آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال دنیا کے بڑے شہروں لندن اور نیویارک سے بہتر ہے۔
کراچی میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے جرائم کے اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کراچی میں 16 ہزار 500 موبائل فون چھیننے کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ لندن میں اسی نوعیت کی 84 ہزار وارداتیں سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی میں جرائم کی صورتحال دیگر عالمی شہروں کے مقابلے میں بہتر ہے اور پولیس مسلسل بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں 35 فیصد کمی آئی ہے جبکہ گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گن پوائنٹ پر اسنیچنگ کے دوران قتل کے واقعات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ شرح 88 فیصد تک کم ہوئی ہے۔
آئی جی سندھ نے کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن کے حوالے سے بھی بتایا کہ رواں سال جنوری سے “نجات مہران آپریشن” کو تیز کیا گیا جس کے دوران 32 ڈاکو ہلاک، 100 سے زائد گرفتار جبکہ 225 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے بعد کچے کے علاقوں میں امن قائم ہو رہا ہے اور شہری اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ بلا خوف و خطر سفر کر سکیں گے۔
Blog
-

کراچی کے حالات لندن اور نیویارک سے بہتر، آئی جی سندھ
-

ایران جنگ کے عالمی معیشت پر خطرناک اثرات، ورلڈ بینک کی وارننگ
ورلڈ بینک نے ایران میں جاری جنگ کے عالمی معیشت پر ممکنہ خطرناک اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی، بے روزگاری اور غذائی قلت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر جنرل پاسکل ڈونوہو نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع عالمی سطح پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
پاسکل ڈونوہو کے مطابق کئی ممالک پہلے ہی مالی دباؤ اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اور اس جنگ کے اثرات ان مسائل کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک اس صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں جنگ کے قلیل مدتی اثرات سے نکالا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل کے مطابق 12 سے 17 اپریل کے دوران واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے اہم اجلاس منعقد ہوں گے، جن میں موجودہ صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ اس وقت دستیاب مالی وسائل کا اندازہ لگا رہا ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کن ممالک کو فوری مدد فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ -

تہران کرج ہائی وے پل پر حملہ، متعدد افراد زخمی
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق دارالحکومت تہران کو مغربی شہر کرج سے ملانے والے ایک اہم ہائی وے پل کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ ریسکیو اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ متاثرہ پل بی ون کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ کے بلند ترین پلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پل کا افتتاح رواں سال کے آغاز میں کیا گیا تھا اور یہ تہران اور کرج کے درمیان اہم ٹریفک رابطہ فراہم کرتا تھا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد پل کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر ہوا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ذرائع کے مطابق کرج کے دیگر علاقوں میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم ان کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔حملے کے بعد متعلقہ ادارے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور بحالی کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ -

آبنائے ہرمز کو طاقت سے کھلوانا غیر حقیقی، میکروں
فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے ’آزاد‘ کرانے کا خیال غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے ایران جنگ اور خطے کی صورتحال پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ حلقے فوجی آپریشن کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی بات کر رہے ہیں، تاہم یہ عملی طور پر ممکن نہیں۔
میکروں کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے کسی بھی فوجی اقدام میں نہ صرف بہت زیادہ وقت درکار ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں خطے میں مزید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کو ساحلی خطرات کا سامنا ہوگا اور پاسداران انقلاب جیسے گروہوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس علاقے میں بیلسٹک میزائل اور دیگر دفاعی وسائل موجود ہیں، جس کے باعث کسی بھی فوجی کارروائی کے نتائج پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
فرانسیسی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس سے صورتحال مزید الجھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حساس معاملے پر سنجیدگی سے کام لینے کی ضرورت ہے اور بیانات میں تسلسل ہونا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر واضح پیغام دیا جا سکے۔
میکروں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلے کا حل فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی راستے سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ -

اسٹریٹجک عسکری مراکز دشمن کی پہنچ سے باہر: ایران کا دعویٰ
ایران کے خاتم الانبیا ﷺ سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ایران کے اسٹریٹجک میزائل، ڈرون اور فضائی دفاعی نظام کی تیاری کے مراکز امریکا اور اسرائیل کی پہنچ سے مکمل طور پر باہر ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کی عسکری پیداوار ایسے خفیہ مقامات پر کی جا رہی ہے جو دشمنوں کے لیے نامعلوم ہیں اور ان تک رسائی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف موجودہ وقت میں بلکہ مستقبل میں بھی ان تنصیبات تک پہنچنا دشمن کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کی عسکری صلاحیتوں اور دفاعی نظام کے بارے میں مکمل معلومات نہیں رکھتے اور وہ ایران کی اصل طاقت سے آگاہ نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی اس انداز میں ترتیب دی ہے کہ اس کے حساس مراکز محفوظ اور خفیہ رہیں۔
لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی فریق نے ایران کے اسٹریٹجک میزائل مراکز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، جدید فضائی دفاعی نظام یا الیکٹرانک وارفیئر سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جن مقامات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں وہ درحقیقت غیر اہم ہیں اور ایران کے اصل دفاعی ڈھانچے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ -

روس کا ایران امریکا تنازع میں کردار ادا کرنے کا اعلان
روس نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے حل میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس تنازع کو کم کرنے اور حالات کو پُرامن راستے پر لانے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس وقت خطے کے مختلف رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن کی جانب سے سفارتی روابط کا سلسلہ جاری ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لانے کے امکانات کو تقویت دی جا سکے۔
دمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ اگر روس کی خدمات درکار ہوئیں تو ماسکو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ موجودہ جنگی صورتحال جلد ختم ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آج مصر کے وزیر خارجہ کی میزبانی کریں گے۔ اس ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی سمیت مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
کریملن کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بھی گفتگو ہوگی جبکہ خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے مختلف امور زیر غور آئیں گے۔
روس کی جانب سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ -

کراچی میں موسلا دھار بارش، کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ
کراچی میں موسلا دھار بارش نے شہر کا نظام درہم برہم کر دیا، مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تیز بارش کے باعث شہر کی اہم شاہراہیں زیر آب آ گئیں اور کئی مقامات پر اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ شارع فیصل کے علاقوں نرسری، فائن ہاؤس اور کارساز پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔
شہر کے دیگر علاقوں ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، کیماڑی اور میٹروپول میں بھی تیز بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہو گیا اور آمد و رفت میں مشکلات پیش آئیں۔
گارڈن روڈ سمیت مختلف علاقوں میں بھی سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ شہریوں کو ٹریفک جام اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بارش کے باعث کئی علاقوں میں نکاسی آب کا نظام متاثر نظر آیا اور پانی کے فوری اخراج کے لیے متعلقہ اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بار بارش کے بعد یہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔
انتظامیہ کے مطابق مختلف علاقوں میں عملہ تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ پانی کی نکاسی کو جلد از جلد یقینی بنایا جا سکے اور معمولات زندگی بحال کیے جا سکیں۔ -

ٹرمپ کے خطاب پر ڈیموکریٹس کی شدید تنقید
امریکا میں ڈیموکریٹک رہنماؤں نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرائم ٹائم خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے غیر مربوط قرار دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ اس خطاب میں بنیادی سوالات کے واضح جوابات دینے کی کوشش نہیں کی گئی، جس کے باعث عوام میں مزید ابہام پیدا ہوا ہے۔
سینیٹر مارک وارنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کو چاہیے تھا کہ وہ امریکی عوام کو اس تنازع کے حوالے سے مکمل وضاحت دیتے، خاص طور پر اس کے معاشی اثرات کے بارے میں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ڈیزل، کھاد، ایلومینیم اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات طویل عرصے تک معیشت پر پڑیں گے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب سینیٹر کرس مرفی نے بھی ٹرمپ کے خطاب پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریر ایک ایسی حقیقت پر مبنی تھی جو صرف صدر کے ذہن میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطاب سننے کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکا کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے یا اسے مزید بڑھا رہا ہے۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں کے مطابق حکومت کو اس حساس معاملے پر واضح پالیسی اور حکمت عملی پیش کرنی چاہیے تاکہ عوام کو درست صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ -

یہ کوئی تماشہ نہیں ہے: بیوی سے متعلق تبصرے پر میکخواں کا ٹرمپ کو جواب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فرانس پر تنقید کے ساتھ فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں کی اہلیہ سے متعلق دیے گئے متنازع بیان نے سفارتی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران جنگ میں تعاون نہ کرنے پر فرانس کو ہدف تنقید بنایا اور اس دوران ایک غیر معمولی بیان دیتے ہوئے فرانسیسی صدر کی اہلیہ بریجیٹ میکروں کے بارے میں ذاتی نوعیت کا تبصرہ کیا۔
ٹرمپ کے اس بیان کو غیر سفارتی اور غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عالمی سطح پر رہنماؤں کے اہل خانہ کو عموماً سیاسی تنقید سے الگ رکھا جاتا ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں نے ٹرمپ کے بیان کو غیر شائستہ اور نامناسب قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس طرح کے تبصرے کسی ردعمل کے بھی قابل نہیں۔
میکروں نے کہا کہ ایسے بیانات نہ صرف سفارتی روایات کے خلاف ہیں بلکہ اس سے عالمی سطح پر سنجیدہ معاملات سے توجہ بھی ہٹتی ہے۔
انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے اور ذاتی نوعیت کی باتوں کے بجائے اصل مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ دنیا اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں استحکام اور امن کی ضرورت ہے، اور ایسے بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ -

ڈیرہ غازی خان: ایسٹر اور گڈ فرائی ڈے کے موقع پر مسیحی برادری کی سیفٹی کے لیے ریسکیو 1122 تیار
ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی نیوز رپورٹر) – ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 انجینئر احمد کمال نے کہا ہے کہ ایسٹر اور گڈ فرائی ڈے کی تقریبات کے موقع پر مسیحی برادری کی حفاظت کے لیے ریسکیو 1122 نے مکمل اقدامات کر لیے ہیں۔
سنٹرل سٹیشن ریسکیو 1122، چوک چورہٹہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تہوار کے دوران سیفٹی اور ایمرجنسی کور کے تمام انتظامات مکمل کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مسیحی برادری کو تہوار کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سب مل کر اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو شعار بنائیں، اور آپکی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے۔”
انجینئر احمد کمال نے مزید کہا کہ ریسکیو 1122 ہر وقت کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے مستعد اور تیار ہے تاکہ شہری محفوظ اور پرامن ماحول میں تہوار منا سکیں۔