Baaghi TV

Blog

  • ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران اب اپنے بعض بیلسٹک میزائلوں میں کلسٹر میونیشنز (Cluster Munitions) نصب کر رہا ہے، جس سے اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے حملوں کو روکنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

    رات کے وقت اسرائیلی آسمان پر نارنجی روشنی کے چھوٹے چھوٹے ذرات تیزی سے زمین کی طرف گرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فضا میں خطرے کے سائرن گونج رہے ہوتے ہیں۔ دراصل یہ روشنی کے ذرات چھوٹے بم ہوتے ہیں جو ایک بیلسٹک میزائل کے سرے سے بلند فضا میں چھوڑے جاتے ہیں اور پھر وسیع علاقے میں بکھر کر زمین پر گرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایران کے بیشتر بیلسٹک میزائل تقریباً 24 چھوٹے بم (بومبلٹس) لے جا سکتے ہیں جبکہ ایران کا ایک میزائل خرمشہر (Khorramshahr) 80 تک بومبلٹس لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر بومبلٹ میں تقریباً 11 پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے جو زمین پر گرنے کے بعد شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔تحقیقی جائزوں کے مطابق ایران کے دو حملوں میں یہ بومبلٹس 7 سے 8 میل تک پھیلے علاقے میں گرے۔ ان میں گھروں، کاروباری مراکز، سڑکوں اور پارکوں سمیت مختلف شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل میں میزائل حملوں سے پہلے وارننگ سسٹم اور بنکرز کی موجودگی شہریوں کو کسی حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے تل ابیب کے مضافات میں ایک بومبلٹ گرنے سے دو تعمیراتی مزدور ہلاک اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں مزدور حملے کے وقت کسی محفوظ مقام پر موجود نہیں تھے۔

    کلسٹر ہتھیاروں کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی متنازع سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ وسیع علاقے میں بغیر امتیاز کے تباہی پھیلاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آباد علاقوں میں ان کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی گزشتہ سال ایران کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ تاہم ایران نے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

    اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے مشکل
    اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام نے اگرچہ اکثر بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن چھوٹے بومبلٹس کو روکنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا سائز چھوٹا اور رفتار تیز ہونے کی وجہ سے انہیں بروقت نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔اسرائیلی میزائل ماہر تال انبار کے مطابق ایران کا مقصد فعال میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینا ہے۔ان کے مطابق بعض اوقات اسرائیلی دفاعی نظام میزائل کو فضا میں تباہ کر دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بومبلٹس زمین پر گر جاتے ہیں، کیونکہ یا تو میزائل کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا یا وہ پہلے ہی بومبلٹس چھوڑ چکا ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کلسٹر ہتھیاروں کے استعمال کا ایک مقصد اسرائیل کو اپنے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل زیادہ تعداد میں استعمال کرنے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ ایک میزائل کو روکنے کے لیے بعض اوقات کئی انٹرسیپٹر داغنے پڑ سکتے ہیں، جس سے دفاعی ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب ممکنہ طور پر طویل المدتی تھکا دینے والی جنگ کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ ایک میزائل بھی اسرائیل کے لاکھوں شہریوں کو بنکروں میں جانے پر مجبور کر دیتا ہے جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو مہنگے دفاعی وسائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔اسلحہ ماہر این آر جینزن جونز کے مطابق ایسے ہتھیاروں کا بنیادی مقصد صرف فوجی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ شہری آبادی میں خوف اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔اسرائیلی فوج اور ہوم فرنٹ کمانڈ نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ سائرن بند ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک پناہ گاہوں میں رہیں کیونکہ بومبلٹس بعد میں بھی گر سکتے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر پھٹنے والے بومبلٹس کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا دھماکہ ہینڈ گرینیڈ جیسی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اسی حکمت عملی کو جاری رکھتا ہے تو یہ نہ صرف اسرائیل کے فضائی دفاع بلکہ پورے خطے کی سکیورٹی صورتحال کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

  • ضرورت پڑی تو آبنائے ہرمز میں جہازوں کو سکیورٹی دیں گے، ٹرمپ

    ضرورت پڑی تو آبنائے ہرمز میں جہازوں کو سکیورٹی دیں گے، ٹرمپ

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گا اور ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
    فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عالمی تجارت کے لیے اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات کا تقاضا ہوا تو امریکا تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
    ‎صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے ایران پر مزید سخت حملے کیے جا سکتے ہیں اور امریکا اپنی حکمت عملی کے مطابق فیصلے کرے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں استحکام اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

  • ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پریو اے ای میں برطانوی سیاح سمیت 21 افرادگرفتار

    ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پریو اے ای میں برطانوی سیاح سمیت 21 افرادگرفتار

    متحدہ عرب امارات میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں ایک برطانوی سیاح سمیت 21 افراد کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    یہ معلومات قانونی معاونت فراہم کرنے والی تنظیم Detained in Dubai نے جاری کی ہیں۔تنظیم کے مطابق 60 سالہ برطانوی سیاح کو پیر کے روز دبئی میں اس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا جو ایسی تصاویر یا ویڈیوز شائع کرنے یا شیئر کرنے سے روکتا ہے جو عوام میں خوف و ہراس یا افواہیں پھیلانے کا باعث بن سکتی ہوں۔
    برطانوی سیاح نے مبینہ طور پر اپنے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک میزائل کی ویڈیو بنائی تھی تاہم پولیس کی ہدایت پر اس نے ویڈیو فوراً حذف کر دی۔ اس کے باوجود حکام نے اسے گرفتار کر لیا۔تنظیم کی سربراہ کے مطابق اس شخص سمیت 20 دیگر افراد کو بھی اسی فردِ جرم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت صرف ویڈیو شیئر کرنے ہی نہیں بلکہ اسے دوبارہ پوسٹ کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے والے افراد کو بھی مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ویڈیو کے باعث درجنوں افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بن سکتے ہیں کیونکہ حکام ان سرگرمیوں کو جھوٹی خبروں، افواہوں یا اشتعال انگیز مواد کی اشاعت قرار دے سکتے ہیں جو عوامی رائے کو متاثر یا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ایک علیحدہ واقعے میں دبئی یونیورسٹی کے ایک بھارتی طالب علم کو بھی پام آئی لینڈز کے قریب میزائل حملے کی ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ طالب علم نے ویڈیو صرف اپنے اہلِ خانہ کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کی تھی، تاہم وہ اب بھی حکام کی تحویل میں ہے۔تنظیم کے مطابق اس سے قبل دو فرانسیسی شہریوں کو بھی میزائلوں کی ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں بغیر کسی مقدمے کے رہا کر دیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کی خلاف ورزی پر کم از کم دو سال قید اور دو لاکھ درہم (تقریباً 54 ہزار امریکی ڈالر) جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ ایک شخص پر متعدد الزامات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ امارات میں ایک برطانوی شہری کی گرفتاری کے معاملے پر مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات یا حملوں کے مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے سے قومی سلامتی اور استحکام متاثر ہو سکتا ہے، اسی لیے شہریوں اور غیر ملکیوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے مواد کی تشہیر سے گریز کریں۔

    سرکاری حکام کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے “شیئر کرنے سے پہلے سوچیں، افواہیں پھیلانا جرم ہے۔”

  • 
پاکستان نے دوسرے ون ڈے میں بنگلادیش کو 128 رنز سے شکست دے کر سیریز برابر کر دی

    
پاکستان نے دوسرے ون ڈے میں بنگلادیش کو 128 رنز سے شکست دے کر سیریز برابر کر دی

    
پاکستان کرکٹ ٹیم نے تین میچوں کی سیریز کے دوسرے ون ڈے میں بنگلادیش کو ڈک ورتھ لوئیس میتھڈ کے تحت 128 رنز سے شکست دے کر سیریز ایک ایک سے برابر کر دی۔
    میرپور میں کھیلے گئے میچ میں بنگلادیش نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 48ویں اوور میں 274 رنز بنا کر پوری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔
    ‎پاکستان کی جانب سے نوجوان بیٹر معاذ صداقت نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 46 گیندوں پر 75 رنز بنائے جس میں 6 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ سلمان علی آغا نے بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 64 رنز اسکور کیے جبکہ محمد رضوان 44 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ صاحبزادہ فرحان نے 31 اور فہیم اشرف نے 14 رنز بنائے۔
    ‎بنگلادیش کی جانب سے رشاد حسین نے 3 جبکہ مہدی حسن میراز نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
    ‎میچ کے دوران بارش کے باعث کھیل متاثر ہوا جس کے بعد ڈک ورتھ لوئیس میتھڈ کے تحت بنگلادیش کو 32 اوورز میں 243 رنز کا ہدف دیا گیا۔
    ‎ہدف کے تعاقب میں بنگلادیشی ٹیم 24ویں اوور میں 114 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ بنگلادیش کی جانب سے لٹن داس 41 رنز کے ساتھ نمایاں رہے جبکہ توحید نے 28 اور سیف حسن نے 12 رنز اسکور کیے۔
    ‎پاکستان کی جانب سے معاذ صداقت اور حارث رؤف نے تین تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
    ‎اس کامیابی کے بعد تین میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی ہے۔ پہلے میچ میں بنگلادیش نے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔

  • عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    آج کی دنیا سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے باوجود بے چینی اور عدمِ استحکام کا شکار نظر آتی ہے۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں اور سیاسی کشیدگیاں انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال بن چکی ہیں۔ طاقتور ممالک کی سیاسی اور فوجی رقابتوں کا سب سے زیادہ اثر عام انسان پر پڑ رہا ہے۔ عام آدمی مہنگائی، عدمِ تحفظ، ہجرت اور خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    بیسویں صدی میں دنیا نے دو بڑی تباہ کن جنگیں دیکھیں: World War I اور World War II۔ ان جنگوں نے کروڑوں انسانوں کی جانیں لے لیں اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ان سانحات کے بعد عالمی امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ جیسے ادارے قائم کیے گئے تاکہ ممالک کے درمیان تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں جنگیں جاری ہیں۔

    موجودہ دور میں عالمی سیاست کے مرکز میں بڑی طاقتیں اور ان کے مفادات ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ عالمی سیاست اور فوجی طاقت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی عالمی سطح پر اثر ڈالتی ہے۔ اسی طرح یورپ میں جاری روس یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل حماس جنگ جیسے تنازعات نے دنیا کے امن کو شدید متاثر کیا ہے۔

    ان جنگوں کی بنیادی وجوہات میں سیاسی مفادات، قدرتی وسائل پر قبضہ، علاقائی بالادستی، نظریاتی اختلافات اور عالمی طاقتوں کی رقابت شامل ہیں۔ جب ممالک اپنے مفادات کو انسانیت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو تنازعات شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں، معیشتیں کمزور ہو جاتی ہیں اور معاشروں میں خوف اور عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔

    عام آدمی آج واقعی تھک چکا ہے۔ وہ مسلسل مہنگائی، بے یقینی اور جنگوں کے خطرات میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک مزدور، کسان یا متوسط طبقے کا فرد چاہتا ہے کہ دنیا میں سکون اور استحکام ہو تاکہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہو سکے۔ عام انسان کو جنگ نہیں بلکہ امن، روزگار اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق چاہیے۔

    بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور انصاف پر مبنی فیصلوں کو ترجیح دی جائے۔ عالمی اداروں کو بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کو بڑھنے سے پہلے ہی حل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف، تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔

    آخرکار دنیا میں پائیدار امن صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، برداشت اور انسانیت کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی رہنما اپنے سیاسی اور معاشی مفادات سے بڑھ کر انسانیت کے درد کو سمجھیں تو دنیا میں جنگوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ آج پوری دنیا کا عام انسان یہی دعا اور امید رکھتا ہے کہ جنگوں کے بجائے امن، سکون اور بھائی چارے کا دور آئے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور بہتر دنیا میں زندگی گزار سکیں۔

  • 
عمان کے صوبے صحار میں دو ڈرون گرنے سے دو غیر ملکی ہلاک

    
عمان کے صوبے صحار میں دو ڈرون گرنے سے دو غیر ملکی ہلاک

    
خبر رساں ایجنسی کے مطابق سلطنت عمان کے صوبے صحار میں دو ڈرون گرنے کے واقعات میں دو غیر ملکی افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایک ڈرون عوہی کے صنعتی علاقے میں گرا جس کے نتیجے میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎خبر رساں ادارے کے مطابق دوسرا ڈرون صحار کے ایک میدانی علاقے میں گرا تاہم اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور سیکیورٹی ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  • 
ایران جنگ کے عالمی اثرات، کس کو نقصان اور کس کو فائدہ؟

    
ایران جنگ کے عالمی اثرات، کس کو نقصان اور کس کو فائدہ؟

    
جنگوں میں عموماً کوئی واضح فاتح نہیں ہوتا اور سب سے بڑی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سپلائی چین پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خلیجی خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے جبکہ لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ دنیا بھر میں کاروبار اور صارفین کو بھی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
    ‎تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خلیج میں سمندری راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اردگرد مشکلات کے باعث عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال نے توانائی کی سپلائی اور شپنگ کے نظام پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس جنگ سے بعض ممالک کو معاشی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ کچھ ممالک کے لیے نئے معاشی اور سٹریٹیجک مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ توانائی کی بڑھتی قیمتیں تیل برآمد کرنے والے بعض ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو زیادہ مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎موجودہ صورتحال میں عالمی معیشت اور خطے کی سیاست پر اس جنگ کے اثرات آئندہ مہینوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

  • 
ایران سے یورینیم قبضے میں لینے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    
ایران سے یورینیم قبضے میں لینے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا فی الحال ایران سے یورینیم قبضے میں لینے کے لیے کسی آپریشن کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
    ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کر سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت امریکا کے لیے اہم ہے اور اگر حالات کا تقاضا ہوا تو اس حوالے سے اقدامات کیے جائیں گے۔
    ‎ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں روسی صدر ایران کی کسی حد تک مدد کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
    ‎صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا خطے میں صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے اور مستقبل کے فیصلے حالات کے مطابق کیے جائیں گے۔

  • 
رحیم یار خان میں مبینہ پولیس مقابلہ، معاذ قتل کیس کا ملزم نعمان قیصر ہلاک

    
رحیم یار خان میں مبینہ پولیس مقابلہ، معاذ قتل کیس کا ملزم نعمان قیصر ہلاک

    
پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں مبینہ پولیس مقابلے میں ایک ملزم کی ہلاکت کے بعد ایک بار پھر پولیس مقابلوں کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
    پولیس کے مطابق مقابلے میں ہلاک ہونے والا نعمان قیصر تھا جس پر سائیکلیں بنانے والی کمپنی سہراب سائیکل کے مالک کے بیٹے معاذ کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم حال ہی میں سپین سے واپس پاکستان آیا تھا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں وہ زخمی ہوا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔
    ‎یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی ملزم کی ہلاکت مبینہ پولیس مقابلے میں ہوئی ہو۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں جن پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اور تحقیقات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

  • 
اٹلی کا ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    
اٹلی کا ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے واضح کیا ہے کہ اٹلی مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا حصہ نہیں ہے اور ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔
    اٹلی کی سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے کہا کہ اٹلی اس تنازع میں شامل نہیں اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی جنگ میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال نہایت پیچیدہ ہے اور اس کا حل جنگ کے بجائے سفارتی کوششوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
    ‎وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اٹلی خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں چاہتا اور اس کی ترجیح امن اور استحکام ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے قومی مفادات اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دے گی۔