،بلاول کا خراج تحسین

    پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی،بلاول کا خراج تحسین

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد کی قیادت کی انتھک سفارتی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکا کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تباہی کے راستے کے بجائے مذاکرات کا انتخاب کیا اور کشیدگی سے پیچھے ہٹنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا، پاکستان کو فخر ہے کہ اس نے دانشمندی، عزم اور امن کے لیے پختہ وابستگی کے ساتھ قیادت کا کردار ادا کیا، تینوں ممالک کی قیادت نے کشیدگی میں کمی اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جبکہ یہ جنگ بندی پورے خطے کے لیے سکون کا سانس لینے کا ایک اہم موقع ہے، یہ پیش رفت محض عارضی وقفہ ثابت نہیں ہوگی بلکہ پائیدار امن، استحکام اور باہمی تعاون کے نئے دور کا آغاز بنے گی جو خطے اور دنیا بھر میں مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا۔

  • امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی  پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا اور ایران کے مابین 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں عالمی برادری نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے وہیں بھارتی بھی امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پاکستان کے رابطوں کا نتیجہ ہے، جس میں اسلام آباد نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کو کم کریں اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیں لیکن پاکستان کا یہ ثالثی کردار نہ تو بھارت کو ہضم ہو رہا ہے اور نہ اسرائیل اس سے خوش ہے جہاں بھارتی میڈیا میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر ماتم کا سماں ہے وہیں بھارتی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں، بھارتی عوام نے کُھل کر پاکستانی کردار کی تعریف کی۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر #PakGlobalPeaceMaker ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،بھارتی پروفیسر اشوک سوین نے وائٹ ہاؤس کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتکاری کی تعریف کی اور لکھا یہ ایران کے لیے ایک فتح اور پاکستان کے لیے اعزاز کا نشان ہے مودی شاید پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے چاہتے تھے مگر اس کے برعکس بھارت خود تنہا رہا گیا۔

    بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز شریف نے شاندار کام کیا،جبکہ مصنف اتل کھتری نے لکھا کہ ‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں پاکستان کے لیے یہ ٹوئٹ کروں گا،ساتھ ہی انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا-

    فلمی نقاد کے آر کے نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک کر نا صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو بچایا بلکہ دنیا کے اختتام تک آپ کو ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا-

    دفاعی تجزیہ کار ابھیجیت مترا نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ بندی کی مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ ثالثی کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی خطرہ مول لینے کی بھی صلاحیت ہونی چاہیے، پاکستان نے دونوں کو بخوبی انجام دیا۔

    مصنف اور دانشور جیانت بھنڈاری نے جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اچھے رہنما تلاش کر سکتا ہے، بنگلہ دیش اور سری لنکا بہت بہتر کام کر رہے ہیں، ہندوستانیوں کو خود سوچنا چاہئے کہ آخر وہ سڑکوں کے غنڈوں کی صلاحیت والے لیڈروں کی حمایت کیوں کرتے ہیں-

    بھارت کے مشہور اسکالر اشوک سوین نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے کامیاب مذاکرات نہ صرف امریکا اور ایران کے اس پر بھروسے کا ثبوت ہیں، بلکہ یہ چین کے اعتماد کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ مودی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے بھارت کو ہی تنہا کر دیا ہے۔

    جہاں بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے وہیں گودی میڈیا کو پاکستان کی تعریفیں ہضم نہیں ہو رہیں اور اپنی خفت مٹانے کے لیے قصے کہانیاں بھی گڑھنی شروع کردی ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے ایکس پر جاری پیغام کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔

    بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے ایک سگمنٹ میں موجود تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ امریکا اور ایران نے ثالثی کے لیے پاکستان پر بھروسہ کیا لیکن بھارت پر کیوں نہیں-

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی نمایاں حیثیت نے خطے میں اثر و رسوخ کے موجودہ حساب کتاب کو چیلنج کر دیا ہے جنگ بندی کے اس وقفے کو عارضی خاموشی سے مستقل مذاکرات میں بدلنے کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    بھارت کے لیے یہ صورتحال سفارتی طور پر کافی حساس ہے نئی دہلی طویل عرصے سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے ہائی اسٹیک مذاکرات کے مرکز میں اسلام آباد کے اچانک نمودار ہونے نے بھارت کے اسٹریٹجک حلقوں اور میڈیا میں بحث چھیڑ دی ہے جہاں پاکستان کے اس کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی یہ شمولیت حالیہ ہفتوں میں بتدریج بڑھی ہے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم شہباز شریف نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے بحال رکھے اور آج کے کامیاب مذاکرات سے پہلے ہمیشہ تحمل کا درس دیا۔

    خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز اور امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی تاریخ نے اسے ایک منفرد مقام دیا کہ جب تناؤ عروج پر پہنچا تو اس نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کیا جنگ بندی کی خبر پر مارکیٹ نے فوری ردِعمل ظاہر کیا اور آج تناؤ میں کمی کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے گر گئیں۔

  • شمالی کوریا کا امریکا اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید میزائل بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا کا امریکا اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید میزائل بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا نے دو روز کے دوران دوسرا پروجیکٹائل لانچ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے فوری طور پر میزائل کی نوعیت یا فاصلے سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں ایک روز قبل بھی شمالی کوریا کے دارالحکومت کے قریب ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے تجربے کا سراغ لگایا گیا تھا، جس کا تجزیہ جنوبی کوریا اور امریکا کے انٹیلی جنس ادارے کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے رہنما کم جونگ ان نے ایک جدید سالڈ فیول انجن کے کامیاب تجربے کا مشاہدہ کیا، جسے ملک کے اسٹریٹجک فوجی نظام میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے ایسے جدید، ناقابلِ سراغ میزائل تیار کرنا چاہتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سالڈ فیول میزائلز کو حرکت دینا اور چھپانا آسان ہوتا ہے، جبکہ مائع ایندھن والے میزائلز کے برعکس انہیں لانچ سے پہلے بھرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

    جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے قانون سازوں کو بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ انجن ٹیسٹ ممکنہ طور پر ایسے طاقتور میزائل کی تیاری سے متعلق ہے جو متعدد جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    شمالی کوریا 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ناکام سفارتی مذاکرات کے بعد سے اپنے جوہری پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے فروری میں ورکرز پارٹی کے اجلاس میں کم جونگ اُن نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیا، تاہم امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کو مذاکرات کی شرط نہ بنائے۔

  • فیلڈ مارشل  کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا،وفاقی وزیر ریلویز

    فیلڈ مارشل کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا،وفاقی وزیر ریلویز

    وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔

    محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کا کلیدی کردار قابلِ فخر ہے، جس سے خطے میں امن کے قیام کی نئی راہیں کھلی ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا، جبکہ ان کی بصیرت افروز قیادت پاکستان کی دفاعی اور سفارتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی فعال اور متحرک سفارتی کوششوں نے جنگ بندی کے عمل کو کامیا ب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچا کر امن کا پرچم بلند کیا ہے، اور یہ کامیابی اعلیٰ قیادت کی بصیرت اور مؤثر سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے اسلام آباد میں ہونے والی کامیاب سفارتی کاوشیں خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہیں، جبکہ پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے نمایاں رہا ہے، یہ تاریخی کا میابی پاکستان کے روشن اور مضبوط عالمی تشخص کی عکاس ہے ، اور دنیا پاکستان کی تعمیری اور مثبت سفارتکاری کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

  • پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی،اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

    یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا،جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور سفارتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی، سوشل میڈیا ڈپلومیسی کے ذریعے جنگ بندی

    پاکستان کی سفارتی کامیابی، سوشل میڈیا ڈپلومیسی کے ذریعے جنگ بندی

    : پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سفارتکاری میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جسے ماہرین “سوشل میڈیا ڈپلومیسی” کی ایک منفرد مثال قرار دے رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان سے قبل وزیر اعظم شہبازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپیل کی کہ “سفارتکاری کو موقع دیا جائے” اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی اس اپیل کے محض ڈیڑھ گھنٹے بعد امریکی صدر نے حملے مؤخر کرنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی، جسے پاکستان کی بروقت اور مؤثر سفارتی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

    بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ “انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جو لبنان سمیت ہر جگہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف جنگ بندی میں ثالث بنا بلکہ اب وہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کرے گا۔ جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد امریکی اور ایرانی حکام کی پہلی براہ راست ملاقات ہوگی۔مزید برآں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ممکنہ طور پر ہنگری کے دورے کے بعد اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی جانب اہم قدم ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔