Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے،عبدالغنی صراف کنڈے کے ہاں 20 دسمبر 1949ء کو قصبہ پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے انہوں نے اے لیول اردو، کامرس ، اکائونٹنگ، بیچلرزساوئتھ ایشن سٹڈیز اینڈ اردولندن، ماسٹر آف ہومیوپیتھی لندن (M.Hom) سے تعلیم حاصل کی اور پیشے کے طور پرہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے-

    ان کی پسندیدہ ادبی شخصیت:خواجہ الطاف حسین حالیؔ جن کی مسدس کی سحر انگیزی سے متاثر ہوکر میرا قیاس ہے شاعرِ مشرق کا قلم شکوہ جواب شکوہ لکھنے پر متحرک ہوا پسندیدہ غیر ادبی شخصیت ہومیوپیتھک طریقِ علاج کے بانی ڈاکٹر ہنی مین جن کی تحقیق و پیشکش کی بدولت دنیا کے کروڑوں انسان مستفید ہو رہے ہیں۔

    مرزا غالب نے بیدل کو اپنا معنوی استاد تسلیم کیا تھا۔ غالبؔ میر تقی میر کو اپنا پیش رو مانتے تھے۔ غالب کے یہاں ردّ ومقبول کے واقعات موجود ہیں۔ غالب کسی کی شخصیت کو قبول کر لیتے ہیں کسی کی شخصیت کو ردّ کر دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے غالب کی نفسیات کار فرما ہے جسے احساسِ برتری اور احساس کمتری کہا جاتا ہے۔ غالب اپنے آپ کو سب سے بڑا شاعر بھی مانتے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے مثلاً

    ہیں یوں تو زمانے میں سخن ور بہت اچھّے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

    ہمارے عہد کے اہلِ قلم کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا شاعر تسلیم کریں۔ یہ کوئی عیب نہیں، نہ ہی اسے تعلّی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے آپ کی اہمیت کو تسلیم کرانے کا ایک طریقہ ہے۔ ڈاکٹر منور احمد کنڈے کے بعض اشعار میں یہ احساس موجود ہے۔ وہ جب تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں تو انھیں خیال گزرتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طریقے سے الگ سے ضرور ہیں۔ وہ ذرا دور سے، پردوں کے اس طرف سے۔ اس بات کا احساس ضرور دلاتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں۔

    جس کو ہوں دل میں چھپائے رات دن
    بس وہی موتی منورؔ اصل ہے

    اس کا مطلب ہے۔ دنیا کے سارے جواہر نقلی ہیں، سارے موتی پھیکے ہیں جو خزانہ میری تحویل میں اللہ تعالیٰ نے دے دیاہے ، اور جومیرے تصرف میں ہے وہی اصلی ہے، آب دار ہے، یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنے موتی کی حفاظت کرتا ہے۔ یہی خیال شاعر کو اپنی قیمت بڑھانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ شاعر کو اپنے مقابلے میں دنیا کی ہر کرنسی کم قیمت لگتی ہے :

    جہاں بھر کی کرنسی سے بالاتر ہوں میں
    فروخت کرنا ہو خود کو پانچ دس میں نہیں

    یہاں نفی اور اثبات کا معاملہ بھی ہے۔ کوئی اپنی ذات کا اثبات کرتا ہے تو خود بہ خود بہت سی چیزوں کی نفیہو جاتی ہے۔ یہ احساس اردو غزل کو غالب نے دیا ہے۔ غالب نے ہمیشہ اپنے آپ کو نایاب سمجھا۔ غالب آسانی سے کبھی کسی کو دستیاب نہیں ہوئے۔ منور احمد کے بعض اشعار میں ہمیں یہ احساس ملتا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں:

    طے کرے فاصلہ وہ بھی تو کچھ
    ہم سے ملنا ہے تو اِس پار آئے

    اُس پار سے اِس پار آنا جواں مردی کا کام ہے۔ سمندر کو پار کرنا ۔ لہروں سے نبرد آزمائی، طوفانوں سے دو دو ہاتھ۔ ان خطروں سے بچ گئے تو ہم سے مل پاؤگے۔ ورنہ ممکن نہیں۔ ہم وہ گوہرِ نایاب ہیں جو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔
    غالب نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کئی طرح کے اشعار کہے ہیں۔ ایک شعر اس طرح بھی کہا ہے :

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    تمنا کے دوسرے قدم کے متلاشی غالب کی نظر میں دنیا کبھی کبھی بہت حقیر ہو جاتی ہے۔ بچوں کا کھلونا، کھیلو اور توڑ دو۔ دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ منور احمد نے بھی اس طرح کی راہ سے گزرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنے زمانے اور مزاج کے لحاظ سے ذرا سا بدلا ہوا مزاج ہے ان کا :

    میرے ماضی کے کھلونے ہیں منورؔ یہ تو سب
    تم نے بس قصّہ سنا ہے خنجر و شمشیر کا

    عالم انسانیت کی ایک مکمل تاریخ سمٹ آئی ہے اس شعر میں۔ یہ خنجر، یہ شمشیر، یہ تیر وتفنگ ایسے کھلونوں کی مانند ہیں جن سے میں ماضی میں کھیل چکا ہوں۔ یہاں موضوعات میں یکسانیت ضرور ہے۔ لیکن اظہار کا طریقہ بدل چکا ہے۔ماضی کے اللہ والوں کی جوانمردیاں شاعر کے احساسات کو گھیرے ہوئے ہیں ، منورؔ ابوابِ تاریخ کے بحور میں ڈوب چکا ہے، الفاظ بدل چکے ہیں۔ اسلوب نگارش میں تبدیلی آ چکی ہے۔ غالب کا زمانہ اور تھا اور منور کا زمانہ اور ہے۔ غالب کی زبان دوسری تھی منور کی زبان دوسری ہے۔ لیکن دنیا کی حقیقت جو دوسو سال پہلیغالب کی نظروں میں تھی آج دو سو سال بعد بھی دنیا کی حقیقت منورؔ احمد کی نظروں میں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔دلّی کے اسد اللہ خان غالب ؔنے کہا تھا ؎
    ہوتا ہے شب و روز ہمیشہ مرے آگے

    پیرمحل کے پیرِ سخنوراں منورؔ احمد کنڈے کہتے ہیں تم جو آج خنجر وشمشیر کی باتیں کرتے ہو۔ میرے بازو کل ان کھلونوں سے کھیل چکے ہیں۔

    مرزا غالب اور منور احمد کے درمیان یہاں موازنے کی ہرگز کوئی بات نہیں۔ دو صدیاں بیت چکی ہیں۔۔۔ دونوں نے اپنے اپنے زمانوں کی عکاسی کی ہے۔ دردمندی اور تفکر کا احساس ہر زمانے میں ہر آدمی کو ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ برتری کا جذبہ جب اذہان سے پھوٹ کر زبانوں پر آتا ہے تو ذرے بھی خود کو سورج کے پیکر میں ڈھال لیتے ہیں۔ انسان تو ان ذرّوں سے بالاتر ہے۔ منورؔ احمد کنڈے ایک شاعر کا نام ہے ، اورشاعر عام انسان سے بالاتر ہوتاہے۔ یہ حسن و عظمت خالقِ کائنات کی طرف سے بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے۔

    نمونہ تحریر:
    ۔۔۔۔۔
    (نظم)
    ۔۔۔۔۔
    بُلبلے
    ۔۔۔۔۔
    تھا کنارہ وہ کسی تالاب کا
    محو تھا میں سوچ میں ڈوبا ہوا
    آ رہا تھا صاف پانی میں نظر
    بادلوں نے آسماں گھیرا ہوا
    پھر گھٹا سے اِک چمک پیدا ہوئی
    اور منور ہو گئی ساری زمیں
    ابر سے آئی گرج کی اِک صدا
    اور بارش کا سماں پیدا ہوا
    سطحِ پانی پر ابھرتے جا بجا
    بلبلے لگتے تھے کتنے خوشنما
    ایک لمحہ رُک کے مِٹ جاتے تھے وہ
    اِک پتے کی بات کہہ جاتے تھے وہ
    زندگی کی ہے حقیقت اس قدر
    کیوں نہیں آتا بشر کو یہ نظر
    موت کیا ہے اور کیا ہے زندگی
    ہم سے پاؤ اے منورؔ آگہی
    ہے ہماری اور تمھاری بات ایک
    اور قضا کے سامنے اوقات ایک
    بلبلے نے اک سبق سکھلا دیا
    رہ گیا میں سوچ میں ڈوبا ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آسماں سے زمین پر اُترا
    لفظ روحِ حسین پر اُترا
    دورِ قدما سے اِرتقا پا کر
    ذہنِ انساں مشین پر اُترا
    ہم ہیں شاہد کہ دورِ حاضِر میں
    رنگِ حِرفت ہے چین پر اُترا
    مارِ قاتِل ہے جس کا شیدائی
    وہ سپیرے کی بین پر اُترا
    ہم تو محکوم لاالہ کے رہے
    اُن کا ایماں ہے تین پر اُترا
    ایک سجدہ دعا کا مسکن تھا
    مہ جبیں کی جبین پر اُترا
    جس نے پائی قلم کی سُلطانی
    وہ ہی دل کے یقین پر اُترا
    راز ہر صدق کا منورؔ جی
    ہے محمدؐ کے دین پر اُترا

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1) پنجابی شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ ’باغاں دے وچکار‘ ۲۰۰۳ء
    ۔ (2) اردو شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ 2005ء ’بیداردل‘
    ۔ (3)طاقِ دل
    ۔ (اردو شاعری کا مجموعۂ دوم)
    ۔ (4)پنجابی شاعری کا مجموعۂ دوم
    ۔ ’پینگ ہُلارے‘
    ۔ (5)ابرِ قبلہ (مذہبی منظومات
    ۔ 2010ء)
    ۔ (6)حرفِ منورؔ منظومات
    ۔ 400 صفحات 2010ء
    ۔ (7)لختِ دل
    ۔ اردو وپنجابی کلام
    ۔ 2011ء
    ۔ (8)بحرِ خاموش
    ۔ اردو کلام غزلیات ومنظومات
    ۔ 2012ء
    ۔ (9)اوراقِ شفاء ہومیوپیتھی
    ۔ 2012ء
    ۔ (10)رودِ وفا
    ۔ شعری مجموعہ (اردو)
    ۔ 2012ء
    ۔ (11)برگِ شفاء
    ۔ ہربل ہومیوپیتھی 2012ء
    ۔ انگریزی زبان میںہربلزم
    ۔ او رہومیوپیتھی پرعلی الترتیب
    ۔ چار اور پانچ جلدوں پر
    ۔ مشتمل کار سپانڈس کورس)
    ۔ (12)بامِ دل
    ۔ (اردو شاعری)
    ۔ (13) دُرِ منور
    ۔ (مذہبی مثنوی منظومات)
    ۔ (14)شبیہِ دل
    ۔ (زیرِ ترتیب)

    ایوارڈ:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیلو آف دی چارٹرڈ سوسائٹی آف ہومیوپیتھی اینڈ نیچرل تھیراپیوٹکس لندن۔۔۔
    ۔ (2)پولنگ پرنسپیلیٹی سے متعدد اعزازات (نوبل بردہڈ ممبر شپ۔۔۔ نائٹ ہڈ۔
    ۔ (3)ڈاکٹر آنریز کوسا۔۔۔۔ اور مزید نوبیلیٹی ٹائٹلز

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ  فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین مرحوم مشتاق انور اور امینہ خاتون کے ہاں کولکاتا میں 19 دسمبر 1999 پیدا ہوئیں، انہوں نے
    ایم-اے (اردو، بی-ایڈ اور ڈی-ایل-ایڈ تک تعلیم حاصل کی اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں انہوں نے 2017 میں باقاعدی شاعری کا آغاز کیا-

    ان کے پسندیدہ شاعر میر تقی میر، مرزا غالب، احمد فراز، فیض احمد فیض، پروین شاکراور احمد کمال حشمی، خورشید طلب ہیں ان کا مشغلہ شعری و نثری کتب کا مطالعہ کرنا، سیر و تفریح کرنا، کلاسیکی شعرا کی غزلیں اور پرانے گانے سننا ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پانے کا ذکر کیا کہ گنوانا بہت ہوا
    دل اس کی بے رخی کا نشانہ بہت ہوا
    خوابوں کی گٹھری لاد کے کب تک جئیں گے ہم
    پلکوں پہ ان کا بار اٹھانا بہت ہوا
    ہوتا ہے درد، جب کبھی آ جائے اس کا ذکر
    گو زخمِ دل ہمارا پرانا بہت ہوا
    مجھ کو نہیں قبول تمہارا کوئی جواز
    اب روز روز کا یہ بہانہ بہت ہوا
    اوروں کے درد و غم کا پتا چل گیا ہے نا
    اب تو ہنسو کہ رونا رلانا بہت ہوا
    تعبیر چاہیے مجھے، تدبیر کیجئے
    آنکھوں کو خواب واب دکھانا بہت ہوا
    فرزاؔنہ کوئی بات غزل میں نئی کہو
    ذکرِ وصال و ہجر پرانا بہت ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی
    گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی
    میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری
    میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی
    پگھل نہ جاؤں ترے جذبوں کی تپش سے میں
    نگاہیں اپنی مرے چہرے سے ہٹا تو سہی
    لحاظ پچھلے تعلق کا اس نے کچھ تو کیا
    مری صدا پہ وہ پل بھر کو ہی رکا تو سہی
    میں اپنے شعروں کے پیکر میں ان کو ڈھالوں گی
    تو اپنا حالِ غمِ دل کبھی سنا تو سہی
    طلب نہیں نئے قول و قرار کی مجھ کو
    کیا تھا مجھ سے جو وعدہ کبھی، نبھا تو سہی
    میں کیسے کہہ دوں کہ الفت میں کچھ نہیں پایا
    ملا نہ وہ، نہ سہی، اس کا غم ملا تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کوئی بھی یہاں ہوش سے بیگانہ نہیں ہے
    اس دور میں دیوانہ بھی دیوانہ نہیں ہے”
    تم یاد تو آتے ہو مگر آتے نہیں ہو
    یہ طور کسی طرح شریفانہ نہیں ہے
    ہے دور تلک پھیلا ہوا شورِ خموشی
    اس دل سے بڑا کوئی بھی ویرانہ نہیں ہے
    گہرائی کا اندازہ نہیں سطح سے ممکن
    جذبات کو جو ناپے وہ پیمانہ نہیں ہے
    اے شمع دوانے ترے ہیں کتنے پتنگے
    ہو جائے جو قربان وہ پروانہ نہیں ہے
    اندازِ سخاوت مرا شاہانہ ہے لیکن
    اندازِ طلب اُس کا فقیرانہ نہیں ہے
    دریافت کیا میں نے کہ ہے کیوں یہ اداسی
    لوگوں نے کہا بزم میں فرزاؔنہ نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
    اذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دھواں بھی ہر سو
    اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
    سارے زخموں کو ہرے کرتا ہے اک تیرا خیال
    یاد تیری مرے زخموں کی نگہبان ہے کیا
    زخم اب کوئی نیا دیتا نہیں ہے مجھ کو
    بے وفا اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہے کیا
    آشنائی کی جھلک اس کی نگاہوں میں نہیں
    آنے والے کسی خطرے کا یہ امکان ہے کیا
    ایک اک پل یہ جدائی کا ہے صدیوں پہ محیط
    اور اس طرح سے جینا کوئی آسان ہے کیا
    درد اتنا ترے لہجے میں کہاں سے آیا
    تیرے کمرے میں کہیں میر کا دیوان ہے کیا
    آندھی سی اٹھتی ہے فرزاؔنہ کے دل میں ہر پل
    اس کے سینے میں بھی برپا کوئی طوفان ہے کیا

  • رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    آخری شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے مجاہد آزادی اورانقلابی 11 جون 1897ء کو اتر پردیش کےگاؤں شاہ جہان پور میں پیدا ہوئے رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد آزادی تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔

    وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔

    بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نا معلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن 1916ء میں 19 سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور 30 سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔

    11 سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں 11 کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔

    بنكم چندر چٹوپادھیائے نوشتہ وندے ماترم کے بعد رام پرساد بسمل کی تخلیق سرفروشی کی تمنا نے کارکنانِ تحریکِ آزادی میں بہت مقبولیت پائی۔

    بسمل ان کا تخلص تھا بسمل کے علاوہ رام اور نامعلوم کے نام سے مضمون وغیرہ لکھتے تھےرام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی۔

    كاكوری سانحہ کا مقدمہ لکھنؤ میں چل رہا تھا۔ پنڈت جگت نارائن ملا سرکاری وکیل کے ساتھ اردو کے شاعر بھی تھے۔ انہوں نے ملزمان کے لئے ” ملازم ” لفظ بول دیا۔ پھر کیا تھا، پنڈت رام پرساد بسمل نے جھٹ سے ان پر یہ چٹیلی پھبتی کسی:

    ملازم ہم کو مت کہئے، بڑا افسوس ہوتا ہے
    عدالت کے ادب سے ہم یہاں تشریف لائے ہیں
    پلٹ دیتے ہیں ہم موج حوادث اپنی جرات سے
    کہ ہم نے آندھیوں میں بھی چراغ اکثر جلائے ہیں

    جب بسمل کو شاہی كونسل سے اپیل مسترد ہو جانے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنی ایک غزل لکھ کر گورکھپور جیل سے باہر بھجوائی

    مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا !
    دل کی بربادی کے بعد انکا پیام آیا تو کیا !

    مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال ،
    اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا !

    اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں ،
    پھر میری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا !

    کاش! اپنی زندگی میں ہم وہ منظر دیکھتے ،
    یوں سرے تربت کوئی محشرخرام آیا تو کیا !

    آخری شب دید کے قابل تھی ‘بسمل’ کی تڑپ ،
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا !

  • بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول  نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرحین چوہدری صاحبہ ایک دبنگ قسم کی ممتاز پاکستانی ادیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس ، اسکرپٹ رائٹر ، سفر نامہ نگار اور شاعرہ ہیں جن کی شہرت بیرون ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ 19 دسمبر 1960 کو ، کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں جہاں ان کےوالد انور مبشر صاحب ایک بینک آفیسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔ ان کی مادری زبان ہندکو ہے مگر وہ اردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی زبانیں روانی سے بولتی ہیں-

    فرحین چوہدری کا اصل نام شہابہ انور ہے شادی کے بعد شہابہ گیلانی بنیں لیکن پی ٹی وی کراچی سینٹر کے ڈائریکٹر قاسم جلالی نے ان کا نام شہابہ انور سے تبدیل کر کے فرحین چوہدری رکھ دیا حالانکہ فرحین چوہدری بننے سے قبل ان کا بہت بڑا مواد شہابہ انور اور شہابہ گیلانی کے نام سے چھپ چکا ہے۔ فرحین چوہدری نے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم اے کر رکھا ہے۔

    انہوں نے دوران تعلیم 7 سال کی عمر سے ہی اپنے ادبی سفر کا آغاز کر دیا۔ وہ بچپن سے اب تک ادب تخلیق کر رہی ہیں ۔افسانہ ، شاعری ، خاکے ، کالم نگاری اور سکرپٹ میں انہوں نے سخت محنت کی بدولت قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ لٹریری آرٹ اور کلچرل سنںڈیکیٹ کی بانی چئرپرسن کے طور پر بھی گزشتہ 12 سال سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں پیش پیش رہیں ۔

    وہ ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب جیسی دیوقامت ادبی اور روحانی شخصیات کے بہت قریب رہی ہیں اور ان کی تنظیم” رابطہ” کی پہلی کم عمر ترین رکن اور بعد میں خاتون سیکریٹی رہیں۔ وہ” حلقہ ارباب ذوق” کی دوسری خاتون سیکریٹری بھی منتخب ہوئیں۔ فرحین چوہدری نے سارک ممالک میں کئی سال تک ادبی و ثقافتی طائفوں کی سربراہی کرنے صوفی کانفرنسز کے سیشن کی صدارت کرنے کا بھی اعزاز حاصل کیا ہے 2013 میں سنگارپور میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں پہلی خاتون پاکستانی لکھاری کی حیثیت سے شرکت کی اور ” جنوبی ایشیا میں خواتین لکھاری اور ان کے موضوعات” کے عنوان سے انگریزی میں مقالہ پڑھا ۔

    لوک ورثہ میں پروگرام ایگزیکٹو ، مین ہیٹن انٹرنیشنل میں ڈائرکٹر پروڈکشن، ایورنیو کانسیپٹ میں ڈائرکٹر پروڈکشن اور ہنجاب اور سٹار ایشیا ٹی وی چینل کی سٹیشن ہیڈ اسلام آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ۔ پی ٹی وی کے لئے کئی مشہور سیریل سیریز اور ٹیلی فلمز لکھیں ۔ جن میں دام رسائی ، ماٹی کی گڑیا ، اشتہار لگانا منع ہے ، چاند میرا بھی تو ہے ، خوشبو ، خواب جو د یکھے آنکھوں نے وغیرہ شامل ہیں ۔

    "پانی پہ نام” سیریل لکس سٹائل انٹرنیشنل ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوا تھا۔ آئی ایس پی آر اور آئی او ایم کے لئے ڈاکومنٹریز کے علاوہ بھی کئی ڈاکومنٹریز اور ٹی وی پروگرامز بطور ڈائرکٹر بنائے ۔ چار افسانوی مجموعے ، سچے جھوٹ آدھا سچ میٹھا سچ ، شوگر کوٹڈ شعری مجموعہ، سورج پہ دستک اور یاداشتوں کی کتاب ، "مفتی جی اور میں ” چھپ چکی ہیں ۔

    2013 میں سارک لٹریری اور کلچرل ایوارڈ 2019 ممتاز مفتی گولڈ میڈل برائے ادب 2022 گولڈ میڈل منجانب امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ 23 ایوارڈ مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں دیے گئے ان کی 4 نئی تصانیف جلد منظر عام پر آنے والی ہیں۔ فرحین صاحبہ گزشتہ طویل عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہیں ان کے دو بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ ہیں۔ ان کے بڑے فرزند مسقط اومان میں مقیم ہیں جبکہ ان کے چھوٹے فرزند ان کے ساتھ اسلام آباد پاکستان میں مقیم ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نمونہ کلام

    ہم سادہ دل تھے لوگ سکھی
    ہمیں دھوکہ دے گئے لوگ سکھی

    ہم ہنس کر بازی ہار گئے
    کیوں جیت بناتے روگ سکھی

    جو راہ ہمارا حصہ تھی
    اس راہ میں پڑگئے لوگ سکھی

    یہ جیون کھیل تماشا ہے
    ہمیں لینے پڑ گئے جوگ سکھی

    خود اپنے آپ کو مار دیا
    پھر ہم نے منایا سوگ سکھی

    اب کیا پرواہ کس حال میں ہیں
    اب کیا کہتے ہیں لوگ سکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا یے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے

    مجھ میں پھیلے ہوئے صحرائوں کی وسعت ہے عجب
    ایک درویش کی مٹھی میں سما جاتے ہیں

    وہاں کاغذوں کے گھر تھے
    جہاں آگ جل رہی تھی

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی

  • امیر بننا ہے تو؟ — ریاض علی خٹک

    امیر بننا ہے تو؟ — ریاض علی خٹک

    اگر آپ نے امیر بننا ہے تو لاس اینجلس امریکہ کا ڈان پینیا آپ سے بیس ہزار ڈالر لیتا ہے. پھر اگلے ایک گھنٹہ وہ آپ کو خوب ذلیل کرے گا. وہ آپ کو امیر لوگوں کے نام لے لے کر بتائے گا شرم کرو اگر یہ امیر بن سکتے ہیں تو تم کیوں نہیں.؟ وہ آپ کی غیرت جگائے گا.

    پاکستان کا کوئی ڈبل شاہ آپ کو امیر بننے سے پہلے ہی یقین دلا دے گا کہ آپ تو بہت امیر ہیں. آپ اتنے امیر ہیں کہ آپ کو کسی قسم کے کام کی ضرورت ہی نہیں. آپ پیسے مجھے دیں امیر لوگوں کی طرح گھر بیٹھ جائیں. ہم نوکر ہیں نہ آپ کو امیر سے امیر ترین بنانے کیلئے. آپ بس ہر مہینے کا منافع گنتی کریں.

    ڈان پینیا نے کسی کو امیر بنایا یا نہیں یہ تو میں نہیں جانتا لیکن ڈان ہو یا پاکستان کا ڈبل شاہ یہ سب خود امیر ضرور بن گئے ہیں. آپ کو امیر بنانے کے موٹیویشنل سپیکرز بہت مل جائیں گے. آپ فری میں یوٹیوب پر فری کی ویڈیوز دیکھ کر امیر بن جائیں. یا آپ کو زیادہ جلدی ہے تو آپ امیر بننے کیلئے نقد انویسٹمنٹ کرلیں. یہاں ہر طرف آپ کو ایک ڈان پینیا یا کوئی ڈبل شاہ مل جائے گا.

    لیکن ہم کوئی موٹیویشنل سپیکر نہیں ہیں. ہم امیر بننے کے طریقے بھی نہیں جانتے البتہ بطور ایک انسان صرف انسانیت سکھانے کی کوشش کرتے ہیں. تاریخ بتاتی ہے انسان جب بھی انسانیت سے دور ہوا معاشرہ وہ جنگل بن جاتا ہے جہاں کمزوری جرم ٹھرتی ہے. یہ کمزوری نفسیاتی بھی ہوتی ہے عادات کی بھی تو علم و عمل بھی کمزور ہو سکتے ہیں.

    اپنی کمزوری کا اعتراف صرف بہادر کر سکتے ہیں. ایک طاقتور شعور ہی شعوری طاقت کا قدردان ہوتا ہے. یہ ایک دوسرے سے سیکھنے اور سکھانے کا رشتہ ہے. کوئی کسی بند دروازے کے سامنے یہ سوچ کر کھڑا نہ ہوجائے جیسے یہی زندگی کا اکلوتا دروازہ ہو. تب یہ انسانیت کا رشتہ ہی ہے جو اپنے اپنے دروازے کھول کر بتاتے ہیں نہیں زندگی کے بہت سے دروازے ہیں. مایوسی تمہیں ادھر ادھر بس دیکھنے نہیں دے رہی.

  • کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی — ریاض علی خٹک

    کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی — ریاض علی خٹک

    کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی. جیسے اکثر موٹیویشنل سپیکرز ہاتھی کے اس بچے کی کہانی سناتے ہیں جس کے پاوں میں ایک پتلی زنجیر ڈال دی جاتی ہے. وہ اس زنجیر کو توڑ نہیں پاتا. وقت کے ساتھ ہاتھی تو بھاری بھرکم جسامت کے ساتھ بڑا ہو جاتا ہے لیکن زنجیر وہی رہتی ہے. اب ہاتھی اسے توڑنے کی کوشش ہی نہیں کرتا. سپیکرز بتاتے ہیں کہ وہ مان چکا ہوتا ہے کہ وہ یہ زنجیر نہیں توڑ سکتا تو کیا آپ بھی اپنی زنجیروں پر یہ تسلیم کر چکے.؟

    ہاتھی کی کہانی یہاں ختم ہو جاتی ہے. لیکن کیا ہاتھی کیلئے یہ کہانی ختم ہوئی.؟ انسانوں کے علاوہ ہاتھی ہی ہیں جو ماضی کی تکلیف دہ یادوں سے نکل نہیں پاتے. اس نفسیاتی بیماری کو PTSD کہتے ہیں. ہم انسان بھی اسکا شکار ہوتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ہاتھی چڑیا گھر میں کم از کم اس بیماری سے چھٹکارا نہیں پا سکتا. اسے واپس جنگل جانا ہوگا جہاں وہ اپنے کل کا فیصلہ خود کر سکے.

    ہمارے بہت خوبصورت رشتے ہوتے ہیں. ماں باپ بھائی بہن دوست عزیز و رشتہ دار لیکن کوئی آپ سے آپ کا درد نہیں لے سکتا. آپ کی تکلیف کا بھلے ان کو جتنا بھی احساس ہو وہ یہ تکلیف محسوس تو کر سکتے ہیں لیکن وہ یہ آپ سے لے نہیں سکتے. آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اپنے سر درد سے تھک گیا ہوں کچھ دیر اسے اپنے سر پر لے لو.

    ہمیں واپس اپنے پاس جانا ہوتا ہے. ہمیں اپنے کل کے پاس جانا ہوتا ہے. کل کیلئے ہمارے پاس کوئی خواب ہوں کوئی منزل ہو تب آنے والا کل ہمیں گزرے کل سے کھینچ لیتا ہے. لیکن اگر ہمارے پاس کوئی خواب اور مقصد یا منزل نہ رہے تب ہم گزرے کل میں زندگی کے چڑیاگھر کا ایک کردار بن جاتے ہیں. ہماری کہانی پر وقت گزر رہا ہوتا ہے لیکن کہانی آگے نہیں بڑتی.

  • رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    کچھ کھیل بہت مہنگے ہوتے ہیں. جیسے گرم ہوا کے غباروں کی ریس ہو یا بادبانی کشتی کی دوڑ. بے شک ہیں تو یہ کھیل ہی لیکن ان کو کھیلنے کیلئے آپ کو پہلے لاکھوں روپے خرچ کر کے غبارہ یا کشتی خریدنی ہوگی. کچھ کھیل بہت سستے ہیں جیسے کُشتی یعنی ریسلنگ ہو یا رسہ کشی. ایک میں کوئی مخالف چاہئے تو دوسرے میں مخالف کے ساتھ ایک رسی بھی درکار ہوگی.

    اکثریت مہنگا کھیل ایفورڈ نہیں کر سکتی تو سستے کھیل عام ہیں. رسہ کشی عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے بھی مصر کی تہذیب میں کھیلی جاتی تھی. ان کی دیواروں پر اس کے نقش آج بھی موجود ہیں. کشتی کی تاریخ اس سے بھی پرانی ہوگی. یہ اتنے عام کھیل ہیں کہ ہمارے دماغ کو بھی کوئی مخالف نہ ملے تو یہ ہم سے ہی کھیلنا شروع کردیتا ہے.

    تب دماغ میں ایک رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے. عقل شعور اور وقت کے تقاضے آپ کو اپنی طرف بلا رہے ہوتے ہیں جبکہ دماغ کہتا ہے پہلے مجھ سے جیت کر دکھاو اور دماغ میں ایک میدان سج جاتا ہے. ہم خود سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں. اچھا ہر کھیل میں فریقین کی الگ پہچان بھی ہوتی ہے. اس رسہ کشی میں بھی ایک طرف دلیل ہوتی ہے تو دوسری طرف خوف اندیشے وہم ہوتے ہیں.

    ہر کھیل کی ایک تکنیک اور داو پیچ بھی ہوتے ہیں . جیسے دماغ اس خوف سے ڈراتا ہے جو ابھی آپ نے دیکھا ہی نہیں ہوتا. آپ کے ان اندیشوں ڈر و خوف پر آپ کو کوئی دلیل بھی مطمئن نہیں کر پاتی. کیونکہ مستقبل پر ہم کبھی ختمی دلیل یا پیشن گوئی کر نہیں پاتے. لیکن آپ ایک کام کر سکتے ہیں. آپ رسی چھوڑ سکتے ہیں.

    رسہ کشی جب خوب گرم ہو اور کوئی ایک فریق رسی چھوڑ دے تو دوسرا اپنے ہی زور میں پیچھے گر جاتا ہے. چھوڑنے والے بھی آپ ہوں گے گرنے والے بھی آپ ہی لیکن انسانی نفسیات بہت پیچیدہ ہے. جیسے گرم پانی کا غسل آپ کو وہی کیفیت دیتا ہے جیسے کسی محبت والے رشتے سے بغل گیر ہوگئے ہوں. انگریزی میں اسے کہتے ہیں let it go.. یعنی ہو جانے دو. آپ بھی رسی چھوڑ دیا کریں. بولو نہیں کھیلنا. یہ کوئی لاکھوں ڈالر کا گرم غبارہ یا سپیڈ بوٹ نہیں جو آپ ہارنے کی فکر کریں.

    کچھ رشتوں کچھ تعلقات اور کچھ خواہشات میں بھی اپنے ہاتھ لہولہان کرانے سے بہتر یہ رسہ چھوڑ دینا ہوتا ہے.

  • جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    پیدائش:16 دسمبر 1775ء
    وفات:18 جولا‎ئی 1817ء
    ونچیسٹر
    مدفن:ونچیسٹر کیتھیڈرل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:مملکت برطانیہ عظمی
    مادری زبان:انگریزی
    کارہائے نمایاں:تکبر اور تعصب، شعور و احساس

    جین آسٹن(16دسمبر 1775ء – 18جولائی 1817ء) انگریزی کے عظیم ناول نگاروں میں سے ایک، موجودہ دور کے بعض نقادوں کے نزدیک اس کے ناول ”پرائڈ اینڈ پریجوڈس“ کا شمار دنیا کے دس عظیم ناولوں میں کیا جا سکتا ہے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جین ایک پادری کی لڑکی تھی۔ اپنی زندگی کے ابتدائی 25 سال اس نے ہیمپ شائر میں اپنے باپ کے ساتھ گرجا میں گزارے۔ یہیں اس نے اپنے تین مشہور ناول تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)، شعور و احساس (Sense and Sensibility) اور نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey) لکھے جو بہت بعد میں شائع ہوئے۔ باپ کے انتقال کے بعد پورا خاندان ہمپ شائر میں چاٹن کاٹیج منتقل ہو گیا۔ آخر عمر تک جین یہیں رہی۔ ایک پادری کی لڑکی کے قلم سے ایسی ناول نگاری اس دور کے سماج کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ اس لیے یہ ناول لکھنے کے کافی عرصہ بعد چھپے اور وہ بھی فرضی نام سے البتہ قریبی دوست احباب کو اس کا علم تھا۔ اس کا ناول نارتھینجر ایبے مسز ریڈ کلف کے اسکول کے رومانوں پر ایک نہایت پر لطف اور طنزیہ ناول ہے جس کا مسودہ 1803ء میں صرف دس پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا۔ جین نے ان ناولوں پر خاص طور سے ان کی زبان پر کافی محنت کی تھی لیکن اس کی زندگی میں اسے کوئی شہرت نہ ملی۔ اس کے سارے ناول صوبائی سماج میں رہنے والے شرفا کے اطراف گھومتے ہیں۔ اکثر قصوں میں شادی کے قابل لڑکیوں کے لیے شوہر کی تلاش اصل موضوع ہے۔ جین اپنی اعلیٰ نثر کے لیے مشہور ہے۔ وہ اپنے ناولوں میں کرداروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح بڑی چابک دستی کے ساتھ گھماتی ہے۔ اخلاقی قدریں بڑی گہری ہیں۔ پلاٹ میں ہلکا طنز ومزاح ہے۔ وہ بیوقوف، بر خود غلط سیدھے سادے لوگوں کا خوب مذاق اڑاتی ہے۔ اس کا شمار انگریزی زبان کے بڑے ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کی تصنیفات الگ الگ مجموعے کی شکل میں بھی چھپتی رہتی ہیں۔ اس کی سوانح حیات بھی شائع ہوئی ہے۔
    ایک نیلامی میں جین آسٹن کی ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات 993250 پاؤنڈ میں فروخت ہوئی ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)
    شعور و احساس (Sense and Sensibility)
    مینزفیلڈ پارک (Mansfield Park)
    ایما (Emma)
    نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey)
    ترغیب (Persuasion)

  • کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    ویرانے میں بنے کسی گھر میں کچھ دیر قیام کرنے والے مسافروں کے تاثرات الگ الگ ہوں گے. ایک چور سوچے گا یہ جگہ چوری کے بعد کچھ دن چھپنے کیلئے بہترین ہے. ایک شاعر سوچے گا کچھ عرصہ بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت میں رہنے اور اسکے حسن کو بیان کرنے کیلئے کتنی بہترین جگہ ہے. ایک طالب علم اسے الگ نظر سے سوچے گا تو کوئی شکی مزاج اُس پہلے آدمی پر شک کرے گا کہ آخر اس ویرانے میں یہ چھت اس نے بنائی کیوں..؟

    ہم ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے ہم ہوتے ہیں، ویسے ہی سوچتے ہیں جیسی ہماری شخصیت ہوتی ہے. وہی نتائج نکالتے ہیں جو ہمارے پسندیدہ ہوتے ہیں. ایک منفی شخصیت کو اپنے آس پاس سب کچھ غلط نظر آرہا ہوتا ہے. وہ دن رات آس پاس وہ برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے جنکا وہ خود شکار ہوتا ہے. وہ مسائل بیان کر رہا ہوتا ہے جن کا وہ خود شکار ہوتا ہے. پھر پریشان بھی ہوتا ہے اور پریشان بھی کرتا ہے.

    اسے ہر وقت کا ایک شکوہ ہوتا ہے ” لوگ نہیں بدل رہے” . وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف ایک ذات ہے جسے وہ بدل سکتا ہے. وہ یہ "خود” ہے. باقی لوگوں کو بدلنے کی طاقت اس کے پاس نہیں صرف اچھائی یا برائی کی طرف دعوت ہی وہ دے سکتا ہے. جو طاقتور لوگ ہوتے ہیں وہ خود کو بدلتے ہیں. جو کمزور شخصیت ہوتی ہے وہ دوسروں میں پھر اپنی کمزوری کے جواز ڈھونڈتی ہے. یہی ان کی کمزوری کا پردہ ہوتا ہے.

  • معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    جون ایلیا 14 دسمبر، 1931ء کو امروہہ، اترپردیش کے ایک ‏نامورخاندان میں پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن ‏اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پرکی انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ جون اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طرازہیں۔‏

    ‏میری عمرکا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اورماجرہ پرور سال تھا اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے پہلاحادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جبکہ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا‏

    چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
    دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

    ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔

    حضرت علی کی ذات مبارک سےانہیں خصوصی عقیدت تھی اورانہیں اپنی سیادت پربھی نازتھاسعید کہتے ہیں،جون کوزبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔

    جون ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

    جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
    اب کئی ہجر گزر چکے اب کئی سال ہوگئے

    جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اسوقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی اس قدر تاخیر سے اشاعت کی وجہ وہ اس شرمندگی کو قرار دیتے ہیں جو ان کو اپنے والد کی تصنافات کو نہ شائع کراسکنے کے سبب تھی۔

    میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
    اس کا بے حد لحاظ کیجیے گا

    ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

    جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اورفوضوی تھےان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

    ایک سایہ میرا مسیحا تھا
    کون جانے، وہ کون تھا کیا تھا

    جون ایلیا تراجم، تدوین اور اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے لیکن ان کے تراجم اورنثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں ہیں۔ انہوں اسماعیلی طریقہ کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ کی حیثیت سے دسویں صدی کے شہرۂ آفاق رسائل اخوان الصفا کا اردو میں ترجمہ کیا لیکن افسوس کے وہ شائع نہ ہوسکے۔

    بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

    فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔

    میں اپنے شہر کا سب سے گرامی نام لڑکا تھا
    میں بے ہنگام لڑکا تھا ‘ میں صد ہنگام لڑکا تھا
    مرے دم سے غضب ہنگامہ رہتا تھا محلوں میں
    میں حشر آغاز لڑکا تھا ‘ میں حشر انجام لڑکا تھا
    مرمٹا ہوں خیال پر اپنے
    وجد آتا ہے حال پر اپنے

    جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کرلی۔ زاہدہ حنااپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور مختلف اخبارات میں ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کردی۔

    کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا
    وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آجاؤ
    جون ہی تو ہے جون کے درپے
    میرکو میر ہی سے خطرہ ہے

    کمال ِ فن کی معراج پرپہنچے جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔

    کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
    کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

    اب تم کبھی نہ آئوگے یعنی کبھی کبھی
    رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
    جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

    ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
    اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے