Baaghi TV

Category: پنجاب

  • چناب اور سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ

    چناب اور سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ

    دریائے چناب اور دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    چناب کے مقام پنجند پر پانی کا بہاؤ انتہائی بلند (Very High) جبکہ دریائے سندھ کے مقام گڈو پر اونچا (High) قرار دیا گیا ہےفلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کی تازہ رپورٹ کے مطابق پنجند ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں 5 لاکھ 75 ہزار کیوسک سے زائد ہے، جس کے باعث علاقے میں شدید سیلابی خطرہ موجود ہے،چنیوٹ اور قادرآباد کے مقامات پر بہاؤ نارمل بتایا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ دریائے سندھ پر گڈو کے مقام پر 5 لاکھ 44 ہزار کیوسک پانی کی آمد اور 5 لاکھ 14 ہزار کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا، جسے اونچا بہاؤ قرار دیا گیا،سکھر بیراج پر درمیانہ (Medium) جبکہ کوٹری بیراج پر بہاؤ کم (Low) بتایا گیا،دریائے راوی کے مقام سدھنائی پر بہاؤ درمیانہ (Medium) ہے، جبکہ دریائے ستلج کے سلیمانکی بیراج پر پانی کا بہاؤ کم (Low) ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام بیarrage پر بہاؤ درمیانہ سطح پر ہے۔

    نیپال میں عام انتخابات مارچ میں کرانے کا فیصلہ

    فلڈ ڈویژن کے مطابق تربیلا، منگلا اور چشمہ ڈیمز میں پانی کی آمد اور اخراج معمول کے مطابق ہے۔ دریائے کابل، جہلم اور راوی کے مختلف مقامات پر صورتحال قابو میں ہے،محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو الرٹ رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا قصور اور ملتان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا قصور اور ملتان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا قصور اور ملتان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ

    چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قصور سیکٹر اور جلالپور پیروالا (ملتان) میں قائم فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور سیلابی صورتِ حال اور جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

    دورے کے دوران آرمی چیف کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، انہوں نے سول انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی فلاح پر مبنی ترقی کی اہمیت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ ہر سال قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات کو تیز کرنا ہوگا۔

    سیلاب متاثرین سے ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہیں مکمل تعاون اور بروقت بحالی کی یقین دہانی کرائی، متاثرین نے بروقت امداد پر پاک فوج سے دلی تشکر کا اظہار کیا،آرمی چیف نے ریسکیو آپریشنز میں مصروف پاک فوج کے جوانوں، ریسکیو 1122 اور پولیس اہلکاروں کے جذبے، بلند حوصلے اور دن رات کی محنت کو سراہا انہوں نے کہا کہ سول اور فوجی اداروں کی مشترکہ کاوشیں عوامی خدمت کی بہترین مثال ہیں۔

    بعد ازاں انہوں نے لاہور-قصور اور ملتان-جلالپور پیروالا کے سیلابی علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا تاکہ نقصان اور ریلیف سرگرمیوں کا براہِ راست معائنہ کیا جا سکے،دورے پر آمد پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کور کمانڈر لاہور اور کور کمانڈر ملتان نے کیا جبکہ اس موقع پر چیف سیکرٹری پنجاب اور سول انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

  • پنجاب حکومت کی جانب سے 57000 گھروں کی تعمیر کا منصوبہ

    پنجاب حکومت کی جانب سے 57000 گھروں کی تعمیر کا منصوبہ

    پنجاب حکومت کی جانب سے 57000 گھروں کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آگیا-

    ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق منصوبے کے تحت محکمہ ہاؤسنگ پنجاب کے زیرانتظام سستی رہائش گاہیں تعمیر کی جائیں گیز،پنجاب بھر کے 21 اضلاع میں سرکاری زمینوں پر رہائش گاہوں کی تعمیر کی جائے گی،پہلے مرحلے میں 20000 رہائشگاہوں کی تعمیر کیلئے صوبہ بھر میں 41 سائٹس کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

    رہائش گاہیں آسان اقساط پر مستحق افراد کو دی جائیں گی،منصوبہ 5 سال میں مکمل کر لیا جائے گا،رہائش گاہیں ورلڈ بینک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے تعمیر کی جائیں گیز،تعیمرات کے دوران معیار کی جانچ اور منصوبے کی نگرانی باقاعدگی سے یقینی بنائی جائے گی،منصوبہ صوبائی کابینہ کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

    جج سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے قتل کا ملزم سپریم کورٹ سے بری

    بیوی کا حق نان نفقہ ازدواجی تعلقات یا رخصتی سے مشروط نہیں، سپریم کورٹ

    ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے پاکستان کو نگرانی کی فہرست سے نکال دیا

  • دریائے چناب میں سیلاب :درجنوں دیہات کے زمینی رابطے منقطع

    دریائے چناب میں سیلاب :درجنوں دیہات کے زمینی رابطے منقطع

    شجاع آباد میں دریائے چناب کابند ٹوٹ گیا، جس سے سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافہ ہو گیا۔

    بند ٹوٹنے کے بعد تین مزدور دریائے چناب کے تیز بہاؤ والے پانی میں بہہ گئے، دو مزدوروں کو بچا لیا گیا جبکہ ایک مزدور ابھی تک نہیں مل سکا ہےشجاع آباد کے کئی موضعات کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، مختلف مواضعات اور درجنوں بستیوں کے زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں،موضع دھوندوں، موضع وینس، موضع گردیز پور، بستی عالم والا، بلوچاں والا، صدیق والا، بستی نواں شہر متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پرانتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، پنجند کے مقام پر پانی کا اخراج 6 لاکھ 66 ہزار 544 کیوسک ریکارڈ کیا گیادریائے سندھ میں گڈو اور سکھر کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 5 لاکھ 6 ہزار 433 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔

    پنجاب سیلاب: اموات کی تعداد 100 کے قریب، تقریباً 45لاکھ افراد متاثر،2300 سے زائد دیہات متاثر

    گڈوبیراج کے مقام پر پانی کا اخراج 4 لاکھ 75 ہزار 970 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، سکھر بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 4 لاکھ 50 ہزار 150 کیوسک ریکارڈ کی گئی،سکھر بیراج کے مقام پر پانی کا اخراج 4 لاکھ 18 ہزار 810 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اورہیڈ اسلام کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    برطانوی ہائی کمشنر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، سیلاب متاثرین کے لیے تعاون کا اعلان

  • پنجاب سیلاب: اموات کی تعداد 100 کے قریب، تقریباً 45لاکھ افراد متاثر،2300 سے زائد دیہات متاثر

    پنجاب سیلاب: اموات کی تعداد 100 کے قریب، تقریباً 45لاکھ افراد متاثر،2300 سے زائد دیہات متاثر

    پنجاب میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باعث اموات کی تعداد 97 تک پہنچ گئی جبکہ اب تک 45 لاکھ 98 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی،ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث ساڑھے 4ہزار سے زائد موضع جات متاثر ہوئےدریائے چناب میں سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 2335 موضع جات، ستلج میں 672 موضع جات اور راوی میں 1482 موضع جات متاثر ہوئے۔

    ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق سیلاب میں پھنس جانے والے 24 لاکھ 51 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 396 ریلیف کیمپس اور 490 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں،مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 405 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں 19 لاکھ ایک ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    ہڑپہ کی کھدائی کی 100 ویں سالگرہ، پنجاب حکومت کا بڑا اعلان

    ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق منگلا ڈیم 93 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے۔ دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 88 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم 94 فیصد جبکہ تھین ڈیم 89 فیصد تک بھر چکا ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

    برطانوی ہائی کمشنر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، سیلاب متاثرین کے لیے تعاون کا اعلان

  • ہڑپہ کی کھدائی کی 100 ویں سالگرہ، پنجاب حکومت کا بڑا اعلان

    ہڑپہ کی کھدائی کی 100 ویں سالگرہ، پنجاب حکومت کا بڑا اعلان

    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آرکیالوجی پنجاب نے ہڑپہ کی کھدائی کی 100 ویں سالگرہ پر صوبے بھر میں نئے سائنسی کھدائی پروگرام کا آغاز کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک نے کہا کہ جدید طریقہ کار سے وادی سندھ کی تہذیب کے مطالعے کی تیاریاں مکمل ہیں کھدائی میں ڈیجیٹل میپنگ، سائنسی تاریخ اور جدید دستاویزی طریقے استعمال ہوں گے جبکہ پروگرام صوبے کے دیگر اہم مقامات تک بھی توسیع پائے گا، دوسرے مرحلے میں گندھارا خطے میں باقاعدہ کھدائی پروگرام شروع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا آرکیالوجی کو علم اور ثقافت سے جوڑنے پر بہت زور ہے سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی عالمی معیار کے مطابق ورثہ مینجمنٹ کو ہدایت جاری کی ہیں، ڈی جی آثار قدیمہ کا کہنا تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی نئی کھدائیاں، علمی تحقیق اور ورثہ سیاحت کو فروغ دے گا اور پنجاب کو ورثہ پر مبنی سیاحت اور تحقیق کا مرکز بنایا جائے گا۔

    برطانوی ہائی کمشنر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، سیلاب متاثرین کے لیے تعاون کا اعلان

    ہڑپہ پاکستان کا ایک قدیم شہر ہے جس کے کھنڈر پنجاب میں ساہیوال سے 35 کلومیٹر مغرب کی طرف چیچہ وطنی شہر سے 15 کلومیٹر پہلے کھدائی کے دوران ملے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً 1200 سال پہلے لکھی جانے والی ہندووں کی کتاب رگ وید سے اس شہر کی تاریخ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

    رگ وید میں ایک شہر کا نام آیا ہے ’ ہری یوپیہ ‘ سنسکرت میں اس کا مطلب ہے ’ قربانی کے سنہری ستوں والا شہر ‘ ماہرین کا اب اتفاق ہے جن میں ویلز اور ڈی ڈہ کوسامبی شامل ہیں کہ ہری یوپیہ ہڑپہ ہی کا سنسکرت میں نام ہے اگرچہ اس کا اصل نام کچھ اور ہوگا، شاید ہری یوپویا ہو یا کچھ اور ہو اور رگ وید کے مطابق اسی ہری یوپیہ کے قریب آریاؤں کی مقامی باشندوں سے جنگ ہوئی تھی رگ وید میں آیا ہے اندرا نے ورشکھو ( یا ورچکھو ) کی باقیات کو ایسے ملیامیٹ کر دیا کہ جیسے مٹی کا برتن۔ اس نے ورچی وات ( یا ورشی ونت یا ورکی ذات ) لوگوں کے ایک سو تیس مسلح جانبازوں کی پہلی صف کو کچل دیاجس پر باقی بھاگ کھڑے ہوئے ۔

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل، تفتیشی ٹیم نے مقدمے کا چالان پیش کر دیا

    1921ء میں رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپہ کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ہڑپہ کی کھدائی کی طرف توجہ دی۔ چنانچہ رائے بہادر دیا رام سہنی، ڈائریکٹر ارنسٹ میکے اور محکمہ اثریات کے دیگر احکام کے تحت کھدائی کا کام شروع ہوا-

  • پنجاب: سیلاب سے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے با اختیار کمیٹی بنانے کا فیصلہ

    پنجاب: سیلاب سے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے با اختیار کمیٹی بنانے کا فیصلہ

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے سیلاب سے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے با اختیار کمیٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا۔

    کمیٹی سیلاب سے بچاؤ کے لیے سفارشات بھی مرتب کرے گی جبکہ زرعی اجناس کو پہنچنے والے نقصان اور ازالہ کا بھی جائزہ لے گی۔ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین شامل ہوں گے،پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کمیٹی کے ٹی او آر بنانے میں مصروف ہےکمیٹی ماہرین کو بھی طلب کرے گی اور متاثرین کی بحالی کے لیے سفارشات مرتب کرے گی، کمیٹی ریسکیو آپریشن پر بھی بریفنگ لے گی،سیکریٹری زراعت، سیکریٹری لائیو، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سیکریٹری خزانہ کو بھی بلایا جائے گا۔

    صدر حکومتی دعوت پر چین کے 10 روزہ دورے پر کل روانہ ہوں گے

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے بھی پی ٹی آئی ارکان مستعفی

    ڈیڑھ ارب روپے کے فراڈ میں ملوث بینکار اور پی آئی اے کا نائب قاصد گرفتار

  • پنجاب : سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری

    پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں-

    سیلاب سے متاثرہ علاقے جھنگ اور اس کے گردونواح میں پاک فوج کے جوان متاثرہ عوام کی مدد میں سرگرمِ عمل ہیں،پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں راشن پہنچایا جا رہا ہے بندی پٹوانہ کلاں، خورد، چک جانپور، بیلا جٹیاں والا، اناران والا اور بیلا سادھن میں مجموعی طور پر 2.8 ٹن راشن تقسیم کیا گیا ہے۔

    متاثرہ علاقوں میں طبی سہولیات کی فوری فراہمی کے لیے پاک فوج نے گورنمنٹ ہائی اسکول جھنگ سٹی اور تحصیل اٹھارہ ہزاری میں میڈیکل کیمپ قائم کر دیے ہیں، جہاں ماہر طبی عملہ تعینات ہےاسی طرح، اٹھارہ ہزاری جبوآنا اسکول کیمپ اور کوٹ شاکر کیمپ میں بھی مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    ریسکیو سرگرمیوں کے دوران پاک فوج کے جوانوں نےولی محمد میں کشتیوں کے ذریعے 45 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاڈب کلاں میں 75 افراد اور 16 مویشی بحفاظت نکالے گئےبدہوانہ میں 14 افراد کو بھی محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا،عوام کی جانب سے پاک فوج کی انتھک محنت، جذبہ خدمت اور فوری ردِ عمل کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

  • بھارت کا پاکستان کو دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کا انتباہ

    بھارت کا پاکستان کو دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کا انتباہ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق بھارت نے پاکستان کو دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاع دے دی۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ستلج ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاع دی گئی ہے،ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق وزارت آبی وسائل نے صوبائی حکومتوں اور اداروں کو الرٹ جاری کر دیا ہے،این ڈی ایم اے اور واپڈا سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہیں جبکہ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو سیلاب الرٹ بھجوا دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے سیلاب سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کر دیئےپنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے سیلاب سے متعلق اعدادوشمار بتاتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے 14 لاکھ 96 ہزار 363 ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا اور پنجاب میں 42 لاکھ سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

    پاک فضائیہ مکمل یکسوئی سے اپنے مشن کی انجام دہی کے لیے پرعزم ہے،سربراہ پاک فضائیہ

    ان کا کہنا تھا کہ دریائے چناب کے 1957 اور دریائے راوی کے 1477 موضع جات متاثر ہوئے جبکہ دریائے ستلج کے سیلابی پانی سے پنجاب کے 625 موضع جات متاثر ہوئےوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرنگرانی تاریخی ریسکیو آپریشن جاری ہے،سیلاب متاثرین کو خوراک اور صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور فیلڈ اسپتالوں کے ذریعے متاثرین کو انسولین اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جن شہروں میں سیلابی پانی کا بہاؤ زیادہ ہے وہاں مشینری اور عملہ تعینات ہے۔ اور ممکنہ مقامات سے پانی کا بہاؤ موڑا کر آبادیوں کو بچایا جا رہا ہے۔

    انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے کا خدشہ

  • ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    دریائے ستلج اور فیروزپور بیراج کے قریب بھارتی وارننگ پر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 8 سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی ہے،وزارتِ آبی وسائل کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ7 ستمبر2025 صبح 8 بجے دریائے ستلج کے علاقے ہریکے اور فیروزپور کے نیچے حصوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

    مشترکہ کمشنر برائے سندھ طاس، محمد خورشید اصغر نے ہنگامی مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاع باقاعدہ منظوری کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہے،مراسلے کی نقول چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA)، فوجی اور کور انجینئرز کے اداروں، محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ محکموں کو بھیجی گئی ہیں۔

    انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے کا خدشہ

    ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی کے اچانک اخراج کے باعث پاکستان کے نشیبی علاقے خصوصاً پنجاب اور جنوبی حصے متاثر ہوسکتے ہیں،متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کی جائے۔

    محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 8 ستمبر سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کر دی ہےمراسلے کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بھاری سے انتہائی بھاری بارشیں اور کہیں کہیں انتہائی شدید بارشیں متوقع ہیں،سب سے زیادہ بارشوں کا امکان سکھر، میرپور خاص، شہید بینظیرآباد، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور بہاولپور ڈویژن میں ہے۔

    اسی طرح بالائی دریائی علاقے بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، مردان، گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال اور ڈی جی خان میں بھی شدید بارشیں برسنے کا خدشہ ہےدریاؤں کی صورتحال کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جو آئندہ دنوں میں برقرار رہنے کا امکان ہے.

    جبکہ دریائے راوی بلکیسر کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب اور سدھنائی و جسر کے مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کا سامنا کر رہا ہےدریائے پنجند میں بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جو آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہنے کا خدشہ ہے،اسی طرح ڈی جی خان، راجن پور، کوہِ سلیمان اور مشرقی بلوچستان کے علاقوں میں بھی فلیش فلڈنگ کے امکانات ہیں۔

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کا ایک مضبوط سسٹم بھارت کے علاقے راجستھان سے پاکستان میں داخل ہوا ہے جس نے بارشوں کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس دوران وسطی اور بالائی سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے،محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔