Baaghi TV

Blog

  • امریکا میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ، خواتین جوڑے مردوں سےزیادہ

    امریکا میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ، خواتین جوڑے مردوں سےزیادہ

    امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پہلی بار خواتین پر مشتمل ہم جنس جوڑے مردوں سے زیادہ ہو گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سن 2005 میں ہم جنس جوڑوں میں مردوں کا تناسب زیادہ تھا، جہاں 54 فیصد جوڑے مردوں پر مشتمل تھے جبکہ خواتین کا حصہ 45 فیصد تھا۔ اس وقت قانونی طور پر ہم جنس شادی صرف ایک ریاست میساچوسٹس میں تسلیم شدہ تھی۔تاہم دو دہائیوں میں صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ 2024 تک خواتین ہم جنس جوڑوں کا تناسب بڑھ کر 53 فیصد ہو گیا جبکہ مرد جوڑوں کا تناسب 46 فیصد رہ گیا۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی میں سن 2015 میں ہم جنس شادی کو ملک بھر میں قانونی حیثیت ملنا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق 2024 تک امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی تعداد تقریباً 1.4 ملین تک پہنچ گئی، جو کہ 2005 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ یہ تعداد ملک کے مجموعی گھرانوں کا تقریباً 1 فیصد بنتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ شرح اب بھی اس مجموعی آبادی سے کم ہے جو خود کو LGBTQ+ شناخت کرتی ہے، جس کا اندازہ تقریباً 9 فیصد لگایا گیا ہے، جبکہ تقریباً 5 فیصد امریکی خود کو بائی سیکسوئل قرار دیتے ہیں۔

    اعداد و شمار میں ایک اہم پہلو معاشی عدم مساوات بھی سامنے آیا۔ خواتین ہم جنس جوڑوں کی اوسط سالانہ گھریلو آمدنی تقریباً 108,500 ڈالر رہی، جبکہ مرد جوڑوں کی آمدنی اس سے کہیں زیادہ یعنی 140,500 ڈالر رہی۔تاہم ملازمت کے حوالے سے دونوں اقسام کے جوڑوں میں تقریباً یکساں شرح دیکھی گئی، جہاں تقریباً 64 فیصد جوڑوں میں دونوں پارٹنرز ملازمت پیشہ تھے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہم جنس جوڑے تعلیمی اعتبار سے اپنے مخالف جنس ہم منصبوں سے آگے ہیں۔ تقریباً 32.5 فیصد ہم جنس غیر شادی شدہ جوڑوں میں دونوں افراد کم از کم بیچلر ڈگری رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.1 فیصد ہے۔مزید برآں، ہم جنس شادی شدہ جوڑوں میں نسلی تنوع بھی زیادہ پایا گیا، جہاں 31.3 فیصد جوڑے مختلف نسلی پس منظر رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.5 فیصد ہے۔

    رپورٹ کے مطابق شادی شدہ ہم جنس جوڑے اوسطاً کم عمر ہیں (49 سال) جبکہ شادی شدہ مخالف جنس جوڑوں کی اوسط عمر 53.2 سال ہے۔ غیر شادی شدہ جوڑوں میں عمر کا فرق تقریباً برابر رہا۔اعداد و شمار کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی شرح سب سے زیادہ رہی، جس سے اس شہر کی بطور LGBTQ+ کمیونٹی کے مرکز کی شہرت مزید مستحکم ہو گئی۔یہ اعداد و شمارامریکن کمیونٹی سروے کے تحت 2005 سے 2024 تک جمع کیے گئے، تاہم 2020 میں کووڈ-19 وبا کے باعث ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ماہرین کے مطابق یہ رجحانات نہ صرف سماجی قبولیت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ امریکی معاشرے میں خاندانی ساخت میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

  • اوکاڑہ میں ایل پی جی قیمتوں پر سختی، اوورچارجنگ اور غیر قانونی ری فلنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی

    اوکاڑہ میں ایل پی جی قیمتوں پر سختی، اوورچارجنگ اور غیر قانونی ری فلنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی

    اوکاڑہ میں ایل پی جی قیمتوں پر سختی، اوورچارجنگ اور غیر قانونی ری فلنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی، مزید تفصیلات جانتے ہیں فیضان شیخ ساوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احمد سلیم چشتی کی زیر صدارت ایل پی جی ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور مختلف ایل پی جی پلانٹ ہولڈرز کا اجلاس، اس موقع پر سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی بھی موجود تھے، اجلاس میں گیس کی قیمتوں پرعمل درآمد کے احکامات جاری کیے گئے، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احمد سلیم چشتی نے کہا کہ تمام پلانٹ ہولڈرز اور ڈسٹری بیوٹرز حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر ایل پی جی کی فروخت کو یقینی بنائیں، دکانوں اور پلانٹس پر قیمتوں کی فہرست واضح جگہ پر آویزاں کی جائے تاکہ صارفین کو سرکاری نرخوں کا علم ہو سکے، غیر معیاری سلنڈرز کی فروخت اور غیر قانونی ری فلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی، انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انہوں نے سول ڈیفنس آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ مارکیٹ کی مسلسل مانیٹرنگ کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موقع پر بھاری جرمانے اور دکانیں سیل کریں۔

  • کوٹلی ستیاں،نئے سیاحتی منصوبے چیوڑا بیس ریزارٹ نے بھرپور توجہ حاصل کر لی

    کوٹلی ستیاں،نئے سیاحتی منصوبے چیوڑا بیس ریزارٹ نے بھرپور توجہ حاصل کر لی

    تحصیل مری کے خوبصورت پہاڑی علاقے کوٹلی ستیاں میں قائم ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب (ٹی ڈی سی پی) کے نئے سیاحتی منصوبے چیوڑا بیس ریزارٹ نے ملکی میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کر لی۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والے مختلف معروف الیکٹرانک میڈیا چینلز کے ٹورازم بیٹ رپورٹرز نے ریزارٹ کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر بیس سے زائد صحافیوں نے ریزارٹ میں موجود جدید سہولیات سے آراستہ گلمپنگ پوڈز اور دلکش ٹری ہاؤسز میں کا دورہ کیا اور قدرتی حسن سے بھرپور ماحول کو خوب سراہا۔ ریزارٹ میں جدید طرز اور منفرد فن تعمیر پر سات گلمپنگ پورڈذ اور چار ٹری ہائوسز تیار کئے گئے ہیں اور ریسٹورنٹ بھی تعمیر کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ اس کے علاؤہ آرچری، اے ٹی وی رائیڈرز ، سٹار گیزنگ جیسی تفریحی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے،اس موقع پر صحافیوں کو ریزارٹ میں فراہم کی جانے والی جدید رہائشی سہولیات، ماحولیاتی ہم آہنگی پر مبنی تعمیرات، اور سیاحت کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء نے ریزارٹ کے منفرد تصور، اعلیٰ معیار اور سیاح دوست سہولیات کو بے حد سراہتے ہوئے اسے پنجاب میں سیاحت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

    صحافیوں کا کہنا تھا کہ چیوڑا بیس ریزارٹ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام ثابت ہوگا، جو خطے میں سیاحت اور مقامی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ٹی ڈی سی پی نے پٹریاٹہ ٹاپ پہ بھی چار نئے ٹری ہاؤسسز قائم کئے ہیں جن کا مقصد ماحول دوست سیاحت کا فروغ اور سیاحوں کو منفرد انداز میں قیام کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ تمام منصوبے اس خطے میں سیاحت کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہونگے،محکمہ سیاحت ایسے منصوبوں کے ذریعے پنجاب کے خوبصورت اور کم دریافت شدہ علاقوں کو سیاحتی نقشے پر لانے اور معیاری سیاحتی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

  • کویت میں علی السالم ایئر بیس پر ایران کا حملہ، 15 امریکی فوجی زخمی

    کویت میں علی السالم ایئر بیس پر ایران کا حملہ، 15 امریکی فوجی زخمی

    کویت میں رات گئے ایران کے جوابی ڈرون حملوں میں 15 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہو گئے۔

    کویتی حکام کے مطابق یہ حملہ ایک حساس فوجی تنصیب، علی السالم ایئر بیس، پر کیا گیاامریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون ایئر بیس کے احاطے میں گرا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود امریکی اہلکار زخمی ہوئے زخمی ہونے والے تمام فوجیوں کو معمولی نوعیت کے زخم آئے ہیں اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے حملے کے بعد بیس پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ علاقے میں نگرانی کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔

    ادھر امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران اب تک مجموعی طور پر 375 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 5 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    بھارت میں شادیوں کے بڑھتے اخراجات، سماجی دباؤ اور قرضوں کا بوجھ

    دوسری جانب خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان قطر نے شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے عمل کی شدید مذمت کی ہےقطری وزیراعظم و وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    قطری وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران شیخ محمد بن عبدالرحمان نے واضح کیا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے انہوں نے زور دیا کہ خلیجی ریاستوں، خصوصاً ان ممالک پر حملے کسی صورت مناسب نہیں جو خود کو جاری تنازع سے الگ رکھے ہوئے ہیں۔

    دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے خطے پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیاقطری وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ بحران کا واحد حل مستقل اور جامع سفارتی کوششیں ہیں، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔

    شادی میں جانے والے پر تشدد،سر و بھنوؤں کے بال مونڈ دیئے،اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل

    سعودی عرب میں بھی ایک بڑے صنعتی سانحے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں الجبیل کے صنعتی علاقے میں واقع ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ میزائل حملے کا نشانہ بنا، حملے کے بعد پلانٹ میں شدید آگ بھڑک اٹھی جبکہ متعدد بڑے دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

  • بھارت میں شادیوں کے بڑھتے اخراجات، سماجی دباؤ اور قرضوں کا بوجھ

    بھارت میں شادیوں کے بڑھتے اخراجات، سماجی دباؤ اور قرضوں کا بوجھ

    بھارت کے شہر ممبئی میں 26 سالہ نویِنا وانامالا اپنی زندگی کے سب سے اہم دن کی تیاری میں مصروف ہیں، مگر خوشیوں کے اس موقع پر پریشانیوں کا سایہ بھی نمایاں ہے۔ میک اپ آرٹسٹ جب ان کے چہرے پر باریک سفید نقطے بنا رہی ہے، اسی دوران ان کا فون مسلسل بج رہا ہے . کہیں پھول غائب ہیں، کہیں انتظامات ادھورے ہیں۔

    یہ ذمہ داریاں عام طور پر دلہن کے والد سنبھالتے ہیں، مگر نویِنا کے والد کا چھ ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے، جس کے بعد وہ خود ہی اپنی شادی کے تمام فیصلے لینے پر مجبور ہیں ، وہ بھی ایسی شادی جس کے اخراجات ان کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہیں۔نویِنا، جو ایک سوشل میڈیا مارکیٹنگ ایگزیکٹو ہیں، ماہانہ تقریباً 145 ڈالر کماتی ہیں۔ ان کی شادی کا ابتدائی بجٹ 3,200 ڈالر تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ دوگنا ہو گیا۔ مجبوراً انہوں نے بینک سے قرض لیا، جبکہ ان کے منگیتر، سائی کرن دوسا، پہلے سے موجود ہاؤس لون کے باوجود مزید قرض لینے پر مجبور ہو گئے۔نویِنا کہتی ہیں "اتنا قرض لینا مناسب نہیں تھا، مگر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ ہمیں یہ شادی کرنی ہی تھی۔”

    بھارت میں شادیاں ایک وسیع سماجی روایت ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک میں شادیوں کی صنعت تقریباً 130 ارب ڈالر کی ہے۔ یہاں شادیوں میں کئی دنوں تک تقریبات جاری رہتی ہیں اور اکثر دلہن کے خاندان پر اخراجات کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔سماجی دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ دلہن کے خاندان کو شاندار تقریب منعقد کرنی ہوتی ہے،سونے کے زیورات، نقد رقم اور گھریلو سامان دینا عام بات ہے،جہیز قانونی طور پر ممنوع ہونے کے باوجود اب بھی رائج ہے،یہ مسئلہ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں۔ ایک طرف غریب خاندان بیٹی کی شادی کے لیے قرض لیتے ہیں، تو دوسری جانب امیر طبقے میں شاہانہ شادیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

    نئی دہلی میں کاویری مہتا کی شادی اس کی مثال ہے، جہاں سینکڑوں مہمان شریک ہوئے،مہنگی سجاوٹ، بین الاقوامی مہمان اور شاندار کھانے کا اہتمام کیا گیا،تقریب کے لیے تقریباً 150 افراد پر مشتمل ٹیم نے کام کیا،ویڈنگ پلانر وکرم جیت شرما کے مطابق "بعض کلائنٹس شادی پر 5 لاکھ سے 30 لاکھ ڈالر تک خرچ کرتے ہیں۔”کاویری مہتا کا کہنا ہے کہ وہ سادہ شادی چاہتی تھیں، مگر سماجی روایات کے باعث مہمانوں کی فہرست کم کرنا ممکن نہیں تھا۔”لوگوں کو بلانا ضروری ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے ہمیں اپنی شادی میں بلایا ہوتا ہے۔”یہی وہ سماجی دباؤ ہے جو خاندانوں کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔بھارت کے شمالی علاقوں میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شادی ایک بڑا مالی بحران بن چکی ہے۔ 19 سالہ انامیکا اپادھیائے کی مثال سامنے آتی ہے، جو ایک اجتماعی شادی میں شریک ہوئیں کیونکہ ان کی والدہ اکیلے شادی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔

    اگرچہ بھارت میں جہیز لینا دینا غیر قانونی ہے، مگر اس کے باوجود یہ روایت مضبوطی سے قائم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 6,000 سے زائد خواتین جہیز سے متعلق تنازعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ماہر قانون کنال مدن کہتے ہیں "یہ مطالبات معمولی نہیں ہوتے، بلکہ بھاری رقم، جائیداد اور سونا مانگا جاتا ہے، جو اکثر خواتین فراہم نہیں کر سکتیں۔”31 سالہ پریانکا ڈابلا کے مطابق، ان کے والد نے شادی پر 32,000 ڈالر خرچ کیے، مگر اس کے باوجود سسرال کی جانب سے مزید مطالبات جاری رہے۔ انہوں نے گھریلو تشدد کا بھی الزام عائد کیا۔

    ممبئی میں، نویِنا کی شادی میں 500 سے زائد مہمان شریک ہوئے۔ تقریب شاندار رہی، مگر اس کے بعد کا مالی بوجھ انہیں پریشان کر رہا ہے۔وہ کہتی ہیں "شادی ویسی ہی تھی جیسی میں نے خواب میں دیکھی تھی، مگر قرض ختم ہونے تک میں پریشان رہوں گی۔”

    بھارت میں شادی ایک خوشی کا موقع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مالی چیلنج بھی بنتی جا رہی ہے۔ سماجی دباؤ، مہنگی روایات اور جہیز جیسی غیر قانونی رسمیں لاکھوں خاندانوں کو قرض کے بوجھ تلے دبا رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر اس رجحان کو کنٹرول نہ کیا گیا تو شادی جیسی خوشی کی تقریب مزید خاندانوں کے لیے مالی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے

  • شادی میں جانے والے پر تشدد،سر و بھنوؤں کے بال مونڈ دیئے،اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل

    شادی میں جانے والے پر تشدد،سر و بھنوؤں کے بال مونڈ دیئے،اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل

    قصور
    تحصیل چونیاں میں شادی پر جانے والا شخص بدترین تشدد کا نشانہ، بال اور بھنویں کاٹ دی گئیں
    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے نواحی علاقے تھانہ چھانگا مانگا کی حدود تارا سنگھ میں بااثر افراد کی مبینہ غنڈہ گردی کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے تیار ہو کر جانے والے ایک شخص کو راستے میں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا
    متاثرہ شخص، جسے مقامی افراد ،سائیں ٹائپ”م، قرار دے رہے ہیں، کو ملزمان نے نہ صرف زد و کوب کیا بلکہ اس کے سر کے بال، بھنویں اور مونچھیں بھی زبردستی کاٹ دیں جس سے اس کی تذلیل ہوئی
    ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری گھر سے مکمل تیاری کے ساتھ شادی میں شرکت کے لیے روانہ ہوا تھا کہ راستے میں بااثر ملزمان نے اسے روک کر بدسلوکی کی
    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے
    متاثرہ شخص کی جانب سے تھانہ چھانگا مانگا پولیس کو باقاعدہ درخواست دے دی گئی ہے
    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا
    علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر انصاف فراہم کیا جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے

  • مردانہ کمزوری دل کی بیماری کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے، ماہرین

    مردانہ کمزوری دل کی بیماری کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے، ماہرین

    طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مردوں میں پائی جانے والی ایریکٹائل ڈس فنکشن (ED) یا مردانہ کمزوری محض جنسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ دل اور خون کی نالیوں سے جڑی سنگین بیماریوں کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹروں کے مطابق جب مریض اس مسئلے کے ساتھ کلینک آتے ہیں تو ان کی پہلی تشویش اکثر صحت نہیں بلکہ رشتے سے متعلق ہوتی ہے۔ بیشتر مرد یہ خوف ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا شریکِ حیات انہیں چھوڑ سکتا ہے، تاہم ماہرین اس موقع کو ایک بڑے طبی مسئلے کی نشاندہی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو پہلے سے ہائی بلڈ پریشر یا بے قابو ذیابیطس ہو تو مردانہ کمزوری کی وجہ سمجھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر نوجوان یا بظاہر صحت مند افراد میں یہ مسئلہ ظاہر ہو تو ڈاکٹر اس کو دل اور خون کی نالیوں کی صحت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

    طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی کمزوری دل کی بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے ایک سے تین سال پہلے سامنے آ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک “وارننگ سائن” کے طور پر کام کر سکتا ہے۔دل کی زیادہ تر بیماریاں براہِ راست دل سے شروع نہیں ہوتیں بلکہ جسم کی چھوٹی خون کی نالیوں سے آغاز ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ شریانیں سخت ہو جاتی ہیں،کولیسٹرول جمع ہونے لگتا ہے،خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے، ہائی بلڈ پریشر، شوگر، تمباکو نوشی، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ ان مسائل کو مزید بڑھاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایریکشن ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں دماغ، اعصاب، خون کی نالیاں اور پٹھے سب مل کر کام کرتے ہیں۔دماغ سے سگنل شروع ہوتا ہے،خون عضوِ تناسل کی طرف جاتا ہے،نالیاں پھیلتی ہیں اور خون اندر رکتا ہے،اگر اس عمل میں کسی بھی مرحلے پر خلل آئے تو ایریکشن متاثر ہو سکتا ہے۔

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر خون کی نالیاں تنگ یا سخت ہونا شروع ہو جائیں تو اس کا اثر سب سے پہلے جنسی کارکردگی پر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردانہ کمزوری کو بعض اوقات “ویسکولر بیماری” (خون کی نالیوں کی بیماری) کی ابتدائی علامت سمجھا جاتا ہے۔اگر یہ مسئلہ اچانک شروع ہو،مسلسل رہے،یا وقت کے ساتھ بڑھتا جائے،تو اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کی دل کی حالت مستحکم ہو تو جنسی عمل عام طور پر محفوظ ہوتا ہے۔یہ عمل جسم پر اتنا ہی دباؤ ڈالتا ہے جتنا تیز چہل قدمی یا سیڑھیاں چڑھنے سے پڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سرگرمیاں بغیر سینے کے درد یا سانس پھولنے کے کر سکتا ہے تو جنسی عمل بھی عموماً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ مردانہ کمزوری کی ادویات فوری فائدہ دیتی ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ صرف علامت کو ٹھیک کرتی ہیں، اصل بیماری کو نہیں۔خاص طور پر دل کے مریضوں کی کچھ ادویات کے ساتھ یہ خطرناک ردعمل دے سکتی ہیں،اس لیے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے،ماہرین مردوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر انہیں اپنی جنسی صحت میں تبدیلی محسوس ہو تو اسے نظرانداز نہ کریں بلکہ بلڈ پریشر چیک کروائیں،کولیسٹرول اور شوگر ٹیسٹ کروائیں،نیند اور ذہنی دباؤ پر توجہ دیں،تمباکو نوشی ترک کریں

    ماہرین کے مطابق مردانہ کمزوری کو صرف ایک نجی یا وقتی مسئلہ سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ جسم کے اندر جاری کسی بڑی بیماری کا ابتدائی اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف بہتر جنسی زندگی بلکہ ایک لمبی اور صحت مند زندگی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

  • حیفا میں میزائل حملے، چار افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئیں

    حیفا میں میزائل حملے، چار افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئیں

    ‎حیفا میں گزشتہ روز ہونے والے میزائل حملوں کے بعد آج صبح ریسکیو ٹیموں نے ایک عمارت کے ملبے تلے دبے چار افراد کی لاشیں نکال لیں۔ حکام کے مطابق یہ افراد اس وقت عمارت میں موجود تھے جب حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔
    ‎ریسکیو اداروں نے رات بھر اور صبح تک امدادی کارروائیاں جاری رکھیں، جس کے دوران بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹایا گیا۔ ٹیموں کو خدشہ تھا کہ مزید افراد بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، جس کے باعث سرچ آپریشن نہایت احتیاط کے ساتھ جاری رکھا گیا۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور قریبی عمارتیں بھی جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ مزید ممکنہ خطرات کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور نقصان کا مکمل اندازہ لگایا جا سکے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور ایسے واقعات کے تسلسل سے انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

  • 
جنگ بندی کی امید، تیل کی قیمتیں 110 ڈالر سے نیچے آگئیں

    
جنگ بندی کی امید، تیل کی قیمتیں 110 ڈالر سے نیچے آگئیں

    
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے جہاں قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی خبریں ہیں۔
    ابتدائی طور پر پیر کی صبح برینٹ کروڈ کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دی کہ اگر آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال نہ کی گئی تو امریکا ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔
    ‎ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کا عندیہ دیا، جس سے عالمی مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔
    ‎تاہم بعد ازاں جب امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت کی خبریں سامنے آئیں تو مارکیٹ میں قدرے سکون آیا۔
    ‎نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق اس ممکنہ جنگ بندی کا مقصد نہ صرف فوری کشیدگی کم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں مستقل امن کی راہ بھی ہموار کرنا ہے۔
    ‎ان خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 107 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی تیل کی قیمتیں اب خطے کی سیاسی صورتحال سے براہ راست متاثر ہو رہی ہیں اور کسی بھی مثبت یا منفی پیش رفت پر فوری ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

  • 
بوشہر جوہری پلانٹ پر حملے، ایران کا آئی اے ای اے کو ہنگامی خط

    
بوشہر جوہری پلانٹ پر حملے، ایران کا آئی اے ای اے کو ہنگامی خط

    
ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر کو خط لکھ کر بوشہر جوہری بجلی گھر پر حملوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے واحد فعال جوہری پاور پلانٹ بوشہر کو اب تک چار بار نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ 4 اپریل کو ہونے والے ایک حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
    ‎محمد اسلامی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کسی بھی وقت تابکار مواد کے اخراج کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تابکار مواد خارج ہوا تو اس کے اثرات انسانوں، ماحول اور ہمسایہ ممالک پر ناقابل تلافی ہوں گے۔
    ‎ایرانی حکام نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آئی اے ای اے پر زور دیا ہے کہ وہ صرف تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہے بلکہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
    ‎خط میں مزید کہا گیا کہ عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بڑے انسانی اور ماحولیاتی بحران سے بچا جا سکے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جوہری تنصیبات کی سیکیورٹی عالمی سطح پر ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔