Baaghi TV

Blog

  • اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد متعدد گاڑیاں جل گئیں، 11 افراد زخمی

    اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد متعدد گاڑیاں جل گئیں، 11 افراد زخمی

    مرکزی اسرائیل میں ایران کی جانب سے کیے گئے نئے میزائل حملے کے بعد گرنے والے میزائل کے ٹکڑوں سے کئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ کم از کم 11 افراد زخمی ہوگئے۔

    اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے مختلف علاقوں میں میزائل کے ملبے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں مرکزی اسرائیل کے ان مقامات کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں جہاں حملوں کے اثرات کی اطلاعات ملی ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق تل ابیب کے ساحلی علاقے (بیچ پرومینیڈ) پر ایمرجنسی ٹیموں کو متاثرہ مقام پر کام کرتے دیکھا گیا، جہاں تباہی کے واضح آثار موجود تھے۔آئی ڈی ایف کے ایک ترجمان نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ نقصان کلسٹر بم کے استعمال کے باعث ہوا، جبکہ ایران نے اس سے قبل اسرائیل کی جانب ایک نئی میزائل لہر فائر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

  • آبنائے ہرمز سے چینی بحری جہازبھی گزر گئے، چین کی تصدیق

    آبنائے ہرمز سے چینی بحری جہازبھی گزر گئے، چین کی تصدیق

    چین کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں تین چینی بحری جہاز اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گئے ہیں۔

    چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے منگل کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ پیش رفت متعلقہ فریقین، بالخصوص ایران کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد ممکن ہوئی۔انہوں نے کہا کہ "متعلقہ فریقین کے ساتھ تعاون کے بعد تین چینی جہازوں نے حال ہی میں آبنائے ہرمز عبور کی۔ ہم اس سلسلے میں فراہم کی گئی معاونت کو سراہتے ہیں۔” ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے گرد و نواح کے سمندری راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہیں، اور چین خطے میں فوری جنگ بندی اور امن و استحکام کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    پس منظر کے طور پر، ایرانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ غیر دشمن ممالک کے جہاز ایران کے ساتھ پیشگی رابطے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران، چین، بھارت اور پاکستان سے وابستہ متعدد جہاز اس اہم راستے سے گزر چکے ہیں۔دوسری جانب ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ بعض آئل ٹینکرز کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے بدلے فیس بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ بیان اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کم از کم دو جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے بھاری رقوم ادا کیں۔

    ماہرین کے مطابق، خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی اور بحری تجارت متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کو کھلا اور محفوظ رکھا جائے۔

  • اسلام آباد،تاجر کو قتل کرنے والے ملزمان خیبر پختونخوا سے گرفتار

    اسلام آباد،تاجر کو قتل کرنے والے ملزمان خیبر پختونخوا سے گرفتار

    اسلام آباد کے علاقے مارگلہ ٹاؤن میں معروف تاجر کو قتل کرنیوالے پانچوں ملزمان خیبرپختونخوا سے گرفتار کرلیے گئے، پولیس نے اسلام آباد منتقل کرکے تفتیش شروع کردی۔

    رپورٹ کے مطابق ملزمان کے مقتول کے گھر میں داخل ہونے کی ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی۔اسلام آباد پولیس نے مارگلہ ٹاؤن میں بزنس مین کا قتل کیس حل کرلیا، بزنس مین عامر اعوان قتل کے قتل میں ملوث پانچوں ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، ملزمان کو چارسدہ اور مردان کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان ڈکیتی کا منظم گینگ چلاتے تھے، اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔

    واضح رہے کہ عامر اعوان کو ان کے فارم ھاوس میں بیڈ روم میں قتل کیا گیا۔ پانچ مسلح افراد گھر کے اندر داخل ہوئے۔ کلاشنکوف سے مسلح تھے،

  • یورپ میں چاکلیٹ کی بڑی ڈکیتی،  12 ٹن چاکلیٹ سے بھرا ٹرک چرالیا گیا

    یورپ میں چاکلیٹ کی بڑی ڈکیتی، 12 ٹن چاکلیٹ سے بھرا ٹرک چرالیا گیا

    یورپ میں لوٹ مار میں اضافے اٹلی میں 12 ٹن چاکلیٹ سے بھرا ٹرک چرالیا گیا کٹ کیٹ سے بھرا ٹرک اٹلی سے پولینڈ جارہا تھا کہ 12 ٹن کٹ کیٹ چاکلیٹ چوری ہوگئی جن کی مقدار 4لاکھ 13ہزار سے زائد تھی۔ کارگو کی چوری ہر سائز کے کاروبار کے لیے ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔

    یورپ میں ایک حیران کن واردات کے دوران چوروں نے مشہور چاکلیٹ برانڈ کٹ کیٹ کی 4 لاکھ سے زائد بارز چرا لیں، جن کا مجموعی وزن تقریباً 12 ٹن بتایا جا رہا ہے۔کمپنی کے مطابق یہ چاکلیٹ ایک ٹرک کے ذریعے اٹلی کے وسطی علاقے سے پولینڈ منتقل کی جا رہی تھیں کہ راستے میں نامعلوم افراد نے پوری کھیپ غائب کر دی۔بیان کے مطابق چوری ہونے والی کل 413,793 کٹ کیٹ بارز تاحال لاپتہ ہیں اور نہ ہی ٹرک کا کوئی سراغ ملا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ہر بار پر موجود بیچ نمبر کے ذریعے ان کی شناخت ممکن ہے، اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کو ایسی چاکلیٹس ملیں تو فوری اطلاع دی جائے۔کمپنی نے مزید بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات مقامی حکام اور سپلائی چین پارٹنرز کے ساتھ مل کر جاری ہیں۔

    ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کارگو چوری اور فریٹ فراڈ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ جرائم مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔کمپنی کے ترجمان نے مزاحیہ انداز میں کہا “ہم ہمیشہ لوگوں کو کٹ کیٹ کے ساتھ بریک لینے کا کہتے ہیں، لیکن لگتا ہے چوروں نے اس بات کو کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لے لیا اور 12 ٹن چاکلیٹ کے ساتھ ہی بریک لے لی۔”ترجمان نے مزید کہا کہ اگرچہ چوروں کا ذوق قابلِ تعریف ہے، لیکن کارگو چوری کاروبار کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔

    اتوار کو انسٹاگرام پر جاری بیان میں کمپنی نے واضح کیا کہ اس واقعے سے صارفین کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔واضح رہے کہ یہ یورپ میں چاکلیٹ کی پہلی بڑی چوری نہیں۔ اس سے قبل 2023 میں برطانیہ میں ایک شخص نے مشہور Cadbury کے تقریباً 2 لاکھ کریم ایگز چرا لیے تھے، جس پر اسے 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

  • سپریم کورٹ کی 20 کروڑ روپے کی شاندار تزئین و آرائش، پہلی بارش میں چھتیں ٹپکنے لگیں

    سپریم کورٹ کی 20 کروڑ روپے کی شاندار تزئین و آرائش، پہلی بارش میں چھتیں ٹپکنے لگیں

    سپریم کورٹ کی شاندار تزئین و آرائش، جس پر 20 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے، اسلام آباد میں موسم کی پہلی موسلا دھار بارش کے بعد سپریم کورٹ کی چھتوں سےپانی ٹپکنے لگا۔

    صحافی عبدالقیوم صدیقی نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ صحافیوں کے لیے بنائے گئے کمرے میں بارش کا پانی داخل ہو گیا جس نے ایک مہنگے منصو بے کی ناکامی کو عیاں کر دیا اور عوامی رقم کے استعمال پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

    انہوں نے لکھا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ میں تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوا ایک ذریعہ کے مطابق 20کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے لیکن موسم کی پہلی تیز بارش نے ساری قلعی کھول دی کیا چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کسی ذمہ دار کو بلا کر اس عوامی رقم کا حساب لیں گے ؟ یہ منظر صحافیو ں کے لیے بنائی گئی جگہ کا ہے جتنی بارش باہر اتنی اس کمرے میں جاری ہے-

    اس کے علاوہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کی چھتوں سے بھی پانی ٹپکنے لگا تھا جس پر انتظامیہ نے ٹپکتی چھتوں کے نیچے بالٹیاں رکھ دی تھیں۔

  • خیبرمیں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    خیبرمیں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    باڑہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، سیکورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک وہ مرکزی ملزم بھی شامل ہے جس نے گزشتہ روز ایک جوان کا سر کاٹ دیا تھا۔

    علاوہ ازیں باڑہ اکاخیل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک 10 دہشتگردوں میں سے 4 کمانڈروں سمیت 7 دہشتگردوں، اور زخمی کی بھی شناخت ہو گئی؛ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر طارق، مقامی کمانڈر راجد، کمانڈر جاوید عرف غزنی، مقامی کمانڈر عبدالبصیر خیبری، عثمان، حمزہ اور زخمی دہشت گرد ثاقب شامل ہیں

    دوسری جانب مردان، تھانہ شیخ ملتون کی پولیس چوکی بہرام خان کلے پر دہشت گردوں نے دستی بم حملہ کیا، ڈی پی او مردان مسعود بنگش کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ،پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی،پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

  • یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات

    یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات

    بھارت کے زوال پذیر معاشی اشاریے،روئٹرز نے یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات کا پول کھول دیا۔

    روئٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث بھارتی شیئرز مارچ 2020 کے بعد بدترین سطح پر پہنچ گئے پاک بھارت کشیدگی، امریکی تجارتی دباؤاور ایرا ن جنگ کے اثرات کی وجہ سے بھارتی بینکوں کے حصص 2.5 فیصد تک گر گئے، مشرق وسطیٰ تنازع کے باعث بھارت کا نجی شعبہ 3 سال کی کمزور ترین شرح نمو پر پہنچ گیا، بھارت کی جی ڈی پی نمو 8.4 فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

    بھارتی حکام نے 1.3 فیصد تک بڑھ جانے والے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مزید اضافہ کی پیش گوئی کر دی عالمی ماہرین کے مطابق مودی کی نااہلی نے بھارتی معیشت کو توانائی، کرنسی اور ترسیلات زر کے بحران میں دھکیل دیا ہے،مودی کی بدترین حکمت عملی اور دوغلی پالیسیوں کے باعث بھارت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کھو چکا ہے۔

  • کیا امریکی دور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے؟تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    کیا امریکی دور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے؟تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    آبنائے ہرمز، پیٹرو ڈالر اور عالمی طاقت کا مستقبل

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی عالمی طاقت ہمیشہ کے لیے غالب نہیں رہتی۔ سلطنتیں ابھرتی ہیں، اپنے مفادات کے مطابق عالمی نظام کو تشکیل دیتی ہیں اور بالآخر اپنی طاقت کی حدود سے دوچار ہو جاتی ہیں۔
    مثال کے طور پر برطانوی سلطنت نے انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں اپنی عروج کی انتہا کو پہنچا، مگر 1956 میں جب اس کا سویز نہر پر کنٹرول ختم ہوا تو اس کے زوال کے آثار واضح ہونا شروع ہو گئے۔ یہ اسٹریٹجک گزرگاہ برطانیہ کی عالمی تجارت اور اثر و رسوخ کی شہ رگ تھی؛ جیسے ہی اس پر خطرہ پیدا ہوا، سلطنت کی معاشی اور سیاسی قوت کمزور ہونے لگی اور عالمی برتری سے اس کی واپسی تیز ہو گئی۔

    آج کئی تجزیہ کار اس صورتحال کا موازنہ امریکہ کے ساتھ کرتے ہیں۔ جس طرح سویز نہر برطانیہ کے لیے آزمائش ثابت ہوئی، اسی طرح آبنائے ہرمز امریکی عالمی طاقت کے لیے ایک فیصلہ کن امتحان بن سکتی ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار کی گزرگاہ ہے۔ یہاں استحکام عالمی توانائی کی منڈیوں، امریکی معیشت کی طاقت اور پیٹرو ڈالر نظام کی بالادستی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت تیل کی تجارت زیادہ تر امریکی ڈالر میں ہوتی ہے.

    سرد جنگ کے بعد امریکہ دنیا کی بلا مقابلہ سپر پاور کے طور پر ابھرا۔ واشنگٹن کی بحری برتری نے عالمی تجارتی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، کو محفوظ رکھا۔ اسی کنٹرول نے امریکہ کو یہ موقع دیا کہ وہ ڈالر کو دنیا کی بنیادی ریزرو کرنسی کے طور پر برقرار رکھے، عالمی سطح پر اپنی معاشی پالیسیاں نافذ کرے اور بے مثال اسٹریٹجک اثر و رسوخ قائم رکھے۔

    تاہم گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ چین کی معاشی ترقی، روس کی واپسی اور ترکیہ، ایران اور بھارت جیسی علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے اثر نے امریکی یک قطبی نظام کو چیلنج کیا ہے۔

    خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، میزائل صلاحیتیں اور غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں نے آبنائے ہرمز کو پہلے سے زیادہ حساس اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔

    تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس راستے میں طویل رکاوٹ پیدا ہوئی تو پیٹرو ڈالر نظام کی بنیادیں ہل سکتی ہیں اور تیل برآمد کرنے والے ممالک دوسری کرنسیوں میں تجارت کی طرف تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں امریکی معیشت اور ڈالر کی عالمی بالادستی کمزور پڑ سکتی ہے۔

    داؤ بہت بڑا ہے
    اگر امریکہ آبنائے ہرمز میں استحکام برقرار رکھنے اور کنٹرول قائم رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو ڈالر مضبوط رہے گا، پیٹرو ڈالر نظام برقرار رہے گا، امریکی معیشت اپنی مضبوطی برقرار رکھے گی اور امریکہ کا عالمی اثر و رسوخ جاری رہے گا۔ ایسی کامیابی ڈونلڈ ٹرمپ یا کسی بھی امریکی قیادت کو عالمی سطح پر اپنی طاقت دکھانے میں مزید تقویت دے گی۔

    لیکن اگر امریکہ خطے میں اثر و رسوخ کھو بیٹھتا ہے تو نتائج انتہائی ڈرامائی ہو سکتے ہیں۔ پیٹرو ڈالر نظام تیزی سے کمزور ہو سکتا ہے کیونکہ ممالک متبادل کرنسیوں میں تیل کی تجارت شروع کر دیں گے۔ اس کے نتیجے میں ڈالر کمزور پڑے گا، امریکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے اور امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ ایسا منظرنامہ امریکہ کے عالمی سپر پاور کے طور پر زوال کو تیز کر سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سویز بحران کے بعد برطانیہ کی عالمی حیثیت کمزور ہو گئی تھی۔

    یہ صورتحال جغرافیائی سیاست میں محلِ وقوع کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جس طرح سویز نہر نے برطانیہ کے عالمی اثر کو متعین کیا تھا، اسی طرح آبنائے ہرمز اور اس کے ذریعے توانائی کی ترسیل یہ طے کر سکتی ہے کہ آیا امریکی دور جاری رہے گا یا تیز رفتار زوال کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

    پاکستان اور دیگر درمیانی طاقتوں کے لیے بھی یہ پیش رفت براہِ راست اہمیت رکھتی ہے۔ اس گزرگاہ میں استحکام یا خلل توانائی کی سلامتی، تجارتی راستوں اور پورے خطے کی معاشی صورتحال کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں اسٹریٹجک بصیرت، متوازن سفارت کاری اور علاقائی تعاون انتہائی ضروری ہوں گے۔

    نتیجہ
    امریکی دور اچانک ختم نہیں ہو رہا، لیکن اس کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور پیٹرو ڈالر نظام کی پائیداری ممکنہ طور پر وہ اہم عوامل ہوں گے جو امریکہ کی عالمی طاقت کے مستقبل کا تعین کریں گے۔اگر امریکہ کامیاب حکمت عملی اختیار کرتا ہے تو ڈالر مضبوط رہے گا، معیشت محفوظ رہے گی اور امریکی اثر و رسوخ مزید عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ لیکن ناکامی کی صورت میں ڈالر کمزور پڑ سکتا ہے، امریکی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے، ٹرمپ یا اس وقت کی امریکی قیادت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور امریکہ کے زوال کا عمل تیز ہو سکتا ہے—بالکل ویسے ہی جیسے سویز نہر کے بعد برطانیہ کی واپسی تیز ہو گئی تھی۔

    تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی سلطنتوں کا عروج و زوال اکثر اہم اسٹریٹجک گزرگاہوں کے کنٹرول سے جڑا ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی میں دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا آبنائے ہرمز امریکی طاقت کا فیصلہ کن امتحان بنے گی یا وہ مقام جہاں سے عالمی نظام میں اگلی بڑی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔

  • عطا اللہ تارڑ کی جنرل الیکشن میں کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد

    عطا اللہ تارڑ کی جنرل الیکشن میں کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد

    حلقہ این اے 127 سے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جنرل الیکشن میں کامیابی کے خلاف دائر درخواست الیکشن ٹربیونل نے مسترد کر دی۔

    ملک ظہیر عباس کھوکھر کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات کی انتخابی کامیابی کو چیلنج کیا گیا تھا، لیکن ٹربیونل نے اس درخواست کو غلط، ناقابل سماعت اور بے بنیاد قرار دیا ملک ظہیر عباس کھوکھر نے متعدد بار سماعت کی تاریخیں لیں اور کیس ملتوی کرنے کی درخواستیں بھی جمع کرائیں، تاہم وہ اپنے حق میں کسی قسم کے ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی نمائندگی کے لیے الیکشن ٹربیونل میں بیرسٹر حارث عظمت ایڈووکیٹ پیش ہوئے،ٹھوس شواہد پیش نہ کرنے اور درخوا ست کے قابل سماعت نہ ہونے کے باعث الیکشن ٹربیونل نے انتخابی عذر داری خارج کر دی اس موقع پر وزیراعظم کے پولیٹیکل کوآرڈینیٹر سید توصیف شاہ بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔

  • بیرسٹر گوہر  کا واٹس ایپ نمبر ہیک ہوگیا، ہیکرز کی جانب سے رقم کی درخواستیں

    بیرسٹر گوہر کا واٹس ایپ نمبر ہیک ہوگیا، ہیکرز کی جانب سے رقم کی درخواستیں

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا واٹس ایپ نمبر ہیک کرلیا گیا، جبکہ ہیکرز کی جانب سے رقم کی درخواستیں کی جا رہی ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایکس پر بیان میں بتایا کہ ان کا واٹس ایپ نمبر آج صبح تقریباً 11 بجے ہیک کر لیا گیا ہے اور ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد ڈیلیٹ بھی ہو چکا ہے، ہیکرز کی جانب سے رقم کی درخواستیں کی جا رہی ہیں، تمام مالی درخواستوں کو نظر انداز کیا جائے،معاملے سے متعلقہ حکام سے رجوع کر لیا گیا ہے تاکہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جا سکے اور ضروری کارروائی عمل میں لائی جا سکے-