Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • جگر مراد آبادی

    جگر مراد آبادی

    جگر مرادآبادی

    6 اپریل 1890

    بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف. جگر آزاد طبیعت کے مالک اور حُسن پرست تھے۔ ان کا شمار اردو کے مقبول ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ جگر کو اپنے عہد وہ شہرت اور مقبولیت ملی جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہوئی۔ اس میں ان کی رنگا رنگ شخصیت کے ساتھ ان کے رنگِ تغزّل اور ترنم کا بڑا دخل ہے۔ کئی شعرا نے جگر کا طرزِ شاعری اپنانے اور ان کے ترنّم کی نقل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس مقام و مرتبے کو نہ پہنچ سکے جو جگر کا خاصّہ تھا۔

    ًمختصر تعارف

    جگر مراد آبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر تھا ۶ اپریل ۱۸۹۰ ء کو مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر اور مقامی مکتب میں ہوئی، جہاں اردو اور فارسی کے علاوہ عربی بھی سیکھی۔ رسمی تعلیم میں دھیان نہ تھا، سو اسے ادھورا چھوڑ دیا۔ شاعری ورثے میں ملی تھی، کیوں کہ ان کے والد اور چچا شاعر تھے۔ جگر نے اصغر گونڈوی کی صحبت اختیار کی اور بعد میں شعروسخن کی دنیا میں نام و مقام بنایا جگر رندِ بلانوش تھے۔ ان کی زندگی اور شخصیت کے بعض پہلو ایسے بھی ہیں جنھیں بیان کرنا مناسب نہیں۔ تاہم جگر بہت مخلص، صاف گو اور ہمدرد انسان تھے۔ آخر عمر میں ترکِ مے نوشی کا انھیں خاص فائدہ نہ ہوا اور صحّت بگڑتی چلی گئی، مالی حالات دگرگوں ہوگئے اور جگر موت کے قریب ہوتے چلے گئے جگر مراد آبادی پاک و ہند کے مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے۔ انھیں دعوت دے کر بلایا جاتا اور منتظمین ان کی ناز برداری کرتے۔ جگر سامعین سے بے پناہ داد وصول کرتے۔ بھارتی حکومت نے انھیں ’’پدما بھوشن‘‘ خطاب دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ ان کے آخری مجموعہ کلام ’’آتِش گل‘‘ پر ان کو ’’ساہتیہ اکیڈمی‘‘ سے پانچ ہزار روپیہ انعام اور دو سو روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا تھا۔ ’آتش گل‘ کے علاوہ ’’داغ جگر‘‘ اور ’’شعلۂ طور‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ۹؍ستمبر ۱۹۶۰ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    جگر مرادآبادی کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
    فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
    میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
    ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
    کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
    کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
    یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محال
    انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
    ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیے
    گلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
    ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
    سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے
    مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے.

  • یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    شہلا شہناز

    اصل نام : شہناز
    قلمی نام : شہلا شہناز
    تاریخ پیدائش:07 اپریل 1976ء
    جائےپیدائش: فیصل آباد
    رہائش : گوجرانوالہ
    تعلیم: ماسٹرز
    پیشہ : لیکچرار شپ
    ادب سے تعلق: بہت گہرا
    مشاغل : کتاب پڑھنا اور کری ایشنز
    پسندیدہ شاعر، ادیب: اقبال، پروین شاکر، مجید امجد
    پسندیدہ کتب:خوشبو۔ اور بھی بہت ہیں
    ادبی خدمات: کچھ پیپرز اور میگزینز میں
    کبھی کبھار لکھ لیتی ہوں آرٹیکلز
    پیغام :ادب سیکھیں اور سکھائیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں
    میں ترے عشق پہ ایمان بھی لا سکتی ہوں
    پھول اور پیڑ بہت میرا کہا مانتے ہیں
    میں بیاباں میں گلستان بھی لا سکتی ہوں
    تم عداوت کا بیابان جہاں دیکھتے ہو
    میں وہاں پیار کا ارمان بھی لا سکتی ہوں
    جس جگہ مسندِ ہر سود پہ تم بیٹھے ہو
    میں وہاں کرسی نقصان بھی لا سکتی ہوں
    اے خلش مجھ کو تڑپنے کا کوئی شوق نہیں
    ورنہ جب چاہوں نمکدان بھی لا سکتی ہوں
    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    میں رنگ کو نہیں خوشبو کو پھول جانتی ہوں
    کہا تھا زخم سے تتلی نے مسکراتے ہوئے

    اس بار سمندر نے بلایا نہیں مجھ کو
    اس بار کسی دشت کی دعوت ہے مرے پاس

    کانچ کی چڑیا کس طرح اڑتی
    کشش چشمِ کوہسار میں تھی

    تم مرے ان دنوں کے ساتھی ہو
    جب میں بت جھڑ کے اعتبار میں تھی

    حرف کو پھول بنانے کا ہنر ہے مرے پاس
    تجھ کو لکھنے کے لیے رنگ دگر ہے مرے پاس

    ادھر گھمائیے اپنی ڈری ڈری آنکھیں
    حضور دشت کی جانب ذرہ ہرن کرئیے

    گلاب کی طرح مہکا چکے ہیں آپ مجھے
    جنابِ خار ذرا ٹھیک سے چبھن کرئیے

    وہ مجھ سے مجھ کو مانگتا رہتا ہے رات دن
    پر اس کی التماس میں طاقت تو ہے نہیں

  • معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    روز اک چھاؤں سی آ رکتی ہے دروازے پر
    کون ہے کب سے بلاتا ہے جو باہر مجھ کو
    رفعت ناہید

    معروف شاعرہ رفعت ناہید مختصر علالت کے بعد ملتان میں انتقال کر گئیں۔

    ان کے بیٹے سعد ظفر کا کہنا ہے کہ آج سحری کے وقت ان کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا، لیکن ہم انھیں بچا نہ سکے۔ رفعت ناہید معروف شاعر سعید ظفر اور نامور افسانہ نگار ،ماہر تعلیم اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کی رکن پروفیسر فرحت ظفر کی بہن تھیں

    سن ری چمیلی !!!
    میری سہیلی
    بڑی سیانی اور ہشیار
    تو نے میرا رنگ چرایا
    خوشبو میری ساری لے لی
    آ کے بیچ بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھے گفتگو میں مگن ہجر ،رات ، تنہائی

    سلام میں نے کیا ، خاندان چھوڑ دیا

    رفعت ناہید

  • معروف شاعر منور بدایونی

    معروف شاعر منور بدایونی

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے "منور” بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منوغزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔

  • بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    فاطمہ زکریا (تاریخ ولادت:17 فروری 1936ء،تاریخ وفات:06 اپریل 2021ء) ممبئی ٹائمز کی ایڈیٹر تھیں اور بعد میں ٹائمز آف انڈیا کی سنڈے ایڈیٹر ہوئیں۔ انھوں نے تاج ہوٹلز کے تاج میگزین کی ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

    مرحومہ فاطمہ زکریا ممبئی ٹائمز کی سابقہ ​​ایڈیٹر ، اور ٹائمز آف انڈیا کےسنڈے ایڈیشن ایڈیٹرکی بھی ایڈیٹر رہی تھیں۔ٹائمزآف انڈیا سے علحیدگی کے بعد فاطمہ زکریا تاج ہوٹل کے تاج میگزین کی ایڈیٹر بھی رہیں۔ ان کا دفتر ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں واقع تھا۔ڈاکٹر رفیق زکریا کے2004 میں انتقال کےچند سال فاطمہ زکریا تاریخی شہر اورنگ آباد مہاراشٹر منتقل ہوگئی تھیں جہاں ان کے مرحوم شوہر نے مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ قائم کیاتھا۔ یہ ان کا اسمبلی حلقہ تھا جہاں سے وہ کافی بار منتخب ہوئے اور ریاستی کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ فاطمہ زکریانے اورنگ آباد کے ان تعلیمی اداروں کو اس حد تک تبدیل کیا کہ ان کا موازنہ ایشیا کے بہترین مراکز تعلیم سے کیا جاسکے۔

    زکریا نے اورنگ آباد میں مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ کے کیمپس میں پہلا ریٹ فائیو اسٹار ہوٹل دی تاج ریذیڈنسی کے قیام کے لئے تاج گروپ آف ہوٹلوں میں شمولیت اختیار کی۔ وہ کافی ٹیبل میگزین تاج کی ایڈیٹر بن گئیں۔ اس کے بعد ، انہوں نے ایک برٹش یونیورسٹی کے ساتھ اتحاد میں ایک ہوٹل مینجمنٹ کورس متعارف کرایا۔ اس کورس کو ہندوستان میں بہترین اور قابل احترام تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ اورنگ آباد کے بورڈ میں بھی رہیں۔وہ خود یالے یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھیں ،ایک میمن مسلم۔فیملی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زکریا کی پرورش کرافورڈ مارکیٹ جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں ہوئی تھی،لیکن انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوئیں۔

    سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ، شملہ کے خطوط پر ہائر لرننگ سنٹر قائم کرنے کے عمل میں ر ہیں۔ یہ جون 2010 سے کارآمد ہوا اور حقیقی علماء اور ماہرین تعلیم کو تحقیقی سرگرمیاں انجام دینے میں مدد فراہم کررہاہے، زکریا کو سیکولرسٹ سمجھا جاتا ہے ، تاہم وہ مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خصوصی خیال رکھتی تھیں۔انہیں ہندوستان حکومت نے 2006 میں پدما شری دیا تھا۔ مرحومہ فاطمہ زکریا مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ اور سوسائٹی کی بالترتیب چیئرپرسن اور صدر بھی تھیں،جبکہ مہاراشٹر کالج ممبئی کی صدر اور آل انڈیا خلافت کمیٹی اور بی ایڈ کالج کی بھی صدر نشین تھیں۔

  • اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    میں نے حساب کرنے کی عادت چھوڑ دی
    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    ریحام خان ( صحافی اور مصنفہ)

    پیدائش:3 اپریل 1973ء
    اجدابیا (لیبیا)
    قومیت:برطانوی
    پاکستانی
    مذہب:اسلام
    شریک حیات:اعجاز رحمان
    (1993-2005)
    عمران خان (2015)- طلاق

    مرزا بلال (2022)

    اولاد:ساحر
    ردا
    عنایہ
    تعداد اولاد:3
    تعلیم:صحافت میں ماسٹرز
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    دور فعالیت:2007ء تا حال

    ریحام خان کی زندگی کا گوشوارہ عباس تابش کے درج بالا شعر کے مترادف ہے وہ اب تک 3 شادیاں کر چکی ہیں۔ اور یہ تینوں شادیاں ان کی محبت کا نتیجہ ہیں لیکن پچھلی دو شادیوں کا انجام اچھا نہ ہوا دعا ہے کہ ان کی تیسری شادی کامیاب رہے۔ ریحام خان (Reham Khan) ایک برطانوی پاکستانی صحافی ہیں ۔ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بیوی رہ چکی ہیں تاہم اب دونوں کے درمیان میں طلاق ہو چکی ہے جس کی تصدیق 30 اکتوبر 2015ء کو ہوئی جب عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس بابت ٹوئٹ کیا تھا۔ اس علیحدگی کے بعد پہلے عمران خان نے بشری مانیکا سے تیسری شادی کی اور پھر ان کے 5 سال بعد ریحام خان بھی مرزا بلال سے 23 دسمبر 2022 میں امریکہ میں تیسری شادی کی

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ریحام کی پیدائش ایک پاکستانی ڈاکٹر نیر رمضان کے گھر ہوئی۔ ان کا تعلق سواتی قبیلے کی ذیلی شاخ لغمانی قبیلے سے ہے اور یہ نسلا پشتون ہیں۔ یہ چار زبانیں روانی سے بول سکتی ہیں جن میں شامل ہے انگریزی، اردو، پشتو اور ان کی آبائی زبان ہندکو۔ ان کے خاندان کا تعلق بفہ کے علاقے سے ہے جو مانسہرہ ، خیبر پختونخوا سے پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ ان کے والدین 1960 کے اواخر میں لیبیا چلے گئے تھے جہاں 1973 میں اجداییا میں ریحام کی ولادت ہوئی۔ ان کا ایک بھائی اور بہن ہے۔
    ریحام عبدالحکیم خان کی بھانجی ہیں جو خیبر پختونخوا صوبے کے گورنر رہے ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کےچیف جسٹس بھی۔ ریحام نے جناح کالج برائے خواتین، پشاور سے بی اے کیا ہے۔

    پہلی شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ان کا پہلا نکاح 23 جولائی 1992ء کو ایبٹ آباد میں اعجاز ولد فضل الرحمان کے ساتھ ہوا۔ ان کے پہلے شوہر اعجاز رحمان ماہر نفسیات ہیں، صحافت کے شعبہ میں آنے کی وجہ سے دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی شادی کے بعد طلاق ہوئی۔ اس شادی سے ریحام کے تین بچے ہیں ساحررحمان ، ردا رحمان اور عنایہ رحمان۔ ان کے تینوں بچے برطانیہ میں مقیم ہیں جبکہ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کے بچے بھی برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔

    کیریئر
    ۔۔۔۔۔۔۔

    طلاق کے بعد ریحام نے براڈکاسٹ جرنلسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلا ہوسٹنگ شو 2006 میں لیگل ٹی وی پر کیا۔ 2007 میں سن شائن ریڈیو ہیرفورڈ اور ورسیسٹر کے لیے کام کیا۔ 2008 میں ریحام نے بی بی سی میں براڈکاسٹ جرنسلٹ کے طور پر شمولیت اختیار کر لی۔
    2013 میں پاکستان آمد ہوئی اور پاکستانی ٹی وی چینل نیوزون میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد آج ٹی وی میں چلی گئیں۔ 2014 میں کچھ مدت کے لیے پی ٹی وی گئیں مگر مختصر مدت بعد اسے چھوڑ کر ڈان نیوز پر حالات حاضرہ کا پروگرام ان فوکس شروع کر دیا۔
    2015 میں کچھ دیر شادی کے بعد ٹی وی پروگرام نہیں کیا مگر پھر ڈان سے ہی مئی میں ایک نیا پروگرام ”ریحام خان شو“ شروع کیا جس میں پاکستانی ہیروز کی ستائش کی گئی۔ دسمبر 2015 میں نیو ٹی وی سے تبدیلی (تبدیلی سابقہ شوہر عمران خان کا سیاسی نعرہ ہے ) کے نام سے ایک نیا ٹی وی پروگرام شروع کیا۔ جون 2016 میں نیو ٹی وی کو خیرباد کہا۔
    فلم
    ۔۔۔۔۔
    ریحام نے جاناں نام کی رومانوی مزاحیہ فلم بھی بنائی، جوسوات کے علاقے میں فلمائی گئی اور ستمبر 2016 میں ریلیز ہوئی۔
    عمران خان سے شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔
    06 جنوری 2015 کے دن عمران خان نے ریحام خان سے اپنی شادی کی تصدیق کر دی جس کے بارے میں اکتوبر 2014 سے چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں (بعد ازان ریحام خان نے دعوی بھی کیا کہ ان کی عمران خان سے شادی نواز شریف کے خلاف دھرنے میں ہی ہو گئی تھی)۔ شادی کی تقریب عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں منعقد ہوئی جبکہ ولیمے کی تقریب میں غریب بچوں میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ شادی کی تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی۔
    چند ماہ بعد ہی اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگیں اور بالآخر 30 اکتوبر 2015 میں عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے طلاق کی تصدیق کی۔

    مرزا بلال سے شادی

    ریحام خان نے 23 دسمبر 2022 میں خود سے 13 سال چھوٹے کراچی سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ نوجوان مرزا بلال سے امریکہ میں شادی کی۔

    ریحام خان کی کتاب

    ریحام خان نے 2018 میں ” Reham Khan” کے عنوان سے انگریزی میں کتاب لکھ کر شائع کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے

    مینا کماری ناز

    اداکارہ و شاعرہ

    یوم وفات : 31 اگست 1972
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی نامور اداکارہ شاعرہ مینا کماری ناز جنہیں” ملکہ غم ” بھی کہا جاتا ہے ان کا اصل نام ماہ جبیں ہے ۔ وہ یکم اگست 1932 میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام علی بخش اور والدہ کا نام نیپرو بھاوتی ٹیگور تھا مسلمان ہونے کے بعد ان کا اسلامی نام اقبال بیگم رکھا گیا۔ مینا کماری نے 6 سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے ” لیدر فیس” فلم سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا ۔ وہ تین بہنیں تھیں ان کی دوسری بہنوں کا نام خورشید اور مدھو تھا۔ فلم ڈائریکٹر وجے بھٹ نے ان کو مینا کماری کا فلمی نام دیا تھا جبکہ مینا کماری نے شاعری میں اپنے لیے ناز تخلص اختیار کیا ۔ 1952 میں انہوں نے فلمساز کمال امروہوی سے دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی لیکن محبت کی یہ شادی کامیاب نہیں ہو سکی۔ چند برس بعد ہی ان کے درمیان علیحدگی ہو گئی جس کے بعد مینا کماری نے دوسری شادی نہیں کی ۔ کمال امروہوی کی بیوفائی کے بعد مرد حضرات پر ان کا اعتبار نہیں رہا۔ انہوں نے بقیہ تمام عمر تنہائی ، درد وغم سہتے ، اداکاری اور شاعری کرتے گزار دی۔ شاعری میں انہوں نے گلزار سے اصلاح لی تھی ۔ مینا کماری نے کل 94 فلموں میں کام کیا انہیں فلم ” بیجو باورا” سے بے پناہ شہرت اور پذیرائی ملی ۔ مینا کماری کو ہندوستان کی پہلی خاتون اداکارہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔ 31 مارچ 1972 میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کے انتقال کے بعد ” چاند” کے عنوان سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔

    منتخب کلام

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    ……………….

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
    ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

    پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
    رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

    مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
    اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

    خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
    کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تیری رہگزر سے، دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے، اپنا مزار گزرے
    .
    بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
    شاید اسی طرف سے، اک دن بہار گزرے
    .
    دار و رسن سے دل تک، سب راستے ادھورے
    جو ایک بار گزرے، وہ بار بار گزرے

    بہتی ہوئی یہ ندیا، گھلتے ہوئے کنارے
    کوئی تو پار اترے، کوئی تو پار گزرے
    .

    مسجد کے زیر سایہ، بیٹھے تو تھک تھکا کر
    بولا ہر اک منارا، تجھ سے ہزار گزرے
    .
    قربان اس نظر پہ، مریم کی سادگی بھی
    سائے سے جس نظر کے، سو کردگار گزرے
    .
    تو نے بھی ہم کو دیکھا، ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
    تو دل ہی ہار گزرا، ہم جان ہار گزرے

  • معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی

    معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی

    یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
    جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    سائل دہلوی

    پیدائش:29مارچ 1864ء
    دلی، ہندوستان
    وفات:25 ستمبر 1945ء
    دلی، ہندستان

    داغ کی بنائی ہوئی لفظ ومعنی کی روایت کو برتنے اور آگے بڑھانے والوں میں سائل کا نام بہت اہم ہے ۔ سائل داغ کے شاگرد بھی تھے اور پھر ان کے داماد بھی ہوئے۔ انھوں نے تقریبا تمام کلاسیکی اصناف میں شاعری کی اور اپنے وقت میں برپا ہونے والی شعری محفلوں اور مشاعروں میں بھی بہت مقبول تھے ۔
    نواب سراج الدین خاں سائل کی پیدائش 29 مارچ 1864 کو دہلی میں ہوئی ۔ وہ مرزا شہاب الدین احمد خاں ثاقب کے بیٹے اور نواب ضیاالدین احمد خاں نیر درخشاں جاگیر دار لوہارو کے پوتے تھے ۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا لہذا چچا اور داد کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھے ۔ شاگرد غالب نواب غلام حسین خاں محو کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا ۔
    داغ کے انتقال کے بعد سائل اور بیخود دہلوی داغ کی جانشینی کے دعوے دار تھے اس لیے ان دونوں کے حامیوں میں تکرار اور معرکے ہوتے رہے ۔ شاہد احمد دہلوی نے ان معرکوں کے بارے میں لکھا ہے ’’ دہلی میں بیخود والوں اور سائل والوں کے بڑے بڑے پالے ہوتے ۔ اکثر مشاعروں میں مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ۔ سائل صاحب ان جھگڑوں سے بہت گھبراتے تھے اور بالآخر انہوں نے دہلی مشاعروں میں شریک ہونا ہی چھوڑ دیا ‘‘ ۔
    25 ستمبر1945 کو دہلی میں سائل کا انتقال ہوا اور صندل خانہ بابر مہرولی میں سپرد خاک کیا گیا ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت میں جینا نئی بات ہے
    نہ مرنا بھی مر کر کرامات ہے
    میں رسوائے الفت وہ معروف حسن
    بہم شہرتوں میں مساوات ہے
    نہ شاہد نہ مے ہے نہ بزم طرب
    یہ خمیازۂ ترک عادات ہے
    شب و روز فرقت ہمارا ہر ایک
    اجل کا ہے دن موت کی رات ہے
    اڑی ہے مے مفت سائلؔ مدام
    کہ ساقی سے گہری ملاقات ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں
    حریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میں
    جدا جدا نظر آتی ہے جلوۂ تاثیر
    قرار ہو گیا موسیٰ کو بے قرار ہوں میں
    خمار جس سے نہ واقف ہو وہ سرور ہیں آپ
    سرور جس سے نہ آگاہ ہو وہ خمار ہوں میں
    سما گیا ہے یہ سودا عجیب سر میں مرے
    کرم کا اہل ستم سے امیدوار ہوں میں
    عوض دوا کے دعا دے گیا طبیب مجھے
    کہا جو میں نے غم ہجر سے دو چار ہوں میں
    شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
    خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں
    قرار داد گریباں ہوئی یہ دامن سے
    کہ پرزے پرزے اگر ہو تو تار تار ہوں میں
    مرے مزار کو سمجھا نہ جائے ایک مزار
    ہزار حسرت و ارماں کا خود مزار ہوں میں
    ظہیرؔ و ارشدؔ و غالبؔ کا ہوں جگر گوشہ
    جناب داغؔ کا تلمیذ و یادگار ہوں میں
    امیر کرتے ہیں عزت مری ہوں وہ سائلؔ
    گلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے
    ذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والے
    نظر آئیں گے نقش پا جہاں اس فتنہ گر والے
    چلیں گے سر کے بل رستہ وہاں کے رہ گزر والے
    ستم ایجادیوں کی شان میں بٹا نہ آ جائے
    نہ کرنا بھول کر تم جور چرخ کینہ ور والے
    جفا و جور گلچیں سے چمن ماتم کدہ سا ہے
    پھڑکتے ہیں قفس کی طرح آزادی میں پر والے
    الف سے تا بہ یا للہ افسانہ سنا دیجے
    جناب موسئ عمراں وہی حیرت نگر والے
    ہمیں معلوم ہے ہم مانتے ہیں ہم نے سیکھا ہے
    دل آزردہ ہوا کرتے ہیں از حد چشم تر والے
    کٹانے کو گلا آٹھوں پہر موجود رہتے ہیں
    وہ دل والے جگر والے سہی ہم بھی ہیں سر والے
    تماشا دیکھ کر دنیا کا سائلؔ کو ہوئی حیرت
    کہ تکتے رہ گئے بد گوہروں کا منہ گہر والے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔
    معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی
    بھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کا

    خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے
    یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا

    محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہا
    کن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھا

    جھڑی ایسی لگا دی ہے مرے اشکوں کی بارش نے
    دبا رکھا ہے بھادوں کو بھلا رکھا ہے ساون کو

    ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے
    نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پر

    آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو
    نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں

    یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
    جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    ہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا
    اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے

    جناب شیخ مے خانہ میں بیٹھے ہیں برہنہ سر
    اب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں رکھ دی

    شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
    خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں

    کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمال
    دیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیں

    تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامی
    نظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    تمہیں پروا نہ ہو مجھ کو تو جنس دل کی پروا ہے
    کہاں ڈھونڈوں کہاں پھینکی کہاں دیکھوں کہاں رکھ دی

  • ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی (کلاسیکل رقاصہ)
    یوم پیدائش: 27 مارچ

    پاکستان کی نامور کلاسیکل رقاصہ ناہید صدیقی 27 مارچ 1949ء کو پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اداکارہ طلعت صدیقی اور بشیر صدیقی کی بڑی بیٹی اور معروف اداکارہ عارفہ صدیقی کی بڑی بہن ہیں۔ ناہید 3 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ راولپنڈی سے کراچی منتقل ہو گئیں۔ ان کے والدین نے ان کو کراچی کے ہیپی ہوم اسکول میں داخل کرایا۔ 1960 کی دہائی کے آخر میں، ناہید صدیقی اپنے والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئیں اور یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں داخلہ لیا۔ یہ کالج اس سے قبل ہوم اکنامکس کالج کے نام سے مشہور تھا۔
    مہاراج غلام حسین کتھک اور پنڈت برجو مہاراج سے کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کرنے کے بعد پی آئی اے آرٹس اکیڈمی سے وابستہ ہوگئیں۔ اسی دوران ان کی شادی ضیا محی الدین سے ہوئی۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن سے رقص کا پروگرام” پائل” شروع کیا جسے عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔

    ناہید صدیقی نے رقص کی تعلیم مہاراج غلام حسین اور پنڈت برجو مہاراج سے حاصل کی۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کا مقبول پروگرام ’’پائل‘‘ ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز تھا، جب ٹیلی ویژن پر رقص پہ پابندی تھی تو ’’پائل‘‘ پروگرام کو بند کرنا پڑا تھا۔ اس پابندی کے دور میں ناہید صدیقی ملک سے باہر چلی گئیں اور ایک طویل عرصہ برطانیہ میں گزارا۔ آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں اور رقص و موسیقی کی تعلیم دے رہی ہیں۔
    14 اگست 1994ء کو انہیں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ عطاء کیا گیا۔
    انہوں نے ناہید صدیقی فاؤنڈیشن کے نام سے اپنی ایک تنظیم بنائی ہے، یہ تنظیم رقص، یوگا اور موسیقی کے لئے کام کرتی ہے۔

  • دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    سراج الدین ظفر

    پیدائش:25 مارچ 1912
    وفات:06 مئی 1972ء

    نام سراج الدین اور تخلص ظفر تھا۔ 25 مارچ 1912ء کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ 1928ء میں میٹرک اور 1930ء میں ایف سی کالج لاہور سے ایف اے کیا۔ پھر کالج کی تعلیم چھوڑ کرہوابازی کی تعلیم شروع کی اور دہلی فلائنگ کلب سے ہوابازی کا اے کلاس لائسنس حاصل کیا۔ والد کے ناگہانی انتقال کے وجہ سے یہ سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ 1933ء میں ایف سی کالج سے بی اے کیا۔ 1935ء میں ایل ایل بی کیا۔ ابتدا میں انھوں نے وکالت شروع کی، لیکن جلد ہی اس پیشہ سے ان کی طبیعت اکتا گئی۔ دوسری جنگ عظیم میں افسر کی حیثیت سے ہوائی فوج میں بھرتی ہوگئے اور دس برس تک متعدد عہدوں پر فائز رہے۔ 1950ء میں اس ملازمت کو خیرباد کہا اور تجارت کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی شاعری کرتے تھے۔ ان کے دوشعری مجموعے ’’زمزمۂ حیات‘‘ 1946ء اور ’’غزال وغزل‘‘ 1968ء میں شائع ہوئے۔ ’’غزال وغزل‘‘ پر 1969ء میں آدم جی ایوارڈ ملا۔ افسانوں کا مجموعہ ’’آئینے‘‘ 1943ء میں فیروز سنز نے شائع کیا۔ شروع میں انھوں نے سیماب اکبرآبادی سے اصلاح لی۔ 06 مئی1972ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:32

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل رات
    ابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    ہجومِ گل میں رہے ہم ہزار دست دراز
    صبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے

    وہ تماشا ہوں ہزاروں مرے آئینے ہیں
    ایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں

    مخمور بوئے زلف نہ آئیں گے ہوش میں
    چھڑکے ابھی نسیمِ بہاراں گلاب اور

    ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا
    پھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا

    اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں
    اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں

    میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرو
    اس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کرو

    اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں
    بنامِ گل بدناں رُخ سوئے پیالہ کریں

    شوق راتوں کو ہے در پے کہ تپاں ہو جاؤں
    رقصِ وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں

    ہم میں کل کے نہ سہی حافظؔ و خیامؔ ظفرؔ
    آج کے حافظؔ و خیامؔ ابھی باقی ہیں

    دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئے
    رات کو پھر پائے گل رویاں پہ سر رکھ دیجئے

    ہم آہوانِ شب کا بھرم کھولتے رہے
    میزانِ دلبری پہ انہیں تولتے رہے

    یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دے
    مجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دے

    اس طرح شوقِ غزالاں میں غزل خواں ہو ظفرؔ
    شہرتِ مشکِ غزل شہرِ ختن تک پہنچے