Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    پیدائش:12 دسمبر 1928ء
    وفات:10 جون 2008ء
    نورنبرگ
    وجۂ وفات:نمونیا، گردے فیل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    مادر علمی:گورکی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ادب
    پیشہ:سیاست داں، سفارت کار، صحافی، مترجم، ناول نگار، منظر نویس، سائنس فکشن مصنف
    مادری زبان:کرغیز زبان
    پیشہ ورانہ زبان:فرانسیسی

    چنگیز اعتماتوف (پیدائش: 12 دسمبر، 1928ء – وفات: 10 جون، 2008ء) سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول ”جمیلہ“ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف سوویت یونین میں کرغیزستان کے ایک گاؤں شیکر میں 12 دسمبر، 1928ء کو کرغیز باپ اور تاتار ماں کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کو جوزف اسٹالن کی طرف سے 1938ء میں پھانسی دی گئی۔ چنگیز اعتماتوف نے ادبی زندگی کا آغاز 1952ء میں کیا اور 1959ء سے روسی اخبار پرودا کے لیے بطور کرگیز نامہ نگار لکھنا شروع کیا۔ انہیں اہم شناخت اپنی نصنف پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں 1963ء سے حاصل ہوئی۔ اس تصنیف پر انہیں سال 1963ء کا لینن انعام دیا گیا۔ چنگیز اعتماتوف نے اپنی تخلیقات میں محبت، دوستی، جنگی ہیروازم اور کرغیز نوجوانوں کی سماجی و روایتی پابندیوں کو موضوع بنایا ہے۔ چنگیز اعتماتوف کی اہم تخلیقات میں دشوار راستہ 1958ء، روبرو 1957ء، جمیلہ 1958ء، پہلا استاد 1967ء، سفید دخانی کشتی 1970ء شامل ہیں۔
    سیاست و سفارت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف ادیب کے علاوہ سیاست دان اور سفارت کار ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ انہیں 1966ء میں سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کا رکن بنایا گیا۔ 1967ء میں اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین کے رکن، مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف، سوویت سفیر برائے لکسمبرگ اور 1990ء میں کرغیزستان کے سفیر برائے یورپی یونین مقرر ہوئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ناول و افسانے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دشوار راستہ
    ۔ 1956ء
    ۔ (2)1957ء
    ۔ روبرو
    ۔ (3)1958ء
    ۔ جمیلہ
    ۔ (4)1962ء
    ۔ پہلا استاد
    ۔ (5)1963ء
    ۔ پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں
    ۔ (6)1970ء
    ۔ سفید دخانی کشتی
    ۔ (7)1977ء
    ۔ سمندرکے کنارے دوڑتا ہوا چتکبری کتا
    ۔ (8)1986ء
    ۔ تختۂ دارا
    ۔ (9)1986ء
    ۔ جب پہاڑ گرتے ہیں
    انگریزی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Short Novels
    ۔ 1964ء
    ۔ (2)Farewell Gul’sary
    ۔ 1970ء
    ۔ (3)White Steamship
    ۔ 1972ء
    ۔ (4)The White Ship
    ۔ 1972ء
    ۔ (5)Tales of the Mountains
    ۔ and the Steppes
    ۔ 1973ء
    ۔ (6)Ascent of Mount Fuji
    ۔ 1975ء
    ۔ (7)Cranes Fly Early
    ۔ 1983ء
    ۔ (8)The Day Lasts More Than
    ۔ a Hundred Years
    ۔ 1988ء
    ۔ (9)The Place of the Skull
    ۔ 1989ء
    ۔ (10)Time to Speak
    ۔ 1989ء
    ۔ (11)The time to speak out
    ۔ 1988ء
    ۔ (12)Mother Earth and
    ۔ Other Stories
    ۔ 1990ء
    ۔ (13)Jamila
    ۔ 2008ء
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)اعزاز اکتوبر انقلاب (1988)
    ۔ (2)آرڈر آف لینن (1971)
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1966ء – رکن اعلیٰ سوویت برائے سوویت یونین
    ۔ (2)1967ء – رکن اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین
    ۔ (3)مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف
    سوویت سفیر برائے لکسمبرگ
    ۔ (4)1990ء -سفیر کرغیزستان برائے یورپی یونین
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف 79 سال کی عمر میں 10 جون ،2008ء کو نورنبرگ، جرمنی میں وفات پاگئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلسلہ عالمی ادبیات
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامور افسانہ نگار خدیجہ مستور 11 دسمبر 1927 کو بلسر، بریلی میں پیدا ہوئیں۔ 26 جولائی 1982 کو لندن میں وفات پائی۔ گلبرگ لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کی گئیں۔

    ان کےافسانوں کے 5 مجموعےکھیل، بوچھاڑ، چند روز اور، تھکے ہارے، اور ٹھنڈا میٹھا پانی اور 2 ناول آنگن اور زمین شائع ہوئے۔ آنگن پر 1962 کا آدم جی ادبی انعام ملا۔ افسانوں کے آخری مجموعے ٹھنڈا میٹھا پانی پر اکادمی ادبیات پاکستان نے سال کی بہترین کتاب کا ہجرہ ایوارڈ دیا-

    خدیجہ مستور ممتاز صحافی اور افسانہ نگار ظہیر بابر کی اہلیہ اور ہاجرہ مسرور، اختر جمال، خالد احمد اور توصیف احمد خاں کی بہن تھیں۔خدیجہ اور ہاجرہ، احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بہنیں تو خط کتابت سے ہی بن چکی تھیں-

    قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان لاہور پہنچا تو احمد ندیم قاسمی پورے خاندان کے سرپرست بن گئے. خدیجہ کی شادی انہوں نے ہی اپنے بھانجے ظہیر بابر سے کرائی.

  • شاعر اور نثر نگار  نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    شاعر اور نثر نگار نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    نریش کمار شاد کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں وہ اچھے شاعر بھی تھے ، نثر نگار بھی انہوں نےترجمے بھی کئے اور کئی رسالوں کی ادارت بھی کی ۔ نریش جتنے پرگو شاعر تھے اتنے ہی بڑے بلا نوش بھی ، ان کیلئے شاعری اور شراب دونوں زندگی کی بدصورتیوں کو انگیز کرنے کا ایک ذریعہ تھیں ۔ نریش کی شراب یاد رکھی گئی اور ان کی شاعری بھلا دی گئی ۔ حالانکہ نریش کی غزلیں، نظمیں اور کئی نئی مغربی اصناف میں ان کے تخلیقی تجربے ان کی شاعرانہ اہمیت کو روشن کرتے ہیں ۔

    شاد کی پیدائش ۱۱ دسمبر ۱۹۲۷ کو ہوشیار پور پنجاب میں ہوئی ۔ ان کے والد درد نکودری بھی شاعر تھے اور حضرت جوش ملسیانی کے خاص شاگردوں میں سے تھے ۔ گھر کے شعری ماحول نے شاد کو بھی شاعری کی طرف مائل کردیا اور وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی شعر کہنے لگے ۔ شاد کی تعلیم لاہور میں ہوئی انہوں نے گورمینٹ ہائی اسکول چونیاں ضلع لاہور سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحام پاس کیا ۔ اس کے بعد بہ سلسلۂ ملازمت راولپنڈی اور جالندھر میں مقیم رہے لیکن جلد ہی سرکاری ملازمت ترک کرکے لاہور آگئے اور وہاں ماہنامہ’ شالیمار ‘ کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے ۔

    تقسیم کے بعد شاد کچھ مدت کانپور میں رہے اور یہاں حفیظ ہوشیارپوری کے ساتھ مل کر ’چندن‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالا ۔ اس رسالے کے بند ہو جانے کے بعد دلی اگئے اور بلدیو متر بجلی کے ماہنامہ ’ راہی ‘ سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک رسالہ ’ نقوش ‘ کے نام سے بھی نکالا ۔ آخر ہاؤسنگ اینڈ رینٹ آفس میں ملازمت اختیار کی ۔

    شعری مجموعے : بتکدہ ، فریاد ، دستک ، للکار ، آہٹیں ، قاشیں ، آیات جنوں ، پھوار ، سنگم ، میرا منتخب کلام ، میراکلام نو بہ نو ، وجدان ،
    نثری کتابیں: سرخ حاشیے ، راکھ تلے ، سرقہ اور توارد ، ڈارلنگ ، جان پہچان ، مطالعے ، غالب اور اس کی شاعری ، پانچ مقبول شاعر اور ان کی شاعری ، پانچ مقبول طنز ومزاح نگار ۔ ادب اطفال : شام نگر میں سنیما آیا، چینی بلبل اور سمندری شہزادی ۔

    ۲۰ مئی ۱۹۶۹ کو شاد جمنا کے کنارے پر مرے ہوئے پائے گئے۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
    تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

    خدا سے کیا محبت کر سکے گا
    جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

    اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو
    ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

    زندگی سے تو خیر شکوہ تھا
    مدتوں موت نے بھی ترسایا

    گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب
    تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا

    زندگی نام ہے جدائی کا
    آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا

    محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
    نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں

    محفل ان کی ساقی ان کا
    آنکھیں اپنی باقی ان کا

    خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے
    مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے

    عقل سے صرف ذہن روشن تھا
    عشق نے دل میں روشنی کی ہے

    کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھا
    ہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا

    یہ سوچ کر بھی ہنس نہ سکے ہم شکستہ دل
    یاران غم گسار کا دل ٹوٹ جائے گا

    طوفان غم کی تند ہواؤں کے باوجود
    اک شمع آرزو ہے جو اب تک بجھی نہیں

    تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا
    میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے

  • روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن 11 دسمبر 1918ء کو کیسلووودسک میں پیدا ہوئے الیکزینڈر سلزینسٹائن (1918ء تا 2008ء )روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 1970ء میں نوبل ادب انعام سے نوازا گیا۔

    انہیں ان کی خدمات پر متعدد اعزازتسے نوازا گیا جن میں میخائیل لومونوسف گولڈ میڈل (1998)، نوبل انعام برائے ادب (1970)، آرڈر آف ریڈ اسٹار (1944)، ٹیمپلٹن انعام، آرڈر آف اسٹار آف رومانیہ، آرڈر آف سینٹ اینڈریو سے نوازا گیا-

    2008 میں عارضہ قلب کی وجہ سے ماسکو میں وفات پا گئے تھے-

  • دیکھ کرجس کوٹھہرجائیں مسافرکے قدم ایسا منظرتوکوئی راہ میں آیا ہی نہیں: شبانہ زیدی شبین کی خوبصورت باتیں

    دیکھ کرجس کوٹھہرجائیں مسافرکے قدم ایسا منظرتوکوئی راہ میں آیا ہی نہیں: شبانہ زیدی شبین کی خوبصورت باتیں

    دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم
    ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورا نام: شبانہ زیدی شبین
    قلمی نام: شبین
    والد کا نام: سید ظفر زیدی
    والدہ کا نام: سیدہ مہرالنساء
    شوہر کا نام سید ذاکر حسین زیدی
    بچوں کے نام:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کنول
    ۔ (2)ثمر
    ۔ (3) مظفر
    ۔ (4)اظفر
    ۔ (5)حسنین رضا
    ۔ (6)احسن رضا
    آبائی وطن : اوکاڑہ، پاکستان ۔
    جائے ولادت: لیہ
    تاریخِ ولادت: 10 دسمبر 1988
    تعلیم: ایم اے۔ ایم ایڈ
    پیشہ: درس و تدریس
    آغازِ تحریر:۔ 2005
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سلگتے کنول۔2008
    ۔ (2)اک شہر بسا پانی پر۔2013
    ۔ (3)میں خیال ہوں کسی اور کا
    ۔ (انتخاب )
    ۔ (4)موج سبد گل2016
    ۔ (رثائی شاعری )
    ۔ (5)نظم کہانی۔2018
    ۔ ( بچوں کے لیے )
    ان کے علاوہ دو ناول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔1۔ سراب۔۔ 1988
    ۔2سوشلزم اور عشق بلاخیز ۔ منتظر اشاعت
    پذیرائی: پروین شاکر ایوارڈ
    شریف اکیڈمی
    ایوارڈ:دختر لیہ ٹائٹل ایوارڈ
    روش انٹرنیشنل ایوارڈ
    اور بےشمار ایوارڈ و اسناد
    پتا:۔ صدر گوگیرہ۔اوکاڑہ پنجاب۔پاکستان

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کسی کے رونے سے موسم ہرا نہیں ہوتا
    دو آنسوؤں سے زمیں کا بھلا نہیں ہوتا
    ہماری دوستی اس چاند سے ہو ئی جب سے
    کسی اندھیرے اب سے سامنا نہیں ہوتا
    ہوائے تازہ کا ہوتا بھی تو گزر کیسے
    دریچہ ذہن کا جب تک کھلا نہیں ہوتا
    ہوں جس کے اپنے ہی چہرے پہ داغ اور دھبے
    وہ دوسروں کے لیے آئینہ نہیں ہوتا
    اکیلی شام مہکتی ہے میرے آنگن میں
    اب انتظار کسی دوست کا نہیں ہوتا
    ہمیں تو جینا ہے خود اپنے ہی اصولوں پر
    آمیر شہر کسی کا خدا نہیں ہوتا
    خدا ڈبوئے تو پھر کیسے پار اترو گے
    خدا سے بڑھ کے کوئی ناخدا نہیں ہوتا
    تمھاری یاد بھی اب تھک چکی ہے آ آ کر
    شبین ہم سے بھی اب جاگنا نہیں ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    اب کے موسم میں کوئی خواب سجایا ہی نہیں
    زرد پتوں کو ہواؤں نے گرایا ہی نہیں
    دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم
    ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں
    کیوں ترے واسطے اس دل میں جگہ ہے ورنہ
    کوئی چہرہ مری آنکھوں میں سمایا ہی نہیں
    اس نے بھی مانگ لیا آج محبت کا ثبوت
    ایک لمحے کے لیے جس کو بھلایا ہی نہیں
    مجھ کو تنہائی نے گھیرا ہے کئی بار مگر
    اس کی یادوں نے مگر ساتھ نبھایا ہی نہیں
    جس کی خوشبو سے مہکتے مرے گھر کے در و بام
    وقت نے رنگ کوئی ایسا دکھایا ہی نہیں
    روشنی اپنے مقدر کہاں ہوگی شبینؔ
    جب دیا ہم نے اندھیروں میں جلایا ہی نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رتوں کا لمس شجر میں رہے تو اچھا ہے
    مٹھاس بن کے ثمر میں رہے تو اچھا ہے
    کہاں سے دل کے علاقے میں آ گئی دنیا
    یہ سر کا درد ہے سر میں رہے تو اچھا ہے
    مرا قیام ہے گھر میں مسافروں جیسا
    یہ گھر بھی راہ گزر میں رہے تو اچھا ہے
    میں سن رہی ہوں قیامت کی آہٹوں کو شبینؔ
    حیات پھر بھی سفر میں رہے تو اچھا ہے

  • نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    جب سے اتری ہوں آسمان سے میں
    تب سے الجھی ہوں اس جہان سے میں

    عارفہ صبح خان

    تاریخ پیدائش:10 دسمبر 1970

    تحریر و تعارف: آغا نیاز مگسی

    پاکستان کی نامور ادیبہ_شاعرہ، اور صحافی ڈاکٹر عارفہ صبح خان 10 دسمبر 1970 میں لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد ادریس خان اور یوسفزئی پٹھان قبیلے سے تعلق ہے تحریک پاکستان میں انہوں نے بڑا فعال کردار ادا کیا جس کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح کے بہت قریب رہے۔ ۔ عارفہ کے دادا سعید جان جج اور پر دادا ایس ایس پی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ عارفہ صبح خان نے ابتدائی تعلیم فاطمہ جناح گرلز ہائی اسکول لاہور سے اور اعلی تعلیم یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور سے ادبیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    عارفہ نے چوتھی جماعت سے نثر نگاری اور شاعری شروع کی لیکن انہوں نے شاعری میں کسی استاد کی شاگردی اختیار نہیں کی اور نہ ہی کسی اصلاح لی لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ شاعری میں استاد ضروری ہے۔ وہ پاکستان میں اردو کی پہلی مزاحیہ خاتون ادیبہ اور صحافی ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں ۔ وہ علمی لحاظ سے ڈاکٹر فراق تحسینی اور ڈاکٹر سلیم اختر کو اپنا استاد مانتی ہیں۔ عارفہ نے روزنامہ جنگ سمیت متعدد اخبارات اور رسائل وغیرہ میں کام کیا ہے۔ وہ کرنل محمد خان، شفیق الرحمن ، احمد ندیم قاسمی اورعطاالحق قاسمی کا بڑے احترام کے ساتھ ذکر کرتی ہیں۔ عارفہ کی شادی بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ظفر آفتاب کے ساتھ 1995 میں شادی ہوئی اور 1998 میں انہیں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ وہ بیٹی کے پیداطہونے پر بہت خوش ہیںچلیکن انہیں اس بات کا بہت دکھطہے کہ انہیں بیٹے کی اولاد نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کو بھائی بھی والدین سے پیدا نہیں ہوا اور مزید یہ کہ عارفہ کی والدہ کا بھی کوئی بھائی پیدا نہیں ہوا یعنی ان کی تین نسلوں میں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا۔

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)عکس زن
    ۔ (2)تجاہلِ عارفانہ
    ۔ (3)شٹ اپ
    ۔ (4)مابدولت
    ۔ (5)اماں حوا سے اماں کونسلر تک
    ۔ (6)کُرکُرے کردار
    ۔ (7)اب صبح ہو نے کو ہے
    ۔ (8)اردو تنقید کا اصلی چہرہ
    ۔ (9)صبح ہوگئی جاناں
    ۔ (10)عشقِ بلاخیز
    ۔ (11)ادبی ستارے
    ۔ (12)کافر ادا
    ۔ (13)تنقیدیں گرہیں
    ۔ (14)سیاست دانوں کے سائیڈ ایفیکٹس
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پاکستان کی
    ۔ پہلی مزاح نگار خاتون ہونے کا اعزاز
    ۔ (2)پاکستان کی پہلی کرائم رپورٹر ہونے کا اعزاز
    ۔ (3)پاکستان کی پہلی پولیٹیکل لیڈی رپورٹر
    ۔ (4)صحافت کی شیرنی کا لقب
    ۔ (صحافت کے امام مجید نظامی نے دیا)
    ۔ (5)خواتین کی پطرس بخاری کا خطاب
    ۔ (کرنل محمد خان مرحوم نے دیا)
    ۔ (6)خان زادی، خان بی بی
    ۔ اردو ادب کی قلوپطرہ، اعزازات کی ملکہ
    ۔ ادب کا ستارہ (خطابات)
    ۔ (7)10 گولڈ مڈلز اور پچاس ایوارڈز
    ۔ ادبی، صحافتی اور علمی خدمات پر
    ۔ (8)صدر آل پاکستان ویمن جرنلسٹ فورم
    ۔ پریس کلب، لاہور
    ۔ پانچ سال مسلسل صدر رہنے کا اعزاز
    ۔ (9)صحافت اور ادب میں سب سے زیادہ
    ۔ گولڈمڈلز اور ایوارڈز لینے کا ریکارڈ
    ۔ (10)بہترین صحافی ایوارڈ
    ۔ سات بار مسلسل
    ۔ (11)ڈرامے سیریلز لکھے
    ۔ سونے کی چڑیا
    ۔ نئے راستے
    ۔ لیڈی رپورٹر کیوں
    ۔ (12)چار سیاسی پروگراموں کی اینکرنگ
    ۔ ہاٹ ایشوز
    ۔ پولیٹیکلز ٹمپریچر
    ۔ ون ٹو ون
    ۔ ویمن ایشوز
    موبائل:00923008005450

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کی راہ جب نکالی تھی
    زندگی کس قدر مثالی تھی
    تو نے مجھ کو بھری تھی جب چٹکی
    میرے گالوں پہ کتنی لالی تھی
    گھیر رکھا تھا تیری یادوں نے
    سامنے چائے کی پیالی تھی
    جان دے کر دیارِ فرقت میں
    پیار کی آبرو بچالی تھی
    سارے ارماں سمیٹ کر دل میں
    ہم نے اک بزم سی سجالی تھی
    غمِ دنیا میں خود کو ڈھالا تھا
    عمر بھی اپنی لاابالی تھی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تیری یادیں سنبھال لیتی ہوں
    دل کا آنگن اُجال لیتی ہوں
    شعر کہہ کر غبار اندر کا
    میں ہمیشہ نکال لیتی ہوں
    اک تری جستجو میں گرتے ہوئے
    خود کو اکثر سنبھال لیتی ہوں
    کام آتی ہوں بے نواؤں کے
    اور دعائے وصال لیتی ہوں
    ہجر کی دوپہر میں سر پہ صبحؔ
    اس کی یادوں کی شال لیتی ہوں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    چلو اتنا ہی کردو
    ۔۔۔۔۔
    ابھی راتوں کی تاریکی
    ابھی موسم کا سناٹا
    ابھی یہ رینگتے سائے
    درو بامِ تمنا پر
    کہ جیسے کل مسلط تھے
    اسی صورت مسلط ہیں
    ابھی تو کچھ نہیں بدلا
    عجب اک بے کلی سی ہے
    عجب اک ہو کا عالم ہے
    میں کیسے دل کو سمجھاؤں، میں کیسے دل کو بہلاؤں
    اگر تم نے
    نہ آنے کی قسم توڑی نہیں اب تک
    چلو اتنا ہی کردو
    کہ اس میں کیا برائی ہے
    مجھے تم فون پر دل کے
    بہلنے اور سنبھلنے کی
    کی کوئی صورت بتادینا
    تمھارا شکریہ ہوگا

  • ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    عمیرہ احمد ایک نامور پاکستانی ادیبہ اور اسکرین لکھاری جو اپنی کتاب” پیر کامل” کی بدولت مشہور ہوئیں اور پھر اپنے متعدد ناولوں پر مبنی ٹی وی ڈراموں سے شہرۂ آفاق پر پہنچیں۔

    ان کے ناولوں پر بننے والے ڈراموں میں میری ذات ذرہ بے نشاں، دوراہا،پیر کامل، مٹھی بھر مٹی، شہرذات، میرا نصیب اور زندگی گلزار ہے شامل ہیں۔ عمیرہ احمد مرے کالج، سیالکوٹ سے انگریزی میں ماسٹرز کر کے آرمی پبلک کالج کے کیمبرج ونگ سے منسلک ہیں۔ اپنے تحریری سفر کا آغاز انھوں نے خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں آگئیں۔

    ان کا پہلا ڈراما ‘‘وجود لاریب‘‘ انڈس ویژن سے 2005 میں آیا جس کے لیے انہوں نے بیسٹ رائٹر کا ایوارڈ لیا۔ اس کے بعد ‘‘دام‘‘، ‘‘قید تنہائی‘‘ اور متعدد ڈرامے وہ لکھ چکی ہیں اور ان کے کئی ناول کی ڈرامائی تشکیل ہو چکی۔ ‘‘نور کا مسکن‘‘ کے نام سے ایک ریڈیو ڈراما بھی لکھا۔
    ناول اور کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پیر کامل
    ۔ (2)زندگی گلزار ہے
    ۔ (3)میری ذات ذرہ بے نشان
    ۔ (4)ایمان امید اور محبت
    ۔ (5)حسنہ اور حسن آرا
    ۔ (6)حرف سے لفظ تک
    ۔ (7)میرے 50 پسندیدہ سین
    ۔ (8)من و سلوا
    ۔ (9)حاصل
    ۔ (10)لا حاصل
    ۔ (11)واپسی
    ۔ (12)شیریں
    ۔ (13)میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے
    ۔ (14)سحر ایک استعارہ ہے
    ۔ (15)دربار دل
    ۔ (16)امبر بیل
    ۔ (17)عکس
    ۔ (18)آب حیات
    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)وجود لاریب (2004)
    ۔ (2)دام محبت (2009)
    ۔ (3)ٹی وی ون گلوبل (2009)
    ۔ (4)میری ذات ذرہ بے نشاں (2009)
    ۔ (5)تھوڑا سا آسماں (2009)
    ۔ (6)عمیرہ احمد (2010)
    ۔ (7)اڑان (2010)
    ۔ (8)مات (2011)
    ۔ (9)شہر ذات (2012)
    ۔ (10)کنکر (2013)
    ۔ (11)بے حد (2013)
    ۔ (12)زندگی گلزار ہے (2013)
    ۔ (13)محبت صبح کا ستارہ ہے (2014)
    ۔ (14)ڈائجسٹ رائٹر (2014)

  • اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    لوئجی پیرآندیلو اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈراما نگار، افسانہ نگار اور ناول نگار اور 1934ء کے ادب کے نوبل انعام یافتہ مصنف ہیں۔

    حالات زندگی و ابتدائی تعلیم

    لوئجی پیرآندیلو 28 جون 1867ء کو سسلی، اٹلی میں گندھک کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1880ء میں پیآندیلو کے والدین سسلی کے صد مقام پالیرمو میں سکونت پزیر ہو گئے جہاں انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔

    اعلیٰ تعلیم

    1887ء میں روم یونیورسٹی اٹلی، 1888ء میں بون یونیورسٹی جرمنی میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    ادبی خدمات

    لوئجی پیرآندیلو بہت بڑا ڈراما نگار تھا۔ ڈراموں کی شہرت کی وجہ سے اس کے افسانے طویل عرصہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے حالانکہ پیرآندیلو بتنا بڑا ڈراما نگار تھا، اتنا بڑا افسانہ نگار بھی تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں 500 پانچ سو سے زائد کہانیاں لکھیں جو تیرہ مجموعوں کی صورت میں شائع ہوچکی ہیں۔ لوئجی پیرآندیلو آفاقی تاثیر رکھنے والا مصنف ہے۔ اس کی کہانوں میں انسانی رشتوں کی ان سچائیوں کا معنی خیز اظہار ہے جن سے معاشرہ تعمیر ہوتا ہے اور انسانی زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ پیرآندیلو کا لازوال ڈراما ”چھ کردارخالق کی تلاش میں“ دنیائے ادب کے عظیم ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پیرآندیلو نے 50 سے زائد ڈرامے لکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بے شمار افسانے، ناول اور شاعری کے مجموعہ تخلیق کے۔

    اعزازات

    لوئجی پیرآندیلو کی ادبی خدمات کے صلے میں 1934ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔

    وفات

    دنیائے ادب کے عظیم ڈراما نگار اور افسانہ نگار لوئجی پیرآندیلو 10 دسمبر 1936ء کو روم، اٹلی میں انتقال کر گئے۔

  • سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    کوئی چار سال پرانی بات ہے۔ مجھے ایک لڑکی اچھی لگی اور بائیک سے گاڑی پر شفٹ ہونے کا خیال بھی آیا۔ کہ "وہ” بائیک پر بیٹھی اچھی نہیں لگے گی۔ اور اس پر مٹی بھی پڑے گی۔ میں ان دنوں بڑے لمبے لمبے وٹس ایپ سٹیٹس لکھا کرتا تھا۔ میرے قریبی دوست جانتے ہیں۔ جیسے اب فیس بک پر لکھتا ہوں ایسے ہی وٹس ایپ پر لکھتا تھا۔ بڑی آڈئینس کے سامنے اپنے وچار رکھنے کی ہمت نہ تھی۔ اور لکھنے میں تب یہ روانی بھی تو نہ تھی۔ انہی دنوں میں یہ کتاب دی سیکرٹ پڑھی۔ اور آنٹی بائرن کی اسکے بعد آنے والی تینوں کتب میجک، پاور، ہیرو بھی پڑھیں۔

    ان سب کتب کا مدعا یہ تھا کہ ہم جو بھی سوچتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اپنی سوچوں کی فریکوئنسی سے ہم کائنات کو پیغام دیتے ہیں۔ اور جو ہم سوچتے ہیں وہ بس ہوجاتا ہے۔ اس بات میں نے سچ مان لیا۔ اور نہ صرف خود کچھ گولز سیٹ کیے بلکہ اپنے دوستوں کو بھی ترغیب دی کہ ہم خود ہی اپنی ایک لمٹ طے کر لیتے ہیں۔ اور اس سے باہر نہیں سوچتے۔ صرف سوچنا ہی تو کافی نہیں ہوتا۔

    اسکے بعد سامنے آنے والے مواقع و امکانات کو اویل بھی کرنا ہوتا ہے۔ مجھے تنخواہ کے حساب سے دو یوٹیوب چینلز نے آزاد کرایا جنکو میں سکرپٹ لکھ کر دیتا تھا۔ اور آمدن کا 30 فیصد مجھے ملتا تھا۔ پھر سپیشل بچوں کے والدین کو دی جانی والی کنسلٹنسی ایک اور آمدن کا حصہ بنی۔ اوپن یونیورسٹی کی ٹیوٹرشپ اور آن لائن لیکچرز سالانہ آمدن میں 2 سے 3 لاکھ اضافے کی وجہ بنے۔ اور کچھ نہ کچھ ایسا ہی ساتھ چلتا رہا۔

    میری یہ سوچ تھی کہ سرکاری جاب کو چلاؤں یا چھوڑ دوں میری آمدن ایک ہزار ڈالر سے کم نہ ہو بس۔ یورپ جانے کا خیال آیا پھر سوچا وہاں گاڑیوں میں پٹرول بھرنے یا کسی سٹور پر کام کرنے یا ٹرک چلانے سے تو رہا۔ جس فیلڈ کو زندگی کے قیمتی ترین 10 سال دے چکا اب وہی جینا مرنا ہے۔ اور اس 1 ہزار ڈالر والے گول کو میں نے 2021 کے آخر میں ہی حاصل کر لیا تھا۔ ہمیں بس اپنے کمفرٹ زون سے نکلنا ہوتا اور کچھ قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ چند سال راتوں کو کسی مقصد کی لگن میں جاگنا ہوتا ہے۔ اور اس سب کی قیمت ضرور ملتی ہے۔ ٹائم لگتا ہے مگر محنت کا پھل ملتا ضرور ہے۔ میری جاب بھی کوئی عام ملازمت تو ہے نہیں بلکہ میرا عشق ہے۔ جو بڑھتا ہی چلا گیا۔ کچھ بھی کروں وزیر اعظم پاکستان ہی کیوں نہ بن جاؤں ان سپیشل بچوں کے ساتھ براہ راست کام کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔

    پہلی لائن میں مذکورہ لڑکی کی شادی جلد ہی ہوگئی تھی۔ آس پاس ٹھنڈی اے سی والی ہوائیں بس چند دن ہی چل سکیں تھیں۔ اور میں تو اسے پرپوز بھی نہ کر سکا تھا۔ جس گاڑی میں اسے بٹھانے کا سوچا تھا وہ اب کافی دیر بعد ملی ہے۔ ابھی کل ہی اسکا میسج آیا۔ گاڑی کی مبارک باد دی اور بتا رہی تھی کہ اسکی شادی شاید چل نہ سکے۔ وہ رشتہ بچانے کی ناکام کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اسکا خاوند اولاد نہ ہونے کی وجہ فیملی پریشر میں ہے اور دوسری شادی کا سوچ رہا ہے۔ جہاں وہ شادی کرنا چاہتا انکی ڈیمانڈ ہے کہ پہلی کو طلاق دو پھر رشتہ دیں گے۔ اب اس سب میں جو ہونے جا رہا میرا تو کوئی قصور نہیں ۔ میں تو اسے پرپوز تک نہیں کر سکا تھا۔

    آنٹی بائرن کو ای میل کر دی ہے کہ بتائیں اب کیا کروں۔ گاڑی جو سوچی تھی چار سال بعد مل گئی۔ آپکا شکریہ کہ یہ خوشحالی کی طرف جانے کی سوچ اور راستہ آپ نے ہی دکھایا تھا۔ سالوں پہلے چھوڑی گئی فریکوئنسی یہاں کام خراب کر رہی ہے۔ ان لہروں کو واپس لانے کا کوئی طریقہ بتائیں کہ میری تو اب شادی ہو چکی ہے.

  • مولانا محمد علی جوہر کا یوم پیدائش

    مولانا محمد علی جوہر کا یوم پیدائش

    رام پور کے معزز وممتاز خاندان میں مولانا محمد علی ۱۰؍ دسمبر 1878کو پیدا ہوئے، دو برس کی عمر میں ہی ان کے والد عبد العلی خاں کا انتقال ہوگیا، والدہ کی عمر بیوگی کے وقت ۲۷؍ برس تھی، انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد ۸؍سا ل علی گڑھ میں گزارکر بی اے کی ڈگری حاصل کی، میر محفوظ علی کے مطابق وہ کلاس میں لیکچر سنتے، فیلڈ میں کرکٹ کھیلتے اور یونین میں تقریر کرتے تھے، ان کے بڑے بھائی شوکت علی نے روپے کا انتظام کرکے انہیں آکسفورڈ یونیورسیٹی میں داخلہ دلوادیا، جہاں سے انہوں نے تاریخ جدید میں بی اے آنرز کی سند حاصل کی، ان کی ذھنی وفکری تربیت میں ان کی والدہ بی اماں کا بڑا رول تھا، مولانا محمد علی کے دل میں ملت اسلامیہ کا بڑا درد تھا، ان کی خدمات کئی لحاظ سے قابل قدر ہیں، ملک کی آزادی کی جد وجہد، تحریک خلافت، اشاعت تعلیم، فروغ اردو، عوامی بیداری بذریعہ صحافت، اور اپنی مخلصانہ کوشش وکاوش میں وہ بہت کامیاب رہے۔

    برطانوی حکومت نے جب کلکتہ کے بجائے دہلی کو ہندوستان کی راجدھانی بنانے کا فیصلہ کیا تو محمد علی نے ’’کامریڈ‘‘ کا دفتر بھی 14؍ستمبر 1912کو دہلی میں منتقل کرلیا، اور 12؍ اکتوبر کو یہیں سے ’’کامریڈ‘‘ کا پہلا شمارہ شائع کیا، انہوں نے مسلمانوں کی آسانی کے لئے ’’نقیب ہمدرد‘‘ نامی اردو پرچہ کا اجرا کیا، جو بعد میں روزنامہ ہمدرد کے نام سے مشہور ہوا، باشندگان ہند کو آزادی وطن کے لئے بیدار اور تیار کرنے کی غرض سے مولانا نے صحافت کو موثر ذریعہ بتایا، اس کے ساتھ ساتھ وہ تحریک خلافت کے لئے مسلسل اسفار کرتے رہے۔
    ۹؍ جنوری 1920کو مولانا ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے دہلی پہنچے تو چاندنی چوک پر ان کا شاندار استقبال ہوا، خواجہ حسن نظامی نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’۔۔۔ دہلی کی سر زمین پر کتنے ہی عظمت وجلال والے تاجدار اور شاہزادے اور حکام بلند مقام آئے اور چلے گئے لیکن سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد سے آج تک اس خلوص وعقیدت کے ساتھ شاید ہی کسی شخص کا خیر مقدم کیا گیا ہو-

    تحریک خلافت نے ملک میں آزادی کی تڑپ پیدا کردی ہر فرد کے دل میں علی برادران کے لئے محبت جاگزیں ہوگئی، اس تحریک نے انگریزی اسکولوں، کالجوں اور سرکار کی نگرانی میں چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کو چھوڑ دینا فرض قرار دے دیا، چنانچہ تعلیمی محاذ پر ترک موالات کے لئے مولانا محمد علی نے علی گڑھ کے ایم اے او کالج سے پہل کی۔

    بالآخر 29اکتوبر کو جمعہ کے دن ایم اے او کالج کی مسجد میں بعد نماز جمعہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ ‘‘ کی رسم افتتاح شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن کے ہاتھوں ادا ہوئی۔ حکیم اجمل خاں اولیں امیر جامعہ، مولانا محمد علی پہلے شیخ الجامعہ، حاجی موسی خاں سکریٹری، اور تصدق احمد شیروانی جوائنٹ سکریٹری مقرر ہوئے۔

    مولانا محمد علی نے 22نومبر 1920کو فاؤنڈیشن کمیٹی کے جلسے میں یہ تجویز منظور کرالی کہ جب تک نیا نصاب تعلیم تیار ہوکر نہیں آجاتا مجوزہ نصاب ہی کو اصلاح وترمیم کے ساتھ جاری رکھا جائے اور اس میں دینیات کے مضمون کا اضافہ کردیا جائے۔

    اس موقع پر ایک نصاب کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں مولانا محمد علی ، ڈاکٹر سر محمد اقبال، مولوی عبد الحق، مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، مولانا آزاد سبحانی، مولوی صدر الدین، ڈاکٹر انصاری، محی الدین، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولوی عنایت اللہ، پرنسپل ایس کے رودرا، پرنسپل گڈوانی، پروفیسر سہوانی، سی ایف اینہ ریوز، جواہر لال نہرو، راجندر پرشاد اور سید سلیمان شامل تھے۔
    اس عمومی نصاب پر غور وخوض کے بعد مولانا محمد علی جوہر کی خصوصی نگاہ دینیات کی طرف متوجہ ہوئی چونکہ محمد علی مسٹر سے مولانا ہوچکے تھے اور جدید وقدیم پر ان کی نگاہ ماہرانہ تھی، انہوں نے پھر دینیات کے نصاب کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل کی، جس میں مولانا آزاد سبحانی، مولانا سلامت اللہ، مولانا صدر الدین، مولانا عبد القیوم، مولانا داؤد غزنوی، مولانا عبد الماجد بدایونی، مولانا عبد القادر، مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ مولانا محمد علی جوہر خود بھی شامل رہے۔

    ایام اسیری میں جھنڈوارہ میں قیام کے دوران وہ قرآن کریم کی تلاوت اورباقاعدہ تفسیر کے مطالعہ کی سعادت حاصل کرچکے تھے، اس لئے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، دینیات اور تاریخ کو فوقیت دینا چاہتے تھے اور اس ذہن کے ساتھ نصاب تیار کئے جانے پر ان کی توجہ تھی، مولانا محمد علی جوہر کا نظریہ تعلیم تجربات کی روشنی میں ان کے سامنے واضح ہو کر آ چکا تھا، وہ اس بات کو محسوس کرتے تھے کہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کا منفی اثر ہندوستان کے باشندوں پر پڑے گا اور ملت اسلامیہ کو اس معاملہ میں کچھ زیادہ ہی حساس رہنا چاہئے، چنانچہ مصروفیت کے باوجود وہ نصاب تعلیم پر پوری توجہ دے رہے ہیں اور اس کی جزئیات پر ان کی نگاہ بار بار جارہی ہے، اس لحاظ سے ان کی نگاہ میں ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘‘ کا تصور بہت ارفع اور اعلی تھا-

    یہی وجہ ہے کہ اسلامیات اور دینیات کے بلند پایہ عالم دین شیخ الہندحضرت مولانا محمود حسن کے ذریعہ جامعہ کا افتتاح عمل میں آیا اور نصاب کمیٹی میں عصری علوم کے ماہرین کے ساتھ نامور اور بالغ نظر علماء کی بڑی تعداد کو انہوں نے اس کمیٹی میں شامل رکھا، اس سے ان کے تعلیمی نظریات کا اندازہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر یوسف حسین اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:۔

    ’’مولانا محمد علی جوہر جب بولتے تھے تو فصاحت وبلاغت کا دریا بہادیتے، گھنٹہ دو گھنٹہ چارگھنٹے متواتر تقریر کا سلسلہ جاری رہتا، مولانا محمد علی کا بولتے بولتے گلا پڑ جاتا اور کبھی کبھی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے۔‘‘

    ان کی تاریخی تقریر کا یہ حصہ جو انہوں نے گول میز کانفرنس لندن میں کی تھی ملاحظہ فرمائیں’’میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا بشرطیکہ وہ آزاد ملک ہو پس اگر ہندوستان میں تم ہمیں آزادی نہ دوگے تو یہاں میرے لئے ایک قبر تو تمہیں دینی پڑے گی-

    ۴؍ جنوری 1931کو ساڑھے نو بجےصبح لندن کے ہائڈ پارک ہوٹل میں جہاں ان کا قیام تھاجامعہ ملیہ اسلامیہ کا اولین شیخ الجامعہ ، ہندوستان کے صف اول کا رہنما اپنے وطن سے دور دیار غیر میں ابدی نیند سوگیا، مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی خواہش کا احترام کیا گیا، جنہوں نے مولانا کے جسد خاکی کو بیت المقدس میں دفن کرنے کی تمنا ظاہر کی تھی اور اس طرح مولانا کے جسد خاکی کو پیغمبروں کے مدفن اور قبلۂ اول میں دفن کیا گیا، مولانا کی قبر پر انہیں کا ایک شعر آج بھی لکھا ہوا ہے۔

    جیتے جی تو کچھ نہ دکھلائی بہار
    مر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کُھلے

    اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے فرمایا ’’محمد علی کی زندگی کابیان در اصل ایک قوم اور ایک ملت کے حال اور مستقبل کی تفسیر کرنا ہے کہ محمد علی اسلامی ملت اور ہندی قوم کے قائد تھے اور نمائندہ بھی۔

    برطانوی ادیب ایم جی ویلز کا محمد علی کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ ’’محمد علی نے برک کی زبان، میکالے کا قلم، اور نپولین کا دل پایا ہے، مولانا مناظر احسن گیلانی نے ان پر باضابطہ مرثیہ لکھا ہے۔

    بقول مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندویؒ ’’انہوں نے حق کہنے میں نہ اپنے شیخ طریقت مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی پرواکی نہ اپنے سب سے محترم ومحبوب شریک کار اور جنگ آزادی کے رفیق کار گاندھی جی کی، نہ اس وقت کی سب سے بڑی سلطنت (برطانیہ) کے وزیر اعظم کی، نہ سب سے زیادہ قابل احترام سرزمین کے فرمانروا اور بانئی سلطنت سلطان عبد العزیز ابن سعود کی، انہوں نے ہر جگہ حق بات کہی اور صاف وبے لاگ کہی۔

    مولانا محمد علی جوہر کی غیرت دینی اور حمیت اسلامی مسلمانان ہند کے لئے مشعل راہ ہے، انہوں نے وطن عزیز کے لئے جو قربانی دی وہ ناقابل فراموش اور ملت کی شیرازہ بندی، ان کی تعلیمی ترقی اور جدید وقدیم مواد پر مشتمل نصاب کی تیاری سے ان کے تعلیمی نظریات کا اندازہ ہوتا ہے، انہوں نے جدید اعلی تعلیم کے حصول کے بعد بھی اپنی مذہبی شناخت کو اہتمام کے ساتھ نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس کے داعی اورمبلغ ہوگئےہمیں ان کےاچھےکارناموں کو یادبھی رکھنا ہےاوران اچھائیوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ بھی کرناچاہیے مولانا محمد علی کی زبان سے نکلے بعض اشعار ان کے موقف کی پوری ترجمانی کرتے ہیں۔

    توحید تو یہ ہے کہ خداحشر میں کہہ دے
    یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لئے ہے

    کیا ڈر ہے جوہو ساری خدائی بھی مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے

    اشعار

    نہ نماز آتی ہے مجھ کو نہ وضو آتا ہے
    سجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہے

    توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
    یہ بندہ زمانے سے خفا میرے لیے ہے

    قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    وہی دن ہے ہماری عید کا دن
    جو تری یاد میں گزرتا ہے

    ساری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ سودائی ہے
    اب مرا ہوش میں آنا تری رسوائی ہے

    وقار خون شہیدان کربلا کی قسم
    یزید مورچہ جیتا ہے جنگ ہارا ہے

    ہر سینہ آہ ہے ترے پیکاں کا منتظر
    ہو انتخاب اے نگہ یار دیکھ کر

    شکوہ صیاد کا بے جا ہے قفس میں بلبل
    یاں تجھے آپ ترا طرز فغاں لایا ہے

    تجھ سے کیا صبح تلک ساتھ نبھے گا اے عمر
    شب فرقت کی جو گھڑیوں کا گزرنا ہے یہی