Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ

    یوم وفات: 21 اپریل 1938

    مختصر تعارف

    نام محمد اقبال، ڈاکٹر ،سر، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘ اور ’’شاعر مشرق‘‘۔

    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ایف اے مرے کالج، سیالکوٹ سے کیا۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی ۱۹۲۲ء میں ان کی اعلا قابلیت کے صلے میں حکومت برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب عطا کیا ۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے جو خطبہ دیا اس میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ پیش کیا جس کا نتیجہ بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا علامہ اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت بھی تلمذ رہا۔علامہ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ ہائے کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘ علامہ اقبال ۲۱؍اپریل، ۱۹۳۸ بمطابق ۲۰، صفر المصفر ۱۳۵۷ء کو فجر کے وقت اپنے گھر جاوید منزل میں طویل علالت کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کو لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا.

    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
    کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
    تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
    ۔۔۔۔۔۔۔
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
    نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
    جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
    وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
    میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

    اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
    خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عجب مزہ ہے مجھے لذت خودی دے کر
    وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
    اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
    جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
    کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو بتاؤ مسلمان بھی ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
    تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
    مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
    مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
    ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
    کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
    میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
    کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
    لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
    تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
    کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبال اپنے آپ کو
    آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

  • جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
    خط کس لیے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے
    ..
    حسرت جے پوری

    یومِ پیدائش : 15 اپریل 1922

    اصل نام محمد اقبال حسین اور حسرت تخلص تھا۔ ۱۹۱۸ء میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن جے پور(بھارت) تھا۔ روزگار کے سلسلے میں بمبئی آگئے۔ بمبئی میں انھوں نے کئی سال تک بس کنڈکٹری کی۔ اس سے قبل اوپیراہاؤس کے فٹ پاتھ پر کھلونے فروخت کیے۔ اسکول میں معمولی ملازمت کی۔ اس دوران ان کی شاعری کا شغل جاری رہا۔ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کو ان کا کلام بہت پسند آیا۔ ان کی وساطت سے انھیں راج کپور کی فلم’’برسات‘‘ میں گانے لکھنے کا موقع مل گیا۔ اس طرح وہ فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔ وہ بالی ووڈ (بمبئی) کے ممتاز نغمہ نگار تھے۔ ۱۷؍ستمبر۱۹۹۹ء کو بمبئی میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:95
    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں
    وہ غیر کی بانہوں میں آرام سے سوتے ہیں

    ہم اشک جدائی کے گرنے ہی نہیں دیتے
    بے چین سی پلکوں میں موتی سے پروتے ہیں

    ہوتا چلا آیا ہے بے درد زمانے میں
    سچائی کی راہوں میں کانٹے سبھی بوتے ہیں

    انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرتؔ
    ملنے کو تو ملتے ہیں نشتر سے چھبوتے ہیں
    ….۔۔۔۔۔

    یہ کون آ گئی دل ربا مہکی مہکی
    فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی
    وہ آنکھوں میں کاجل وہ بالوں میں گجرا
    ہتھیلی پہ اس کے حنا مہکی مہکی
    خدا جانے کس کس کی یہ جان لے گی
    وہ قاتل ادا وہ قضا مہکی مہکی
    سویرے سویرے مرے گھر پہ آئی
    اے حسرتؔ وہ باد صبا مہکی مہکی

    شعلہ ہی سہی آگ لگانے کے لیے آ
    پھر نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ
    یہ کس نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے
    آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ
    اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا
    تو زلف کی کملی میں چھپانے کے لیے آ
    دیوار ہے دنیا اسے راہوں سے ہٹا دے
    ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ
    مطلب تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے
    حسرتؔ کی قسم دل ہی دکھانے کے لئے آ

  • سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار (The Secnd Sex کی خالق)

    یومِ پیدائش : 9 جنوری 1908
    یوم وفات : 14 اپریل 1986

    سيمون دی بووار ( Simone de Beauvoir) عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی ادیبہ، ناول نگار، آپ بیتی نگار، مصنفہ، فلسفی اور سیاسی کارکن تھیں جن کی کئی کتابیں شائع ہوئیں ۔ وہ 9 جنوری 1908ء کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہوئیں اور 14 اپریل 1986ء کو پیرس میں ہی اُن کا انتقال ہوا اور وہیں سپرد خاک ہوئیں۔

    سيمون دی بووار کی شہرہ آفاق تصنیف : عورت یا سیکنڈ سیکس . جو اپنے انگریزی نام سیکنڈ سیکس سے مشہور ہے، 1949ء میں شائع ہونے والی مشہور فرانسیسی وجودی سیمون دی بووار کی نسائیت سے متعلق کتاب ہے، جس میں مصنفہ نے پوری تاریخ میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بحث کی ہے۔سیمون دی بووار نے 1946ء سے 1949ء کے درمیان میں تقریباً 14 ماہ میں تحقیق کی اور کتاب لکھی۔اس نے اسے دو جلدوں میں، حقائق اور خرافات اور رواں تجربہ میں شائع کیا ۔کچھ ابواب پہلے لیس ٹیمپس ماڈرنز میں شائع ہوئے۔سیمون دی بووار کی یہ مشہور کتاب، دی سیکنڈ سیکس The Second Sex اکثر نسائیت کے فلسفے کا ایک بڑا کام اور نسائیت کی دوسری لہر کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔

    خلاصہ: سیمون دی بووار سوال اٹھاتی ہے کہ عورت کیا ہے؟ اس کا موقف ہے کہ انسان کو پہلے سے طے شدہ (یعنی انسان سے مراد مرد) سمجھا جاتا ہے، جب کہ عورت کو "دوسری” (یعنی انسان کی مونث) سمجھا جاتا ہے: "اس طرح انسانیت (سے مراد صرف) مرد ہے اور مرد، عورت کی خود سے نسبت ظاہر کرتا ہے۔” سیمون دی بووار نے مختلف مخلوقات (مچھلی، کیڑے مکوڑے، ممالیہ) نطفہ سے انڈا کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے انسان تک جاتی ہے۔ وہ نسل کے لحاظ سے عورتوں کی ذات کے تئیں مطابقت بیان کرتی ہے، مرد اور خواتین کی فزیالوجی کا موازنہ کرتی ہے، اس نتیجے پر کہ اقدار فعلیات پر مبنی نہیں ہوسکتے ہیں اور حیاتیات کے حقائق کو وجودیاتی، معاشی، معاشرتی اور فعلیاتی تناظر کی روشنی میں دیکھنا چاہئے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    تلاش و ترتیب : آغا نیاز مگسی

  • ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    آج سے 3 سال قبل کرونائی وباء کے خوفناک موسم میں 70 سالہ اداکارہ ثمینہ احمد اور اتنی ہی عمر کے اداکار منظر صہبائی نے ایسی عمر میں نکاح کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس عمر میں زیادہ تر لوگ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے . سچ تو یہ ہے کہ اس عمر میں ساتھی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے اکثر لوگ دوبارہ شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے . ثمینہ احمد کی پہلی شادی مشہور پاکستانی فلم ڈائریکٹر فرید احمد کے ساتھ ہوئی تھی لیکن کچھ سال بعد ان کے پہلے شوہر نے انھیں چھوڑ کر اداکارہ شمیم آرا سے نکاح کر لیا تھا . ثمینہ احمد نے اپنے دونوں بچوں کو اکیلے پالا اور مثالی زندگی گزاری .

    منظر صہبائی اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ بہت سالوں تک جرمنی میں رہائش پذیر تھے . کچھ سال پہلے ان کی بیوی کی وفات ہو گئی . ثمینہ احمد اور منظر صہبائی دھوپ کی دیوار کے سیٹ پر پہلی بار ملے . یہ اس ڈرامے میں میاں بیوی کا کردار نبھا رہے تھے . دونوں کی اچھی دوستی ہو گئی اور یہ دوستی جلد ہی پیار میں بدل گئی . منظر صہبائی نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ثمینہ احمد کو شادی کی پیشکش کی جسے سن کر انھے اچھا تو لگا لیکن ان کے لئے یہ قدم اٹھانا آسان نہیں تھا . دونوں کے بچوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس طرح ان کا نکا ح ہو گیا . منظر صہبائی اور ثمینہ احمد کی ہنستی مسکراتی زندگی سے صاف ظاہر ہے کے اگر بہترین شریک حیات مل جائے تو انسان کسی بھی عمر میں ایک بار پھر سے جی اٹھتا ہے . جس طرح لوگوں نے ان کو بے انتہا پیار دیا اس سے بھی صاف ظاہر ہے کے پاکستانی معاشرہ میں ایسے رشتوں کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے .

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کا کہنا ہے کے کسی کے ساتھ کسی بھی عمر میں پیار ہونا فطری عمل ہے اور جب ایسا ہو تو اس شخص کو زندگی کا حصّہ بنا لینا چا ہیئے یہ سوچے بغیر کے لوگ کیا کہیں گے .

  • وارث لدھیانوی

    وارث لدھیانوی

    دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا
    دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے

    وارث لدھیانوی

    اصل نام: چوہدری محمد اسماعیل

    پیدائش:11 اپریل 1928ء
    لدھیانہ، پنجاب
    (برطانوی ہندوستان)
    وفات:05 ستمبر 1992ء
    لاہور، پاکستان
    قلمی نام:وارث لدھیانوی
    زبان:پنجابی
    نسل:پنجابی
    شہریت:پاکستانی
    اصناف:فلمی نغمہ نگاری
    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔
    دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا نغمہ
    دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (نغمہ)
    جھانجھریا پہنا دو، بندیا بھی چمکا دو (نغمہ)
    باریں برسیں کھٹن گیا سیں (نغمہ)

    وارث لدھیانوی (پیدائش: 11 اپریل، 1928ء – وفات: 5 ستمبر، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے شاعر اور فلمی نغمہ نگار ہیں جو اپنے گیتوں دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا ، باریں برسیں کھٹن گیا سیں اور دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    وارث لدھیانوی 11 اپریل، 1928ء کو لدھیانہ، پنجاب (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام چوہدری محمد اسماعیل تھا۔ ابتدا میں عاجز تخلص کرتے تھے پھر استاد دامن کے شاگرد ہوئے اور وارث تخلص کر لیا۔ ابتدا میں وہ محکمہ ریلوے میں کلرک تھے۔ بعد ازاں نوکری چھوڑ کر فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے۔
    وارث لدھیانوی نے لاتعداد پنجابی فلموں کے نغمات تحریر کیے جن میں کرتار سنگھ، مکھڑا، رنگیلا، دو رنگیلے، باوجی، شیر خان اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔
    مشہور فلمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    شہری بابو
    کرتار سنگھ
    رنگیلا
    دو رنگیلے
    باؤجی
    شیر خان
    شعلے
    مکھڑا
    انوکھا داج
    ہیر
    ہیر سیال
    پہلا وار
    ڈاکو راج
    ضدی
    مشہور نغمات

    اساں جان کے میت لئی اکھ وے (ہیر)
    دلا ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (مکھڑا)
    پہلی واری اج اوہناں اکھیاں نیں تکیا
    ایہو جیہا تکیا کہ ہائے مار سٹیا(ٹھاہ)
    آسینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے (ٹھاہ)
    نی چنبے دیے بند کلیئے (پہلا وار)
    دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا (کرتار سنگھ)
    باریں برسیں کھٹن گیا سیں (کرتار سنگھ)
    جھانجھریا پہنا دو، بندیا بھی چمکا دو (شیر خان)
    سانوں وی لے چل نال وے
    بائو سوہنی گڈی والیا (باؤجی)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    وارث لدھیانوی 05 ستمبر 1992ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔

  • حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    صدیوں پہ تھے محیط جو اوصاف انبیاء
    حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    شاہد نقوی

    11 اپریل 1916 یوم ولادت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو ادب میں سلام ، نوحہ ، مرثیہ اور منقبت کے حوالے سے ایک بہت بڑے شاعر سید کلیم آل عبا شاہد نقوی 11 اپریل 1916 میں اتر پردیش ہندستان کے شکار پور شہر میں سید فدا علی اور نور جہاں بیگم کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی ۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے کراچی پاکستان میں آباد ہو گئے۔ شاعری انہوں نے ہندوستان میں ہی شروع کر دی تھی وہ ابتدا میں غزل گو شاعر تھے اور وہاں ہونے والے مشاعروں میں اکثر غزل ہی پڑھا کرتے تھے مگر پاکستان آنے کے بعد انہوں نے غزلیہ شاعری کی بجائے نوحہ اور مرثیہ گوئی پر اپنی تمام تر توجہ اور دلچسپی مرکوز کر دی مجالس عزا اور پی ٹی وی وغیرہ میں وہ پیش پیش رہتے تھے ۔ پاکستان میں وہ مرثیہ گو شعراء کی فہرست میں صفحہ اول میں شمار ہوتے تھے ۔ شاہد نقوی صاحب کے ایک بھائی عابد حشری اور قریبی عزیز سجاد احمد رزمی بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ شاہد نقوی کی اولاد میں کل 13 بچے تھے ان کے بیٹے شکیل احند نقوی اور صاحبزادی سیدہ نرگس حیات ہیں اور ماشاء الله سیدہ نرگس صاحبہ اردو کی مشہور و معروف شاعرہ ہیں جو کہ نرگس رضا کے نام سے مشہور ہیں ۔ ان کا خاندان کہکشاں انچولی کراچی میں آباد ہے۔ جوش ملیح آبادی ،فیض احمد فیض اور طالب جوہری صاحب شاہد نقوی کے ہمعصر شعرا اور ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے ۔ سید شاہد نقوی کو کلیم آل عبا کا خطاب علامہ طالب جوہری نے دیا تھا کراچی ، جام شورو اور لاہور کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں ان کی شاعری کا حوالہ دیا گیا ہے. جبکہ ایف سی کالج لاہور کی ایک طالبہ صبغہ فاروق نے شاہد نقوی کے فن اور شخصیت پر صدر شعبہ اردو ڈاکٹر آغا سہیل کی نگرانی میں ایم اے اردو کیلیے تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے 10 جولائی 2011 میں شاہد نقوی صاحب کی کراچی میں وفات ہوئی۔

    کلیم آل عبا شاہد نقوی کی تصانیف

    1 صراط سلسبیل 2 نفس مطمئن 3 کرب جاوداں 4 رومال زہرا 5 ضمیر مصلوب 6 حصار حرم زیارت ناحیہ کا منظوم ترجمہ 7 حدیث کسا منظوم 8 والعصر

    چند منتخب قطعات

    صدیوں پہ تھے محیط جو اوصاف انبیاء
    حق نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    پتہ چلا کہ ہمیں ہیں حسین کے غم تک
    سمجھ رہے تھے کہ ہم تک حسین کا غم ہے

    ہیں گود میں حسن کو پیمبر لیے ہوئے
    یعنی جواب طعنہ ابتر لیے ہوئے

    اے معنی مولا میں الجھنے والو
    جو تم بن نہیں سکتے وہ مولا ہیں علی

  • اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں

    اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں

    اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں
    اپنی بدبختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں

    دوارکا داس شعلہ

    10؍اپریل 1983 یوم وفات

    نام #لالہدوارکاداس اور تخلص #شعلہؔ تھا۔
    13؍اگست 1910ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور کے ایک عوامی مدرسے میں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد معروف طبیب تھے جن کا دواخانہ انارکلی بازار لاہور میں تھا۔ پڑھائی میں دل نہ لگنے کی وجہ سے ان کے والد نے انھیں اپنے دواخانہ میں شیشی دھونے اور ہاتھ بٹانے کے لیے رکھ لیا۔ اسی دوران انھیں شاعری کا شوق پیدا ہوا، مشورۂ سخن ابوالاثر حفیظؔ جالندهری صاحب سے کرتے رہے۔ 1947ء میں تقسیم ہند بعد اپنے کنبے کے ساتھ دہلی چلے آئے۔ عمر آخر تک دہلی ہی آپ کا مسکن رہا۔
    دوارکا داس شعلہؔ نے 10؍اپریل 1983ء کو دہلی میں وفات پائی۔
    #بحوالہ ریختہ ڈاٹ_کام

    منتخب غزلیں

    اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد
    وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد

    کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا
    وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد

    ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت
    گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد

    محشر میں بھی ہم تیری شکایت نہ کریں گے
    آ جائے گی اس دن بھی ہمیں شرط وفا یاد

    اللہ ترا شکر کہ امید کرم ہے
    اللہ ترا شکر کہ اس نے بھی کیا یاد

    کل تک ترے باعث میں اسے بھولا ہوا تھا
    کیوں آنے لگا پھر سے مجھے آج خدا یاد

    ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے
    نظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹے

    اب آ گئے ہو تو میرے قریب آ بیٹھو
    دوئی کے نقش مٹاؤ کہ غم کی رات کٹے

    شب فراق ہے شمع امید لے آؤ
    کوئی چراغ جلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    کہاں ہیں ساقی‌ و مطرب کہاں ہے پیر حرم
    کہاں ہیں سب یہ بلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    کہاں ہو میکدے والو ذرا ادھر آؤ
    ہمیں بھی آج پلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    نہیں کچھ اور جو ممکن تو یار شعلہؔ کی
    کوئی غزل ہی سناؤ کہ غم کی رات کٹے

    ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں
    اپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں

    تیری معصومی کے صدقے میری محرومی کی خیر
    اے کہ تجھ کو صورت آرام جاں سمجھا تھا میں

    دشمن دل دشمن دیں دشمن ہوش و حواس
    ہائے کس نا مہرباں کو مہرباں سمجھا تھا میں

    دوست کا در آ گیا تو خود بخود جھکنے لگی
    جس جبیں کو بے نیاز آستاں سمجھا تھا میں

    قافلے کا قافلہ ہی راہ میں گم کر دیا
    تجھ کو تو ظالم دلیل رہرواں سمجھا تھا میں

    میرے دل میں آ کے بیٹھے اور یہیں کے ہو گئے
    آپ کو تو یوسف بے کارواں سمجھا تھا میں

    اک دروغ مصلحت آمیز تھا تیرا سلوک
    یہ حقیقت تھی مگر یہ بھی کہاں سمجھا تھا میں

    زندگی انعام قدرت ہی سہی لیکن اسے
    کیا غلط سمجھا اگر یار گراں سمجھا تھا میں

    پھیر تھا قسمت کا وہ چکر تھا میرے پاؤں کا
    جس کو شعلہؔ گردش ہفت آسماں سمجھا تھا میں

  • میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    یہ لوگ کیوں میری آنکھوں کو دیکھتے ہیں بتا
    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    کرن وقار

    یوم وفات : 10 اپریل 2021ء

    اردو اور پنجابی کی معتوف شاعرہ اور کالم نگار کرن وقار 1987 میں اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ شاعری اور اخبارات کے لیے کالم لکھتی رہیں ۔ 10 اپریل 2021 کو34 سال کی عمر میں لاہور کے ایک ہسپتال میں کورونا کے سبب انتقال کر گئیں۔ ان کی دو سالہ اکلوتی بیٹی آئمہ یتیم ہو گئی۔ جبکہ کرن صاحبہ کی وفات سےقبل ایک ماہ کے دوران ان کی والدہ اور ان کے ایک بھائی بھی کورونا میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے تھے ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات بھر انتظار کرتی رہی
    میں ستارے شمار کرتی رہی

    یاد آتی رہی تری ہر پل
    اور مجھے بے قرار کرتی رہی

    میں وہ لڑکی ہوں جو محبت پر
    سارے جذبے نثار کرتی رہی

    اس نے دھوکے دیئے مجھے ہر بار
    اور میں اعتبار کرتی رہی

    دل کے بہلانے کو خزاں رت میں
    ذکرِ فصلِ بہار کرتی رہی

    جس کو آنا تھا وہ آچکا کرن
    خود کو میں یونہی خوار کرتی رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیڑ جو باثمر نہیں ہوتا
    وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا

    دل سے جب تک نہیں نکلتی ہے
    بات میں کچھ اثر نہیں ہوتا

    مجھ کو منزل کبھی نہیں ملتی
    تو اگر ہم سفر نہیں ہوتا

    ایک در سے جو لو لگاتا ہے
    وہ بھی دربدر نہیں ہوتا

    زخم سب کو بھلا دکھائیں کیوں
    ‘ہر کوئی چارہ گر نہیں ہوتا

    میں کرن بس خدا سے ڈرتی ہوں
    مجھ کو لوگوں سے ڈر نہیں ہوتا

  • صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    لمحوں میں انہیں وقت کی سازش نے گرایا
    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صادقہ نواب سحر

    8 اپریل 1959 یوم پیدائش
    ۔……………………….

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس، ناول نگار ، ڈرامہ رائٹر اور ماہر تعلیم صادقہ نواب سحر 8 اپریل 1959 میں گنٹور(آندھرا پردیش) میں پیدا ہوئیں ۔انھوں نے اردو میں ایم اے اورپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بلکہ ہندی اور انگریزی میں بھی ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں ۔اردو ادب کی دنیا میں وہ ایک ناول نگار؛افسانہ نگار ؛شاعرہ؛ڈراما نگار؛تنقید نگار؛مترجم اور بچوں کی ادیبہ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ صادقہ نواب سحر کا اصل نام صادقہ آرا ہے ان کے والد کا نام خواجہ میاں شیخ اور شوہر کا نام محمد اسلم نواب ہے۔ وہ مختلف تعلیمی اداروں میں لیکچرار کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے کے بعد کے ایم سی کالج کھپولی مہاراشٹر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے رٹائر ہوئیں۔ ان کے اردو شعری مجموعے ، ست رنگی، باوجود، چھوٹی سی یہ دھرتی، دریا کوئی سویا سا اردو افسانوی مجموعے، خلش بے نام سی، انگاروں کے پھول، بیچ ندی کا مچھیرا ، اردو ڈراموں کا مجموعہ ” مکھوٹو کے درمیان” ہندی افسانوی مجموعے ” منت” شیشے کا دروازہ ” شائع ہو چکے ہیں۔

    غزل

    تمہاری یاد میں ڈوبے کہاں کہاں سے گئے
    ہم اپنے آپ سے بچھڑے کہ سب جہاں سے گئے

    نئی زمین کی خواہش میں ہم تو نکلے تھے
    زمین کیسی یہاں ہم تو آسماں سے گئے

    زمانے بھر کو سمیٹا تھا اپنے دامن میں
    پلٹ کے دیکھا تو خود اپنے ہی مکاں سے گئے

    یہ کھوٹے سکے ہیں الفاظ اس صدی کی سنو
    یہ ان کا دور نہیں یہ تو اس جہاں سے گئے

    سحر فضول کی خواہش ہے زندگی جینا
    مرے تو لوگ نہ جانیں گے کس جہاں سے گئے

  • آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    پیدائش:08 اپریل 1966ء
    امرتسر
    شہریت:بھارت

    آنند مورتی گرو ماں ہندستان کی ایک روحانی رہنما جو توحید الہٰ کی داعیہ ہیں۔ ہندو، مسلم، بدھ، مسیحی، یہودی اور صوفیا سب کے یہاں گرو ماں کی باتیں احترام سے سنی جاتی ہیں۔ گرو ماں کی بیشتر تقریروں کا محور جنس، مذہب، سیاست اور قومیت ہوتا ہے۔
    گرو ماں کو جلال الدین رومی سے خصوصی مناسبت ہے اور ان کے فارسی اشعار کو ہندی زبان میں ترجمہ کرکے انہیں گایا کرتی ہیں۔
    تعلیمات
    ۔۔۔۔۔۔
    گرو ماں کی تعلیمات میں توحید الہٰ پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ نیز وہ مراقبہ، یوگا، محاسبہ نفس اور اخلاص کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ تصوف، زین، تانتر اور یوگا میں مذکورہ مراقبہ نفس کے طریقوں کو بیان کرتی ہیں۔ گرو ماں شعور ذات کی اہمیت کی داعی ہیں نیز ان کا قول ہے کہ سالکین کو نفسانی خواہشوں اور مذہبی قیود سے آزاد رہنا چاہیے۔ انھیں کی وجہ سے سالکین کو روحانی تجربات سے محرومی ہوتی ہے۔
    آشرم
    ۔۔۔۔۔
    گرو ماں کا مرکزی آشرم سونی پت ضلع کے گنور شہر میں واقع ہے۔