Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ڈینئل پرل امریکی صحافی

    ڈینئل پرل امریکی صحافی

    پیدائش:10 اکتوبر 1963ء
    پرنسٹن، نیو جرسی
    ریاستہائے متحدہ امریکا
    وفات:01 فروری 2002ء
    ۔ (عمر 38 سال)
    ۔ کراچی، سندھ، پاکستان
    وجہ وفات:سر قلم
    طرز وفات:قتل
    دریافت نعش:16 مئی 2002ء
    رہائش:واشنگٹن ڈی سی
    ریاستہائے متحدہ
    قومیت:ریاستہائے متحدہ
    اسرائیل
    دیگر نام:ڈینی
    نسل:یہودی
    آبائی علاقہ:اینسینو، لاس اینجلس
    کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ
    مذہب:یہودیت
    رکن:فی بیٹا کاپا سوسائٹی
    زوجہ:میرئین پرل
    ۔ (1999-2002ء
    ۔ اس کے سانحۂ انتقال تک)
    اولاد:ایڈم ڈانئیل پرل
    ولادت:28 مئی 2002ء
    والدین:جوڈیا پرل (والد)
    روتھ پرل (ماں)
    رشتے دار:میشیل اینڈ تمارا (بہنیں)
    تعلیم:مواصلات میں بی اے
    مادر علمی:اسٹینفورڈ یونیورسٹی
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    ملازمت:وال اسٹریٹ جرنل
    وجہ شہرت:وال اسٹریٹ صحافت

    ڈینئل پرل ایک امریکی صحافی تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈانئیل پرل کا اغوا اس وقت کیا گیا تھا جب وہ 2002ء میں ایک کہانی کی تحقیق کے لیے کراچی میں تھے۔ اغوا کے بعد ان کا قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش کراچی کے باہری علاقے میں ملی تھی۔ اس وقت پولیس نے قتل کی تحقیقات کے بعد اس میں انتہا پسند مذہبی عناصر کے شامل ہونے کا شک ظاہر کیا تھا جسے بعد میں سچ پایا گیا تھا۔

  • سائونی گھوش:ہندوستانی بنگالی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ

    سائونی گھوش:ہندوستانی بنگالی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ

    سائونی گھوش (پیدائش: 27 جنوری 1993) ایک ہندوستانی بنگالی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ اور گلوکارہ ہے۔
    ان کی اداکاری کا آغاز ٹیلی فلم سوچے دانا سے ہوا، اور بڑے پردے پر ان کی پہلی نمائش فلم نوٹوبور نوٹ آؤٹ میں مختصر کردار کے ساتھ ہوئی اس کے بعد اس نے راج چکرورتی کی شوٹرو میں کچھ تجربہ کار اداکاروں کے ساتھ اسکرین شیئر کی، اور بعد میں ایک لاپرواہ صحافی کا کردار ادا کیا۔ راج چکرورتی کے روزمرہ کے صابن پرولوئے آسچے میں۔
    انہوں نے فلموں کاناماچی، انترال، ایکلا چلو، بٹنون، مائر بیا، راجکاہنی میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

    Saayoni Ghosh (Born 27 January 1993) is an Indian Bengali film and television actress and singer.
    Her acting debut was with a telefilm Ichhe Dana, and her first appearance on the big screen was with a short role in the film Notobor Notout After this she shared the screen with some veteran actors in Raj Chakraborty’s Shotru, and later played a carefree journalist role in Raj Chakraborty’s daily soap Proloy Asche.
    She has played lead roles in the films Kanamachi, Antaraal, Ekla Cholo, Bitnoon, Mayer Biye, Rajkahini.

  • کویتا کرشنامورتی:16 زبانوں میں گانے والی منفرد گلوکارہ

    کویتا کرشنامورتی:16 زبانوں میں گانے والی منفرد گلوکارہ

    کویتا کرشنامورتی

    16 زبانوں میں گانے والی منفرد گلوکارہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کویتا کرشنامورتی ایک بھارتی فلمی پلے بیک گلوکارہ ہیں جنہوں نے ہندی، تیلگو، مراٹھی، انگریزی، اردو، تامل، ملیالم، کنڑ، گجراتی، نیپالی، بنگالی، آسامی، کونکنی اور اوڈیا وغیرہ میں گانے گائے ہیں۔
    کلاسیکی موسیقی میں تربیت یافتہ، کویتا کرشنامورتی نے 30 سال کے کیریئر میں 16 زبانوں میں 25,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے ہیں۔
    لکشمی کانت – پیاری لال، نوشاد، ایس ایچ بہاری، کیفی اعظمی، انجان، او پی نیئر، خیام، ہیمنت کمار، رویندر جین، بپی لہڑی، سمیر، آنند بخشی، جاوید اختر، انو ملک، آر۔ڈی برمن، ہمیش ریشمیا، ہمسلیکھا، زوبین گرگ اور اے۔آر رحمان
    وہ چار فلم فیئر بہترین خاتون پلے بیک سنگر ایوارڈز کی وصول کنندہ بھی ہیں، جن میں 1994-1996 کی مدت میں مسلسل تین ایوارڈز، اور پدم شری جو انہیں 2005 میں ملا تھا۔
    1999 میں، اس نے وائلنسٹ ایل۔
    سبرامنیم اور بنگلورو میں مقیم ہیں۔ کویتا کی پیدائش شاردا نئی دہلی، ہندوستان میں ایک تامل آئیر خاندان میں ہوئی تھی۔
    کرشنامورتی، وزارت تعلیم کے ملازم۔
    اس نے موسیقی کی تربیت اپنی خالہ پروتیما بھٹاچاریہ کے اصرار پر شروع کی جنہوں نے اسے سورما باسو کے پاس داخل کرایا، جو اسے رابندر سنگیت سکھاتے تھے۔
    اس نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں اپنی باقاعدہ تربیت کا آغاز ایک کلاسیکی گلوکار بلرام پوری کے تحت کیا۔
    آٹھ سال کی چھوٹی عمر میں، کویتا نے موسیقی کے مقابلے میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔
    اس نے 1960 کی دہائی کے وسط میں نئی ​​دہلی میں انٹر منسٹری کلاسیکل مقابلے میں حصہ لیتے ہوئے بہت سے تمغے جیتے تھے۔

    25/01/2023

    Kavita Krishnamurthy is an Indian film playback singer who has sung songs in Hindi, Telugu, Marathi, English, Urdu, Tamil, Malayalam, Kannada, Gujarati, Nepali, Bengali,Assamese, Konkani and Odiya Etc.
    Trained in classical music, Kavita Krishnamurthy has recorded more than 25,000 songs in 16 languages in a career span of 30 years.
    Working with almost all the music composers including Laxmikant–Pyarelal, Naushad, S H Bihari, Kaifi Azmi, Anjan, O P Nayyar, Khayyam, Hemant Kumar, Ravinder Jain, Bappi Lahiri, Sameer, Anand Bakshi, Javid Akthar, Anu Malik, R.D.Burman, Himesh Reshammiya, Hamsalekha, Zubeen Garg and A.R.Rahman.
    She is also the recipient of four Filmfare Best Female Playback Singer Awards, including three consecutive awards in the period 1994–1996, and the Padmashri which she received in 2005.
    In 1999, she married violinist L.
    Subramaniam and residing in Bengaluru. Kavita was born Sharada in a Tamil Iyer family in New Delhi, India to T.S. Krishnamurthy, an employee of the Education Ministry.
    She began her music training at the insistence of her aunt, Protimma Bhattacharya who enrolled her with Suruma Basu, who taught her Rabindra Sangeet.
    She began her formal training in Hindustani classical music under Balram Puri, a classical singer.
    At the young age of eight, Kavita won a gold medal at a music competition.
    She won many medals participating in the Inter-Ministry Classical Competition in New Delhi in the mid 1960s.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکر علی
    عظیم تجریدی مصور
    یوم وفات : 27 جنوری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مصوری کی ابتدائی تعلیم جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی سے حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے فن مصوری کا تین سالہ کورس مکمل کیا۔ انہیں کچھ عرصہ فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L’Hote) کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ 1951ء میں پاکستان آگئے اور 1952ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے وابستہ ہوگئے جو بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس کہلانے لگا۔ 1961ء میں وہ اسی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ شاکر علی پاکستان میں تجریدی مصوری کے ساتھ ساتھ تجریدی خطاطی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے آیات قرآنی کو تجریدی انداز میں لکھنے کی جو بنا ڈالی اسے بعد ازاں حنیف رامے‘ صادقین‘ آفتاب احمد‘ اسلم کمال‘ شفیق فاروقی‘ نیر احسان رشید‘ گل جی اور شکیل اسماعیل نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ حکومت پاکستان نے فن مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1962ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

    پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی وفات کے بعد 19 اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے ۔ شاکر علی کا انتقال 27 جنوری 1975ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر یہ عبارت درج ہے جو محترمہ کشور ناہید کے ذہن رسا کی تخلیق ہے: چڑیوں‘ پھول اور چاند کا مصور شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور کے افق پر طلوع ہوا اور 27 جنوری 1975ء کو لاہور کی سرزمین میں مدفون ہیں۔

  • آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    حمیدہ شاہین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    26 جنوری 1963 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کی ایک بہتر پاکستانی شاعرہ پروفیسر حمیدہ شاہین صاحبہ 26 جنوری 1963 کو سرگودھا پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ وہ 1988 میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں لیکچرر تعینات ہوئیں اور ٹھیک 32 برس بعد اپنی سالگرہ کے دن 26 جنوری 2020 میں ترقی کرتے ہوئے 20 گریڈ میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ جبکہ آج اپنی سالگرہ کے دن 60 سال کی عمر کو پہنچ کر گورنمٹ ملازمت سے سبکدوش ہو گٙئی ہیں۔ حمیدہ شاہین صاحبہ کے اب تک 3 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، دستک، دشت وجود اور”زندہ ہوں” شامل ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نمونہ کلام

    کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ
    آدھے لوگ نِری مٹی تھے ، آدھے چاند ستارے لوگ

    اُس ترتیب میں کوئی جانی بوُجھی بے ترتیبی تھی
    آدھے ایک کنارے پر تھے ، آدھے ایک کنارے لوگ

    اُس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا
    آدھے اس نے ساتھ ملائے ، آدھے اس نے مارے لوگ

    آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں
    اُس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    ان پر خواب ہوا اور پانی کی تبدیلی لازم ہے
    آدھے پھیکے بے رس ہو گئے ، آدھے زہر تمہارے لوگ

    آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دیے
    آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ

    آدھوں آدھ کٹی یک جائی ، پھر دوجوں نے بیچوں بیچ
    آدھے پاؤں کے نیچے رکھے ، آدھے سر سے وارے لوگ

    ایسا بندو بست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا
    ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اُتارے لوگ

    کچھ لوگوں پر شیشے کے اُس جانب ہونا واجب تھا
    دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ

    حمیدہ شاہین

  • انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔

    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔

    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔

    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔ انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔

  • یوم پیدائش،  انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    یوم پیدائش، انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔
    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔
    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔
    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔
    انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔

  • پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی

    فاطمہ حسن

    اصل نام: سیدہ انیس فاطمہ زیدی
    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1953ء
    جائے پیدائش:کراچی
    زبان:اردو
    اصناف:تحقیق، تنقید،شاعری
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بلوچستان کاادب اور خواتین-2006
    ۔ (2)فیمینزم اور ہم-2005
    ۔ (3)خاموشی کی آواز-2004
    ۔ (4)یادیں بھی اب خواب ہوئیں-2004
    ۔ (5)کہانیاں گم ہوجاتی ہیں-2000
    ۔ (6)دستک سے در کافاصلہ-1993
    ۔ (7)بہتے ہوئے پھول-1977
    مستقل پتا:ڈی41 بلاک7، گلشن اقبال ،کراچی

    نام سیدہ انیس فاطمہ،ڈاکٹر اور تخلص فاطمہ ہے۔ 25 جنوری 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ان کے آباء و اجداد کا وطن غازی پور(بھارت) تھا۔ سات برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ ڈھاکا چلی گئیں اور وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1971ء میں ڈھاکا یونیورسٹی میں آنرز کی طالبہ تھیں کہ سقوط ڈھاکا کا سانحہ پیش آیا۔ 1973ء میں بھارت اور نیپال سے ہوتی ہوئی کراچی پہنچیں۔ یہاں آکر جامعہ کراچی سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1977ء میں محکمۂ اطلاعات سندھ گورنمنٹ کے شعبۂ اشاعت سے وابستہ ہوئیں۔ پھرسوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں ڈپٹی ڈائرکٹر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ ترقی کرکے اس ادارے میں ڈائرکٹر ،تعلقات عامہ ترتیب وتحقیق کے عہدے پر فائز رہیں۔ فاطمہ حسن شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھتی ہیں۔ ماہ نامہ’’اظہار ‘‘کی نائب مدیرہ رہ چکی ہیں۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’بہتے ہوئے پھول‘‘، ’’دستک سے درکا فاصلہ‘‘(شعری مجموعے)،’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں‘‘(افسانے)، ’’یادیں بھی اب خواب ہوئیں‘‘(شعری مجموعہ)، ان تینوں شعری مجموعوں کو ملا کر ایک مجموعہ ’’یاد کی بارشیں‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ہے۔ ’زاہدہ خاتون شیروانیہ‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:415

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
    وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا
    جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں
    وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا
    وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا
    خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا
    بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں
    وہ رت گزر گئی ہر خواب جب سہانا تھا
    کب اس کی فتح کی خواہش کو جیت سکتی تھی
    میں وہ فریق ہوں جس کو کہ ہار جانا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں
    خواہشوں کے زاویے کچھ اور ہیں
    سن رہے ہیں کان جو کہتے ہیں سب
    لوگ لیکن سوچتے کچھ اور ہیں
    رہبری اب شرط منزل کب رہی
    آؤ ڈھونڈیں راستے کچھ اور ہیں
    یہ تو اک بستی تھکے لوگوں کی ہے
    راہ میں جو لٹ گئے کچھ اور ہیں
    مل رہے ہیں گرچہ پہلے کی طرح
    وہ مگر اب چاہتے کچھ اور ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی
    وہ ہم سفر تھا کشتی پہ مانجھی بھی تھا وہی
    دریا وہی ہے میں بھی ہوں کشتی نہیں رہی
    بدلا جو اس کا لہجہ تو سب کچھ بدل گیا
    چاہت میں ڈھل کے جیسی تھی ویسی نہیں رہی
    پیڑوں میں چھاؤں پھول میں خوشبو ہے اپنا رنگ
    ویرانی بڑھ گئی ہے کہ بستی نہیں رہی
    کچے مکان جیسے گھروندے سے کھیلتی
    پختہ ہوا جو صحن تو مٹی نہیں رہی
    اک اعتراف عشق تھا جو کر نہیں سکی
    خاموش اس لیے ہوں کہ سچی نہیں رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں
    اپنی بستی سے دور آ کر تنہا ہوں
    کوئی نہیں ہے میرے جیسا چاروں اور
    اپنے گرد اک بھیڑ سجا کر تنہا ہوں
    جتنے لوگ ہیں اتنی ہی آوازیں ہیں
    لہجوں کا طوفان اٹھا کر تنہا ہوں
    روشنیوں کے عادی کیسے جانیں گے
    آنکھوں میں دو دیپ جلا کر تنہا ہوں
    جس منظر سے گزری تھی میں اس کے ساتھ
    آج اسی منظر میں آ کر تنہا ہوں
    پانی کی لہروں پر بہتی آنکھوں میں
    کتنے بھولے خواب جگا کر تنہا ہوں
    میرا پیارا ساتھی کب یہ جانے گا
    دریا کی آغوش تک آ کر تنہا ہوں
    اپنا آپ بھی کھو دینے کی خواہش میں
    اس کا بھی اک نام بھلا کر تنہا ہوں

  • ناقابل فراموش اور پراسرار کہانیاں:مقبول جہانگیرکی داستان حقیقت

    ناقابل فراموش اور پراسرار کہانیاں:مقبول جہانگیرکی داستان حقیقت

    مقبول جہانگیر
    24 جنوری یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان میں ڈائجسٹوں کے ابتدائی دور میں اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ کا نام خاصہ نمایاں رہا ۔ اس زمانے میں مقبول جہانگیر اپنی ناقابل فراموش اور پراسرار کہانیوں کی وجہ سے قارئین کا ایک وسیع حلقے بنانے میں کامیاب رہے ۔ شکاریات اور مہم جوئی پر مبنی ان کی کہانیاں کافی مقبول رہیں ۔ مقبول جہانگیر 24 جنوری 1937 میں پیدا یوئے اور 24 اکتوبر 1985 میں ان کا انتقال ہوا معروف ادیبہ و شاعرہ امینہ عنبرین ان کی اہلیہ اور عافیہ جہانگیر ان کی بیٹی ہیں۔ مقبول جہانگیر ایک عرصہ تک سیارہ ڈائجسٹ کے مدیر بھی رہے۔ مقبول جہانگیر کا اصل نام مقبول الاہی ہے۔ ” موت کے خطوط” ہیبتناک افسانے ، خوفناک کہانیاں ، افریقہ کے جنگلوں میں ، فرار ہونے تک ، سمیت ان کی کئی یادگار کتابیں ہیں ۔

  • عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے

    غالب عرفان

    21؍جنوری 2021 یوم وفات

    نام #محمدغالبشریف اور تخلص #عرفانؔ تھا۔
    05؍مارچ 1938ء کو حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔تعلیم و تربیت صوبہ بہار کے شہر جمشیدپور میں ہوئی۔ وہیں سے بے اے پاس کیا۔ اردو ان کی مادری زبان ہے۔ انگریزی پر بھی ان کی گرفت مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ ہندی بھی جانتے تھے۔ 1946ء میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے وہ جمشیدپور سے سابقہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے شہر چاٹگام ہجرت کر گئے۔ بنگال میں قیام کے دوران انھوں نے بنگالی بھی سیکھی۔ ابھی ان کے قدم چاٹگام میں اچھی طرح جمنے بھی نہ پائے تھے کہ مشرقی پاکستان آگ اور خون کی لپیٹ میں آگیا۔ چنانچہ جنوری 1974ء میں اپنے بچوں سمیت کراچی چلے گئے۔ ان کا کلام ہندوستان اور پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے ادبی اور نیم ادبی جریدوں کے علاوہ اخبارات میں بھی شائع ہوتا رہا ہے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ”آگہی سزا ہوئی“، ”روشنی جلتی ہوئی،“ ”م” (نعتیہ کلام)
    غالب عرفانؔ 21؍جنوری 2021ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:329

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے

    جب شعور انسانی رابطے کا پیاسا تھا
    حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے

    فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر
    اعتبار ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے

    مقتدر محبت کی شکوہ سنج محفل میں
    خامشی کو اپنائے پر سپاس ہم ہی تھے

    خواب کو حقیقت کا روپ کوئی کیا دیتا
    منعکس تصور کا انعکاس ہم ہی تھے

    🛑🚥💠➖➖🎊➖➖💠🚥🛑

    الفاظ بے صدا کا امکان آئنے میں
    دیکھا ہے میں نے اکثر بے جان آئنے میں

    کمرے میں رقص کرتی چلتی ہیں جب ہوائیں
    کچھ عکس بولتے ہیں ہر آن آئنے میں

    ہوگا کسی کا چہرہ پہچان کی لگن میں
    ہوں گی کسی کی آنکھیں حیران آئنے میں

    تہذیب کا تسلط ہے آئنے سے باہر
    تاریخ کے سفر کا وجدان آئنے میں

    رنگوں کی بارشوں سے دھندلا گیا ہے منظر
    آیا ہوا ہے کوئی طوفان آئنے میں

    زندہ حقیقتوں کی ہوتی ہے پردہ پوشی
    پلتی ہے جب رعونت نادان آئنے میں

    ہو روشنی کہ ظلمت صحرا ہو یا سمندر
    ہوتا ہے زندگی کا عرفانؔ آئنے میں