پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گلبرگ میں واقع ایک نجی کالج میں طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پنجاب پولیس نے بیان جاری کیا ہے کہ کالج کے حوالے سے غلط خبر پھیلائی گئی، جس کی وجہ سے شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ اس کے جواب میں وزارت تعلیم نے نجی کالج کو سیل کر دیا ہے اور اگر رجسٹریشن منسوخ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ایس ڈی پی او بانو نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط خبریں چلائی گئیں، جس کی وجہ سے لاہور میں ہنگامے ہوئے۔ انہوں نے کالج انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ اگر کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پولیس کو اطلاع کریں اور امن و امان کی صورتحال کو اپنے ہاتھوں میں نہ لیں۔
اس واقعے کے خلاف کالج کی طالبات نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا اور کنال روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ بند کر دی۔ پولیس نے بتایا کہ مبینہ زیادتی کی واقعے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی اور متاثرہ بچی یا اس کے خاندان کا کوئی فرد سامنے نہیں آیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبر کے بعد اسپتالوں میں چیک کیا گیا، لیکن کسی اسپتال میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ کالج انتظامیہ سے بات چیت کی گئی اور سکیورٹی گارڈز کا ریکارڈ لیا گیا۔ ایک گارڈ کو حراست میں لیا گیا، لیکن وہ واقعے سے انکاری ہے۔ فیصل کامران نے طلباء سے کہا کہ اگر کسی کے پاس متاثرہ لڑکی کی تفصیلات ہیں تو وہ شیئر کریں۔
طلبہ نے گلبرگ کیمپس کے باہر شدید احتجاج کیا، جس کے دوران سیکیورٹی گارڈز نے کلاس رومز اور مرکزی گیٹ کو بند کرنے کی کوشش کی۔ طلبہ نے اس پر توڑ پھوڑ شروع کر دی، جس میں سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑنا اور کرسیوں کو آگ لگانا شامل ہے۔ احتجاج کے دوران ایک طالب علم زخمی ہوا، اور چند طالبات کی حالت خراب ہو گئی۔ وزیر تعلیم پنجاب، رانا سکندر حیات، نے طلبہ سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ طالبہ کو انصاف دیا جائے گا اور ملزمان کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔
پولیس کی بھاری نفری کالج کے باہر اور اندر موجود ہے، اور انہوں نے طلبہ کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے۔ ترجمان لاہور پولیس نے بتایا کہ پولیس کالج انتظامیہ اور طلبا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔فیصل کامران نے مزید وضاحت کی کہ 4 سے 5 نجی اسپتالوں میں طالبہ کے داخلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا، اور کالج کے اندرونی حصوں کے کلوز سرکٹ کیمروں سے بھی کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے طلبہ سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور اگر کوئی متاثرہ طالبہ ہے تو پولیس کو آگاہ کرنے کی اپیل کی۔
Category: پنجاب

لاہور میں نجی کالج میں مبینہ زیادتی کا معاملہ: پولیس نے غلط خبر پھیلانے کا الزام لگایا

پنجاب: موسم سرما کے لیے سرکاری سکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان
محکمہ اسکول ایجوکیشن نے سردیوں کے موسم کے پیش نظر سرکاری اسکولوں کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سردیوں میں اسکول صبح 8 بج کر 45 منٹ پر کھلیں گے، جبکہ طلبہ کو چھٹی 2 بج کر 45 منٹ پر ہوا کرے گی۔ جمعہ کے روز اسکول میں چھٹی کا وقت دوپہر 12 بج کر 45 منٹ ہوگا۔دو شفٹوں میں کام کرنے والے اسکولوں کے لیے بھی نئے اوقات کار کا تعین کر دیا گیا ہے۔ پہلی شفٹ کے اسکول روزانہ صبح 8 بج کر 45 منٹ پر کھلیں گے اور چھٹی کا وقت 12 بج کر 45 منٹ ہوگا۔ تاہم جمعہ کے روز پہلی شفٹ کے لیے چھٹی کا وقت دوپہر 12 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری شفٹ کا آغاز دوپہر 1 بجے سے ہوگا اور یہ اسکول شام 5 بجے تک کھلے رہیں گے، جمعہ کے روز دوسری شفٹ دوپہر 2 بجے شروع ہوگی اور شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔
اساتذہ کے لیے بھی حاضری کے نئے اوقات کار کا اعلان کیا گیا ہے۔ اساتذہ کو ہر روز صبح 8 بج کر 30 منٹ پر اسکول میں حاضر ہونا ہوگا اور وہ طلبہ کے بعد دوپہر 3 بجے چھٹی کریں گے۔ یہ نئے اوقات کار موسمِ سرما کی تعطیلات تک نافذ العمل رہیں گے، تاکہ طلبہ اور اساتذہ دونوں سرد موسم میں سہولت کے ساتھ اپنے تعلیمی عمل کو جاری رکھ سکیں۔محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ یہ اقدام سردیوں کے دوران طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر سہولت فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے طلبہ اور اساتذہ دونوں کو شدید سرد موسم میں آسانی میسر آئے گی، جبکہ تعلیمی معیار بھی برقرار رہے گا۔
پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ نے ہاسٹل میں خودکشی کر لی، بلیک میلنگ کا انکشاف
پنجاب یونیورسٹی کی ہاسٹل نمبر 8 میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سمبڑیال سے تعلق رکھنے والی اُمِ حبیبہ، جو انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (IER) کے پانچویں سمسٹر کی طالبہ تھیں، نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اُمِ حبیبہ کی لاش ہاسٹل کے کمرہ نمبر 91 میں پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اُمِ حبیبہ کو سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا مبینہ طور پر بلیک میل کر رہا تھا، جو اس سانحے کی ممکنہ وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، پولیس کی جانب سے اس بات کی تصدیق ہونا باقی ہے اور تفتیش جاری ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ہاسٹل وارڈن نے دروازہ توڑ کر اُمِ حبیبہ کی لاش کمرے سے نکالی۔ پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق، اُمِ حبیبہ کے والدین کو اس افسوسناک واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ خودکشی کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
لاہور: فلار ملز کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ
لاہور کی فلار ملز نے 20 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 20 روپے اور 10 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 10 روپے اضافہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد لاہور کے عوام کے لئے آٹے کی دستیابی مزید مہنگی ہو گئی ہے، جس سے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ڈیلرز کے مطابق، یہ قیمتوں میں اضافہ پانچ بڑی فلار ملز کی جانب سے کیا گیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے آٹے کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔ گندم کی مہنگائی نے فلار ملز کی کاروباری حالت کو متاثر کیا ہے، اور انہوں نے صارفین کی قیمتوں میں اضافے کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم، عوامی حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قیمتوں میں اضافہ بغیر کسی واضح وجہ کے ہوتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین کے حقوق کے علمبرداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کو فلار ملز کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اشیاء کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے کو روکا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے کاروباری ادارے مل کر اجارہ دارانہ کیفیت پیدا کر لیتے ہیں، جس کا بھرپور فائدہ وہ عوامی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر اٹھاتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔یہ صورتحال ملک کی معیشت اور عام لوگوں کے روزمرہ زندگی پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ قیمتوں کی کنٹرولنگ میں کیا مشکلات درپیش ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے حکومتی مداخلت کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا آب و ہوا کی ڈپلومیسی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کا آغاز
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج لاہور میں "گرین پنجاب ایپ” اور "سموگ ہیلپ لائن 1373” کا افتتاح کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہمیں بھارت کے ساتھ کلائمیٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے” اور اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی مسائل صرف پنجاب یا پاکستان تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری قوم کے لئے ایک اہم چیلنج ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ انہیں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انٹرن شپ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو ملنے والی وظیفہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر 60 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 25 ہزار روپے کی رقم بچوں کے لئے ناکافی تھی، اسی لئے انہوں نے اس میں اضافہ کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پورے پنجاب سے ایک ہزار انٹرنز کو شامل کیا گیا ہے، جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ انٹرن شپ کے بعد نوجوانوں کو ان کے اپنے شعبے میں نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "پاکستان میں ماحولیات کے مسائل پر حکومتوں نے درست طریقے سے کام نہیں کیا”، اور اب جب یہ مسائل روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، تو ہمیں ان کی اہمیت کا احساس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اپنے ماحول کو بہتر بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے” اور یہ کہ ان کی حکومت نے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے مختلف منصوبے شروع کئے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ "جو طلبہ صوبائی حکومت اور نجی شعبے کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، ان کے لئے سہولت کاری کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے اور سموگ کے سبب سکول اور دفاتر بند کرنا پڑتے ہیں۔ مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں بھارت کے ساتھ کلائمیٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے” کیونکہ انڈسٹری کی وجہ سے ایئر کوالٹی خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دسمبر میں 28 الیکٹرک بسیں لاہور میں متعارف کرائی جائیں گی اور بسوں کے الیکٹرک چارجنگ سٹیشن سولر پر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "پنجاب حکومت روزانہ ایک نیا منصوبہ لانچ کرتی ہے” اور یہ کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ "پنجاب حکومت کبھی عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کرتی” اور ماحولیاتی مسائل کو بہتر بنانے کے لئے 25 کروڑ عوام کو اس مسئلے کا حصہ سمجھنا ہوگا۔
مریم نواز نے اپنی تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، بغیر نام لئے کہا کہ "ان کو احتجاج کے لئے سرکاری لوگوں کو بلانا پڑتا ہے” اور یہ کہ "آپ کا ایجنڈا ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔” انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ "اسی افراتفری کے دوران اسلام آباد کا ایک جوان شہید ہو گیا” اور واضح کیا کہ سیاسی سموگ پھیلانے والوں کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ مریم نواز نے مریم اورنگزیب اور ان کی ٹیم کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "جتنا میں ماحولیات پر کام کرنا چاہتی تھی اس سے زیادہ مریم اورنگزیب نے اس پر کام کیا ہے۔”
موجودہ حکومت ایک مجبوری کا اتحاد ہے، گورنر پنجاب
رحمان پورہ میں ایک تقریب کے دوران گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت، جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں، دراصل محبت کا نہیں بلکہ مجبوری کا اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا، "ملک اس وقت کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا،” اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ استحکام اور مؤثر حکومت کی ضرورت ہے۔گورنر خان نے صوبے کی بہتری کے لیے اولین ترجیح دینے پر زور دیا اور کہا کہ انتظامیہ کو اسلامی اصولوں کے مطابق میرٹ پر چلنا چاہیے۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف سخت زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اخلاقی حکمرانی عوام کا اعتماد بحال کرنے اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
گورنر نے اتحادی حکومت کے چیلنجز کا ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ وہ اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر پیپلز پارٹی کو اس کے نتیجے میں سیاسی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک کی عزت و وقار کے لیے اکھٹے ہوں، حالانکہ وہ اپنے احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ "ہمیں اتحاد کو چلانا ہے، لیکن اس کی سیاسی مضمرات کا خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر پیپلز پارٹی کے لیے ہے،سردار سلیم حیدر خان نے پاکستان کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے خارجی عوامل پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر چینی صدر کے دورے کے حوالے سے، جو انہوں نے اس وقت میں اہم قرار دیا جب بین الاقوامی رہنما پاکستان آنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ انہوں نے بیرونی سازشوں، دہشت گردی، اور قانون و نظم کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کیا، اور ان مسائل کا تعلق ناقص حکمرانی سے جوڑا۔
گورنر نے ایک زیادہ خوش امید لہجے میں کہا کہ چیزیں بہتری کی طرف بڑھ رہی ہیں، مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا ذکر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کامیاب شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کانفرنس سے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں سے درخواست کی کہ وہ عوامی بھلائی کے لیے اپنے ذاتی ایجنڈے کو چھوڑ دیں، کہا، "خدا کے لیے، تھوڑی دیر کے لیے سیاست کو چھوڑ دیں اور غریبوں کو ریلیف دینے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں۔سابق وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے لیے ایک واضح پیغام دیتے ہوئے، گورنر خان نے انہیں ہٹ دھرمی چھوڑنے کی اپیل کی، کہا کہ "اگر انہوں نے منفی سیاست نہ چھوڑی تو پھر پی ٹی آئی تباہ ہو جائے گی۔ عقل کا استعمال کریں، یہ ملک کے لیے اور ان کے لیے بھی بہتر ہوگا۔”یہ تقریر گورنر کے پنجاب اور پاکستان کے درپیش مسائل کے حل کے لیے عزم کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ اس نے مشکل وقت میں سیاسی جماعتوں کے درمیان یکجہتی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: محکمہ خوراک ختم، نئی پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا قیام
لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں غذائی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے محکمہ خوراک پنجاب کو ختم کر دیا ہے۔ اس کی جگہ نیا پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے جو خوراک کے متعلق تمام اہم امور کی ذمہ داری سنبھالے گا۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو غذائی اشیاء کی قیمتوں اور انتظامی امور کی نگرانی کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا قیام بنیادی طور پر اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں استحکام اور مناسب کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ نیا ڈیپارٹمنٹ نہ صرف گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے بارے میں فیصلے کرے گا بلکہ ان پر عملدرآمد کی بھی نگرانی کرے گا۔ یہ ادارہ اشیائے خورونوش کی پیداوار سے لے کر ان کی مارکیٹ تک رسائی کے تمام مراحل پر نظر رکھے گا تاکہ عوام کو معیاری اور مناسب قیمت پر غذائی اجناس دستیاب ہوں۔
محکمہ خوراک کا خاتمہ ایک اہم قدم ہے جسے صوبائی حکومت نے اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف لڑائی کے تناظر میں اٹھایا ہے۔ صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق، محکمہ خوراک کو ختم کرنے کا مقصد نظام کو بہتر بنانا اور عوامی مفاد میں زیادہ شفافیت اور فوری عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔حالیہ برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے واقعات نے عوام کو شدید مشکلات کا شکار کیا ہوا تھا، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔ نئے ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا بنیادی مقصد اشیاء خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور مصنوعی مہنگائی کا تدارک کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے قیمتوں کے تعین اور ان پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔پنجاب حکومت کے اس اہم فیصلے سے توقع کی جا رہی ہے کہ صوبے میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور عوام کو سستے اور معیاری غذائی اجناس فراہم ہوں گی۔
ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس میں اس کے اختیارات اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ تمام غذائی اجناس کے کاروبار اور قیمتوں کے کنٹرول سے متعلق پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالے گا۔یہ اقدام پنجاب حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی کے چنگل سے نجات دلانے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے میں سنجیدہ ہے۔
مریم نواز کا ہمت کارڈ منصوبے کے افتتاح کے دوران کے پی حکومت پر تنقید
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج ہمت کارڈ منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا، جس کی تقریب میں انہوں نے خصوصی افراد کے حقوق اور ان کی بہبود کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں کہ ایک اور خواب کی تکمیل ممکن ہوئی، اور ہم خصوصی افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مریم نواز نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت صوبے میں 65 ہزار خصوصی افراد کو ہمت کارڈ دیئے جائیں گے، جنہیں مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمت کارڈ منصوبے کے لیے 2 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اور اس کارڈ کے حامل افراد کو تین ماہ میں ساڑھے دس ہزار روپے ملیں گے۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ "پنجاب حکومت خصوصی افراد کو تنہا نہیں چھوڑے گی، ہم ان کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔مریم نواز نے مزید کہا کہ ہمت کارڈ کے ذریعے ملنے والی رقم میں اضافہ کیا جائے گا، اور اس منصوبے کے تحت خصوصی افراد کو میٹرو بس میں فری سفر کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ "کیا وجہ ہے کہ (ن) لیگ کے دور میں ملک ترقی کرتا ہے؟” انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے دور میں موٹرویز کی تعمیر اور مہنگائی میں کمی ہوئی۔ انہوں نے سابقہ حکومت کی نااہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "گزشتہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، لیکن آج یہ مسلسل کم ہو رہی ہے۔مریم نواز نے خاص طور پر روٹی کی قیمت میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "روٹی کی قیمت پہلے 25 روپے تھی اور آج یہ 12 روپے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے، بلکہ وہ ہمیشہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔خیبرپختونخوا کے حالات اور پی ٹی آئی پر تنقید
تقریب کے دوران مریم نواز نے خیبرپختونخوا کے عوام کے حالات پر بھی تبصرہ کیا، کہا کہ "میرا دل خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے دھڑکتا ہے۔” انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا کام صرف "جلاؤ گھیراؤ” کرنا ہے، جو عوام کی خدمت میں خلل پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ دوسرے صوبے پر حملہ کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا کے عوام کی خدمت کریں۔وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا، "یہ لوگ پنجاب کے اوپر بار بار حملہ کر رہے ہیں، اور ریسکیو 1122 کی گاڑیوں کو جلسوں میں لایا جا رہا ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا پیسہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے، اور انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھول میں نہ رہنا، "مجھے دہشت گردوں سے نمٹنا آتا ہے۔”
پنجاب کے 6 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ
پنجاب کے 6 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق میانوالی، فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور چنیوٹ میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوامی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں کو روکنا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے حملے سے بچا جا سکے۔میانوالی میں دفعہ 144 کا نفاذ یکم اکتوبر سے 7 اکتوبر تک رہے گا۔ جبکہ فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور چنیوٹ میں دفعہ 144 صرف دو دن کے لیے لاگو ہو گی۔محکمہ داخلہ کے مطابق، یہ فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارشات کے بعد کیا گیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات اور مظاہرے دہشت گردوں کے لیے "سافٹ ٹارگٹ” ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ بڑے عوامی اجتماعات کے دوران دہشت گرد عناصر کسی بڑے حملے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
دفعہ 144 کے تحت ان اضلاع میں سیاسی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، اور دیگر عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔ کسی بھی شخص یا گروہ کو بغیر اجازت کسی بھی قسم کا عوامی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ ممکنہ سکیورٹی خدشات سے بچا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان دنوں میں دہشت گردی کے خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اور یہ پابندی عارضی ہوگی، جو حالات کے بہتر ہوتے ہی ختم کر دی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دوران کسی بھی قسم کی غیر ضروری نقل و حرکت اور اجتماعات سے گریز کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
بینائی سے محروم افراد کا دھرنا 9ویں روز میں داخل، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج جاری
لاہور: بینائی سے محروم افراد کا احتجاجی دھرنا نویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ مظاہرین نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کے منصوبے کو تبدیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا ہے۔نابینا افراد نے حکومت کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے پر فیصل چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کا آغاز کیا تھا۔ مارچ کے دوران گورنر ہاؤس کے قریب مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے افراد زخمی ہوئے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران اور ڈی سی لاہور سمیت دیگر حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نابینا افراد پر تشدد کی خبریں غلط ہیں۔ "ہم گزشتہ 9 دنوں سے ان کے ساتھ ہیں اور ہمارے بھی 8 سے 10 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ حکومتی ہدایات کے مطابق ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور ان کے مطالبات کے حوالے سے جلد ایک پلان کا اعلان کیا جائے گا۔دوسری جانب نابینا مظاہرین نے کہا کہ وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ان کے مطالبات کو فوری تسلیم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مستقل ملازمتوں کی فراہمی کا اعلان نہیں ہوتا، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔









