Baaghi TV

Category: پنجاب

  • موٹروے پولیس نے کمسن بچے کے اغواء کی کوشش ناکام بنا دی

    موٹروے پولیس نے کمسن بچے کے اغواء کی کوشش ناکام بنا دی

    موٹروے پولیس نے کمسن بچے کے اغوا کی کوشش ناکام بنا دی، بیمار بچے ابراہیم کو اسکی والدہ DHQ ھسپتال ساہیوال چیک کروانے گئی تھی، نامعلوم خاتون بچے کو اسکی ماں سے ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کے بہانے اندر لے گئ۔کافی دیر تک خاتون کے واپس نہ آنے پر بچے کے لواحقین نے تھانہ فرید ٹاؤن میں رپورٹ درج کرا دی

    ضلعی کنٹرول سے اطلاع ملنے پر موٹر وے پولیس نے بسوں کی چیکنگ شروع کر دی۔موٹروے پولیس نے دوران چیکنگ پتوکی کے قریب لاہور جانے والی بس سے بچے کو برآمد کروا لیا اغواکار خاتون مریم بی بی جلو موڑ لاھور کی رہائشی تھی ۔

    ملزمہ مریم بی بی کو گرفتار کر کے بچے سمیت مزید کاروائی کے لیے مقامی ضلعی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ موٹروے پولیس کی بروقت کاروائی کرنے پر بچے کے والدین اور عوام نے موٹر وے پولیس کی کارکردگی کو سراہا ۔ڈاکٹر سید کلیم امام کی جانب سے موٹروے افسران کیلئے انعام کا اعلان بھی کیا گیا

  • وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا ماؤں کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

    وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا ماؤں کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکاماں سے محبت کے اظہار کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

    عثمان بزدار نے کہا کہ ماں سے محبت عالمگیر جذبہ ہے جو کسی دن کا محتاج نہیں۔ہمارا ہر دن ماں کی محبت سے معمور ہوتاہے-ماں سے محبت اور خدمت ہر فرد کی جبلت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے-ماں محبت،پیار،خلوص اور سچے جذبے کی انمول حقیقت ہے-

    وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے مزید کہا کہ وطن عزیز کیلئے قربانیاں پیش کرنے والے شہداء کی ماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں۔کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہونے والی ماؤں کے بچوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

    آج کے دن ہمیں ماؤں کی صحت اور تندرستی کی خصوصیت سے دعا کرنی چاہیئے۔آج میں جس مقام پر ہوں اس میں میری ماں کی دعائیں شامل ہیں –
    اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بعد ماں کی دعاؤں سے وزارت اعلیٰ کا منصب ملا۔زندگی میں کامیابیوں کیلئے خود کو آج بھی والدہ کی دعاؤں کا محتاج سمجھتا ہوں۔

  • فیصل آباد: ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے انتظامیہ کی تابڑ توڑ کاروائیاں

    فیصل آباد: ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے انتظامیہ کی تابڑ توڑ کاروائیاں

    فیصل آباد:ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے انتظامیہ کی تابڑ توڑ کاروائیاں

    باغی ٹی وی : ڈپٹی کمشنر محمد علی کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر ایوب بخاری کی کاروائی اسسٹنٹ کمشنر ایوب بخاری نے سمن آباد کے علاقہ میں مختلف فوڈ پوائنٹس کا دورہ کیا-

    لاک ڈاون کی خلاف ورزی اور بغیر ماسک کے درجنوں دوکانداروں اور شہریوں کو حراست میں لے لیا تمام افراد کے خلاف مقدمات درج کروا دئیے گئے-

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ شہری خود کو محفوظ رکھنے کیلئے ایس او پیز پر عملدرآمد کریں کررونا وباء نے شدت اختیار کرلی ہے ایسے میں احتیاط لازمی جزو ہے۔

  • ضمنی الیکشن پی پی 84 کے انتظامات مکمل،  جبکہ 5 مئی کو عام تعطیل ہو گی

    ضمنی الیکشن پی پی 84 کے انتظامات مکمل، جبکہ 5 مئی کو عام تعطیل ہو گی

    خوشاب ،صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے حلقہ پی پی 84 خوشاب کے ضمنی انتخاب کی تیاریاں مکمل کر لیں۔ اس حوالے سے 5 مئی کو خوشاب میں عام تعطیل ہو گی حلقہ خوشاب میں ضمنی انتخاب 5 مئی کو منعقد کیا جائیگا۔ حلقہ پی پی 84 خوشاب تھری کی نشست ن لیگ کے امیدوار محمد وارث شاد کی وفات کی وجہ سے خالی ہوئی. ن لیگ کے محمد وارث شاد نے 2018 میں 66775 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔ 5 مئی کو منعقد ہونے والے ضمنی انتخاب کیلئے 16کاغذات نامزدگی وصول کئے گئے تھے .. ایک نامنظور کیا گیا جبکہ 6 امیدواران نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے .

    انتخابی میدان میں 8امیدوار الیکشن لڑیں گے۔ علی حسین خان، پاکستان تحریک انصاف سے، محمد معظم شیر پاکستان مسلم لیگ (ن) سے، غلام حبیب احمد پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیر ینز سے، امجد رضا بطور آزاد امیدوار، اورنگزیب بطور آزاد امیدوار، عمران حیدر خان بطور آزاد امیدوار، محمد الیاس خان بطور آزاد امیدواراور حافظ محمد اصغر علی ٹی ایل پی سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ خورشید عالم، بطور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور شکیل احمد بطور ریٹرننگ آفیسر تعینات کئے گئے ہیں۔حلقے کی حدود میں ضلع خوشاب کی 3 تحصیلیں نور پور تھل، قائدآباد اور تحصیل خوشاب کا علاقہ شامل ہے۔ حلقہ میں رجسٹرووٹر ز کی کل تعداد 2لاکھ 92ہزار چھ سو ستاسی ہے۔

    ایک لاکھ 55ہزار ایک سو چار مرد ووٹر ہیں جبکہ ایک لاکھ 37ہزار پانچ سو تراسی خواتین ووٹرز ہیں۔ حلقہ میں کل 229پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے. 27 مردانہ پولنگ اسٹیشنز 26خواتین پولنگ اسٹیشنزاور176 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز قائم کئے جائیں گے۔ تمام پولنگ اسٹیشنز کو GIS کے ذریعے جیو ٹیگ کیا گیا ہے۔ حلقہ میں ضمنی انتخاب کیلئے انتخابی عملہ کی تربیت بھی مکمل ہو چکی ہے۔ انتخابی عملہ میں 229پریزائیڈنگ آفیسرز، 666اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسراور 666پولنگ آفیسرز تعینات کئے گئے ہیں۔ حلقے میں 14پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار، جبکہ 43 حساس اور 172نارمل پولنگ اسٹیشنز ہیں۔ حلقے میں 2800سے زائد پولیس اہلکاران جبکہ500 سے زائد رینجرز کے جوان تعینات کئے گئے ہیں۔تمام حساس پولنگ اسٹیشنز پر CCTVکیمرے نصب کئے جائیں گے۔ پولنگ اسٹیشن سے نتائج اور پولنگ ریکارڈریٹرننگ افسر تک پہنچانے کیلئے ہر پریزائیڈنگ افسر کیساتھ پولیس اور رینجرز کی مناسب نفری تعینات کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، ہر پولنگ اسٹیشن کا پولنگ ریکارڈ بحفاظت ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچانے کیلئے انتظامیہ کا ایک فوکل پرسن بھی ہمراہ ہوگا۔ انتخابی عوامل کو مانیٹر کرنے کیلئے کنٹرول روم قائم کر دئے گئے ہیں۔ کنٹرول روم میں ان نمبرز پر عوام الناس شکایات درج کرا سکیں گے۔
    ٭ کنٹرول روم دفتر صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب فون: 042-99212607, 042-99212717
    فیکس نمبر: 042-99211021
    ای میل: comptcellna75@gmail.com

  • فیصل آباد: ٹریفک حادثے میں دو افراد جاں بحق

    فیصل آباد: ٹریفک حادثے میں دو افراد جاں بحق

    فیصل آباد : تحصیل سمندری میں ٹریفک حادثےمیں‌ 2افراد جاں بحق –

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق فیصل آباد کی تحصیل سمندری قومی شاہراہ 45 اڈہ جگدے روڈ سمندری پر ٹریکٹر ٹرالی اور موٹر سائیکل تصادم کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے –

    جاں بحق ہونے والوں میں 53 سالہ محمد مشتاق ولد منگتا اور اس کی 50 سالہ بیوی کنیز بی بی شامل ہیں-

    کیس کو تھانہ تارخانی کی پولیس کے ہینڈ اوور کر دیا گیا پولیس نے لاشیں اپنی تحویل میں لے کر قریبی اسپتال میں منتقل کر دی ہیں–

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 70 اموات مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کورونا سے مزید 70 اموات مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید 70 اموات ہوئی ہیں جبکہ 4 ہزار825 نئے مریض سامنے آئے ہیں، پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 17 ہزار69 ہو گئی ہے جبکہ کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 94 ہزار841 ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 9.61 فی صد رہی۔


    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں ایکٹو کیسز کی تعداد89 ہزار219 ہے اور6لاکھ 94 ہزار46 افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    سندھ میں 16 ہزار 983 ،پنجاب میں 19 ہزار 445 ، خبیر پختونخوا میں 7 ہزار 709، اسلام آباد میں 3725، بلوچستان 1 ہزار 36، گلگت بلتستان 333، آزاد جموں کمشیر 975 نئے کیسز سامنے آئے-

    کورونا کے سبب پنجاب میں 7 ہزار990 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار599، خیبر پختونخوا 3 ہزار134، اسلام آباد 665، گلگت بلتستان 105، بلوچستان میں 232 اور آزاد کشمیر میں 462 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 73ہزار750، خیبر پختونخوا ایک لاکھ 140ہزار77، پنجاب2لاکھ 90 ہزار 788، سندھ 2 لاکھ 78 ہزار545، بلوچستان21 ہزار743، آزاد کشمیر16ہزار591 اور گلگت بلتستان میں5 ہزار258 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور تیسرے مرحلے میں50تا60 سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

  • پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سن 1843 سے سن 1849 تک سلطنتِ پنجاب کے حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کے گھر 29 ستمبر سن 1869 کو لندن میں بیٹی پیدا ہوئی۔

    نومولود بیٹی کا نام بامبا صوفیہ جنداں دلیپ سنگھ رکھا گیا بامبا ان کی والدہ، صوفیہ نانی اور جند دادی کا نام تھا پنجاب کے سب سے معروف مہاراجہ رنجیت سنگھ شہزادی بمبا کے دادا تھے شہزادی بمبا نے لندن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بامبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کر دئیے وہ ہمیشہ لاہور یا شملہ میں رہتی تھیں شہزادی بمبا کو لاہور اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے انگلستان کو چھوڑ کر تنہا ہی لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔

    انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں مکان نمبر 104 خرید کر اس میں رہائش اختیار کر لی شہزادی بامبا نے اس گھر کا نام ’گلزار‘ رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ سے کئی اقسام کے گلاب کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

    سن 1915 میں شہزادی بامبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیوڈ سدھر لینڈ کے ساتھ شادی کر لی اور ان کا نام شہزادی بامبا سدھرلینڈ ہو گیا۔

    شہزادی بامبا کی دادی کا انتقال سن 1863 میں ہو گیا تھا لیکن شہزادی بمبا نے سن 1924 میں ان کی باقیات لاہور منگوا کر اپنے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں دفن کروائیں۔

    سن 1939 میں ڈاکٹر ڈیوڈ سدرلینڈ کے انتقال کے بعد شہزادی بامبا لاہور میں اکیلی رہ گئیں لیکن انہوں نے لاہور سے بے پناہ محبت کے باعث ماڈل ٹاؤن میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح اپنے مرحوم باپ دلیپ سنگھ کی روح کو کسی طور پر سکون پہنچا سکے گی۔

    اس دوران شہزادی بامبا کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا علامہ اقبال، شہزادی بامبا کی انتہائی عزت کرتے تھے۔ شہزادی بامبا کا 88 سال کی عمر میں اسی گھر میں انتقال ہوا وہ عمارت سن 1944 میں سات ہزار روپے میں خریدی گئی تھی آج بھی یہ عمارت ان کے خاص ملازم پیر بخش کی اولاد کے زیراستعمال ہے۔

    تقسیم کے ایک برس قبل 13جولائی 1946ء کو بامبا نے رنجیت سنگھ کی اولاد کا ایک حقیقی وارث ہونے کے ناطے اپنے ایک وکیل رگھبیر سنگھ ایڈووکیٹ فیڈرل کورٹ آف انڈیا کی وساطت سے اپنی پنجاب کی سلطنت کا مطالبہ کر تے ہوئے ایک خط یو این او کو بھجوایا لیکن اس خط کا کوئی بھی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔

    تقسیم کے وقت شہزادی بامبا انگلینڈ، ہندوستان اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں رہنے کا حق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے دادا کی سلطنت پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو ہر چیز پر ترجیح دی وہ لاہور میں رہ کر دلیپ سنگھ کی جائیداد اور دیگر معاملات کو دیکھتی رہیں وہ لاہور میں اکثر اپنی گاڑی پر مال روڈ اور دوسرے علاقوں میں چلی جاتیں اور عہد رفتہ کی عمارات کو دیکھتی رہتی تھیں۔

    شہزادی بامبا نے ایک مرتبہ ایک سرکاری افسر سے گلہ کیا کہ میں اس بادشاہ کی پوتی ہوں جس کی ملکیت میں تمام پنجاب تھا اور مجھے بس میں الگ سے کوئی نشست بھی نہیں دی جاتی بامبا کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ تھے وہ اپنی وفات سے دو برس قبل ہی کانوں سے بہری ہو چکی تھیں، آنکھوں سے خاص دکھائی بھی نہیں دیتا تھا اور فالج کے حملے کے باعث وہ اپنے دستخط بھی نہ کر سکتی تھیں۔

    ان تمام حالات کی خبر شہزادی کے قریبی رشتہ داروں میں سے پریتم سنگھ کو مکمل طور پر تھی 10 مارچ سن 1957 کو بامبا انتقال کر گئیں اور پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ان کی عیسائی رسومات کی ادائیگی کرنے کے بعد شیر پاؤ پُل کے قریب جیل روڈ کےگورا قبرستان میں دفنایا گیا۔

    ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر فارسی کے دو اشعار لکھے گئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

    حاکم اور محکوم میں تفریق باقی نہیں رہتی
    جس لمحے تقدیر کا لکھا آن ملتا ہے
    اگر کوئی قبر کو کھود کر دیکھے
    تو امیر اور غریب کو الگ الگ نہیں کر سکتا

    علاوہ ازیں شہزادی بامبا کی قبر کے کتبے پر درج ذیل تحریر رقم ہے۔

    Here lies in eternal peace The Princess Bamba Sutherland Eldest Daughter of Maharajah Daleep Singh and Grand Daughter of Maharajah ranjit Singh of Lahore.Born on 29th September 1869 in London-Died on 10th March 1957 at Lahore.

    شہزادی بامبا کو آرٹ سے گہرا لگاؤ تھا اور جب ان کا انتقال ہوا ان کے پاس بیش قیمت پینٹگز کا پورا خزانہ موجود تھا جوان کی وصیت کے مطابق ان کے خاص ملازم پیر کریم بخش سپرا کے سپرد کیا گیا اس خزانے میں واٹر کلر، ہاتھی کے دانتوں پر پینٹنگز، مجسمے اورآرٹ کے دیگر شاہکار نمونے شامل تھے۔

    جبکہ لندن میں بچی ہوئی دلیپ سنگھ کی وسیع و عریض جائیداد کا کوئی بھی وارث نہ بچا اور نہ ہی کسی نے اس کا مطالبہ کیا اور یوں وہ تمام جائیداد تاج برطانیہ کو منتقل ہو گئی۔

    لیکن لندن میں موجود سکھ خاندان کے نوادرات وصیت کے مطابق پیر کریم بخش نے حکومت پاکستان کے تعاون سے لاہور منگوانے کی درخواست دائر کی متعلقہ بنک نے انتہائی ایمانداری سے وہ خاندانی نوادرات ایک ہفتے میں لاہور بھجوا دیئے۔

    ان نوادرات کوشہزادی بامبا کی رہائش گاہ میں محفوظ کر کے ’اورئینٹل میوزیم‘ کھولا گیا 1962ء میں حکومتِ پاکستان نے شہزادی بامبا کے آرٹ کے اس خزانے کو قومی اثاثہ قرار دے کر خرید لیا اور اسے لاہور کے شاہی قلعے میں محفوظ کر لیا۔

    سن 2018 میں اس کولیکشن کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا اسے دیکھ کر پنجاب میں سکھوں کی حکمرانی کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • الیکٹرانک میڈیا رپورٹرایسوسی ایشن کی صحافی کے گھر کی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت

    الیکٹرانک میڈیا رپورٹرایسوسی ایشن کی صحافی کے گھر کی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت

    الیکٹرانک میڈیا رپورٹرایسوسی ایشن (ایمرا)کے صدر محمد آصف بٹ،سینئرنائب صدرجوادملک،نائب صدرعرفان ملک،سیکرٹری سلیم شیخ،ایڈیشنل سیکرٹری نعمان شیخ،فنانس سیکرٹری ارشدچوہدری،سینئرجوائنٹ سیکرٹری کنور عزیر،جوائنٹ سیکرٹری عبدالقادر خواجہ،انفارمینشن سیکرٹری شفیق شریف،آفس سیکرٹری افضل سیال اور ایمراباڈی نے پبلک نیوز چینل کے صحافی توصیف احمد کےگھر میں گھس کرپولیس کی جانب سے اہلخانہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے،توڑپھوڑکرنے،پولیس گردی کا مظاہرہ کرنے کی بھرپوراورشدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    ایمرا صدر محمد آصف بٹ نے اپنے مذمتی بیان میں کہاہے کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے صحافی توصیف احمد میں گھر میں گھس کر پولیس گردی کاجو مظاہرہ کیاگیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت اور قابل افسوس فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم یے۔
    تفصیلات کے مطابق صحافی حافظ توصیف احمدپبلک نیوز چینل کے اینکر پرسن ہیں جن کے بڑے بھائی خلیق احمد اعوان نے 2018 میں ٹی ایل پی کی جانب سے الیکشن لڑا فیض آباد والے کیس کے بعد بھائی نے شورٹی بانڈ بھر کے دیا میرا ٹی ایل پی اور انکی سرگرمیوں سے اب کوئی تعلق نہیں اور قطع تعلق کرلیا تھا۔لیکن جب بھی ٹی ایل پی کا معاملہ ہوتا ہے تو ہمیں بلاوجہ پوری فیملی کو تنگ کیا جاتا ہے

    گزشتہ روزقائد اعظم انڈسٹریل سٹیٹ ٹاون شپ تھانے کی پولیس نے ان کے بھائی کے گھر جہاں بزرگ والدین بھی ہیں چھاپہ مارا بدتمیزی کی محلے والوں کے اکٹھا ہونے پرپولیس واپس چلی گئی ۔اسی روزرات دس بجے گھر حافظ توصیف احمد اعوان جو کہ صحافی ہیں جنکا ٹی ایل پی سے دور دور تک تعلق نہیں اور اپنے اہلخانہ کے ہمراہ الگ رہائش پذیر ہےصحافی توصیف احمدکی غیر موجودگی میں پولیس نے چھاپہ مارا ان کے اہلخانہ اور بچوں کو حراساں کیا گیا۔بغیر سرچ وارنٹ کے گھر میں گھسے توڑ پھوڑ کی دو لیپ ٹاپس توڑے گھر کے دروازے توڑے اور وائف سے گن پوائنٹ پر موبائل چھین کر لے گئے۔ایمرا باڈی پولیس اہلکاروں کے ایسے اقدام کی بھرپور مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ سی سی پی او لاہور ،ائی جی پنجاب، وزیرقانون پنجاب اور مشیر اطلاعات پنجاب سمیت اعلی حکام سے پولیس اہلکاروں کے اقدام کے نوٹس لینے اور واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  • پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 112 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 112 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے –

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کا ریکارڈ آج پھر ٹوٹ گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 112 افراد انتقال کر گئے –

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 65 ہزار 279 ٹیسٹ کئے گئے 4 ہزار 976 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 7.62 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 15 ہزار 982 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار182 ہو چکی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا کے سبب س پنجاب میں 7 ہزار 271 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 541، خیبر پختونخوا 2 ہزار796، اسلام آباد 626، گلگت بلتستان 103، بلوچستان میں 222 اور آزاد کشمیر میں 423 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 68 ہزار665، خیبر پختونخو 1 لاکھ 3ہزاراور419، پنجاب 2 لاکھ 61 ہزار173، سندھ 2 لاکھ 70 ہزار963، بلوچستان 20 ہزار662، آزاد کشمیر 15 ہزار137 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 163 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔

    قبل ازیں حکومت کی جانب سے ایس او پیز جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر حکومت کے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے کاربند رہیں۔ ماسک کا استعمال کریں، بار بار ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں۔ گھروں کو ہوادار بنائیں اور بلا ضرورت ہرگز گھر سے باہر نہ نکلیں۔ پُرہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

    پنجاب میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دِیا گیا ہے ، ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور جرمانے کے علاوہ چھ ماہ قید بھی ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہن اتھا کہ پنجاب حکومت این سی او سی کی ہدایت پر مکمل عمل کر رہی ہے، صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال خطرناک ہو گئی ہے، گجرات اور گوجرانوالہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی

  • لاہور ، اسلام آباد موٹروےبند ،  سینکڑوں گاڑیاں مسافروں سمیت پھنس گئیں ، مسافر شدید پریشان

    لاہور ، اسلام آباد موٹروےبند ، سینکڑوں گاڑیاں مسافروں سمیت پھنس گئیں ، مسافر شدید پریشان

    ملک بھر میں جاری تحریک لبیک کے مولانا سعد رضوی کی گرفتاری کے خلاف اجتجاج کے باعث کئی شہروں کو جان کر دیا گیا ، اس سلسلے میں لاہور ، اسلام آباد موٹروے بھی اجتجاج کے پیش نظر بند ہے لاہور سے اسلام آباد جانے والی ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ لاہور آنے والی سینکڑوں مسافر گاڑیوں گاڑیوں کو کمپنیوں نے موٹروے پر ہی رکنے کی ہدایت کر دی ہے جس سے مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں ، پچھلے تین گھنٹے سے گاڑیاں موٹروے پر ہی رکی ہیں اور ٹریفک کی روانی کا انتظار کر رہی ہیں

    لاہور سمیت پاکستان کے کئی شہری بند کردیے گئے ، احتجاج ، دھرنے ، مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں

    باغی ٹی وی : مذہبی تنظیم تحریک لبیک کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اوردھرنے جاری ہیں۔ جس وجہ سے لاہور سمیت پورے ملک میں سٹرکیں بلاک ہیں . اور جگہ جگہ احتجاج اور دھرنے جاری ہیں .

    لاہور میں ملتان روڈ پر چوہنگ سمیت دیگر مقامات پر احتجاج کے باعث ٹریفک بلاک ہوگیا جبکہ چوک یتیم خانہ میں مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے پولیس نے شیلنگ کی. لاہور یہ علاقے -فلیٹی چوک فیصل چوک .رہائی کورٹ چوک ریگل چوک -ایواری چوک گورنر ہاؤس چوک (کھلا)

    کورپوریشن چوک آؤٹ فال روڈ.یتیم خانہ چوک.خیابان چوک. محافظ ٹاؤن ٹھوکر چوک ای ایم ای روڈ قائد اعظم انٹرچینج ۔ داروگالا چوک،چونگی امرسدھو دونوں ، چاروں اطراف سے 10 شاہدرہ چوک ، شادباغ ، جورے پل ضرار شہید روڈ ، برکی روڈ ، ھٹہ چوک بیدیاں روڈ

    والٹن روڈ، کینال روڈ ، کپ اسٹور مسریشاہ ، ہربنس پورہ انٹرچینج پرچی سڑکیں ، شالیمار چوک غاس منڈی، رنگ روڈ پر قائد اعظم انٹرچینج نیازی شہید انٹرچینج، باگڑیاں چوک، سندر روڈ ،آئی آئی چندریگر روڈ، ایم اے جناح روڈ سمیت ملحقہ سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہے اور ٹاور سےگورنر ہاؤس تک گاڑیوں کی طویل قطار لگ گئی ہے۔ اسٹار گیٹ کے مقام پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہے جبکہ احتجاج اور مختلف شاہراہوں پر ٹریفک جام کے باعث دفاتر سے گھروں کو جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھارہ کہو میں احتجاج جاری ہے جس کے باعث اٹھال چوک بند کردیا گیا ہے جبکہ اٹھال چوک بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    اسلام آباد اور راولپنڈی کےداخلی راستے بھی بلاک ہوگئے ہیں جس سے لوگوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں جبکہ آزاد کشمیر اور مری جانےوالے راستوں پر بھی ٹریفک جام ہوگیا۔

    ۔