Baaghi TV

Blog

  • ننکانہ صاحب: ڈپٹی کمشنر کا رورل ہیلتھ سنٹر واربرٹن کا دورہ، بہترین طبی سہولیات کی فراہمی پر زور

    ننکانہ صاحب: ڈپٹی کمشنر کا رورل ہیلتھ سنٹر واربرٹن کا دورہ، بہترین طبی سہولیات کی فراہمی پر زور

    ننکانہ صاحب (نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے شہریوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے رورل ہیلتھ سنٹر واربرٹن کا دورہ کیا۔انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات جن میں وارڈز، لیبارٹری، ایکسرے روم اور وہیل چیئرز کی دستیابی شامل ہے، کا تفصیلی معائنہ کیا اور مریضوں کی تیمارداری و علاج معالجہ کی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ اس موقع پر سروس ڈیلیوری، صفائی ستھرائی اور مجموعی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق ہسپتالوں میں بہترین سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ڈاکٹرز اور عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں اور مریضوں کو علاج معالجہ کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری نہ ہونے دیں۔انہوں نے واضح کیا کہ علاج میں سستی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ہسپتال میں صفائی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ثناء شرافت، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر روحیل اختر، ایم ایس ڈاکٹر عدنان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

  • شوہر سےجان چھڑانے کیلئےبیوی نے عاشق کے ساتھ ملکر بنائی اپنی ہی "فحش”ویڈیو

    شوہر سےجان چھڑانے کیلئےبیوی نے عاشق کے ساتھ ملکر بنائی اپنی ہی "فحش”ویڈیو

    بھارتی ریاست راجستھان کے ٹیکسٹائل سٹی بھیلواڑہ سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے معاشرتی اور اخلاقی اقدار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    گاندھی نگر تھانہ کی حدود میں پیش آنے والے اس واقعے نے پورے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے،پولیس کے مطابق ایک شادی شدہ خاتون نے اپنے شوہر سے نجات حاصل کرنے کے لیے نہایت خطرناک اور منظم سازش تیار کی۔ خاتون نے مبینہ طور پر اپنے سابق عاشق کے ساتھ مل کر اپنی ایک نازیبا ویڈیو بنائی، جسے بعد ازاں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے وائرل کیا گیا۔ اس ویڈیو کے ذریعے شوہر کو بدنام کرنے اور اسے قانونی مسائل میں الجھانے کی کوشش کی گئی۔متاثرہ شوہر نے گاندھی نگر پولیس اسٹیشن میں درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 20 مارچ کی رات اچانک اس کی بیوی کی ایک “باتھ روم ویڈیو” سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں خاتون کو نہاتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ تاثر دیا گیا کہ ویڈیو خود شوہر نے ریکارڈ کر کے پھیلائی ہے۔

    متاثرہ شخص کے مطابق، اس کے بعد خاتون اور اس کے مبینہ عاشق نے اسے بلیک میل کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ دھمکی دی گئی کہ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو اس کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرائے جائیں گے، جس سے اس کی ساکھ اور زندگی تباہ ہو سکتی ہے۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سائبر کرائم ٹیم کو شامل کیا، جس نے ڈیجیٹل فرانزک تحقیقات کے دوران اہم شواہد حاصل کیے۔ ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا کہ خاتون نے اپنے عاشق اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جعلی آئی ڈی بنائی، جس کے ذریعے ویڈیو اپ لوڈ کی گئی۔

    ضلع پولیس سربراہ دھرمیندر سنگھ یادو کی ہدایت پر سائبر سیل نے مزید تحقیقات کیں، جن میں چیٹس، پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈز نے اس سازش کی تصدیق کی۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ عاشق نے خاتون کو سم کارڈ فراہم کیا تھا تاکہ جعلی اکاؤنٹ بنایا جا سکے۔مزید برآں، یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس سے قبل سسرالی افراد کی جانب سے شوہر کے خلاف زیورات ہڑپ کرنے کا مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا، جسے اب اسی بڑی سازش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔پولیس نے خاتون، اس کے مبینہ عاشق اور دو دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ انتہائی چالاکی سے تیار کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر کئی لوگ شوہر کو ہی قصوروار سمجھ بیٹھے، تاہم تکنیکی تحقیقات نے حقیقت آشکار کر دی۔پولیس کا کہنا ہے کہ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے سائبر ٹیم مسلسل کام کر رہی ہے اور جلد مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

  • تمہاری بیٹی خوبصورت،10 ہزار دوں‌گا،اے ایس آئی کا گرفتارخاتون سےشرمناک مطالبہ

    تمہاری بیٹی خوبصورت،10 ہزار دوں‌گا،اے ایس آئی کا گرفتارخاتون سےشرمناک مطالبہ

    بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع اکولا میں پولیس اہلکار کی جانب سے خاتون کے ساتھ مبینہ غیر اخلاقی رویے کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے پورے محکمہ پولیس کو ہلا کر رکھ دیا۔

    رپورٹس کے مطابق ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) نے دورانِ حراست ایک خاتون ملزمہ کو نہایت نازیبا پیشکش کی۔ خاتون کو تقریباً 80 لاکھ روپے کے فراڈ کیس میں پوچھ گچھ کے لیے تھانے لایا گیا تھا، جہاں ملزم اہلکار نے مبینہ طور پر کہا: “تم بہت خوبصورت ہو، تمہاری بیٹی بھی خوبصورت ہوگی، اسے میرے پاس بھیج دو، میں تمہیں 10 ہزار روپے دوں گا۔”اس شرمناک جملے کے بعد خاتون شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو گئی اور اس نے فوری طور پر ایک خاتون پولیس افسر کو شکایت درج کرا دی۔

    شکایت موصول ہوتے ہی ضلعی پولیس حکام نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزم اے ایس آئی کو معطل کر دیا۔ پولیس کے مطابق معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ملزم اس وقت مفرور بتایا جا رہا ہے۔حکام نے ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور یقین دہانی کرائی ہے کہ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ملزم پولیس اہلکار کے خلاف ماضی میں بھی خواتین کے ساتھ نامناسب رویے اور دیگر شکایات سامنے آ چکی ہیں، جن میں ایک خاتون پولیس افسر کی جانب سے بھی شکایت شامل تھی۔

    مہاراشٹر اسٹیٹ ویمن کمیشن کی رکن نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی اور اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملزم کو کسی رعایت کے بغیر سخت سزا دی جائے گی۔

  • رات بھر نیند کے باوجود صبح تھکاوٹ،ہو سکتی ہے کون سی بیماری

    رات بھر نیند کے باوجود صبح تھکاوٹ،ہو سکتی ہے کون سی بیماری

    اگر آپ روزانہ 8 سے 9 گھنٹے کی مکمل نیند لینے کے باوجود بھی صبح اٹھتے ہی تھکاوٹ، سستی اور کمزوری محسوس کرتے ہیں تو یہ محض نیند کی کمی نہیں بلکہ کسی سنگین طبی مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل تھکاوٹ کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    سر گنگا رام اسپتال کی ماہر ڈاکٹر سونیا راوت کے مطابق بعض اوقات بظاہر مکمل نیند لینے کے باوجود اس کا معیار خراب ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کو مکمل آرام نہیں ملتا اور انسان خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق صبح کی مستقل تھکاوٹ درج ذیل 5 بیماریوں یا مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہے، نیند کی خرابی،یہ ایک عام مگر خطرناک مسئلہ ہے جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رکتی ہے۔ اس سے نیند کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور جسم کو مناسب آکسیجن نہیں مل پاتی، جس کے باعث دن بھر تھکاوٹ رہتی ہے۔ خون کی کمی ،آئرن، وٹامن بی 12 یا فولک ایسڈ کی کمی خون کی کمی کا سبب بنتی ہے، جس سے جسم میں آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور مسلسل کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

    تھائرائیڈ کا مسئلہ ،تھائرائیڈ ہارمون کی کمی میٹابولزم کو سست کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں سستی، وزن میں اضافہ اور تھکاوٹ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن،مسلسل ذہنی تناؤ، بے چینی اور ڈپریشن نہ صرف نیند کے معیار کو متاثر کرتے ہیں بلکہ صبح اٹھنے پر بھی تھکن اور بوجھل پن کا احساس برقرار رکھتے ہیں۔وٹامن ڈی کی کمی بھی توانائی کی سطح کو کم کر دیتی ہے، جس سے پٹھوں میں درد، کمزوری اور تھکاوٹ عام ہو جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص طرزِ زندگی بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتا ہے۔ دیر سے سونا، کیفین کا زیادہ استعمال، ورزش کی کمی اور اسکرین کا زیادہ استعمال جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

    ڈاکٹروں کے مطابق اگر آپ کو مسلسل تھکاوٹ کا سامنا ہے تو متوازن غذا کا استعمال کریں،روزانہ ورزش کو معمول بنائیں،سونے کا وقت مقرر کریں،کیفین اور موبائل کے استعمال کو کم کریں،اگر اس کے باوجود مسئلہ برقرار رہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ یہ کسی بڑی بیماری کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ اپنی صحت کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ بروقت تشخیص ہی بہتر علاج کی ضمانت ہے۔

  • گرمیوں میں روزانہ خربوزہ کھانے کے حیران کن فوائد

    گرمیوں میں روزانہ خربوزہ کھانے کے حیران کن فوائد

    گرمیوں کے موسم میں جہاں شدید گرمی اور پسینہ انسان کو نڈھال کر دیتا ہے، وہیں قدرت نے ایسے پھل بھی عطا کیے ہیں جو نہ صرف جسم کو ٹھنڈک دیتے ہیں بلکہ صحت کے لیے بے حد مفید بھی ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم پھل خربوزہ ہے، جسے ماہرین صحت گرمیوں کا “سپر فروٹ” قرار دیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر خربوزہ روزانہ غذا کا حصہ بنایا جائے تو یہ جسم پر حیران کن مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ خربوزہ پانی سے بھرپور پھل ہے جس میں تقریباً 90 سے 95 فیصد تک پانی موجود ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔خربوزہ گرمی کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور پیاس کی شدت کم کرتا ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک جیسے خطرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔

    نظامِ ہضم بہتر بناتا ہے،اس پھل میں موجود فائبر نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے۔ خربوزہ کھانے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے اور معدہ صاف رہتا ہے، جس سے مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔

    مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے،خربوزے میں وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور انفیکشن سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔

    آنکھوں اور جلد کے لیے مفید،وٹامن اے سے بھرپور ہونے کے باعث خربوزہ بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ جلد کو تروتازہ اور چمکدار بناتا ہے۔ گرمیوں میں دھوپ سے متاثرہ جلد کے لیے یہ ایک قدرتی علاج بھی سمجھا جاتا ہے۔

    وزن کنٹرول میں مددگار،کم کیلوریز اور زیادہ فائبر کے باعث خربوزہ وزن کم کرنے یا کنٹرول رکھنے والوں کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ یہ پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے، جس سے غیر ضروری کھانے کی خواہش کم ہو جاتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض خربوزہ استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں، کیونکہ اس میں قدرتی شکر موجود ہوتی ہے۔روایتی طریقہ علاج جیسے آیوروید میں بھی خربوزے کو جسم کی گرمی کم کرنے اور اندرونی نظام کو متوازن رکھنے کے لیے نہایت مفید قرار دیا گیا ہے۔اگر آپ گرمیوں میں صحت مند اور توانا رہنا چاہتے ہیں تو خربوزے کو اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنائیں۔ یہ نہ صرف جسم کو ٹھنڈک دیتا ہے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے

  • پنجاب: آج سے  8 اپریل  تک بارشوں کا امکان

    پنجاب: آج سے 8 اپریل تک بارشوں کا امکان

    پنجاب میں آج شام سے 8 اپریل تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں اور ژالہ باری کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، گجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، سرگودھا، میانوالی، شیخوپورہ، گجرات، خوشا ب اور منڈی بہاؤالدین میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے،لاہور، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، جھنگ، چنیوٹ، بھکر، لیہ، ڈیرہ غازی خان اور گردو نواح میں بھی بارش کا امکان ہے، ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں مزید بارشیں متوقع ہیں۔

    ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے صوبے بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا ہے اور عوام سے محفوظ مقامات پر ر ہنے کی ہدایت کی ہے آسمانی بجلی کے دوران کھلے مقامات تلے نہ جائیں اور کسان اپنی زرعی سرگرمیوں میں موسمی حالات کو مدنظر رکھیں، شمالی علاقہ جا ت کے سیاحوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد معاہدہ ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں تیز

  • گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، غیر ملکی جہاز کی آمد

    گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، غیر ملکی جہاز کی آمد

    مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی بحری راستوں میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں بحری جہازوں کا رخ پاکستان کی جانب بڑھنے لگا ہے۔ اسی سلسلے میں گوادر پورٹ پر ایک اور غیر ملکی جہاز کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق ایم وی ریوا گلوری نامی جہاز 14 ہزار 619 میٹرک ٹن کارگو لے کر گوادر پورٹ پہنچا، جو بندرگاہ پر بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کا واضح اشارہ ہے۔وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے بھی جہاز کی آمد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت خطے میں پاکستان کے اسٹریٹجک کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بندرگاہی نظام کو مزید فعال بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث متبادل بحری راستوں کی تلاش میں گوادر پورٹ ایک محفوظ اور مؤثر آپشن کے طور پر ابھر رہا ہے، جو مستقبل میں پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیاں تیز، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوگیا ،گوادر پورٹ خطے میں ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ تجارت کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، پاکستان گوادر بندرگاہ کو عالمی معیار کا میرین گیٹ وے بنانے کے لیے پرعزم ہے

  • تلہ گنگ: مخیر شخصیت ملک یاسر سگھر کا انسانیت دوست اقدام، اہلیان سگھر کے لیے ایمبولینس عطیہ

    تلہ گنگ: مخیر شخصیت ملک یاسر سگھر کا انسانیت دوست اقدام، اہلیان سگھر کے لیے ایمبولینس عطیہ

    سگھر/تلہ گنگ: تلہ گنگ کی معروف مخیر شخصیت ملک یاسر سگھر، جو ان دنوں اٹلی میں مقیم ہیں، نے انسانیت دوستی کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے سگھر کی عوام کے لیے ایک ایمبولینس عطیہ کر دی، جسے سگھر ویلفیئر ٹرسٹ کے سپرد کیا گیا۔تقریب میں ملک یاسر بطور چیف گیسٹ شریک ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ عقیل ملک، حافظ شیر خان دھولڑ، سید مبارک علی ہمدانی اور ملک ندیم رضا موگلہ بھی موجود تھے۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ایمبولینس کی فراہمی علاقے کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے، جس سے ہنگامی حالات میں مریضوں کو بروقت طبی امداد میسر آئے گی اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں مدد ملے گی۔اہلِ علاقہ نے ملک یاسر سگھر کے اس فلاحی اقدام کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اسے دیگر مخیر حضرات کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔

  • ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی

    ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی

    ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے اسلامک اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کے مطابق عدلیہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ علی فہیم نامی شخص کو اس وقت پھانسی دی گئی جب سپریم کورٹ نے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

    دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان پھانسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر انسانی قرار دیا کہا کہ کئی ملزمان کے اعترافی بیانات مبینہ طور پر تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے۔

    امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے:تہران یونیورسٹی سمیت اہم تنصیبات تباہ

    دریں اثنا ایران نے ہفتے کے روز دو افراد کو پھانسی دی تھی جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ حزبِ اختلاف کے گروپ پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران (پی ایم او آئی) سے روابط اور مسلح حملے کرنے کے مرتکب تھے ٕٕٕگروپ کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز پھانسی پانے والے دونوں افراد جنوری 2024 میں گرفتار ہوئے تھے اور دسمبر 2025 میں ان کی سزائے موت برقرار رکھی گئی تھی۔

    دمشق میں اماراتی سفارت خانے پر حملہ،شامی وزارت داخلہ کی شدید الفاظ میں مذمت

    واضح رہے کہ جنوری میں شروع ہونے والی بدامنی ابتدا میں معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج کے طور پر سامنے آئی تھی، تاہم بعد ازاں یہ ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گئی جس میں حکومت کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل تھے،حکام کی جانب سے ان مظاہروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 1979 کے انقلاب کے بعد ملک میں سب سے زیادہ پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • پاکستانی سیاست میں پھر پس پردہ "جوڑتوڑ”.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاست میں پھر پس پردہ "جوڑتوڑ”.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی موجودہ سیاست ایک بار پھر “پسِ پردہ جوڑ توڑ” کے مرحلے میں داخل ہوتی نظر آتی ہے، جہاں حتمی فیصلوں سے زیادہ افواہیں اور ابتدائی رابطے گردش کر رہے ہیں۔

    اس وقت چوہدری پرویز الہٰی کے حوالے سے جو خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں اور ممکنہ طور پر گورنر بنائے جا سکتے ہیں ابھی تک کسی مستند ذریعے سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی ہمیشہ ایک لچکدار اور موقع کے مطابق فیصلے کرنے والے سیاستدان رہے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں ایسی قیاس آرائیاں نئی بات نہیں۔ تاہم، موجودہ حالات میں ان خبروں کو زیادہ تر سیاسی فضا کا حصہ اور ممکنہ مستقبل کی صف بندیوں کا اشارہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ کوئی حتمی پیش رفت۔

    اگر فرض کیا جائے کہ یہ خبریں درست ثابت ہو جاتی ہیں اور وہ واقعی پیپلز پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں، تو اس کا سب سے بڑا اثر پنجاب کی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔ گجرات اور وسطی پنجاب میں ان کا اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے، اور پیپلز پارٹی کو ایک ایسا چہرہ مل سکتا ہے جو اسے پنجاب میں دوبارہ جگہ بنانے میں مدد دے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ رجحان ایک بار پھر اس بات کو مضبوط کرے گا کہ پاکستان کی سیاست میں نظریات سے زیادہ “الیکٹیبلز” یعنی جیتنے والے امیدوار اہم ہوتے ہیں۔

    جہاں تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے، تو فی الحال اس کی پوزیشن خاصی مستحکم ہے، خصوصاً پنجاب میں جہاں مریم نواز شریف وزیراعلیٰ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے پاس نہ صرف حکومتی اختیارات ہیں بلکہ انتظامی مشینری اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع بھی موجود ہے۔ اس لیے صرف ایک یا دو بڑی سیاسی شخصیات کی ممکنہ وفاداری کی تبدیلی سے فوری طور پر (ن) لیگ کی حکومت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ البتہ اگر بڑے پیمانے پر الیکٹیبلز کا رخ بدلتا ہے تو آئندہ انتخابات میں اس کے اثرات ضرور ظاہر ہو سکتے ہیں۔

    مریم نواز شریف کے مستقبل کو اگر دیکھا جائے تو وہ اس وقت اپنے سیاسی کیریئر کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے انہیں پہلی بار براہِ راست گورننس کا تجربہ مل رہا ہے، جو ان کے لیے ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر وہ عوامی مسائل، خصوصاً مہنگائی اور گورننس کے معاملات میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہتی ہیں تو ان کی سیاسی پوزیشن نہ صرف پنجاب بلکہ قومی سطح پر بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر کارکردگی توقعات پر پوری نہ اتری تو سیاسی مخالفین کے لیے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہو جائے گا۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان کی سیاست کسی بڑے فوری بدلاؤ کے بجائے ایک تدریجی صف بندی کے مرحلے میں ہے۔ پرویز الہٰی سے متعلق خبریں ابھی قیاس آرائی کے دائرے میں ہیں، اور جب تک کوئی واضح اور باضابطہ اعلان سامنے نہیں آتا، انہیں حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں سیاسی اتحادوں، وفاداریوں اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، جو بالآخر آئندہ انتخابات کی سمت کا تعین کریں گی۔