Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • خیر الدین زرکلی،شام کے مشہور قومی شاعر

    خیر الدین زرکلی،شام کے مشہور قومی شاعر

    خیر الدین زرکلی،شام کے مشہور قومی شاعر

    پیدائش:25 جون 1893ء
    بیروت
    وفات:25 نومبر 1976ء
    قاہرہ
    شہریت:سوریہ
    مناصب
    سعودی سفیر برائے مصر
    دفتر میں
    ۔۔۔ 1934 – 1946
    زبان:عربی

    خیر الدین زرکلی انیسویں صدی کے شام کے مشہور قومی شاعر، مؤرخ اور مصنف تھے۔ عموماً اپنے اشعار میں فرانسیسی سامراج پر تنقید کرتے تھے۔ فرانسیسیوں کے مقابلے کے لیے مجاہدین کی مدد کرتے تھے اسی وجہ سے کئی بار فرانسیسیوں نے انھیں سزائے موت سنائی لیکن ہر بار وہ ان سے بھاگ کر بچ نکلنے میں کامیاب رہتے۔

    خیر الدین زرکلی 25 جون 1893ء میں بیروت میں پیدا ہوئے، ان کے والد محمود بن محمد بن علی بن فاس زرکلی دمشق کے مشہور تاجر تھے۔ ابتدائی تعلیم دمشق میں اپنے وطن میں حاصل کی، اس کے علاوہ مکہ، ریاض، مدینہ منورہ، عمان، بیروت اور قاہرہ کا سفر کیا۔ انھوں نے سعودی عرب سفارت میں بھی کام کیا ہے اور عرب لیگ میں بطور وزیر اور سعودی عرب کا ترجمان ہونے کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ سنہ 1957ء میں مغربی ممالک میں سعودی سفیر مقرر ہوئے، یہ ان کا آخری عہدہ تھا۔ کئی اخبار و رسائل بھی جاری کیے مثلاً: ”الحیاۃ فی القدس“، ”لسان العرب“، ”الاصمعی“ اور ”الفقید فی دمشق“ وغیرہ۔ علاوہ ازیں قاہرہ میں ان کا ایک عربی مطبع بھی تھا۔ ان کی مشہور کتابوں میں سے: ”الاعلام للزرکلی“ (موجودہ زمانے میں شخصیات کی تاریخ و تراجم پر سب سے بڑی کتاب) ہے جس کی تالیف و ترتیب میں 60 سال لگے۔ اس کے علاوہ دس اور دوسری تالیفات ہیں۔ ان میں ایک دیوان بھی ہے جو ان کی نظموں اور شعری کلام کا مجموعہ ہے اور ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ ان کی وفات 25 نومبر 1976ء کو قاہرہ، مصر میں ہوئی

  • بلبل پنجاب کا خطاب پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ کا یوم پیدائش

    بلبل پنجاب کا خطاب پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ کا یوم پیدائش

    بلبل پنجاب کے نام سے مشہور ہونے والی پنجابی زبان کی نامور گلوکارہ اور شاعرہ سریندر کور کا آج جنم دن ہے.
    تحریر؛ آغا نیاز مگسی
    سریندر کور 25 نومبر 1929 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ وہ پنجابی لوک گیت کی صنف میں اپنی شراکت کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے نے کئی مشہور اشعار گائے ہیں جن میں نند لال نورپوری، موہن سنگھ، امریتا پریتم اور دیگر نے لکھا ہےجبکہ کئی گیت اور اشعار خود ان کے اپنے لکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے بلھے شاہ کے پنجابی صوفی کافیاں بھی گائیں اور خوب پذیرائی حاصل کی۔ ان کے چند مقبول گانوں میں ‘جتی قصوری ۔پڑیاں نہ غریبی’، ‘گھمن دی رات لمی ہے جان میرے گیت لمے نے’، ‘اہنا آکھیاں’ ‘چ پون کیون کالرا’، ‘ماونتے دھیان’، ‘لٹھے دی چادر’، ‘کالا’ شامل ہیں۔ ڈوریا اور بہت کچھ۔ وہ اپنی بڑی بہن پرکاش کور کے ساتھ جوڑی کے ساتھ ملک بھر میں مشہور ہوگئیں۔

    انہوں نے آسا سنگھ مستانہ، رنگیلا جٹ، کرنیل گل، دیدار سندھو اور یہاں تک کہ اپنی بیٹی ڈولی گلیریا اور پوتی سنائی کے ساتھ گایا ہے۔ چھ دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1943 میں لاہور ریڈیو اسٹیشن سے کیا جبکہ مجموعی طور پر انہوں نے 2,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے۔ سال 1984 میں، انہیں پنجابی لوک موسیقی کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں 2006 میں حکومت ہند کی طرف سے چوتھا سب سے بڑا سول ایوارڈ پدم شری بھی ملا۔ انہیں ملینیم پنجابی سنگر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہیں 2002 میں گرو نانک دیو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ سریندر کور کا انتقال 14 جون 2006 کو 77 سال کی عمر میں نیو جرسی، امریکہ کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سریندر کور کو ان کی وفات کے بعد بلبل پنجاب کا خطاب دیا۔

    سریندر کور تقسیم ہند کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ غازی پور ہندوستان منتقل ہو گئیں ۔ 1948 میں ان کی شادی دہلی یونیورسٹی کے پنجابی شعبہ کے سربراہ پروفیسر جوگندر سنگھ سوڈھی سے ہوئی تھی، جنہوں نے بعد میں ہندی فلم انڈسٹری میں ان کا کیریئر بنانے میں بہت بڑی مدد کی۔ یہ جوڑے پنجاب میں انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے سربراہ تھے۔ 2006 میں دور درشن پر ان کی زندگی اور شراکت پر ایک دستاویزی فلم، ’پنجاب دی کوئل‘۔ نشر کی گئی ان کی بہن پرکاش کور اور بڑی بیٹی ڈولی گلیریا بھی گلوکارہ ہیں۔ سریندر کور کی 3 بیٹیاں ہیں ۔ بڑی بیٹی ڈولی گلیریا پنجکولہ امریکہ میں رہتی ہیں جبکہ نندینی سنگھ اور پرمودنی نیو جرسی امریکہ میں آباد ہیں ۔

  • اروندھتی رائے

    اروندھتی رائے

    اروندھتی رائے
    پیدائش:24 نومبر 1961ء
    شیلانگ
    شہریت:بھارت
    شریک حیات:پرادیپ کرشن
    والدہ:میری رائے
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    پیشہ:ناول نگار، مصنفہ، منظر نویس، مضمون نگار
    زبان:انگریزی، ہندی ، اردو
    شعبۂ عمل:مضمون
    کارہائے نمایاں:سسکتے لوگ
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ٹائم 100 – (2014)
    ۔ (2)سڈنی امن انعام – (2004)
    ۔ (3)مین بکر پرائز
    ۔ (برائے:سسکتے لوگ) – (1997)

    سوزننا اروندھتی رائے بھارتی مصنفہ ہیں جو اپنی شاہکار ناول سسکتے لوگ کے لیے جانی جاتی ہیں۔ اس ناول کے لیے ان کو 1997ء میں مین بکر پرائز اعزاز سے نوازا گیا اور یہ کتاب کسی بھی بھارتی کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی تھی۔ وہ ایک سیاسی فعال پسند بھی ہیں جو انسانی حقوق اور ماحولیاتی شعور کے لیے کام کرتی ہیں۔
    ابتدائی حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اروندھتی رائے کی پیدائش شیلانگ، میگھالیہ، بھارت میں ہوئی۔ ان کی والدہ میری رائے ایک ملیالی نسل کی مار توما مسیحی مذہب کو ماننے والی اور عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم تھیں۔ ان کا تعلق کیرالا سے تھا۔ اروندھتی رائے کے والد ایک بنگالی ہندو تھے اور کولکاتا میں چائے کی کھیتی میں منیجر تھے۔ رائے محض دو سال کی تھیں جب ان کے والدین کا طلاق ہوگیا اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ کیرلا میں آ بسیں۔ ایک وقت تک ان کا خاندان نانا کے یہاں اوٹی، تمل ناڈو میں رہا پھر جب وہ پانچ سال کی تھیں تب کیرلا واپس چلی گئیں جہاں ان کی والدہ نے اپنا ایک اسکول کھول لیا تھا۔
    ذاتی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رائے دہلی آگئیں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیرز میں ان کو ایک عہدہ مل گیا۔ 1984ء میں ان کی ملاقات ایک آزاد فلم ساز پردیپ کرشن سے ہوئی جنھوں نے رائے کو اپنی انعام یافتہ فلم ماسے صاحب میں گودر کا رول دیا۔ بعد میں دونوں نے شادی کرلی۔ ان دونوں تحریک آزادی پر ایک ٹی وی سلسلہ میں ساتھ کام کیا اور دو فلمیں بھی ساتھ میں کیں۔ بعد میں دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔
    ان کی ناول دی گاڈ آف اسمال تھنگز (سسکتے لوگ) کی کامیابی کے بعد ان کی معاشی حالت سدھر گئی۔ اس کی اشاعت 1997ء میں ہوئی تھی۔ بھارت کے نامی خبر رساں ٹی وی میڈیا گروپ این ڈی ٹی وی کے صدر پرینوئے رائے کی کزن ہیں۔ اور فی الحال دہلی میں مقیم ہیں۔

    ابتداءا رائے نے ٹی وی اور فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے ان وچ اینی گرز اٹ دوز ہنز 1989ء فلم میں منظرنامہ لکھا۔ یہ فلم فن تعمیر کے طالبعلم کے تجربوں پر مبنی تھی اور اس میں رائے نے بھی کردار نبھایا تھا۔ ان کی دوسری فلم الیکٹرک مون 1992ء تھی۔ دونوں ان کے شوہر نے ڈائریکٹ کیں۔ رائے کو اول الذکر فلم کے لیے 1988ء میں نیشنل فلم اوارڈ فار بیسٹ اسکرین پلے سے نوازا گیا۔ 1994ء میں ان کو اس وقت خوب شہرت ملی جب انہوں نے پھولن دیوی کی زندگی پر مبنی شیکھر کپور کی فلم بنڈت کوین کی تنقید کی۔ انہوں نے اپنے تنقید نامے کو ‘‘بھارت میں عصمت دری کی عظیم چال‘‘ کا نام دیا اور ایک زندہ عورت کی عصمت دری کو اس کی اجازت کے بغیر اس طرح دکھائے جانے پر سوال اٹھایا اور کپور پر دیوی پر استحصال کا الزام بھی لگا دیا۔

  • 24 نومبر معروف شاعرہ پروین شاکر کا یوم پیدائش

    24 نومبر معروف شاعرہ پروین شاکر کا یوم پیدائش

    یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
    ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

    پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔

    شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ 1977ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ آپ کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔26 دسمبر 1994 میں وہ اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں وفات پا گئیں۔

    پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔

    پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
    ان کے لوحِ مزار پر انہیں کے یہ اشعار کنندہ ہیں :-

    یارب میرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
    زخمِ ہُنر کو حوصلہء لب کشائی دے

    شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
    آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے

  • معروف شاعرہ سیدہ شاہدہ حسن  کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ سیدہ شاہدہ حسن کا یوم پیدائش

    میں مثل موسم غم تیرے جسم و جاں میں رہی
    کہ خود بکھر گئی لیکن تجھے نکھار گئی

    سیدہ شاہدہ حسن نام اور تخلص شاہدہ ہے۔ 24 نومبر 1953ء کو چٹاگانگ میں پیدا ہوئیں۔ گورنمنٹ گرلز کالج کراچی سے انٹر کا امتحان پاس کرنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے پہلے انگریزی ادب میں بی اے(آنرز) اور پھر 1975ء میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ کراچی میں تدریس سے وابستہ رہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کا کلام ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہتا ہے۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’ایک تارا ہے سرہانے میرے‘‘، ’’یہاں کچھ پھول رکھے ہیں‘‘۔ 1992ء میں فانی بدایونی عالمی ایوارڈ کا مستحق قرار دیا گیا ۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:418

    تصنیفات

    ۔ (1)ادا جعفری فن و شخصیت-2007
    ۔ (2)یہاں کچھ پھول رکھے ہیں-2002
    ۔ (3)ایک تارہ ہے سرہانے میرے-1995
    ۔ (4)شام کی بارشیں

    غزل

    احساس تو مجھی پہ کر رہی ہے
    چھوکر جو ہوا گزر رہی ہے
    جس نے مجھے شاخ پر نہ چاہا
    خوشبو مری اس کے گھر رہی ہے
    بے سمتیٔ اشک کی ندامت
    اس بار بھی ہم سفر رہی ہے
    ٹھہرا ہے وہ جب سے رہ گزر میں
    مٹی مری رقص کر رہی ہے
    چپکے سے گھڑی گھڑی مسافرت کی
    دہلیز پہ پاؤں دھر رہی ہے
    تارے بھی نظر نہ آئیں گھر میں
    آنکھ ایسی گھڑی سے ڈر رہی ہے
    ٹوٹا ہوا عکس لے کے لڑکی
    آئینے میں پھر سنور رہی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سواد شام سے تا صبح بے کنار گئی
    ترے لیے تو میں ہر بار ہار ہار گئی
    کہاں کے خواب کہ آنکھوں سے تیرے لمس کے بعد
    ہزار رات گئی اور بے شمار گئی
    میں مثل موسم غم تیرے جسم و جاں میں رہی
    کہ خود بکھر گئی لیکن تجھے نکھار گئی
    کمال کم نگہی ہے یہ اعتبار ترا
    وہی نگاہ بہت تھی جو دل کے پار گئی
    عجب سا سلسلۂ نارسائی ساتھ رہا
    میں ساتھ رہ کے بھی اکثر اسے پکار گئی
    خبر نہیں کہ یہ پوچھوں تو کس سے پوچھوں میں
    وہاں تلک میں گئی ہوں کہ رہ گزار گئی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    چراغ شام ہی تنہا نہیں ہے
    ہوا میں نے بھی گھر دیکھا نہیں ہے
    وہ بادل ہے مگر اس دشت جاں پر
    ابھی دل کھول کر برسا نہیں ہے
    محبت اک حصار بے نشاں ہے
    لہو میں دائرہ بنتا نہیں ہے
    بکھرتی جا رہی ہوں اور خوش ہوں
    سمٹنے میں کوئی سچا نہیں ہے
    خوشا اے روئے شاخ سبز تجھ پر
    سراب آئینہ کھلتا نہیں ہے
    تجھے دیکھا ہے جب سے شام آلودہ
    مری آنکھوں میں دن اترا نہیں ہے
    میں کیوں دیکھوں ہجوم مہر و مہ کو
    مری تنہائیوں میں کیا نہیں ہے
    نہیں جاتے ہیں دکھ اب آ کے گھر سے
    کہ یہ آنا ترا آنا نہیں ہے
    بھٹک جائیں گی راتیں جس کے ہاتھوں
    ابھی اس خواب کا چرچا نہیں ہے
    زباں گم تھی اثر کے ذائقوں میں
    ترا مجرم لب گویا نہیں ہے

    تلاش و ترسیل :آغانیاز مگسی

  • کرشن چندر  ،23 نومبر  1914  یوم پیدائش

    کرشن چندر ،23 نومبر 1914 یوم پیدائش

    کرشن چندر ،23 نومبر 1914 یوم پیدائش

    اردو کے نامور افسانہ نگار کرشن چندر کی پیدائش 23 نومبر 1914ء کو وزیر آباد، ضلع گجرانوالہ، پنجاب (موجودہ پاکستان) میں ہوئی ۔ ان کے والد گوری شنکر چوپڑا میڈیکل افسر تھے ۔ کرشن چندر کی تعلیم کا آغاز اردو اور فارسی سے ہوا تھا۔ اس وجہ سے اردو پر ان کی گرفت کافی اچھی تھی۔ انہوں نے 1929ء میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔ اس کےبعد 1935ء میں انگریزی سے ایم ۔اے۔ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے قانون کی پڑھائی بھی کی تھی۔

    کرشن چندر کے معاصرین میں سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی تھے۔ خامہ فرسائی کے زریں دور کی بات کریں توپتہ چلتا ہے کہ کرشن چندر 1955ء سے لے کر 1960ء تک اپنا بہترین ادب تخلیق کر چکے تھے۔ ان کی کئی تصنیفات، مثلاً ’کالو بھنگی‘، ’مہالکشمی‘ اور ’ایک گدھے کی سرگذشت‘ کا فی مقبول ہوئے تھے۔

    کرشن چندر نے کئی فلموں کی کہانیاں، منظرنامے اور مکالمے لکھے۔ ’دھرتی کے لال‘، ’دل کی آواز‘، ’دو چور‘، ’دو پھول‘، ’من چلی‘، ’شرافت‘ وغیرہ ایسی فلمیں ہیں جنہوں نے کرشن چندر کی صلاحیتوں کو پردہ سیمیں پر پیش کیا۔
    کرشن چندر نے مسلمان ادیبہ سلمی صدیقی سے پسند کی شادی کی انہوں نے سلمی صدیقی کی شرط پر نکاح سے قبل اسلام قبول کیا اوراپنا اسلامی نام وقار احمد رکھاتھا۔

    8 مارچ 1977ء کو کرشن چندر کا انتقال ہوا۔

  • نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    یہ بات غلط ہے کہ نیوٹن جب درخت کے نیچے بیٹھا تھا تو اس کے سر پر سیب گر کر لگا- اصل میں تو وہ سکول سے بھاگ کر وہاں بیٹھا “کٹے” اور “وچھے” کی حرکات پر غور کر رہا تھا جس کے بعداس نے یہ قانون حرکت دریافت کیا-سیب قدرتی طور پر اس دوران اس کے سر پر گر گیا تھا-

    ڈیجٹل نسل کیلئے وضاحت کرتا چلوں کہ” کٹا “ میڈم بھینس“کے صاحبزادے کو کہتے ہیں اور” وچھا “ مس گائے کے بچے کا نام ہے-نیوٹن کے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کٹے اور وچھے کی گہری دوستی ہو گئی – وچھا کٹے سے کہتا کہ “یار آؤ گلی میں چھلانگیں مارتے ہیں “ جبکہ کٹا ہر وقت اس موڈ میں ہوتا کہ “نہیں بھائی -دیوار کے ساتھ بیٹھ کر “جگالی” مارتے ہیں(یعنی چیونگم چباتے ہیں)”- یہیں سے کٹے وچھے کا قانون دریافت ہوا-

    آپ اگر غور کریں تو آپ کو کئی “کٹے “ اور “وچھے” انسانی روپ میں آپ کے گھر گلی محلے اور دفتروں میں نظر آیئں گے- انسان نما کٹے ہر وقت چینگم چبا رہے ہوں گے اور آپ کو کہیں گے”یہ مشکل ہے”، “تم بزنس نہیں گر سکتے”، “ایک دفعہ سرکاری نوکری مل جائے تو پھر ٹھنڈ ہی ٹھنڈ”، “میں سیلیکٹو سٹڈی کروں گا”، “مین یہ سمسٹر ڈراپ کر دیتا ہوں اگلے میں زیادہ تیاری کروں گا”،”میں سی ایس ایس نہیں کر سکتا”، “میری انگلش ٹھیک نہیں ہو سکتی”، حالات میرے بس سے باہر ہیں”،”یہ نظام کی خرابی ہے”، “ہمارے حکمران ہی نالائق ہیں”، وغیرہ وغیرہ-

    کٹوں کے سب سے پسندیدہ جملے ہوتے ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”اس کام پر میرا دل نئیں کررہا” یا “آج میرا موڈ نہیں” یا “تم یہ کام نہیں کر سکتے”-

    کٹے دن رات ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ٹاک شو دیکھتے رہیں گے مگر جب کوئی گھر کا کامُ کہےگا تو انہیں سانپ سونگھ جائے گا-تھکاوٹ یاد آجائے گی- یہ ہر جگہ آپ کو اپنی” کٹا گیری” کرتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم کام کل پر ڈالیں گے اور دعا کریں گے کہ وہ کل کبھی نہ آئے- یہ ساری رات سمارٹ فون پر گزار کر دفتر میں اونگھتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم میٹنگ میں بغیر تیاری کے جایئں گے اور میٹنگ شروع ہونے تک ان کی خواہش ہو گی کہ اللہ کرے نہ ہی ہو-

    کٹے جم میں داخلہ کر سمجھیں گے کہ دفتر میں کرسی پر بیٹھے ہی وزن کم ہو جائے گا-یہ آپ کو ڈیوٹی پر اونگھتے نظر آہیں گے – کٹوں کے بال بڑھے ہوں گے کئی کئی دن نہ نہانے کی وجہ سے ان کے جسم سے” کٹ سوری” کی مہک آرہی ہوگی-یہ رات والے کپڑے پہن کر دفتر آجائیں گے- یہ آپ کو ہر وقت سہولیات کی کمی اور کام کی زیادتی کا شکوہ کرتے نظر آئیں گے- ان کے خیال میں یہ غلط وقت پر غلط ملک اور غلط لوگوں کے ہاں پیدا ہو گئے ہیں- یہ ہر وقت مواقع کی کمی کا شکوہ کرتے ہوں گے-یہ دیر سے سویئں گے اور دیر تک سوئیں گے- ان کی تو ندیں نکلی ہوں گی اور یہ نماز میں بھی اپنے رب کے حضور کٹھے ڈکار مار رہے ہوں گے

    کٹوں سے بچیں – یہ مضر انسانیت ہیں- یہ سب آپ کے اندر کے وچھے کو ورغلا کر “او گل” (جگالی) پر لگانا چاہتے ہیں – حالانکہ آپ کے اندر کا وچھہ باہر کی دنیا میں چھلانگیں لگانا چاہتا ہے- آسمان کو چھونا چاہتا ہے- ہواؤں کو مسخر کرنا چاہتا ہے- پانیوں پر تیرنا چاہتا ہے-

    آپ کی جب بھی کسی وچھے سے بات ہو گی وہ کہے گا “تم یہ کرسکتے ہو”، “تم کسی سے کم نہیں”، “تمہارے اردگرد کی دنیا مواقع سے بھری پڑی ہے”،”ہمارا ملک بھی کسی سے کم نہیں”، “”محنت ضائع نہیں جاتی” – وچھے کو جب بھی موقع ملے گا یہ چھلانگیں لگائے گا یہ سراپا توانائی ہوگا- اس کے زندگی میں بڑے بڑے گول(ارادے) ہوں گے- اسی اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہوگا – یہ کئی کٹوں سے بھی زندگی میں اپنی “وچھا ماری “سے بڑی بڑی چھلانگیں لگوانے کی کوشش میں ہوں گے-

    وچھوں کا پسندیدہ جملہ ہوگا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”ہم یہ کام کیسے نہیں کر سکتے؟” وچھے کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ نہیں ہوتا، اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ “پندرہ روپے کے نوٹ کا کھلا کروالو گے “ تو یہ کہیں گے کہ “ساڑھے سات کے دو نوٹ چاہئیں یا سوا تین کے چارنوٹ”

    دنیا کی ساری مادی ترقی وچھوں کی مرہون منت ہے- وچھوں کا سکرین ٹائم کم ہوگا-ان کے پاس فیملی اور دوستوں کے لئے وقت ہو گا- ان کا اپنے رب سے بھی رابطہ برقرا ہوگا- یہ آپ کو مولا کی عنایتوں کا شکر ادا کرے نظر آیئں- یہ کم کھائیں گے- ان کے سونے اور جاگنے کے وقت مقرر ہوں گے- ان کا لباس صاف ہوگا – یہ آپ کو لوگوں کے ساتھ قہقہے لگاتے نظر آئیں گے- پارک میں واک کرتے نظر آیئںگے-

    اگلی دفعہ آپ کو اگر کوئی کٹا میکڈانلڈ میں بیٹھ کر ڈبل زنگر برگر کے بعد کوک سے ڈکار مارنے کی دعوت دے تو آپ اسے جم میں جاکر پش آپس لگانے کا پتہ پھینکیں- جب بھی آپ کسی کے منہ سے سنیں کہ “تم یہ کام نہیں کر سکتے “ “یا چھوڑو یار کل کریں گے” تو آپ زورُسے نعرہ لگائیں کہ ۰۰۰۰۰“کٹا ای اوئے” اور اس کی صحبت سے نکل جایئں ۰۰۰۰

    زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو وچھے کی طرح اپنے آپ سے پوچھیں ۰۰۰۰۰۰۰۰۰“میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں؟” ۰۰۰۰۰۰۰ یہ “کیسے” کا سوال ہی آپ کو آپ کے اندر کے “وچھے“کی صلاحیتوں سے روشناس کروائے گا – جس نے اپنے اندر کو کھوج لیا وہ کامیاب ہوا- اس کی سب مرادیں بر آیئں-اسے اپنے دنیا میں آنے کا مقصد مل گیا- اسے نروان حاصل ہو گیا-

    آخر میں نیوٹن کا اصلی قانون حرکت بیان کرتا چلوں کہ

    ”اگر کوئی انسان حالت حرکت میں ہے تو وہ متحرک ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “کٹا” نہ ٹکر جائے ۰۰۰۰۰۰۰۰ اور اگر کوئی انسان حالت سکون میں ہے تو وہ ساکن ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “وچھا” نہ مل جائے”

    ویسے گورے یونہی تو گائے کا دودھ نہیں پیتے اور ہم بھینس کا؟”

  • یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں

    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں

    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو

    پیدائش:20 جنوری 1925ء
    دہلی، برطانوی راج
    (موجودہ بھارت)
    وفات:23 نومبر 2015ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان
    قومیت:مملکت متحدہ (1926-47)
    پاکستان (1947-2015)
    مذہب:اسلام
    جماعت:متحدہ قومی موومنٹ
    پاکستان پیپلز پارٹی
    زوجہ:طیّبہ بانو
    والدین:نواب سر امیرالدین احمد خاں
    سیّدہ جمیلہ بیگم
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    جامعہ کراچی
    پیشہ:سول سرونٹ، شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب
    زبان:اردو
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی، اردو
    دور فعالیت:1951-2015

    جمیل الدین عالی (20 جنوری، 1925ء – 23 نومبر، 2015ء) اردو کے مشہور شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب اور کئی مشہور ملی نغموں کے خالق تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ان کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    عالی جس طرح کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں ویسے ہی ان کی تخلیقی اظہار کئی سطحوں پر ہوتا رہتا ہے۔ تام انہوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اور وہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا ہے وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔ عالی اگر اور کچھ نہ بھی کرتے تو بھی یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا۔ کیونکہ شعر گوئی میں کمال توفیق کی بات سہی، لیکن یہ کہیں زیادہ توفیق کی بات ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑ، کوئی رخ، کوئی نئی جہت، کوئی نئی راہ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہو جائے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لا حاصل:شاعری
    ۔ (2)بس اِک گوشۂ بساط:
    ۔ خاکے،مضامین اور تاثرات
    ۔ (3)آئس لینڈ:سفرنامہ
    ۔ (4)کارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (5)بارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (6)دوہے:شاعری (دوہے)
    ۔ (7)حرف چند:انجمن ترقی اُردو کی
    ۔ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے
    ۔ (8)انسان:شاعری (طویل نظمیہ)
    ۔ (9)وفا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (10)صدا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (11)دعا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (12)اے مرے دشت سخن :اعری
    ۔ (13)تماشا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (14)دنیا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (15)جیوے جیوے پاکستان:شاعری
    ۔ (قومی و ملی نغمے)
    ۔ (16)غزلیں، دوہے، گیت:شاعری
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہلال امتیاز (2004)
    ۔ (2)تمغا حسن کارکردگی (1991)
    ۔ (3)آدم جی ادبی انعام (1960)
    ۔ (4)داؤد ادبی ایوارڈ (1963)
    ۔ (5)یونائٹڈ بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (6)حبیب بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (7)کینیڈین اردو اکیڈمی ایوارڈ (1988)
    ۔ (8)سنت کبیر ایوارڈ – اردو کانفرنس دہلی (1989)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
    میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا
    ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا
    اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
    کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا
    گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
    وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا
    اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
    دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا
    دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
    کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
    کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
    سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے
    کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
    کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق
    نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو
    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو
    ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا
    وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو
    بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ
    میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
    شاید آغاز بے وفائی ہے
    تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
    ساری دنیا سے آشنائی ہے
    کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
    عشق ہی عشق سے رہائی ہے
    شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
    میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے
    زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
    کوئی تقریب رو نمائی ہے
    اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
    اک سہارا شکستہ پائی ہے
    جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
    موت رو رو کے مسکرائی ہے

  • کعبے سے  غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
    عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا

    پیدائش: 17 56ء
    دہلی
    وفات:23 نومبر 1838ء
    حیدرآباد، دکن، ریاست حیدر آباد

    شاہ نصیر دہلوی یا محمد نصیر الدین ناصر (پیدائش: 1756ء— وفات: 23 نومبر 1838ء) اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی کے ابتدائی چار عشروں تک اردو زبان کے مشہور شاعر، میر تقی میر، مرزا غالب اور اُستاد ابراہیم ذوق کے ہم عصر تھے۔تخلص نصیر تھا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    شاہ نصیر نے 23 نومبر 1838ء کو 81 یا 82 سال کی عمر میں حیدر آباد، دکن میں وفات پائی۔ حیدرآباد، دکن میں درگاہ حضرت موسیٰ قادری میں دفن ہوئے۔ مؤرخین نے مادۂ تاریخ ’’چراغ گل‘‘ سے نکالا ہے۔
    کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    اُن کے کلام کو خصوصی حیثیت طویل ردیفوں کے مربوط شکل اور ہم رِشتہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہے۔وہ اِنتہائی مشکل زمین میں اِنتہائی خوبصورت شعر اور غزل کہنے میں ملکہ رکھتے تھے۔

    نصیرؔ :۔ سنگلاخ زمینوں اور مشکل ردیف و قوافی کی جو ابتدا ء سوداؔ کے زمانے سے شروع ہوچکی تھی وہ انشاؔ و مصحفیؔ سے گزر کرتا شاہ نصیرؔ کے کلام میں انتہا تک پہنچ گئی اور حقیقت یہ ہے کہ پرانے معیار پر اگر ان کا کلام جانچا جائے تو انھیں سرتاج الشعراء کہا جاسکتا ہے۔ طبیعت کی روانی، کثرتِ مشق اور زور و جوش نے ان کے کلام کو گرما گرم بنا دیا تھا ۔ پڑھنے کا انداز بھی نرالاتھا، آواز الگ پاٹ دار چنانچہ مشاعروں میں دھوم دھام پیدا کردیتے تھے۔ مصحفیؔ نے ان کے کلام کا زور شور سنا تھا لیکن لکھنوی شعراء ان کی استادی کے زعم میں شریک تھے۔ (الخ) آزادؔ کی رائے میں ان کے کلام کے متعلق زیادہ صحیح ہے لکھتے ہیں : ان کے کلام کو اچھی طرح دیکھا گیا۔ زبان شکوہ الفاظ اور چستی تراکیب میں سوداؔ کی زبان تھی اور گرمی و لذت خدا داد تھی۔ انھیں اپنی نئی تشبیہوں اور استعاروں کا دعویٰ تھا اور یہ دعویٰ بجا تھا۔ نئی نئی زمینیں نہایت برجستہ اور پسندیدہ نکالتے تھے مگر ایسی سنگلاخ ہوتی تھیں کہ بڑے بڑے شہ سوار تقدم نہ مارتے تھے۔ تشبیہہ و استعار ے کو لیا ہے اور نہایت آسانی سے برتا ہے جسے اکثر زبست انشاء پرداز نا پسند کرکے کم استعدادی کا نتیجہ نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تشبیہہ یا استعارہ شاعرانہ نہیں پھبتی ہے مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کہتے تو کلام سریع الفہم کیوں کر ہوتا اور ہم ایسی سنگلاخ زمینوں میں گرم گرم شعر کیوں کر سنتے۔ دہلی میں جو بوڑھے استاد مثلاً فراق، قاسم، عظیم بیگ وغیرہ رہ گئے تھے ان کے دعوؤں کو سنتے لیکن چپ نہ کرسکتے تھے۔ جن سنگلاخ زمینوں میں یہ دو غزلے کہتے، دوسروں کو غزل پوری کرنا مشکل ہوتی۔ غرض کہ نصیرؔ ایک زبردست شاعر تھے۔ وہ قدیم الفاظ جو انشاؔ و مصحفیؔ تک باقی تھے مثلاً ٹک وا چھڑے تس پر وغیرہ انھوں نے ترک کردیئے لیکن آئے ہے، جائے ہے وغیرہ افعال کو برقرار رکھا ہے مشکل ردیف قافیے میں بغیر تشبیہہ و استعارے کے بات نہیں بنتی۔ نصیرؔ کا تخیئل و تصور اس میں منجھا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہایت آسانی سے سنگلاخ زمینوں میں کامیاب رہتے ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    مشکل ہے روک آہ دل داغ دار کی
    کہتے ہیں سو سنار کی اور اک لہار کی

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
    عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا

    بوسۂ خال لب جاناں کی کیفیت نہ پوچھ
    نشۂ مے سے زیادہ نشۂ افیوں ہوا

    غرور حسن نہ کر جذبۂ زلیخا دیکھ
    کیا ہے عشق نے یوسف غلام عاشق کا

    خیال زلف دوتا میں نصیرؔ پیٹا کر
    گیا ہے سانپ نکل تو لکیر پیٹا کر

    جوں موج ہاتھ ماریے کیا بحر عشق میں
    ساحل نصیرؔ دور ہے اور دم نہیں رہا

    رکھ قدم ہشیار ہو کر عشق کی منزل میں آہ
    جو ہوا اس راہ میں غافل ٹھکانے لگ گیا

    نصیرؔ اس زلف کی یہ کج ادائی کوئی جاتی ہے
    مثل مشہور ہے رسی جلی لیکن نہ بل نکلا

    شیخ صاحب کی نماز سحری کو ہے سلام
    حسن نیت سے مصلے پہ وضو ٹوٹ گیا

    میں اس کی چشم کا بیمار ناتواں ہوں طبیب
    جو میرے حق میں مناسب ہو وہ دوا ٹھہرا

    سو بار بوسۂ لب شیریں وہ دے تو لوں
    کھانے سے دل مرا ابھی شکر نہیں پھرا

    آنکھوں سے تجھ کو یاد میں کرتا ہوں روز و شب
    بے دید مجھ سے کس لیے بیگانہ ہو گیا

    کیوں مے کے پینے سے کروں انکار ناصحا
    زاہد نہیں ولی نہیں کچھ پارسا نہیں

    کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوں
    چار عنصر کے سوا اور ہے انسان میں کیا

    خیال ناف بتاں سے ہو کیوں کہ دل جاں بر
    نکلتے کوئی بھنور سے نہ ڈوبتا دیکھا

    عشق ہی دونوں طرف جلوۂ دلدار ہوا
    ورنہ اس ہیر کا رانجھے کو رجھانا کیا تھا

    دیکھ تو یار بادہ کش میں نے بھی کام کیا کیا
    دے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیا

    جا بجا دشت میں خیمے ہیں بگولے کے کھڑے
    عرس مجنوں کی ہے دھوم آج بیابان میں کیا

    برقعہ کو الٹ مجھ سے جو کرتا ہے وہ باتیں
    اب میں ہمہ تن گوش بنوں یا ہمہ تن چشم

    چمن میں دیکھتے ہی پڑ گئی کچھ اوس غنچوں پر
    ترے بستاں پہ عالم ہے عجب شبنم کے محرم کا

    اک آبلہ تھا سو بھی گیا خار غم سے پھٹ
    تیری گرہ میں کیا دل اندوہ گیں رہا

    یہ ابر ہے یا فیل سیہ مست ہے ساقی
    بجلی کے جو ہے پاؤں میں زنجیر ہوا پر

    لگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر
    سبو بہ دوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا

    اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا
    جا چھوڑ دیا حافظ قرآن سمجھ کر

    ہم ہیں اور مجنوں ازل سے خانہ پرورد جنوں
    اس نے کی صحرا نوردی ہم نے گلیاں دیکھیاں

    یہ داغ نہیں تن پر میں دیکھنے کو تیرے
    اے رنگ گل خوبی آنکھیں ہوں لگا لایا

    لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میں
    بہم ہر موج سے چلنے لگی تلوار پانی میں

    آتا ہے تو آ وعدہ فراموش وگرنہ
    ہر روز کا یہ لیت و لعل جائے تو اچھا

    رواق چشم میں مت رہ کہ ہے مکان نزول
    ترے تو واسطے یہ قصر ہے بنا دل کا

    تیرے خیال ناف سے چکر میں کیا ہے دل
    گرداب سے نکل کے شناور نہیں پھرا

    کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوں
    چار عنصر سے کھلے معنیٔ پنہاں ہم کو

    ترے ہی نام کی سمرن ہے مجھ کو اور تسبیح
    تو ہی ہے ورد ہر اک صبح و شام عاشق کا

    پوچھنے والوں کو کیا کہیے کہ دھوکے میں نہیں
    کفر و اسلام حقیقت میں ہیں یکساں ہم کو

    دن رات یہاں پتلیوں کا ناچ رہے ہے
    حیرت ہے کہ تو محو تماشا نہیں ہوتا

    متاع دل بہت ارزاں ہے کیوں نہیں لیتے
    کہ ایک بوسے پہ سودا ہے اب تو آ ٹھہرا

    لگا نہ دل کو تو اپنے کسی سے دیکھ نصیرؔ
    برا نہ مان کہ اس میں نہیں بھلا دل کا

    ہم وہ فلک ہیں اہل توکل کہ مثل ماہ
    رکھتے نہیں ہیں نان شبینہ برائے صبح

    دیکھو گے کہ میں کیسا پھر شور مچاتا ہوں
    تم اب کے نمک میرے زخموں پہ چھڑک دیکھو

    شراب لاؤ کباب لاؤ ہمارے دل کو نہ اب گھٹاؤ
    شروع دود قدح ہو جلدی کہ سر پہ ابر بہار آیا

    ملا کی دوڑ جیسے ہے مسجد تلک نصیرؔ
    ہے مست کی بھی خانۂ خمار تک پہنچ

    بنا کر من کو منکا اور رگ تن کے تئیں رشتہ
    اٹھا کر سنگ سے پھر ہم نے چکناچور کی تسبیح

    نہ ہاتھ رکھ مرے سینے پہ دل نہیں اس میں
    رکھا ہے آتش سوزاں کو داب کے گھر میں

    سر زمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا
    اک مسافر تھا سر منزل ٹھکانے لگ گیا

    دود آہ جگری کام نہ آیا یارو
    ورنہ روئے شب ہجر اور بھی کالا کرتا

    نصیرؔ اب ہم کو کیا ہے قصۂ کونین سے مطلب
    کہ چشم پر فسون یار کا افسانہ رکھتے ہیں

    ہوا پر ہے یہ بنیاد مسافر خانۂ ہستی
    نہ ٹھہرا ہے کوئی یاں اے دل محزوں نہ ٹھہرے گا

    نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا
    طریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کا

    سپر رکھتا ہوں میں بھی آفتابی ساغر مے کی
    مجھے اے ابر تیغ برق کو چمکا کے مت دھمکا

    غرض نہ فرقت میں کفر سے تھی نہ کام اسلام سے رہا تھا
    خیال زلف بتاں ہی ہر دم ہمیں تو لیل و نہار آیا

    سب پہ روشن ہے کہ راہ عشق میں مانند شمع
    پاؤں پر سے ہم نے قرباں رفتہ رفتہ سر کیا

    مت پوچھ واردات شب ہجر اے نصیرؔ
    میں کیا کہوں جو کار نمایان نالہ تھا

    لے گیا دے ایک بوسہ عقل و دین و دل وہ شوخ
    کیا حساب اب کیجے کچھ اپنا ہی فاضل رہ گیا

    کیا دکھاتا ہے فلک گرم تو نان خورشید
    کھانا کھاتے ہیں سدا اہل توکل ٹھنڈا

    تشنگی خاک بجھے اشک کی طغیانی سے
    عین برسات میں بگڑے ہے مزا پانی کا

    میرے نالے کے نہ کیوں ہو چرخ اخضر زیر پا
    خطبہ خوان عشق ہے رکھتا ہے منبر زیر پا

    بسان آئنہ ہم نے تو چشم وا کر لی
    جدھر نگاہ کی صاف اس کو برملا دیکھا

    ریختہ کے قصر کی بنیاد اٹھائی اے نصیرؔ
    کام ہے ملک سخن میں صاحب مقدور کا

    یہ نگل جائے گی اک دن تری چوڑائی چرخ
    گر کبھو تجھ سے زمیں ہم نے بھی نپوائی چرخ

    اک پل میں جھڑی ابر تنک مایہ کی شیخی
    دیکھا جو مرا دیدۂ پر آب نہ ٹھہرا

    بجائے آب مے نرگسی پلا مجھ کو
    غذا کچھ اور نہ بادام کے سوا ٹھہرا

    مے کشی کا ہے یہ شوق اس کو کہ آئینے میں
    کان کے جھمکے کو انگور کا خوشا سمجھا

    ابر نیساں کی بھی جھڑ جائے گی پل میں شیخی
    دیدۂ تر کو اگر اشک فشاں کیجئے گا

    سرزمیں زلف کی جاگیر میں تھی اس دل کی
    ورنہ اک دام کا پھر اس میں ٹھکانا کیا تھا

    سیر کی ہم نے جو کل محفل خاموشاں کی
    نہ تو بیگانہ ہی بولا نہ پکارا اپنا

    چمن میں غنچہ منہ کھولے ہے جب کچھ دل کی کہنے کو
    نسیم صبح بھر رکھتی ہے باتوں میں لگا لپٹا

    پستاں کو تیرے دیکھ کے مٹ جائے پھر حباب
    دریا میں تا بہ سینہ اگر تو نہائے صبح

    گلے میں تو نے وہاں موتیوں کا پہنا ہار
    یہاں پہ اشک مسلسل گلے کا ہار رہا

    لب دریا پہ دیکھ آ کر تماشا آج ہولی کا
    بھنور کالے کے دف باجے ہے موج اے یار پانی میں

    گردش چرخ نہیں کم بھی ہنڈولے سے کہ مہر
    شام کو ماہ سے اونچا ہے سحر ہے نیچا

    نہیں ہے فرصت اک دم پہ آہ اس کو نظر
    حباب دیکھے ہے آنکھیں نکال کے کیسا

    ہم دکھائیں گے تماشہ تجھ کو پھر سرو چمن
    دل سے گر سرزد ہمارے نالۂ موزوں ہوا

    آمد و شد کوچے میں ہم اس کے کیوں نہ کریں مانند نفس
    زندگی اپنی جانتے ہیں اس واسطے آتے جاتے ہیں

    جب کہ لے زلف تری مصحف رخ کا بوسہ
    پھر یہاں فرق ہو ہندو و مسلمان میں کیا

    دیر و کعبہ میں تفاوت خلق کے نزدیک ہے
    شاہد معنی کا ہر صورت ہے گھر دونوں طرف

    غزل اس بحر میں کیا تم نے لکھی ہے یہ نصیرؔ
    جس سے ہے رنگ گل معنیٔ مشکل ٹپکا

    صیاد کے جگر میں کرے تھا سناں کا کام
    مرغ قفس کے سر پہ یہ احسان نالہ تھا

    دے مجھ کو بھی اس دور میں ساقی سپر جام
    ہر موج ہوا کھینچے ہے شمشیر ہوا پر

    کم نہیں ہے افسر شاہی سے کچھ تاج گدا
    گر نہیں باور تجھے منعم تو دونوں تول تاج

    ہو گفتگو ہماری اور اب اس کی کیونکہ آہ
    اس کے دہاں نہیں تو ہماری زباں نہیں

    شوق کشتن ہے اسے ذوق شہادت ہے مجھے
    یاں سے میں جاؤں گا واں سے وہ ستم گر آئے گا

    تار نفس الجھ گیا میرے گلو میں آ کے جب
    ناخن تیغ یار کو میں نے گرہ کشا کیا

    سربلندی کو یہاں دل نے نہ چاہا منعم
    ورنہ یہ خیمۂ افلاک پرانا کیا تھا

    کوئی یہ شیخ سے پوچھے کہ بند کر آنکھیں
    مراقبے میں بتا صبح و شام کیا دیکھا

    یہ چرخ نیلگوں اک خانۂ پر دود ہے یارو
    نہ پوچھو ماجرا کچھ چشم سے آنسو بہانے کا

    وقت نماز ہے ان کا قامت گاہ خدنگ و گاہ کماں
    بن جاتے ہیں اہل عبادت گاہ خدنگ و گاہ کماں

    دل پر آبلہ لایا ہوں دکھانے تم کو
    بند اے شیشہ گرو! اپنی دکاں کیجئے گا

    تار مژگاں پہ رواں یوں ہے مرا طفل سرشک
    نٹ رسن پر چلے ہے جیسے کوئی رکھ کر پاؤں

    تو تو اک پرچہ بھی واں سے نامہ بر لایا نہ آہ
    زندگی کیوں کر ہو گر ہم دل کو پر جاویں نہیں

    اسی مضمون سے معلوم اس کی سرد مہری ہے
    مجھے نامہ جو اس نے کاغذ کشمیر پر لکھا

    آ کے سلاسل اے جنوں کیوں نہ قدم لے بعد قیس
    اس کا بھی ہم نے سلسلہ از سر نو بپا کیا

    وصل کی رات ہم نشیں کیونکہ کٹی نہ پوچھ کچھ
    برسر صلح میں رہا اس پہ بھی وہ لڑا کیا

    دلا اس کی کاکل سے رکھ جمع خاطر
    پریشاں سے حاصل کب اک دام ہوگا

  • جارج ایلیٹ  ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    جارج ایلیٹ ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    جارج ایلیٹ ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    لفظ Pop Music کی خالق
    22 نومبر 1819 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قلمی نام جارج ایلیٹ سے شہرت حاصل کرنے والی ناولن نگار، شاعرہ اور مترجم "میری این ایوینز” کی زندگی میں خواتین مصنفین اپنے ہی ناموں کے تحت اپنا کام شائع کروانا شروع کر چکی تھیں، لیکن وہ خواتین کی تحریروں کو دقیانوسی رومانویت تک محدود سمجھنے کی شکل سے بچنا چاہتی تھیں۔ ان کے قلمی نام کے استعمال کی دوسری وجہ اپنی نجی زندگی کو عوامی جانچ سے بچانے کی خواہش تھی، جس کی وجہ شادی شدہ جارج ہنری لیوس کے ساتھ ان کے جنسی تعلقات تھے۔

    مارٹن ایمس اور جولین بارنز کے مطابق ایلیٹ کا ناول "مڈل مارچ” Middlemarch انگریزی ادب کا عظیم ترین ناول ہے۔

    وہ اپنے عہد کی کامیاب ترین ادیب تھیں اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ناول رومولا Romola کی اشاعت کے لیئے دس ہزار پاونڈ وصول کیئے تھے ۔

    جارج ایلیٹ نے اپنی زندگی کے آخری سال, اپنے سے 20 سال چھوٹے” جان کراس” سے شادی کی تھی۔

    میوزک کے لیئے استعمال ہونے والی اصطلاح پاپ pop کا لفظ سب سے پہلے استعمال انہوں نے اپنے خطوط میں کیا (بمطابق: آکسفورڈ ڈکشنری)۔

    انہوں نے 22 دسمبر 1880 کو وفات پائی۔

    جارج ایلیٹ کے مشہور ناول درج ذیل ہیں:
    Adam Bede, 1859
    The Mill on the Floss, 1860
    Silas Marner, 1861
    Romola, 1863
    Felix Holt, the radical, 1866
    Middlemarch, 1871–72
    Daniel Deronda 1876