Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    پیدائش:14 نومبر 1942ء
    گوہاٹی، آسام
    برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
    وفات:29 نومبر 2011ء
    گوہاٹی، آسام، بھارت
    قلمی نام:مامونی رائسم گوسوامی
    پیشہ:سماجی کارکن، مصنفہ، ادیبہ، شاعرہ
    قومیت:بھارتی
    دور:1956ء-2011ء
    اصناف:آسامی ادب
    موضوع:Plight of the
    ۔ dispossessed in
    ۔ بھارت
    ۔ and abroad
    نمایاں کام:The Moth Eaten
    ۔ Howdah of a Tusker
    ۔ The Man from Chinnamasta
    ۔ Pages Stained With Blood
    شریک حیات:مادھون رائسم ائینگار (متوفی)

    مامونی رایسم گوسوامی ایک آسامی مصنفہ، شاعرہ، پروفیسر اور لکھاری تھیں۔ انھیں 1983ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز، 2001ء میں گیان پیٹھ انعام اور پرنسپل پرنس کلاوس لاوریٹ انعام، 2008ء سے نوازا جا چکا ہے۔ وہ عصر حاضر کی مشہور ادیبہ ہیں جن کی کئی کتابیں آسامی سے انگریزی میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
    اپنی ادبی دنیا کے علاوہ وہ سماجی تبدیلی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں سماجی آزادی اور سماجی تبدیلی کی بات کی ہے اور آزاد آسام اور حکومت ہند کے مابین ثالثی بن کر صلح و امن کی خوب کوششیں کیں۔ ان کی کوششوں کی وجہ سے ایک گروپ بنام پپلز کنسلٹیٹو گروپ بنا۔ وہ خود کو امن کی متلاشی مانتی تھیں۔ ان کی تحریروں کو کئی اسٹیج اور ناٹک میں دکھایا گیا ہے۔ ایک فلم اداجیہ ان کی ناول پر بنی ہے۔ اور اسے بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کی زندگی پر ایک فلم بنی جس کا نام ورڈس فروم دی مسٹ ہے اور جسے جہنو بروا کے ڈیریکٹ کیا ہے۔
    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اندرا گوسوامی کی ولادت گوہاٹی میں ہوئی۔ ان کے والد اومرکنٹ گوسوامی اور والدہ امبیکا دیوی ہیں۔ انتدائی تعلیم گوہاٹی میں حاصل کرنے کے بعد کوٹن کالج کوہاٹی سے آسامی ادب میں گریجویشن کیا اور وہیں سے اسی موضوع میں ماسٹر بھی کیا۔
    کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔
    1962ء میں ان کی پہلی کتاب ”چناکی موروم“ منظر عام پر آئی جو کہانیوں کا مجموعہ تھی اور اس وقت وہ طالبہ ہی تھی۔ آسام میں انہیں مامونی بائدیو کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب کے ناشر کیرتی ناتھ نے انہیں اپنے رسالہ میں لکھنے کے لیے دعوت دی اور اس وقت وہ محض 8 برس کی تھیں۔
    ذہنی دباؤ
    ۔۔۔۔۔۔
    بچپن ہی سے انہیں ذہنی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری، دی ان فنشڈ آٹوبایوگرافی، میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے شیلونگ میں کئی بار اپنے گھر سے کودنے کی کوشش کی۔ متعدد خود کشی کے اقدام نے ان کی جوانی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا۔ شادی کے محض 18 ماہ بعد ان کے کرناٹک نزاد شوہر کا کشمیر میں ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہو گیا جس کے بعد انھوں نے نیند کی گولیاں لینی شروع کر دیں۔ اس کے بعد انہیں آسام لایا گیا اور انہوں نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور سینک اسکول، گوالپارا میں معلمہ ہو گئیں۔ یہاں نے انہوں پھر لکھنا شروع کیا لیکن اس بار ان کی تحریروں میں زندگی کے حادثات کی جھلک صاف دکھائی دیتی تھی بالخصوص شوہر کی وفات اور مدھیہ پردیش اور کشمیر میں زندگی گزارنے کا تجربہ ان پر کافی اثر کر چکا تھا۔
    ورانداون کی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوالپارا میں تدریس کے بعد ان کے استاد نے انہیں ورنداون جانے کا مشورہ دیا تاکہ کچھ ذہنی سکون مل سکے۔ انہوں نے اپنی بیوگی کا تذکرہ اپنی ناول دی بلیو نیکیڈ بارجا، 1976ء میں کیا اور ورنداون کی دکھ بھری زندگی کا بھی نقشہ کھینچا ہے۔ ایک درندناک پہلو ورنداون کا یہ بھی ہے کہ جوان بیوہ عورتوں کو آشرم والے خوب ترجیح دیتے ہیں جبکہ بوڑھی عورتیں محروم رہ جاتی ہیں۔ ورانداون میں انہوں نے راماین کا مطالعہ شروع کیا تلسی داس کے راماین کا کثیر حصہ پڑھ ڈالا۔ تلسی داس کی راماین انہوں نے محض 11 روپیہ میں خریدی تھی۔
    دہلی یونیورسٹی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قدہلی یونیورسٹی کے شعبہ بھارتی زبان وادب میں آسامی زبان کی پروفیسر ہو گئیں اور اس طرح اب ان کا مسکن دہلی ہو گیا۔ یہیں رہ کر اہوں نے اپنی شاہکار کتابیں لکھیں جن میں کئی افسانے جیسے ہری دوئے، ننگوتھ شوہور، بوروفور رانی شامل ہیں۔
    انہوں نے اپنی کتاب پیجیز سٹینڈ وتھ بلڈ میں سکھوں پر ہونے مظالم کو موضوع بنایا جب سابق وزیر اعظم بھارت اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ مخالف فسادات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ گوسوامی اس وقت دہلی شکتی نگر، اترپردیش علاقہ میں قیام پزیر تھیں اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے فسادات کا مشاہدہ کیا تھا۔
    کامیابی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1982ء میں انہیں ساہتیہ اکادمی اعزاز کے نوازا گیا۔ 2000ء میں گیان پیٹھ انعام سے سرفراز ہوئیں۔ گوسوامی کے ناول کے دو خاص موضوعات عورت اور آسامی سماج ہے مگر انہوں آسامی سماج میں ایک مرد کردار اختراع کیا جو اندرناتھ کا ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب دتال ہنتیر اونی ہودہ میں لکھا ہے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1972ء ۔ چیناور سروت
    ۔ (2)1976ء نیل کنٹھی براہ
    ۔ (3)1980ء اہیرون
    ۔ (4)1980ء میمور دھورا
    ۔ (5)1980ء بدھو ساگور دھوکھور گیشا
    ۔ (6)1988ء دتال ہتیر اونی کھوا ہودا
    ۔ (7)1989ء اودے بھانور چرترو
    ۔ (8)ننگوتھ سوہور
    خود نوشت سوانح
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)این ان فنشڈ آٹوبایوگرافی
    ۔ (آسامی زبان:আধা লেখা দস্তাবেজ)
    ۔ (2)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:দস্তাবেজ নতুন পৃষ্ঠা)
    ۔ (3)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:অপ্সৰা গৃহ)
    افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بیسٹ
    ۔ (2)دوارکا اینڈ ہز سن
    ۔ (3)دی جرنی
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پین اینڈ فلیش
    ۔ (2)پاکستان
    ۔ (3)اوڈے تو ا ہور
    غیر افسانوی ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)راماین فروم گنگا ٹو برہم پتر، دہلی 1996ء
    ۔ (2)آن لائن
    ۔ (3)دی جنرل
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1982ء- ساہتیہ اکیڈمی
    ۔ (2)1989ء- بھارت نرمان اعزاز
    ۔ (3)2000ء- گیان پیٹھ انعام
    ۔ (4)2002ء- پدم شری اعزاز
    ۔ (انہوں نے قبول کرنے سے منع کر دیا)
    ۔ (5)2007ء- اروناچل پردیش کی
    ۔ راجیو گاندھی یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (6)2008ء- اندرا گاندھی
    ۔ نیشنل اوپن یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (7)2008ء- ایشور چندر ودیاساگر
    ۔ گولڈ پلیٹ من جانب ایشیاٹک سوسائٹی
    ۔ (8)2009ء- آسام رتن
    ۔ ریاست آسام کا اعلیٰ ترین اعزاز۔

  • یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

    پیدائش:18 اگست 1920ء
    کولکاتا،برطانوی ہند
    وفات:29 نومبر 2011ء
    کراچی،پاکستان
    شہریت: پاکستان
    پیشہ:غنائی شاعر،نغمہ نگار

    فیاض ہاشمی ہند و پاک کے معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار اور مقالمہ نویس تھے۔
    حالات زندگی و فن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 18 اگست 1920ء کو کلکتہ، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کلکتہ گرامر اسکول سے حاصل کی اور باقاعدہ ہومیو پیتھ ڈاکٹر بنے لیکن پریکٹس نہیں کی کیونکہ رجحان شاعری کی طرف تھا۔ وہ آٹھ زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ 1935ء میں فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے تھے۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی بہت شعر کہنے شروع کردیے تھے جس کی بنیاد پر کلکتہ میں ہونے والے مشاعروں میں انھیں کمسن شاعر کی حیثیت سے بطورِ خاص بلوایا جاتا تھا۔ انھوں نے فلمی گیتوں میں اُردو اور ہندی کی آمیزش سے ایک نیا انداز اپنایا جس کی وجہ سے ان کے گیتوں کو لازوال شہرت عطا ہوئی۔ فیاض ہاشمی کی شاعری کے علاوہ موسیقی میں بھی شُد بُد رکھتے تھے۔ ان کی اس منفرد اور قابلِ قدر خصوصیت کی بنا پر H.M.V نامی گراموفون کمپنی کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے۔ اس کمپنی میں فیاض ہاشمی کی ملاقات ایک بہت بڑے موسیقار کمل داس گپتا سے ہوئی۔ ان دونوں کی جوڑی خوب نبھی اور بڑے لازوال گیت تخلیق ہوئے۔ فیاض ہاشمی کا نام ہندستان بھر میں ایک کم عمر گیت نگار کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ کمل داس گپتا اور فیاض ہاشمی کی جوڑی نے جگ موہن، طلعت محمود، جونتھیکا رائے، پنکج ملک اور ہیمنت کمار جیسے بڑے گلوکاروں کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کرایا اور بے پناہ شہرت کا حامل بنایا۔ ان گلوکاروں کے مشہورگیتوں میں تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی، چودہویں منزل پہ ظالم آ گیا، اِک نیا انمول جیون مل گیا، یاد دلواتے ہیں وہ یوں میرا افسانہ مجھے، ہونٹوں سے گل فشاں ہیں وہ کے علاوہ طلعت محمود کی آواز میں بے شمار گیت اور غزلیں ہیں۔

    اسی طرح پنکج ملک یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، ہیمنت کمار کا بھلا تھا کتنا اپنا بچپن، جگ موہن کا یہ چاند نہیں تیری آرتی ہے، جوتھیکا رائے ان ہی کی وجہ سے بھجن کی شہزادی قرار پائیں۔ جوتھیکا رائے کا چپکے چپکے یوں ہنسنا کافی مشہور ہوا۔ 1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔ ان کی مطالبے پر گراموفون کمپنی نے ان کا ٹرانسفر لاہور کر دیا اور انہیں H.M.V لاہور کا ڈائریکٹر بنادیا۔ یہاں انہوں بے شمار فنکاروں کو اکٹھا کیا جن میں منور سلطانہ، فریدہ خانم، زینت بیگم، سائیں اختر حسین اور سائیں مرنا کے علاوہ اور بھی بہت سے فنکار تھے۔ 1956ء میں رائلٹی کی ادائیگی پر اختلاف کی بنا پر وہ کمپنی سے علاحدہ ہو گئے اور کراچی آ گئے لیکن 1960ء میں ایس ایم یوسف انہیں دوبارہ لاہور لے آئے اور وہ ان کے ادارے سے وابستہ ہو گئے۔ وہ پاکستان آئے تو انھوں نے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ استاد حسیب خاں ببن کار، استاد فتح علی خان، استاد بڑے غلام علی خان، استاد مبارک علی خان، ماسٹر غیاث حسین اور استاد محمد شریف خان پونچھ والے کو بھی گراموفون کمپنی میں ملازمت دلوائی۔ شاعر حزیں قادری اور مشیر کاظمی بھی انہی کے توسط سے کمپنی سے وابستہ ہوئے۔ ریاض شاہد کو بڑا مکالمہ نگار بنانے میں فیاض ہاشمی کی معاونت شامل ہے۔
    ازدواجی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی نے تین شادیاں کیں، پہلی بیگم سے سات بچے ہیں، دوسری شادی اداکارہ کلاوتی سے کی جو مسلمان تھیں، ان سے ایک بیٹا تھا، تیسری بیگم سے چار بچے ہیں جو اپنی والدہ کے ساتھ امریکا میں مقیم ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    1944ء – راگ رنگ (شاعری)
    بطور نغمہ نگار مشہور فلمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سہیلی
    آشیانہ
    اولاد
    دل کے ٹکڑے
    سہاگن
    لاکھوں میں ایک
    زمانہ کیا کہے گا
    عید مبارک
    سویرا
    ہزار داستان
    ایسا بھی ہوتا ہے
    مشہور فلمی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو نہیں ہے توکچھ بھی نہیں ہے (گلوکار: ایس بی جون، فلم: سویرا)
    آج جانے کی ضد نہ کرو (گلوکار: حبیب ولی محمد، فلم: بادل اور بجلی)
    تصویر تیری دل مِرا بہلا نہ سکے گی (گلوکار: طلعت محمود)
    چلو اچھا ہوا تم بھول گئے (گلوکار: نورجہاں، فلم: لاکھوں میں ایک)
    گاڑی کو چلانا بابو (گلوکار: زبیدہ خانم، فلم: انوکھی)
    قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: داستان)
    یہ کاغذی پھول جیسے چہرے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: دیور بھابی)
    نشان کوئی بھی نہ چھوڑا (گلوکار: مہدی حسن، فلم: نائلہ)
    لٹ الجھی سلجھا رے بالم (گلوکار: نورجہاں، فلم: سوال)
    ساتھی مجھے مل گیا (گلوکار: ناہید اختر، فلم: جاسوس)
    ہمیں کوئی غم نہیں تھا غمِ عاشقی سے پہلے (گلوکار: مہدی حسن / مالا، فلم: شب بخیر)
    رات سلونی آئی (گلوکار: ناہید نیازی، فلم: زمانہ کیا کہے گا)
    مشہور ملی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں دی ہمیں آزادی کے دنیا ہوئی حیران، اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان
    ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
    سورج کرے سلام، چندا کرے سلام
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 29 نومبر، 2011ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔

    غزلیں
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)
    مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی
    اک بوند بھی نہ کل کے لیے تو بچا کے پی
    کیوں کر رہا ہے کالی گھٹاؤں کے انتظار
    ان کی سیاہ زلف پہ نظریں جما کے پی
    چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے
    چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی
    فیاضؔ تو نیا ہے نہ پی بات مان لے
    کڑوی بہت شراب ہے پانی ملا کے پی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری
    تصور میں بھی آ سکتیں نہیں مجبوریاں میری
    نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہ
    دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری
    عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
    ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری
    یہ منزل یہ حسیں منزل جوانی نام ہے جس کا
    یہاں سے اور آگے بڑھنا یہ عمر رواں میری

  • ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    نیازمگسی:
    ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    پیدائش:28 نومبر 1757ء
    لندن
    وفات:12 اگست 1827ء
    چیرنگ کراس، لندن
    رہائش:فیلپہام (ستمبر 1800 – ستمبر 1803)
    بیٹرسی (جولا‎ئی 1782 – اگست 1782)
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت برطانیہ عظمی (01 جنوری 1801)
    نسل:انگریز
    تلمیذ خاص:ڈبلیو بی یٹس
    جبران خلیل جبران
    آلین جنسبرگ
    پیشہ:مصور، شاعر، الٰہیات داں
    جمع کار، الیس ٹریٹر، فلسفی، طابع
    زبان:انگریزی
    شعبۂ عمل:شاعری
    مؤثر:میری وولسٹن کرافٹ
    دانتے، بین جونسن
    بہمن، جان ملٹن
    تحریک:رومانیت

    ولیم بلیک (28 نومبر 1857 – 12 اگست 1827) ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر تھے۔

  • فریڈ رک اینگلس:جرمنی کا انقلابی مفکر:جس کے نظریے کوعروج ملا

    فریڈ رک اینگلس:جرمنی کا انقلابی مفکر:جس کے نظریے کوعروج ملا

    پیدائش:28 نومبر 1820ء وفات:05 اگست 1895ء
    لندن
    وجۂ وفات:سرطان
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:جرمنی
    مادر علمی:جامعہ ہومبولت
    پیشہ:ماہر معاشیات، فلسفی، مصنف
    انقلابی، ماہرِ عمرانیات
    حامیِ حقوق نسواں، صحافی
    مادری زبان:جرمن
    شعبۂ عمل:فلسفہ
    مؤثر:ہیراکلیطس، کارل مارکس

    جرمنی کا انقلابی مفکر جس نے کارل مارکس کے ساتھ مل کر سائنسی سوشلزم کی بنیاد رکھی۔ دولت مند کارخانہ دار کا بیٹا تھا۔ 1842ء میں مانچسٹر میں باپ کے کارخانے میں کام سیکھنے گیا اور مزدوروں کی تحریک سے روشناس ہوا۔ 1844ء میں پیرس کے عارضی قیام کے دوران میں کارل مارکس سے پہلی ملاقات ہوئی۔ 1845ء میں 1850ء تک جرمنی، فرانس اور بیلجیم میں انقلابی تحریکیں چلائیں اور مارکس کے ساتھ مل کر کئی کتابیں لکھیں جن میں کمیونسٹ مینی فسٹو (1848ء) خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ 1848ء میں واپس انگلستان چلا گیا اور ساری عمر وہیں رہا۔ اینگلس نے مارکس کی وفات کے بعد اس کی مشہور تصنیف (سرمایہ) کی دوسری اور تیسری جلدیں اس کی یاداشتوں کی مدد سے مرتب کیں۔ متعدد تاریخی اور فلسفیانہ کتابوں کا مصنف ہے۔

  • یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    پیدائش:28 نومبر 1928ء
    فیروزپور، صوبہ پنجاب
    برطانوی ہندوستان
    وفات:4 فروری 2017ء
    لاہور، پنجاب، پاکستان
    آخری آرام گا:قبرستان E بلاک
    ماڈل ٹاؤن، لاہور
    قلمی نام:بانو قدسیہ
    تعلیم:ایم اے (اردو)
    اصناف:افسانہ نگاری، فلسفہ، تصوف
    موضوع:ادب، فلسفہ
    نفسیات، اشتراکیت
    ادبی تحریک:صوفی ادب
    شریک حیات:اشفاق احمد
    اولاد:انیق احمد، انیس احمد، اثیر احمد

    بانو قدسیہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو اور پنجابی زبان کی مشہور و معروف ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈراما نویس جو اپنے ناول راجہ گدھ کی وجہ سے خاصی مشہور ہوئیں۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 28 نومبر، 1928ء کو فیروزپور، برطانوی ہندوستان میں زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد چوہدری بدرالزماں چٹھہ زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ اُن کا انتقال بانو قدسیہ کی چھوٹی عمر میں ہی ہو گیا تھا جبکہ ابھی بانو قدسیہ محض ساڑھے تین برس کی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئیں۔ لاہور آنے سے پہلے وہ وہ مشرقی بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش دھرم شالا میں زیر تعلیم رہیں۔ اُن کی والدہ مسز چٹھہ (Chattha) بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بانو قدسیہ نے مشہور ناول و افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد سے شادی کی۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    وہ اپنے کالج کے میگزین اور دوسرے رسائل کے لیے بھی لکھتی رہی ہیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ نے اردو اور پنجابی زبانوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بہت سے ڈرامے بھی لکھے۔ اُن کا سب سے مشہور ناول راجہ گدھ ہے۔ اُن کے ایک ڈرامے آدھی بات کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1983ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے بانو قدسیہ کو ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ 2010ء میں دوبارہ حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ 2012ء میں کمالِ فن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2016ء میں اُنہیں اعزازِ حیات (Lifetime Achievement Award) سے نوازا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 26 جنوری 2017ء کو بعارضہ ضیق النفس لاہور کے اتفاق ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیر علاج رہیں۔ بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ 88 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ اُن کی عمر 88 سال 2 ماہ 7 دن شمسی تھی۔ اُن کی نماز جنازہ 5 فروری 2017ء کو بلاک، ماڈل ٹاؤن، لاہور میں دوپہر 03:30 بجے اداء کی گئی جبکہ تدفین G بلاک قبرستان ماڈل ٹاؤن، لاہور میں کی گئی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آتش زیر پا
    ۔ (2)آدھی بات
    ۔ (3)ایک دن
    ۔ (4)امر بیل
    ۔ (5)آسے پاسے
    ۔ (6)بازگشت
    ۔ (7)چہار چمن
    ۔ (8)چھوٹا شہر، بڑے لوگ
    ۔ (9)دست بستہ
    ۔ (10)دوسرا دروازہ
    ۔ (11)دوسرا قدم
    ۔ (12)فٹ پاتھ کی گھاس
    ۔ (13)حاصل گھاٹ
    ۔ (14)ہوا کے نام
    ۔ (15)ہجرتوں کے درمیان
    ۔ (16)کچھ اور نہیں
    ۔ (17)لگن اپنی اپنی

    افسانہ و ناول نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ کی زندگی پر ایک نظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ ان کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور ان کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اس وقت ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ ان کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔
    انھیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو ان کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر کلاس کو اپنا اپنا ڈراما پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو تیس منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لیے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ ان سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور بقول ان کے جتنی بھی اُردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ ان کی پہلی کاوش تھی۔ اس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اُردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر ان کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950 میں اس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔

    اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تاکہ مقابلہ پورا ہو۔ اس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا۔ اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک ان کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انھیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔ بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور جب کہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انھوں نے بی اے کا امتحان دیا اس وقت 47 کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اس آگ کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔

    اس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لیے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینیٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی مطمئن تھیں کہ یہ حصہ پاکستان کے حصے میں آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔ پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انھیں کامیابی ملی تھی۔ 1949 میں انھوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اُردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں رائٹرز کام میں جُت گئے۔ ایک سال بعد انھوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرین رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔

    اس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔ ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اس کے لیے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہو جاتی تھی۔ ٹی وی کے پہلے ایم ڈی اسلم اظہر نے اشفاق احمد کو ٹی وی کا سب سے پہلا پروگرام پیش کرنے کی دعوت دی۔ اس پروگرام میں انھوں نے ٹیلی ویژن کو متعارف کرایا تھا۔ اشفاق احمد ٹی وی کے پہلے اناؤنسر تھے۔ ان کا ریڈیو پر بہت وسیع تجربہ تھا۔ یہاں ایک اطالوی فلم بنی تھی۔ اس کے بھی اشفاق احمد مترجم تھے۔

    ٹی وی پر سب سے پہلا ڈراما ’’تقریب امتحان‘‘ ان ہی کا ہوا تھا۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف و صورت کے اپنے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جب کہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر انھوں نے 1965 تک لکھا پھر ٹی وی نے انھیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لیے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کیے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترقہ کاوش سے ان کا گھر تعمیر ہوا۔ لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ ان دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اُبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ ان دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہو گئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اُتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981 میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔

    موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ ان کے لیے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔ یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لیے محض اسی لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔ بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے، راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں 2003 میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور 2010 میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انھوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔ انگنت، ڈراموں، افسانوں اور شاہکار ناول کی مصنفہ بانو قدسیہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول

    نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول

    کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تاریخ ولادت:28 نومبر 1949ء
    تاریخ وفات:17 اپریل 2010ء

    نورجہاں ثروت کی پیدائش دہلی میں 28 نومبر 1949ء کو ہوئی۔ ان کی پرورش ان کی نانی کے سائے میں ہوئی۔ جب انہوں نے دہلی کالج میں داخلہ لیا تو شعبۂ اردو کے صدر مشہور شاعر جاوید وششٹ تھے‘ تو ثروت کو بھی شعر کہنے کا شوق پیدا ہوگیا۔ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز 1970ء میں اردو کے مشہور رسالے ’سیکولر ڈیموکریسی‘ سے ہوا۔ وہ واحد خاتون ہیں جنھیں اردو صحافت کی ’خاتون اول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انھیں کئی اہم اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں لالہ جگت نرائن صحافت ایوارڈ (1985ء)‘ راجدھانی سوتنتر لیکھک ایوارڈ (1986ء)‘ نشانِ اردو برائے ادبی خدمات (1989ء)‘ نئی آواز برائے صحافت ایوارڈ (1994ء)‘ میر تقی میر ایوارڈ (1995ء)‘ انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف فار ایجوکیشن فار ورلڈ برائے صحافت (1999ء)‘ قومی تحفظ و بیداری ایشین اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن ایوارڈ (2000ء)‘ میڈیا انٹر نیشنل ایوارڈ (2002ء) اور اردو اکادمی دہلی ایوارڈ (2010ء) شامل ہیں۔
    نور جہاں ثروت کا انتقالِ 17 اپریل 2010ء کو دہلی میں ہوا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے
    جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
    وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے
    اس کی پلکوں سے ڈھلک جاؤں نہ آنسو بن کر
    خواب کی طرح جو آنکھوں میں سجاتا ہے مجھے
    عکس تا عکس بدل سکتی ہوں چہرہ میں بھی
    میرا ماضی مگر آئینہ دکھاتا ہے مجھے
    وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
    پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے
    اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن
    کیا کوئی شہر نگاراں سے بلاتا ہے مجھے
    کسی رت میں بھی مری آس نہ ٹوٹی ثروتؔ
    ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اڑاتا ہے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا
    دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا
    طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں
    بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا
    راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے
    اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا
    غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا
    کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا
    شہر نا پرساں میں اے ثروتؔ سبھی قاضی بنے
    یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں
    ہاں مگر اس سے گفتگو بھی نہیں
    وہ تو خوابوں کا شاہزادہ تھا
    اب مگر اس کی جستجو بھی نہیں
    وہ جو اک آئینہ سا لگتا ہے
    سچ تو یہ ہے کہ روبرو بھی نہیں
    ایک مدت میں یہ ہوا معلوم
    میں وہاں ہوں جہاں کہ تو بھی نہیں
    ایک بار اس سے مل تو لو ثروتؔ
    ہے مگر اتنا تند خو بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • یگیشے چارینتس ،معروف آرمینیائی شاعر

    یگیشے چارینتس ،معروف آرمینیائی شاعر

    پیدائش:13 مارچ 1897ء
    قارص
    وفات:27 نومبر 1937ء
    یریوان
    طرز وفات:قتل، سزائے موت
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    زبان:آرمینیائی زبان

    یگیشے چارینتس سوویت آرمینیا کے عظیم شاعر، مصنف اور عوامی کارکن تھے۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یگیشے چارینتس صوبہ قارص، آرمینیا، روسی سلطنت میں 13 مارچ 1897ء کو قالین کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے۔ عظیم شاعر، خانہ جنگی کے سرگرم شریک، سوویت آرمینیا میں شوشلزم کی فتح کے مغنی یگیشے چارینتس یادگار نظموں اور منظم داستانوں دانتوں کا افسانہ، ایتلا، سوما، جنونی ہجوم، عوام کا گیت، بریوسوف کے استادانہ ترجمے کی ساری نظمیں، پیرس کے قبرستان میں کمیوناردوں کی دیوار، باکو کے 26 کمیساروں کی داستان، گھنگھریالے بالوں والا لڑکا وغیرہ کی حیثیت سے لازوال شہرت کے حامل ہیں۔

    انقلاب کے بانی لینن سے چارینتس نے اپنی نظمیں چچا لینن، لینن اور علی،ولادیمیر ایلیئچ، کسان اور ایک جوڑی فل بوٹ کی داستان معنون کیں۔ اپنی نظموں کا لاجواب مجموعہ کتاب راہ مکمل کرنے کے بعد انہیں المناک موت نے آلیا۔ چارینتس کی غنائی اور رزمیہ استعداد مایا کوفسکی کی استعداد کے پیمانے کی ہے۔ اس کا اندازہ خاص طورسے چارینتس کی ان تخلیقات سے ہوتا ہے کہ انھوں نے ولادیمیر ایلیئچ لینن سے معنون کی ہیں۔ فرانس، اٹلی، جرمنی اور ترکی کا سفر کرنے کے بعد چارینتس نے نظموں کا ایک پورا سلسلہ تخلیق کیا جو شعلہ بار پرولتاری بین الاقوامیت پسندی سے مملو ہے۔ ان کے ہیرو ہیں خانہ جنگی کے سورما لیپاریت مخچیان اور جارجیائی نوجوان کمیونسٹ لیگ کے بانی بریس دزینیلادزے اور باکو کے کمسومول کا گمنام ممبر۔
    چارینتس نے اپنی شاعری میں اپنے پورے سوزوگداز کے ساتھ سرمایہ دارانہ ظلم و جبر سے محنت کش عوام کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لازوال و لافانی ہونے کی توثیق کی۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    دانتوں کا افسانہ (16-1915ء)
    ایتلا
    سوما (1918ء)
    جنونی ہجوم
    عوام کا گیت
    پیرس ے قبرستان میں کمیوناردوں کی دیوار
    باکو کے 26 کمیساروں کی داستان
    گھنگھریالے بالوں والا لڑکا
    ولادیمیر ایلیئچ، کسان اور ایک جوڑی
    فل بوٹ کی داستان
    لینن اور علی
    چچا لینن (1924ء)
    مجموعۂ شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    کتاب راہ (34-1933ء)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    یگیشے چارینتس 40 سال کی عمر میں 27 نومبر 1937ء کو یریوان، آرمینیا کی جیل اسپتال میں کر گئے۔

  • مولانا ظفر علی خان ، بابائے اردو صحافت

    مولانا ظفر علی خان ، بابائے اردو صحافت

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    مولانا ظفر علی خان ، بابائے اردو صحافت

    یوم پیدائش 19 جنوری 1873
    یوم وفات 27؍نومبر 1956

    اردو کے ممتاز صحافی، ادیب، شاعر اور مصنف مولانا ظفر علی خان 19؍جنوری 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد (Secretary) کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد دکن میں کام کیا اور محکمہ داخلہ (Home Departmentt) کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اخبار "دکن ریویو” جاري كيا اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب و صحافی خاصی مستحکم کی۔
    1908ء میں لاہور گئے، روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے 1903ء میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو "اردو صحافت کا امام” کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعور کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ عملے کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔
    ظفر علی خان نے 08؍جولائی 1935ء کو شہید گنج مسجد لاہور کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش تحریک چلائی۔ اس تحریک میں ان کی جماعت نے نیلا لباس پہن رکھا تھا اس لیے اسے نیلی پوش کا نام ملا تھا۔
    مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشا پرداز تھے۔ صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسولﷺ اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:
    معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ روم، سیر ظلمت، جنگ روس و جاپان۔
    مولانا ظفر علی خان نے 27؍نومبر 1956ء کو وزیرآباد کے قریب اپنے آبائی شہر کرم آباد میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ محمد عبد الغفور ہزاروی نے ادا کی۔

    مولانا ظفر علی خان کی شاعری سے انتخاب

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

    سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر لیتی ہے محفل میں
    نگاہِ مستِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی

    قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
    تو مجھ سے سیکھ لے فن اور اس میں بے مثال بن

    کرانا ہے قلم ہاتھوں کو، رودادِ جنوں لکھ کر
    تو اس دور ستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا

    نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
    فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا

    آپ کہتے ہیں پرایوں نے کیا ہم کو تباہ
    بندہ پرور کہیں اپنوں ہی کا یہ کام نہ ہو

    نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ زیاد کی وہ جفا رہی
    جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

    پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
    کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا

    سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
    خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا

    دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
    ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

    اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
    صبحِ ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب

    وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
    اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں

    جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
    وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں

    ہوتا ہے جن میں نامِ رسولِ خدا بلند
    ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کر دیا

    سردار دوجہاں کا بنا کر مجھے غلام
    میرا بھی نام تابہ ابد زندہ کر دیا

    زکوٰة اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا اور نماز اچھی
    مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں ہو سکتا

  • کوونٹرے پیٹ مور،معروف انگریز شاعر اور نقاد

    کوونٹرے پیٹ مور،معروف انگریز شاعر اور نقاد

    پیدائش:23 جولائی 1823ء
    وفات:26 نومبر 1896ء

    کوونٹرے پیٹ مور مشہور نظم ”The Angel in the House“ کا شاعر جو ایک انگریز تھا ۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی ایام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کوونٹرے نے اپنی ابتدائی تعلیم گھریلو ماحول میں ہی حاصل کی۔ اس کی تعلیم میں اس کے باپ کے بھی بہت سے اثرات تھے۔ اس کی مصورانہ صلاحیتوں کی بنا پر اسے Silver Pallet کا انعام 1838 میں سوسائٹی آف آرٹ کی طرف سے دیا گیا ۔ سولہ سال کی عمر میں اسے فرانس کے اسکول میں بھیجا گیا جہاں اس نے پہلی نظم لکھی۔1944 میں اس کی نظموں کا ایک مجموعہ شائع ہوا۔
    وہ ایک سادہ طبعیت انسان تھا جس کی عمر برٹش میوزیم لائبریری لندن میں ایک ذمے دار عہدے پر ملازمت کرتے گزری۔ یہ ملازمت اس نے انیس سال کی عمر میں 1846 میں حاصل کی ۔
    1847ء میں اس کی شادی ایملی آگسٹا نامی خاتون سے ہوئی جن سے اس کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ پہلی بیوی کا انتقال 1862 میں ہوا جس کے بعد اس نے 1865 میں دوسری شادی کی۔ دوسری بیوی کی وفات 1880 میں ہوئی جس کے بعد اس نے 1881 میں تیسری شادی کی ۔

    نمایاں کام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس کا شمار اپنے عہد کے اچھے لکھنے والوں میں ہوتا تھا۔ وہ نہ صرف ایک شاعر بلکہ ایک اچھا ادیب بھی تھا جس کے مضامین اس زمانے کے معیاری رسائل میں اکثر و بیشتر شائع ہوا کرتے اور ادبی حلقوں میں وقعت کی نگاہ سے دیکھتے جاتے تھے۔ مقالے اور مضامین کے علاوہ اس نے بہت سے ناول لکھے اور کئی شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ اس کی تمام تخلیقات میں اخلاقی اور مذہبی عنصر خاص طور پر نمایاں ہے ۔ کووینٹرے کی بعض تخلیقات درج ذیل ہيں :

    ۔ (1)Tamerton Church
    ۔ (2)The Angel in the House
    ۔ (3)The Betrothed
    ۔ (4)The Espousals
    ۔ (5)Faithful For Ever
    ۔ (6)The Victories of Love
    ۔ (7)How I managed my Estate
    ۔ (8)The Unknown Eros
    ۔ (9)Amelia
    ۔ (10)English Metrical Law
    ۔ (11)Principle in Art
    ۔ (12)Religio poetae
    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ذیل میں پیٹ مور کی مشہور نظم ‘Toys’ کا ترجمہ دیا جا رہا ہے۔ جسے اصل نظم کے مشابہ پیش کیا گیا ہے ۔

    کھلونے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سات سالہ مرا فرزند، مرا لختِ جگر طفل وہ بے مادر ، لیکن اُس نے میری تنبیہ کے باوصف پھر آج ساتویں مرتبہ عمداً مرا توڑا قانون کھولنے ہی تو لگا میرا خون تھا مرے پاس نہ کچھ اس کے سوا کوئی علاج سخت لہجے میں بری طرح سے اس کو ڈانٹا اور اک منہ پہ لگایا چانٹا اور اُس رات خلافِ معمول دمِ رخصت نہ دعا دی نہ اسے پیار کیا ۔ بھرے آنکھوں میں تھا موتی وہ مرا دُر یتیم سامنے میرے کھڑا لیے ڈوبے ہوئے شبنم میں وہ نرگس کے دو پھول صاحب ِ وضع، میں پابندِ اصول کر سکا اپنے رویے میں نہ کوئی ترمیم خواب گاہ کی طرف اپنی میں مڑا، وہ اپنی کچھ زیادہ ہی تھی اس رات فضا میں سردی کروٹیں بدلا کیا، نیند نہ آئی مجھ کو آخرش جی میں یہ آئی کہ ذرا دیکھوں تو کہ ہے کس حال میں میرا دل بند جھانک کر میں نے جو دیکھا اندر ، سو رہا تھا وہ مرا نورِ نظر ایک خوابیدہ کلی کی مانند پاس اک میز پہ کچھ اس کے کھلونے تھے سجے سیپیاں، گھونگھے، گھروندے تھے کئی ان کے بنے شیشیاں چند پرانے سکے کئی سنگ، خارا ایک ٹوٹا سا قلم بڑی نُدرت، بڑی فنکاری سے ان سب کو سجایا گیا بھول جانے کو ہر اک اپنا غم دیکھ کر اس کو، مجھے اس پہ بہت آیا پیار میرا معصوم، وہ میرا فنکار مضطرب ہو کے جو کی میں نے دعائے شب ادا دل پگھل کر مرا آنکھوں سے مری بہنے لگا گڑگڑا کر یہ کہا میں نے کہ اے رب رحیم میں بھی اک طفلکِ ناداں ہوں، اے خلاق عظیم کھیلتا میں بھی کھلونوں سے ہوں اکثر یا رب طبعِ طفلانہ سے مجبور ہوں یکسر یا رب روزِ محشر کوئی طفلانہ ادا بھا جائے بے بسی پر مری شاید تجھے رحم آجائے
    (جام بجام ترجمہ : سید شاکر علی جعفری)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 25 نومبر 2020 ،یوم وفات میرا ڈونا

    25 نومبر 2020 ،یوم وفات میرا ڈونا

    ڈیاگو ارمانڈو میراڈونا ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے ایک سابق فٹ بال کھلاڑی تھے۔ انہیں فٹ بال کی تاریخ کے عظیم اور متنازع ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    30 اکتوبر 1960 کو پیدا ہونے والے ڈیاگو میراڈونا ارجنٹائن کے دار الحکومت بیونس آئرس کے نواحی قصبے ویلا فیوریتو کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے پیشہ ورانہ دور میں بوکا جونیئرز، ایف سی بارسلونا اور ایس ایس سی ناپولی کے لیے مختلف اعزازات حاصل کیے۔ اپنے بین الاقوامی دور میں آپ نے 91 مقابلوں میں شرکت کی اور 34 گول کیے۔

    آپ نے 1982ء، 1986ء، 1990ء اور 1994ء کے فٹ بال عالمی کپ مقابلوں میں شرکت کی۔1986ء میں ارجنٹائن نے آپ کی قیادت میں عالمی کپ میں شرکت کی اور حتمی مقابلے میں مغربی جرمنی کو شکست دے کر عالمی چیمپیئن بنا۔ میراڈونا نے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔

    کوارٹر فائنل میں انگلستان کے دو گول نے آپ کو ایک افسانوی حیثیت دے دی۔ ٹیلی وژن ری پلے نے ثابت کیا کہ آپ نے پہلا گول اپنے ہاتھ سے کیا تھا۔ بعد ازاں آپ نے کہا کہ "تھوڑا سا میراڈونا کا سر اور تھوڑا سا خدا کا ہاتھ”۔ اس طرح یہ گول "خدائی ہاتھ” (Hand of God) کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ مقابلے کے بعد آپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

    ” اگر اس میں ہاتھ شامل بھی تھا، تو وہ ضرور خدا کا ہاتھ تھا۔ “
    انگلستان کے خلاف اس یادگار مقابلے میں اس پہلے متنازع گول کے بعد آپ نے جو دوسرا گول بنایا وہ ان کی صلاحیتوں کا عکاس تھا۔ آپ نے میدان کے وسط سے گیند کو لیا اور انگلستان کے پانچ کھلاڑیوں اور گول کیپر کو غچہ دیتے ہوئے گیند کو جال کی راہ دکھائی۔ اسے 2002ء میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی جانب سے کیے گئے ایک آن لائن پول میں صدی کا بہترین گول قرار دیا گیا۔ اس مقابلے میں ارجنٹائن نے 2-1 سے فتح حاصل کی اور انگلستان کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ ان دونوں گولوں کو برطانیہ کے چینل 4 ٹیلی وژن کی جانب سے 2002ء میں کھیلوں کے 100 بہترین لمحات میں چھٹا نمبر دیا۔

    سیمی فائنل میں بیلجیم کے خلاف آپ نے دو گول داغے اور ٹیم کو حتمی مقابلے میں لے آئے، جہاں مغربی جرمنی نے آپ کی کڑی نگرانی کی لیکن اس کے باوجود آپ کی مدد سے ارجنٹائن فاتحانہ گول کرنے میں کامیاب ہوا اور یوں فتح 3-2 سے ارجنٹائن کے حصے میں آئی۔ آپ کو بہترین کھلاڑی کا گولڈن بال ایوارڈ دیا گیا۔

    1990ء کے عالمی کپ میں ٹخنے کے زخم نے آپ کی کارکردگی کو متاثر کیا اس کے باوجود ارجنٹائن کی ٹیم حتمی مقابلے تک پہنچی جہاں مغربی جرمنی نے ایک متنازع پنالٹی ملنے کے سبب 1-0 سے کامیابی حاصل کی۔ یوں ارجنٹائن اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

    1991ء میں اٹلی میں کوکین کے لیے ایک ڈوپنگ ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد آپ کو 15 ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 1994ء کے عالمی کپ کے دوران بھی آپ منشیات کے استعمال کے باعث پابندی کا شکار بنے۔ یوں شدید تنازعات کی لپیٹ میں آنے کے بعد بالآخر آپ نے 30 اکتوبر 1997ء کو فٹ بال سے سبکدوشی کا اعلان کر دیا۔

    بعد ازاں آپ صحت کی خرابی اور وزن میں بے پناہ اضافے کے باعث مسائل کا شکار رہے۔ تاہم ایک جراحی کے نتیجے میں وزن میں اضافے پر قابو پا لیا گیا۔ کوکین کے نشے سے چھٹکارہ پانے میں بھی آپ نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

    2000ء میں آپ کی سوانح حیات "میں ڈیاگو ہوں” (Yo Soy El Diego) شایع ہوئی جو ارجنٹائن میں فروخت ہونے والی بہترین کتاب بنی۔

    فیفا کے "صدی کے بہترین کھلاڑی” کے لیے کرائے گئے پول میں آپ 53.6 فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے۔ برازیل کے اعتراضات کے بعد فیفا نے فٹ بال ماہرین کی ایک کمیٹی مقرر کر دی جس نے پیلے کو صدی کا بہترین کھلاڑی قرار دیا۔ میراڈونا نے اس فیصلے کے خلاف احتجاجاً فیفا کی تقریب میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دی۔ بالآخر فیفا نے دو اعزازات دیے، میراڈونا اپنا انعام لے کر چل دیے اور پیلے کو اعزاز سے نوازنے کا انتظار نہ کیا

    25 نومبر 2020 کو ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے اس افسانوی کردار اور عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر ڈیاگو میراڈونا کا دل کا دورہ پڑنے سے حرکتِ قلب بند ہوجانے کے سبب انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت وہ 60 برس کے تھے۔