Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • جاوید چوہدری  صحافی او کالم نگار

    جاوید چوہدری صحافی او کالم نگار

    جاوید چوہدری
    صحافی و کالم نگار
    یوم پیدائش : یکم جنوری 1968
    ۔……………………………………
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاوید چوہدری کا شمار پاکستان کی صف اول کے مقبول ترین صحافی اور کالم نگاروں میں ہوتا ہے جن کی تحریروں کے قارئین اور ان کے ٹی وی پروگرامز کے ناظرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جاوید چوہدری یکم جنوری 1968 کو لالہ موسیٰ ضلع گجرات پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے لیکن وہ اردو میں لکھنے اور پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لالہ موسیٰ سے انٹر گجرات سے اور اعلیٰ تعلیم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے حاصل کی ۔

    جاوید چوہدری نے صحافت کا آغاز 1990 کی دہائی سے کیا۔ تاریخ ، تحقیق اور سیاحت میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کالم نگاری کا آغاز روزنامہ جنگ سے کیا ۔ وہ زیرو پوائنٹ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں ۔ وہ 2008 سے روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھ رہے ہیں اور ” کل تک” کے نام سے ایکسپریس نیوز ٹی وی پروگرام کی میزبانی کر رہے ہیں ۔ وہ اب تک 50 سے زائد ممالک کا سفر کر چکے ہیں اور بہت سے انتہائی اہمیت کے حامل تاریخی اور مذہبی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں ۔ جاوید چوہدری کالموں پر مشتمل کتاب ” زیرو پوائنٹ ” کی 6 جلدیں شائع ہو چکی ہیں ۔ مختلف شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل ایک کتاب ” گئے دنوں کے سورج” اور سیاسی تبصروں پر مشتمل کتاب ” آج کل” بھی شائع ہو چکی ہے ۔

  • محمودہ غازیہ پاکستان کی  ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ

    محمودہ غازیہ پاکستان کی ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ

    جو راس آئی اسے مسند شہی تو سنو
    شکستہ چوڑیاں اب رزم گاہ میں رکھنا

    محمودہ غازیہ

    تاریخ پیدائش: 01 جنوری 1953ء
    جائے پیدائش:راولپنڈی
    سکونت : اسلام آباد
    زبان:اردو، پنجابی
    اصناف:شاعری، افسانہ
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خیابان
    ۔ (2)اعتبار کیوں نہیں کرتے
    ۔ (3)ورق ورق غزل
    ۔ (4)اکائی کی موت
    ۔ (5)اندھے شیشے
    مستقل پتا:بلاک ڈی، مکان نمبر653 ،سٹیلائٹ ٹائون، راولپنڈی

    محمودہ غازیہ پاکستان کی ایک معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ پاکستان آرٹس کونسل کی ڈائریکٹر رہ چکی ہیں اور فاطمہ جناح کالج برائے خواتین میں پڑھاتی تھیں۔ ان کے چار شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں:’’اکائی کی موت‘‘، ’’ورق ورق غزل‘‘ ، ’’اعتبار کیوں نہیں کرتے‘‘، ’’نیندکی ڈور ٹوٹ گئی‘‘ اور ’’بے سر کا گوتم‘‘ ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تم اس سے دوری بھی مت خواہ مخواہ میں رکھنا
    بس احتیاط سی اک رسم و راہ میں رکھنا

    تم اپنے رنگ نہاؤ تم اپنی موج اڑاو
    مگر ہماری وفا بھی نگاہ میں رکھنا

    قبول گر نہ کرے وہ تو کیا ہمیں سر شام
    گلاب محفل ظل الہٰ میں رکھنا

    جو راس آئی اسے مسند شہی تو سنو
    شکستہ چوڑیاں اب رزم گاہ میں رکھنا

    بڑا عذاب ہے محمودہ غازیہؔ ہجرت
    مرے خدا مجھے اپنی پناہ میں رکھنا

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    بے طلب
    ۔۔۔۔۔۔
    میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی
    جب تک خواہشیں مجھ سے نہ کھینچ جائیں
    یہ کافی ہے اور میرے لیے سب
    میری گردن پر میرے محبوب کا چہرہ سجا دو
    یا میری روح کو آزاد ہو جانے دو
    یہ بھی کافی ہے اور میرے لیے بہت ہے
    میں اس کی خواہش سے کچھ کم ہوں یا ذرا زیادہ
    ظاہر ہے گرد مجھے چھپا لیتی ہے
    میری روح میرے ہونٹوں پر ہے
    اڑنے کے لیے بے تاب
    کیا اس کے ہونٹ مجھے امن کا سبق دیں گے؟
    اور یہ بھی میرے لیے بہت ہے

  • ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ

    ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ

    جو وقت تمھارے ہجر میں کاٹا وہ معتبر ٹھہرا
    جو لمحے ساتھ گزارے فریب دے کے گئے

    ڈاکٹر شاہدہ سردار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام :شاہدہ شاہین خٹک
    تاریخ پیدائش:01 جنوری 1971ء
    جائے پیدائش:پشاور
    زبان:پشتو، اردو
    اصناف:شاعری، افسانہ
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مہکتی دھرتی سلگتی سانسیں (وطن سے محبت کے حوالے سے نظموں پر مشتمل)

    ۔ (2)حقیقی زندگی (خواتین کے سماجی مسائل پر مبنی)

    ۔ (3)ہوا کی سرگوشی (غزلیات پر مشتمل شععی مجموعہ)
    (4) کرب زیست (افسانوی مجموعہ)
    (5) چراغ آگہی ( شعری مجموعہ
    (6) دیوار کے اس پار ( ہندوستان کا سفرنامہ)

    مستقل سکونت: چارسدہ روڈ پشاور
    خیبر پختون خواہ کے علاقہ کرک سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ ، ڈاکٹر اور سماجی کارکن ڈاکٹر شاہدہ شاہین خٹک المعروف ڈاکٹر شاہدہ سردار صاحبہ یکم جنوری 1978 میں پشاور میں ڈاکٹر زر بادشاہ خٹک کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم پشاور شہر میں حاصل کی اور میڈیکل کے شعبے میں ایم بی بی ایس کا کورس مکمل کرنے کے بعد اسپیشل کورس کر کے ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر بن گئیں ۔

    وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود شعر و ادب اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ سماجی خدمات کی غرض سے 2011 سے MAPC کے نام سے ایک این جی او بھی چلا رہی ہیں جبکہ وہ ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے وطن میں ادبی تقریبات و مشاعروں میں بھرپور شرکت کے ساتھ بیرونی ممالک کا سفر بھی کرتی رہتی ہیں انہوں نے ہندوستان اور آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی ادبی تقریبات میں بھی شرکت کی ہے ۔ ہندوستان کے سفر کے حوالے سے انہوں نے ” دیوار کے اس پار ” کے نام سے ایک سفرنامہ بھی لکھا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہیں کہ تم کو سہارے فریب دے کے گئے
    ہمیں بھی دوست ہمارے فریب دے کے گئے

    پھر اس کے بعد سرابوں کا ایک صحرا تھا
    چمکتی رات کے تارے فریب دے کے گئے

    جو وقت ہجر میں کاٹا وہ معتبر ٹھہرا
    جولمحے ساتھ گزارے فریب دے کے گئے

    کوئی ستارا نہ ابھرا وفا کے ساحل پر
    سمندروں کے نظارے فریب دے کے گئے

    وہیں پہ راکھ تھے پھر خواب میری پلکوں کے
    کبھی جو اپنے سہارے فریب دے کے گئے

    نگہہ نے شوق سے دیکھا صبا کی آمد کو
    ہوا کے سارے اشارے فریب دے کے گئے

    پڑی نظر جو کتابوں میں خشک پھولوں پر
    وہیں پہ ضبط ہمارے فریب دے کے گئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے حسین سرسبز موسم میں
    تمھاری یاد اشکوں میں روانی چھوڑ جاتی ہے
    اترتی ہے تری تصویر آنکھوں کے دریچے پر
    تو دل میں پھر سے اک وحشت پرانی چھوڑ جاتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان پہ موسم کی ادائوں کا اثر کیسے ہو
    جن کی آنکھوں کا کوئی رنگ سہانا ہی نہ ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صرف یہ سوچ کے آئینے کو پھر جوڑ دیا
    وقت جتنا ہو محبت کے لیے تھوڑا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مرا وطن کبھی آلودہ غبار نہ ہو
    خدایا اس پہ کبھی مشکلوں کا بار نہ ہو

  • اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    انڈیز پہاڑوں میں بسے پیرو کے شامان اپنے علاج کیلئے بہت مشہور تھے. مسئلہ یہ تھا کہ وہ شامان کہتے علاج کیلئے تمہیں اوپر پہاڑوں پر آنا ہوگا. مریض کو خچروں پر یا کندھوں پر اٹھا کر اوپر پہاڑوں پر جب لے جایا جاتا تو وہ کہتے اسے اب چھوڑ جاو. وہ قدرتی جڑی بوٹیوں سے اسکا علاج کرتے. اکثریت کو شفا ملتی اور ان شا مانوں کا دور دور تک شہرہ تھا. آج بھی ان کی نسل دستیاب ہے.

    آج جب تحقیق ہوتی ہے تو کئی باتیں سمجھ آتی ہیں. مریض کا ماحول بدل جاتا قدرتی پرفضا ماحول میں فطرت کے ساتھ رہتا فطرتی چیزیں استعمال کرتا اپنے شامان کی تسلی سنتا یہ مریض اصل میں اپنی ایک زندگی سے کٹ کر ایک نئی زندگی میں داخل ہوجاتا تھا. مایوسی کی جگہ اُمید دنیا کی بھاگ دوڑ کی بجائے فطرت کا سکون اس کے آس پاس ہوتا. اور زندگی پھر انگڑائی لے کر جینے کیلئے بیدار ہو جاتی.

    ہمارے ہاں یہ شامان نہیں ہوتے. لیکن مریض بہت ہیں. ان کے دل و دماغ پر اندیشے خوف مایوسیاں بے بسی اور بے اعتمادی کے اندھیرے وہ پہاڑ بن چکے ہیں جن کے نیچے اکثریت پس چکی ہے. یہ دوسروں سے ڈرتے ہیں. کیونکہ ہماری اکثریت بہت ججمنٹل ہوگئی ہے. یہاں ظالم سے زیادہ مظلوم کو الزام دیا جاتا ہے. اس ڈر سے کوئی مظلوم بولتا بھی نہیں کہ اپنے اوپر ہوئے ظلم کا مجرم کون بننا چاہے گا.؟

    ایک ایسا انسان جو دوسرے کو صرف سن سکتا ہو. بنا کوئی فیصلہ سنائے بنا کوئی عدالت سجائے یہ سننے والا آج کا وہی شامان بن سکتا ہے جو دوسروں کی شفا کا سبب بن جاتے تھے. کیونکہ ایک مریض کو اچھا سامع مل جائے تو اُمید اسے خود ہی اس اندھیرے سے کھینچ کر روشنی کے پہاڑوں کی طرف لے آتی ہے.

  • ہماری کنولیج (knowledge) — حنیف سمانا

    ہماری کنولیج (knowledge) — حنیف سمانا

    ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ

    "اداکارہ میرا انگریزوں کی زبان کے ساتھ وہی کر رہی ہیں جو انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں برِصغیر کے غریب باشندوں کے ساتھ کیا”

    مگر صاحب میرا پر کیا منحصر…خود ہم اکثر انگریزی کی

    Mother Sister together

    مطلب ماں بہن ایک کرتے رہتے ہیں .

    خود ہمیں شاہِ برطانیہ نے کئی بار اپنے سفارت کار کے ذریعے خفیہ پیغام بھیجا کہ

    "اگر تم انگیزی بولنا چھوڑ دو تو میں تمہارا سالانہ ١٠٠ پونڈ کے حساب سے وظیفہ مقرر کر دیتا ہوں“

    مگر ہم نے بھی اپنے آباٶ اجداد کے نام پر آنچ نہیں آنے دی۔ 100 پونڈز پر لات ماری اور کہا

    ” اے طاٸر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی …جس رزق سے آتی ہے پرواز میں کوتاہی” وغیرہ وغیرہ ..

    ہاں البتہ ہم نے سفارت کار کے کان میں کہا کہ شاہ سے کہو 100 پونڈز کم ہیں.

    بچپن میں ہمارے ایک استاد نے ہم سے کہا کہ انگریزی کی زیادہ سے زیادہ پریکٹس کے لئے آپ اپنے کسی دوست سے تہہ کر لیجئے کہ جب بھی آپ ملیں گے..صرف انگریزی میں بات کریں گے.

    ہمیں یہ آئیڈیا پسند آیا۔ ہم نے اپنے جان سے پیارے دوست مولوی سے یہ وعدہ لیا کہ اب ہم دونوں جب بھی ملیں گے انگریزی میں بات کریں گے یا پھر خاموش رہیں گے.

    اس "شملہ معاہدے” کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم دونوں غیبت جیسے بڑے گناه سے بچ گئے…

    ہم اکثر گھنٹوں ساتھ ہوتے ….

    مگر خاموش ……

    آہستہ آہستہ ہم ایک دوسرے کی کمپنی سے بور ہونے لگے.

    اور پھر ملنا جلنا چھوڑ دیا…

    کئی ہفتے کے گیپ کے بعد ایک روز مولوی صبح صبح وارد ہوئے اور آتے ہی انگریزوں کو پنجابی زبان میں تین چار ناقابلِ اشاعت گالیاں دیں…

    پھر کہنے لگے یہ بھی کوئی زبان بناٸی ہے بالکل تھرڈ کلاس…

    بتاؤ …جب "بی یو ٹی” بَٹ(but) ہوتا ہے اور "سی یو ٹی” کَٹ (cut) …تو پھر "پی یو ٹی” پَٹ (زبر کے ساتھ) کیوں نہیں ہوتا…پُٹ (پیش کے ساتھ) کیوں ہوتا ہے…

    کسی نائی نے یہ زبان بنائی ہے…

    بتاؤ… جب ایک لفظ کو پڑھنا ہی نہیں تو اس کو لکھنے کی کیا ضرورت ….

    جاہل لوگ کنولیج کو بھی نولیج پڑھتے ہیں”

    ہمیں مولوی کی بات میں وزن نظر آیا…

    ہم نے بھی مولوی کے ساتھ مل کر اس وقت انگریزی کی اور انگریزوں کی خوب برائی کی…

    ولیم شیکسپئیر کے "چار باپ” (Forefathers) کو خوب برا بھلا کہا….

    اور انگریزی بولنے سے توبہ کرلی.

  • جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریزمختصرکہانی نویس، شاعر اور ناول نگار

    جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریزمختصرکہانی نویس، شاعر اور ناول نگار

    پیدائش:30 دسمبر 1865ء
    ممبئی
    وفات:18 جنوری 1936ء
    لندن
    مدفن:ویسٹمنسٹر ایبی
    شہریت: مملکت متحدہ ( انگلستان)
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    والد:جان لاکووڈ کپلنگ
    زبان:انگریزی
    ملازمت:یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    نوبل انعام برائے ادب (1907)
    فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر

    جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریز مختصر کہانی نویس، شاعر اور ناول نگار تھا۔ وہ بنیادی طور پر بھارت میں برطانوی فوجیوں کی کہانیوں اور نظموں اور بچوں کے لیے کہانیوں کے لیے مشہور ہے۔ وہ بمبئی میں برطانوی راج کے دوران پیدا ہوا۔ وہ پانچ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ انگلستان چلا گیا۔ کپلنگ بہترین افسانوں میں دی جنگل بک (The Jungle Book)، جسٹ سو سٹوریز(Just So Stories)، کم (Kim)، دی مین ہو وڈ بی کنگ (The Man Who Would Be King) مشہور ہیں۔ لاہور میں1883ء تا 1889ء سول اینڈ ملٹری گزٹ کے لیے کام کرتے رہے۔

  • حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979

    حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979

    موسیٰ نہیں جو تاب نظارہ نہ لاسکوں
    کچھ دیر اور رہنے دو پردہ اٹھا ہوا

    حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کے معروف ادیب و شاعر تحریک ختم نبوت اور تحریک آزادی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم کارکن حافظ محمد یوسف آزاد 1907 کو سکندرہ راو ضلع علیگڑھ ہندوستان ایک زمیندار گھرانے میں اہل قریش کے شیخ ظفر الدین کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ وہ فقط شاعر اور ادیب ہی نہیں بلکہ پہلوان، موسیقار، تحریک خلافت، تحریک ختم نبوت، تحریک آزادی پاکستان کے فعال اور سرگرم رکن اور نعت خواں بھی تھے۔ انہوں نے عربی ، فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی ۔ عربی اور فارسی تعلیم میں الحاج سید محمد ابراہیم ان کے استاذ تھے اور ان ہی سے قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ 21 برس کی عمر میں انہوں نے شاعری شروع کی استاد شاعر ” اللہ راضی رہبر” سے اصلاح اور رہنمائی لی جن کا سلسلہ حضرت امیر مینائی سے ملتا ہے ۔ حافظ محمد یوسف صاحب نے ابتدا میں یوسف تخلص استعمال کیا لیکن ہندوستان سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد انہوں نے آزاد تخلص اختیار کیا۔ انہوں حمد، نعت ، منقبت، غزل اور نظم سمیت اردو شاعری کی تمام اصناف میں بھرپور طبع آزمائی کی جبکہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے پسمنظر میں انہوں نے کافی جنگی ترانے بھی لکھے جو بہت مقبول ہوئے ۔ ۔ یوسف آزاد شہنشاہ تغزل حضرت جگر مراد آبادی، علامہ سیماب اکبر آبادی، استاد قمر جلالوی، زیبا ناروی اور احسن مارہروی کے ہم عصر شعراء میں سے تھے بلکہ انہوں نے اپنا پہلا مشاعرہ جگر مراد آبادی کے اصرار پر ان کے ساتھ سرگودھا میں پڑھا۔ سرگودھا میں انہوں نے ” بزم حریم ادب” قائم کی اور اس کے علاوہ دیگر دو ادبی تنظیموں کے بھی بانی اور سرگرم عہدیدار رہے ۔ انہیں ہندی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ چناں چہ اس ماحول سے متاثر ہو کر انہوں نے دو ہندی سوانگ (منظوم ڈرامے) ” جوگن کی عصمت” اور ” مہا رانی تارا” تصنیف کیے جنہیں بہت مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی جبکہ اردو زبان میں ان کی تصانیف ” مدح صحابہ کرام رضہ” ” بڑھیا نامہ” اور ” فضیلت ماہ رمضان” بہت مقبول ہوئیں۔ محمد یوسف آزاد صاحب 1950 میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جن میں ان کی اہلیہ محترمہ ایک بیٹی اور تین بیٹے محمد یونس ارشاد ، محمد یاسین اور محمد یامین شامل تھے ہندوستان سے ہجرت کر کے سرگودھا پاکستان میں آباد ہو گئے ان کے یہ تینوں فرزند بھی والد کی طرح شاعر بن گئے جبکہ پاکستان میں آنے کے بعد ان کے ہاں مزید ایک بیٹی اور 3 بیٹے پیدا ہوئے جن میں سے دو بیٹے بچپن میں ہی فوت ہو گئے ایک بیٹا خالد محمود یوسفی ماشاء اللہ بقید حیات ہیں اور یہ بھی ایک بہت اچھے شاعر ہیں۔ یوسف آزاد صاحب کی 30 دسمبر 1979 میں سرگودھا میں وفات ہوئی اور یہیں پہ آسودہ خاک ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند خالد یوسفی نے آزاد صاحب کا ایک خوب صورت شعری مجموعہ” آئینہ آزاد” کے نام سے شایع کروا دیا ہے ۔یوسف آزاد صاحب ہندوستان اور پاکستان میں موجود شاگر شعراء کی تعداد دو درجن کے قریب ہیں جن میں علاوالدین بیکل(انڈیا) عزیز انبالوی، صوفی فقیر محمد، اقبال منظر ، کریم بخش مضطر، رب بخش کلیار، حسن عباس زیدی ، مقصود احمد راہی، شفق بجنوری، محمد عمر عاصم جلیسری، کرنل فریدی، الحاج شیخ محمد یاسین، محمد یامین، محمد یونس ارشاد، خالد محمود یوسفی و دیگر شعراء شامل ہیں۔

    حافظ محمد یوسف آزاد کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "آزاد ” شب تنہائی میں ایسے بھی گزرتے ہیں لمحے
    دل درد سے بے کل ہوتا ہے اور درد چھپانا پڑتا ہے

    سبنھلنا یہاں شیخ جی میکدہ ہے
    بہک جاتے ہیں ہوشیار آتے آتے

    پھول غیروں کی وہ تربت پہ چڑھاکے آئے
    میری تربت پہ جب آئے تو چڑھائے کانٹے

    دیر و کعبہ میں نہ گلشن نہ بیاباں کے قریب
    میرے محبوب کا مسکن ہے رگ جاں کے قریب
    زندگی گزری ہے پرستش میں بتوں کی ” آزاد”
    شرم اب آتی ہے جاتے ہوئے یزداں کے قریب

    طور نے جل کے کہا غش میں پڑے ہو موسیٰ
    ہوش میں آئو تو پوچھیں کوئی دیدار کی بات

    ہر کوئی بسمل نظر آتا ہے بسمل کے قریب
    جتنے بھی بیٹھے ہوئے ہیں میرے قاتل کے قریب

    آزاد جو کٹ مرتے ہیں ناموس وطن پر
    پیچھے نہیں ہٹتے ہیں وہ انسان ہمی ہیں

    وہ تھامے ہوئے قلب و جگر آئے ہیں آزاد
    میں اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہا ہوں

    میں وہ مے نوش ہوں ساقی تیرے مے خانے میں
    گھول کر توبہ کو پی لیتا ہوں پیمانے میں

  • ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ہمارا بچپن تو بہت سادہ تھا. جب ہمیں ایک ایسی گھڑی ملی تھی جس میں روزانہ تاریخ بدلتی تھی تب ہم یہ سمجھتے تھے اس میں ضرور کوئی چھوٹا سا آدمی ہوگا جو روزانہ رات کو تاریخ بدل دیتا ہے. لیکن آج کل کے بچے بہت عقلمند ہیں. کیونکہ یہ کمپیوٹر موبائل فون کا دور ہے. بچہ بچہ انٹرنیٹ کو جانتا ہے.

    یہ کمپیوٹر موبائل بنانے والوں نے سائنس انجینئرنگ سے ایک شاہکار مشین تخلیق کر دی. یہ ایسی مشین ہے جس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا ہے. لیکن اس مشین کے خالق اس کے اندر نہیں بیٹھے. ہم سب مانتے ہیں یہ انٹرنیٹ کے ذریعے گلوبل کنیکشن بناتے ہیں. ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس مشین کا اچھا برا استعمال ہم نے خود ہی سیکھنا ہے. کیونکہ یہ مشین بیک وقت آپ کو اچھائی سے بھی جوڑ سکتی ہے اور برائی سے بھی.

    ہمیں پتہ ہے اس مشین کہ کوئی اپنے جذبات نہیں. محبت نفرت غصہ کینہ اچھائی برائی نفع نقصان سب اس کو استعمال کرنے والے آپریٹر کے ہوتے ہیں. مشین تو تابعدار بس حکم کی تعمیل کرتی ہے. ایسے ہی اس دُنیا میں انسانیت کا بھی ایک نیٹ ورک ہے. اللہ رب العزت اس کا خالق ہے. ہم میں سے ہر ایک کو جسم کی ایک مشین ملی ہے.

    دنیا کے انٹرنیٹ کا نظر آنے والا حصہ بہت کم اور نظر نہ آنے والا یعنی ڈارک ویب بہت بڑا ہے جس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے. یہی انسانوں کا مزاج ہے. لوگوں کو ہمارے نظر آنے والے اعمال اور پوشیدہ زندگی کا بھی یہی تناسب ہے. کل یوم حشر لیکن جو ہمارا حساب ہوگا اس میں سب کچھ سامنے ہوگا . اسی مشین کا پرزہ پرزہ ہم پر گواہ ہوگا.

    قرآن سورۃ التوبة میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے. اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰٮهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‌ ۞”کیا انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اللہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے اور یہ کہ اس کو غیب کی ساری باتوں کا پورا پورا علم ہے ؟ ” دوستو جیسے کمپیوٹر میں ہم توبہ کرتے ہیں ہسٹری صاف کرتے ہیں سب کچھ برا ڈیلیٹ کر دیتے ہیں. ایسا سسٹم اللہ رب العزت نے صرف ایک دیا ہے. اسے توبہ استغفار کہتے ہیں. کل کیلئے اچھے استعمال کی ہسٹری اور برے استعمال پر توبہ کریں. معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں. ہمیں کوئی پتہ نہیں کب کون ہمیشہ کیلئے لاگ آف ہو اور پھر سامنا اس میدان حشر میں ہو جہاں توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہو.

  • اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا. یہ اربوں کھربوں پتی دنیا کے دولت مند ترین انسان کسی ایسے غریب کو مکمل نظر آتے ہوں گے جو ان جیسا بننے کے خواب دیکھ رہا ہو لیکن وہ دولت مند ہندسوں کے ایک ایسے جال میں ہوتا ہے جو ایک کہ بعد ایک کروڑ ارب سے اپنی تکمیل چاہتا ہے. نہ کوئی مشہور شہرت یافتہ اداکار کھلاڑی اپنی شہرت کو مکمل سمجھتا ہے. وہ بھی اور مشہور ہونا چاہتا ہے.

    انسان فطری طور پر ریس پسند کرتا ہے. اس لئے آپ دیکھیں تو کونسی دوڑ نہیں جو انسان کھیلتے ہیں؟ . خود بھی ریس لگاتے ہیں اور کار، موٹر-سائیکل، گھوڑے کتے جو چیز ان کو دوڑ کے قابل لگتی ہے اسے بھی دوڑا دیتے ہیں. جیتنے کی جبلت ہماری فطرت کا حصہ ہے. یہی جبلت ہماری بے چینی محرومی حسد بغض ناکامی مایوسی جیسے ان گنت جذبات کی بنیاد بنتی ہے.

    لیکن اسی جبلت میں سکون کا ایک راز بھی چھپا ہے. مثال کے طور پر آپ ریس میں کھڑے ہیں. لیکن آپ آس پاس دوسرے کھلاڑیوں سے ریس کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کریں کے میں نے صرف منزل ٹارگٹ تک پہنچنا ہے. مجھے کسی پوزیشن کی خواہش ہی نہیں تو آپ کا دماغ دوسروں کے ساتھ آگے پیچھے کا حساب چھوڑ کر منزل پر فوکس کر لے گا.

    زندگی چلنے اور چلتے جانے کا نام ہے. دوڑ پھر بھی آپ رہے ہوں گے لیکن آس پاس کون آگے کون پیچھے کا حساب نہیں رہے گا. آپ پھر منزل ہی نہیں اس سفر سے بھی لطف لیں گے. زندگی اس سفر کا نام ہے موت جس کی منزل ہے. اس دنیا کی منزلیں تو اس سفر میں پھیلے بہت سے چیک پوائنٹس ہیں جن سے ہو کر آپ نے گزرنا ہے.

    اصل جیت وہی ہوتی ہے جو ہم خود سے جیت جائیں.

  • رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    کوئی انسانی تعمیر پرفیکٹ نہیں ہوتی. خوابوں کا نیا گھر بھی جب آباد ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کچھ یہاں کچھ وہاں غلطی کمی بیشی رے گئی ہے. مکین بس عادی ہو جاتے ہیں. ہمارے ایک آفس میں ایک دروازہ کچھ نیچے تھا. اوپر بلڈنگ کا کراس بیم تھا. ہم آفس والے عادی تھے کہ یہاں سر جھکانا ہے. نئے آنے والے کو کوئی نہ کوئی آواز دے دیتا کہ سر بچا کر. پھر بھی کسی نہ کسی کا سر لگ ہی جاتا.

    مسئلہ یہ تھا کہ اس دروازے کیلئے اب ساری عمارت کا سٹرکچر بدلا نہیں جا سکتا تھا. آفس کا کام اچھا چل رہا تھا تو کسی نے اس انجینئرنگ کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی. لیکن کچھ لوگ کام چھوڑ کر مستری بن جاتے ہیں. ہمیں بھی کوئی نہ کوئی مشورہ دے رہا ہوتا جیسے کچھ بیم تراش لو یا فرش چند انچ نیچے کردو اور ہم سمجھاتے اس سے چھت کمزور ہوگی یا سٹرکچر وغیرہ.

    شادی کا رشتہ بھی انسانی تعمیر ہے. یہ نیا خاندان ایک نیا گھر اور بہت سے نئے رشتوں کی بنیاد ہوتا ہے. یہ تعمیر بھی کبھی پرفیکٹ نہیں ہوتی. ہر رشتے میں کچھ کمی بیشی ہوتی ہے. وقت کے ساتھ اس رشتے کی عادت ہو جاتی ہے اور گزارا چل رہا ہوتا ہے. لیکن اس رشتے میں کوئی ایک مستری بن جائے یا دوسروں کے مشوروں پر اپنے بسے بسائے گھر کا نقشہ اپنی خواہش و پسند پر کرنے لگے تو بنیادیں اور چھت ہلنا شروع ہو جاتی ہیں.

    رشتے عادت پر سمجھ آتے ہیں. اپنی یا دوسروں کی عادات پر ضرور کوشش کریں. عادت وقت کے ساتھ بنتی یا ختم ہوتی ہیں. البتہ اپنے رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں، چاہے وہ آپ کے نفس کا مستری ہو یا رشتہ دار دوست مہمان مستری ہوں. گھر آباد رہے گا.