Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ہمیشہ بھول جاتا ہوں ؛ از منہال زاہد سخی

    ہمیشہ بھول جاتا ہوں ؛ از منہال زاہد سخی

    ⁦منہال زاہد سخی

    کبھی کسے یاد کرکے میں ہمیشہ بھول جاتا ہوں
    کسے سے فریاد کرکے میں ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    کسی کو سہارا دے کر کنارے کنارے چلتا ہوں
    کسی کی خلوت میں امداد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    غروب آفتاب کے منظر کو کبھی دیکھا جو ساحل سے
    دل کو غموں سے آباد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    خودی کو اجنبی جانا خودی کو کوئی سمجھا غیر
    کتنی بستیاں برباد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    کسی کو واسطہ واپسی کا سفر ادھورا رہتا ہے
    اسے ناکام استاد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    کوئی پنجرہ صدائے محبت کم نہ کرسکا کبھی سخی
    دل کی بلبل کو آزاد کرکے ہمیشہ بھول جاتا ہوں

    #قلم_سخی

  • غریب کا درد… بقلم: جویریہ چوہدری

    غریب کا درد… بقلم: جویریہ چوہدری

    غریب کا درد…
    (بقلم:جویریہ چوہدری)

    دعا ہے یا رب یہ وبا بھی جلد ٹل جائے…
    غریب بھی پھر اپنے آپ سنبھل جائے…
    بھوک کا منڈلاتا سایہ خوفناک بہت ہے…
    اس ڈر سے کہیں کوئی ہار نہ دل جائے…
    سماجی فاصلے کا اُڑاتا ہے غریب مذاق…
    کہیں حصولِ امداد کا گزر نہ پَل جائے…
    مزدوری و دیہاڑی کے پھر لمحے لَوٹ آئیں…
    مزدور کا بدن چاہے دھوپ سے جَل جائے…!!!
    ہاتھ کی کمائی کا مزہ ہی کچھ اور ہے…
    اس ذلت و پریشانی کا نکل کوئی حل جائے…!!!
    دعوؤں سے بڑھ کر بھی کچھ ہوتا آئے نظر…
    کہیں کاغذوں پر ہی صرف کام نہ چل جائے…!!!

  • عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد

    عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد

    اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی ،اچانک وہ غیر متوقع طور پر میری طرف بڑھی ،اس نے سب کے سامنے مجھے جپھی ڈالی اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے

    آج پرانی تصویروں میں سے ایک تصویر کیا ملی ،غضب ڈھا گئی دل کے تار ہلا گئی ۔ایمنڈا سیلی کی یاد تازہ ہو گئی اور میری بزدلی کی بھی کہ میں عشق کی خاطر اپنی زمین چھوڑنے سے ڈر گیا ۔1987 کی بات ہے میری ابھی شادی نہیں ہوئی تھی ۔

    بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں ایشیا فاونڈیشن نے انگلش لینگوئج سنٹر قائم کیا ۔جس کا انچارج ایک امیریکن ڈگلس بروکس کو بنایا گیا ۔ایک دن وہ مجھے صدر بازار کینٹ میں ملا اور پھر ہم دوست بن گئے ۔اس نے گلگشت میں گھر لے لیا ،اچھے زمانے تھے وہ موٹر سائیکل پر گھومتا ،میرے پاس بھی آجاتا ۔اسے ملنے کیلئے اس کے دوست اور سہیلیاں امریکہ اور یورپ سے آتیں ۔وہ خوب پیتے پلاتے اور میں سائیڈ پر بیٹھا پھوکے مزے لیتا ۔

    انہی دنوں امینڈا سیلی لندن سے آئی ،وہ ایک بھارتی نثراد عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی تھی جو لندن میں مقیم تھا ۔ڈگلس نے اسے کہا یہ نسیم ہے ملتان کا انسائیکلو پیڈیا ،تمہیں پورا شہر دکھا دے گا ۔وہ روزانہ یونیورسٹی چلا جاتا اور ہم موٹر سائیکل پر ملتان کی سیر کرتے ۔ایک ہفتہ گزرا کہ مجھے لگا ایمنڈا کو عشق کا دورہ پڑنے لگا ہے ۔

    ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا تم نے شادی کیوں نہیں کی ؟ میں نے جھٹ کہا کوئی ملے گی تو کر لوں گا ،اس پر اس نے بے ساختہ پوچھا ،،کیا اب بھی ؟ ،، .میں جماندرو بھولا اس کی بات نہ سمجھا،بات آئی گئی ہو گئی ۔سچی بات ہے اتنے عرصے میں میں بھی اس کی باتوں ،اداوں اور مسکراہٹوں کا عادی ہوتا جا رہا تھا ،

    پھر وہ دن آیا جب اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے پوچھا ،، نسیم کیا تم مجھ سے شادی کرو گے ؟،، ہائے ہائے کیا بم تھاجو اس نے مجھ پر گرایا ۔میں نے کہا مگر کیسے ،تم عیسائی ہو میں مسلمان تم لندن رہتی ہو میں ملتان ،، اس نے کہا ،، نو پرابلم میں کنورٹ ہو جاونگی ،، ۔میں نے کہا مگر تم ملتان میں نہیں رہو گی اور میں لندن نہیں جاسکتا ۔

    اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا ،، کیا میری خاطر بھی نہیں ؟،،.بڑا جانکاہ لمحہ تھا ۔میں نے کہا سوچ کربتاوں گا ۔اس نے کہا میرے پاس وقت نہیں میں نے دو دن بعد چلے جانا ہے ،میں نے کہا اچھا ایک دن تو سوچنے دو ۔گھر گیا تو ساری رات کروٹیں لیتے گزری ،سوچیں ہی سوچیں ،کیا ایک اجنبی لڑکی کیلئے اپنی ماں چھوڑ دوں جو میرے تن کے روئیں روئیں سے واقف ہے ۔کیا بہن بھائیوں کو خیر باد کہہ دوں ،کیا اپنی مٹی اور شہر کی بوباس سے کنارہ کشی اختیار کر لوں ،ناں بھئی ناں مجھ سے یہ نہیں ہو سکے گا ۔

    صبح ہوئی تو میں ایمنڈا سیلی سے ملنے گیا ،باتوں باتوں میں اسے کہا میں تم سے شادی نہیں کر سکتا ،اس کی آنکھوں میں مایوسی عود کر آئی ،، مگر کیوں ؟،، میں نے کہا میری ماں نہیں مانے گی ۔اس نے جھنجھلا کے کہا ،کیا مطلب زندگی تمہاری ہے تم نے گزارنی ہے ۔میں نے کہا ایمنڈا تم نہیں سمجھو گی ،

    جب میری ماں جوان تھی تو اس نے میرے لئے زندگی واقف کی اب میں جوان ہوں تو مجھے اس کیلئے زندگی وقف کرنی ہے ،میری اس بات پر اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی ،اس نے بے ساختہ مجھے گلے لگایا اور کہا ،،نسیم آئی لو یو ،You Really Posses a wonderful Soul ،، .اگلے دن اس نے جانے کا پروگرم بنا لیا ۔

    میں ،ڈگلس اور مشترکہ دوست عارف قریشی اسے چھوڑنے ملتان ائرپورٹ گئے ۔اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی ،اچانک وہ غیر متوقع طور پر میری طرف بڑھی ،اس نے سب کے سامنے مجھے جپھی ڈالی اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے ،بس اس کے بعد اس وقت میرے پاس کہنے کو کچھ تھا نہ آج ہے ۔

    عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد

  • 5-دسمبرشاعرانقلاب پیدا ہوئے ، 121 ویں‌ سالگرہ

    5-دسمبرشاعرانقلاب پیدا ہوئے ، 121 ویں‌ سالگرہ

    ملیح‌ آباد: الفاظ کو جاہ و جلال بخشنے اور شاعر انقلاب کا اعزاز پانے والے نامور شاعر جوش ملیح آبادی کی ایک سو اکیسویں سالگرہ آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔اصل نام بشیر حسن تھا، وہ 5 دسمبر 1898 کو ملیح آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے 1914 میں سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا 1925 میں جوش نے عثمانیہ یونیورسٹی میں ترجمے کا کام شروع کیا۔

    بال بن گئے وبال جان ، بال رنگنے سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ

    جوش ملیح آبادی نے نظام حیدر آباد کے خلاف ایک نظم لکھی جس پر انھیں ریاست حیدر آباد سے نکال دیا گیا۔نظم’’ حسین اور انقلاب‘‘ لکھنے پر انھیں شاعر انقلاب کا بھی اعزاز دیا گیایاد رہے کہ تقسیم ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی جوش کونہ صرف اپنی مادری زبان بلکہ ہندی ،عربی،فارسی،اور انگریزی زبان میں بھی عبور حاصل تھا۔

    پاکستانیوں کے لیے امریکی سفارتخانے کی طرف سے ویزا کی فراہمی،700 روپے میں‌…

    جوش ملیح آبادی ایک قادر الکلام شاعر تھے، انھوں نے عمر بھر صاف گوئی، صداقت اور جرأت کا علم بلند رکھا۔وہ22 فروری 1982 کو 84 سال کی عمر میں دنیا فانی سے کوچ کر گئے، انھوں نے اپنی شاعری کا جو خزانہ چھوڑا وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہیں۔ اپنی اسی خداداد صلاحیتوں کے وصف سے آپ نے قومی اردو لغت کی ترتیب وتالیف میں بھر پور علمی معاونت کی۔

    پیرسے جمعرات،پروگرام”کھراسچ”میزبان مبشرلقمان،

  • جعفر زٹلی اور   شہنشاہِ مغل فرخ !!! تحریر: رضوان الحق

    جعفر زٹلی اور شہنشاہِ مغل فرخ !!! تحریر: رضوان الحق

    جعفر زٹلی کا شمار اردو کے ” ابتدائی طنز ومزاح نگار” میں ہوتا ہے. زٹل کے معنی بکواس، لغو، مزاح ہے زٹل سے زٹلی جو کہ آپ کا تخلص تھا

    زٹلی نے لکھنے کا آغاز اورنگزیب کے دور سے کیا. جعفر زٹلی ایک بے باک شاعر تھا. اورنگزیب پر بہت زیادہ تنقید کے ساتھ ساتھ اس کی اچھی انتظامی صلاحیتوں پر کھل کر لکھا. اورنگزیب کے بعد کا دور مغلیہ سلطنت کے زوال کی داستان سے بھرا پڑا ہے. اور اسی دور میں جعفر زٹلی نے معاشی وسیاسی حالات، کمزور حکمت عملی اور ظلم وجبر کے خلاف اپنی آواز بلند کی شاعری کے ذریعے.
    شہنشاہِ مغل فرخ سیر بہت ظلم کرتا تھا. حق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کی گردنیں کاٹ دی جاتیں، زبانیں کھینچ لی جاتیں اس دوران فرخ سیر نے ایک سکہ جاری کیا جس پر یہ درج تھا:

    سکہ زدازفضل حق برسیم وزر
    بادشاہِ بحروبر فرخ سیر
    جعفر زٹلی نے جب یہ جملہ پڑھا تو اس کا دل مسوس کا رہ گیا کہ ایک طرف ظلم و ستم اور شہنشاہیت، جاہ وجلال وثروت کی آڑ لے کر
    زٹلی نے اس شعر کی تحریف یوں کی

    سکہ زد بر گندم وموٹھ ومٹر
    بادشاہِ تسمہ کش وفرخ سیر
    ( یہ بادشاہ فرخ سیر تسمہ بنانے والا جس نے گندم، جو کی ایک قسم اور مٹر پر لگان/ ٹیکس لگائی ہے)
    فرخ سیر کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ تسمے سے لوگوں کو پھانسی دیتا تھا. زٹلی نے اس کو حقیر تسمہ بنانے والا کہا. فرخ سیر کے لیے یہ شعر گالی بن گیا. مغل بادشاہ نے جعفر زٹلی کی پھانسی کا فرمان جاری کر دیا. اور پھر ایک شاعر ظلم وستم کا ساتھ دینے کے بجائے، حق کے لیے تختۂ دار پر چڑھ گیا.
    بلاگ /کالم کی دم : یہ ایک غیر سیاسی اور ادبی بلاگ ہے اس کو آج کی سیاست سے نہ ملایا جائے.

  • انگریزی یا کوئی دوسری زبان بولنا کیسا ہے — عبداللہ قمر

    انگریزی یا کوئی دوسری زبان بولنا کیسا ہے — عبداللہ قمر

    زبانیں اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہیں، یہ بول چال کا ذریعہ ہیں اور بول چال ہی زندگی ہے. ذرا تخیل میں لائیے کہ اگر ہمارے آس پاس تمام لوگ مکمل طور پر خاموش ہوں، کوی کسی سے بات نہ کر سکتا ہو، اپنا پیغام کسی بھی طریقے سے نہ پہنچا سکتا ہو تو کیا تصویر بنے گی. ہم جذبات کسی دوسرے تک نہ پہنچا سکیں اور وہ ہمارے دل ہی میں رہ جائیں تو کیا گزرے گی. بولنے اور الفاظ کے معانی اور ان کی گہرائیوں اور مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے باجود ہمارے دل میں رہ جانے والے ہمارا جینا محال کر دیتے ہیں تو سوچیے جب ہمارے پاس وہ جذبات شیئر کرنے آپشن ہی نہ ہو تو وہ کرب کیسا ہو گا. یقیناً ہمارے جذبات، خیالات، احساسات اور افکار کا بوجھ لے کر نا ممکن کی حد تک مشکل ہو جائے گا. جب خیالات اور نظریات کا تبادلہ نہیں ہو گا تو بہت سے راستے آہستہ آہستہ بند ہو جائیں گے. یہاں تک بات ہے صرف زبان کی یا یوں کہہ لیجیے یہ اس دور تک کی بات جب انسان جنگلوں میں جانوروں کی طرح رہا کرتا تھا.

    دنیا میں اس وقت سینکڑوں زبانیں بولی جا رہی ہیں. مگر انگریزی زبان کو زبانوں میں وہ حیثیت حاصل ہو گئی ہے جو موبائل فونز میں آئی فونز کو حاصل ہے، یعنی کہ status سمبل. انگریزی زبان قابلیت اور تربیت ماپنے کا معیار بن چکا ہے. اگر کوئی شخص انگریزی کے دو چار لفظ ذیادہ بول لیتا ہے خواہ اس نے وہ کیسے ہی سیکھے ہوں، اسے نسبتاً بہتر سمجھا جاتا ہے. اور کوئی قابل اور با صلاحیت انسان اگر انگریزی نا جانتا ہو تو اسے اس معاشرے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے. میں اپنے بہت ہی چھوٹی سی زندگی میں لوگوں کو صرف اس احساس کمتری کی وجہ سے اگلی صفوں سے پچھلوں صفوں میں جاتے دیکھا ہے کہ ان کی انگریزی اچھی نہیں تھی اور صرف اس وجہ سے وہ اپنے آپ کو اگے کی صفوں پر سکون محسوس نہیں کرتے تھے. اگر انصاف کے ساتھ کہا جائے تو انگریزی زبان کی جان پہچان کی بنیاد پر لوگوں کی قابلیت کا فیصلہ کرنا ظلم ہو گا، جی ہاں ظلم.

    ابھی ہم اس بحث نہیں الجھتے کہ ہم من حیث القوم انگریزی زبان کی غلامی کا شکار کیوں ہیں. زبانیں سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں اور وہ زبانیں جو رائج وہ تو ضرور سیکھ لینی چاہیے. اس وقت بدقسمتی سے انگریزی شبان سٹیٹس سمبل بن چکی ہے. لوگ لپک لپک کر انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں، مختلف ادارے ملک بھر موجود ہیں جو انگریزی پڑھنے، بولنے، لکھنے اور سننے کا ہنر سیکھاتے ہیں. یونیورسٹیز میں چار کی باقاعدہ ڈگری کروائی جاتی ہے. میں انگریزی سیکھنے، بولنے اور لکھنے کا ناقد نہیں ہوں. میں انگریزی ادب اور تاریخ کا طالبعلم ہوں اور عموماً انگریزی زبان میں بلاگنگ کرتا ہوں. لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انگریزی سیکھنے کے لیے ہمارا وژن اور مقصد ہمارے اذہان میں بالکل واضح ہونا چاہیے. ہمارا مقصد انگریزی بول کر کسی کو نیچا دکھانا یا کسی پر رعب ڈالنا نہیں ہونا. چلیں میں ان لوگوں کی بات بھی نہیں کرتا جنہیں انگریزی بول کر شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے. آپ مقصد کچھ بھی مثبت ہو سکتا ہے مگر انگریزی زبان سے مرعوبیت نہیں ہونی چاہیے. آپ کا مقصد کچھ نیا سیکھنا بھی سکتا ہے مگر آپ اس کی بنیاد پر اپنے کو افضل تصور نہیں کر سکتے. ذمہ دار اور نظریاتی ریاست کے فرض شناس شہری ہونے کی حیثیت سے آپ کا مقصد اقوام عالم کے سامنے اپنی قوم اور اپنی ریاست کے بیانیے کا دفاع بھی ہو سکتا ہے. لیکن وہ لوگ بھی لوگ بھی انصاف نہیں کرتے جو ان انگریزی لکھنے اور بولنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں. ہم اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ انگریزی زبان وقت کی ضرورت ہے اور پاکستانی سوشل میڈیا اور بلاگنگ کی دنیا میں سمجھدار ہونے کے ساتھ ساتھ انگلش زبان میں لکھنے والے بھی ضرور ہونے چاہیے. میں کسی کو ترغیب نہیں دیتا کہ آپ انگلش میں کام کریں لیکن بلاگنگ کی دنیا میں انگلش زبان میں کام کرتے ہیں میں ان کی حوصلہ افزائی ضرور کروں گا. از راہِ تفنن غرض ہے کہ جب بندہ سارا دن انگریزی میں ہی پڑھتا ہے اور انگریزی میں ہی لکھتا ہے تو اس کا کچھ نا کچھ اثر تو انسان کی زندگی پر ضرور پڑتا ہے. زبان اس مین رچ بس سی جاتی ہے اور زبان سیکھنا بنیادی طور پر ہے ہی ایک پریکٹس، تو کچھ رعایت دے دیا کریں جو لوگ نارمل حالات میں بھی آپ کو انگریزی میں جواب دیتے ہیں. ہی

  • ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    گزشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک دوست نے سوال کیا ہوا تھا کہ ہم انگلش کیوں بولتے ہیں. یہ ایشو صرف میرا اور آپ کا نہیں ہے بلکہ تقریباً سارے پاکستان کا ہی مسئلہ ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف فورمز پر، مہمانوں اور اجنبی لوگوں کے سامنے، کالج و یونیورسٹی میں، میڈیا و سوشل میڈیا پر ہم انگریزی بول پائیں تاکہ سننے والوں پر رعب پڑ جائے کہ اس کو انگریزی آتی ہے. کچھ ہمارے جیسے انگریزی کے سفید پوش تو ایسے بھی ہوتے بلکہ اکثر ہی ایسے ہوتے کہ جن کو انگریزی تو بولنی نہیں آتی لیکن ہماری بھی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ دوران گفتگو کوئی نہ کوئی لفظ انگریزی کا ضرور بولیں یہ اور بات ہے کہ لب و لہجہ مقامی ہوتا ہے اور سننے والے پر وہ تاثر نہیں پڑتا جو ہمیں مطلوب ہوتا ہے شرمندگی سی مقدر بنتی ہے.

    مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی کا رویہ بھی بڑا منافرت سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر ملکی اپنے لب و لہجے میں ہماری قومی زبان بولنے کی کوشش کرے اور اکثر الفاظ کی ادائیگی غلط ہی کرتا ہے تو ہم سبھی بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن جب کوئی اپنا ہی دیسی بندہ مقامی لب و لہجے میں انگریزی بولنے کی کوشش کرے تو سبھی اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے ہیں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے. بہرحال ہم بات کرتے ہیں کہ ہم انگریزی کو اپنی قومی یا مقامی زبانوں پر ترجیح کیوں دیتے ہیں.

    ‏‎سب سے پہلی بات کیونکہ من حیث القوم ہم احساس کمتری کا شکار ہیں کہ شاید انگریزی ہی واحد معیار ہے اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور مہذب دکھانے کا تو دہرے تہرے ہوکر بولنی انگریزی ہی ہے.

    دوسری بات موجودہ ایام میں چونکہ دنیا میں ڈنکا امریکہ اور یورپین ممالک کا بجتا ہے اور وہ سپر پاور سمجھے جاتے ہیں تو انہی کی کرنسی اور زبان اک معیار سمجھی جاتی ہے جب ان کی برتری ختم ہوجائے گی تو یہ کرنسی و زبان کا برتر ہونا بھی ‏‎ختم ہوجائے گا.

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. کولڈ وار سے قبل اور کولڈ وار کے دوران، دوسرے لفظوں میں افغان جہاد سے قبل دنیا میں روسی کرنسی کا دور چلتا تھا بچے بچے کو پتا تھا کہ روس کی کرنسی کا نام روبل ہے. مگر جب افغان جہاد میں روس کو شکست ہوئی اور وہ ٹکڑوں میں بٹا تو آج دنیا کو روبل کا نام بھی یاد نہیں ہے. اسی طرح جب دنیا سے امریکہ و یورپ کی شکل میں سامراجیت کا خاتمہ ہوگا تو ان کی ثقافت، زبان، کرنسی وغیرہ کا بھی دنیا سے خاتمہ ہوجائے گا.

    کیونکہ سادہ سی بات ہے کہ جو دنیا میں برتر ہوتا ہے نظام بھی اسی کے چلتے ہیں وہ نظام چاہے معاشی ہوں، لسانی، عسکری یا علمی. ہم لاکھ نعرے ماریں امریکہ لیکن امریکہ ایک سپر پاور ہے تو ‏‎چونکہ ہم ذہنی طور پر اس کی برتری کو قبول کرچکے ہیں اگرچہ ہم ظاہری طور پر نعرہ تو لگاتے ہیں امریکہ و برطانیہ کی برتری ختم کرنے کالیکن ہمارے دل اس میں ہمارا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ دنیا سے سامراجیت کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہم اس کی کوئی واضح پلاننگ نہیں رکھتے ہیں نہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اور نہ عسکریت و معیشت کے میدان میں. نتیجہ اس کا یہی ہےکہ ہم ان کے نظاموں کو اپنانے میں مجبور ہیں اور آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہم ان کے نظاموں اور ان کی ثقافتوں کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں.

  • اپنے آپ سے بات لازمی کریں———مریم سلیم

    اپنے آپ سے بات لازمی کریں———مریم سلیم

    میں اکثر اپنے آپ سے بات کرتی۔ جب بھی محجھے لگتا ہے کہ محجھ میں کوئی برائی پیدا ہو رہی ہے۔ یا اردگرد کا ماحول محجھ میں تبدیلی لا رہا ہے تو میں اپنے آپ سے بہت سے سوال کرتی ہوں۔
    جانچنے کی کوشش کرتی ہوں کہ کیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟
    کل رات بھی میں اپنے آپ سے بات کر رہی تھی۔اور محجھےپتا چلا کہ میرے اندر نفرت (نیگیٹیویٹی ،اکتاہٹ یا پھر اعتبار کا اٹھ جانا) پیدا ہو رہی ہے. وہ نفرت جو ہم صرف ایک دوسرے سے محظ اس بنا پر کرتے ہیں کیوں کہ وہ ہم سےمختلف سوچ یا رائے رکھتے ہیں(اور یہ ہماری انا کو گوارہ نہیں)یا ہمیں غلط سمحجھتے ہیں۔ ذات کی بیماری جاننے کہ بعد میں نے علاج چاہا۔ لیکن کیا علاج معالج کے بغیر ممکن ہے؟
    بلکل نہیں!
    اب پتا یہ کرنا تھا کہ معالج زندہ بھی ہے یا نہیں، اسی سلسلے میں میں نے اسے پکارا میں جا نتی تھی کہ اگر تو زندہ ہے تو وہ میرے پہلے سوال پر محجھےمل جائے گا نہیں تو پھر ۰۰۰(اناللّه و انا علیہ راجعون)
    میں نےسوال کیا۰۰۰
    کیا یہ (اختلاف کی بنیاد پر نفرت )سہی ہے؟
    کحچھ دیر کا وقفہ رہا۰۰۰
    پھر اندر سے جواب آیا
    نہیں!
    اور میں جان گئ معالج (ضمیر)ابھی زندہ ہے۔
    میرے اندر اطمینان کی لہر دوڑ گئی ۔
    کیوں کہ جب تک آپکا ضمیر زندہ رہتا ہے تب تک اصلاح کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔(معالج ہو تو علاج ممکن ہے) اور میں جان گئی کہ اپنے اچھے اخلاق سے نفرت کرنے والوں کو بہترین جواب دیا جا سکتا ہے۔ اپنے آپ سے بات کریں اپنی غلطیوں کو کمزوریوں کوتسلیم کریں۔ یہی چیز ہمیں انسان بنائے رکھتی ہے ۔ ورنہ ہم جانوروں سے بد ترہیں۔ یہی بات ہمیں ادنٰی اوراعلٰی بناتی ہے. خوش رہیں خوش رکھیں ۔لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں. اور اپنے ضمیر کو مرنے مت دیں۔

  • رنگ باز

    رنگ باز

    معاشرہ انسانوں کا جنگل ہے۔ جہاں رہتے ہوئے انسان کو آئے روز مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انسانوں کا واسطہ انسانوں سے ہی پڑتاہے۔ ہر انسان مجبور یوں ، ضرورتوں اور مفادات کا غلام ہے۔ وہ روز باہر نکلتاہے تاکہ اس جنگل میں اپنی صلاحیت اور حیثیت کے مطابق اپنا حصہ گھر لا سکے۔ صبح ہوتے ہی انسانوں کا ریلا گھروں سے نکلتاہے جو بظاہر تو الگ الگ کام دھندے کرتے نظر آتے ہیں مگر ان سب کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہوتاہے کہ اس انسانوں سے بھرے جنگل میں وہ اپنا حصہ کیسے حاصل کریں۔
    کسی نے کیاخوب کہا ہے کہ ” بندہ بندے دا دارو اے تے بندے ای بندے دا مارو اے ”
    اس کاروبار زندگی میں سب انسان برسرپیکار نظر آتے ہیں. کچھ ایمانداری سے کچھ بے ایمانی سے ، کوئی زور زبردستی اور دھونس دھاندلی سے ، کوئی پیار اخلاق اور رواداری سے کوئی مانگے تانگے سے اپنا اپنا حصہ اکٹھا کرتا پھرتا ہے۔ کسی کو اسکی سوچ کے مطابق، کسی کو کم اور کسی کو اپنی اوقات سے کہیں زیادہ حصہ ملتاہے اور کسی کو لاکھ کوشش کے باوجود بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جنہیں معقول حصہ ملتاہے وہ صبر شکر کرتے ہیں ،جنہیں کم ملتاہے وہ واویلا مچاتے ہیں. اور کجن کا ہاتھ بڑے حصے پر پڑ جاتا ہے وہ اپنا حصہ لے کرآگے آگے اور جنہیں حصہ نہیں ملتا اُسکے آگے پیچھے چلتے کچھ دُم ہلاتے نظر آتے ہیں کہ شائد کچھ انہیں بھی مل جائے .
    کچھ راہ میں صرف چھینا جھپٹی کے لیے بیٹھے رہتے ہیں ۔اور دوسروں کا حصہ چھین کر اتراتے پھر تے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں کرتے مگر اُن کی بڑی دھاک ہوتی ہے اور انہیں اُن کا حصہ اُن کے گھر پہنچ جاتاہے۔

    جن کے پاس اُن کی ضرورت سے کہیں زیادہ جمع ہوجاتاہے اُن کی حوس بھی اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے وہ بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں بناتے ہیں ۔دولت کو کئی گُنا کرنے کے طریقے اپناتے ہیں ۔ اور دولت اور جائیدادوں کے انبار لگاتے ہیں اورپھر اُن میں سے اکثر خود کو خدا ترس عوام دوست اور سخی ثابت کرنے کے لیے خیراتی ادارے ، ہسپتال اور مفت کھانوں کے دسترخوان بھی سجاتے نظر آتے ہیں۔ مگر اپنے کارخانوں میں کام کرنے والوں کو دو وقت کی روٹی تو دور وقت پر مزدوری تک دینے سے بھی ان کی جان جاتی ہے۔

    رنگ باز کسی رام چوبارے سے، کسی گلی کے نکڑ سے، کسی کھڑکی کے پیچھے سے نیشنل جیوگرافی کے کسی فوٹو گرافر کی طرح سب کا تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کیسے خود کو اشرف المخلوق کہنے والے انسان اپنے حصے کی تلاش میں مارا مارا پھرتاہے۔ کوئی مارا ماری کرتا پھرتاہے ۔کچھ دست گریباں ہیں ۔کچھ کو دووقت کی روٹی میسر نہیں اور کچھ کے پاس دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔
    لیکن وہ خود کونسا فرشتا ہوتاہے یا پھر اُس کے لیے کونسا من وسلوا اُترتاہے ۔اُسے بھی پیٹ لگا ہوتاہے ۔اس لئے اسے بھی روزباہر نکلنا پڑتاہے ۔ لوگوں سے ملنا پڑتاہے اپنا حصہ ڈھونڈنا پڑتاہے۔
    لیکن رنگ باز کسی کا حق نہیں مارتا۔ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اپنے فن سے وہ اپنا حصہ کماتاہے ۔رنگ باز ایک ایسا کریکٹر ہے ۔جو ہر معاشرے میں پایا جاتاہے ۔ رنگ باز کی جو تعریف ہم سُنتے آئے ہیں وہ حقیقت میں رنگ باز نہیں بلکہ موقع پر ست کی تعریف ہے ۔
    رنگ باز تو کوئی الگ ہی مخلوق ہے۔وہ زندنگی میں رنگ بھرتاہے ،انسانوں کو ہنساتاہے ، انہیں حیران کرتاہے ، انہیں سوچنے پر مجبور کرنے والا کردارہے ۔ رنگ باز زندگی سے چڑتانہیں ، جھگڑتا نہیں، زندگی سے بھاگتا نہیں بلکہ زندگی کو گلے لگا کر اس کے رنگوں اور اسکے انگوں کا لُطف اُٹھاتاہے ۔اور زندگی سے الجھتے لوگوں بھی رنگ سمیٹنے کی دعوت دیتاہے ۔

    رنگ باز انسانوں کے معاشرے کا وہ کردار ہے جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتاہے۔ وہ سب کوالُجھا ہوا چھوڑ کر خود اُلجھن سے نکل جاتاہے ۔ رنگ باز ایسا فنکار ہوتاہے جو اپنے فن سے آشنا ہوتاہے لیکن اپنے فن کو بے جاحصہ حاصل کرنے میں ضائع نہیں کرتا۔وہ اُتنا حصہ لیتاہے جتنی اُسکی ضرورت ہوتی ہے۔ رنگ باز ایک الگ ہی طرح کا انسان ہوتاہے ۔اسے انسانوں سے ملنے اُن سے باتیں کرنے انہیں ہنسانے اور کبھی انہیں الجھانے میں زیادہ لُطف آتاہے ۔ کبھی کوئی اسے جوکر کہتاہے ،کوئی مسخرہ سمجھتا ہے کوئی باتونی تو کوئی چول یا پھر جوکر .مگر رنگ باز سب کی سُن کر ہنستا آگے بڑھ جاتاہے ۔

    رنگ باز کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا مگر اپنی ذہانت اور چکنی چیڑی باتوں سے خود کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور پہنچا تاہے ۔ رنگ باز بہت ہی ہنس مکھ، حاضر جواب ،اور صورتحال کے مطابق ڈھلنے والا یا پھر یوں کہیے کہ صورتحال کو اپنے حق میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مگر وہ موقع پرست نہیں ہوتا بلکہ موقع کا درست استعمال جانتاہے ۔ مفت کے مشورے دینے میں اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا مگر غلط مشورہ نہیں دیتا۔ کوئی راستہ پوچھ لے تو گھر تک چھوڑ کرآنے میں خوشی محسوس کرتاہے ۔

    لوگ اپنی زندگیوں میں سارا دن اپنے تھوڑے بہت حصے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ لیکن رنگ باز زندگی کے رنگوں کی تلاش میں پھرتاہے ۔۔ وہ رنگ اکٹھے کرتا ہے بانٹاہے ، بکھیرتاہے ۔اورزندگی میں رنگ بھرتاہے۔کیونکہ اُس کی بھوک بہت کم ہوتی ہے ۔
    وہ لوگوں کی خوشی میں بھی بن بلائے پہنچ جاتاہے تو دُکھ میں بھی۔ چاہے کرسیاں لگوانی ہوں یا کھانا تقسیم کروانا ہووہ سب سے آگے نطر آتاہے ۔ آخرمیں خود بھی پیٹ پھر کر کھانا کھا کر چلتا بنتاہے۔
    لوگ اپنی زندگیوں سے ایسے جونجتے پھر تے ہیں ایسے لڑتے پھرتے ہیں کہ زندگی کے رنگوں کو دیکھنے کی حس کھوبیٹھتے ہیں ۔لیکن رنگ باز نہ صرف خود ان رنگوں سے لطف اندوز ہوتاہے بلکہ اورں کو بھی رنگ بانٹتا اورکبھی آئینہ دکھاتا گزر جاتاہے۔۔ رنگ باز کوڈھونڈنا مشکل نہیں ۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں پر نہیں بستا۔۔ آپ کے ارد گرد ہی کہیں گھومتا پھر تا ہے۔

  • اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    گزشتہ روز ہم اور پروفیسر سلیم ہاشمی یو ایم ٹی کے ماہانہ ادبی ناشتے میں بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔ لیکن پروفیسر سلیم ہاشمی بوجہ علالت کے اتنی شاندار تقریب میں شرکت نہ کر سکے ۔لیکن انہوں نے مجھے بطور خاص ہدایت کی ان کی نمائندگی درویش صفت تحریک ‘ قومی سوچ کے حامل’ ماہر اقتصادیات ‘ ماہر تعلیم سابق اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی رہنما جناب جمیل بھٹی صاحب کریں۔ جمیل بھٹی صاحب ایک سابق بیوروکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مالیات سے متعلق بہت سی انگریزی کتب کے ترجمے بھی کر رہے ہیں ۔ آپ جامعہ پنجاب کے شعبہ انگریزی کے سابق سربراہ مرحوم اسمعیل بھٹی کے انتہائی لائق فرزند ہیں ۔ آپ نے حاضرین کو اپنی ملازمت کے دوران کےبہت سے اجلاس کا حال سنایا کہ بیوروکریسی میں تمام اجلاسوں اردو میں ہوتے ہیں لیکن ان کی کاروائی انگریزی میں لکھی جاتی ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ تعلیم مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب سے بیگانہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میری انگریزی شاعری کی دو کتب چھپ چکی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود میں اردو اور پنجابی میں اپنے خیالات کھل ڈھل کر بیان کرسکتا ہوں”
    ہم نے اپنے خطاب میں مرزا الیاس اختر کا بہت شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے ہم سے اس تقریب کو منعقد کرنے کا ایک پرانا وعدہ اہداء کیا۔اگر چہ یہ وعدہ ادھورا ہے۔ کیونکہ ان کا ہم سے وعدہ تھا کہ وہ نفاذ اردو کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس منعقد کریں گے۔ انہوں نے پھر ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
    ہم نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ بس! پاکستان میں اتنی اردو نافذ کردیں!
    جتنی برطانیہ میں برطانوی انگریزی
    ایران میں فارسی
    چینی میں چینی
    فرانس میں فرانسیسی
    جرمن میں جرمنی!
    اور انگریزی کو اتنی اختیاری حیثیت دے دیں جو ان ممالک نے دے رکھی ہے۔۔
    ہم نے حاضرین سے درخواست کی کہ نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کروانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جہاں بھی نفاذ اردو فیصلے کی توہین ہورہی ہے۔ہر پاکستانی اس توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے”
    یہ بہت خوش آئند بات تھی کہ تقریب میں دو انگریزی میڈیم اداروں کے سر براہان اور نوجوان بھی شریک تھے۔ انہوں نے ہماری باتیں بہت غور اور دلچسپی سے سنیں۔ انگریزی میڈیم ادارے نے ہمیں اپنے ادارے میں نفاذاردو کا لیکچر دینے کی دعوت دی۔
    الحمداللہ! نفاذ اردو کے حوالے سے نوجوانوں میں بہت شعور پیدا ہورہا ہے جو ایک روشن صبح کی امید ہے۔ معروف ادیبہ اور شاعرہ تسنیم کوثر نے ہمارا یہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا۔ ” فاطمہ قمر کی تقریب ہو اور میں نہ جاؤں”
    اصل میں یہ تسنیم کوثر کی خود اردو سے محبت کا ثبوت ہے۔
    میجر ریٹائرڈ خالد نصر ہمیشہ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ اور بہت جذبے اور شوق کے ساتھ وقت پر تشریف لائے۔۔آپ ادبی لحاظ سے بہت سر گرم ہیں۔
    گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کی سابق پرنسپل محترمہ ساجدہ پروین اور فوزیہ محمود فروا نے ہماری دعوت پر بطور خاص پروگرام میں شرکت کی۔ اور ایک صاحب سیدھا اسلام آباد سے تقریب میں شرکت کرنے پہنچے۔
    بہت سے لوگوں کے انباکس میں پیغامات آئے کہ انہوں نے پیغام دیر سے دیکھا جب تقریب ختم ہوچکی تھی۔۔
    اتنی پروقار تقریب کا انعقاد کرنے پر ہم مرزا الیاس اختر اور یو ایم ٹی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
    پروفیسر سلیم ہاشمی کو تقریب میں شرکت نہ کرنے کا بہت افسوس رہا ۔اپ کے الفاظ ہیں ” کہ یو ایم ٹی کے فورم سے نفاذاردو کی بات کرنا میرا خواب رہا ہے”
    ان شاءاللہ! اللہ کی ذات سے یقین کامل ہے کہ وہ پروفیسر سلیم ہاشمی اور ہم سب کا نفاز اردو کا خواب شرمندہ تعبیر کرے گا! ان شاءاللہ
    ان تمام معزز مہمانوں کا شکریہ جنہوں نے ہماری دعوت پر اس تقریب میں شرکت کی۔

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک