Baaghi TV

Category: پنجاب

  • پنجاب بھر میں 5 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ، 5 یا زائد افراد کے اجتماع پر پابندی

    پنجاب بھر میں 5 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ، 5 یا زائد افراد کے اجتماع پر پابندی

    پنجاب بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، جس کا محکمہ داخلہ پنجاب نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس اور اکٹھا ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق غیرقانونی اجتماعات میں شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم ان پابندیوں کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ اجازت سے منعقد ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر بھی دفعہ 144 کی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ عوامی امن، سکون اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فوری نوعیت کے خطرات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ انٹیلی جنس رپورٹس میں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے۔

    محکمہ داخلہ کے مطابق اجتماعات، ریلیوں، جلسوں، دھرنوں، جلوسوں اور مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی انہیں دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف بنا سکتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات میں معاونت کی درخواست کی، جس کے بعد سیکرٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144(6) کے تحت عوامی اجتماعات پر فوری پابندی عائد کردی۔

  • بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں:2  ن لیگی رہنما عہدوں سے فارغ

    بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں:2 ن لیگی رہنما عہدوں سے فارغ

    مسلم لیگ (ن) پنجاب نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے لیے بھرپور تیاریاں شروع کرتے ہوئے مشکل وقت میں ساتھ دینے والے مخلص اور دیرینہ کارکنوں کو انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ :2 ن لیگی رہنما ؤں کو عہدوں سے فارغ کیا گیا ہے-

    مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی زیرِ صدارت صوبائی تنظیم کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارٹی عہدیداروں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں،اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں خالی تنظیمی عہدے جلد از جلد پُر کیے جائیں گے،صوبے کی تمام ڈویژن، اضلاع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر تنظیم کو متحرک کرنے، عوامی رابطوں کو تیز کرنے اور بھرپور مہم چلانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    تمام ڈویژنل عہدیداروں کو واضح پیغام دیا گیا کہ بلدیاتی الیکشن میں مشکل وقت کےساتھیوں اور پارٹی سےمخلص دیرینہ کارکنوں کو ہر صورت ترجیح دی جا ئے ،عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابات کی تیاریوں کا تفصیلی روڈ میپ اور حکمت عملی طے کر کے جلد از جلد مرکزی قیادت کو بھجوا ئیں، اجلا س میں واضح کیا گیا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار منعقد ہوں گے۔

    اجلاس کے دوران تنظیمی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں بھی عمل میں لائی گئیں چوہدری جاوید بوٹا اور محسن رانجھا کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کا نائب صدر مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ سمیرا ملک اور حافظ عثمان عباسی کو ان کے عہدوں سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے،اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جس پر مسلم لیگ (ن) پنجاب کی جانب سے یہ اصولی مؤقف اپنایا گیا کہ اس معاملے پر حتمی بحث اور فیصلہ پارلیمنٹ کے فورم پر ہونا چاہیے۔

  • عظمیٰ بخاری کی مریم نواز پر نجی دورے کیلئےسرکاری طیارہ استعمال کرنے کے الزامات کی تردید

    عظمیٰ بخاری کی مریم نواز پر نجی دورے کیلئےسرکاری طیارہ استعمال کرنے کے الزامات کی تردید

    صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مریم نواز پر نجی دورے کے لیے سرکاری طیارہ استعمال کرنے کے الزامات کو سختی سے رد کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنی بیٹی ماہ نور کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے گزشتہ ہفتے لندن گئی تھیں اور بدھ کے روز لاہور واپس پہنچیں تاہم، ان کے اس دورے میں سرکاری جیٹ کے استعمال نے اپوزیشن کو تنقید کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

    جس کے بعد صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مریم نواز پر نجی دورے کے لیے سرکاری طیارہ استعمال کرنے کے الزامات کو سختی سے رد کر دیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری کردہ اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے دورہ لندن کے تمام تر اخراجات ذاتی جیب سے برادشت کیے ہیں۔

    دوسری جانب، لندن میں قیام کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز سے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے محتاط انداز اپناتے ہوئے تفصیل سے گفتگو کرنے سے گریز کیا انہوں نے کہا کہ وہ وطن واپسی کے بعد ساتھیوں سے مشاورت کے بعد ہی اس معاملے پر کوئی بیان دیں گی پنجاب کو سرحدی اضلاع سے درپیش دہشتگردی کے خطرات سے متعلق اپنے سابقہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پنجاب کو اصل خطرہ نااہلی سے ہے۔

    اس کے باوجود، اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے سرکاری طیارے کے استعمال پر وزیراعلیٰ کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما مونس الٰہی نے ‘ایکس’ پر اپنے ایک پیغام میں اس معاملے کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے جوڑتے ہوئے تنقید کی۔

    واضح رہے کہ 2019 کا تیار کردہ گلف اسٹریم (Gulfstream G500) طیارہ جس کی تخمینہ قیمت تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ سے 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر (10 ارب روپے سے زائد) بتائی جاتی ہے، حکومتِ پنجاب کی جانب سے خریدے جانے کی اطلاعات کے بعد سے ہی زیرِ بحث رہا ہے۔

  • پنجاب میں سکول ٹیچر انٹرنز کی بھرتیوں  کی سمری منظور

    پنجاب میں سکول ٹیچر انٹرنز کی بھرتیوں کی سمری منظور

    پنجاب میں اسکول ٹیچر انٹرنز (ایس ٹی آئیز) کی بھرتی کی سمری منظور کرلی گئی ہے، جس کے بعد صوبے کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے عارضی بنیادوں پر نوجوانوں کی تعیناتی کا عمل آگے بڑھ گیا ہے۔

    وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اعلان کیا ہے کہ نئے بھرتی کیے جانے والے اسکول ٹیچر انٹرنز رواں ہفتے سرکاری اسکولوں میں رپورٹ کریں گے۔ ان کی تعیناتی کا بنیادی مقصد مختلف سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنا اور تدریسی عمل کو مؤثر انداز میں جاری رکھنا ہے۔

    وزیر تعلیم کے مطابق اسکول ٹیچر انٹرنز کو عارضی بنیادوں پر تدریسی خدمات کے لیے رکھا جا رہا ہے۔ ایس ٹی آئیز کو پرائمری، ایلیمنٹری اور سیکنڈری سطح کے سرکاری اسکولوں میں تدریس کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔

    رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ ٹیچر انٹرنز پروگرام صرف سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے نوجوانوں کو عملی تدریسی تجربہ حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔ انٹرنز تدریسی ماحول میں کام کرکے اپنے پیشہ ورانہ تجربے اور صلاحیتوں میں اضافہ کرسکیں گے۔

  • پنجاب کی ہر تحصیل میں الیکٹروبس سروس شروع کرنے کا فیصلہ

    پنجاب کی ہر تحصیل میں الیکٹروبس سروس شروع کرنے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا ویژن، پنجاب کی ہر تحصیل میں الیکٹروبس سروس شروع کرنے کا فیصلہ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے ویژن کے تحت الیکٹرو بس سروس کو ڈویژن اور ضلع کے بعد تحصیل کی سطح تک توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ پنجاب کی 91 تحصیلوں میں 1500 الیکٹروبسیں چلائی جائیں گی، جبکہ ہر تحصیل کے لیے مخصوص الیکٹروبس ڈپو بھی قائم کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے مختلف اضلاع میں مزید الیکٹروبسوں کی فراہمی کی بھی منظوری دے دی ہے تحصیل سطح پر الیکٹروبس سروس کا آغاز جنوری 2027ء سے ہو گا، اس سلسلے میں الیکٹروبسوں کا پہلا بیچ جنوری میں لاہور پہنچے گا، جون 2027ء تک پنجاب بھر میں 3 ہزار الیکٹروبسیں چلانے اور ستمبر تک پہلا فیز مکمل کرنے کا ہدف ہے، پنجاب کے مختلف اضلاع میں 612 الیکٹروبسیں آپریشنل، روزانہ لاکھوں شہری سفری سہولت سے مستفید ہوں گے-

    منصوبے کے تحت ملتان کی 9 تحصیلوں میں 169، ساہیوال کی 4 تحصیلوں میں 87، بہاولپور کی 11 تحصیلوں میں 215، ڈی جی خان کی 10 تحصیلوں میں 63، فیصل آباد کی 12 تحصیلوں میں 202 اور سرگودھا کی 14 تحصیلوں میں 198 الیکٹروبسیں چلائی جائیں گی،گوجرانوالہ کی 7 تحصیلوں کے لیے 125، گجرات کی 8 تحصیلوں کے لیے 122 جبکہ راولپنڈی کی 16 تحصیلوں کے لیے 219 الیکٹرو بسیں مختص کی گئی ہیں،منڈی بہاؤالدین، وہاڑی، قصور، لودھراں، ننکانہ صا حب، نارووال، گوجرانوالہ اور ملتان میں بھی مزید الیکٹروبسیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ملتان سمیت دیگر اضلاع میں مزید 192 الیکٹروبسیں چند روز میں فنکشنل ہوجائیں گی، سرگودھا، ساہیوال، فیصل آباد، لاہور، مظفرگڑھ، راولپنڈی، جھنگ، بہاولپو ر، رحیم یار خان اور اٹک کو مزید الیکٹرو بسیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ بھکر، حافظ آباد، خانیوال، چنیوٹ، لیہ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، مری، گجرات اور شیخوپورہ میں بھی اضافی بسیں چلائی جائیں گی جبکہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم پر پیشرفت تیزی سے جاری ہے، جبکہ لاہور میٹروبس سروس کے 25 اسٹیشنز کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔

  • پنجاب: کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی، 12 اہلکارنوکری سے برخاست، 37 افسران و اہلکار معطل

    پنجاب: کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی، 12 اہلکارنوکری سے برخاست، 37 افسران و اہلکار معطل

    وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی،سول ڈیفنس پنجاب کے 12 اہلکار نوکری سے برخاست، 37 افسران و اہلکار معطل اور 7 کا تبادلہ کر دیا گیا-

    کرپشن، بدعنوانی اور نااہلی پر سول ڈیفنس کے 12 اہلکار وں کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا،نوکری سے برخاست ہونے والوں میں فرمان اللہ (سرگودھا)، نوید (خوشاب)، محمد ارشاد اور ناصر اقبال (ملتان)، اصغر ( لودھراں) شامل ہیں جبکہ گوجرانوالہ کے گروپ وارڈن رحمان مقبول اور حمزہ بلال بٹ نوکری سے برخاست کر دیئے گئےعلاوہ ازیں نوکری سے برخاست ہونے والوں میں امان اللہ اور فیضان (حافظ آباد)، شریف (نارووال)، بشیر احمد اور شبیر احمد (بہاولپور) شامل ہیں،عملدرآمد کیلئے ڈپٹی کمشنرز سرگودھا، خوشاب، ملتان، لودھراں، گوجرانوالہ، حافظ آباد، بہاولپور اور نارووال کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے-

    دوسری جانب کرپشن، بدعنوانی اور نااہلی پر سول ڈیفنس کے 37 افسران و اہلکار وں کومعطل کر دیا گیا ہے،سول ڈیفنس آفیسر رحیم یار خان شکیب احمد ، و ہا ڑ ی، سیالکوٹ، خوشاب اور ساہیوال کے اسسٹنٹس سردار علی، ثناء اللہ، محمد کامران اور شاہ نواز معطل ہونے والوں میں شامل ہیں ،نارووال اور گوجرانوالہ کے سینئر کلرک محمد الطاف اور محمد قاسم کو معطل کیا گیا ہے-

    اسی طرح سول ڈیفنس کے 9 چیف انسٹرکٹر اور 15 انسٹرکٹر بھی معطل کیے گئے چیف انسٹرکٹرز سلیمان (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، محمد شکور (فیصل آباد)، محمد الطاف (اوکاڑہ)، غلام ربانی (ساہیوال)، عقیل گُل (رحیم یار خان)، کاشف مسعود (وہاڑی)، حافظ محمد زکریا (نورووال)، محمد یوسف (منڈی بہاؤالدین)، بلال احسان (قصور) بھی معطل ہونے والوں میں شامل ہیں-

    انسٹرکٹر محمد بلال (میانوالی)، چراغ دین (قصور)، محمد شاہد اور مدثر لیاقت (شیخوپورہ)، سہیل پرویز (لاہور)، آصف علی (وہاڑی)، محمد زمان (گوجرانوالہ)، محمد عرفان اور محمد مستنصر (فیصل آباد)، راحیل اجمل (سرگودھا)، عاصف علی اور محمد ابوبکر (سیالکوٹ)، مبشر علی (ساہیوال)، احمد فیضان (رحیم یار خان)، صدف ظہور (راولپنڈی) کو بھی معطل کر دیا گیا ہے-

    ریسکیو لیڈر محمد اسلم (ملتان)، ریسکیور ناصر محمود (راولپنڈی)، فرسٹ ایڈر قمر الطاف (ملتان)، ڈرائیور اشفاق احمد (ملتان)، نائب قاصد محمد وارث (جھنگ)، سینٹری ورکر سہیل مسیح (گجرات) بھی معطل ہونے والوں میں شامل ہیں،ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے معطلی کے احکامات جاری کرتے ہوئے پیڈا کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا،معطل کیے گئے افسران اور اہلکاروں کو سول ڈیفنس پنجاب ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے-

    طویل عرصہ تعیناتی اور انتظامی وجوہات کی بناء پر 7 سول ڈیفنس افسران کا تبادلہ بھی کیا گیا،سول ڈیفنس آفیسر مظفرگڑھ سیدہ سحرش ارشاد کو سول ڈیفنس آفیسر وہاڑی تعینات کیا گیا ،سول ڈیفنس آفیسر وہاڑی محمد ریحان کو سول ڈیفنس آفیسر بہاولنگر تعینات کیا گیا سول ڈیفنس آفیسر فیصل آباد محمد عباس کا بطور سول ڈ یفنس آفیسر ساہیوال تبادلہ کیا گیا-

    سول ڈیفنس آفیسر ساہیوال محمد عدنان قیصر، سول ڈیفنس آفیسر اوکاڑہ تعینات کئے گئے ہیں،سول ڈیفنس آفیسر اوکاڑہ محمد اقبال جاوید، سول ڈیفنس آفیسر فیصل آباد تعینات کئے گئے ہیں،اسی طرح سول ڈیفنس آفیسر (سول سیکرٹریٹ) لاہور سدرہ یاسین رانا ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس پنجاب میں چیف اسٹاف آفیسر تعینات کئے گئے ہیں جبکہ سول ڈیفنس آفیسر سیالکوٹ فرحانہ عزیز، سول ڈیفنس آفیسر (سول سیکرٹریٹ)، لاہور تعینات کئے گئے ہیں-

    چیف سیکرٹری پنجاب نے تمام محکموں کے سربراہان کو محکمانہ احتساب کی ہدایت کی تھی،محکمہ داخلہ پنجاب کرپشن، نااہلی، بدانتظامی اور قوانین کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل پیرا ہے

  • پنجاب میں مہمان پرندوں کی آمد شروع ،وائلڈلائف رینجرز پنجاب نے  12 غیرقانونی شکاری گرفتار کر لئے

    پنجاب میں مہمان پرندوں کی آمد شروع ،وائلڈلائف رینجرز پنجاب نے 12 غیرقانونی شکاری گرفتار کر لئے

    پنجاب میں مہمان پرندوں کی آمد شروع ہوگئی ہے، جبکہ وائلڈلائف رینجرز پنجاب نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران بٹیر، فاختہ، مرغابی، سانڈھے اور جنگلی خرگوش کے 12 غیر قانونی شکاری گرفتار کرلیے۔

    کارروائیوں میں بٹیر کے 13 نیٹنگ گئیرز بھی ضبط کیے گئے، جبکہ پانچ شکاریوں پر مجموعی طور پر 3 لاکھ 55 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور سات کے خلاف مقد مات درج کرائے گئے، بہاولپور ریجن میں وائلڈلائف رینجرز نے چولستان پبلک وائلڈلائف ریزرو کی آبی گزرگاہوں میں نایاب کونجوں کا ایک بڑا غول دیکھا، اسی علاقے میں بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ موجود چنکارہ کے ایک شیر خوار بچے کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

    لیاقت پور میں فاختہ کے غیر قانونی شکار میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کرکے ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا، بہاولنگر میں بٹیر کی نیٹنگ اور سانڈھے پکڑنے کے الزام میں پانچ افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور بٹیر کے دو نیٹنگ گئیرز ضبط ہوئے منچن آباد میں بٹیر کے مبینہ شکاریوں نے وائلڈلائف رینجرز پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگئے، واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    راجن پور میں مرغابی کے دو شکاریوں پر مجموعی طور پر 70 ہزار روپے، جہلم میں جنگلی خرگوش کے ایک شکاری پر 60 ہزار روپے اور چکوال میں بٹیر کی غیر قا نونی نیٹنگ پر ایک شکاری کو ایک لاکھ 25 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا، جبکہ ایک دوسرے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا، بھکر میں بٹیر کے دو نیٹنگ گئیر ز ضبط کرکے دو افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جبکہ مظفرگڑھ میں بٹیر کے سات نیٹنگ گئیرز ضبط کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی، خوشا ب میں کتوں کے ذریعے جنگلی خرگوش کے شکار پر ایک شخص کو 70 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا، اسی علاقے میں واقع اچھالی جھیل پر تقریباً 100 نایاب فلیمنگوز بھی پہنچ چکے ہیں۔

  • پنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن، خصوصی خفیہ سیل قائم

    پنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن، خصوصی خفیہ سیل قائم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔

    کرپشن کی نشاندہی اور نگرانی کے لیے خصوصی خفیہ سیل قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ سیل کی رپورٹس براہِ راست وزیراعلیٰ کو پیش کی جا رہی ہیں اور مبینہ طور پر ملوث عناصر کی گرفتاریاں بھی شروع ہو گئی ہیں،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کرپشن کے خلاف کارروائیوں کی ذاتی نگرانی کا فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنجاب میں کرپشن کے لیے نہ کوئی گنجائش، نہ پناہ اور نہ ہی کسی قسم کی رعایت ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں کرپشن ہو، رشوت طلب کی جائے یا اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جائے، عوام فوری اطلاع دیں عوام کی شکایات کے اندراج اور کرپشن کی نشاندہی کے لیے وزیراعلیٰ کی جانب سے ہیلپ لائن 1350 بھی قائم کی گئی ہے،وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ ہر شکایت پر کارروائی ہوگی جبکہ شکایت کنندہ کا نام مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ عوام کی ایک اطلاع کرپشن اور رشوت خوری کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرسکتی ہے لوٹی ہوئی رقم کی مکمل ریکوری تک کارر وائی ختم نہیں ہوگی’کرپشن صرف پیسے کی چوری نہیں بلکہ یہ عوام کے حق اور اعتماد کی چوری ہےعوام کا پیسہ خورد برد کرنے والے ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کرپشن کے مقدمات میں عہدہ، تعلق یا سفارش کسی کو نہیں بچا سکے گی۔

  • پنجاب میں پولیس ملازمین کے بچوں کے تعلیمی وظیفے میں بڑا اضافہ

    پنجاب میں پولیس ملازمین کے بچوں کے تعلیمی وظیفے میں بڑا اضافہ

    پنجاب میں پولیس ملازمین کے آٹسٹک بچوں کے لیے تعلیمی وظیفے کی رقم میں بڑا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد وظیفے کی رقم 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 75 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے۔

    آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کی ہدایات پر پنجاب پولیس نے اپنے ملازمین کے آٹسٹک بچوں کے لیے تعلیمی وظائف میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت پہلے 30 ہزار روپے سالانہ وظیفہ حاصل کرنے والے اہل بچوں کو اب 75 ہزار روپے تعلیمی وظیفہ دیا جائے گا۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق تعلیمی وظیفے میں اضافے کا مقصد پولیس ملازمین کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات اور آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں تاکہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو درپیش مسائل میں ممکنہ حد تک معاونت فراہم کی جاسکے۔

    آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے کہا کہ پولیس ملازمین اور ان کے اہلخانہ کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے۔ ایسے اقدامات کا مقصد ملازمین کے بچوں کو بہتر تعلیم، ترقی اور مستقبل کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔

  • پنجاب میں صفائی ٹیکس وصولی کے لیے نئی فورس بنانے کی تجویز

    پنجاب میں صفائی ٹیکس وصولی کے لیے نئی فورس بنانے کی تجویز

    پنجاب بھر میں صفائی ٹیکس اور چارجز کی وصولی مؤثر بنانے کے لیے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے تحت نئی فورس قائم کرنے کی تجویز تیار کرلی گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری دستاویزات میں فورس کی تشکیل کے لیے محکمہ ایکسائز میں مجموعی طور پر 305 نئی آسامیوں کی منظوری کی سفارش کی گئی ہے۔ ان میں گریڈ 5 کی 300 آسامیوں پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کانسٹیبلز بھرتی کیے جائیں گے، جنہیں صوبے کے تمام اضلاع میں تعینات کیا جائے گا۔

    تجویز کے مطابق ہر ضلع میں 7 سے 8 کانسٹیبلز کو صفائی ٹیکس اور چارجز کی وصولی کی مہم پر مامور کیا جائے گا۔ نئی فورس پنجاب بھر میں تقریباً 47 لاکھ پراپرٹیز سے صفائی چارجز کی وصولی، بلوں کی تقسیم، نادہندگان سے رابطے اور واجبات کی ریکوری کی ذمہ دار ہوگی۔

    فورس کی انتظامی نگرانی کے لیے ایک ڈائریکٹر اور 4 ڈپٹی ڈائریکٹرز تعینات کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ یہ فورس وزیراعلیٰ پنجاب کے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے براہِ راست ماتحت کام کرے گی۔

    سرکاری تجویز کے مطابق فیلڈ عملے کی نقل و حرکت اور ریکوری مہم کو مؤثر بنانے کے لیے 300 کانسٹیبلز کو 300 الیکٹرک موٹرسائیکلیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ نگران افسران کے لیے ایک 1300 سی سی کار اور 4 سوزوکی کلٹس گاڑیاں خریدنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق گاڑیوں اور الیکٹرک موٹرسائیکلوں کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر 11 کروڑ 30 لاکھ روپے کے فنڈز مانگے گئے ہیں۔ نئی آسامیوں اور گاڑیوں کی خریداری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت پنجاب سے سپلیمنٹری گرانٹ جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

    تجویز کی منظوری کی صورت میں نئی فورس کے ذریعے صفائی ٹیکس کی وصولی، نادہندگان کے خلاف فالو اپ اور واجبات کی ریکوری کے عمل کو مزید منظم بنانے کی کوشش کی جائے گی۔