Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • مولانا غلام رسول مہر  صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات

    مولانا غلام رسول مہر صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات

    تشنہ لب بر ساحل دریا ز غیرت جاں دہم
    گربہ موج افتد گمان چین پیشانی مرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا غلام رسول مہر صحافی و مصنف ,16 نومبر یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کے نامور ادیب، صحافی، مورخ اور مترجم مولانا غلام رسول مہر 15 اپریل 1895ء کو جالندھر کے ایک گائوں پھول پور میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی پھر چند برس حیدرآباد (دکن) میں ملازمت کے بعد لاہور واپس چلے آئے اور تمام عمر اسی شہر میں بسر کی۔ مولانا غلام رسول مہر نے صحافت کا آغاز روزنامہ ” زمیندار” سے کیا پھر انہوں نے عبدالمجید سالک کے ساتھ مل کر روزنامہ انقلاب نکالا۔ اس اخبار سے وہ اس کی بندش 1949ء تک وابستہ رہے۔” انقلاب” کے بند ہوجانے کے بعد مولانا غلام رسول مہر نے پوری زندگی تصنیف و تالیف میں بسر کی۔ انہوں نے مذہب‘ سیاست‘ تہذیب‘ تمدن‘ ادب اور سیرت نگاری پر 100 سے زیادہ کتب یادگار چھوڑیں۔

    16 نومبر 1971ء کو اردو کے یہ بلند پایہ ادیب‘ صاحب طرز انشا پرداز‘ عظیم صحافی‘ صاحب فکر ، مورخ اور صاحب نظر نقاد مولانا غلام رسول مہر لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ مسلم ٹاؤن قبرستان لاہور میں آسودہ خاک ہیں ۔

  • 16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    16 نومبر 1971 ،وقار یونس کا یوم پیدائش

    پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر وقار یونس 16 نومبر 1971 میں بورے والا ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ان کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 15 نومبر 1989ء کو بھارت کے خلاف ہوا۔اس کے 6 ماہ کے اندر اندر وہ سب سے زیادہ خوف اور دہشت پھیلانے والے فاسٹ بائولر بن گئے۔

    وسیم اکرم کے ساتھ ان کی جوڑی کرکٹ کی دنیا کی سب سے خوفناک جوڑی سمجھی جاتی تھی۔وقار یونس نے مجموعی طور پر87 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور 8788 رنز کے عوض 373 وکٹیں حاصل کیں ،۔ انہوں نے 262 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 2117 رنز کے عوض 416 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہے۔

    حکومت پاکستان نے وقار یونس کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوازا ہے۔

  • بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں  یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کیلئے دلچسپ تحریریں لکھنے والے معروف مصنف اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی شہادت کو آج 24 برس مکمل ہوچکے ہیں۔ حکیم محمد سعید کی ملک و قوم اور بچوں کیلئے تحریری و سماجی خدمات بھلائی نہیں جاسکتیں۔ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے حکمت کے ساتھ ساتھ علومِ دینی، حفظِ قرآن اور بچوں کے ادب پر زبردست کام کیا۔ ان کی علمی و ادبی خدمات اور گورنرسندھ کے طور پر قومی خدمات تاریخ کا روشن باب بن گئیں۔

    معروف مصنف و محقق حکیم محمد سعید شہید کی تصانیف بڑی تعداد میں عوام الناس کیلئے وسیلۂ روزگار اور تحصیلِ علم کا ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔ آپ ایک عالمی شہرت یافتہ معالج، مایہ ناز ادیب اور طبی محقق تھے جن کی کامیابیوں کی داستان طویل ہے۔ سابق گورنر حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920ء کے روز بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیدا ہوئے، ابھی عمر 2 برس ہی تھی کہ والد کی وفات نے آپ کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کردیا، پھر بھی آپ نے 9 برس کی عمر میں قرآن حفظ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    پاکستان آزاد ہوا تو آپ نوجوان تھے، جس کے بعد آپ نے سب کچھ بھارت میں چھوڑ کر پاکستان کو اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کیا اور اہلِ خانہ کے ہمراہ 9 جنوری 1948ء کو شہرِ قائد آ پہنچے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں انہیں دیکھا۔ حکیم محمد سعید نے 11 ستمبر 1948ء کو قائدِ اعظم کی وفات سے لے کر یومِ وفات تک ملک کی سیاسی و قومی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ آپ کو 17 اکتوبر 1998ء کے روز دہشت گردوں نے روزے کی حالت میں فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔

  • بدنصیب — عمریوسف

    بدنصیب — عمریوسف

    آج صبح اٹھتے ہی اسے فکروں نے آ گھیرا ۔ سوچوں کا وہی سلسلہ جو رات سوتے وقت ٹوٹا تھا صبح اٹھتے ہی دوبارہ بحال ہوگیا ۔ فکر معاش کے خیالات کا طوفان اس کے دماغ میں پھر چلنا شروع ہوگیا ۔ بہتر مستقبل کی توقعات اسے پھر ستانے لگیں ۔ دوستوں کی محفل میں بھی اس نے گفتگو کا موضوع بہتر نوکری ہی بنائے رکھا ۔ پھر اسے ضروری کام کے سلسلے میں کہیں جانا تھا کام کے دوران بھی وہ یہی سوچتا رہا کہ روٹی کیسے کماوں اور آنے والے وقت کو کیسے بہتر بناوں ؟

    واپسی پر وہ پررونق بازاروں سے گزر رہا تھا لیکن روٹی کی فکر نے اس رونق سے بے خبر کیے رکھا ۔

    چلتے چلتے اسے پارک نظر آئی جہاں اس کا پسندیدہ گوشہ تھا جہاں تنہائی تھی ، سکون تھا ، خاموشی تھی جہاں وہ گھنٹوں بیٹھا اپنے ساتھ وقت گزارتا تھا ۔ لیکن روٹی کے فکر نے اس پارک سے بھی بے خبر کیے رکھا ۔

    اس کے بچپن کا دوست اسے ملا جس کے ساتھ وہ لوگوں کے گھروں میں پٹاخے پھینک کر چھپ جاتا اور گھر والوں کی ہربراہٹ کو انجوائے کرتا ، لیکن وہ روٹی کی فکر میں اپنے دوست کو بھی نظر انداز کرگیا ۔

    سورج غروب ہوا اور شام کے سائے بڑھ گئے ، اندھیرا چھانے لگا اور وہ گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے جانے لگا ۔ گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی اس کے انتظار میں تھی اس نے جلدی سے روٹی تیار کی اور اس کے سامنے لا کر رکھ دی وہ روٹی کمانے کی فکر میں اتنا گھر چکا تھا کہ اس نے روٹی کو یہ کہتے ہوئے سائیڈ پر کردیا کہ میرا کھانے کو دل نہیں کررہا ۔۔۔۔

    چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ انسان کتنا بدنصیب ہوتا ہے جو چند لمحوں کے جینے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا جو روٹی کی فکر میں روٹی ہی چھوڑ دیتا ہے ۔

  • اسلامی شرعی فلم — شہنیلہ بیلگم والا

    اسلامی شرعی فلم — شہنیلہ بیلگم والا

    حمزہ عباسی کے اس بیان کے بعد میرے ذہن میں فلم کا جو خاکہ بنا ہے وہ کچھ یوں ہے؛

    صبح صبح نور ویلے ہیرو کے کمرے کا سین دکھایا جاتا ہے جہاں ہیرو فجر کی نماز کی تیاری میں مشغول ہے. ہیرو کی گھنی داڑھی سے وضو کے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں. ہیرو نے چٹا سفید جوڑا پایا ہے. مسجد جانے سے پہلے ہیرو سر پہ عمامہ باندھنا ہرگز نہیں بھولا.

    مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد مولوی صاحب کا بیان سنا جس میں ملک کے بدترین حالات کا زمہ دار فحاشی کو ٹھہرایا گیا تھا. خاص طور پر ان خواتین کو جہنمی قرار دیا گیا تھا جو جینز پہن کر ملک میں سیلاب لانے کی زمہ دار ہیں.

    بیان سننے کے بعد ہیرو وہیں اذکار اور تلاوت میں مشغول ہوگیا اور پھر اشراق کی نماز ادا کر کے گھر کی طرف روانہ ہوا.

    گھر پہنچ کر والدہ کے ہاتھ کا ناشتہ تناول فرمایا. چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے والدہ نے سارا ناشتہ ٹوپی برقع پہن کر سرو کیا. چونکہ آواز کا بھی پردہ ہوتا ہے اس لیے والدہ نے دعا دینے کے بجائے سر پہ ہاتھ پھیرنے پر اکتفا کیا.

    ناشتہ کرنے کے بعد ہیرو اپنے مدرسے روانہ ہوگیا جہاں وہ بچوں کو انتہائی شفقت اور محبت سے قرآن حفظ کرواتا تھا. عصر کی نماز سے فارغ ہو کر ہیرو گھر پہنچا، جہاں اس کے والد اور بڑے بھائی دو بزرگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے. ہیرو جب سلام کر کے ان کے پاس بیٹھا تو پتا چلا کہ قاری عبدالقدوس کی دختر کا رشتہ ہیرو کے ساتھ کرنے کا ارادہ ہے. دونوں گھرانوں کے بزرگوں نے استخارا ادا کر لیا ہے. ہیرو کے گھر کی خواتین بنت عبدالقدوس کو دیکھ آئی ہیں. لیکن چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے ہیروئین کی جھلک بھی نہیں دکھائی جا سکتی. فلم بین قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کو دیکھ کر امیجن کرلیں کہ ان کی بیٹی اور بہن کیسی لگتی ہوگی ( داڑھی ہٹا کر).

    فلم اسلامی ہی سہی لیکن ہیرو کے تو جذبات ہیں. رات عشاء کی نماز کے بعد بیان سننے میں بھی ہیرو کا دل نہیں لگ رہا تھا. بار بار قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کے چہرے نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے. ہیرو نے ذہن کو بٹانے کے لیے سائیڈ ٹیبل پہ پڑی کتب سے ” رفع الیدین حنفی علماء کرام کی نظر میں” پڑھنے کے لیے اٹھا لی. اس کے بعد نیند نہ آنے کی صورت میں ” ٹخنے کھلے رکھنے کی تحدید” بھی پڑھنے کا ارادہ کرلیا کہ نیت کا بھی ثواب ہے.

  • بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    پرانی بات ہے لاہور میں شدید برسات کے دوران ہمارے ایک کولیگ نے پکوڑے بنوائے اور بڑی چاو سے سب دوستو کو آفس میں دعوت دی. دعوت دینے والے سے میں نے کہا تم لوگ بسم اللہ کرو میں بعد میں تمہیں جوائن کرتا ہوں. لیکن اُس نے کہا نہیں فیصلہ ہوا ہے کہ جب سب جمع ہوں گے تب ہی دعوت سٹارٹ ہوگی.

    میں نے پوچھا پکوڑے بنائے کس نے ہیں.؟ اس نے جس کولیگ کا نام لیا اسکا نام سنتے ہی میں نے کہا پھر تم لوگ کھاو. میں نہیں آرہا. بہت اصرار ہوا لیکن میں نے کہا ” نہیں” دعوت تو ہمارے بغیر ہوگئی لیکن بعد از دعوت پتہ چلا یہ بھنگ والے پکوڑے تھے کیونکہ پھر کوئی روئے جا رہا تھا کوئی قہقہے لگا رہا تھا.

    سوشل میڈیا میں بھی ہم خبر سے پہلے خبر دینے والے کا نام دیکھتے ہیں. وہ نام ہی بتا دیتا ہے خبر میں سچائی کتنی اور پراپیگنڈا کتنا ہے. اس میں جو جتنا زیادہ غیر جانبداری کا دعویدار ہوتا ہے وہ اُتنا ہی زیادہ یکطرفہ پراپیگنڈا کرنے والا ہوتا ہے. سالوں سے اس فورم پر ایک دوسرے کو جاننے والے اس کے باوجود ایک دوسرے کے پکوڑے کھانا معاف نہیں کرتے.

  • رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    کافی عرصہ ہوا کسی رسالے میں پڑھا تھا کہ :

    اگر انسان کو ماں سے محبت ہو تو۔۔۔ عبادت۔

    باپ سے محبت ہو تو۔۔۔ فرض۔

    بھائی سے محبت ہو تو۔۔۔ اخوت ۔

    بہن سے محبت ہو تو ۔۔۔ شفقت۔

    کام، کاروبار سے محبت ہو تو۔۔۔ احساسِ ذمہ داری ۔

    ملک سے محبت ہو تو ۔۔۔ حب الوطنی ۔

    اور اگر ۔۔۔۔ بیوی سے محبت ہو تو لوگ کہتے ہیں "رن مرید ہے ” یا ” بیوی کے نیچے لگ گیا ہے ۔”.

    اور یہ حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں ‘محبوبہ/گرل فرینڈ’ کے لیے شعر لکھنا اور ‘بیوی’ پر عجیب و غریب لطیفے بنانا، پوسٹ کرنا باضابطہ ٹرینڈ بن چکا ہے۔

    کسی شخص کو رن مرید کا طعنہ دینے والے عام طور پر دو لوگ ہوتے ہیں ۔

    1- دوست ۔
    2- اہلِ خانہ ۔

    کسی شخص کو بیوی سے محبت و الفت پر رن مرید کا طعنہ دینے والے اکثر اس کے دوست ہوتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ :

    یا تو خود "سرٹیفائیڈ سنگل” ہوتے ہیں کوئی انہیں اپنی بیٹی تو دور کی بات اپنی بائیک بھی مستعار دینے پر راضی نہیں ہوتا۔

    یا پھر اس قسم کے شادی شدہ کے جن کی شادی منگل سوتر باندھنے کے بجائے "نرڑ” باندھنے کے مترادف ہوتی ہے ۔۔۔۔ (نرڑ : کسی سرکش بکروٹے، وچھے یا کٹے کو قابو میں رکھنے کے لیے اس کی ٹانگ رسی کے زریعے کسی گائے، بھینس یا بیل کے ساتھ باندھ دینا ).

    جن کی بیوی اگر انہیں رات موبائل میں مگن دیکھ کر ” سوجائیے ، کافی رات ہوگئی ہے ۔۔۔” کے بجائے ” مرن جوگیا، تینو موت کیوں نئیں پیندی پئی؟” جیسے الفاظ سے نوازتی ہیں۔

    یعنی جن کی عمر بھر اپنی بیوی کے ساتھ نہیں بنتی انہوں نے ظاہر ہے جیلس ہونا ہی ہے کسی دوسرے کو بیوی کے ساتھ ہنستا بستا دیکھ کر ۔

    تو احباب !! اگر کوئی دوست یا کولیگ کہے کہ آپ رن مرید ہو تو کہنا ” میری ایک ہی اکلوتی لاڈلی بیوی ہے۔۔۔ اب اس سے پیار نہ کروں تو کیا تمہاری بیوی سے عشق لڑاؤں؟ کمال کرتے ہو پانڈے جی!”

    اور پھر آجاتے ہیں گھر والے ،

    ایکچولی سب سے زیادہ تکلیف تو ماؤں کو ہوتی ہے ۔۔۔ یعنی جو مائیں "چاند سی بہو” کو ” بڑی چاہ سے ” لائی ہوتی ہیں ۔۔۔ ایک ماہ بعد انہیں لگتا ہے کہ ” یہ ڈائن ہے جس نے میرے بیٹے پر تعویز کرکے اسے اپنے بس میں کرلیا ہے .”

    ارے آنٹی جی۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کا بیٹا پوری عمر بچہ ہی بنا رہے ؟ آپکی گودی میں بیٹھا رہے اور آپ پوری عمر اسے لوری سناتی رہیں ؟

    بھئی۔۔۔ اگر آپ کا بیٹا کسی غیر لڑکی کے ساتھ وقت گزارتا تو تشویش کی بات تب تھی۔۔۔ اپنی ‘سگی’ بیوی کے ساتھ کچھ وقت بِتا لے ، اس کے ساتھ گھومنے پھرنے چلا جائے یا اسے کوئی گفٹ خرید کر دے تو ان ذیابیطس زدہ بڈھی کھوسٹ کُٹنیوں کو لگتا ہے کہ ” بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ہے۔”

    تو احبابِ گرامی ، اگر آپ کو کوئی ” رن مرید” کہے تو مسکرا کر جواب دیں کہ کسی شُف شُف پیر یا ” سائیں رکشہ ساڑ” کا مرید بننے سے اچھا ہے کہ بنا رن مرید ہی بنا رہے۔

    بشکریہ : آل برصغیر انجمنِ بیگمات ۔

  • جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    گزشتہ ہفتے، میں نے کچھ ایسا کیا جو بہت سے لوگ ہر روز کرتے ہیں: میں نے ایک مذاق ٹویٹ کیا. اس معاملے میں مذاق ایک جعلی کالج انگریزی کلاس مضمون کی ایک تصویر تھی جو میں نے ٹام اور جیری کے بارے میں ٹائپ کیا تھا، پھر اسے ٹویٹ کرنے سے پہلے مایوس سرخ قلم کے نوٹ اور ڈی گریڈ کے ساتھ نشان زد کیا گیا تھا جیسے میں اس کی عقل کے اختتام پر پروفیسر تھا. واضح ہونے کے لئے، میں کالج پروفیسر نہیں ہوں – میں اصل میں جے ایم( جھک مارنا) میں کام کرتا ہوں اور ایک مزاحیہ کردار ہوں جو وادی میں کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، ممکنہ طور پر دوسرے لوگوں کے لئے جو جے ایم میں کام کرتے ہیں. لیکن اس نے ہزاروں لوگوں کو نہیں روکا.

    گزشتہ پیر کے بعد سے ، ٹویٹ کو مٹھی بھر بڑے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا گیا ہے ، جو ٹویٹر پر ایل او ایل جی او پی اور بز فیڈ کے ذریعہ شیئر کیا گیا ہے ، جو بڑے عالمی نیوز سائٹوں کا احاطہ کرتا ہے ، اور اس وقت اس پر تقریبا ایک ملین لائیکس ہیں ، جس کے جواب "میں نے طویل عرصے سے اتنی سختی سے نہیں ہنسا ہے” سے لے کر "آپ کو گرفتار کیا جانا چاہئے” تک۔ تو یہ سب کیسے ہوا ، اور ایک گونگا مذاق دیکھنا کیسا ہے جسے آپ نے کنٹرول سے باہر وائرل ٹویٹر لمحے میں سرپل بنا دیا ہے؟ اس سب کی وضاحت کرنے میں مدد کرنے کے لئے، میں نے پورے کو دستاویزی کیا.

    کچھ مضحکہ خیز لائن میں ترمیم کے ساتھ گڑبڑ کرنے کے بعد ، میں اپنے "کاغذ” کی دوسری کاپی پرنٹ کرتا ہوں جس کے ساتھ میں چاہتا ہوں کہ میرا حتمی ورژن کیا ہو۔ تاہم، مجھے احساس ہے کہ ایک طالب علم کے لئے ٹام اور جیری کے بارے میں صرف ایک کاغذ میں ہاتھ ڈالنا بہت عجیب ہے. یہ تفویض کیا تھی؟ لہذا میں مشہور ٹامس کے بارے میں سوچتا ہوں اور اوپر ایک لائن شامل کرتا ہوں ، یہ دعوی کرتے ہوئے کہ تفویض عظیم گیٹسبی سے ٹام بوکانن کے بارے میں ہونا چاہئے تھا۔

    میرے دوپہر کے کھانے کے وقت میں جانے کے لئے تین منٹ کے ساتھ، میں نے کیپشن کے ساتھ ٹویٹ پوسٹ کیا "اس سمسٹر میں میرا پہلا انگریزی کورس سکھانا فائدہ مند رہا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ اس طالب علم کے ساتھ کیا کرنا ہے،” اس بات کو یقینی بنانا کہ ٹویٹر کے لئے اسے صحیح طریقے سے "ہینڈل” کریں، اپنے دوستوں سے کچھ پسند کرنے کی امید ہے.

    اسے کچھ ریٹویٹس اور تقریبا سو لائکس ملتے ہیں۔ میرا ایک دوست جو ایک جے ایم شو میں کام کرتا ہے مجھے مصنفین کے کمرے سلیک کا اسکرین شاٹ بھیجتا ہے ، اور وہ ان تمام مضحکہ خیز تفصیلات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جو میں نے اس میں ڈال دی ہیں۔

    کیا میری زندگی بدل گئی ہے؟ واقعی نہیں. میرے پاس اپنی شرارت کے بارے میں کچھ مضامین ہیں اور ٹویٹر پر کچھ ہزار مزید پیروکار ہیں۔

    لیکن میں جے ایم آفس میں اپنے دوپہر کے کھانے کے وقفے پر اپنی میز پر واپس آ گیا ہوں. میں لاکھوں لوگوں کے لئے اپنے ایک ہٹ گانے کو انجام دینے کی طرح وائرل ہونے کی وضاحت کروں گا: اگرچہ یہ ایک بہت ہی خوفناک چار منٹ ہے ، جب آپ کام کرلیں تو باہر نکلنے کے لئے ان سب فائلوں کو دیکھنے کے لئے تیار رہیں۔ لہذا میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر کشتیاں جلا کر ٹویٹر کے کوزے میں ہاتھ پاؤں مارتا ہوں۔

  • زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    ایک بیج ایک تناور سرسبز و آباد پودے کی جڑوں میں اپنی زندگی قربان کرتا ہے تب ہی ایک نئی زندگی کی کامیابی ممکن ہوتی ہے. کامیابی ایک انعام ہے کوئی لاٹری یا اتفاق نہیں ہوتا.

    آپ ایک نوجوان عاشق کو دیکھیں. اسکا گھر ماں باپ بہن بھائی دوست احباب سب کچھ ہوں گے. لیکن ایک عشق سب کچھ فراموش کرا دیتا ہے یہاں تک کے وہ مرنے پر بھی تیار ہو جاتا ہے. ایک نشئی بھی اپنی دنیا سے کٹ کر نشے کی دنیا میں خود کو گم کر دیتا ہے. اسے بھی پتہ ہوتا ہے اسکا انجام کیا ہے؟

    یہ ایک انسانی مزاج ہے. جب سمٹنے پر آتا ہے تو زندگی کے ایک اکیلے رنگ کو پوری کائنات سمجھ لیتا ہے. اور اس رنگ کے بغیر زندگی موت لگتی ہے. جب پھیلنے پر آتا ہے تو وسیع کائنات بھی اس کو چھوٹی لگتی ہے. یہ جن کو ہم کامیاب سمجھتے ہیں یہ جیتے جی خود کو کسی ایک مقام پر مار چکے ہوتے ہیں.

    ان کی مثال اس بیج کی طرح ہوتی ہے جو پھر سمٹنے سے انکار کر دیتے ہیں. یہ زمین کا سینہ چیرتے نکل آتے ہیں. نہ کوئی طوفان نہ کوئی موسم ان کو پھر روک پاتا ہے. یہ خوف کی زنجیریں بہت پہلے اپنے اندر توڑ چکے ہوتے ہیں. تب یہ دنیا کو نئے رنگ نئی خوشبو دیتے ہیں. دنیا ان کو رشک سے دیکھ رہی ہوتی ہے.

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے. روزانہ کی نیند بھی موت کی طرح ہمیں سب کچھ بھلا کر دوبارہ تعمیر کرتی ہے. نئے دن کا نیا سورج روزانہ ایک نئی اُمید لے کر آتا ہے. ہمیں بس ایک ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے آج سمٹ کر اپنی محدود دنیا میں مرنا ہے یا اس دنیا کا حصہ بننا ہے جو ہمارا انتظار کر رہی ہے.

  • حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین بالخصوص والدِ گرامی سے مختلف چیزوں ، کینڈیز، سنیکس اور کھلونوں کی فرمائشیں کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ کہیں پڑا کہ ایک صاحب کے بچوں نے کہا کہ ” ہمیں کاٹن کینڈی اور رائس کیک کھانے ہیں ” تو وہ صاحب کہتے ہیں ” یہ کیا چیزیں ہیں ؟ کبھی نہ دیکھیں نہ سنی نہ کھائیں۔” تو بچوں نے جب موبائل پر انہیں پکچرز دکھائیں تو وہ بولے ” اوہ اچھا انہیں کھاتے تو ہمارا پورا بچپن گزرا انہیں ہم لچھا اور مرُونڈا کہا کرتے تھے ".

    ہمارے ہاں یعنی پاک و ہند و بنگال میں حکماء کرام کی ایک صدیوں پرانی عادت ہے کہ خوامخواہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے ، دوسروں پر اپنی علمیت کا رعب بٹھانے اور اپنی طبی قابلیت ثابت کرنے کے لیے حکماء کرام ہمیشہ مشکل اور ثقیل الفاظ کا استعمال کرتے ہیں پھر چاہے وہ امراض کے نام ہوں یا ادویہ کے نام۔

    مثلاً روغنِ کنجد ، عرقِ بادیان ، آبِ گھیکوار، قہوہِ نیشکر ، کشتہِ بیضہ مرغ، معجونِ خرما ، شربتِ گلُ سرخ، معجونِ سمک بحری ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔
    اب۔۔۔

    سننے یا پڑھنے والوں کو یہ بھاری بھرکم عربی و فارسی اصلاحات سننے پر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ ” صدیوں پرانے قیمتی و نایاب نسخے ” دارصل ہمالے کی برفیلی چوٹیوں پر اگنے والی کسی نایاب جڑی بوٹی۔۔۔۔ بارش کے بعد صحرائے صحارا کے ٹیلوں پر پھوٹنے والے کسی مشروم ۔۔۔۔ ایمازون کے جنگلات میں پائے جانے والے کسی پھل۔۔۔۔رانگاماٹی کی بلندیوں پر اگنے والے کسی پھول ۔۔۔۔ یا اوقیانوس کی گہرائیوں سے نکالے جانے والے کسی مونگے سے بنائی جاتی ہوں گی ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ فی الحقیقت یہ سب نام اور ان جیسے درجنوں دیگر بھی جو آپ نے پڑھے ، سنے ہوں گے کسی محلے کی کریانہ شاپ سے ملنے والے عام آئٹمز کے نام ہیں ۔۔۔۔ جیسا کہ میں نے بتایا :

    روغنِ کنجد(تِل کا تیل) ، عرقِ بادیان (سونف کا عرق ) ، آبِ گھیکوار (کوار گندل/ایلوویرا کا Gel)، قہوہِ نیشکر (گنے کی چائے) ، کشتہِ بیضہ مرغ (مرغی کے انڈے کا کشتہ) ، معجونِ خرما (کجھور کا پیسٹ ) ، آب گلُ سرخ (عرق گلاب)، معجونِ سمک بحری( سمندری مچھلی سے بنی کوئی دوا ).

    بھئی ، سیدھا سیدھا پھوٹ دینے میں کیا حرج ہے ؟ ان کو لگتا ہے کہ عام روزمرہ کا نام بول دیا تو ان کی دکانداری کو گرہن لگ جائے گا ۔۔۔ یوں تو میڈیکل ادویات کے بھی فارمولوں کے طویل اور پیچیدہ نام ہوتے ہیں لیکن فارما والے عام طور پر ان ناموں کی مختصر شکل یا پھر الگ سے مناسب سا نام استعمال کرتے ہیں مثلاً Soluble Aspirin کا نام "ڈسپرین ” وغیرہ ۔

    اور پھر ادویات ہے نہیں یہ حضرات امراض کے نام بھی عجیب و غریب قسم کے رکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ پھر کبھی سہی !!