Baaghi TV

Blog

  • 
یو اے ای میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    
یو اے ای میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    
متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد شہریوں اور کاروباری حلقوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
    جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 30 فیصد سے زائد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو حالیہ عرصے میں ایک بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق سپر پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 2.59 درہم سے بڑھ کر 3.39 درہم ہو گئی ہے، جبکہ اسپیشل 95 پیٹرول 2.48 درہم سے بڑھ کر 3.28 درہم فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح ای پلس 91 پیٹرول کی قیمت 2.40 درہم سے بڑھ کر 3.20 درہم فی لیٹر ہو گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جہاں فی لیٹر قیمت 2.72 درہم سے بڑھ کر 4.69 درہم تک پہنچ گئی ہے، جس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے پر پڑنے کا امکان ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے میں جاری کشیدگی اس اضافے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں، جبکہ اس کے اثرات دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • 
آسٹریلوی وزیراعظم کا ٹرمپ سے ایران جنگ پر وضاحت کا مطالبہ

    
آسٹریلوی وزیراعظم کا ٹرمپ سے ایران جنگ پر وضاحت کا مطالبہ

    
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے ایران سے متعلق جاری جنگ کے مقاصد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وضاحت طلب کر لی ہے، جس سے عالمی سطح پر اس تنازع کے حوالے سے سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔
    غیر ملکی میڈیا کے مطابق انتھونی البانیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کی حکمت عملی اور جنگ کے مقاصد کے بارے میں مزید وضاحت چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اس جنگ کا اصل مقصد کیا ہے اور کشیدگی میں کمی کیسے لائی جائے گی۔
    ‎انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو صورتحال کی شفاف تصویر درکار ہے تاکہ کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے اور خطے میں امن کی راہ ہموار ہو۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کارروائی میں اسرائیل اپنے آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کر چکا ہے، تاہم مشن کی تکمیل میں ابھی وقت درکار ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور اسلحہ سازی کی صلاحیت کو ختم کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایران کی فوجی اور میزائل طاقت کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی رہنماؤں کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران سے متعلق تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، اور اس کے حل کے لیے واضح حکمت عملی کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

  • 
فائر سیفٹی نہ ہونے پر ہاشو سینٹر کی 200 دکانیں سیل

    
فائر سیفٹی نہ ہونے پر ہاشو سینٹر کی 200 دکانیں سیل

    
کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز ہاشو سینٹر میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر ضلعی انتظامیہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 200 دکانوں کو سیل کر دیا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر اور مختار کار نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ہاشو سینٹر پر چھاپہ مارا اور مارکیٹ میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔
    ‎حکام کے مطابق مارکیٹ کے اندر آگ سے بچاؤ کے لیے کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا، جبکہ دکانوں اور فلور پر گیس سلنڈرز، تھنر اور دیگر آتش گیر مواد بھی رکھا گیا تھا جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا۔
    ‎یہ بھی بتایا گیا کہ اس مارکیٹ کو اس سے قبل 3 فروری کو بھی سیل کیا گیا تھا، تاہم انتظامیہ کو نوٹس جاری کرنے کے بعد سات دن کی مہلت دی گئی تھی تاکہ فائر سیفٹی کے اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔
    ‎باوجود اس کے کہ دوبارہ نوٹس جاری کیے گئے، دکانداروں اور مارکیٹ انتظامیہ نے مطلوبہ حفاظتی اقدامات نہیں کیے، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔
    ‎ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جب تک تمام فائر سیفٹی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے، مارکیٹ کو ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔

  • 
اٹلی اور اسپین کا امریکی طیاروں کو سہولت دینے سے انکار

    
اٹلی اور اسپین کا امریکی طیاروں کو سہولت دینے سے انکار

    
اٹلی نے امریکی جنگی طیاروں کو اپنے ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے جاری علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر بمباری کے بعد امریکی طیارے سسلی کے ایئربیس پر لینڈنگ کے خواہاں تھے، تاہم اٹلی نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق آپریشنز کے لیے بھی امریکی طیاروں کو اس بیس کے استعمال سے روک دیا گیا۔
    ‎دوسری جانب اسپین نے بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکی جنگی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود اور اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسپین کے وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کسی بھی صورت میں اس تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔
    ‎اسی تناظر میں اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی خود کو کسی جنگ کا میدان بننے دے گا۔ انہوں نے ایران کے معاملے پر سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق یورپی اور علاقائی ممالک کے یہ فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ کئی ریاستیں براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • 
وفاقی وزراء کی تنخواہوں اور مراعات پر کروڑوں خرچ

    
وفاقی وزراء کی تنخواہوں اور مراعات پر کروڑوں خرچ

    
وفاقی وزراء، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق اخراجات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق رواں مالی سال میں اب تک اربوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
    سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی کابینہ، مشیران اور معاونینِ خصوصی کے لیے مجموعی طور پر 69 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا، جس میں سے تقریباً 40 کروڑ روپے تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں استعمال ہو چکے ہیں، جو کل بجٹ کا 59 فیصد بنتا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق وفاقی وزراء کی تنخواہوں کے لیے مختص 50 کروڑ روپے میں سے اب تک 31 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ معاونینِ خصوصی کے لیے مختص 11 کروڑ روپے میں سے 6 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اسی طرح مشیروں کے لیے مختص 6 کروڑ روپے میں سے 2.5 کروڑ روپے استعمال ہو چکے ہیں۔
    ‎دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کابینہ ارکان، معاونین اور مشیران نے مجموعی طور پر 66 لاکھ روپے الاؤنسز کی مد میں حاصل کیے۔
    ‎ایک اور اہم انکشاف کے مطابق ان حکام کے زیرِ استعمال 100 سے زائد سرکاری گاڑیوں پر اب تک 26 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جو تنخواہوں اور الاؤنسز کے علاوہ اخراجات ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں سرکاری اخراجات کا یہ حجم عوامی بحث کا موضوع بن سکتا ہے، جبکہ کفایت شعاری کے دعوؤں کے تناظر میں بھی اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

  • 
تہران میں دوا ساز کمپنی پر حملہ، نظام متاثر

    
تہران میں دوا ساز کمپنی پر حملہ، نظام متاثر

    ‎ایرانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں کے دوران تہران میں واقع ایران کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث ادویات کی تیاری کا نظام متاثر ہوا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کمپنی میں کینسر، امراض قلب، بے ہوشی اور دیگر اہم بیماریوں کے لیے خصوصی ادویات تیار کی جاتی تھیں، اور حملے کے بعد پیداوار میں خلل پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎وزارت صحت کے مطابق اس واقعے کے اثرات طبی شعبے پر پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر ان مریضوں پر جو ان ادویات پر انحصار کرتے ہیں۔
    ‎ایران کے سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایک طبی مرکز کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حملہ آور اپنے مقاصد میں ناکامی کے بعد ایسے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جو انسانی زندگی سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔
    ‎دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے دیگر ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ عالمی سطح پر اس پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق طبی تنصیبات پر حملے نہ صرف انسانی بحران کو جنم دیتے ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

  • 
ایرانی قیادت پر حملے کی تفصیلات منظرِ عام پر

    
ایرانی قیادت پر حملے کی تفصیلات منظرِ عام پر

    
ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت تہران میں ایک اہم کمپلیکس پر حملہ کیا گیا۔
    بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے عسکری حکام نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی تیار کی تھی، جس پر عملدرآمد کی ذمہ داری اسرائیل کو سونپی گئی۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک طویل انٹیلی جنس آپریشن کا نتیجہ تھی، جس میں ایرانی قیادت اور ان کے قریبی حلقے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق حملے کے وقت اور مقام سے متعلق معلومات انتہائی حساس اور درست تھیں، جس کے باعث آخری لمحے میں بھی حکمت عملی تبدیل کی گئی۔
    ‎تفصیلات کے مطابق تہران کے وسط میں واقع ایک کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جہاں اہم شخصیات کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔ تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں اور آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ابھی واضح نہیں ہو سکی۔
    ‎رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملے کے دوران بعض اہم شخصیات محفوظ رہیں جبکہ کچھ کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی رپورٹس خطے میں جاری کشیدگی کی حساسیت کو ظاہر کرتی ہیں، اور ایسی معلومات کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں محتاط انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔

  • 
مردان میں پہاڑی تودہ گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    
مردان میں پہاڑی تودہ گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے رستم کی یونین کونسل ننگ آباد میں پہاڑ کی کٹائی کے دوران اچانک تودہ گرنے سے کم از کم 6 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔
    ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک 6 افراد کی لاشیں اور 3 زخمیوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پہاڑ کی کٹائی کے دوران پیش آیا، جب اچانک مٹی اور پتھروں کا بڑا تودہ نیچے آ گرا اور وہاں موجود افراد اس کی زد میں آ گئے۔
    ‎حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد بھی دبے ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر ریسکیو آپریشن میں مزید نفری اور بھاری مشینری شامل کر دی گئی ہے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب مختلف شہروں میں حالیہ بارشوں کے باعث بھی حادثات پیش آئے ہیں، جہاں چھتیں اور دیواریں گرنے سے متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • 
پاکستان چین کا ایران معاملے پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ

    
پاکستان چین کا ایران معاملے پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ

    
پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایران کے معاملے پر اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں ممالک ہر حال میں اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور عالمی و علاقائی معاملات پر ان کا مؤقف ایک جیسا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور چین ایران سے متعلق صورتحال پر قریبی مشاورت جاری رکھیں گے اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔
    ‎چینی حکام نے زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے چین تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ ترجمان نے یہ بھی تصدیق کی کہ حالیہ کشیدہ حالات کے باوجود تین چینی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرے، جس پر متعلقہ فریقین کے تعاون کو سراہا گیا۔
    ‎چین نے جنگ کے دوران تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل سمیت تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
    ‎دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار چین کے دورے پر ہیں، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تفصیلی بات چیت کر رہے ہیں۔

  • 
ایران کا ریپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    
ایران کا ریپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایک جدید ایم کیو نائن ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے، جو نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
    ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی فضائی دفاعی نظام کی مؤثر کارکردگی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت دشمن کے ایک اہم ڈرون کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ وہ اب تک مجموعی طور پر 146 ڈرون مار گرا چکا ہے، جو جاری کشیدگی کے دوران فضائی دفاع کی سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎ایم کیو نائن ریپر ڈرون جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوتا ہے اور اسے عام طور پر نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کی مالیت تقریباً 30 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے دعوے خطے میں جاری فوجی کشیدگی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی اہمیت رکھتی ہے۔