Baaghi TV

Blog

  • برطانوی عدالت نے عادل راجہ کی اپیل مسترد کردی، بھاری جرمانہ عائد

    برطانوی عدالت نے عادل راجہ کی اپیل مسترد کردی، بھاری جرمانہ عائد

    ‎برطانیہ کی عدالت نے یوٹیوبر عادل راجہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کے الزامات کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق عدالتی سماعت کے دوران جب جج نے عادل راجہ سے اپنے دعوؤں کے ثبوت طلب کیے تو وہ کوئی ٹھوس شواہد پیش نہ کر سکے۔ عدالت نے ان کے الزامات کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے اپیل کو مسترد کر دیا۔
    ‎عدالتی فیصلے کے تحت عادل راجہ پر تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 12 کروڑ روپے بنتا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے بعد ان کے لیے مزید قانونی اپیل کے امکانات بھی محدود ہو گئے ہیں۔

  • افغانستان میں شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ گمراہ کن قرار، پاک فوج کی وضاحت

    افغانستان میں شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ گمراہ کن قرار، پاک فوج کی وضاحت

    ‎افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے سے متعلق گردش کرنے والے دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے پاک فوج نے کہا ہے کہ کارروائیوں میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎پاک فوج کے مطابق اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کی ایک رپورٹ کو بنیاد بنا کر بعض افغان اور بھارتی میڈیا اداروں نے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی کہ کارروائیوں میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم یہ دعویٰ درست نہیں۔
    ‎فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کے دوران افغان طالبان رجیم کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور کسی بھی قسم کی کارروائی شہری آبادی کے خلاف نہیں کی گئی۔
    ‎ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فورسز نے مخصوص فوجی اور دہشتگرد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز بھی شامل تھے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور ہر آپریشن بین الاقوامی اصولوں اور احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

  • پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہمارا فرض ہے، ہر چیلنج کا مقابلہ کریں گے: سہیل آفریدی

    پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہمارا فرض ہے، ہر چیلنج کا مقابلہ کریں گے: سہیل آفریدی

    ‎پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عالمی اور ملکی حالات کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور اسلام آباد میں پیش آنے والے حالیہ واقعات افسوسناک ہیں، تاہم پاکستان کسی بھی خطرے یا چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے تمام ادارے متحرک ہیں۔
    ‎سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی نمائندوں کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ اگر مفادات تبدیل نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معاملات کے حل کے لیے جرگہ بنانے کی تجویز بھی دی گئی تھی لیکن اس سے پہلے ہی کارروائی شروع کر دی گئی۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور بورڈ آف پیس جیسے اہم معاملات پر عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

  • خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانے کی دھمکی، اسرائیلی وزیر دفاع

    خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانے کی دھمکی، اسرائیلی وزیر دفاع

    ‎اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے کسی بھی ممکنہ جانشین کو نشانہ بنانے کے لیے فوج کو تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مل کر فوج کو ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہا جا سکے۔
    ‎اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ شراکت داری میں ایرانی حکومت کے خلاف جاری آپریشن کو بھی جاری رکھا جائے گا۔
    ‎ان کے بیان کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • ‎پنجاب ایپکس کمیٹی اجلاس، سیکیورٹی صورتحال اور کچے کے علاقوں میں اقدامات کا جائزہ

    ‎پنجاب ایپکس کمیٹی اجلاس، سیکیورٹی صورتحال اور کچے کے علاقوں میں اقدامات کا جائزہ

    ‎وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، امن و امان اور ترقیاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
    ‎اجلاس میں آپریشن ضرب للحق میں کامیابی پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا گیا جبکہ وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے کرنل گل فراز اور دیگر شہدا کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
    ‎اجلاس میں اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اور اشتراک کار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر زور دیا گیا۔
    ‎مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے مگر ملک کی قیادت اور اداروں پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد پنجاب میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے اور پولیس کو ہدایت دی گئی کہ پرامن مظاہرین کے ساتھ احترام اور تحمل سے پیش آئے۔
    ‎وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کچے کے علاقوں میں سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے سیف سٹی، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں تقریباً 10 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جبکہ 1500 اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور بلٹ پروف گاڑیاں بھی فراہم کی جائیں گی۔
    انہوں نے کہا کہ سماج دشمن عناصر کی ڈیجیٹل نگرانی ضروری ہے جبکہ چینی باشندوں کی سیکیورٹی کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس میں کمانڈر لاہور کور سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک تھے۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اجلاس ہوا

    اجلاس کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان-کیمرہ بریفنگ دی گئی.اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا. شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا، انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں. ملک سے دھشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام شرکاء نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا. شرکاء نے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا اور انکا شکریہ ادا کیا.

    اجلاس میں چئیرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل، وفاقی وزراء، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عبدالعلیم خان (استحکام پاکستان پارٹی)، خالد حسین مگسی (بلوچستان عوامی پارٹی)، خالد مقبول صدیقی (متحدہ قومی موومنٹ)، چوہدری سالک حسین (پی ایم ایل ق)، سید مصطفی کمال (متحدہ قومی موومنٹ)، رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ (بلوچستان عوامی پارٹی)، پرویز رشید (پاکستان مسلم لیگ ن)، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری (متحدہ قومی موومنٹ)، جان محمد (نیشنل پارٹی)، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، امین الحق (متحدہ قومی موومنٹ)، پولین بلوچ (نیشنل پارٹی) شریک ہیں.

  • ایران کی پیٹھ میں بھارت کا ایک اور وار،بھارتی پانیوں میں ایرانی جہازنشانہ بن گیا

    ایران کی پیٹھ میں بھارت کا ایک اور وار،بھارتی پانیوں میں ایرانی جہازنشانہ بن گیا

    ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز IRIS Dena بھارت میں منعقدہ فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد جب بھارتی سمندری حدود میں سفر کر رہا تھا تو اسے ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد اہلکار لاپتہ ہو گئے۔

    ایرانی بحری جہاز IRIS Dena نے حالیہ دنوں میں بھارتی ساحل پر منعقدہ بین الاقوامی فلیٹ ریویو میں شرکت کی تھی، جس کی میزبانی بھارتی بحریہ نے کی۔ اس تقریب میں مختلف ممالک کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا تھا اور اسے خطے میں بحری تعاون کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ جہاز کو بھارتی پانیوں میں ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا۔ بھارتی بحریہ نے تلاش و بچاؤ (Search & Rescue) آپریشن نہیں کیا بلکہ سری لنکن نے 78 ایرانی ملاحوں کو بچایا۔

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مرمت و دیکھ بھال معاہدہ موجود ہے جس کے تحت امریکی بحری جہاز بھارتی شپ یارڈز میں لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی امریکی جہاز نے بھارتی بندرگاہ یا پانیوں کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا؟امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ چند برسوں میں مضبوط ہوا ہے، تاہم کسی بھی ملک کے خلاف براہ راست عسکری کارروائی کے لیے دوسرے ملک کی سرزمین یا پانیوں کے استعمال کا معاملہ انتہائی حساس اور بین الاقوامی قوانین کے تابع ہوتا ہے۔

    سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب امریکی حملے سے ایرانی جہاز ڈوبنے سے متعلق سری لنکن بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سمندر سے متعدد افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں،ترجمان سری لنکا بحریہ کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے ملنے والی لاشیں جہاز کے عملے کی ہیں، تصدیق کا عمل جاری ہے، واقعہ سری لنکا کی سمندری حدود سے باہر پیش آیا، سری لنکا مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، متاثرہ جہاز ایرانی بحریہ کا ہے،سری لنکن بحریہ کا کہنا ہے کہ دیگر تفصیلات اور وجوہات سے متعلق تحقیقات بعد میں جاری کی جائیں گی، اس مرحلے پر ہلاک افراد کی درست تعداد نہیں بتائی جا سکتی، جہاز ڈوبنے کی وجوہات سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہیں، امدادی کارروائی کے دوران متاثرہ علاقے میں کسی اور جہاز کی موجودگی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا،خبر ایجنسی نے بتایا کہ سری لنکن وزارت دفاع اور بحریہ کے ذرائع کے مطابق ایرانی جہاز آئرس ڈینا آبدوز کے حملے کا نشانہ بنا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک سری لنکن اپوزیشن رہنما نے سوال پوچھا کہ آیا جہاز کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے حصے کے طور پر نشانہ بنایا گیا تھا؟ تاہم حکومت نے اس سلسلے میں اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔

  • ایران کی زیرِ زمین "میزائل سٹی” کی نمائش

    ایران کی زیرِ زمین "میزائل سٹی” کی نمائش

    ایران نے ایک وسیع و عریض زیرِ زمین سرنگی نیٹ ورک کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں قطار در قطار میزائل اور ڈرونز دکھائے گئے ہیں۔ یہ مناظر سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے نشر کیے، جسے ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    ویڈیو میں طویل سرنگوں کے اندر شاہد سیریز کے ڈرونز اور مختلف بیلسٹک میزائل نمایاں ہیں، جبکہ پس منظر میں ڈرامائی انداز اپنایا گیا ہے۔ ایک منظر میں مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی دیوارگیر تصویر بھی دکھائی گئی ہے۔ سرنگوں کی چھتوں سے ایرانی پرچم آویزاں ہیں اور کچھ مناظر میں ٹرکوں پر نصب شاہد ڈرون لانچرز بھی دکھائے گئے، جن میں ہر ایک پر چار ڈرون نصب تھے۔رپورٹس کے مطابق شاہد ڈرونز کی تیاری پر دسیوں ہزار ڈالر لاگت آتی ہے اور انہیں نسبتاً کم وقت میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل کی قیمت 40 سے 50 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے، جبکہ تھاڈ (THAAD) بیٹری کی لاگت تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر فی یونٹ ہو سکتی ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی کے Stimson Center سے وابستہ سکیورٹی ماہر کرسٹی گریئکو کے تجزیے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کے داغے گئے 541 ڈرونز میں سے 92 فیصد مار گرائے۔ اندازوں کے مطابق ایران نے ان ڈرونز پر 1 کروڑ 10 لاکھ سے 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جبکہ دفاعی اخراجات 25 کروڑ 30 لاکھ سے 75 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں ، یعنی دفاع پر حملے سے کئی گنا زیادہ لاگت آئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار سے فضائی دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ چند دنوں میں ختم ہو سکتا ہے، کیونکہ انٹرسیپٹرز غیر معمولی تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں۔

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز پر “مکمل کنٹرول” حاصل کر لیا ہے۔ یہ وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ کشیدگی کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جولائی 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ پانچویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ ایران اب بھی میزائل داغنے کی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیل نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ یروشلم کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2 ہزار ڈرون داغ چکا ہے۔ امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج تقریباً 2 ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں اور ایران کے سینکڑوں میزائل، لانچرز اور ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک 11 سالہ بچی شیل کے ٹکڑے لگنے سے ہلاک ہوئی۔ امریکی سفارت خانوں اور فوجی اڈوں کے قریب بھی حملوں کی خبریں ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے مہنگے اور پیچیدہ دفاعی نظام برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ ایران نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے طویل المدتی دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور سکیورٹی منظرنامے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

  • ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی  قلت کا خدشہ نہیں،محمد اورنگزیب

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ نہیں،محمد اورنگزیب

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جہاں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے،مارچ کے اختتام تک پیٹرولیم ذخائر دستیاب ہیں، سپلائی کو منظم رکھا جائے گا اور توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کا 28 دن کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ خام تیل آئندہ 10 روز اور ایل پی جی 15 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دستیاب ہے،قطر سے ایل این جی کی درآمد تعطل کا شکار ہے تاہم مقامی گیس کے ذریعے طلب پوری کر لی جائے گی اور متبادل توانائی ذرائع پر بھی غور جاری ہے۔

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    انہوں نے مزید کہاکہ اگر علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی اختیار کی جائے گی آئی ایم ایف مشن کی روانگی کو انہوں نے ادارہ جاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ فنڈ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں،پیٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کی ضرورت نہیں، بہتر نظم و نسق کے ذریعے صورتحال کو سنبھالا جائے گا۔

  • آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    پاکستان کا افغان طالبان رجیم کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن غضب للحق جاری ہے، اور اب تک مختلف کارروائیوں میں 481 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 696 سے زیادہ زخمی ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کیے ہیں،عطااللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں اب تک مختلف کارروائیوں میں 481 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 696 سے زیادہ زخمی ہیں اس کے علاوہ 226 چیک پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں، جبکہ 35 پر پاکستان نے قبضہ کرلیا ہے، 198 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ افغانستان بھر میں 56 مقامات کو مؤثر انداز میں فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کیخلاف فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکیاں

    واضح رہے کہ افغان طالبان نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں عسکری کارروائیاں کی تھیں، جس کے جواب میں پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کا اعلان کیا،پاکستان نے افغانستان پر واضح کیا ہے کہ اسے کالعدم ٹی ٹی پی یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات