Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا:ابن انشا کا یوم وفات

    انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو
    اس شہر میں جی کو لگانا کیا
    11 جنوری 1978
    ممتاز ادیب، شاعر ، سیاح اور کالم نگار ابن انشا کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ممتاز ادیب، شاعر،کالم نویس ،سفر نامہ نگار اور سیاح ابن انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ وہ اک طویل عرصہ تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انہیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کرکے ہی دم لیا۔ ابن انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اس بستی کے ایک کوچے میں” اور ’’دلِ وحشی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کئی خوبصورت سفرنامے بھی عطا کئے جن میں آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافرشامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم ،باتیں انشا جی کی اور قصہ ایک کنوارے کا قابل ذکر ہیں۔ جناب ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا اور انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔

    ابن انشاء کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
    وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

    اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
    ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا

    کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
    کچھ نے کہا چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

    ہم کسی در پہ نہ ٹھٹکے نہ کہیں دستک دی
    سیکڑوں در تھے مری جاں ترے در سے پہلے

    جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے
    کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہرجھانکی ہے

  • وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    جوئے کیلئے پوری دنیا میں مشہور لاس ویگاس کے کسی جوا خانے میں آپ کو گھڑی نظر نہیں آئے گی. وہ چاہتے ہی نہیں کہ اپنی کمائی کو جوئے کی ٹیبل پر رکھنے والے جواری کو وقت گزرنے کا احساس ہو. آپ کسی بھی بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں چلے جائیں اس کی دیواروں پر بھی گھڑی نہیں ہوگی. وہ بھی نہیں چاہتے گاہک کو ہماری اشیاء سے بھری الماریوں کے درمیان وقت کا حساب یاد رہے.

    مشہور زمانہ روسی ادیب لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا دنیا کے سب سے بڑے جنگجو وقت اور صبر ہیں. اگر آپ ادب کے میدان سے تعلق نہیں رکھتے تو چلیں دنیا کے کسی بھی امیر ترین انسان سے پوچھیں دولت کی کوئی یک لفظی چابی کیا ہے.؟ وہ بتائے گا "سرمایہ کاری” یعنی انویسٹمنٹ. وقت ہماری سرمایہ کاری ہے.

    ہمارا سرمایہ ہمارا "وقت” ہے. وقت کے اس بازار میں اگر آپ ہیں تو سرمایہ وقت آپ کے پاس ہے . چیلنج ایک ہی ہوگا آپ اپنے اس سرمائے کی سرمایہ کاری کیسے کرتے ہیں.؟ جوا اسی لئے حرام ہے کیونکہ اس سرمایہ کاری میں آپ نہیں ہوتے بلکہ آپ اپنے چانس یا نصیب کو سامنے کردیتے ہیں. بازاروں کو اس لئے پسند نہیں کیا جاتا کیونکہ اس میں آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں. وقت کے اس سرمائے کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے.

    اس سرمایہ وقت کی حفاظت صبر کہلاتا ہے. بے صبر اپنا سرمایہ وقت جواری کی طرح ہار رہا ہوتا ہے. وقت کے بہترین جنگجو پھر صبر سے اپنے وقت کا حساب کرتے ہیں اور بروقت اپنے فیصلے کرتے ہیں.

  • لطیفے اور رشتے!!! —- ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

    لطیفے اور رشتے!!! —- ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

    بیوی کے رشتے پر انتہا درجے کے مذاق اور لطائف بنا کر بیوی کو خودسر ،ہڈدھرم، لالچی اور کم عقل ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ بیوی کا برابری کا درجہ ان لطائف کی زد میں آ کے مسلسل کمتر حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

    پچھلے دنوں احباب نے نوٹس کیا ہو گا کہ میں نے اپنے پیج پر ایک ایکٹیویٹی کی جس میں تمام لطائف شوہر یا مرد کے متعلق شیئر کیے ۔

    چند بار حضرات ہنسے لیکن پھر دبا دبا احتجاج بلند ہونا شروع ہوا کہ اپ تو مردوں کی کلاس لے رہی ہیں ۔ شوہروں پر تو لطیفے لکھتی ہیں بیوی پر بھی لکھیں ۔ ان لطائف میں وقتی ہنسی سے بڑی رمز چھپی ہے ۔ لطیفہ اور ہنسی پیچھے رہ جاتی ہے بیوی یا شوہر سے متعلق ایک منفی نکتہ ذہن میں خفیہ طور پر جڑ پکڑ جاتا ہے ۔

    بعینہ یہی حال پھوپھی ماموں اور سالے کے رشتے پر لطائف بنا کر کیا گیا ۔ یعنی جو بےلوث محبت کے رشتے ہیں ان پر مخفی ،منفی پیغام کے ساتھ بنے لطائف سے ان کی تحقیر کی جائے ۔ اس طرح نئی جنریشن اور پہلے سے موجود بالغ لیکن کم عقل جنریشن کے اذہان میں ان رشتوں کی اہمیت کم کر کے انہیں محض مذاق بنا کر رکھ دیا جائے ۔

    جو شوہر دوستوں میں بیوی کے لطائف سن کر آئے وہ بیوی کو لطیفے سنائے یا نہ سنائے اپنی بیوی کو اسی تناظر میں دیکھے گا ضرور ۔
    بیوی کی بہن کیسی ہی دیندار کیوں نہ ہو اسے بہنوئی دل ہی دل میں سالی (نہایت ذومعنی ) کے رشتے سے یاد کرے گا ۔
    بیوی کا بھائی کیسا ہی معزز کیوں نہ ہو رہے گا وہ سالا ہی، یہ لفظ معاشرے میں کتنا معزز ہے سبھی واقف ہیں ۔

    اچھا دیور بھابی پر روایتی ٹپے موجود ہیں لطائف موجود نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس محترم لیکن نامحرم رشتے کی بنا لطیفے بنائے ہی اسقدر تحقیر کر دی گئی ہے کہ اپ سوشل میڈیا پر لفظ دیور یا بھابی لکھ کے سرچ بھی نہیں کر سکتے ۔ صرف گٹر ابلتا ہے ۔

    بلاشبہ جب حضور اکرم ص نے دیور کو بھابی کے لیے موت قرار دیا تو اس کی وجہ بھی تھی ۔ یہی حد بعینہ بہنوئی اور سالی کے رشتے پر بھی عاید رہنی چاہیے ۔

    بچے کے ماموں کتنے ہی سمجھدار پروقار ہستی کیوں نہ ہوں اس لفظ کو بےوقوف کا مترادف بنا دیا گیا ہے ۔

    پھوپھو، جان نثار ماں جیسی ہستی کیوں نہ ہو اسے صوتی مماثلت اور لطائف کے زور پر پھپھے کٹنی کے مترادف ٹھہرا دیا گیا ۔پھوپھو کو تو باقاعدہ ایک رویہ ڈکلیئر کر دیا گیا ہے ۔ ایسا مخلص رشتہ جو پہلے ہی ازدواجی بندھن کی وجہ سے میکے سے دور رہنے پر مجبور ہو اسے برا بنا کر بالکل ہی میکے سے دور کر دیا گیا ہے۔ بھلا کون سی بیوی اپنی راجدھانی میں پھپھے کٹنی فسادن کی آمد پسند کرے گی ۔ پس بھابی نے نند اور باپ نے پھوپھو کو خود سے دور کر دیا ہے ۔ بھتیجے تو اس رشتے کی مٹھاس سے محروم ہوئے ہی لیکن والدین کے جانے کے بعد بھائی کے گھر سے میکے کی خوشبو تلاش کرنے والی بہن کا میکہ اگر دوسری بہن قائم رکھے تو رکھے بھائی تو لفظ پھوپھو کے خوف سے دور رہنا پسند کرنے لگے ہیں

    ان لطائف نے رفتہ رفتہ سالا سالی گالی ، دیور بھابی گالی ، ماموں احمق کے اور پھوپھو پھپھے کٹنی کے مترادف بنا دیے ہیں ۔ ساس جلاد یا ہٹلر کے اور سسرال، سسرائیل جیل یا قید کے مترادف بنا دیے ہیں ۔ لفظ بیوی لطائف کی روشنی میں کم عقل ،کم فہم ،دکھ درد نہ سمجھنے والی ،خرچیلی جھگڑالو، سکون نہ دے سکنے والی، جلدباز اور پھوہڑ عورت کے کردار کا آفیشل نام بن گیا ہے ۔

    یہ سبھی عزت کے رشتے تھے جنہیں ہنسی مذاق میں بے توقیر کر دیا گیا ہے ۔اب اس کا مداوا محض بہترین گھریلو تربیت سے ہی ممکن ہے جہاں والدین اپنی اولاد کو تمام رشتوں باتوں سے اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے حفظ و مراتب سے کماحقہ متعارف کروائیں۔

    سچ ہے ضرورت سے زیادہ مذاق عزت میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔

  • امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    بنی اسرائیل کی روایات میں آتا ہے نوجوان داود علیہ السلام نے جب جالوت کے مظالم اور خوف کے بارے میں سنا تو اپنے بھائی سے پوچھا تم لوگ اس کے خلاف کھڑے کیوں نہیں ہوتے.؟ ان کے بھائی نے کہا کیا تم نہیں دیکھتے وہ کتنا بڑا دیو ہے. کتنا لمبا چوڑا ہے. کیا اس کو مارا جا سکتا ہے.؟ داود نے کہا ہاں میں دیکھ رہا ہوں اسے جس طرف سے بھی نشانہ لگاو یہ بچ ہی نہیں سکتا.

    اور انہوں نے اسے اپنی غلیل سے مار دیا تھا. بڑی چیزوں کا یہی مسئلہ ہوتا ہے. کوئی نشانہ خطا ہی نہیں ہوتا. جیسے بڑے بڑے پہاڑ ہوں. ایک چیلنج کی طرح ناقابل عبور لگتے ہیں. لیکن ان کے چھوٹے چھوٹے درے ان کی بلندی کے راستے بن جاتے ہیں. ایک چھوٹی سی سرنگ لمحوں میں اسے پار کرا دیتی ہے اور پہاڑ دیکھتا رے جاتا ہے.

    بڑی بڑی چوٹیاں جیسے کے ٹو ماونٹ ایورسٹ ہم نے چار پانچ پڑاو میں تقسیم کر کے نہ صرف سر کر لیں بلکہ سر کرتے چلے جا رہے ہیں. ہم دوسروں میں شیشے کی طرح خود کو دیکھتے ہیں. دوسرے بھی ہم میں خود کو شیشے میں دیکھتے ہیں. لیکن جب آپ اپنی ذات کے سچ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ شیشے ختم ہو جاتے ہیں.

    داود کے بھائی کو جالوت میں ڈرا سہما ہوا اپنا آپ نظر آرہا تھا. جالوت کو دوسروں میں اپنا دیو قامت قد اور رعب و دبدبہ نظر آرہا تھا. لیکن داود علیہ السلام کو ایک ایسا دیو ہیکل جسم جسے جس طرف سے بھی مارو نشانہ خطا ہو ہی نہیں سکتا. اس لئے بڑے خواب بڑے چیلنج دیکھنے والے بھلے ان چوٹیوں کو سر نہ بھی کریں وہ کسی نہ کسی پڑاو پر سر کرنے کی امید اور یقین ضرور رکھتے ہیں.

  • اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    ایک پھول کا حُسن اُس کلی کے صبر میں ہے جس نے اس حسن کو سمیٹ کر رکھا ہوتا ہے. دنیا کی نظروں سے دور یہ کلی پرت در پرت اپنے پتے ترتیب سے بنا رہی ہوتی ہے. ایک لاروا اپنے حول میں بند تتلی کے وہ پر بہت صبر سے بنا رہی ہوتی ہے جو اس بظاہر بدشکل کیڑے کو خوبصورت رنگ دے کر قوت پرواز دے گا.

    ہم لوگ اس صبر پر گواہ نہیں ہوتے. ہم تو کھلے ہوئے پھول اور اس پر لپکتی خوبصورت پروں کی تتلیاں دیکھ کر سمجھتے ہیں شائد یہ پیدا ہی ایسے ہوئے. ہم انسان جو دیکھتے ہیں اسے ہی مان لیتے ہیں. اس لئے ایک سادہ سا سوال بھی ہمیں کنفیوز کر دیتا ہے جیسے کوئی پوچھ لے کیا آپ خود کو پسند کرتے ہیں.؟

    ہماری اکثریت خود کو ہی نہیں جانتی. کیونکہ خود کی پسندیدگی کا مطلب اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا ہے. ایسے لوگ خود پر دوسروں کی رائے سے متاثر نہیں ہوتے. ان کو خوش رہنے کیلئے باہر کے اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی. یہ خود کے ساتھ خوش رے سکتے ہیں اور منفی لوگوں کیلئے ان کی ذات پر صبر کے ویسے ہی پردے ہوتے ہیں جیسے کلی یا لاروے نے اپنے رنگ بچائے ہوتے ہیں.

    اس لئے ہم خود کو پسند کرنے کا دعویٰ کرتے ہچکچاتے ہیں. ہم دوسروں کے رنگ دیکھ کر ان کو خوش قسمت اور خود کو بدقسمت سمجھتے ہیں. اسی بدقسمتی میں ہم اپنی زندگی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں. شائد کچھ رنگ ہم بھی جمع کر لیں؟ اور زندگی ایک دوڑ بن جاتی ہے. ہم تھک جاتے ہیں. خود سے راضی شخص جبکہ ایک صحرا میں بھی ایسے ہی خوش ہوگا جیسے یہ کوئی گلستان ہو. خود سے راضی اپنے بنانے والے سے راضی ہوتا ہے. اور مالک اس سے راضی ہوکر اسے وہ رنگ دیتا ہے جسے دیکھ کر دوسرے اسے خوش قسمت سمجھتے ہیں.

  • اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

    خواجہ میر درد

    یوم وفات : 7جنوری 1785
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے عظیم شعراء کی فہرست میں شامل سیدخواجہ میر درد، میر تقی میر کے ہمعصر 1721ء میں دلی میں پیدا ہوئے خواجہ میر دردؔ کو اردو میں صوفیانہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔ دردؔ اور تصوف لازم و ملزوم بن کر رہ گئے ہیں۔ یقیناً دردؔ کے کلام میں تصوف کے مسائل اور صوفیانہ حسّیت کے حامل اشعار کی کثرت ہے لیکن انہیں محض اک صوفی شاعر کہنا ان کی شاعری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ابتدائی تذکرہ نویسوں نے ان کی شاعری کو اس طرح محدود نہیں کیا تھا، صوفی شاعر ہونے کا ٹھپہ ان پر بعد میں لگایا گیا۔

    میر تقی میرؔ نے، جو اپنے سوا کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے تھے، انہیں ریختہ کا "زور آور” شاعر کہتے ہوئے انہیں "خوش بہار گلستان، سخن” قرار دیا۔ محمد حسین آزاد نے کہا کہ دردؔ تلواروں کی آبداری اپنے نشتروں میں بھر دیتے ہیں، مرزا لطف علی صاحب، "گلشن سخن” کے مطابق دردؔ کا کلام "سراپا درد و اثر "ہے۔

    میر حسن نے انھیں، آسمان، سخن کا خورشید قرار دیا، پھر امداد اثر نے کہا کہ معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو میں کوئی شاعر نہیں گزرا اور عبد السلام ندوی نے کہا کہ خواجہ میر دردؔ نے اس زبان (اردو) کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔ ان حضرات نے بھی دردؔ کو تصوف کا ایک بڑا شاعر ہی مانا ہے ان کے کلام کی دوسری صفات سے انکار نہیں کیا ہے۔ شاعری کی پرکھ، یوں بھی "کیا کہا ہے” سے زیادہ ” کیسے کہا ہے” پر مبنی ہوتی ہے دردؔ کی شاعری کے لئے بھی یہی اصول اپنانا ہو گا۔

    دردؔ ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں۔ ان کے بعض سادہ اشعار پر میرؔ کے اسلوب کا دھوکہ ضرور ہوتا ہے لیکن توجہ سے دیکھا جائے تو دونوں کا اسلوب یکسر جداگانہ ہے۔ درد کی شاعری میں غور و فکر کا عنصر نمایاں ہے جبکہ میرؔ فکر کو احساس کا تابع رکھتے ہیں البتہ عشق میں سپردگی اور گداز دونوں کے یہاں مشترک ہے اور دونوں آہستہ آہستہ سلگتے ہیں۔ دردؔ کے یہاں مجازی عشق بھی کم نہیں۔ جیتے جاگتے محبوب کی جھلکیاں جابجا ان کے کلام میں مل جاتی ہیں۔ ان کا مشہور شعر ہے۔

    کہا جب میں ترا بوسہ تو جیسے قند ہے پیارے
    لگا تب کہنے پر قند مکرر ہو نہیں سکتا

    دردؔ کی شاعری بنیادی طور پر عشقیہ شاعری ہے ان کا عشق مجازی بھی ہے، حقیقی بھی اور ایسا بھی جہاں عشق و مجاز کی سرحدیں باقی نہیں رہتیں۔ لیکن ان تینوں طرح کے اشعار میں احساس کی صداقت واضح طور پر نظر آتی ہے، اسی لئے ان کے کلام میں تاثیر ہے جو صناعی کے شوقین شعراء کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔

    دردؔ نے خود کہا ہے "فقیر نے کبھی شعر آورد سے موزوں نہیں کیا اور نہ کبھی اس میں مستغرق ہوا۔کبھی کسی کی مدح نہیں کی نہ ہجو لکھی اور فرمائش سے شعر نہیں کہا” درد ؔکے عشق میں بیچینی نہیں بلکہ ایک طرح کی طمانیت قلب، سکون اور پاکیزگی ہے جعفر علی خاں اثر کے بقول دردؔ کے پاکیزہ کلام کے لئے پاکیزہ نگاہ درکار ہے۔

    دردؔ کے کلام میں عشق و عقل، جبر و اختیار، خلوت اور انجمن، سفر در سفر، بے ثباتی و بے اعتباری، بقا اور فنا، مکان و لامکاں، وحدت و کثرت، جزو و کل توکل اور فقر کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں۔ فی زمانہ، تصوف کا وہ برانڈ، جس کے دردؔ تاجر تھے، اب فیشن سے باہر ہو گیا ہے۔ اس کی جگہ سنجیدہ طبقہ میں سرمد اور رومی کا برانڈ اور عوام میں بلھے شاہ، سلطان باہو اور "دمادم مست قلندر” والا برانڈ زیادہ مقبول ہے۔

    غزل کی شاعری برملا کم اور اشاروں میں زیادہ بات کرتی ہے اس لئے اس میں معانی کی حسب منشاء جہات تلاش کر لینا کوئی مشکل کام نہیں یہ غزل کی ایسی طاقت ہے کہ وقت کے تند جھونکے بھی اس چراغ کو نہیں بجھا سکے ایسے میں اگر مجنوںؔ گوکھپوری نے دردؔ کے کلام میں "کہیں دبی ہوئی اورکہیں اعلانیہ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانہ کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں” تلاش کیں تو بہرحال ان کا ماخذ دردؔ کا کلام ہی تھامجنوں کہتے ہیں درردؔ اپنے زمانہ کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

    دردؔ کے کلام کو ان کے زمانہ کے معاشرتی اور فکری ماحول اور ان کی نجی شخصیت کے حوالہ سے پڑھنا چاہئے۔ جہاں تک پیرایۂ بیان کا تعلق ہے اپنی بات کو دبے لفظوں میں تشنۂ وضاحت چھوڑ جانا دردؔ کو تمام دوسرے شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ اس طرح کے اشعار میں ان کہی بات، وضاحت کے مقابلہ میں زیادہ اثردار ہوتی ہے۔ حیرت و حسرت کا یہ دھندھلا سا اظہار ان کے اشعار کا خاص جوہر ہے۔ اس سلسلہ میں رشید حسن خاں نے پتے کی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں "دردؔ کے جن اشعار میں خالص تصوف کی اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں یا جن میں مجازیات کو صاف صاف پیش کیا گیا ہے وہ نہ دردؔ کے نمائندہ اشعار ہیں نہ ہی اردو غزل کے۔

    یہ بات ہم کو مان لینی چاہئے کہ اردو میں فارسی کی صوفیانہ شاعری کی طرح بلند پایہ متصوفاننہ شاعری کا فقدان ہے۔ ہاں، اس کے بجائے اردو میں حسرت، تشنگی اور یاس کا جو طاقتور آہنگ کارفرما ہے، فارسی غزل اس سے بڑی حد تک خالی ہے-

    مجموعی طور پر دردؔ کی شاعری دل اور روح کو متاثر کرتی ہے۔ جذباتیت اور شاعرانہ "استادی” کا اظہار ان کا شعار نہیں، دردؔ موسیقی کے ماہر تھے، ان کے کلام میں بھی موسیقیت ہے۔ دردؔ تبھی شعر کہتے تھے جب شعر خود کو ان کی زبان سے کہلوا لے۔ اسی لئے ان کا دیوان بہت مختصر ہے۔

    خواجہ میر دردؔ 07؍جنوری 1785ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

    ریختہ ڈاٹ کام سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خواجہ میر درد کی شاعری سے انتخاب
    . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
    زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
    ——–
    زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!
    ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
    ——–
    اذیت مصیبت ملامت بلائیں
    ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
    ——–
    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
    ——–
    نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
    گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
    ——–
    جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
    تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
    ——–
    میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے
    مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
    ——–
    کبھو رونا کبھو ہنسنا کبھو حیران ہو جانا
    محبت کیا بھلے چنگے کو دیوانہ بناتی ہے
    ——–
    ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
    میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
    ——–
    جان سے ہو گئے بدن خالی
    جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
    ——–
    ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
    تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
    ——–
    ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
    ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
    ——–
    دشمنی نے سنا نہ ہووے گا
    جو ہمیں دوستی نے دکھلایا
    ——–
    حال مجھ غم زدہ کا جس جس نے
    جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
    ——–
    ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن
    اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو
    ——–
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
    ——–
    تمنا تری ہے اگر ہے تمنا
    تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
    ——–
    مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
    کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
    ——–
    کاش اس کے رو بہ رو نہ کریں مجھ کو حشر میں
    کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
    ——–
    آگے ہی بن کہے تو کہے ہے نہیں نہیں
    تجھ سے ابھی تو ہم نے وے باتیں کہی نہیں
    ——–
    کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری
    جی میں یہ کس کا تصور آ گیا
    ——–
    دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا
    آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا
    ——–
    قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
    اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
    ——–
    ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر
    لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا
    ——–
    ایک ایمان ہے بساط اپنی
    نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے
    ——–
    ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
    دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں

  • صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    مسرور انور
    6 جنوری یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی صف اول کے فلمی نغمہ نگار و شاعر مسرو انور 6 جنوری 1944 میں ہندوستان کے شہر شملہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام انور علی تھا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور پاکستان ہجرت کر گئے۔ انہیں شاعری کا شوق بچپن سے تھا اور فلم و موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ اسی شوق اور دلچسپی کے سبب فلم ہدایت کار پرویز ملک اور فلمی موسیقار سہیل رعنا سے ان کی دوستی ہو گئی۔ اس دوستی اور میل جول کے باعث انہیں فلموں کے لیے گیت لکھنے کی پیش کش کی گئی جو کہ انہوں نے قبول کر لی اور 1962 میں انہوں نے فلم ” بنجارن” کے لیے گیت لکھ کر اپنے کیریئر کا شاندار آغاز کر دیا دوسری فلم ” ارمان” تھی تیسری فلم ” ہیرا اور پتھر” تھی اس فلم کے گیتوں نے بھی دھوم مچادی تھی۔ جس کے بعد ان کے مشہور اور سپر ہٹ گیتوں اور گانوں کی طویل فہرست ہے۔ انہوں نے نگار ایوارڈ سمیت کئی دیگر اہم اعزازات بھی حاصل کیے۔ مسرو انور نے فلمی نغمہ گاری کے علاوہ غزل اور ملی نغمے بھی لکھے۔ گلوکار غلام علی کی آواز میں ان کی گائی ہوئی غزل
    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    نے پاکستان اور ہندوستان میں مقبولیت اور پذیرائی کا ایک ریکارڈ قائم کیا۔ ان کا ملی نغمہ

    سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے

    نے بھی ملک بھر میں دھوم مچا دی ۔ وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک تھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور معصومیت مستقل طور پر قائم رہتی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے Baby Face کے خطاب سے نوازا گیا۔ یکم اپریل 1996 میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔

    منتخب کلام

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی
    دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
    نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی

    نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
    ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی

    کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
    کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

    اپنی جاں نذر کروں ،اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دل میں پیدا کیا اک جذبۂ تازہ تُو نے
    میرے گیتوں کو نیا حوصلہ بخشا تُو نے
    کیوں نا تجھ کو انہی گیتوں کی نوا پیش کروں
    اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں

    اکیلے نہ جانا ھمیں چھوڑ کر تم
    تمھارے بنا ھم بھلا کیا جئیں گے

    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    جس کو تم نہ سمجھ سکے میں ایسا اک سوال ہوں
    تم نے مجھے بھلا دیا نظروں سے یوں گرا دیا
    جیسے کبھی ملے نہ تھے ایک راہ پر چلے نہ تھے
    تھم جاؤ میرے آنسوؤں ان سے نہ کچھ گلہ کرو
    وہ حسن کی مثال ہیں میں عشق کا زوال ہوں
    جس کو وہ نہ سمجھ سکے میں ایسا ایک سوال ہوں
    کرنا ہی تھا اگر ستم دینا تھا عمر بھر کا غم
    عہد وفا کیا تھا کیوں چاہت سے دل دیا تھا کیوں
    تم نے نگاہ پھیر لی اب میں ہوں میری بےبسی
    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    ——
    مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
    مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
    نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
    میرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے
    مری یاد ہوگی جدھر جاؤ گے تم
    کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
    تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤ گے تم
    شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
    بجھانا بھی چاہو بجھا نہ سکو گے
    کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
    تو بےچین ہو ہو کے دل تھام لو گے
    نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
    کسی نے جو پوچھا سبب آنسوؤں کا
    بتانا بھی چاہو بتا نہ سکو گے

    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    چپ رہ کے بھی نظر میں ھیں پیار کے اشارے
    یہ شان بے نیازی یہ بے رخی کا عالم
    بے باک ھو گیا ھے ان کا مزاج بر ھم
    اک پل میں نےھم نے دیکھے کیا کیا حسین نظارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    فربان جائیں اے دل ھم ان کی اس ادا کے
    خود بھی سلگ رھے میں ھم کو جلا جلا کے
    ھیں کتنے خوبصورت اس آگ کے شرارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے

    یوں اسنے پیار سے میری بانہوں کو چھو لیا
    منزل نے جیسے شاخ کے راہوں کو چھو لیا
    اک پل میں دل پہ کیسے قیامت گزر گئی
    رگ رگ میں اسکے حسن کی خوشبو بکھر گئی
    زلفوں کو میرے شانے پہ لہرا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اس دل تباہ کی حالت نا پوچھیے
    بے نام آرزو کی لذت نا پوچھیے
    اک اجنبی تھا روح کا ارمان بن گیا
    اک حادثہ تھا پیار کا عنوان بن گیا
    منزل کا راسته مجھے دکھلا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی

    اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے
    وہ سامنے بیٹھے ہیں کافی یہ عنایت ہے

    الہٰی آنسو بھری زندگی کسی کو نہ دے
    خوشی کے ساتھ غم بے کسی کسی کو نہ دے

    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو
    کہتی ہیں یہ بہاریں ہنسنا ہمیں سیکھا دو

    سُونی پڑی رہیں گی یہ پربتوں کی راہیں
    یونہی کُھلی رہیں گی ان وادیوں کی بانہیں
    جب تک جُھکی یہ نظریں ہنس کہ نہ تم اُٹھا دو
    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو

    دل دھڑکے میں تم سے کیسے کہوں
    کہتی ہے میری نظر شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
    کہ تم آ گئے اچانک بڑی عمر ہے تمہاری

    ابھی کچھ ہی دیر پہلے بڑا زکر تھا تمہارا
    کئی بار ڈھرکنوں نےتمہیں پیار سے پکارا

    مٹا انتظار دل کا ہوئ ختم بےقراری
    ہمیں پیار کی خوشی سے کیا آشنا تم ہی نے
    تمہیں پیار ہم وہ دیں گے جو دیا نہ ہو کسی نے
    کہ تمہاری زندگی ہے ہمیں جان سے بھی پیاری
    وہ نظر کے سامنے ہے جسے ہم نے دیں صداٗئیں
    جو قرار بن کے آیا اُسے کیوں نہ دیں دُعائیں
    کیئے آرزو نے سجدے دل نے نظر اُتاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    کیسے یہ کہیں تم سے ہمیں پیار ہے کتنا
    آنکھوں کی طلب بڑھتی ہے دیکھیں تمہیں جتنا

    اس دنیا میں کم ایسے پرستار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    دل کی جگہ سینے میں محبت ہے تمھاری
    اب میری ہر اک سانس امانت ہے تمھاری

    ہم بن کے تمہیں پیار کی مہکار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

  • باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    چاول کے پودے سے نکلے ریشے سے بنے تتامی غالیچے جاپانی تہذیب کی نشانی ہیں. اسے یہ گھر میں بچھاتے ہیں اسی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور اسی پر لیٹ کر سو جاتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ یہ تتامی غالیچہ کافی نازک ہوتا ہے. یہ گیلا ہو جائے تو بھی مسئلہ، گرد آلود ہوا تو فنگس لگ جاتی ہے. جاپانیوں نے اسکا حل صفائی میں نکالا. جاپانی گھر بہت صاف ستھرے ہوتے ہیں. گھر کا ہر فرد اندر داخل ہونے سے پہلے جوتے نکال لیتا ہے. بھاری بھرکم کپڑے دروازے پر ہی اتار لیتا ہے اور ان کے برتن گہرے بڑے ہوتے ہیں. تاکہ کچھ گرنے کا چانس ہی کم ہو.

    یورپ اور دوسرے ٹھنڈے ممالک میں بھی گھر کے دروازوں پر ایک ہینگر سٹینڈ ہوتا ہے. آپ اپنے اوور کوٹ اور لمبے بھاری جوتے دروازے پر اتار کر داخل ہوتے ہیں. ہمارے ہاں ایسے رواجوں کی طرف کم ہی کسی کا دھیان جاتا ہے. ہم سب کچھ پہنے گھر میں داخل ہوتے ہیں. باہر کے استعمال کے جوتے ہی کیا باہر کی زندگی بھی اپنے ساتھ کھینچ کر اندر لے آتے ہیں.

    کوئی بھی کاروبار ہو آفس ہو نوکری ہو یا روزگار اس میں اونچ نیچ کام کا حصہ ہے. بلکل ویسے ہی جیسے روز آتے جاتے سڑک کی ٹریفک پر ہمارا کنٹرول نہیں ہوتا ایسے ہی کام کی ایک اپنی ٹریفک ہوتی ہے. کبھی کھلی سڑک ملتی ہے کبھی ٹریفک جام تو کبھی سگنلز بند تو کبھی یہاں ٹکر وہاں ٹکر. لیکن یہ عملی زندگی کے میدان کا کھیل ہی تو ہے.

    مسئلہ تب بنتا ہے جب ہم یہ سب کچھ سر پر سوار کر لیں. اور بڑے مسائل تب بنتے ہیں جب یہ سواریاں ہم اپنے ساتھ گھر پر بھی لے آئیں. گھر میں سارا دن انتظار کرتے بچے خواتین تتامی کے غالیچے کی طرح نازک اور کمزور ہوتے ہیں. وہ یہ پریشر برداشت نہیں کر سکتے. اور ماحول بگڑنے لگتا ہے. ہمیں بھی اپنے دروازوں پر ہینگر لگانے چاہئے. جہاں گھر کا رواج بنا دیا جائے کہ باہر کی آلودگی یہاں ٹانگ کر اندر آنا ہے.

    ایک پرسکون گھر سے سکون حاصل کر کے نکلا فرد پھر دن بھر کا یہ کھیل سکون سے کھیل سکتا ہے.

  • محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    کونو میگریگا آئرش باکسر ہے. ایک بار اپنی بیوی پر ہوئے ایک سوال پر اُس نے کہا جب مجھے کوئی نہیں جانتا تھا تب بھی میں ایک باکسر بننا چاہتا تھا. مجھے اپنا یہ خواب پورا کرنے کیلئے وقت تربیت اور ایک اتھلیٹ کی خوراک چاہئے تھے. آئرلینڈ میں ڈبلن سے تیس کلومیٹر دور کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں تب میرے ساتھ ایک ہی ہستی تھی. وہ میری بیوی تھی.

    اسے یقین تھا کہ میں باکسر بن جاوں گا. اسی نے وہ تکلیف اٹھائی وہ دور میرے ساتھ برداشت کیا جب ہمارے پاس کچھ نہ تھا لیکن خواب بہت بڑے تھے. آج میرے پاس سب کچھ ہے میں اس کیلئے کوئی بھی گھر گاڑی خرید سکتا ہوں. لیکن وہ کل بھی مجھے خوش دیکھنا چاہتی تھی اور آج بھی وہ میرے لئے ہی خوش ہے.

    محبت اور وفا کی کہانیاں کبھی ایک منظر دیکھ کر سمجھ نہیں آتیں. رتن ٹاٹا نے کیوں شادی نہیں کی.؟ وفا کی یہ داستان آج ایک کامیاب مشہور و دولتمند شخص کو دیکھ کر سمجھ نہیں آئے گی جب تک تاریخ کے ورق پلٹ کر آپ لاس اینجلس امریکہ کی اُس لڑکی تک نہ چلے جائیں جس سے رتن نے شادی کا وعدہ کیا تھا.

    محبت اور وفا کی کہانیاں بہت انمول ہوتی ہیں. جب کوئی وفا کی اپنی کہانی میں ثابت قدم رہتا ہے وقت پھر اس کہانی اور اس کے کرداروں کو کامیاب بناتا ہے. اتنا کامیاب جسے اکثریت جان لے. وفا کی یہ کہانی پھر مثال بنتی ہے کچھ نئی کہانیوں کی ابتداء ہوتی ہے.

  • آلو کی بھجیا — عین حیدر

    آلو کی بھجیا — عین حیدر

    بچے کو ٹیوشن پر چھوڑ کر واپس گھر جا رہے تھے تو بیگم نے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور پر رکنے کو کہا۔۔ میرے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ جیب کی غربت بھی ہچکولے لینے لگی۔۔ وجہ پوچھنے پر بیگم نے بتایا کہ آلو خریدنے ہیں۔۔۔

    میں نے شکوک و شبہات کے بیچوں بیچ بائیک پارکنگ میں کھڑی کی اور بیگم کو لے کر سٹور میں داخل ہو گیا۔۔۔

    بیگم سیدھی کاسمیٹک اور جیولری والی سائیڈ کی طرف لپکی۔۔ کافی دیر تک جیولری اور دوسری اشیاء دیکھتی رہی۔۔۔ وہاں سے کراکری والے پورشن میں چل دی۔۔۔ میں بھی لیلے کی طرح پیچھے ہو لیا۔۔۔ کچھ دیر شیشے اور پلاسٹک کی کراکری اٹھا اٹھا کر دیکھتی رہی۔۔۔

    بیگم کی حسرت بھری نگاہوں اور والہانہ انداز سے مجھے لگا کہ آج لمبا خرچہ ہونے والا ہے۔۔۔میں نے دل ہی دل میں پارکنگ میں کھڑی اپنی پرانی بائیک کی قیمت لگائی تو بیس بائیس ہزار سے زیادہ ملتے نظر نہ آئے۔۔۔ رکشے کا کرایہ جیب میں رکھ کر بھی خریداری کرنے پر وہ سب کچھ نہیں ملنے والا تھا جو بیگم دیکھ رہی تھی۔۔۔

    میرے اندر درد کی ایک لہر ابھری اور سوچ آئی کہ لوئر مڈل کلاس کی خواتین کتنی حسرتیں دل میں دبا کر زندگی جھیلتی ہیں۔۔ لیکن غریب اور مجبور خاوند تو صرف دعائیں ہی کر سکتا ہے، چنانچہ میں نے اب دعاؤں پر زور دیا۔۔ اور بیگم کے دل کے نرم ہونے کی دعائیں کرنے لگا۔۔ شاید قبولیت کی گھڑی تھی، بیگم وہاں سے واپس پلٹی اور سبزی والے علاقے کی طرف چل دی، جاتے جاتے ہینڈ بیگز، پرفیومز اور دیگر چیزوں کے قریب رک رک کر دیکھتی رہی۔۔۔

    میں بدستور لیلے کی طرح پیچھے پیچھے ہی پھرتا رہا ۔۔۔ آخر کار اس نے ایک کلو آلو خرید ہی لئے تو میں نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ میں نے کاؤنٹر پر پیسے ادا کئے اور ہم باہر آ گئے ۔۔۔

    بائیک پر بیٹھتے ہوئے میں نے پوچھا۔۔۔ "بیگم، لینے تو تم نے صرف ایک کلو آلو تھے، اور دیکھ پورا سٹور آئی ہو”…

    اگرچہ میرا سوال کئی قسم کے خطرات کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔۔لیکن بیگم نے کمال سادگی سے جواب دیا ۔۔۔۔ کہنے لگی "راشد علی، بات یہ ہے کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے”۔۔۔

    بات تو بیگم کی سچ ہی تھی لیکن میں بھی کیا کر سکتا تھا، چنانچہ خود کو آلو آلو سا سمجھتے ہوئے بائیک کو کک لگائی اور گھر کو چل دیئے۔۔۔

    راستے میں ایک بڑا شادی ہال پڑتا ہے۔۔وہاں پہنچے تو سڑک پر کافی رش تھا، شاید ابھی ابھی بارات پہنچی تھی اور گاڑیوں میں سے گویا سجی سنوری پریاں نکل نکل کر شادی ہال کے اندر جا رہی تھیں۔۔۔

    میں نے بائیک ایک طرف روک دی۔۔اور اللہ کی بنائی ہوئی حسین جمیل مخلوق کو انہماک سے دیکھنے لگا۔۔۔

    بیگم نے کچھ دیر تو صبر کیا، پھر بولی ۔۔ "اب چلیں گے بھی یا دلہن کو وداع کر کے ہی جانے کا ارادہ ہے”…

    میں نے جواب دیا۔۔۔”بیگم، اصل میں تمہاری بات یاد آ گئی تھی۔۔۔تم نے بالکل ٹھیک کہا تھا”۔۔۔

    کہنے لگی۔۔۔ "کون سی بات یاد آ گئی اب”..؟

    میں نے جواب دیا۔۔۔”وہی، جو تم نے کہا کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے”۔۔۔

    میری بات سنتے ہی بیگم کا ضبط جواب دے گیا اور گھر پہنچنے تک آلو کی بھجیا تقریباً تیار ہو چکی تھی۔۔۔