ایرانی حکام نے ثالثی کرنے والے ممالک کو واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو غزہ یا لبنان جیسی صورتحال پیدا کرے، جہاں بظاہر جنگ بندی ہو لیکن امریکا اور اسرائیل کو جب چاہیں دوبارہ حملے کی آزادی حاصل ہو۔
رپورٹس کے مطابق ایران اس وقت آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو ایک اہم دفاعی اور معاشی ہتھیار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایرانی مؤقف یہ ہے کہ عالمی معیشت میں خلل ڈالنے کی صلاحیت مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اس اہم گزرگاہ کو آمدنی کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور خلیجی ممالک کے لیے ایسی کوئی ڈیل قابل قبول نہیں جس میں ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے۔ امریکی مذاکرات کاروں کا خیال ہے کہ ایران کو اس کنٹرول کو بطور سودے بازی استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی ضمانتیں اور اقتصادی فوائد حاصل کرنے چاہئیں۔
تاہم ایرانی حکام اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز خود ہی ان کے لیے سکیورٹی اور معاشی طاقت کا بنیادی ذریعہ ہے، جسے کسی صورت چھوڑا نہیں جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ آئندہ مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے کیونکہ دونوں فریقین اسے اپنے مفادات کے لیے انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
Blog
-

مزاکرات کو لے کر آبنائے ہرمز پر ایران کا واضح اور دو ٹوک موقف
-

ایران پر شدید حملے، انٹیلی جنس چیف سمیت درجنوں افراد شہید
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں تیزی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف سمیت 40 سے زائد افراد شہید ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بمباری میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل مجید خادمی بھی شہید ہو گئے، جنہیں 2025 میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق تہران کے ایک رہائشی علاقے پر حملے میں 15 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ 4 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 40 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔ مجموعی طور پر آج شہید ہونے والوں کی تعداد 49 تک پہنچ گئی ہے۔
حملوں کے دوران تہران کی معروف شریف یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
دوسری جانب لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 8 افراد شہید اور 55 زخمی ہو گئے۔
ادھر ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھے، تل ابیب میں 15 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ حیفا میں میزائل حملے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوئے، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے بھی کی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے حملوں کی شدت خطے کو ایک بڑے اور طویل تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ -

ٹرمپ کی ایران کو کھلی دھمکی، ایک رات میں تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ایران کے حوالے سے انتہائی سخت اور جارحانہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو ایک ہی رات میں مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے اور وہ رات منگل کی رات بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں حالیہ امریکی ریسکیو آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے اسے تاریخ کے اہم ترین مشنز میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کی سرزمین سے اپنے پائلٹ کو دن کی روشنی میں بحفاظت نکالا، حالانکہ اس دوران امریکی فوجیوں کو انتہائی قریب سے فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
امریکی صدر کے مطابق ابتدائی ریسکیو کوشش میں 21 لڑاکا طیارے شریک تھے جبکہ دوسرے اور بڑے آپریشن میں مجموعی طور پر 155 طیاروں نے حصہ لیا۔ ان میں 4 بمبار طیارے، 64 فائٹر جیٹس، 48 ری فیولنگ ٹینکرز اور 13 ریسکیو ایئرکرافٹ شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام کارروائی ان کی ہدایت پر کی گئی اور امریکی طیارے ایران کے اندر تک گئے تاکہ پائلٹ کو تلاش کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ اس آپریشن میں تقریباً 200 فوجیوں نے حصہ لیا اور جدید ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا گیا، جن کی کارکردگی نہایت مؤثر رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورے آپریشن کے دوران کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جو اس مشن کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کے دوران امریکا نے اپنے دو طیاروں کو خود ہی تباہ کر دیا تاکہ حساس ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکے۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکا نہ صرف اپنی فوجی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے بلکہ اگر ضرورت پڑی تو انتہائی سخت اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔ -

فضائی راستے تبدیل، جنگ کے اثرات سے پروازیں متاثر
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایک نیا فضائی بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی ممالک کی پروازوں نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود کا استعمال ترک کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی ایئرلائنز سمیت مختلف ممالک کی پروازیں اب متبادل اور طویل فضائی راستے اختیار کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں سفر کا دورانیہ اور لاگت دونوں بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی پروازیں امارات کی فضائی حدود کے بجائے سعودی عرب کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے گزر رہی ہیں اور پھر عمان کے راستے اپنے روٹس مکمل کر رہی ہیں۔
اس تبدیلی کے باعث دمام سے اسلام آباد کی پروازوں کے دورانیے میں ایک گھنٹہ 40 منٹ تک اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ دمام سے لاہور اور ملتان کی پروازوں میں بھی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسی طرح دبئی، ابوظبی اور شارجہ سے پاکستان آنے والی پروازوں کے دورانیے میں اوسطاً 15 منٹ کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ جدہ اور ریاض سے آنے والی پروازوں کو 25 منٹ اضافی وقت درکار ہے۔ مدینہ سے اسلام آباد کی پروازوں میں بھی 35 منٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پروازوں کے دورانیے میں اضافے سے ایندھن کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایئرلائنز کو مالی نقصان اور مسافروں کو مہنگے ٹکٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سفری نظام اور معیشت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ -

ایران میں امریکی پائلٹ کا خطرناک ریسکیو آپریشن، حیران کن تفصیلات سامنے
ایران میں گرائے گئے امریکی F-15E لڑاکا طیارے کے دوسرے پائلٹ کو بازیاب کروانے کے لیے کیے گئے خفیہ اور انتہائی خطرناک ریسکیو آپریشن کی نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جنہوں نے اس پورے واقعے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق یہ آپریشن غیر معمولی نوعیت کا تھا جس میں امریکی فورسز نے بھرپور فضائی اور زمینی طاقت استعمال کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ زخمی امریکی پائلٹ تقریباً دو دن تک جنوبی مغربی ایران کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ایک دراڑ میں چھپا رہا، جبکہ ایرانی فورسز اور مقامی ملیشیا ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل اس کی تلاش میں مصروف تھیں۔
پائلٹ نے زمین پر اترنے کے بعد اپنا ایمرجنسی بیکن آن کیا جس سے امریکی حکام کو اس کے زندہ ہونے کا اشارہ ملا، تاہم اس کی درست لوکیشن معلوم کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ ایک موقع پر پائلٹ نے مختصر پیغام بھیجا کہ "گاڈ از گڈ”، جسے ابتدا میں امریکی حکام نے ممکنہ خطرہ یا جال سمجھا۔
اتوار کی صبح امریکی کمانڈوز نے شدید فائرنگ اور فضائی مدد کے ساتھ ایران کے اندر تقریباً 200 میل تک رسائی حاصل کی اور پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا۔ اس دوران امریکی فورسز نے زمین پر موجود اپنے حساس طیاروں کو بھی تباہ کر دیا تاکہ کوئی جدید ٹیکنالوجی مخالف کے ہاتھ نہ لگ سکے۔
یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا جب "ڈیوڈ 44” کال سائن والے F-15E طیارے کو ایرانی فورسز نے مار گرایا۔ طیارے میں موجود ایک پائلٹ کو فوری طور پر نکال لیا گیا جبکہ دوسرے کے لیے یہ پیچیدہ آپریشن شروع کیا گیا۔
ریسکیو مشن میں تقریباً 100 اسپیشل فورسز اہلکاروں کے ساتھ متعدد جنگی طیارے، ڈرونز اور ہیلی کاپٹر شریک تھے۔ سی آئی اے نے بھی خفیہ معلومات فراہم کرنے اور ایرانی فورسز کو گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی وزیر دفاع اور عسکری قیادت نے فوری طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صورتحال سے آگاہ کیا، جنہوں نے آپریشن کی منظوری دیتے ہوئے پائلٹ کو ہر صورت واپس لانے کا حکم دیا۔
رپورٹ کے مطابق B-1 بمبار طیاروں نے درجنوں بھاری بم گرائے جبکہ MQ-9 ریپر ڈرونز نے ممکنہ خطرات کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی کوشش میں کچھ مشکلات بھی پیش آئیں جن میں ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ اور طیاروں کو نقصان پہنچنا شامل تھا، تاہم متبادل حکمت عملی کے تحت آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس مشن میں اسرائیل نے بھی انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا، جس سے آپریشن کو کامیابی تک پہنچانے میں مدد ملی۔ -

ٹرمپ کی ایران کو آخری وارننگ، منگل کی ڈیڈ لائن حتمی قرار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے اور اگر ایران نے دی گئی شرائط پر عمل کر لیا تو جنگ فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور ان پر عمل درآمد ہی کشیدگی کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے جن افراد سے بات چیت کر رہا ہے وہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ سمجھدار اور حقیقت پسند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا کا مقصد صرف دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ ایک ایسا حل نکالنا ہے جس سے خطے میں استحکام پیدا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا اس معاملے پر کسی قسم کی نرمی نہیں دکھائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک سخت بیان دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو امریکا ایران کے تیل کے وسائل پر قبضہ بھی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو کافی حد تک کمزور کیا جا چکا ہے اور اب اس کے پاس محدود تعداد میں میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پس پردہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور دونوں ممالک کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن نہایت اہم ہیں اور یہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں کہ آیا صورتحال مزید بگڑے گی یا کسی معاہدے کی طرف پیش رفت ہوگی۔ -

ایران کے بوشہر پلانٹ پر حملہ، نیوکلیئر سیفٹی کو سنگین خطرہ
عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے ایران کے بوشہر ایٹمی پلانٹ کے قریب ہونے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے نیوکلیئر سیفٹی کو حقیقی اور سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر ایسے حملے جاری رہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے امریکا اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کسی بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین اور حفاظتی اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔
آئی اے ای اے کے حکام نے واضح کیا کہ بوشہر پلانٹ کے قریب کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی تابکاری کے اخراج کا باعث بن سکتی ہے، جس سے نہ صرف ایران بلکہ پڑوسی ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کے کسی بھی واقعے کے نتیجے میں انسانی جانوں، ماحولیات اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جوہری پلانٹس انتہائی حساس تنصیبات ہوتے ہیں اور ان پر معمولی نقصان بھی بڑے پیمانے پر خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے عالمی سطح پر ہمیشہ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ جنگی حالات میں بھی ایسی تنصیبات کو محفوظ رکھا جائے۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے ایک بار پھر تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے کی اپیل کی ہے تاکہ کسی ممکنہ جوہری حادثے سے بچا جا سکے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں بھی جاری ہیں۔ -

پاکستان کا جنگ بندی فریم ورک پر تبصرے سے انکار
پاکستان نے ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ جنگ بندی فریم ورک پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسن اندرانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مختلف رپورٹس میں 45 روزہ جنگ بندی اور 15 نکاتی تبادلے کی بات کی جا رہی ہے، تاہم پاکستان انفرادی اور مخصوص تجاویز پر تبصرہ نہیں کرتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف مستقل طور پر امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے حق میں رہا ہے، اور اس سلسلے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ترجمان کے مطابق حکومت کسی بھی غیر مصدقہ یا زیرِ غور منصوبے پر عوامی سطح پر بات کرنے سے گریز کرتی ہے، جبکہ تمام اقدامات خطے میں استحکام کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا محتاط رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ پسِ پردہ سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے کسی بھی حساس معاملے پر قبل از وقت بیان دینے سے اجتناب کر رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگ بندی کے حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ گردش ہیں اور عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ -

رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ، ملک بھر میں نئے اوقات نافذ
ملک بھر میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور وسائل کے بہتر استعمال کے پیش نظر حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام بازاروں، مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا جس میں پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے استعمال سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں توانائی کی بچت ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے لیے کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار میں کمی ضروری ہے۔ اس فیصلے کے تحت نہ صرف بڑے شاپنگ مالز بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء فروخت کرنے والی دکانیں اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز بھی رات 8 بجے بند کرنے کے پابند ہوں گے۔
تاہم عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ شعبوں کو محدود نرمی دی گئی ہے۔ بیکریاں، ریسٹورنٹس، تندور اور دیگر کھانے پینے کی دکانوں کو رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ شہریوں کو کھانے پینے کی اشیاء کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اسی طرح شادی ہالز کے اوقات کار بھی محدود کر دیے گئے ہیں اور انہیں رات 10 بجے کے بعد بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں نجی گھروں اور پراپرٹیز میں ہونے والی شادی بیاہ کی تقریبات پر بھی رات 10 بجے کے بعد پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ غیر ضروری توانائی کے استعمال کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب حکومت نے عوامی صحت کے پیش نظر میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے تاکہ شہریوں کو ادویات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہ سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی ہیں اور ملک کو درپیش توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے قومی مفاد میں حکومت کا ساتھ دیں۔ -

ایران و حزب اللہ کے حملے، اسرائیل کے مرکزی علاقے دھماکوں سے لرز اٹھے
ایران اور حزب اللہ کی جانب سے گزشتہ رات سے جاری حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے مرکزی علاقے شدید دھماکوں سے لرز اٹھے، جس سے متعدد شہروں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مختلف سمتوں سے ہونے والے مسلسل حملوں کے باعث دفاعی نظام کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور انٹرسیپٹرز لوڈ کرنے میں وقت لگنے کی وجہ سے کئی میزائلوں کو بروقت روکا نہ جا سکا۔
رپورٹس کے مطابق رامات گان، گیواٹائم اور بنی باراک کے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں سرگرم ہیں، جہاں متاثرہ مقامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق حملوں کے باعث مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ نقصانات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے بیک وقت حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور صورتحال کسی بڑے تصادم کی طرف جا سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی شدید تناؤ موجود ہے اور دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔