Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    پیدائش:14 اکتوبر 1906ء
    قاہرہ
    وفات:12 فروری 1949ء
    قاہرہ
    وجۂ وفات:قتلِ ارادی
    طرز وفات:قتل
    شہریت:مصر
    مذہب:اسلام
    جماعت:اخوان المسلمون
    مادر علمی:جامعہ الازہر
    تلمیذ خاص:یوسف قرضاوی
    پیشہ:سیاست داں، الٰہیات داں، مصنف
    زبان:عربی
    مؤثر:جمال الدین افغانی
    بانی تحریک اخوان المسلمون
    مدت منصب
    1928 – 1949
    صدر:تحریک اخوان المسلمون

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي (14 اکتوبر 1906 – 12 فروری 1949) (1324ھ – 1368ھ) مصر کے ممتاز مذہبی رہنما اور عظیم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی تھے۔ 1923 میں تصوف کے شاذلی طریقہ سے منسوب ہوئے اور شيخ عبد الوہاب حصافی کی خدمت میں تکمیل کی، اسی لیے حسن البنا کی شخصیت سازی میں شيخ عبد الوہاب حصافی کا بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1927 میں دار العلوم (مصر) سے فارغ ہوئے اور شہر اسماعیلیہ میں مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ 1928 میں اخوان المسلمون کا قیام عمل میں آیا۔ 1949 میں حسن البنا ایک بھرپور تحریکی زندگی گذارنے کے بعد 43 سال کی عمر میں قاہرہ میں گولی مار کر شہید کر دیے گئے۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ 1906ء میں مصر کی بستی محمودیہ کے ایک علم دوست اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    انہوں نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کر لیا اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ قاہرہ کے دار العلوم میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں سند حاصل کی۔
    اخوان المسلمون کا قیام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دیہاتی علاقوں کی نسبت شہروں میں اخلاقی انحطاط زیادہ ہوتا ہے، قاہرہ کی بھی یہی صورت تھی۔ حسن البنا جب اپنے قصبہ سے قاہرہ پہنچے تو ان کی حساس طبیعت پر شہر کے غیر اسلامی رحجانات نے گہرا اثر کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور فرعون کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ علما اگرچہ غیر اسلامی نظریات کے خلاف وعظ و نصیحت تو کرتے رہتے ہیں لیکن ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی تحریک موجود نہیں تو انہوں نے 1928ء میں شہر اسماعیلیہ میں، جہاں وہ تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد استاد مقرر ہو گئے تھے، اخوان المسلمون کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ 1933ء میں اخوان کا صدر دفتر اسماعیلیہ سے قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔
    تحریکی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اخوان المسلمون کی تنظیم کے ذریعے انہوں نے اپنے اسی نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کا کام شروع کر دیا۔ جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم کردی گئیں۔ طلبہ اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے "اخوات المسلمین” کے نام سے علاحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اخوان نے مدرسے بھی قائم کیے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ایسا نظام تربیت قائم کیا جس کے تحت اخوان کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں۔
    مطالبہ نفاذِ قوانین اسلامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزمائے جا رہے ہیں اور وہ سخت ناکام ہوئے ہیں لہٰذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کے موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔ حسن البنا نے مصریوں میں جہاد کی روح بھی پھونکی اور اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا اور بتایا کہ مصر ہی کے ایک عالم امام بدر الدین عینی شارح بخاری ایک سال جہاد کرتے تھے اور ایک سال تعلیم و تدریس میں مصروف رہتے تھے اور ایک سال حج کرتے تھے۔
    اخوان اور ذرائع ابلاغ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اخوان نے اخبار اور رسالوں کی طرف بھی توجہ دی۔ 1935ء میں رشید رضا کے انتقال کے بعد حسن البنا نے ان کے رسالے "المنار” کی ادارت سنبھال۔ اخوان نے خود بھی ایک روزنامہ، ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ جاری کیا۔ روزنامہ اخوان المسلمون مصر کے صف اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔ ان مطبوعات اور چھوٹے چھوٹے کتابوں کے ذریعے اخوان نے اپنے اغراض و مقاصد کی پر زور تبلیغ کی اور بتایا کہ اسلام کس طرح زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے۔
    اخوان اور دور ابتلا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت مشرق کے بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی لیکن اخوان کا سب سے مضبوط مرکز مصر ہی تھا۔ جنگ کے بعد اخوان نے عوامی پیمانے پر سیاسی مسائل میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے 1948ء میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلاء کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے سرکاری افواج کے مقابلے میں زیادہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ دوران جنگ انگریزوں نے آزادی مصر کا جو اعلان کیا تھا اسے اخوان نے فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا اور دو سال کے اندر اندر اخوان کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ہمدردوں کی تعداد اس سے دو گنی تھی۔ اخوان کی روز بروز مقبولیت سے اگر ایک طرف شاہ فاروق اول کو خطرہ محسوس کرنے لگا تو دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان پر پابندی لگائی جائے چنانچہ 9 دسمبر 1948ء کو مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار اخوان کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    شہادت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تین ہفتے بعد وزیر اعظم نقراشی پاشا کو ایک نوجوان نے قتل کر دیا۔ حسن البنا کو آخر تک گرفتار نہیں کیا گیا اور 12 فروری 1949ء کی شب قاہرہ میں اس عظیم رہنما کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    المراۃ المسلمۃ
    تحديد النسل
    مباحث في علوم الحديث
    السلام في الإسلام
    قضيتنا
    الرسائل
    رسالۃ المتھج
    رسالۃ الانتخابات
    مقاصد القرآن الکريم

  • ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    پیدائش:06 مئی 1904
    جامشوگ، سویڈن
    وفات:11 فروری 1978ء
    اسٹاک ہوم، سویڈن
    اہم اعزازات:نوبل ادب انعام
    ۔ 1974ء
    ۔ (shared with آیونڈ جوہنسن)
    شریک حیات:Moa Martinson
    ۔ (1929-1940)
    ۔ Ingrid Lindcrantz

    ہیری مارٹنسن(1904 تا 1978 )سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں اورہم وطن آیونڈ جوہنسن کو 1974ء میں نوبل ادب انعام مشترکہ طور پر دیا گیا۔

  • اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار”  حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین

    اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار” حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین

    اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار”

    حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    11فروری 1965 کو افروایشیائی سیمینار کے مندوبین کیلئے لاہور میں سرکاری طور پرایک ثقافتی شو کا اہتمام کیا گیا۔ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ نےنیلو کو شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے رقص کرنے کیلئے کہا۔ اس نے انکار کیا تو گالیاں دیں اورڈرایا دھمکایا ۔ اس بے عزتی پر نیلو نے بڑی مقدار میں خواب آور گولیاں کھالیں۔ بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹر کئی دن کی کوششوں سے نیلو کی جان بچانے میں کامیاب رہے ۔
    فلمی صنعت نے اس واقعہ پر احتجاجاََ ایک دن کی ہڑتال کی۔ حبیب جالب نے نظم ’’نیلو‘‘ لکھی۔ جس کا پہلا بند یہ تھا ۔۔۔

    توکہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی
    رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
    تجھہ کو انکار کی جرأت ہوئی تو کیونکر
    سایۂ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے؟

    مشہور رائٹر، ڈائریکٹر اور فلم ساز ریاض شاہد نے نیلو کی جرأت اور عزتِ نفس کو کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا کہ اسے شادی کی پیشکش کر دی، اور وہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔

    ریاض شاہد نے 1969 میں فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی پر اپنی مشہور فلم ’’زرقا‘‘ بنائی۔ زرقا کا مرکزی کردار نیلو نے ادا کیا۔

    فلم کو فلسطینیوں کی تنظیم ’’الفتح‘‘ نے بہت سراہا۔ 21 اکتوبر 1969 کو کراچی میں ایک تقریب ہوئی، جس میں ’’الفتح‘‘ کے نمائیندےخالد الشیخ نے ریاض شاہد کو یہ فلم بنانے پرمبارکباد دی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
    ریاض شاہد نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیلئےفلم کی نمائش کے حقوق الفتح کو دے دئیے اور کہا کہ اس کی آمدنی جدوجہدِ آزادی میں صرف کی جائے۔

    اس موقع پر نیلو نےفلمی زندگی سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ زرقا ان کی زندگی کا عظیم ترین کردار تھا، اس کے بعد وہ عام فلمی کردار ادا کرنا پسند نہیں کریں گی۔
    لیک ریاض شاہد کی موت کے بعد معاشی ضرورتوں نے انہیں اس عہد پر قائم نہ رہنے دیا،اور انہیں پھر کچھہ عرصے کیلئے فلموں میں آنا پڑا

  • پیٹربنچلے:معروف امریکی ناول نگار،ناول اورصحافی

    پیٹربنچلے:معروف امریکی ناول نگار،ناول اورصحافی

    پیدائش:08 مئی 1940ء
    نیویارک شہر
    وفات:11 فروری 2006ء
    پرنسٹن، نیو جرسی
    وجۂ وفات:پھیپھڑوں کا مرض
    شہریت:ریاستہائے متحدہ امریکا
    مادر علمی:ہارورڈ یونیورسٹی
    زبان:انگریزی

    انگریزی کے مشہور ناول نگار جن کے ناول پر ہالی ووڈ کی مشہور فلم ”جاز“ بنائی گئی۔ نیویارک میں پرورش پائی اور ہارورڈ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے کے لیے صدر لنڈن بی جانسن کی تقریریں لکھنے کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

    ناول ’جاز‘ کی 1974ء میں پہلی اشاعت سے قبل انھوں نے صحافی کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ پیٹر بنچلے کو بچپن سے ہی شارکوں سے دلچسپی تھی اور ان کا بچپن جزیرہ نما نیٹاکیکٹ میں بھی گزرا۔ ان کا ناول ’جاز‘ ایک ایسی بہت بڑی سفید شارک کے بارے میں ہے جس نے ایک شہر کو ہراساں کر رکھا ہے۔ اس ناول کی اب تک دو کروڑ جلدیں فروخت ہو ئیں۔

    ان کے اس ناول پر فلم مشہور ڈائریکٹر اسٹیون سپلبرگ نے بنائی اور انھوں نے اس فلم میں خود بھی ایک رپورٹر کا کردار ادا کیا۔ انھیں سمندر اور سمندری حیاتیات سے گہری دلچسپی تھی اور ان کے دوسرے دو ناول ’دی ڈیپ‘ اور ’دی آئی لینڈ‘ بھی سمندر سے متعلق ہیں۔

  • مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی (پیدائش: 11 فروری 1967) ایک ہندوستانی لوک گلوکارہ ہے۔ وہ ہندی اور متعلقہ زبانوں جیسے اودھی، بندیل کھنڈی اور بھوجپوری میں گاتی ہیں۔ وہ ٹھمری اور کجری میں بھی پیش کرتی ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں 2016 میں پدم شری کے شہری اعزاز سے نوازا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Malini Awasthi (born 11 February 1967) is an Indian folk singer.
    She sings in Hindi and related languages such as Awadhi, Bundelkhandi and Bhojpuri.
    She also presents in Thumri and Kajri.
    The Government of India awarded her the civilian

  • سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    سیدہ فرحت

    یوم وفات: 11؍فروری 2003

    اصل نام کرامت فاطمہ اور تخلص سیدہ فرحت تھا۔
    یکم؍اپریل 1938ء کو بھوپال مدھ پردیش میں پیدا ہوئیں۔ آٹھویں کلاس تک بھوپال میی سلطانیہ اسکول میں تعلیم پائی جہاں ان کے والد محکمہ پولیس کی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اپنے ماموں ڈاکٹر عابد حسین کے پاس جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی آگئیں اور ان کی نگرانی میں گھر پر ہی تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر سے شاعری شروع کی، جعفر علی خاں اثر سے کلام پر کچھ عرصے تک اصلاح لی۔ ان کا کلام ماہنامہ ’’شاہراہ‘‘، ’’نئ روشنی‘‘، ’’آجکل‘‘ آور دیگر رسائل میں شائع یوتا رہا۔
    جب جامعہ ملیہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی شاخ قائم ہوئ تو اس کی ممبر بنیں۔ شادی کے بعد علی گڑھ منتقل ہوگئیں۔ وہاں 1962ء میں خواتین کی ادبی انمجمن ’’بزم ادب‘‘ قائم کی جو آج بھی فعال ہے۔ فلاحی کاموں میں بھی سرگرم رہیں۔
    11؍فروری 2003ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئیں۔
    ان کے دو شعری مجموعے ’’بزم خیال‘‘ اور’’سازحیات‘‘ ہیں اور بچوں کے لئے نظموں کی کتاب ’’بچوں کی مسکان‘‘ہے۔ ان کی بیٹی نے سن 2016ء میں’’کلیات سیدہ فرحت‘‘ شائع کی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    سیدہ فرحتؔ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا
    خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا

    کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت
    خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے
    وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا

    ساز دل جو کبھی نغمات طرب گاتا تھا
    اب ہے محروم ترنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    علم کے گوہر نایاب جو دیتا تھا کبھی
    اب ہے خوناب وہ قلزم کبھی ایسا تو نہ تھا

    قتل انسان تو اب روز کا معمول ہوا
    دل سے مفقود ترحم کبھی ایسا تو نہ تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ فرش خاک پہ ٹھہریں گے نقش پا کی طرح
    رواں دواں ہیں فضاؤں میں ہم ہوا کی طرح

    پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے
    سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    خدا کرے تجھے احساس درد و غم نہ رہے
    دعائے خیر وہ دیتے ہیں بد دعا کی طرح

    نہ ہو سخن میں جو شان پیمبری ممکن
    خموش رہ کے بھی دیکھیں ذرا خدا کی طرح

    جھلک دکھائے کہیں تو امید کا سورج
    ہجوم یاس ہے امڈی ہوئی گھٹا کی طرح

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوز دل پاس وفا درد جگر ہے کہ نہیں
    جو تھا مسجود ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں

    فرش گیتی سے سر عرش پہنچنے والے
    کوچۂ دل سے تری راہ گزر ہے کہ نہیں

    گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا
    جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں

    جس میں ہو جلوہ فگن کون و مکاں کی وسعت
    اہل دانش میں وہ انداز نظر ہے کہ نہیں

  • پاکستان لٹریچرفیسٹیول کا آغاز10 فروری کو لاہورمیں ہو گا

    پاکستان لٹریچرفیسٹیول کا آغاز10 فروری کو لاہورمیں ہو گا

    لاہور: پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا آغاز 10 فروری کو لاہورمیں ہوگا جس کا افتتاح نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علیٰ شاہ کریں گے۔ فیسٹیول کے 50 سے زائد سیشن ہوں گے جس میں تفریح، مزاح، موسیقی، ڈانس کے علاوہ ادب،تعلیم، معیشت، کتابوں کی تقریب رونمائی،ملک کے معروف دانشوروں اور فن کاروں کے ساتھ گفتگو شامل ہوگی۔

    عمران خان سے صدرمملکت عارف الرحمن علوی کی اہم ملاقات، انتخابات کی تاریخ نہ دینے…

    افتتاحی تقریب میں پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر اور سندھ کے وزیر ثقافت اور تعلیم سید سردار شاہ بھی شرکت کریں گے۔

    الحمراءآرٹس کونسل میں، انور مقصود، صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر، سیکرٹری اطلاعات و نشریات علی نواز ملک اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا ذوالفقار ذلفی کے ہمراہ صدر آرٹس کونسل پاکستان کراچی احمد شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 سال سے کراچی آرٹس کونسل اردو کانفرنس منعقد کر رہی ہے، اب ہم ایک نیا برانڈ متعارف کرا رہے ہیں، پاکستان میں یکجہتی کی بہت ضرورت ہے، کلچر اور ادب کے ذریعے ملک کی تمام اکائیوں کو جوڑا جا سکتا ہے۔

    ننکانہ : میونسپل کمیٹی کے ملازمین کو تنخواہیں نہ مل سکیں،سینیٹری ورکرز کا شدید…

    انہوں نے کہا کہ لاہور ادبی و تہذیبی مرکز رہا ہے، دلی اور چندی گڑھ سے لوگ یہاں پڑھنے آتے تھے، ہم نوجوان نسل کو آپس میں جوڑ رہے ہیں، لاہور کے بعد گوادر،مظفر آباد،گلگت،پشاور، اسلام آباد اور کراچی میں اس فیسٹیول کا انعقاد ہو گا۔احمد شاہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم امریکہ کے مختلف شہروں ہیوسٹن، نیویارک، شکاگو، ڈیلس اور ٹورنٹو میں پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا۔

    انور مقصود نے کہا کہ اگر لاہور نہ ہوتا تو پاکستان میں اردو نہ ہوتی، ہر آدمی کا حق ہے کہ اس کا آنے والا دن اچھا ہو، حالات برے ہیں لیکن ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے، نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، ملک میں تعلیم کو پنپنے نہیں دیا گیا کیونکہ اس ملک کے بچے پڑھ گئے تو الیکشن میں ووٹ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان بہت ذہین ہیں، عقل اور سمجھ کے ساتھ ہماری نوجوان نسل سچی ہے، احمد شاہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں وہ کامیاب ہوتا ہے، اس فیسٹیول کے انعقاد میں زلفی کی بہت محنت ہے۔

    صوبائی وزیر ثقافت و اطلاعات عامر میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محمد احمد شاہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول ایونٹ کے روح رواں ہیں، انور مقصود ہمارے ملک کے لیجنڈ ہیں، اس فیسٹیول کی بنیاد اور محنت احمد شاہ کی ہے، پاکستان کے معاشرے میں جو شدت پسندی بڑھ گئی ہے اس سے نکلنے کے لیے ایسے ایونٹس بہت ضروری ہیں۔ذوالفقار زلفی نے کہا کہ ہم احمد شاہ کو خوش آمدید کہتے ہیں، اس فیسٹیول کے لیے احمد شاہ دن رات محنت کر رہے ہیں، الحمرا ہر قدم میں ان کے ساتھ ہے ، عامر میر کی قیادت میں ہم بھرپور ساتھ دیں گے۔

  • امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ
    (Elizabeth Bishop)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیدائش: 8 فروری 1911
    وفات: 6 اکتوبر 1979

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ امریکہ کی ریاست میسا چیوسیس کے چھوٹے سے شہر ورکرسٹر Worcester میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک کنٹریکٹر تھے جب ان کی عمر آٹھ سال تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی والدہ صدمے سے ذہنی مریضہ بن گئی۔

    ان کی شاعری پر میریں مور Marianne Moore کے لبرل خیالات کا گہرا اثر رہا۔ انھوں نے نیویارک کے وارسر کالج سے 1934 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بشپ کی نظمیں” ایک ادبی جریدے ٹرائیل بیلنس” میں شائع ہو چکی ہیں۔

    1949-1950 کے دوران وہ واشنگٹن میں شعبہ شاعری کی مشیر رھی۔

    ان کی شاعری کا اسلوب منفرد نوعیت کا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے آپ کو” تسخیر”کرنا چاہتی ہیں۔ اور الزبتھ بشپ ” آبلہ فریبی” سے فاصلہ رکھے ہوئی ہیں۔

    ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ” لزبن "ہم جنس نسواں” تھی۔ یہ غلط تاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ عورتوں کی شاعری کرتی ہیں۔ بقول ان کے "عورتوں کی زیادہ تر شاعری فطرتا نیلے رنگ کے گیت ہوتے ہیں جس میں آہ و زاری کی جاتی ہے اور درد کا شکار ہوکر سادیت کے گیت لکھتی ہے۔

    1956 میں انھیں پولینٹرز انعام مل چکا ہے۔ ان کی زندگی پر بابرا ھوکر نے ایک فلم This House on Elizabeth Bishop کے نام سے بنائی۔

    بشپ کی تحریروں کی عمدہ اور شاندار خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو صدیوں پرانے شعری رویوں سے آگہی اور اس کی کلیوں کو وہ سمتیں ہیں جن کو بڑی ہی مہارت سے اپنی شاعری میں سمودینے کی تخلیقی ہنر مندی ان کو آتی ہے۔ وہ اپنے جذباتی شعری اظہار کو اعتدال کے ساتھ کنٹرول کر لیتی ہیں۔ وہ اپنے جذباتی اور حساس کو بڑی مہارت سے شعری پیکر اور اس کو جمالیاتی طور پر تشکیل دے لیتی ہیں۔ جب قاری ان کے جذبوں سے آگاہ ہوتا ہے تو وہ "بلبلاتا ” بھی ہے۔ دراصل ان کے شعری فن میں یہ بات تو ہے کہ وہ اپنے ” زخموں” کو کمال ہوشیاری سے چھپا بھی لیتی ہیں۔ مگر وہ اپنی ذاتی واردات اور زخموں کو بے نقاب کرنے کے لیے اساطیری فکریات اور ڈھانچے سے اسلوبیاتی اور اپنا شعری بیانیہ ترتیب دیتی ہیں۔

    مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بشپ کی شاعری کا مطالعہ اور تجزیہ اسرار اور پر اسرار کے ساتھ کرنا ہے۔ جس طرح ان کی شاعری صرف شاعرہ کو کشف، الہام اور وحی کے بغیر طاقتور، مباحثہ احساسات سے اپنے آپ کو الگ کرتی ہے۔ بشپ نے اس وقت جمالیاتی صوابدید کا ایک راستہ اپنایا جب اس کے بہت سے ہم عصر شعرا ان کی شعری فطانت کا کا تعاقب کررہے تھے. اور ان کی شاعری کے بہت سے ٹکڑوں کو رد و بدل کرنے بعد شائع کرنے والے شعرا کی بھی کمی نہ تھی۔ جس میں بشپ کی شعری فضا اور خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ یہ دھوکہ دہی اور پریشانی کا سبسب بھی بنی۔ جس میں جمالیات اور تخلیقی مرکبیات، عمل کیمیائی کے بعد مراقبے کا شکار ہوجاتی ہے۔ جو ان کا حفاظتی حصار تھا۔ وہ التباس کا شکار رہی۔ مگر ان کی یہ تشکیک اور تشویش تو ہے مگر یہ مراقبہ نہیں ہے۔ یہ اصل میں شاعرہ کے نئے شعری اظہار کی تلاش اور جستجو ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” بلی کی لوری”

    ” میاوں”۔۔۔۔ نیند خواب ہوجاتے ہیں
    اپنی بڑی آنکھوں کو بند کرلو
    ایک مسرت آمیز حیرانگی کے ساتھ
    پیاری ” میاوں” ۔۔۔ اپنی چڑھتی ہوئی تیوری کو گرا دو
    بس تعاون کرو
    ایک بلی کا بچہ نہ ڈوب جائے
    مارکسی حالت میں
    خوشی اور محبت دونوں تمہارے ہوجائیں گے
    ” میاں” ۔۔۔ اداس نہ ہو
    خوشی کے دن جلد آرہے ہیں
    نیند —– اور انھیں آنے دو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الزبتھ بشپ کی تصانیف

    North & South (Houghton Mifflin, 1946)
    Poems: North & South. A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1955) —winner of the Pulitzer Prize[1]
    A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1956)
    Questions of Travel (Farrar, Straus, and Giroux, 1965)
    The Complete Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 1969) —winner of the National Book Award[2]
    Geography III (Farrar, Straus, and Giroux, 1976)
    The Complete Poems: 1927–1979 (Farrar, Straus, and Giroux, 1983)
    Edgar Allan Poe & The Juke-Box: Uncollected Poems, Drafts, and Fragments by Elizabeth Bishop ed. Alice Quinn (Farrar, Straus, and Giroux, 2006)
    Poems, Prose and Letters by Elizabeth Bishop, ed. Robert Giroux (Library of America, 2008) ISBN 9781598530179
    Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 2011)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سورن لتا سے  سعیدہ بانو تک کا سفر

    سورن لتا سے سعیدہ بانو تک کا سفر

    اداکارہ سورن لتا

    یوم وفات : 8 فروری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم "_سچائی” بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم” پھیرے” ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔” پھیرے” کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم” لارے” اور اردو فلم "انوکھی داستان” ریلیز ہوئیں۔

    1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم ” بھیگی پلکیں” تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں ، شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیر ، ریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام، شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کئے تاہم چند برس بعد فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔ سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔
    8 فروری 2008ء کو برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    پیدائش:25 ستمبر 1711ء
    بیجنگ
    وفات:07 فروری 1799ء
    بیجنگ
    مدفن:مشرقی چنگ مقابر
    شہریت:چنگ سلطنت
    اولاد:نسل
    مناصب
    شہنشاہ چین
    برسر عہدہ
    08 اکتوبر 1735- 9 فروری 1796ء

    چی این لونگ ایک شہنشاہ ہوتے ہوئے فاضل، ادیب، عالم اور نامور جرنیل تھا۔ اس کے عہد میں چین آزاد اور اقتدار کا ممتاز مظہر تھا۔ اس کا دور امن و امان کا حامل تھا۔ اس کی موت کے بعد شاہی کو ایسا زوال آیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور جمہوریت نے جنم لے لیا۔
    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ یونگ چینگ کا ولی عہد تھا جو حرم کے ایک خواص کی بطن سے پیدا ہوا تھا۔ اس کی ابتدائی زندگی مطالعہ اور تحقیقات میں گزری۔ اس کو امور سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ حکومت کے نظم و نسق کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ اس کے علمی شوق اور افضیلت نے اسے دور دور تک مشہور کر رکھا تھا۔ وہ تصنیف، تالیف یا تحقیق میں اس قدر محو تھا کہ اسے عوام حالات تک معلوم نہیں تھے۔
    تخت نشینی
    ۔۔۔۔۔۔
    جب چی این لونگ کے باپ کا انتقال ہوا تو اس کی عمر پچیس سال تھی۔ امرائے حکومت نے اسے مجبور کیا کہ وہ امور سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ اس نے جواب میں کہا کہ کسی ملک کی حکمرانی بڑی ذمہ داریوں کا کام ہے۔ جو اعلیٰ روایات ہمارے اسلاف نے قائم کی انہیں ایک آن کے ساتھ لیکر آگے بڑھنا تا کہ ملک ترقی کر سکے۔ عوام کے حقوق کی حفاظت اور بیرونی اقوام کے حملوں سے مادر وطن کا تحفظ ایسی ذمہ داریاں ہیں جسے شاید میں اچھی طرح سے انجام نہ دے سکوں۔ چی این لونگ کا یہ جواب وزرائے سلطنت کو اس قدر پسند آیا کہ وہ اس کی تخت نشینی پر زور دینے لگے۔ وزراء نے چی این لونگ کو آخر مجبور کر دیا کہ وہ تخت و تاج کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ چنانچہ لنگ 1735ء میں تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی کے بعد اس نے چار اتالیق مقرر کیے جو اسے امور سیاست سے واقف کراتے تھے۔
    یورپی مبلغین
    ۔۔۔۔۔۔
    علحدگی پسند چینی یہ نہ چاہتے تھے کہ مسیح اور دوسرے مذاہب کے داعی چین میں آ کر اپنے مذہب کا پرچار کریں جس وجہ سے چینی مذہب اور اس کی انفرادیت کو ٹھیس پہنچے۔ یہ نفرت انگیز اور کشیدہ جذبات چی این لونگ کے دادا کے زمانے سے پرورش پا رہے تھے۔ اس طویل عرصے میں یورپ کے مشزیز اپنے اثرات کو وسیع اور ہمہ گیر بنا رہے تھے۔ چی این لونگ نے امتناعی احکامات نافذ کر دیے کہ غیر مذاہب کی تبلیغ کو فوراً ختم کر دیا جائے۔ مبلغین جو تبلیغ کے علاوہ ایک سیاسی مقصد بھی رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ان پابندیوں کی پروا نہیں کی اور اپنا کام جاری رکھا۔ جب چی این لونگ کو قانون کی خلاف ورزی کی اطلاع ملی تو اس نے ان مبلغین کو سخت ترین سزائیں دلوایں جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ یہ کشمکش اس وقت شدید ترین ہو گئی جب جزائر فلپائن کے چینی باشندوں کو ہسپانوی باشندوں نے مسیحیت قبول نہ کرنے پر سخت سزائیں دیں گئی۔ اس کی خبر جب چین پہنچی تو چی این لونگ نے حکم دیا کہ ہسپانوی تبلیغ گھر جو چین میں تعمیر ہے سب کو مسمار کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ ہسپانوی مبلغین کو قتل کرنے کا حکم بھی دیا جس کی وجہ سے ہسپانوی مبلغین کو چن چن کر قتل کیا گیا۔
    یورپی تاجر
    ۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ مسیحیت اور مغربی اقوام کا سخت دشمن تھا اس نے تبلیغ مسیحیت کو حددود چین میں ممنوع قرار دیا تھا۔ بیرونی تاجروں پر کڑی نگرانی کا انتظام کر رکھا تھا۔ بندرگاہوں پر ایک خاص عہدہ دار جو ہوپو کے نام سے بھی مشہور ہے کا تقرر کیا گیا جو درآمدات اور برآمدات پر نگرانی کرتا۔ تاجروں پر سختیاں اور پابندیوں کو دیکھ کر جارج سوم شہنشاہ انگلستان نے چی این لونگ کے دربار میں اپنے قاصد میکارٹنی کو بھیجا۔ مگر چی این لونگ نے میکارٹنی کو بے نیل و مراد لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان ناکامیوں کا حل مغربی اقوام نے عجیب و غریب نکالا۔ ان لوگوں نے کثیر مقدار میں افیون کی درآمد شروع کر دی۔ چینیوں میں افیون کے اس شدید استعمال نے اخلاقی و مالی نقصانات پیدا کر دیے۔ مانچو حکمرانوں نے افیون کی تجارت ختم کرنے کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی تھی۔ جس کی انتہا یہ ہوئی کہ افیون کی تجارت کی وجہ سے بیرونی اقوام اور چین میں 1841ء میں جنگ بھی ہوئی جس میں چین کو شکست ہوئی۔
    وسط ایشیا کے جنگجو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرادر چین کی آزادی اور امن کے لیے مستقل خطرہ تھے۔ چین کی سیاست میں جب کبھی انحاط دیکھتے چین پر حملہ کر دیتے۔ چی این لونگ نے اس خطرے کو پوری طرح محسوس کیا اور یہ طے کیا کہ چین کے مستقل اس خطرے کے ارتفاع سے امن کی ایک ضمانت دلائی جائے۔ چنانچہ چی این لونگ نے کثیر ترفیت یافتہ فوج تیار کی اور مناسب موقع کا انتظار کیا۔ وقت کا انتظار اس لیے کیا جا رہا تھا کہ وسط ایشیا بے امنی، قتل اور غارت گری کا ایک خونی مرکز تھا۔ چی این لونگ سے بیشتر شاہان چین کی یہ جرات نہ ہو سکی تھی کہ وہ اس بارود خانے میں چنگاری پھینکیں۔ چی این لونگ نے موافق موسم میں مناسب حالات کے ساتھ ایک کثیر فوج لے کر وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں پر حملہ کر دیا۔ اس خون ریز لڑائی میں چی این لونگ کو فتح نصیب ہوئی اور تمام سرداروں کو اس نے زیر نگین کر لیا۔ اس مہم میں خاشگر، یارقند، خوقند اور سارا وسط ایشیا تسخیر کر لیا گیا۔
    سلطنت میں وسعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں کو زیر نگین کرنے کے بعد چی این لونگ نے 1768ء میں برما پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ جنگ چار سال تک جاری رہی۔ اس جنگ میں چینی فوجیں برما کے دار الحکومت تک تو نہیں پہنچ پائی لیکن چین کی سیادت کو حکومت برما نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس کے بعد 1792ء میں چینی افواج نے نیپال پر حملہ کیا تھا۔ اس لڑائی میں چین کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ شہنشاہ چی این لونگ کی سلطنت کی حدود افغانستان اور ہندوستان کے قریب قریب تک پھیلی ہوئی تھی۔
    دستبرداری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کو 1795ء میں دستبردار ہونا پڑا کیونکہ چینی قانونی کے لحاظ سے کوئی بھی بادشاہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ حکومت نہیں کر سکتا تھا۔دستبرداری کے بعد بھی چی این لونگ امور سلطنت کی نگرانی کرتا رہا۔
    دور حکومت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کا دور فتوحات سے قطع نظر اندرونی طور پر امن و امان کا حامل تھا۔ غریبوں اور کسانوں کی فلاح کے لیے کئی قوانین بنائے۔ چی این لونگ چین کا وہ عالم، مدبر، فن کار اور جنگجو فرمانروا ہے جس نے اپنی قابلیت سے چین کی علمی اور سیاسی زندگی میں بیش بہا اور گرانقد اضافے کیے۔ چی این لونگ چین کا آخری فرمانروا ہے جو چین کی عظمت و جلال کا ایک ممتاز مظہر تھا۔