Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے

    تنویر سپرا

    13 دسمبر. 1993 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تنویر سپرا کا اصل نام محمد حیات تھا۔ وہ 1929ء میں جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ غربت اور تنگ دستی کے باعث تعلیم جاری نہ رکھہ سکے اور لڑکپن ہی میں مزدوری کے لیے کراچی چلے گئے ۔۔ وہاں بحری جہازوں میں رنگ و روغن کا کام کیا ، کچھہ عرصہ درزیوں کا کام کرتے رہے ۔ جہلم واپس آ کر دکانداری کی ، لاہور میں کچھہ عرصہ صحافت سے بھی وابستہ رہے ۔۔ محنت مزدوری کرتے ہوئے لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوئے ۔ 1959 میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی جہلم میں کام کرتے رہے ۔۔ محنت مشقت کے ساتھہ غیر رسمی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ۔ اور ذاتی مطالعے اور لگن کی بدولت ادیب عالم اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے ۔
    شاعری کا آغاز 1963،64 میں کیا ۔ اور 1969 میں فنون میں چھپنے کے بعد ادبی حلقوں میں متعارف ہوئے ۔ ان کا مجموعہ کلام ” لفظ کھردرے ” 1980 میں منظر عام پر آیا ۔ 1988 میں انھیں وزیراعظم بینظیر بھٹو کی طرف سے نیشنل بک کونسل آف پاکستان کا عوامی ادبی جمہوری انعام ملا ۔

    13دسمبر 1993ء کواسلام آباد میں وفات پائی اور جہلم میں مدفون ہیں۔

    تنویر سپرا کے کچھ شعر

    دیہات کے وجود کو قصبہ نکل گیا
    قصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی

    اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
    دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

    تنویرؔ پڑھو اسم کوئی رد بلا کا
    گھیرے میں لیے بیٹھے ہیں کچھہ سائے مرا جسم

    اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھہ چلتا ہے
    وہ بونا کس قدر میرے قد و قامت سے جلتا ہے

    میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن کھلونوں کو
    انہی کے واسطے اب میرا بیٹا بھی مچلتا ہے

    دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوں
    رات کو اپنی غیر مکمل غزلیں پوری کرتا ہوں

    آج بھی سپرا اسکی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے
    میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

    شیشے دلوں کے گردِ تعصب سے اَٹ گئے
    روشن دماغ لوگ بھی فرقوں میں بٹ گئے

    اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا
    الفاظ روکتے ہی مرے ہونٹ پھٹ گئے

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جونہی مرا مکان گرا ، اَبر چَھٹ گئے

    دھرتی پہ اُگ رہی ہیں فلک بوس چمنیاں
    جن سے فضائیں عطر تھیں وہ پیڑ کٹ گئے

    سپرا پڑوس میں نئی تعمیر کیا ہوئی
    میرے بدن کے رابطے سورج سے کٹ گئے

  • یوم پیدائش، میگھنا گلزار

    یوم پیدائش، میگھنا گلزار

    میگھنا گلزار
    13 دسمبر 1973 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان کی معروف لکھاری، مصنفہ ، اسکرپٹ رائٹر اور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر میگھنا گلزار 13 دسمبر 1973 میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ہندوستان کے ممتاز شاعر گلزار اور فلمی اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سوشیالوجی میں ماسٹر کیا جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکہ سے پروڈیوسر کا کورس کیا۔ میگھنا نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی رہنمائی میں 1999 سے کیا جبکہ 2002 سے انہوں نے The Times of India اور NDFC Publication Cinema میں لکھنے کی شروعات کی۔ میگھنا نے 2000 میں ونود سندھو سے شادی کی جس سے ان کو ایک بیٹا سمے سندھو پیدا ہوا ہے۔ میگھنا گلزار کو مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں 2018 میں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایتکارہ بھی شامل ہے ۔

  • نسلِ آدم کی خوب تراش خراش — ہمایوں تارڑ

    نسلِ آدم کی خوب تراش خراش — ہمایوں تارڑ

    صاف لگتا ہے ۔۔۔ نسلِ آدم کی خوب تراش خراش ہوتی رہی ہے۔

    ناٹے قد بت کے انسان، لمبے اور زور آور انسان ۔۔۔ اور پھر رنگا رنگ مزاج کے انسان: جنگجو، فتنہ جُو، صلح جُو، نرم خُو انسان. دانائی سے لبا لب بھرے ہوئے سمجھدار انسان، تخلیق کار انسان ۔۔۔

    شقاوتِ قلب والے بےلچک انسان ـــــ جن کے دل شیطانی قوت و طاقت کی مستقل آماجگاہ ہوتے ہیں۔ سورۃ الناس کی آخری آیت میں ‘مِن الجنۃِ وَالنّاس” کہہ کر ہمارے گردوپیش میں ایسے ہی افراد کی موجودگی کو highlight کیا گیا ہے۔ اِنہیں شیاطین کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ گویا خود اِن کو شیطان قرار دیا گیا ہے، اور اِن سے اللہ کی پناہ طلب کرنا سکھایا گیا ہے۔

    فطرت کا اپنا ایک بیوٹی پارلر ہے، ابتدا سے ہی سرگرمِ عمل ہے۔

    اللہ اس فطرت کا خالق ہے، اور تخلیق کار ہمیشہ نئے تجربے کرتا رہتا ہے۔اپنی تخلیق میں نئے نئے رنگ بھرتا رہتا ہے۔

    اللہ نے بھی بےشمار تجربے کیے ہیں۔ عقل کے سافٹ ویئر کو بھی لاکھوں رنگ رُوپ بخشے ہیں، یعنی ایک تو جبلّت ہے: بھوک، پیاس، جنسی لذّت، حسد، عزّت و جاہ کی طلب وغیرہ۔ ساتھ میں یہ تِھنکنگ مشین الگ سے وجود رکھتی ہے۔ یہ برین پاور ایک الگ فینامینن ہے۔ جیسے عقاب کی عقلمندی، بعض مچھلیوں کا عجیب و غریب ذہنی رویہ، بعض جانوروں میں حیرت انگیز دور اندیشی! اور پھر حضرتِ انسان کی عقلمندی اور اِس کے پینترے تو خیر اخیر شے ہے ۔۔۔

    اللہ کہتا ہے ‘تمہیں از سرِ نو بنا لینا، اٹھا کھڑا کرنا زیادہ مشکل کام ہے یا اِن ستاروں اور سیاروں پر مشتمل کہکشاؤں کے پیچیدہ نظام کو؟’

    یعنی ایک انسان کو حیاتِ نو بخشنا میرے لیے معمولی کام ہے!

    خیر، اب تو Terminator جیسی فلموں میں دکھائی جا رہی سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی بھی اشارے دے رہی ہے کہ کیسے چند کیمیکلز سے بنا انسان ازسرِ نو اُسی شکل و شباہت اور قد بُت میں متشکّل ہو کر جیتے جاگتے وجود کی صورت دوبارہ و سہہ بارہ سامنے آ سکتا ہے۔

    گویا انسان کے مقابلہ میں لاکھوں گنا بڑے، لاکھوں ٹن وزنی، پیچیدہ کیمیائی مرکٗبات اور اُن کے آپسی تعامل پر مبنی ایک ستارہ بنانا زیادہ مشکل ہے۔

    اس سے بھی زیادہ مشکل ایک سو ملّین ستاروں والی ایک چھوٹی کہکشاں ۔ پھر اس سے زیادہ مشکل کام ایک ٹرلین ستاروں والی بڑی کہکشاں۔ پھر اس سے بھی زیادہ مشکل کام ایسی لاکھوں، کروڑوں کہکشاؤں کو آپس میں مربوط کرنا، انہیں برقرار رکھنا۔ ردّی کی ٹوکریاں یعنی بلیک ہولز بنا کر رفتارِ سیارگان کو متاثر کرتے اضافی فلکی اجسام کو ٹھکانے لگا دینا ۔۔۔

    ایسا کیوں نہیں کہ اللہ نے اپنی اِن تخلیقات میں سےچند ایک کے نام بتا کر، خوب جتا کر، اس پیچیدہ و حسین انتظام کی تعریف و تحسین کا حکم دیا ہو ۔۔۔؟

    تھوڑا بہت ایسے کلمات مل جاتے ہیں جن میں اللہ کی کاریگری اور حسنِ انتظام کی تحسین کے اشارے موجود ہیں۔ تاہم، اللہ کی طرف سے موصول ہوئے خطوط / پیغامات میں تاکیدی زور کسی اور بات پر ہے۔

    اِس بات پر کہ تم سب کی نظریں میرے محمدؐ پر فوکس رہیں!

    اِس شخص کو کاپی کرو، اِس کی بات مانو، اِس کے باطنی اور ظاہری manners کو اپناؤ، اِس صاحبِ عزّت و تکریم کی کوئی ایک ادا، کوئی ایک انداز اپناؤ ۔۔۔ اپنے معاملات اِس کے کہے اور کیے کی روشنی میں درست کر لو۔ اِس کے حق میں ہر روز کئی مرتبہ سلیوٹ بجا لاؤ۔ اِس پر درود و سلام بھیجو۔

    مختصر وقفہِ حیات میں اِس محمّدی discipline code پر رہ کر وقت گذار جاؤ تو ایسی مہیب، حسین، پیچیدہ کہکشائیں، یہ خصوصی انتظام پھر تمہارا منتظر ہے۔ ذرا زیادہ اچھے بندے کے لیے جنت الفردوس والی بزنس اِیلیٹ کلاس میں luxury apartments تیارپڑے ہیں۔ کیا سے کیا سُوپر سونک برّاق اور اڑتے قالین بھی ۔۔۔۔ اُن کی تمنّا کرو، انہیں اچِیو کرنے کی سعی کرو ۔۔۔! جبکہ اِس دنیا میں جو کچھ ہاتھ لگے، اُسے دوسروں پر نثار کرتے چلو۔ امن و آشتی کا خیال رکھو۔ لالچ اور حسد سے پرہیز کرو۔ مادّیت پرستی کے خول میں جکڑے جانے سے بچو۔ معاف کر دو، انتقام نہ لو ۔۔۔ یہی میرے محمّدؐ کا طرزِ حیات تھا، یہی محمّدیؐ کوڈ آف ڈسپلن ہے۔

    اِس عارضی قیام گاہ میں خواہ تم ایک ریڑھی بان ہو، کوئی سرکاری ملازم، یا امیر کبیر تاجر پیشہ۔ یہاں جس حال میں بھی ہو، اپنے دائرہ کار میں میرے محمّد کے دئیے ہوئے ضابطہِ حیات کو تھامے رکھو:

    کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

    یومِ اقبالؒ پر لکھی ایک نامکمل تحریر جسے آج مکمل کر ڈالا ۔۔۔ جَسٹ سَم رینڈم تھاٹس۔

  • ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    ڈاکٹرغلام علی_یاسر 13؍دسمبر 1976ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حبیب حیدر تھا۔ انہوں نے عمر کے ابتدائی سولہ سال گوجرانوالہ میں ہی گذارے اور وہ 1994ء میں اسلام آباد چلے گئے۔ علی یاسر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی اور پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو ادب میں ایم فل اور پھر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    علی یاسر نے 1990ء میں شاعری کا آغاز کیا اور ابتدا میں اپنے دادا امیر علی ساتھی سے اصلاح لی۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی اردو کے حوالوں سے جاری رہیں اور یوں ان کا ادبی ذوق اور مہارت بڑھتی رہی۔ انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی مضبوط پہچان اور جدا رنگ قائم کیا۔ علی یاسر نے ادب کی سرپرستی کے لیے قائم حکومتی ادارے اکادمی ادبیات میں ملازمت اختیار کی اور یوں نہ صرف ملک بھر کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہو گئے بلکہ شعر و ادب کی خدمت کا بیڑا بھی اٹھایا۔

    وہ اکادمی ادبیات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور رہے۔شاعری میں اپنی پہچان رکھنے والے علی یاسر میڈیا سے بھی وابستہ رہے اور ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام میں شریک بھی ہوتے اور میزبانی بھی کرتے رہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور علامہ اقبال یونیورسٹی ایف ایم ریڈیو پر کئی پروگرامز کے میزبان رہے۔

    انہوں نے پی ٹی وی کے لیے بہت سی دستاویزی فلمیں، اسکرپٹس اور نغمے لکھے۔ بطور مترجم انہوں نے انگریزی اور پنجابی سے اردو میں تراجم کیے جن میں ”چین کی محبت کی نظمیں“ اور ”نوبل لیکچر“ وغیرہ شامل ہیں۔ علی یاسر علامہ اقبالؔ یونیورسٹی سے جُز وقتی استاد کے طور پر بھی وابستہ تھے۔

    علی یاسر تواتر سے مشاعروں میں شریک ہوتے تھے اور مشاعروں کی نظامت بھی کرتے تھے۔ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ادبی محافل اور مشاعروں میں شرکت کے علاوہ دبئی، ابو ظہبی اور نئی دہلی میں مشاعروں میں بھی شریک ہو ئے۔ ”ارادہ“ کے نام سے علی یاسر کی غزلوں کا مجموعہ 2007ء میں منظر عام پر آیا جبکہ 2016ء میں ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ”غزل بتائے گی“ کے عنوان سے شائع ہوا۔

    علی یاسر نے 2008ء اور 2010ء میں اہلِ قلم ڈائری کو مرتب کیا۔ ”کلیاتِ منظور عارف“ اور ”اردو غزل میں تصورِ فنا و بقا“ کے عنوانات سے کتابیں زیرِ طبع ہیں۔ وہ اپنی نعتیں اور نیا مجموعہء غزل بھی مرتب کرنے میں منہمک تھے لیکن موت نے مہلت نہ دی۔

    ڈاکٹر علی یاسرؔ 17؍فروری 2020ء کو برین ہیمرج کے سبب اسلام آباد میں وفات پا گئے اور اپنے آبائی علاقے راہوالی ( گوجرانوالہ) میں مدفون ہوئے۔

    کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا
    مری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا

    جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے
    جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا

    اسیر ہوتے گئے بادل نا خواستہ لوگ
    غلام کرنا تھا اس نے غلام کر کے گیا

    جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار
    یہ معجزہ بھی مرا خوش خرام کر کے گیا

    ہے زندگی بھی وہی جو ہو دوسروں کے لئے
    وہ محترم ہوا جو احترام کر کے گیا

    یہ سرزمیں ہے جلال و جمال و عظمت کی
    ہے خوش نصیب یہاں جو قیام کر کے گیا

    ہے کون شاعر خوش فکر کون ہے فن کار
    غزل بتائے گی اس میں نام کر کے گیا

    اثر ہوا نہ ہوا بزم پر علی یاسرؔ
    کلام کرنا تھا میں نے کلام کر کے گیا

    دور کرنے کو تری زلف کا خم اتریں گے
    آسمانوں کے ستارے کوئی دم اتریں گے

    حوصلہ اور ذرا حوصلہ اے سنگ بدست
    وقت آئے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے

    ایک امید پہ تعمیر کیا ہے گھر کو
    اس کے آنگن میں کبھی تیرے قدم اتریں گے

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    اتنی آہیں نہ بھرو اشک نہ سارے بہہ جائیں
    طبع نازک پہ ابھی اور بھی غم اتریں گے

    جیسے ہم آنکھ ملا کر ترے دل میں آئے
    لوگ اس زینۂ دشوار سے کم اتریں گے

    شاد و شاداب اسی وقت رہوں گا یاسرؔ
    سر قرطاس جب اشعار کے یم اتریں گے

    ہے روشنی مرا عزم و یقیں چلا آیا
    ستارہ ہوں میں برائے زمیں چلا آیا

    میں سب سے قیمتی خلقت خدائے قدرت کی
    مرا جواز ہے یوں ہی نہیں چلا آیا

    ہے میری آہ مرے قہقہوں کی آہٹ میں
    عزائے زیست میں خندہ جبیں چلا آیا

    بساط دامن صد چاک تیری قسمت ہے
    ترے وصال کو ایسا نگیں چلا آیا

    عجب غضب ہے کہ دل ڈھونڈنے لگا خود کو
    ادھر جو آج وہی دل نشیں چلا آیا

    زمیں سے دادرسی کی امید ٹوٹ چکی
    سو نالہ جانب عرش بریں چلا آیا

    خیال تھا کہ مرے دوستوں کی محفل ہے
    سو دوستو یہ ہوا میں یہیں چلا آیا

    ہر ایک وقت ہے اس کا ہر ایک سر کومل
    غزل میں بن کے وہ اک بھیرویں چلا آیا

    یہ کہہ کے گور بھی مجھ پر کشادہ ہونے لگی
    خوش آمدید کہ میرا مکیں چلا آیا

    اب احتیاط سے مطلب نہیں علی یاسرؔ
    کہ سامنے وہ مرا نکتہ چیں چلا آیا

  • یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    یوم وفات،ظہیرکاشمیری ،ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی

    پیدائش… 21 اگست 1919ء(امرتسر، ھندوستان)
    وفات….. 12دسمبر 1994ء(لاہور ،پاکستان)

    👈حالات زندگی

    ظہیر کاشمیری 21 اگست،1919ء کو امرتسر، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام پیرزادہ غلام دستگیر تھا۔ انہوں نے میٹرک ایم اے او ہائی اسکول امرتسر سے اور پھر ایم اے او کالج امرتسر سے بی اے کیا اور خالصہ کالج امرتسر میں ایم اے (انگریزی) میں داخلہ لیا مگر اسے مکمل نہ کر سکے۔

    👈صحافت

    ظہیر کاشمیری نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبہ سے کیا۔ رسالہ سویرا کے ایڈیٹر رہے۔ کالم نگار کی حیثیت سے روزنامہ احسان، نوائے وقت اور پکار میں کالم لکھتے رہے۔ بعد ازاں روزنامہ مساوات اور روزنامہ حالات سے بھی وابستہ رہے۔

    👈ترقی پسند تحریک سے وابستگی

    ظہیر کاشمیری زمانہ طالب علمی ہی سے سیاست میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔ ان کا شمار ترقی پسند شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے آغاز ہی سے وابستہ ہو گئے اور اس تحریک کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنے ترقی پسندانہ خیالات میں اضافہ کرتے رہے۔ ظہیر کاشمیری مزدوروں کے عالمی حقوق کے لیے بہت سی ٹریڈ یونین تحریکوں سے بھی وابستہ رہے جس کے سبب قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

    👈فلمی دنیا سے وابستگی

    قیام پاکستان سے قبل ظہیر کاشمیری لاہور آ گئے اور فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔ کہانیاں لکھیں اور کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔

    👈شاعری
    ظہیر نے انسانی آزادی اور عظمت کی جدوجہد کو تاریخی تسلسل میں دیکھا ہے۔ انسانی تاریخی کی ابتدا سے لے کر آج تک انسانی جدوجہد کے فکر و کلام کا خاص موضوع رہی ہے۔ عصری تغیرات اور تاریخی عمل سے نہ صرف یہ کہ ان کا فکر و فن ہمیشہ ہم آہنگ رہا ہے بلکہ انسانی عز و شرف کی ان عظیم تحریکات سے عملی سطح پر بھی وہ وابستہ رہے ہیں۔ ہم عصر تاریخ کا کوئی واقعہ یا آزادی یا انسانی حقوق کی خاطر کی جانے والی کوئی ایسی جہد و پیکار نہیں جس نے ان کے فکر و جذبہ کو تحریک نہ دی ہو اور جسے انہوں نے فن کے سانچے میں نہ ڈھالا ہو۔ ظہیر کاشمیری کا شمار اُردو کے ان چند قد آور شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اُردو شاعری خصوصاً غزل کو نیا رنگ دیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں آدمی نامہ، جہان آگہی، چراغ آخر شب اور حرف سپاس کے نام شامل ہیں۔

    👈تصانیف
    آدمی نامہ
    رقصِ جنوں
    اُوراقِ مصور
    جہانِ آگہی
    چراغ آخرِ شب
    حرفِ سپاس
    ادب کے مادی نظریے
    عظمت ِ آدم
    تغزل

    👈اعزازات

    ظہیر کاشمیری کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

    👈وفات.

    ظہیر کاشمیری 12 دسمبر، 1994ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کر گئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے.

    موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے
    فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے

    گل بوٹوں کے رنگ اور نقشے اب تو یوں ہی مٹ جائیں گے
    ہم کہ فروغ صبح چمن تھے پابند فتراک ہوئے

    مہر تغیر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا
    صدیوں کے افتادہ ذرے ہم دوش افلاک ہوئے

    دل کے غم نے درد جہاں سے مل کے بڑا بے چین کیا
    پہلے پلکیں پر نم تھیں اب عارض بھی نمناک ہوئے

    کتنے الھڑ سپنے تھے جو دور سحر میں ٹوٹ گئے
    کتنے ہنس مکھ چہرے فصل بہاراں میں غم ناک ہوئے

    برق زمانہ دور تھی لیکن مشعل خانہ دور نہ تھی
    ہم تو ظہیرؔ اپنے ہی گھر کی آگ میں جل کر خاک ہوئے

  • اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اندر کا خاموش معمار — ریاض علی خٹک

    اُردن کے تاریخی شہر جرش کی تاریخ بہت قدیم ہے. عیسی علیہ السلام سے چار صدی پہلے سکندرِ اعظم کے دور میں یہ شہر آباد ہوا. لیکن اسے عروج رومن دور میں ملا. آج یہ رومن دور کے آثارِ قدیمہ سے بھرا ایک مشہور سیاحت کا مقام ہے. اسکا تھیٹر ہو یا قدیم معبد آج بھی اپنی شان و شوکت سے دیکھنے والوں کو متاثر کرتے ہیں.

    دیکھنے والے جب رومن دور کے کھڑے وہ لمبے ستون دیکھتے ہیں جسے تراشے پتھروں سے کھڑا کیا گیا ہے یا تھیٹر کی سنگلاخ سیڑھیوں پر بیٹھ کر میدان میں دیکھتے ہیں تو ان نامعلوم معماروں کے فن کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس قدیم دور میں وہ تعمیر کھڑی کی جسے صدیوں کی مسافت بھی مکمل ڈھیر نہ کر سکی.

    ہم انسانوں کی یہ عادت ہے ہم متاثر دیکھ کر ہوتے ہیں. آپ کوئی گاڑی خریدنے جائیں تب بھی پہلے اس کی باڈی رنگ اور ڈیزائن دیکھیں گے. یہاں اگر آپ متاثر ہوئے تب انجن اور فیچرز سمجھنے کی کوشش شروع کریں گے. ہم دوسرے انسانوں کو بھی پہلے شکل لباس اور نشست و برخاست پر تولتے ہیں. اگر متاثر ہوئے تب ہی اس کے شعور اس کی شخصیت پر جاتے ہیں.

    رومنز کو یہ صدیوں پہلے پتہ تھا. اس لئے آج بھی بھلے ہم ان تاریخی مقامات کے معماروں کو نہیں جانتے لیکن ان کی پہچان زندہ ہے. جب کوئی اس انسانی وصف کے خلاف چلتا ہے تب اسے بہت مایوسی ہوتی ہے. لوگ تھیٹر کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ غریب نیچے میدان میں تماشا بن جاتے ہیں.

    لوگ آپ کا پہناوا سلیقہ اور تہذیب دیکھ رہے ہوتے ہیں. آپ کے اندر کا خاموش معمار اگر چاہتا ہے کہ لوگ اس سے متاثر ہوں تو اسے اس پر وقت محنت اور سرمایہ خرچ کرنا ہوگا. ہاں البتہ اگر کسی کو متاثر کرنے کی خواہش ہی نہیں تب آپ آزاد ہیں. دیو جانس قلبی کی طرح سکندرِ اعظم بھی آپ کے سامنے کھڑا ہو کر پوچھے کیا چاہتے ہو. آپ اسے بول سکتے ہیں سامنے سے ہٹو دھوپ آنے دو. مجھے کچھ دھوپ چاہئے.

  • ہوائی جہاز کے سفر کے دوران میرے زریں خیالات — شہنیلہ بیلگم والا

    ہوائی جہاز کے سفر کے دوران میرے زریں خیالات — شہنیلہ بیلگم والا

    چیک ان کاؤنٹر پہ جاتے وقت؛

    اللہ کرے لگیج کا وزن زیادہ نہ ہو. اللہ کرے چیک ان کاؤنٹر پہ کوئی انسان کا بچہ بیٹھا ہو. تین چار کلو زیادہ بھی ہو تو جانے دے.

    چیک ان کے بعد؛

    دیکھ لوں پاسپورٹ اور بورڈنگ پاسز بیگ میں رکھ تو لیے ہیں. یہ نہیں کہ بوکھلاہٹ میں وہیں چھوڑ آئی ہوں. اف لگیج ایکسس نہ ہو جائے اس چکر میں ہینڈ بیگ اتنا زیادہ بھر لیا ہے کہ کندھے شل ہو رہے ہیں.

    کس قدر ظلم ہیں ائیر پورٹ والے. فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس والوں کو کتنا زیادہ سامان لے جانے دیتے ہیں. لیکن سامان ہم اکانومی والوں کے پاس زیادہ ہوتا ہے. یہ تو چھوٹے چھوٹے دو بیگز لے کر چل پڑتے ہیں. کیا ان کو تحفے تحائف دینے نہیں پڑتے؟

    یہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس والوں کو اتنا ایٹیٹیوڈ کس بات کا ہوتا ہے. پہنچنا تو سب نے ایک ہی جگہ ہے اور ایک ہی وقت پہ. اونہہ خوامخواہ کے ششکے.

    اپنی اکانومی کلاس کی تنگ میلی سی سیٹوں پہ پہنچنے سے پہلے فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے rows سے گزرتے ہوئے؛

    ہائے کیا آرام دہ سیٹس ہیں. ریکلائنر ہیں ساری. آرام سے پاؤں پسار کے سو سکتے ہیں. کیسے نرم ملائم گداز سے کمبل ہیں. ابھی تو بیٹھے بھی نہیں ہیں اور فوراً فریش جوسز اور خشک میوہ جات لے کر آگے پیچھے پھر رہی ہے ائیر ہوسٹس. ہمیں تو پانی بھی دینے میں موت پڑتی ہے. ہمارے ساتھ تو سوتیلے والوں سلوک کیا جاتا ہے.

    اف کس قدر فقیر ائیر لائن ہے. کھانا بھی خریدنا پڑے گا. میں تو کوئی نہیں لے رہی پندرہ درہم کا سوکھا سینڈوچ اور دس درہم کی پیپسی.

    گھر پہ بھابھی نے سب کچھ میری پسند کا بنا رکھا ہوگا. گھر جا کر کھا لوں گی. بٹیا کو گھورتے ہوئے؛

    ہزار بار کہا کہ گھر سے کھا کر نکلو. اب کراچی پہنچ کر کھانا.

    یہ ائیر ہوسٹس کیا بتا رہی؟

    اوہ ایمرجنسی میں ایگزٹ کے طریقے. پورے جہاز میں اس پہ کوئی توجہ نہیں دے رہا. اس سے زیادہ غور سے تو لوگ بس میں منجن اور جوئے مار دوا بیچنے والوں کی بات سن لیتے ہیں.

    ائیر پورٹ پہ پہنچنے کے بعد؛

    ائیر ہوسٹس نے کیا بتایا تھا، کس بیلٹ پہ سامان آئے گا. میں کبھی اس بیچاری کی نہیں سنتی.

    پاس سے گزرنے والے قلی سے؛

    بھیا دبئی والی فلائیٹ کا لیگیج کس بیلٹ پہ ہے؟

    لیگیج بیلٹ پہ؛

    اف لوگ کتنا سامان لے کر آئے ہیں. اس فیملی کے اب تک سات پیس آچکے ہیں. ان کا بس چلتا تو پورے گھر کو پہیے لگا کر ساتھ ہی لے آتے.

    میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے. ہمیشہ میرا سامان آخر میں کیوں آتا ہے. میرے دو سوٹ کیس نہیں آئیں گے. لوگوں کے سات سات پیسز لگاتار آ جائیں گے.

    سامان ملنے کے بعد؛

    اف ٹرالی کتنی تھکی ہوئی ہے. پہییے زنگ آلود ہیں. مجھے ہی ہمیشہ گھٹیا ٹرالی ملتی ہے. میری زندگی میں یہ باریک باریک دکھ کتنے ہیں نا

    اللہ کرے کسٹم آفیسر مجھے گرین چینل سے گزرنے دے. ایسا کچھ ہے تو نہیں میرے پاس لیکن میں نے جلدی جلدی میں پیکنگ اچھی نہیں کی ہے. سب کے سامنے بیگز کھلیں تو لوگ سوچیں گے کہ سلیقے سے پیکنگ بھی نہیں کی. ( جیسے ائیر پورٹ کی افراتفری میں کسی کو کسی کا ہوش ہوتا ہے)

    الحمدللہ مجھے گرین چینل سے گزرنے دیا. مجھے ہمیشہ گرین چینل سے گزرنے دیتے ہیں. کون کہتا ہے کہ پاکستانی کسٹم والے برے ہیں. مجھے تو آج تک نہیں روکا الحمدللہ.

    ( پانچ سیکنڈز کے بعد ہی میں اپنے باریک باریک دکھ والے شکوے سے مکر چکی تھی)

    ائیر پورٹ پہ گھر والوں کو دیکھتے ہوئے؛

    میرے سب سے چھوٹے گڈے کو نہیں لائے.
    لائے ہیں. سو گیا ہے. یہ لیجیے.

  • یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    یوم ولادت، چنگیز اعتماتوف

    پیدائش:12 دسمبر 1928ء
    وفات:10 جون 2008ء
    نورنبرگ
    وجۂ وفات:نمونیا، گردے فیل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    مادر علمی:گورکی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ادب
    پیشہ:سیاست داں، سفارت کار، صحافی، مترجم، ناول نگار، منظر نویس، سائنس فکشن مصنف
    مادری زبان:کرغیز زبان
    پیشہ ورانہ زبان:فرانسیسی

    چنگیز اعتماتوف (پیدائش: 12 دسمبر، 1928ء – وفات: 10 جون، 2008ء) سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول ”جمیلہ“ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف سوویت یونین میں کرغیزستان کے ایک گاؤں شیکر میں 12 دسمبر، 1928ء کو کرغیز باپ اور تاتار ماں کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کو جوزف اسٹالن کی طرف سے 1938ء میں پھانسی دی گئی۔ چنگیز اعتماتوف نے ادبی زندگی کا آغاز 1952ء میں کیا اور 1959ء سے روسی اخبار پرودا کے لیے بطور کرگیز نامہ نگار لکھنا شروع کیا۔ انہیں اہم شناخت اپنی نصنف پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں 1963ء سے حاصل ہوئی۔ اس تصنیف پر انہیں سال 1963ء کا لینن انعام دیا گیا۔ چنگیز اعتماتوف نے اپنی تخلیقات میں محبت، دوستی، جنگی ہیروازم اور کرغیز نوجوانوں کی سماجی و روایتی پابندیوں کو موضوع بنایا ہے۔ چنگیز اعتماتوف کی اہم تخلیقات میں دشوار راستہ 1958ء، روبرو 1957ء، جمیلہ 1958ء، پہلا استاد 1967ء، سفید دخانی کشتی 1970ء شامل ہیں۔
    سیاست و سفارت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف ادیب کے علاوہ سیاست دان اور سفارت کار ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ انہیں 1966ء میں سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کا رکن بنایا گیا۔ 1967ء میں اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین کے رکن، مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف، سوویت سفیر برائے لکسمبرگ اور 1990ء میں کرغیزستان کے سفیر برائے یورپی یونین مقرر ہوئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ناول و افسانے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دشوار راستہ
    ۔ 1956ء
    ۔ (2)1957ء
    ۔ روبرو
    ۔ (3)1958ء
    ۔ جمیلہ
    ۔ (4)1962ء
    ۔ پہلا استاد
    ۔ (5)1963ء
    ۔ پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں
    ۔ (6)1970ء
    ۔ سفید دخانی کشتی
    ۔ (7)1977ء
    ۔ سمندرکے کنارے دوڑتا ہوا چتکبری کتا
    ۔ (8)1986ء
    ۔ تختۂ دارا
    ۔ (9)1986ء
    ۔ جب پہاڑ گرتے ہیں
    انگریزی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Short Novels
    ۔ 1964ء
    ۔ (2)Farewell Gul’sary
    ۔ 1970ء
    ۔ (3)White Steamship
    ۔ 1972ء
    ۔ (4)The White Ship
    ۔ 1972ء
    ۔ (5)Tales of the Mountains
    ۔ and the Steppes
    ۔ 1973ء
    ۔ (6)Ascent of Mount Fuji
    ۔ 1975ء
    ۔ (7)Cranes Fly Early
    ۔ 1983ء
    ۔ (8)The Day Lasts More Than
    ۔ a Hundred Years
    ۔ 1988ء
    ۔ (9)The Place of the Skull
    ۔ 1989ء
    ۔ (10)Time to Speak
    ۔ 1989ء
    ۔ (11)The time to speak out
    ۔ 1988ء
    ۔ (12)Mother Earth and
    ۔ Other Stories
    ۔ 1990ء
    ۔ (13)Jamila
    ۔ 2008ء
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)اعزاز اکتوبر انقلاب (1988)
    ۔ (2)آرڈر آف لینن (1971)
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1966ء – رکن اعلیٰ سوویت برائے سوویت یونین
    ۔ (2)1967ء – رکن اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین
    ۔ (3)مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف
    سوویت سفیر برائے لکسمبرگ
    ۔ (4)1990ء -سفیر کرغیزستان برائے یورپی یونین
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف 79 سال کی عمر میں 10 جون ،2008ء کو نورنبرگ، جرمنی میں وفات پاگئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلسلہ عالمی ادبیات
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامور افسانہ نگار خدیجہ مستور 11 دسمبر 1927 کو بلسر، بریلی میں پیدا ہوئیں۔ 26 جولائی 1982 کو لندن میں وفات پائی۔ گلبرگ لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کی گئیں۔

    ان کےافسانوں کے 5 مجموعےکھیل، بوچھاڑ، چند روز اور، تھکے ہارے، اور ٹھنڈا میٹھا پانی اور 2 ناول آنگن اور زمین شائع ہوئے۔ آنگن پر 1962 کا آدم جی ادبی انعام ملا۔ افسانوں کے آخری مجموعے ٹھنڈا میٹھا پانی پر اکادمی ادبیات پاکستان نے سال کی بہترین کتاب کا ہجرہ ایوارڈ دیا-

    خدیجہ مستور ممتاز صحافی اور افسانہ نگار ظہیر بابر کی اہلیہ اور ہاجرہ مسرور، اختر جمال، خالد احمد اور توصیف احمد خاں کی بہن تھیں۔خدیجہ اور ہاجرہ، احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بہنیں تو خط کتابت سے ہی بن چکی تھیں-

    قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان لاہور پہنچا تو احمد ندیم قاسمی پورے خاندان کے سرپرست بن گئے. خدیجہ کی شادی انہوں نے ہی اپنے بھانجے ظہیر بابر سے کرائی.

  • شاعر اور نثر نگار  نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    شاعر اور نثر نگار نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    نریش کمار شاد کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں وہ اچھے شاعر بھی تھے ، نثر نگار بھی انہوں نےترجمے بھی کئے اور کئی رسالوں کی ادارت بھی کی ۔ نریش جتنے پرگو شاعر تھے اتنے ہی بڑے بلا نوش بھی ، ان کیلئے شاعری اور شراب دونوں زندگی کی بدصورتیوں کو انگیز کرنے کا ایک ذریعہ تھیں ۔ نریش کی شراب یاد رکھی گئی اور ان کی شاعری بھلا دی گئی ۔ حالانکہ نریش کی غزلیں، نظمیں اور کئی نئی مغربی اصناف میں ان کے تخلیقی تجربے ان کی شاعرانہ اہمیت کو روشن کرتے ہیں ۔

    شاد کی پیدائش ۱۱ دسمبر ۱۹۲۷ کو ہوشیار پور پنجاب میں ہوئی ۔ ان کے والد درد نکودری بھی شاعر تھے اور حضرت جوش ملسیانی کے خاص شاگردوں میں سے تھے ۔ گھر کے شعری ماحول نے شاد کو بھی شاعری کی طرف مائل کردیا اور وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی شعر کہنے لگے ۔ شاد کی تعلیم لاہور میں ہوئی انہوں نے گورمینٹ ہائی اسکول چونیاں ضلع لاہور سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحام پاس کیا ۔ اس کے بعد بہ سلسلۂ ملازمت راولپنڈی اور جالندھر میں مقیم رہے لیکن جلد ہی سرکاری ملازمت ترک کرکے لاہور آگئے اور وہاں ماہنامہ’ شالیمار ‘ کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے ۔

    تقسیم کے بعد شاد کچھ مدت کانپور میں رہے اور یہاں حفیظ ہوشیارپوری کے ساتھ مل کر ’چندن‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالا ۔ اس رسالے کے بند ہو جانے کے بعد دلی اگئے اور بلدیو متر بجلی کے ماہنامہ ’ راہی ‘ سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک رسالہ ’ نقوش ‘ کے نام سے بھی نکالا ۔ آخر ہاؤسنگ اینڈ رینٹ آفس میں ملازمت اختیار کی ۔

    شعری مجموعے : بتکدہ ، فریاد ، دستک ، للکار ، آہٹیں ، قاشیں ، آیات جنوں ، پھوار ، سنگم ، میرا منتخب کلام ، میراکلام نو بہ نو ، وجدان ،
    نثری کتابیں: سرخ حاشیے ، راکھ تلے ، سرقہ اور توارد ، ڈارلنگ ، جان پہچان ، مطالعے ، غالب اور اس کی شاعری ، پانچ مقبول شاعر اور ان کی شاعری ، پانچ مقبول طنز ومزاح نگار ۔ ادب اطفال : شام نگر میں سنیما آیا، چینی بلبل اور سمندری شہزادی ۔

    ۲۰ مئی ۱۹۶۹ کو شاد جمنا کے کنارے پر مرے ہوئے پائے گئے۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
    تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

    خدا سے کیا محبت کر سکے گا
    جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

    اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو
    ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

    زندگی سے تو خیر شکوہ تھا
    مدتوں موت نے بھی ترسایا

    گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب
    تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا

    زندگی نام ہے جدائی کا
    آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا

    محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
    نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں

    محفل ان کی ساقی ان کا
    آنکھیں اپنی باقی ان کا

    خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے
    مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے

    عقل سے صرف ذہن روشن تھا
    عشق نے دل میں روشنی کی ہے

    کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھا
    ہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا

    یہ سوچ کر بھی ہنس نہ سکے ہم شکستہ دل
    یاران غم گسار کا دل ٹوٹ جائے گا

    طوفان غم کی تند ہواؤں کے باوجود
    اک شمع آرزو ہے جو اب تک بجھی نہیں

    تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا
    میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے