Baaghi TV

Blog

  • بنوں میں ڈومیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 5 افراد جاں بحق، 18 زخمی

    بنوں میں ڈومیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 5 افراد جاں بحق، 18 زخمی

    بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈومیل پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے باعث 5 افراد جاں بحق جبکہ 18 زخمی ہوگئے۔

    ریجنل پولیس افسر سجاد خان کے مطابق دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس سے پولیس اسٹیشن کے قریب واقع مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کی شدت کے باعث آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔پولیس حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں تین خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ تمام زخمیوں اور لاشوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ شواہد اکٹھے کر رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش نوعیت کا تھا، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • امریکی  آرمی چیف آف سٹاف جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    امریکی آرمی چیف آف سٹاف جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیٹھ نےآرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق وزیر جنگ ایسا آرمی چیف آف اسٹاف دیکھنا چاہتے ہیں جو فوج سے متعلق صدر ٹرمپ اور خود انکے وژن پر عمل کرسکے،جنرل رینڈی جارج، بائیڈن دور کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے سینئر ملٹری اسسٹنٹ بھی رہے تھے۔ وہ پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی شریک رہے ہیں،عام طور پر امریکا میں آرمی چیف آف اسٹاف چار سال کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، تاہم 2023ء میں سینیٹ سے توثیق حاصل کرنیوالے رینڈی جارج کو 2027ء تک یہ عہدہ سنبھالنا تھا،وائس چیف آف اسٹاف کرسٹوفر لانیو جو کہ ہیگسیتھ کے ملٹری ایڈ رہے ہیں وہ قائم قام آرمی چیف آف اسٹاف کا عہدہ سنبھالیں گے۔

    امریکی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کو فوری طور پر مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے، جس سے فوج کی بڑھتی ہوئی سیاست پر تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران میں ایک شہری پل پر حملے کی تشہیر کی ہے جسے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ جنگی جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔

    اس فیصلے نے محکمہ انصاف میں عدم استحکام اور سیاسی دباؤ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے،پام بونڈی، جو ٹرمپ کی قریبی اتحادی اور فلوریڈا کی سابق اٹارنی جنرل رہ چکی ہیں، تقریباً ایک سال تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ ان کا دور کئی تنازعات کا شکار رہا، خاص طور پر سیاسی نوعیت کے مقدمات میں ان کے کردار پر شدید تنقید کی گئی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کرتے ہوئے بونڈی کو “وفادار دوست” اور “محبِ وطن” قرار دیا، تاہم ساتھ ہی ان کی برطرفی کی تصدیق بھی کی۔اطلاعات کے مطابق ٹرمپ بونڈی کی کارکردگی سے ناخوش تھے، خاص طور پر جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق فائلوں کے معاملے اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی میں ناکامی پر۔ان کی برطرفی سے قبل کانگریس کی جانب سے بھی ان پر دباؤ بڑھ رہا تھا اور ان کے خلاف تحقیقات جاری تھیں۔

    پام بونڈی کا دورِ اقتدار کافی متنازع رہا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے محکمہ انصاف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، جس میں سرکاری وکلاء کی برطرفی اور مخالفین کے خلاف مقدمات شامل تھے۔ایپسٹین کیس کی ناقص ہینڈلنگ نے بھی ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور یہی معاملہ ان کی برطرفی کی ایک بڑی وجہ بنا۔بونڈی کی برطرفی ٹرمپ حکومت میں حالیہ تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے بھی کابینہ کے دیگر اہم عہدیداروں کو ہٹایا جا چکا ہے، جس سے حکومت کے اندر عدم استحکام کا تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔ڈیموکریٹس نے بونڈی کی برطرفی کا خیر مقدم کیا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ انہیں اپنے اقدامات کا حساب دینا ہوگا۔ کئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کانگریس کے سامنے پیش ہوں۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف بونڈی نہیں بلکہ پورا نظام ہے، جس میں محکمہ انصاف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

  • روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے کافی پینا صبح کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی دن کی شروعات ایک کپ کافی کے بغیر نامکمل سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ نظامِ ہاضمہ کو بھی متحرک کرتی ہے۔

    حال ہی میں معروف ماہرِ امراضِ معدہ ڈاکٹر سورب سیتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں بتایا کہ اگر کوئی شخص مسلسل 14 دن تک روزانہ کافی پیتا ہے تو اس کے جسم پر کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی کا باقاعدہ استعمال جگر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی پینے والوں میں فیٹی لیور، فائبروسس اور سروسس جیسے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کافی جگر میں داغ دار ٹشو بننے کے عمل کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم جگر کی مکمل صحت کے لیے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی بھی ضروری ہے۔کافی میں موجود کلوروجینک ایسڈ جیسے اجزاء انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ بلیک کافی میٹابولزم کو تیز کرتی ہے اور جسم میں چربی کے جلنے کے عمل کو بڑھاتی ہے۔یہ نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ بھوک کو بھی کم کرتی ہے، جس سے کیلوریز کے استعمال کو کنٹرول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔کافی میں موجود کیفین دماغی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ اس سے توجہ، چوکنا پن اور ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق کیفین وقتی طور پر نیند کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ نیند کا مکمل متبادل نہیں ہے۔

    ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی آنتوں کی حرکت کو تیز کرتی ہے اور ہاضمے کو بہتر بناتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 29 فیصد کافی پینے والوں کو کافی پینے کے بعد رفع حاجت کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔کافی میں موجود تیزاب گیسٹرن ہارمون کو متحرک کرتے ہیں، جو آنتوں کی حرکت کو بڑھاتا ہے۔ڈاکٹر سیتی نے تجویز دی کہ روزانہ ایک سے تین کپ بلیک کافی مناسب ہے، تاہم اگر کسی کو دل کی دھڑکن تیز ہونا، بے چینی، تیزابیت یا نیند کی کمی محسوس ہو تو کافی کا استعمال کم یا بند کر دینا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کافی میں زیادہ چینی یا مصنوعی کریمرز شامل کرنا اس کے فوائد کو کم کر سکتا ہے۔
    کافی اگر اعتدال کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ جگر، دماغ اور نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر فرد کو اپنی جسمانی کیفیت کے مطابق اس کا استعمال کرنا چاہیے۔

  • جلدی بوڑھا نہیں ہونا چاہتے تو پانچ عادتیں اپنائیں

    جلدی بوڑھا نہیں ہونا چاہتے تو پانچ عادتیں اپنائیں

    بڑھاپا ایک قدرتی عمل ہے، مگر ہماری روزمرہ کی کچھ عادات اس عمل کو خاموشی سے تیز کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق روزانہ کیے جانے والے فیصلے ہمارے جسم کی عمر رسیدگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگرچہ کچھ عوامل ہمارے قابو میں نہیں ہوتے، لیکن طرزِ زندگی میں بہت سی تبدیلیاں لا کر صحت مند اور سست رفتار بڑھاپا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

    امریکہ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر جیریمی لندن نے پانچ ایسی عام عادات کی نشاندہی کی ہے جن سے پرہیز کر کے دل کی صحت اور طویل مدتی توانائی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے اس سے بڑھاپا بھی جلدی نہیں آئے گا

    1. تمباکو نوشی اور ویپنگ
    تمباکو نوشی اور ویپنگ جسم کو تیزی سے نقصان پہنچانے والی عادات میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق یہ تقریباً جسم کے ہر عضو کو متاثر کرتی ہیں اور کم مقدار میں استعمال بھی عمر کو کم کر سکتا ہے۔

    2. غیر فعال طرزِ زندگی
    زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا، خاص طور پر روزانہ 6 سے 8 گھنٹے، جسم کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ یہ عادت میٹابولزم، توانائی پیدا کرنے والے خلیوں اور مجموعی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے، چاہے آپ ورزش ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔

    3. مسلسل ذہنی دباؤ
    طویل عرصے تک جاری رہنے والا ذہنی دباؤ، جیسے مالی پریشانیاں یا جذباتی مسائل، جسم میں نقصان دہ ہارمونز کو بڑھاتا ہے۔ اس سے مجموعی صحت اور بڑھاپے کے عمل پر منفی اثر پڑتا ہے۔

    4. ناقص نیند
    نیند جسم کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ نیند کی کمی ڈی این اے کی مرمت اور ہارمونز کے توازن کو متاثر کرتی ہے، جس سے جسمانی نظام میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔

    5. موٹاپا اور غیر صحت بخش غذا
    موٹاپا اور خراب خوراک بڑھاپے کو تیز کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔ یہ سوزش، انسولین مزاحمت اور خلیاتی نقصان کا باعث بنتے ہیں، جو مختلف بیماریوں کو جنم دے سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ عادات میں چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں لا کر نہ صرف بڑھاپے کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ دل کی صحت کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

  • دفتر کا ماحول جلد اور بالوں پر اثر اندازہو رہا، خاتون کا دعویٰ

    دفتر کا ماحول جلد اور بالوں پر اثر اندازہو رہا، خاتون کا دعویٰ

    دفاتر وہ جگہیں ہیں جہاں لوگ اپنے دن کا بڑا حصہ گزارتے ہیں، لیکن کیا دفتر کا ماحول ہماری جلد اور بالوں پر اثر ڈال سکتا ہے؟ ایک خاتون کے مطابق، اس کا جواب ہاں میں ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوا ڈونلن نامی خاتون نے "آفس ایئر” کے جلد، بالوں اور مجموعی ظاہری شکل پر اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح اٹھنے پر ان کی جلد تازہ محسوس ہوتی ہے، لیکن دن کے اختتام تک اس کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔انہوں نے بتایا، "چار سال پہلے جب میں نے کل وقتی ملازمت شروع کی تو یہ بات واضح ہونا شروع ہوئی۔ میں گھر سے تیار ہو کر نکلتی تھی، لیکن دوپہر تک دفتر کے واش روم کے آئینے میں خود کو دیکھتی تو جلد خشک، بال چکنے اور بے جان ہو چکے ہوتے تھے، اور میں خود کو پہلے جیسا محسوس نہیں کرتی تھی۔”نوا کے مطابق، یہ مسئلہ اس قدر نمایاں تھا کہ وہ خود سے سوال کرنے لگیں کہ کیا وہ واقعی ایسی ہی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دفتر تبدیل کرنے کے باوجود یہ مسئلہ برقرار رہا۔انہوں نے مزید کہا، "ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ خراب ہوا کی گردش اور زیادہ دیر بیٹھے رہنا جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے، لیکن مجھے لگنے لگا کہ میں اس کا اثر حقیقی وقت میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہوں۔”

    نوا نے اس موضوع پر ویڈیوز بنانا شروع کیں، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ متعدد صارفین نے بھی اسی طرح کے تجربات شیئر کیے۔ ایک صارف نے لکھا، "بغیر کسی وجہ کے آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔” جبکہ دوسرے نے کہا، "دوپہر تک میں بیمار وکٹورین بچے جیسا لگنے لگتا ہوں۔”

    ماہرین کے مطابق، دفتر کے ماحول میں ایئر کنڈیشننگ اور کم نمی کی وجہ سے جلد میں خشکی، بے رونقی اور جلن پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ بال بھی خشک اور بے جان ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ فضائی آلودگی میں موجود ذرات جیسے PM2.5، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور اوزون جلد میں داخل ہو کر آکسیڈیٹو اسٹریس اور سوزش پیدا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جھریاں، باریک لکیریں، کیل مہاسے، ایگزیما اور سورائسس جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ طویل عرصے تک آلودہ ماحول میں رہنے سے جلد کی قبل از وقت بڑھاپا اور حتیٰ کہ جلد کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

  • منی پور کی ڈاکٹر نے فضائی سفر کے دوران مسافر کی جان بچا لی

    منی پور کی ڈاکٹر نے فضائی سفر کے دوران مسافر کی جان بچا لی

    ایک حیران کن واقعے میں منی پور سے تعلق رکھنے والی ایک ڈاکٹر نے جاپان کے شہر ٹوکیو سے نئی دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں ایک مسافر کی جان بچا لی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈاکٹر لونی لیریینا، جو امپھال کے امریکن آنکولوجی انسٹی ٹیوٹ میں کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ ہیں، 28 فروری کو پرواز AI-357 میں سوار تھیں جب ایک ہنگامی طبی صورتحال پیش آئی۔ڈاکٹر کے مطابق، لینڈنگ سے تقریباً دو گھنٹے قبل اعلان کیا گیا کہ فوری طبی امداد درکار ہے۔ جب وہ متاثرہ مسافر کے پاس پہنچیں تو فضائی عملہ گھبراہٹ کا شکار تھا۔متاثرہ مسافر، جو ایک 21 سالہ نوجوان خاتون تھیں، شدید دمہ کے حملے کا شکار ہو گئی تھیں۔ انہیں سینے میں شدید درد، سانس لینے میں دشواری، تیز دل کی دھڑکن (تقریباً 160 فی منٹ)، کم بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح تقریباً 80 فیصد تک گر چکی تھی۔ڈاکٹر لیریینا نے فوری طور پر آکسیجن سپورٹ، نیبولائزیشن اور ضروری ادویات فراہم کیں، جس کے نتیجے میں صرف 30 منٹ کے اندر مریضہ کی حالت سنبھل گئی۔ اس بروقت علاج کی بدولت طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کی ضرورت پیش نہ آئی۔پرواز بحفاظت نئی دہلی پہنچ گئی اور مسافر کو مستحکم حالت میں طبی نگرانی کے لیے منتقل کر دیا گیا۔

    ڈاکٹر نے کہا، “خدا کے فضل سے ہم روزانہ ایسے حالات سے نمٹتے ہیں۔ جہاز میں دستیاب ادویات کا استعمال کیا گیا اور سب کچھ بخیر و خوبی انجام پایا۔”

    سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کو خوب سراہا جا رہا ہے، جہاں صارفین نے ڈاکٹر کی حاضر دماغی اور پیشہ ورانہ مہارت کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک صارف نے لکھا، “اصل ہیرو وہ ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں جان بچاتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی مقام پر ہوں۔”ماہرین کے مطابق، فضائی سفر کے دوران ہر 600 پروازوں میں سے تقریباً ایک میں طبی ہنگامی صورتحال پیش آ سکتی ہے، جہاں اکثر ڈاکٹر مسافروں کی مدد انتہائی اہم ثابت ہوتی ہے۔

  • جم میں محنت کے باوجود وزن کیوں کم نہیں ہوتا؟ ماہرین نے بتا دیا

    جم میں محنت کے باوجود وزن کیوں کم نہیں ہوتا؟ ماہرین نے بتا دیا

    اگر آپ روزانہ جم جاتے ہیں، پسینہ بہاتے ہیں اور باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، مگر وزن کم نہیں ہو رہا، تو اس کی وجہ صرف ورزش کی کمی نہیں بلکہ آپ کی روزمرہ عادات بھی ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق وزن میں کمی کا عمل صرف 45 منٹ کی ورزش تک محدود نہیں بلکہ دن کے باقی 23 گھنٹوں میں کیے گئے فیصلے بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔ماہر ڈاکٹروں اور ماہر غذائیت نے وضاحت کی ہے کہ کیوں مسلسل ورزش کے باوجود وزن کم نہیں ہوتا اور اس مسئلے سے کیسے نکلا جا سکتا ہے،وہ بھی بغیر کسی سخت ڈائٹ کے۔ماہرین کے مطابق لوگ اکثر دو بڑی غلطیاں کرتے ہیں ،ورزش سے جلنے والی کیلوریز کو بڑھا چڑھا کر اندازہ لگانا،روزمرہ خوراک میں لی جانے والی کیلوریز کو کم سمجھنا،ڈاکٹر انجیلی پلئے کے مطابق، طویل وقت تک بیٹھنا، بے ترتیب کھانے، بار بار اسنیکس لینا، کم نیند اور ویک اینڈ پر زیادہ کھانا وہ عوامل ہیں جو ورزش کے فائدے کو ختم کر دیتے ہیں۔

    ماہر غذائیت ڈاکٹر پرتیکشا بھاردواج کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ ورزش کے بعد خود کو زیادہ کھانے کی اجازت دے دیتے ہیں، جو وزن کم ہونے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ویلی نیس کوچ سمرت کٹھوریا کے مطابق صرف کارڈیو کافی نہیں،طاقت بڑھانے والی ورزش ضروری ہے،نیند کی کمی اور غیر متوازن غذا بھی وزن کم ہونے سے روکتی ہے،کلینیکل ڈائٹیشن ڈاکٹر ردھیما کھمیسرا کہتی ہیں کہ صرف جم میں محنت کافی نہیں، بلکہ پورے دن میں نظم و ضبط ضروری ہے۔بے ترتیب کھانے،بار بار باہر کا کھانا،یہ سب وزن کم ہونے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق چھپی ہوئی کیلوریز وزن کم نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہیں، جیسے میٹھی چائے یا کافی،جوس اور فلیورڈ ڈرنکس،”ہیلتھی” اسنیکس جیسے گرینولا بارز،زیادہ تیل اور سوسزوغیرہ،یہ سب روزانہ 300 سے 500 اضافی کیلوریز بڑھا سکتے ہیں، بغیر آپ کو احساس ہوئے۔

    ڈاکٹرز کے مطابق کم نیند بھوک بڑھاتی ہے،اسٹریس ہارمون چربی کو جمع کرتا ہے،7 سے 8 گھنٹے کی نیند ضروری ہے،جیسا کہ ماہرین کہتے ہیں "چربی صرف جم میں نہیں، بلکہ نیند کے دوران بھی کم ہوتی ہے۔”اگر آپ مناسب مقدار میں پروٹین نہیں لے رہے تو زیادہ بھوک لگتی ہے،پٹھے کمزور ہوتے ہیں،وزن کم ہونے کے بجائے جسم ڈھیلا ہو سکتا ہے،روزانہ خوراک میں دال، چکن، مچھلی اور سبزیاں شامل کرنا مفید ہے۔ یعنی روزمرہ کی عام حرکتیں جیسے چلنا،سیڑھیاں چڑھنا،گھر کے کام یہ روزانہ 200 سے 800 کیلوریز تک جلا سکتی ہیں، جو وزن کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اگر آپ ورزش کے باوجود وزن کم نہیں کر پا رہے تو صرف جم کا وقت بڑھانا حل نہیں۔ ماہرین کے مطابق کامیابی کے لیے ان باتوں پر عمل ضروری ہے روزمرہ روٹین کو بہتر بنائیں،چھپی ہوئی کیلوریز پر نظر رکھیں،نیند اور اسٹریس کو کنٹرول کریں،ہر کھانے میں پروٹین شامل کریں،دن بھر زیادہ حرکت میں رہیں.

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام پر مہنگائی کا خود کش حملہ ہے، خالد مسعود سندھو

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام پر مہنگائی کا خود کش حملہ ہے، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام پر مہنگائی کا خود کش حملہ ہے، حکمران اپنی شاہ خرچیوں کو کم کرنے کی بجائے عوام کو غریب تر کرنے پر تلے ہوئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ عوامی جذبات کی ترجمان کرے گی،حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں

    خالد مسعود سندھو کا کہناتھا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 184.49 پیسے فی لیٹر اضافہ سراسر ظلم ہے، پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے یہ اضافہ ناقابلِ برداشت ہے، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہوگا،عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کاڈرامہ رچا کر حکمران غریب عوام کو خون چوس رہے ہیں،مشکل گھڑی میں حکمرانوں کو عوام کوریلیف دینا چاہئے تھا،لیکن موجودہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ عوام کے ساتھ کھڑی ہے، حکمرانوں کی عیاشیوں کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل قبول ہے، حکمران اپنی شاہ خرچیاں کم کریں اور غریب عوام کو ریلیف دیں.

  • 
مسٹر بیسٹ کا یوٹیوب چھوڑنے کا اعلان، حقیقت کیا نکلی؟

    
مسٹر بیسٹ کا یوٹیوب چھوڑنے کا اعلان، حقیقت کیا نکلی؟

    
مشہور یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے یکم اپریل کو یوٹیوب چھوڑنے کا اعلان کر کے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی، تاہم بعد میں یہ معاملہ اپریل فول کا مذاق ثابت ہوا۔
    مسٹر بیسٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ اپنا یوٹیوب چینل ڈیلیٹ کر رہے ہیں اور اس پلیٹ فارم سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں جس نے انہیں عالمی شہرت دی۔ اس اعلان کے ساتھ انہوں نے ویڈیو اور دیگر پوسٹس بھی شیئر کیں جس سے مداحوں میں بے چینی پھیل گئی۔
    ‎اس خبر کے سامنے آتے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر مداحوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور کئی افراد نے صدمے اور حیرت کا اظہار کیا۔ کچھ صارفین نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا 300 ملین سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والا یہ تخلیق کار واقعی اپنی کامیاب ترین آن لائن موجودگی کو ختم کر سکتا ہے۔
    ‎تاہم بعد میں واضح ہوا کہ یہ اعلان اپریل فول کے دن کیا گیا ایک مذاق تھا۔ مسٹر بیسٹ اس سے قبل بھی یکم اپریل کے موقع پر اس طرح کے اقدامات کر چکے ہیں جن میں جعلی پروجیکٹس اور مصنوعات کی تشہیر شامل رہی ہے۔
    ‎بہت سے مداحوں نے خبر کے جھوٹا ثابت ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ کچھ صارفین نے اس مذاق کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور کہا کہ اس سے غیر ضروری طور پر مداحوں کو پریشان کیا گیا۔
    ‎یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور صارفین کی بڑی تعداد نے اس پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔

  • 
پیٹرول 137 روپے مہنگا، قیمت 458 روپے فی لیٹر ہوگئی

    
پیٹرول 137 روپے مہنگا، قیمت 458 روپے فی لیٹر ہوگئی

    
حکومت نے رات گئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
    وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر خزانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
    ‎اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے اور اس کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎وزیرِ پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث حکومت کو یہ مشکل مگر ضروری فیصلہ کرنا پڑا۔
    ‎علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے اس فیصلے سے قبل مختلف آپشنز پر غور کیا اور اتحادی جماعتوں، وزرائے اعلیٰ اور دیگر متعلقہ حکام سے مشاورت کی گئی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ حکومت حالات کے پیش نظر ذمہ دارانہ فیصلے کر رہی ہے تاکہ معیشت کو سنبھالا جا سکے، تاہم اس کے اثرات سے عوام کو بھی گزرنا پڑے گا۔
    ‎اس بڑے اضافے کے بعد ملک بھر میں مہنگائی میں مزید اضافے اور عوامی ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔