Baaghi TV

Category: پنجاب

  • 38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے،یہ  کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے،مریم نواز

    38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے،یہ کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کشتی میں سوار کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔

    مریم نواز کشتی میں سوار ہو کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے پہنچیں، مریم نواز نے کشتی میں سوار ہو کر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ حکام کی جانب سے انہیں دریائے راوی میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال پر بریف کیا گیا۔

    https://x.com/PTVNewsOfficial/status/1960974633647092209

    مریم نواز نے کہا کہ شدید ترین بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد سیلابی صورتحال ہے، یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے، بھارت نے اپنے ڈیم بھر جانے سے پانی چھوڑا تمام ادارے مکمل الرٹ تھے، انتظامیہ نے بہترین دن رات کام کیا ہے، ریسکیو، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اچھا کام کیا،نارووال، گجرات، سیالکوٹ میں صورتحال بہت خراب ہے، تمام متعلقہ اداروں سے آئندہ سال کے لیے سیلاب سے بچاؤ اور نقصانات سے بچنے کے لیے منصوبہ طلب کرلیا ہے۔

    سندھ میں سیلابی صورتحال، حکومت مکمل طور پر الرٹ ہے،شرجیل میمن

    مریم نواز نے کہا کہ وزیر اعظم نارووال گئے ہیں، کمشنرز، ڈی سی نے دن رات کام کیا اگر تیاری نا ہوتی تو نقصان بہت زیادہ ہوتا، 38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے ہمارے لیے ہر جان قیمتی ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا یہ سیلاب کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے، لوگوں کے مال مویشیوں کو منتقل کیا، اللہ نے بڑے نقصان سے بچایا ہے جو بھی نقصان ہوا ہے ، مجھے اس پر افسوس ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ بھارت میں بارشوں کے بعد ڈیموں میں پانی کا لیول بھر گیا تو انہوں نے اپنے ڈیمز کے اسپل ویز کھولے، جس سے ہمارے دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، پنجاب کے 3 دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے، پنجاب میں بارشیں بھی بہت زیادہ ہوئی ہیں،ہم اپنے متاثرہ عوام کے ہر قسم کے نقصان کا ازالہ کریں گے، میں نے راوی میں کبھی اتنا پانی نہیں دیکھا، پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے انفرااسٹرکچر بنانا بہت ضروری ہے،اس چیز پر کام کر رہے ہیں کہ سیلابی پانی کو کس طرح ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، اب پانی کا بہاؤ کم ہونا شروع ہو رہا ہے، ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کرنے چاہئیں۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں کا فضائی جائزہ لیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو سیلابی صورتحال اور ریسکیو آپریشن سے متعلق بریف کیا گیا۔

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، دریائے راوی میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی رفتار بھی تیز ہوگئی، آج دوپہر تک دریائے راوی سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے-

  • کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل  کی پیشگوئی

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے کل سے صوبے بھر میں مون سون کا 9 واں اسپیل شروع ہونے کی پیش گوئی کی ہے-

    پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کردی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کا 9 واں اسپیل کل سے شروع ہوگا، 29 اگست سے 2 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہےراولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی،نبیل جاوید کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مون سون بارشوں سے پنجاب کے دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں تمام ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران فیلڈ میں موجود رہیں محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات، لوکل گورنمنٹ اور لایئو اسٹاک کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہےشہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

    علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، جیل منتقل

  • وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعرات کو پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا فضائی اور زمینی دورہ کیا۔

    اس موقع پر انہیں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،روانگی سے قبل چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وزیراعظم کو ملک بھر کی سیلابی صورتحال اور جاری ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

    فضائی معائنے کے دوران وزیراعظم کو خاص طور پر نارووال اور گوجرانوالہ ڈویژن میں شدید متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مزید جانی و مالی نقصان روکنے اور ریلیف آپریشن تیز کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔

    https://x.com/GovtofPunjabPK/status/1960961380531781790

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گوجرانوالہ ڈویژن میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں سیالکوٹ کے 5، گجرات کے 4، نارووال کے 3، حافظ آباد کے 2 اور گوجرانوالہ کے 1 شہری شامل ہیں۔ مزید 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    حکام کے مطابق: پنجاب بھر میں 6 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد اور 35 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جب کہ769 دیہات زیرِ آب آ گئے جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو چکی ہے،نارووال میں سیلابی ریلوں نے تاریخی گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کے احاطے کو بھی ڈبو دیا-

    ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے کہا کہ 39 ہزار 638 افراد کو مختلف اضلاع سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جن میں سیالکوٹ، سرگودھا، چنیوٹ، گوجرانوالہ، ننکانہ، حافظ آباد، منڈی بہاالدین، گجرات، لاہور، نارووال، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی، بہاولپور اور لودھراں شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (UNOCHA) کے مطابق اس سال مون سون سے ہونے والی اموات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہیں۔

  • 29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے  کی پیشگوئی

    29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے )نے 29اگست سے 9ستمبر بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کردی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرنے کہاکہ 29اگست سے 9ستمبر تک بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگا،ملک میں مون سون بارشوں کا 8واں سلسلہ جاری ہے،پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں،جموں کے اطراف میں 300ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئیں،شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی ہے۔

    ادھربھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر گئی، اور دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے جب کہ کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گرودوارے میں داخل ہوگیا اور علاقے میں 300 لوگ پھنس گئے۔

    بجلی سستی ہونے کا امکان

    رپورٹ کے مطابق گجرات میں دریائے چناب کے کری شریف حفاظتی بند کے اوپر سے پانی گزرنا شروع ہو چکا ہے، سیلابی ریلا بند کو توڑتا ہوا سڑکوں پر آگیا، جہاں ٹریفک معطل اور ملحقہ دیہاتوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں،ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ 2014 کے تباہ کن سیلاب کی یاد دلا رہا ہے، جب تقریباً 50 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے۔

    شکر گڑھ میں سیلاب کے باعث دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں،متاثرہ علاقوں سراخ پور، کری شریف، خلیل پور اور دیگر دیہات میں ضلعی انتظامیہ کی امدادی ٹیمیں تاحال نہ پہنچ سکیں، مقامی افراد نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے،بھمبھر نالے میں طغیانی سے نواحی دیہات دادو برسالہ، گوجر کوٹلہ اور پلاوڑی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جہاں پانی کا کٹاؤ جاری ہے اور دیہاتوں کا فاصلہ محض 15 فٹ تک رہ گیا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی اس وقت ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے،محمد اورنگزیب

    شکرگڑھ کے گاؤں جرمیاں جھنڈا سے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے اسسٹنٹ کمشنر عدنان عاطف اور ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں،شدید بارش کے باعث ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اب تک 294 افراد کو دریائے راوی سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔

    راولپنڈی، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ اور حافظ آباد سے ریسکیو ٹیموں کو نارووال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ گجرات شہر میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں تاحال نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکےدریائے چناب میں ہیڈمرالہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 9 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ خانکی کے مقام پر 4 لاکھ 32 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    احسن اقبال کا کرتارپور کا ہنگامی دورہ

  • احسن اقبال کا کرتارپور کا ہنگامی دورہ

    احسن اقبال کا کرتارپور کا ہنگامی دورہ

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کرتارپور کا ہنگامی دورہ کیا اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کرتارپور کا ہنگامی دورہ کیا اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی کرتارپور میں بعض زائرین پانی کے ریلوں کے باعث محصور ہو گئے تھے وزیر نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور ان شاء اللہ تمام زائرین کو بحفاظت نکال لیا جائے گا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ "یہ بھارت کی آبی جارحیت کی بدترین مثال ہے بھارت دریاؤں پر پانی جمع کر کے بغیر اطلاع کے اچانک ریلوں کی صورت میں چھوڑ دیتا ہے، جس سے قیمتی جانوں اور املاک کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے،بھارت کا یہ اقدام اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کچھ معاملات قومی تنازعات اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوتے ہیں، "آبی وسائل کے معاملے پر ممالک کو تمام اختلافات ایک طرف رکھ کر تعاون کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ انسانی جان و مال کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔”

    بھارتی آبی جارحیت:دریائے چناب میں غیر معمولی سیلاب کا 11 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    پروفیسر احسن اقبال نے بھارت کے اس رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے قدرتی آفت کو بھی سیاست کا ذریعہ بنا دیا ہے اور پاکستان کے ساتھ بروقت معلومات شیئر نہیں کیں، جو انتہائی افسوسناک اور غیر انسانی طرزِ عمل ہے۔

    بھارت کی طرف سےاچانک دریائے راوی میں پانی چھوڑا گیا،عظمیٰ بخاری

  • ہیڈ قادر آباد پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، حفاظتی بند توڑ دیا گیا

    ہیڈ قادر آباد پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، حفاظتی بند توڑ دیا گیا

    دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے، بیراج کو بچانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے پاک فوج کی موجودگی میں حفاظتی بند توڑ دیا۔

    بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے دریاؤں میں پانی چھوڑ دیا ہے، جس کے باعث دریائے ستلج، راوی اور چناب بپھر گئے ہیں جبکہ آبپاشی اسٹرکچر کو بچانے کے لیے دریائے چناب میں ہیڈ قادرآباد دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس سے منڈی بہاؤالدین میں نقصان کا خدشہ ہے۔

    بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہےدریائے راوی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہونے سے گنڈا سنگھ کے قریب 50 سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی منتقلی کا عمل تیز کر دیا گیا ہےنارووال کے نالہ بئیں کا برساتی پانی آبادی میں داخل ہوگیا جہاں سے 126 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔ اسی طرح ظفروال میں پانی تیز بہاؤ کے باعث پل بہہ گیا۔ سیلاب کے نتیجے میں دریا کنارے کی درجنوں بستیاں زیر آب آ گئیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    https://x.com/ghazanfarabbass/status/1960625971964322141

    میڈیا رپورٹس کے مطابق رائٹ ڈاؤن اسٹریم بند میں بارودی مواد نصب کرکے شگاف ڈالا گیا، جس کے بعد منڈی بہاؤالدین کی آبادیوں کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے،انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہیڈ ورکس کی موجودہ گنجائش 8 لاکھ کیوسک ہے جبکہ اس وقت پانی کا بہاؤ 9 لاکھ 35 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہےموجودہ سیلابی صورتحال 2014 کے بعد سب سے اونچے درجے کے سیلابی ریلے کی صورت اختیار کرگئی ہے، جب ساڑھے 9 لاکھ کیوسک پانی قادر آباد سے گزرا تھاماضی میں بھی یہ دریا اطراف کی آبادیوں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا چکا ہے۔ 2014 میں آنے والے بڑے سیلابی ریلے نے لاکھوں ایکڑ اراضی زیر آب کرنے کے ساتھ ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا تھا۔

  • بھارتی آبی جارحیت َ کرتارپور ڈوب گیا، گردوارہ دربار صاحب متاثر

    بھارتی آبی جارحیت َ کرتارپور ڈوب گیا، گردوارہ دربار صاحب متاثر

    بھارت کی جانب سے دریاؤں میں لاکھوں کیوسک پانی چھوڑے جانے کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف علاقے شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہیں،دریائے ستلج میں شدید طغیانی سے 50 دیہات زیر آب آگئے جبکہ 126 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا سیلابی صورتحال میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے صوبے کے 7 اضلاع میں فوج کو طلب کرلیا گیا۔

    پاکستان میں حالیہ دنوں سیلابی صورتِ حال نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے کئی اضلاع میں کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، ہزاروں افراد بے گھر ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے،محکمہ موسمیات اور ندی نالوں کے حفاظتی اداروں نے مزید بارشوں اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    اس صورتحال میں نارووال کے قریب سکھوں کے مقدس مذہبی مقام گردوارہ دربار صاحب کرتارپور بھی متاثر ہوا ہے،نارووال میں سول انتظامیہ کی امداد اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوج طلب کرلی گئی ہے،سیلابی ریلے نے گردوارہ دربار صاحب کو گھیر لیا اور اس کی دیواریں اور اردگرد کے حصے پانی میں ڈوب گئے، جس سے مقامی آبادی اور سکھ برادری میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے-

    https://x.com/rizwan_media/status/1960557789010391397

    سکھ برادری نے حکومت پاکستان اور عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ کرتارپور راہداری اور گردوارہ دربار صاحب کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف گردوارہ بلکہ پورا علاقہ شدید متاثر ہو سکتا ہے-

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار

    سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، 72 سے زائد دیہات شدید متاثر

    آج رات شاہدرہ سے بڑا سیلابی ریلا گزرے گا،چناب،راوی میں فلڈ الرٹ جاری

  • سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، 72 سے زائد دیہات شدید متاثر

    سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، 72 سے زائد دیہات شدید متاثر

    بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے کے باعث دریائے ستلج، راوی اور چناب بپھر گئے، دریائے ستلج میں شدید طغیانی سے 72 سے زائد دیہات زیر آب آگئے-

    دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، ستلج کے پانی سے بیری پیر سمیت کئی مقامات پر سے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، 72 دیہات شدید متاثر گھروں اور کھیتوں میں پانی داخل ہوگیا، لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے، گنڈا سنگھ کے قریب 50 سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی منتقلی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 4 53 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 23 فٹ تک پہنچ گئی، دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال پر فوج بھی طلب کر لی گئی ہے، ریسکیو آپریشن سمیت امدادی سرگرمیوں میں فوج حصہ لے گی۔

    ڈپٹی کمشنر عمران علی نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے مزید پانی کی آمد کا عندیہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122، پولیس اور ریونیو عملہ رات بھر پانی میں پھنسے لوگ کو نکالنے میں مصروف رہا، ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال ہے اب 24 گھنٹے کام کریں اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے۔

    ڈپٹی کمشنر عمران علی نے کہا کہ لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اس مصیبت میں ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ دوسری جانب دریائے چناب میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلابی پانی وزیر آباد کے متعدد دیہاتوں میں داخل ہوگیا، متاثرہ علاقوں میں سوہدرہ، رسول نگر، رتووالی شمال، گورالی، شامل ہیں، کوٹ کہلوان، چک علی شیر، جھامکے کے 5 مواضعات بھی شدید متاثر ہیں۔

    برج دھلا، بھرج چیمہ، گڑھی غلہ، کوٹ راتہ اور تھاٹی بلوچ کے علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، ڈپٹی کمشنرگوجرانوالہ کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں میں 13 ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ نے اب تک 5 ہزار 100 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، سیلابی پانی سے 1 ہزار 700 جانوروں کا بھی انخلاء مکمل کیا گیا ہے،دریائے راوی میں ممکنہ سیلاب کے بارے میں الرٹ جاری کر دیاگیا ہے،فتیانہ، ماڑی پتن اور عالم شاہ کی آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    نارووال کے نالہ بئیں کا برساتی پانی آبادی میں داخل ہوگیا جہاں سے 126 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔ اسی طرح ظفروال میں پانی تیز بہاؤ کے باعث پل بہہ گیا۔ سیلاب کے نتیجے میں دریا کنارے کی درجنوں بستیاں زیر آب آ گئیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر امدادی اقدامات کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں،سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب کے 7 اضلاع لاہور، اوکاڑہ، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، سرگودھا اور نارووال میں سول انتظامیہ کی امداد اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوج طلب کرلی گئی ہے۔

    پنجاب کے 7 اضلاع میں ضلعی انتظامیہ نے فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست کی تھی جس کے بعد آج محکمہ داخلہ پنجاب نے فوج کی فوری تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے، جس کے تحت فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سیلابی صورتحال میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا گیا ہے، بھارت کی آبی جارحیت سے پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے، ان 7 اضلاع میں فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد طے ہوگی، سیلابی علاقوں میں آرمی ایوی ایشن سمیت دیگروسائل فراہم ہوں گے جبکہ پنجاب حکومت کےتمام ادارے سیلابی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب این ڈی ایم اے نے دریائے چناب، راوی اور ستلج بارے ایمرجنسی الرٹ جاری کیا ہے، نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق دریائے چناب، راوی اور ستلج میں غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے، دریائے چناب میں مرالہ پر 7لاکھ69ہزار481 کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ موجود جو مزید تجاوز کر سکتا ہے۔

    دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر 7لاکھ 5ہزار225 کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ موجود، جسکا بہاؤ کم ہو رہا ہے،دریائے راوی میں جسر کے مقام پر 2 لاکھ2ہزار200 کیوسک کا اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جو 2 لاکھ29ہزار700 کیوسک پر پہنچ سکتا ہے،دریائے چناب کے اطراف میں 128 دیہات زیرِ آب آچکے ہیں تاہم لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے 90 کروڑ روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔

    دریائے چناب میں پانی بڑھنے سے سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے 41 دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ قریبی دیہات سے آبادی کا انخلا جاری ہے

    دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر72900 کیوسک کابہاؤ جاری ہے، سیلابی ریلے کی وجہ سے شاہدرہ،پارک ویو اور موٹر وے ٹو کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 2.45 لاکھ کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ برقرار ہے، دریائے ستلج میں سلیمانکی کے مقام پرحالیہ بہاؤ 1 لاکھ 355 کیوسک سیلابی ریلہ برقرار ہے۔

    وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں کی نگرانی کر رہا ہے،نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے کے لئے مکمل فعال ہے،این ڈی ایم اے سول و عسکری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے، دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افرادکو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • عظمیٰ بخاری نے صوبے کے قرضوں سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا

    عظمیٰ بخاری نے صوبے کے قرضوں سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے صوبے کے قرضوں سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا۔

    اپنے بیان میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یہ خبر جھوٹ اور غلط فہمی پر مبنی ہے اور مالیاتی معاملات کی بنیادی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والے افراد ایسی اطلاعات پھیلا رہے ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک روپیہ بھی قرض نہیں لیا، رپورٹ میں جس رقم کا ذکر ہے وہ دراصل پنجاب حکومت کی فیڈرل گورنمنٹ کے ٹی بلز میں سرمایہ کاری ہے، جس کا مقصد منافع حاصل کرنا ہے، قرض لینا نہیں، پنجاب اس وقت ایک سرپلس صوبہ ہے اور صوبائی حکومت کے اکاؤنٹس میں ایک ٹریلین روپے سے زائد رقم موجود ہے، اس لئے پنجاب کو کسی سے قرض لینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ٕ

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ رپورٹ میں جن اداروں کا ذکر ہے وہ ممکنہ طور پر وفاقی حکومت کے ہیں، پنجاب کے زیر انتظام کسی ادارے نے کوئی قرض نہیں لیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ خبر لکھنے والے کو یہ بنیادی بات بھی معلوم نہیں تھی کہ 2019 کے بعد سٹیٹ بینک ایکٹ کے تحت کسی بھی حکومت، چاہے وفاقی ہو یا صوبائی، کو براہ راست سٹیٹ بینک سے قرض لینے کی اجازت نہیں،جھوٹی اور بے سروپا خبریں پھیلانے والے صحافی کو اپنی خبر پر شرمندگی کا اظہار کرنا چاہیے، بصورت دیگر حکومت قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان کے وکلا اور اہلخانہ کو سماعت میں شامل ہونے کی اجازت

  • پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    لاہور: صوبہ پنجاب رواں مالی سال کے آغاز میں ملک کا سب سے بڑا قرض لینے والا صوبہ بن گیا ہے، جہاں صرف 38 دنوں (یکم جولائی سے 8 اگست 2025) کے دوران اسٹیٹ بینک سے 405 ارب روپے کا بھاری قرض لیا گیا۔

    بلوم،پاکستان،کےمطابق،یہ قرضہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جو مالیاتی ماہرین کے مطابق صوبے کے معاشی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہےاعداد و شمار کے مطابق سندھ نے اسی مدت میں 16 ارب، خیبرپختونخوا نے 21 ارب جبکہ بلوچستان نے صرف 13 ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا جس کے مقابلے میں پنجاب کا قرضہ تقریباً 25 گنا زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث اسٹیٹ بینک سے براہِ راست قرض نہیں لے سکتی تاہم صوبائی حکومتیں بدستور مرکزی بینک پر انحصار کررہی ہیں۔

    دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ 30 سال سے زائد پرانے 675 ارب روپے کے بینکی قرضوں کی ادائیگی مکمل کرلی گئی ہے جو زیادہ تر گندم کی خریداری اور سبسڈی پروگرامز سے وابستہ تھےاس اقدام کو تاریخی فیصلہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں روزانہ 25 کروڑ روپے سود کی ادائیگی کا بوجھ ختم ہوگیا ہے اور وسائل عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے دستیاب ہوسکیں گے، بشمول اپنا گھر اپنی چھٹ پروگرام جس کا مقصد سستی رہائش ہے۔

    حکام کے مطابق قومی بینک کو 13.8 ارب روپے کی آخری قسط بھی ادا کردی گئی ہے اور بینکوں کی طرف سے قرض کو رول اوور کرنے کی تمام درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں اگر یہ ادائیگی نہ کی جاتی تو پنجاب کو ماہانہ 50 کروڑ روپے کے سود کا سامنا کرنا پڑتا۔

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    دوسری جانب سرکاری ادارے بدستور خسارے میں چل رہے ہیں اور صرف اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے مزید 65 ارب روپے کے کمرشل بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں ان اداروں کا مجموعی واجب الادا قرض اب 2166 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔

    وفاقی حکومت نے بھی اپنے محدود دائرہ کار میں رہتے ہوئے 55 ارب روپے کی ادائیگی اسٹیٹ بینک کو کی ہے، جس سے 30 جون 2025 تک اس کے واجب الادا قرضے کم ہوکر 5269 ارب روپے رہ گئے ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا