Baaghi TV

Blog

  • یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کےپاس 40 لاکھ کہاں سے آئے؟دفترِ خارجہ نے تحقیقات شروع کر دیں

    یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کےپاس 40 لاکھ کہاں سے آئے؟دفترِ خارجہ نے تحقیقات شروع کر دیں

    دفترِ خارجہ نے گجرات میں تعینات اپنے دو یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے گھر سے 40 لاکھ روپے چوری ہونے کے واقعے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    پولیس کے مطابق امیر شوکت اور عرفان احمد نے سول لائنز تھانے میں مقدمہ درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 12 مارچ کو جٹّوواکل کے علاقے میں واقع ان کے مشترکہ کرائے کے گھر سے نامعلوم افراد 40 لاکھ روپے نقد چوری کر کے فرار ہوگئے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک سرکاری مراسلے میں دونوں ملازمین سے اس رقم کے ذرائع کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی ہے مراسلے کے مطابق چونکہ دونوں کم از کم اجرت پر ملازم ہیں، اس لیے ان سے پوچھا گیا ہے کہ انہوں نے اتنی بڑی رقم کیسے جمع کی، دو نوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 مارچ تک 3 روز کے اندر تحریری جواب جمع کرائیں۔

    ڈرون حملہ، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نزدیک ایندھن کے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی

    ذرائع کے مطابق شکایت کنندہ امیر شوکت کو اسسٹنٹ پروٹوکول افسر کے اختیارات دیے گئے تھے جس کے تحت وہ شہریوں کے بیرونِ ملک استعمال کے لیے دستاویزات کی تصدیق اور دستخط کر سکتا تھا بتایا جاتا ہے کہ گجرات میں دفترِ خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول ہفتے میں صرف دو دن دفتر آتے تھے اور بیشتر دفتری امور امیر شوکت ہی انجام دیتا تھا۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دفتر کے بعض اہلکاروں اور ایجنٹ مافیا کے درمیان مبینہ بدعنوانی کی شکایات پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی حالیہ مہینوں میں اسپین کی جانب سے یکم اپریل سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے اعلان کے بعد تصدیق شدہ د ستاویزات (اپوسٹیل) کے حصول کے لیے درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    امریکی صدر کا ایران پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے جھوٹ پھیلانے کا الزام

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض شہریوں کا الزام ہے کہ ایجنٹوں کے ذریعے فی اپوسٹیل تقریباً 21 ہزار اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کے لیے 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک رشوت لی جا رہی ہے، جبکہ دفتر میں روزانہ 400 سے 500 اپوسٹیل درخواستیں نمٹائی جا رہی ہیں۔

  • ڈرون حملہ، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نزدیک ایندھن کے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی

    ڈرون حملہ، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نزدیک ایندھن کے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی

    متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں پیر کی علی الصبح ایک ڈرون سے متعلق واقعے کے بعد دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والے دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب ایندھن کے ایک ٹینک میں آگ لگ گئی، جس کے بعد سیکیورٹی ادارے فوری طور پر متحرک ہوگئے۔

    حکام کے مطابق واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے ہنگامی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔دبئی میڈیا آفس کے مطابق حکام اس وقت اس آگ پر قابو پانے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں جو ایک ڈرون سے متعلق واقعے کے نتیجے میں ہوائی اڈے کے قریب بھڑک اٹھی۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے شہریوں اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد ایئرپورٹ کے قریبی علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور آسمان پر دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینک کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر بھی مارے جا چکے ہیں،اس کے جواب میں ایران نے مبینہ طور پر ڈرون اور میزائل حملے کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

  • افغان فورسز کاباجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری، چار بھائی شہید، ایک شخص شدید زخمی

    افغان فورسز کاباجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری، چار بھائی شہید، ایک شخص شدید زخمی

    باجوڑ کی تحصیل سلارزئی، پاک۔افغان سرحدی علاقے لیٹی (تاری پشہ) میں افغان فورسز کی جانب سے مارٹر گولہ باری کے نتیجے میں چار افراد شہید جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا،

    مقامی ذرائع کے مطابق گولہ باری سرحد پار سے کی گئی اور ایک مارٹر گولہ ایک رہائشی مکان پر آ کر گرا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود چار افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ شامل ہیں، جو آپس میں سگے بھائی تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے فائر کیے گئے مارٹر گولے باجوڑ کے سرحدی علاقے سلارزئی اور گرد و نواح میں گرے، جس سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ واقعے میں ایک شخص شدید زخمی بھی ہوا جسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    صدر باجوڑ پریس کلب حسبان اللہ کا کہنا ہے کہ آج باجوڑ کی تحصیل سالارزئی میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں افغانستان کی جانب سے فائر کیا گیا ایک مارٹر گولہ ایک مقامی گھر پر آ گرا۔ اس المناک واقعے کے نتیجے میں چار بھائی شہید جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔ ہم اس بزدلانہ اور دردناک سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ہم حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس سانحے پر فوری طور پر اپنا مؤقف پیش کیا اور تعزیتی بیان جاری کیا۔ تاہم یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ تعزیتی بیان سامنے نہیں آیا، جو نہ صرف قابلِ تشویش بلکہ باعثِ افسوس بھی ہے۔باجوڑ پریس کلب کی جانب سے ہم واضح طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی بہادر افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ افواجِ پاکستان ہمارے ان بے گناہ بھائیوں کے خون کا حساب ضرور لے گی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت یابی نصیب فرمائے۔ آمین۔

    شہید افراد کی نماز جنازہ میں سابق سینیٹر مولانا عبدالرشید نےجذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے بعض علماء کی طرف سے جاری کئے گئے جہادی فتوی کیوجہ سے آج معصوم لوگ شہید ہورہے ہیں

  • امریکی صدر   کا ایران پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے جھوٹ پھیلانے کا الزام

    امریکی صدر کا ایران پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے جھوٹ پھیلانے کا الزام

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران طویل عرصے سے میڈیا مینپولیشن اور جھوٹی معلومات پھیلانے میں ماہر ہے،

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران عسکری طور پر کمزور ہے مگر فیک نیوز میڈیا کو جھوٹی معلومات فراہم کرنے میں مہارت رکھتا ہے،ایران اے آئی کو نئی پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، سمندر میں امریکی جہازوں پر حملوں کے نام پر دکھائی جانے والی “کامی کازے بوٹس” جعلی ہیں، امریکی ری فیولنگ طیاروں کی تباہی سے متعلق رپورٹس غلط ہیں، تمام طیارے تقریباً مکمل طور پر سروس میں ہیں، آگ میں جلتے امریکی جہازوں اور عمارتوں کی تصاویر اے آئی سے بنائی گئی فیک نیوز ہیں، طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln (CVN‑72) کے جلنے کی خبریں مکمل طور پر جھوٹ ہیں،ایران اور فیک نیوز میڈیا مل کر جھوٹی کہانیاں پھیلا رہے ہیں،جھوٹی معلومات پھیلانے والے میڈیا اداروں پر غداری کے الزامات لگنے چاہئیں،ایران میدان جنگ میں شکست کھا رہا ہے اور صرف اے آئی کے ذریعے پروپیگنڈا کی جنگ جیتنے کی کوشش کر رہا ہے، بائیں بازو کا میڈیا جان بوجھ کر جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے، امریکی میڈیا کی ساکھ کمزور ہو چکی ہے اور عوامی اعتماد کم ہے،حکومتی اہلکار Brendan Carr میڈیا اداروں کے لائسنس کا جائزہ لے رہے ہیں، کچھ میڈیا ادارے مفت امریکی ایئر ویوز استعمال کر کے جھوٹ پھیلا رہے ہیں

  • بغداد ایئرپورٹ پر راکٹ حملہ، پانچ افراد زخمی

    بغداد ایئرپورٹ پر راکٹ حملہ، پانچ افراد زخمی

    بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف کے علاقوں پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔سیکیورٹی حکام کے مطابق حملے میں ایئرپورٹ سیکیورٹی کے چار اہلکار اور ایک انجینئر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔عراقی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد راکٹ اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ دو سیکیورٹی عہدیداروں کے مطابق حملے کا اصل ہدف ایئرپورٹ کے قریب واقع ایک سابق امریکی فوجی اڈہ تھا، جو اگرچہ اب فعال فوجی اڈہ نہیں ہے تاہم اب بھی امریکی آپریشنز کے لیے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ بغداد میں امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب سے "سنگین خطرہ” موجود ہے، جس کے باعث امریکی شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور جلد از جلد عراق سے نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق بغداد ایئرپورٹ پر ہونے والا یہ حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پراکسی جنگ کے خدشات کو مزید تقویت دے سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف عراق بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔

  • ٹھاکرہ کے نواح گیس لیکیج سے دھماکہ 4 مکانات تباہ، خاتون جاں بحق، 4 افراد شدید زخمی

    ٹھاکرہ کے نواح گیس لیکیج سے دھماکہ 4 مکانات تباہ، خاتون جاں بحق، 4 افراد شدید زخمی

    دولتالہ کے قریب ہولناک واقعہ گھر میں گیس بھرنے سے دھماکہ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جھلس گئے حالت تشویشناک
    قیامت خیز دھماکہ میں 24 سالہ دوشیزہ ملبے تلے دب کر جاں بحق، متاثرین کھاریاں برن سینٹر منتقل علاقے کی فضا سوگ

    گوجرخان (قمرشہزاد) موضع ٹھاکرہ داخلی نڑالی میں گیس لیکیج کے باعث ہونے والے زوردار دھماکے نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں 4 مکانات زمین بوس ہو گئے، ایک نوجوان خاتون جاں بحق جبکہ بچوں سمیت 4 افراد شدید جھلس گئے۔

    تقریباً چھ بجے جب علاقہ مکین محوِ خواب تھے، موضع ٹھاکرہ میں گیس لیکیج کے باعث اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس نے طالب، فیصل، احمد اور صوبیدار ریاست کے مکانات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ واقعے میں باوا حمد کی 24 سالہ بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی جبکہ فیصل کی اہلیہ اور اس کے تین معصوم بچے آگ کے شعلوں کی زد میں آکر بری طرح جھلس گئے۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو ملبے سے نکال کر فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جبکہ واقعے کی اطلاع پر ریسکیو کی امدادی ٹیمیں فوری جائے حادثہ پہنچیں اور زخمیوں کو کھاریاں برن سینٹر منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ کمرے میں گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا۔ ہولناک دھماکے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور علاقے کی فضا سوگوار ہے۔

  • گوجرخان جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی زمینیں ہتھیانے والے گروہ کا انکشاف

    گوجرخان جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی زمینیں ہتھیانے والے گروہ کا انکشاف

    عبید علی ملک کی درخواست پر ڈی جی اینٹی کرپشن اور اے سی گوجرخان کا ایکشن، تحقیقات شروع
    جعلسازی ثابت ہونے پر رجسٹری منسوخ اور ملوث افراد کو جیل بھیجیں گے اسسٹنٹ کمشنر خضر ظہور

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی جائیدادیں ہتھیانے والے ایک منظم گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔ موضع بھگانہ کے رہائشی عبید علی ملک نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب اور اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان کو تحریری درخواست دے دی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحصیل آفس کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے ان کی آبائی زمین کی جعلی رجسٹری کروائی گئی ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق، مذکورہ پارٹی کے پاس زمین کا کوئی ملکیتی ثبوت، فرد یا قبضہ موجود نہیں، اس کے باوجود ملی بھگت سے کاغذات تیار کیے گئے۔ متعلقہ پٹواری نے بھی اس حوالے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رجسٹری پر اس کے دستخط یا مہر موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور معاملے کی باریک بینی سے انکوائری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر رجسٹری جعلی ثابت ہوئی تو اسے فوری منسوخ کر دیا جائے گا اور جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کچہری میں متحرک اس جعل ساز گروہ کا قلع قمع کیا جائے جو سادہ لوح شہریوں کی جائیدادیں ہتھیا کر انہیں فروخت کرنے کے دھندے میں مصروف ہے، تاکہ لوگ اپنی جمع پونجی اور چھت سے محروم نہ ہوں۔

  • تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے تھے کہ اگر یہ جنگ 2 سے 3 ماہ سے زیادہ طویل ہو گئی تو پاکستان کے لیے اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اب تک 15 دن گزر چکے ہیں اور ابھی تک کسی واضح حل یا قابلِ اعتماد جنگ بندی کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔
    اس پس منظر میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ پاکستانی روپیہ کس طرح ردِعمل دکھائے گا۔

    مختصر مدت (Short Term)
    قریب مدت میں رمضان کے باعث بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بدستور مضبوط ہیں۔ فارن ایکسچینج فارورڈ پریمیم منی مارکیٹ کی سطح سے اوپر ٹریڈ ہو رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زرمبادلہ کی لیکویڈیٹی نسبتاً آرام دہ ہے۔ آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ کے درمیان رابطوں کی خبریں بھی مجموعی طور پر مثبت ہیں۔
    گزشتہ دو ہفتوں میں برآمدات سے آنے والی رقوم میں کچھ سستی آئی ہے۔ اسی دوران درآمدی ادائیگیوں کو مرحلہ وار کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی نظر آ رہی ہے تاکہ کسی بھی دن انٹر بینک مارکیٹ پر غیر معمولی دباؤ نہ پڑے۔ یہ طریقہ کار روپے کی قدر پر غیر ضروری دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں روپیہ ایک محدود دائرے میں رہے گا۔ تاہم دو اہم مالی دباؤ سامنے ہیں:
    عید کے فوراً بعد تیل کی بڑی ادائیگیاں
    ایک ارب ڈالر سے زائد کی یورو بانڈ ادائیگیاں

    درمیانی مدت (Medium Term)
    یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صورتحال کافی غیر واضح ہو جاتی ہے۔
    نیا تیل نظام (The New Oil Regime)
    آبنائے ہرمز اب مؤثر طور پر تیل کی قیمتوں کے تعین کا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ مارکیٹیں اب حقیقی سپلائی میں کمی کے بجائے رکاوٹ کے امکانات کی بنیاد پر تجارت کر رہی ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں ساختی طور پر زیادہ غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔ تیل اب محض ایک کموڈیٹی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ کی طرح برتاؤ کر رہا ہے۔
    اس سے ایک نیا معاشی ماحول پیدا ہو رہا ہے:
    توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا خطرہ
    طلب کے معمول کے چکر سے ہٹ کر اچانک اتار چڑھاؤ
    عالمی تجارت کے بہاؤ میں ساختی غیر یقینی صورتحال

    ترسیلاتِ زر کا مسئلہ
    ترسیلاتِ زر نے ہر بحران میں خاموشی سے پاکستان کو سہارا دیا ہے، لیکن اب یہ سہارا پہلے جیسا یقینی نہیں رہا۔ اگر خلیجی معیشتیں سست ہو گئیں تو مزدوروں کی طلب بھی کم ہو جائے گی۔ بیرونِ ملک کم مزدور ہوں گے تو زرِ مبادلہ کی آمد بھی کم ہو گی اور ملک کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ ایک سست رفتار مگر طاقتور خطرہ ہے جو پاکستان کی معاشی سمت کو بدل سکتا ہے۔

    عالمی مالیاتی حالات
    جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھنے کے باعث عالمی مالیاتی حالات سخت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے یورو بانڈ اور CDS پہلے ہی تقریباً 100 بیسس پوائنٹس بڑھ چکے ہیں، جو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔
    اس سے مارکیٹ سے قرض لینے کی لاگت اور غیر یقینی دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ یورو بانڈ یا پانڈا بانڈ مارکیٹ تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری بھی محدود رہ سکتی ہے۔ اس طرح بیرونی مالی وسائل کا زیادہ انحصار حکومتی پالیسی کے اعتماد اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون پر ہو جائے گا۔

    ممکنہ اثرات
    یہ تمام عوامل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے، مالیاتی دباؤ میں اضافہ اور پالیسی لچک میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسے ہی مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں، شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔ اس سے روپے پر دباؤ اور معاشی نمو کی رفتار کمزور ہو سکتی ہے۔ مجموعی اثر خاصا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    بنیادی امکان (Base Case)
    پاکستان کے لیے یہ امکان کم ہے کہ وہ روپے کو سہارا دینے کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے خرچ کرے۔ اس کے بجائے ایڈجسٹمنٹ درآمدات کو سختی سے منظم کرنے اور بیرونی توازن کو زیادہ پائیدار بنانے کے ذریعے آئے گی۔ روپیہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتا ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی اچانک یا بڑی قدر میں کمی کا امکان کم نظر آتا ہے۔

  • آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر ٹرمپ کو دھچکا،عالمی دنیا خاموش

    آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر ٹرمپ کو دھچکا،عالمی دنیا خاموش

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سمیت دنیا بھر سے مدد کی جو اپیل کی تھی اس پر دنیا بھر سے خاموش ردعمل سامنے آیا ہے اور اب تک کسی ایک ملک نے بھی ٹرمپ کی اپیل پر خطے میں بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔

    امریکا کے معاشی اتحادی جاپان نےبھی آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے،جاپانی حکمراں جماعت کے پالیسی چیف نے کہا کہ خطے میں بہت بڑی دہلیز پار ہوئی تبھی جاپانی بحری جہاز آبنائے ہرمز بھیجے جا سکیں گے،چین بھی ٹرمپ کے مطالبے پر خاموش ہوگیا،ادھر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے کہا کہ چین متعلقہ فریقین سے رابطے موثر بنانے پر کام کر کے تعمیری کردار ادا کرے گا۔

    امریکی وزیر توانائی نے بھی چین سے امداد مانگ لی۔ کرس رائٹ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ چین آبنائے ہرمز کھلوانے میں تعمیری شراکت دار کا کردار ادا کرے گا۔برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے لیے امریکا اور دیگر اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں، ہو سکتا ہے ہم بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے ڈرون بھیج دیں۔اس کے علاوہ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ ہم نے ٹرمپ کی اپیل پڑھ لی ہے، مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا قریبی سے جائزہ لے رہے ہیں،واضح رہے کہ فرانس خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایک ہزار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں،عرب میڈیا کے مطابق ان جہازوں میں 20 تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں، آبنائے ہُرمُز دنیا بھر میں تیل کی فراہمی کرنے والے ٹینکروں کی گزرگاہ بھی ہے۔

  • خلیج فارس میں امریکی بحری طاقت کو بڑا دھچکا، یو ایس ایس ابراہم لنکن کی واپسی عالمی میڈیا میں بحث

    خلیج فارس میں امریکی بحری طاقت کو بڑا دھچکا، یو ایس ایس ابراہم لنکن کی واپسی عالمی میڈیا میں بحث

    خلیج فارس کی حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن کی خراب حالت میں واپسی کی خبروں نے عالمی میڈیا اور عسکری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے جدید جنگ میں طیارہ بردار جہازوں کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق خلیج فارس میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ طیارہ بردار جہازوں کا روایتی دور شاید اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی عسکری حکمت عملی اور جدید دفاعی صلاحیتوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ طیارہ بردار جہاز اب ناقابلِ تسخیر قلعے نہیں رہے بلکہ بڑے اور مہنگے اہداف بن سکتے ہیں۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس صورتحال کو امریکہ کے لیے ایک “قومی صدمہ” قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 ارب ڈالر مالیت کے اس بحری جہاز کے چند ہی لمحوں میں غیر مؤثر ہونے کے دعووں نے امریکی فوجی طاقت کے بارے میں سخت سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ سی این این کے مطابق اس حالت میں جہاز کی امریکہ واپسی کو بعض تجزیہ کار ویتنام جنگ کے بعد امریکی فوجی ساکھ کو لگنے والا سب سے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

    روسی خبر رساں ادارے ے اپنے تجزیے میں لکھا کہ “ایک زمانے میں سمندری طاقت کی علامت سمجھا جانے والا یہ جہاز اب اپنی پرانی حیثیت کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔” رپورٹ میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جو جہاز خطے کو دھمکانے آیا تھا وہ اب “پانی میں تیرتے ملبے” جیسی حالت میں واپس جا رہا ہے۔

    اسی طرح فرانسیسی خبر ایجنسی Agence France-Presse نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کے بعد امریکی محکمہ دفاع میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاز کی واپسی سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں جھکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی اتحادی ممالک میں بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ اگر امریکہ کا سب سے بڑا جنگی جہاز بھی اپنے دفاع میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے تو خطے میں امریکی تحفظ کی ضمانت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

    برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے اس صورتحال کو مغربی بحری بالادستی کے لیے ایک علامتی دھچکا قرار دیا۔ اخبار کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو تاریخ میں اسے وہ لمحہ سمجھا جا سکتا ہے جب مغربی بحری طاقت کی روایتی برتری کو پہلی بار سنجیدہ چیلنج ملا۔

    مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی عسکری صورتحال کے تناظر میں یہ واقعہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اسٹریٹجک مقابلے کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔