Baaghi TV

ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پریو اے ای میں برطانوی سیاح سمیت 21 افرادگرفتار

متحدہ عرب امارات میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں ایک برطانوی سیاح سمیت 21 افراد کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

یہ معلومات قانونی معاونت فراہم کرنے والی تنظیم Detained in Dubai نے جاری کی ہیں۔تنظیم کے مطابق 60 سالہ برطانوی سیاح کو پیر کے روز دبئی میں اس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا جو ایسی تصاویر یا ویڈیوز شائع کرنے یا شیئر کرنے سے روکتا ہے جو عوام میں خوف و ہراس یا افواہیں پھیلانے کا باعث بن سکتی ہوں۔
برطانوی سیاح نے مبینہ طور پر اپنے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک میزائل کی ویڈیو بنائی تھی تاہم پولیس کی ہدایت پر اس نے ویڈیو فوراً حذف کر دی۔ اس کے باوجود حکام نے اسے گرفتار کر لیا۔تنظیم کی سربراہ کے مطابق اس شخص سمیت 20 دیگر افراد کو بھی اسی فردِ جرم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت صرف ویڈیو شیئر کرنے ہی نہیں بلکہ اسے دوبارہ پوسٹ کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے والے افراد کو بھی مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ویڈیو کے باعث درجنوں افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بن سکتے ہیں کیونکہ حکام ان سرگرمیوں کو جھوٹی خبروں، افواہوں یا اشتعال انگیز مواد کی اشاعت قرار دے سکتے ہیں جو عوامی رائے کو متاثر یا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ایک علیحدہ واقعے میں دبئی یونیورسٹی کے ایک بھارتی طالب علم کو بھی پام آئی لینڈز کے قریب میزائل حملے کی ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ طالب علم نے ویڈیو صرف اپنے اہلِ خانہ کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کی تھی، تاہم وہ اب بھی حکام کی تحویل میں ہے۔تنظیم کے مطابق اس سے قبل دو فرانسیسی شہریوں کو بھی میزائلوں کی ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں بغیر کسی مقدمے کے رہا کر دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کی خلاف ورزی پر کم از کم دو سال قید اور دو لاکھ درہم (تقریباً 54 ہزار امریکی ڈالر) جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ ایک شخص پر متعدد الزامات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ امارات میں ایک برطانوی شہری کی گرفتاری کے معاملے پر مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات یا حملوں کے مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے سے قومی سلامتی اور استحکام متاثر ہو سکتا ہے، اسی لیے شہریوں اور غیر ملکیوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے مواد کی تشہیر سے گریز کریں۔

سرکاری حکام کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے “شیئر کرنے سے پہلے سوچیں، افواہیں پھیلانا جرم ہے۔”

More posts