امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی فوج ایران میں زمینی کارروائی کے لیے بھی تیار ہے، جبکہ سفارتی راستہ اختیار نہ کرنے کی صورت میں حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے اندر بھرپور طاقت کے ساتھ کارروائیاں کر رہا ہے اور اس کی فضائی حدود میں بھی آپریشن جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس متعدد آپشنز موجود ہیں جبکہ ایران کے پاس محدود راستے رہ گئے ہیں۔
ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے کم تعداد میں میزائل فائر کیے گئے، جنہیں امریکی دفاعی نظام نے ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دن اس جنگ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر آمادہ نہیں ہوتا تو امریکا مزید سخت حملے کرے گا اور ایران کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق آپریشن کے اہداف حاصل کیے جا رہے ہیں اور ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات چاہتا ہے لیکن اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو جنگ جاری رکھنے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی اسپیشل فورسز بھی کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
اسی پریس کانفرنس میں ایک امریکی جنرل نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کے متعدد جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں اور اس کی اہم دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
Blog
-

امریکا کی ایران کو زمینی کارروائی کی وارننگ
-

ٹرمپ کی برطانیہ اور فرانس پر کڑی تنقید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ میں شامل نہ ہونے پر برطانیہ اور فرانس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اب ہر ملک کی مدد نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ نے ایران کی حکومت گرانے کی کوشش میں شامل ہونے سے انکار کیا جبکہ فرانس نے اسرائیل جانے والے فوجی سامان کے طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
انہوں نے فرانس کے رویے کو غیر مددگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرز عمل کو یاد رکھا جائے گا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا رہے وہ امریکا سے خریداری کریں کیونکہ امریکا کے پاس وافر مقدار موجود ہے، بصورت دیگر خود ہمت کریں اور وہاں جا کر تیل حاصل کریں۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اب ہر ملک کے لیے دستیاب نہیں ہوگا اور دیگر ممالک کو خود اپنے دفاع کے لیے تیار ہونا ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور جنگ کا مشکل مرحلہ گزر چکا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔ -

آئی پی ایل میں کام کرنے والے برطانوی انجینیئر کی پراسرار موت
انڈین پریمیئر لیگ 2026 کے دوران ممبئی میں ایک 76 سالہ برطانوی براڈکاسٹ انجینیئر کی پراسرار موت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق جان ولیم لینگفورڈ اپنے ہوٹل کے کمرے میں بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
رپورٹس کے مطابق لینگفورڈ بی سی سی آئی کے ساتھ بطور براڈکاسٹ انجینیئر کام کر رہے تھے اور آئی پی ایل میچز کی کوریج کے سلسلے میں ممبئی میں مقیم تھے۔ وہ 24 مارچ سے ٹرائیڈنٹ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق وہ اتوار کے روز ممبئی انڈینز اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے درمیان میچ دیکھنے کے بعد اپنے کمرے میں واپس آئے، تاہم بعد ازاں جب ہوٹل انتظامیہ نے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو کوئی جواب نہ ملا۔
عملے نے دروازہ کھٹکھٹایا اور جواب نہ آنے پر ماسٹر کی کے ذریعے کمرہ کھولا، جہاں وہ فرش پر گرے ہوئے ملے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کوئی مشتبہ شواہد سامنے نہیں آئے، تاہم غیر طبعی موت کا مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ -

مصری صدر کی ٹرمپ سے جنگ روکنے کی اپیل
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کو روکنے میں ان کا کردار انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔
قاہرہ میں ایک بین الاقوامی انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سیسی نے براہ راست امریکی صدر کو مخاطب کیا اور کہا کہ پورے خطے کی جانب سے درخواست ہے کہ وہ اس تباہ کن جنگ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں ایسی صلاحیت صرف امریکا کے پاس ہے جو اس تنازع کو ختم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
مصری صدر نے خبردار کیا کہ اگر جنگ فوری طور پر نہ روکی گئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں شدید معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔
صدر السیسی نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی قیادت خاموشی کے بجائے عملی اقدامات کرے تاکہ ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران سے بچا جا سکے۔ -

آپریشن وعدہ صادق 4 کی 88ویں لہر، ایرانی حملوں کا دعویٰ
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 88ویں لہر کے دوران امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف مشترکہ اور وسیع پیمانے پر کارروائیاں کی گئی ہیں۔
بیان کے مطابق ان حملوں کو لبنان میں حزب اللہ کے شہدا کے نام منسوب کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن کی عسکری صلاحیت کو مزید کمزور کیا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس لہر میں بھاری میزائل سسٹمز جیسے عماد، خرم شہر 4 اور قدر استعمال کیے گئے، جن کے ذریعے مختلف اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ مقبوضہ علاقوں کے وسط، جنوب اور شمال میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں تل ابیب، بئر السبع، الجلیل، نقب، تل نوف ایئر بیس اور عراد جیسے علاقے شامل ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بنی براک میں صہیونی داخلی محاذ کے کمانڈرز کے ایک اجلاس کے مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ -

اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، اہم امور پر گفتگو
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
رپورٹ کے مطابق گفتگو کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات کا اعادہ کیا گیا اور دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں قریبی رابطے میں رہنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، جبکہ سفارتی سطح پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے حالیہ چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس کے انعقاد پر پاکستان کی مہمان نوازی کو سراہا اور اس اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مسلسل رابطے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اہم سفارتی ہم آہنگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ -

ایران تنازع سے یوکرین متاثر ہونے کا خدشہ: زیلنسکی
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری تنازع کے باعث امریکا کی توجہ یوکرین سے ہٹ رہی ہے، جس سے جنگی محاذ پر مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ اگر واشنگٹن کی توجہ مسلسل مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل ہوتی رہی تو یوکرین کو ہتھیاروں اور دفاعی وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو جنگ کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں طویل جنگ روس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، خاص طور پر اس کی تیل پر مبنی معیشت کو تقویت مل رہی ہے۔ زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ روس ایران کی حمایت کے ساتھ ساتھ اسے سیٹلائٹ تصاویر اور جنگی تجربات بھی فراہم کر رہا ہے۔
ان کے مطابق روس ایران کے ساتھ وہی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے جو اس نے یوکرین میں اپنائی تھی، جبکہ ممکنہ طور پر امریکی اور اتحادی اڈوں سے متعلق معلومات بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین نے مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں کو اس حوالے سے اہم معلومات فراہم کر دی ہیں تاکہ صورتحال کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کے تنازع کا حل جلد از جلد سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے، کیونکہ اگر امریکا کی توجہ مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز رہی اور روس پر پابندیوں میں نرمی آئی تو یہ یوکرین کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ -

ایف بی آر کو ٹیکس ہدف میں بڑی کمی کا خدشہ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مارچ 2026 کے ٹیکس ہدف کے حصول میں بڑی کمی کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو مارچ کے دوران 150 سے 200 ارب روپے تک کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور خطے میں جاری کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنگی صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 150 ارب روپے کم ٹیکس جمع ہونے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی معیشت کی رفتار کو متاثر کیا، جس کا براہ راست اثر محصولات پر پڑا۔
دستاویزات کے مطابق جولائی سے فروری تک ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی 8121 ارب روپے رہی، تاہم مارچ میں برآمد کنندگان کو 60 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز جاری کیے گئے، جس سے ٹیکس آمدن مزید کم ہو گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی سے مارچ تک مجموعی شارٹ فال 600 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جو حکومتی مالیاتی اہداف کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایف بی آر نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر آئی ایم ایف سے ٹیکس ہدف میں کمی کی درخواست بھی کی ہے، تاہم اس پر تاحال کوئی منظوری نہیں ملی۔ ماہرین کے مطابق اگر ہدف پورا نہ ہوا تو حکومت کو اضافی ٹیکس اقدامات یا منی بجٹ لانا پڑ سکتا ہے۔ -

ایل این جی بحران، لوڈشیڈنگ میں اضافے کا خدشہ
ملک میں ایل این جی کی سپلائی تقریباً صفر ہونے کے بعد بجلی کے شعبے میں شدید دباؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث اپریل سے لوڈشیڈنگ میں اضافے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی میں کمی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ 2 سے 3 گھنٹے تک بجلی کی بندش ہو سکتی ہے۔
حکومتی سطح پر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں سی این جی سیکٹر کو مکمل طور پر بند کرنا اور کھاد کارخانوں کو فراہم کی جانے والی گیس میں کمی کر کے پاور سیکٹر کو منتقل کرنا شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاور سیکٹر مجموعی طور پر 10 سے 15 فیصد ایل این جی استعمال کرتا رہا ہے، اور موجودہ بحران کے پیش نظر توانائی کی ترجیحات میں تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے۔
ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ڈیزل کے ذریعے بجلی پیدا کرنا انتہائی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے، جس کی لاگت 80 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر سکتی ہے، اسی وجہ سے ڈیزل سے بجلی پیدا نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق توانائی کی سپلائی میں یہ خلل نہ صرف بجلی کی قلت کو بڑھا سکتا ہے بلکہ صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے مشکلات میں بھی اضافہ کرے گا۔ -

جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا، ایرانی صدر کا اعلان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ جاری جنگ کا خاتمہ ایران کی اپنی شرائط پر ہی ہوگا اور کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے عوام کی عزت اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی سطح پر ایک باوقار مقام رکھتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے ایرانی مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی اور دفاع میں افواج نے تاریخی کردار ادا کیا ہے، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ پیغامات صرف ثالثوں کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے امریکی مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ اور حد سے زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شرائط کے تحت کسی معاہدے کا امکان کم ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کا سخت مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں، جبکہ مذاکرات کا عمل بھی مشکل مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔