Baaghi TV

Blog

  • امریکا،ایران جنگ بندی، عالمی رہنماؤں کا خیرمقدم

    امریکا،ایران جنگ بندی، عالمی رہنماؤں کا خیرمقدم

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان پر عالمی برادری نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آسکے۔ سعودی حکام نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی خطے میں ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد ثابت ہوگی۔

    دوسری جانب ملائیشین وزیراعظم انورابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدہ تشکیل دیا جائے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس پیش رفت کو خطے اور دنیا کے لیے باعثِ راحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہے۔ادھر فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ جنگ بندی کی شرائط کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ایک خوش آئند قدم ہے، تاہم لبنان کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، لہٰذا اسے بھی کسی جامع امن معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اس اہم پیش رفت کی راہ ہموار کی، جسے سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ویلڈن پاکستان کی گونج، کامیاب ثالثی سے خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا

    ویلڈن پاکستان کی گونج، کامیاب ثالثی سے خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا

    دنیا بھر میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے چرچے جاری ہیں، جہاں ماہرین اور عالمی رہنما پاکستان کی ثالثی کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی بروقت اور مؤثر کوششوں کے باعث ایک ممکنہ بڑے تصادم کو ٹال دیا گیا، جس سے پورا خطہ تباہی کے دہانے سے واپس آ گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہایت متحرک اور مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی حکمت عملی اور عالمی رابطوں نے کشیدہ صورتحال کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔جنگ بندی کو ممکن بنانے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشیں بھی نمایاں رہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے مختلف عالمی دارالحکومتوں سے مسلسل رابطے رکھے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوئی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ماضی میں متعدد مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور صلاحیتوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

    بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس کامیاب ثالثی کے اثرات عالمی منظرنامے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جہاں نہ صرف کشیدگی میں کمی آئی بلکہ اقتصادی استحکام کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں جاری رہیں تو خطے میں پائیدار امن کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں "ویلڈن پاکستان” کی گونج اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    پاکستان کی بروقت، مخلصانہ اور حکمتِ عملی پر مبنی سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے حصول میں کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ کامیابی ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کے اُس کردار کی توثیق کرتی ہے جو ایک منتشر عالمی منظرنامے میں پل بنانے والے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔یہ جنگ بندی محض وقتی توقف نہیں بلکہ کشیدگی پر امن کی ایک بڑی فتح ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ مکالمہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک دوراندیش رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی ذاتی دلچسپی اور مخلصانہ ثالثی نے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ہر سفارتی کوشش پاکستان کے قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے عین مطابق تھی۔ ان کی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کر دیا ہے۔داخلی سکیورٹی نظام کی قیادت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتکاری میں مرکزی کردار ادا کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے عسکری اور سفارتی ہم آہنگی کی نئی مثال قائم کی ہے۔

    کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے نے اصولی مؤقف کے ساتھ واضح طور پر فریق بننے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ایسے مؤقف کا بروقت اظہار پاکستان کے مثبت اور مخلص کردار کے نتائج کے تعین میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ حقیقی ثالثی میں کوئی ہار یا جیت نہیں ہوتی، بلکہ کامیابی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ فریقین اجتماعی بھلائی کے لیے کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔ پاکستان نے توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں جانب مساوی مفادات کو یقینی بنایا تاکہ دیرپا استحکام ممکن ہو سکے۔ یہ پیش رفت انسانیت کی جیت ہے۔ کشیدگی میں کمی کے ذریعے پاکستان نے خطے اور دنیا بھر میں کمزور طبقات کے روزگار اور زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں استحکام نے عالمی توانائی منڈیوں اور سپلائی چین پر دباؤ کم کیا ہے، جس سے دنیا بھر کے غریب طبقات کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    اس تاریخی کامیابی کے باوجود ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔ مخالف عناصر اپنے مفادات کے لیے اس کامیابی کو متنازع بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ خطے کو دوبارہ بحران کی طرف دھکیلا جا سکے۔یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا اور پھر علاقائی استحکام و خوشحالی کی طرف بڑھنا ہماری اگلی منزل ہے۔پاکستان نے منفی پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیوں کو مؤثر انداز میں رد کرنے کی غیر معمولی صلاحیت دکھائی ہے، تاہم معلوماتی میدان میں دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے بیک وقت متعدد سنگین بحرانوں سے نمٹنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی، آپریشن "غضب للحق” اور اندرونی انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کے دوران ریاست مضبوط اور ثابت قدم رہی۔ ان تمام سکیورٹی اور سفارتی محاذوں کو سنبھالتے ہوئے پاکستان نے اپنی معاشی استحکام کو بھی برقرار رکھا۔ عالمی سطح پر بڑھتا ہوا اعتماد معاشی فوائد میں تبدیل ہو رہا ہے اور اہم معاشی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

    ان بے شمار کامیابیوں کے ذریعے پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو صرف بحرانوں کا سامنا نہیں کرتا بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتا ہے، الحمدللہ۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • امریکا ایران جنگ بندی،پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا،مبشر لقمان

    امریکا ایران جنگ بندی،پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا،مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے امریکا ایران جنگ بندی کے لئے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "الحمدللہ پاکستان نے وہ حاصل کر لیا جو ناقابلِ تصور تھا”۔مبشر لقمان نے امریکا ایران جنگ بندی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کامیابی کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعتراف اپنی جگہ درست ہے، تاہم وزارت خارجہ کا بھی اس میں کردار اہم ہے، وزیر خارجہ اور وزارتِ خارجہ کی ٹیم نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور یہ کامیابی دراصل شاندار ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ پاکستان فارن سروسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ سفارتی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔

    مبشر لقمان نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر پر تنقید کرتے ہوئے طنزیہ انداز اپنایا اور کہا کہ،جے شنکر، حسد سے جلتے رہیں .

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کردیا-

    پاکستان کی اعلیٰ قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں سے امریکا اور ایران کے درمیان بڑے تصادم کو روکنے کی کامیاب کاوشوں کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مختلف بیانات دیئے گئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر جہاں اپنی کامیابی کے قصیدے پڑھے تو وہیں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔

    جس عباس عراقچی انہوں نے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کامیاب سفارتکاری اور مشرق وسطیٰ کو بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ سے شیئر ہونے والے اس بیان میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست اور امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی مذاکراتی تجویز کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف حملے بند کیے جاتے ہیں تو اس کی مسلح افواج دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔

  • سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ لگتا تھا،جنگ بندی پر اسرائیلی حکومت حیران

    سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ لگتا تھا،جنگ بندی پر اسرائیلی حکومت حیران

    اسرائیلی حکومت امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے جنگ بندی کے اعلان پر حیرت زدہ رہ گئی۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی تہذیب اجڑنےکے لیے شادیانے بجانےکی تیاری کرنے والوں کے خواب ٹوٹ گئے اسرائیلی اہلکار نےکہا کہ ہم ٹرمپ کے فیصلے سے حیران تھے، ہمیں آخری لمحات میں اپ ڈیٹس موصول ہوئیں، سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ لگتا تھا۔

    اسرائیلی صحافی زیو روبنسٹین نےکہا کہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد کوئی جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی دنیا دیکھ رہی ہے اور سچ جانتی ہے، دنیا کے تمام F-35 تیل کے ایک بیرل کی قیمت پر نہیں جیت پائیں گے،ایران نامی تہذیب ٹرمپ سے 1500 سال پہلے موجود تھی اور اس کے بعد بھی 1500 سال باقی رہے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی بھرپور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے،صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری پوسٹ میں تصدیق کی کہ وہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے ممکنہ حملوں کو روک رہے ہیں، تاہم اس کے بدلے ایران کو آبنائے ہرمز کو فوری اور مکمل طور پر بحری ٹریفک کے لیے کھولنا ہوگا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کی بنیاد پر کیا گیا ہے جنہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کی طرف بھیجی جانے والی تباہ کن فورس کو روک دوں۔

    وزیراعظم نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے میری صدر ٹرمپ سے پرخلوص درخواست ہے کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں، اور ساتھ ہی ہم اپنے ایرانی بھائیوں سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ خیر سگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دیں، تمام فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی کریں تاکہ مستقل امن کی کوششیں اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکیں۔ اب دس اپریل سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان باقاعدہ مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں جس پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

  • بھارت : رن آؤٹ تنازعے پر امپائر قتل

    بھارت : رن آؤٹ تنازعے پر امپائر قتل

    بھارت میں کرکٹ میچ کے دوران معمولی تنازعے پر امپائر کو قتل کر دیا گیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہر وشاکھاپٹنم میں پیش آیا جہاں ایک مقامی کرکٹ میچ کے دوران رن آؤٹ تنازع پر امپائر ڈولا اجیت بابو کو قتل کردیا گیا جبکہ قاتل موقع سے فرار ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق اتوار کی شام تین ٹیموں کے درمیان جاری میچ میں رن آؤٹ کے فیصلے پر جھگڑا ہوا جسے امپائر اجیت بابو اور ان کے ساتھی بڈوموری چیرنجیوی نے وقتی طور پر ختم کرا دیا،تاہم ایک تماشائی کانتا کشور اس معاملے پر مشتعل ہوگیا اور بدتمیزی کرنے لگا۔

    بعد ازاں اس نے امپائروں کو معاملہ سلجھانے کے بہانے بلایا، میچ ختم ہونے کے بعد جب وہ موقع پر پہنچے تو دوبارہ تلخ کلامی ہوئی اور ملزم نے اچانک چاقو نکال کر حملہ کر دیا،اجیت بابو شدید زخمی ہوکر دم توڑ گئے جبکہ دیگر افراد بھی زخمی ہوئے، اہل خانہ کے مطابق ملزم نشے میں تھا اور پہلے سے حملے کا منصوبہ بنا چکا تھا-

  • امریکا ایران جنگ بندی: سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    امریکا ایران جنگ بندی: سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے-

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمت میں 8 فیصد سے زائد کمی آئی تھی،اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کم ہوئی، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی خریداری بڑھا دی۔

    رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4,812 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ ایک موقع پر یہ 3 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 19 مارچ کے بعد بلند ترین سطح پر بھی گیا، امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،دیگر دھاتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، چاندی کی قیمت 4.9 فیصد بڑھ کر 76.48 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 3.2 فیصد اضافے کے ساتھ 2,020 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 4.1 فیصد اضافے کے بعد 1,529 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔

    ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے، جس کے باعث سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم بھی ہو سکتی ہے۔

  • اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے

    اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں-

    رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا، ایران اور ان کے اتحادی فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل ہےتاہم بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے،مکابرہ میں فضائی حملہ کیا گیا جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی گئی، اسی طرح جنوبی شہر تائر میں بھی متعدد فضائی حملے کیے گئے، جن میں سے ایک حملہ ایک اسپتال کے قریب ہوا اور یہ حملہ امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے فوراً بعد کیا گیا۔

    لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل

    تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی سے خارج کرنے اور حملوں کے تسلسل سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے،اس صورتحال نے جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں-

    ایران امریکا جنگ بندی: تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، پاکستان سمیت عالمی مارکیٹس میں تیزی

  • مشرق وسطیٰ جنگ : کتنا جانی ومعاشی نقصان ہوا؟

    مشرق وسطیٰ جنگ : کتنا جانی ومعاشی نقصان ہوا؟

    امریکا اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں خطے کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ تک سامنے آنے والے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس جنگ کی شدت اور پھیلاؤ کو واضح کر رہی ہیں۔

    ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 3 ہزار 636 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے کم از کم 1 ہزار 900 اموات کی تصدیق کی ہے لبنان میں 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار 530 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 129 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے تین امن اہلکار بھی مختلف واقعات میں مارے گئے۔

    عراق میں کم از کم 117 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل میں ایران اور لبنان سے داغے گئے میزائل حملوں میں 23 افراد مارے گئے اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں اس کے 11 اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 13 امریکی فوجی ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ متحدہ عرب امارات میں 13 افراد جان سے گئے۔ قطر میں ہیلی کاپٹر حادثے میں 7 افراد، اور کویت میں بھی 7 اموات رپورٹ کی گئی ہیں دیگر علاقوں میں مغربی کنارے میں 4 فلسطینی خواتین، شام کے شہر سویدا میں 4 افراد، جبکہ بحرین، عمان اور سعودی عرب میں بھی مختلف حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے فرانس کا ایک فوجی بھی شمالی عراق میں ڈرون حملے میں مارا گیا۔

    انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اس جنگ نے خطے کی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے سنٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکی آپریشن کے ابتدائی 100 گھنٹوں پر ہی تقریباً 3.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جو اوسطاً 891 ملین ڈالر یومیہ بنتے ہیں۔

    ایرانی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو تقریباً 800 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی مہم کے اخراجات 25 سے 30 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔

    توانائی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خطے کے 9 ممالک میں کم از کم 40 توانائی کے اثاثے شدید متاثر ہوئے، جبکہ ایرانی جوابی حملوں سے خلیجی ممالک کی آئل ریفائننگ صلاحیت کو 30 سے 40 فیصد تک نقصان پہنچا، جس سے عالمی منڈی میں روزانہ 11 ملین بیرل تیل کی کمی واقع ہوئی ماہرین کے مطابق تباہ شدہ توانائی کے ڈھانچے کی بحالی پر کم از کم 25 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

    سیاحت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے مطابق جنگ کے پہلے 20 دنوں میں ہی سیاحت کی آمدنی میں 12 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 600 ملین ڈالر کے اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔

    تنازع کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 3 ہزار 400 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ صرف دبئی میں پہلے ہفتے کے دوران 80 ہزار سے زائد ہوٹل بکنگز منسوخ کی گئیں، جس سے ہوٹل انڈسٹری کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو سیاحت میں 27 فیصد کمی آ سکتی ہے، جس سے 38 ملین سیاح کم آئیں گے اور تقریباً 56 ارب ڈالر تک کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق 2026 میں مشرق وسطیٰ کو سیاحت سے 200 ارب ڈالر سے زائد آمدنی کی توقع تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ ہدف خطرے میں پڑ گیا ہے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف جانی نقصان میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور خطے کے استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  • پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی  مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر  کے داخلے کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کے داخلے کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر Itamar Ben-Gvir کے داخلے کی شدید مذمت کی ہے ۔

    گزشتہ روز اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی نے مسجد کے احاطے میں فوجیوں کے ساتھ داخل ہو کر اس کے صحنوں کا دورہ کیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کو اسرائیلی آباد کاروں کیلئے کھولنے کا معاملہ زیرِ غور ہے اسرائیلی پولیس نے بین گویر اور اُن کے ساتھ 150 اسرائیلیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے دیا۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدام مسجد کی حرمت اور تاریخی حیثیت پر براہِ راست حملہ ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی مذہبی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی تمام کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔

    دوسری جانب ترکیہ، قطر اور اردن نے بھی اس اقدام کو اشتعال انگیزی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے،فلسطینی اداروں کی جانب سے اس اقدام کی بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی ہے، القدس انٹرنیشنل انسٹی ٹیوشن نے کہا کہ یہ منصوبہ مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کے منصوبے کو تقویت دیتا ہے، یہ جنگ کا استعمال مسجد اقصیٰ کو ایک مشترکہ یہودی مقدس مقام میں تبدیل کرنے کے لیے ہے اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے بین گویر کو مسجد کے امور پر موثر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔