Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    اے ایمان والو ! بے شک تم پہ اتوار کو بریانی اسی طرح فرض کی گئی ہے جیسے رمضان میں پکوڑے۔

    مسلمانوں اور بریانی کی بہت سی اقسام ہیں۔ فرق بس مسالوں کا ہے ۔ کچھ میں تیکھا پن زیادہ ، کچھ کے بنانے کا طریقہ الگ ۔ کچھ نرے ویجیٹیرین ٹائپ ۔ سادہ ۔ رنگ برنگے ۔ کچھ تہہ در تہہ ۔ پھر برتنوں کے فرق سے ذائقہ اور خوشبو بھی بدل جاتی ۔ ہر فرقے کے نائی اور ہر پکوان سینٹر کے مولانے کا طریقہ بھی جدا ۔ اور دونوں کے نزدیک انہی کی ریسیپی مستند ، سینہ بہ سینہ اور الہامی ہوتی۔ اگر کسی اور فرنچائز سے بریانی یا عقیدہ لیا جائے تو یہ برا مان جاتے ۔ ہر اک نے بڑا سا بورڈ لگایا ہوا جس پہ جلی حروف سے بریانی یا اسلام لکھا ہوا ہے اور کاؤنٹر پہ موٹا سا سیٹھ خشمگیں نظروں سے رہگیروں کو تکتا ہے۔

    جعلساز بھلا کب پیچھے رہتے ؟ جیسے لاہور میں گندے مندے پلاؤ میں ذرا سا بریانی مسالا ڈال کے دم لگاتے وقت زردہ رنگ ڈال دیا جاتا اور اسے بریانی کہا جاتا۔ ویسے ہی دو چار نعرے ایجاد کر کے بعض قاتل، دہشت گرد اور ڈاکو بھی خود کو خالص مسلمان کہتے۔ دونوں میں سے کسی پہ اعتراض کیا جائےتو لاہوریے آستینیں چڑھا کے اور ڈاکو جتھے بنا کے لڑنے مرنے کو آ جاتے۔ غریب مسافر ہو یا مسلمان۔ ہاں میں ہاں ملا کے ، پیسے دے کے جان بخشوانی پڑتی۔ چاہے ہزار ہزار میں ہی سہی۔

    ابتدا میں جب اسلام اور بریانی نازل ہوئے تو اجزائے ترکیبی بڑے واضح اور سادہ تھے۔ دونوں زود ہضم تھے۔ عمل کرنا اور بنانا آسان ۔ جیسے جیسے اسلام کا نور اور بریانی کی خوشبو چار دانگ عالم میں پھیلے۔ قبول عام ہوا ۔ چند ہی سالوں میں اک بڑا فرقہ الگ ہوا اور اپنی شناخت ہی الگ بنا لی۔ گوشت اور چاول وہی تھے مگر نام ” پلاؤ” تھا۔ اس کے معتقدین بھی کثیر بن گئے ۔ ( فرقے کا نام آپ کی سوجھ بوجھ پہ چھوڑ دیتے ) ۔

    جب دیگر بلاد و امصار میں بریانی اور اسلام پہنچے تو وہاں کے باسیوں نے ان دونوں پہ نت نئے تجربات کیے اپنے اپنے ٹیسٹ کے مطابق۔ پہلے یہ صرف بریانی اور اسلام تھے ۔ اب بریانی صرف بریانی نہ رہی بلکہ بمبئی بریانی ، کراچی بریانی ، وائٹ ویجیٹیبل بریانی ،انڈہ بریانی ، بیف بریانی ، مٹن بریانی ، تکہ بریانی ،قیمہ بریانی ،صفوی بریانی ،تہاری بریانی ، کلیانی بریانی ، کوفتہ بریانی ، فِش بریانی ، حیدرآبادی بریانی ، کچے گوشت کی بریانی ، جھینگا بریانی کے نام سے جانی جانے لگی۔ اسی طرح اسلام اب شیعہ ، اثنا عشری ،نصیری ، سنی ، بریلوی، دیوبندی ،مقلد ،غیر مقلد ، وہابی ، حیاتی ،مماتی ، رضوی ، درودی ، بارودی ، ناصبی ، تفضیلی ، غامدی وغیرہ کے ٹیگ سے جانا جاتا ہے۔

    البتہ پاک و ہند میں جب بریانی اور اسلام پہنچے تو دونوں میں مسالا جات اتنے تیز کر دیے گئے کہ اب اوپر نیچے سے دھواں نہ نکلے تو سواد نہیں آتا۔ عربوں کے بقول تو برصغیرے کلمہ پڑھ کے نرے باؤلے ہی ہو گئے ۔( دروغ بر گردن ِ یوسفی ) ۔ خود عرب میں ان دنوں اسلام اور بریانی "مندی” کا شکار ہیں۔ باقی پسماندہ جگہوں پہ آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہے۔

    باقی اب ہمارا دعوٰی ہے کہ ہم سے بریانی کھائیں یا اسلام سیکھیں۔ دونوں معدے پہ گراں نہ گزریں گے۔ نہ ہی پیٹ میں باؤ گولا یا دماغ میں آتش گولا بننے کے امکانات ہیں۔ تاہم ریسیپی سینہ بہ سینہ چلے گی اور پلیٹ حسینہ بہ حسینہ ۔

  • فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بک کی دنیا بھی عجیب و منفرد دنیا ہے۔ فیسبک پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں۔ اس دنیا کے تقاضے ہی کچھ عجیب و غریب ہیں۔ یہاں محلاتی سازشیں پریموٹ ہوتی ہیں۔ فیس بک پر تصوارتی دنیا کی حکومتیں بنائی بھی جاتی ہیں اور گرائی بھی جاتی ہیں۔

    ادھر دنیا جہاں کو ورلڈ آرڈر دیا بھی جاتا ہے اور اس کی دھجیاں بکھیری بھی جاتی ہیں۔ یہاں مذاہب کی اشاعت و ترویج بھی ہوتی ہے اور بیخ کنی بھی۔ یہاں سخن سازی بھی ہوتی ہے اور سخن شکنی بھی اتنی ہی شدومد سے ہوتی ہے۔ ادھر قصیدہ گوئی بھی ہوتی ہے اور کردار کشی بھی۔

    فیس بک پر مزاح کے ایسے لطیف نمونے بھی دریافت ہوتے ہیں کہ طبعیت ہشاش بشاش ہو جائے اور مزاح کے نام پر خشت باری بھی ایسی ہوتی ہے کہ روح اندر تک لہولہان ہو جاۓ !

    اس دنیاء فیسبک میں آباد ہوۓ راقم کو بھی "عشرہ دراز” ہو گیا ہے اور اس دنیا کے حسن و قبح سب کا وقتاً فوقتاً نظارہ کیا ہے۔ بہت کچھ سیکھنے اور بہت کچھ سکھانے کا بھی موقع ملا۔ سکھانے کا موقع ایسے ملا کہ کچھ مہربان ایسے بھی تھے جنہوں نے ہماری غلطیوں سے سبق سیکھا۔ ہماری کوتاہ اندیشیوں اور حماقتوں سے سبق حاصل کیا اور یوں ہم بھی سکھانے والوں میں شامل رہے۔ جہاں تک رہی بات سیکھنے کی، تو ارباب دانش سے بھی سامنا ہوا اور عقل و دانش کے موتی سمیٹے۔ اربابِ حل و عقد سے بھی تصادم ہوا کہ زخمی روح اور سلگتے دماغ سے آئندہ کے لیے ایسے اصحاب سے میلوں دوری کا عہد کرتے ہوۓ بلاک کا بٹن دباتے رہے۔

    فیس بک ایک لا منتہائی ہجوم ہے جس میں انسانی سروں کا ایک سمندر تا حد نظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سروں میں کن کن خیالات کے "سر خراب” موجزن ہیں، ان کا اندازہ لگانے میں وقت لگتا ہے۔ کسی پیچ پر سینکڑوں لائک دیکھ کر آپ کو فیس بکی دانشور کی قابلیت و بصیرت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ بہت ممکن ہے کہ یہاں لائک کا بٹن دبانے والے وہ منچلے ہوں جو جنسیات کے دلدادہ ہوں اور دماغوں میں شہوانی خیالات کی طلاطم خیز لہروں میں بہتے ہوئے وہ اس پیج تک آ پہنچے ہوں اور مزاج اور خواہش کے عین مطابق یہاں من پسند خیالات کا سمندر بہہ رہا ہو۔ دانش ور صاحب اپنی سفلانہ دانش سے خود بھی اشنان کر رہے ہوں اور دوسروں کو بھی غسل دانش سے بہرہ مند کر رہے ہوں۔

    کچھ دانشور حضرات وہ بھی ہیں جن کی سیاسی بلوغت ابھی پروان بھی نا چڑھی تھی کہ انہوں نے عالمانہ لیکچر دینا شروع کر دیا اور شومئی قسمت کے ہم خیالوں کا تانتا بھی بندھ گیا۔ اب وہ اپنی سیاسی دانش کی کچی پکی ہانڈی لیے فیس بک کے بازار کے منجھے ہوئے دانش ور اور تجزیہ کار بن چکے ہیں۔ غرض ہر عقل کے دشمن کو یہاں اپنے دل کی گرم مسالے والی بھڑاس نکالنے کے لیے قائد میسر آ گیا۔ یوں وہ قائد میاں پرانے وقتوں کے واٹر کولر کے مشہور برانڈ ہی بن بیٹھے کہ نل کھولو اور اناپ شناپ سے لباب بھرے کولر سے سیراب ہو لو۔ ایسے کچھ اصحاب سینکڑوں مداحین کے جلو میں اپنا چورن بیچتے ہوئے، کانوں کے پردے چیرتی صدائیں لگاتے نظر آتے ہیں۔

    ایک طبقہ ایسا بھی فیس بکی دانشوروں کا ہے جو مذہب بیزار خیالات کا اظہار بنا کسی تردد اور لگی لپٹی کے کرتے ہیں۔ یہ دانشور زیادہ تر اپنی فیک آئی ڈی سے محو تکلم ہوتے ہیں یا آئی ڈی تو اصل ہوتی ہے لیکن موصوف سات دور دیش پار کسی محفوظ، صحت افزا مقام سے زہر بھرے، پھن لہراتے مخاطب ہوتے ہیں اور انکے مجمع میں انکے ہم خیال بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہوتے ہیں۔ یا کم از کم وجدانہ کیفیت میں اثبات میں سر ہلا رہے ہوتے ہیں۔ کثیر تعداد میں وہ مرد فساد بھی ہوتے ہیں جو اپنے مذہبی عقائد کی چوکیداری کرتے ہوۓ لٹھ لہرا لہرا کر ماں بہن ایک کر رہے ہوتے ہیں۔

    وہ دانشور بھی اپنی "مقدس مشنری” کاروائیوں میں خرگرم ہوتے ہیں جن کو مذہبی جنونیت اور سخت گیری سے شدید الرجی ہوتی ہے۔ وہ مذہبی اعتدال پسندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے کسی نا کسی مذہبی تحریر میں سوچوں کا رخ موڑنے والے کسی نا کسی نکتہ کو یوں اجاگر کر دیتے ہیں کہ غیر محسوس طریقے سے قاری اسکا ہدف بنتا ہے، اور اپنی فکر کی تبدیلی کو محسوس کیے بغیر اس پیج کو آستانہ بناۓ فیض یابی کا شوق سمائے یہاں حاضری دیتا رہتا ہے اور یوں ایسے دانشور اپنی ادبی اور فکری مہارت سے اپنے پیج پر زایرین کا ہجوم لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور خوب لائک اور لو سائن تو حاصل کرتے ہی ہیں ساتھ پوسٹ کے زیریں حصے میں خوب سوالاتی اور تائیدی جملوں کا انبار لگا لیتے ہیں۔

    ایسے بے شمار دانشوڑ "حسرات” بھی سوشل میڈیا کی دنیا کا لازم حصہ ہیں جو اپنی اداسی اور تنہائی کا تریاق اپنے فالوورز کے کمنٹس میں ڈھونڈتے ہیں۔ وہ خود پسندی کے مرض میں اس قدر مبتلا ہوتے ہیں کہ انکی زیادہ تر پوسٹس انکی رنگ برنگی تصاویر پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی کلوز اپ سیلفیاں اور مانگے تانگے کی دانش اپنی وال پر بکھیرتے رہتے ہیں۔

    کئی خواتین و حضرات کو ایسے کاٹ دارجملے لکھنے میں خصوصی ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ ادب و مزاح کے بے تاج بادشاہ بھی انکے متوقع پوٹینشل کو نظر انداز نہی کر سکتے۔ الفاظ کے حسن ترتیب سے بظاہر بے معنی سی بات کو بھاری بھرکم معنی سے لاد دیتے ہیں۔

    سیاستدانوں کے منہ سے بے ساختہ نکلے ہوئے سیاسی بیانات کو کیچ کرنے والے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو ان کو مزاح کا رنگ و روغن کرنے کے بعد ایسا جاذب نظر بناتے ہیں کہ دن بھر کے بحث و تکرار سے تھکے ماندے بزنس مین ، بیویوں کے ستاۓ ہوۓ شوہر اور شوہروں سے خار کھائی بیویاں اور افسرانِ بالا کی جھاڑ پھٹکار کے مارے ہوۓ ملازمین یہاں اپنی اپنی فلاسفی اور علمیت کی یلغار کر کے کسی فاتح کی طرح گردن اکڑاۓ دیگر شرکا سے واہ واہ کی آس لگاۓ گھنٹوں فیس بک کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں۔

    ایسے کئ مذہبی شخصیات کے پیچز بھی ہوتے ہیں جہاں متفقین مریدین کے درجۂ الفت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ وہاں ایک سطحی سی بات پر بھی لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی ہوتی ہیں۔ اختلافی بات کا مطلب توہین مذہب کے دائرے میں قدم رکھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسی مذموم حرکت کے مرتکب پر وہ سنگ پاشی ہوتی ہے کہ الاحفیظ الامان۔ یہاں یا تو آداب محفل ملحوظ خاطر رہیں یا پھر یہاں سے میلوں دوری ہی آپ کے حق میں بہتر ہے۔ اسکے علاوہ کسی اور آپشن کی سوچ بھی دماغ میں مت لائیے گا۔

    کچھ لوگ چیتھڑوں سے امارت کے سفر پر گامزن ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی کسی مہنگے ریسورنٹ پرکھانا کھائیں یا غلطی سے کسی فضائی سفر پر روانہ ہوں تو فیس بک پر اسکی اشاعت کو نہیں بھولتے۔ وہ پہلی فرصت میں اپنے دورے کی پبلک سٹی کرکے یار لوگوں پر "دورے” ڈالتے ہیں۔ چاہے باقی اہم ترین زمہ داریاں بھول جائیں۔

    دانشوروں کی ایک قسم سیاست کی آڑ میں اپنی جھگڑالو اور کینہ پرور مزاج کی تشنگی دور کرنے کے لیے ہر وقت مخالفین کو چڑانے کے لیے انتہائی نازیبا اور غیر مہذب تصاویر و جملے لکھ کر انہیں لڑائی پراکساتے رہتے ہیں اور جب من پسند نتائج حاصل ہوتے ہیں تو دل کے نہاں خانوں میں چین ہی چین پاتے ہیں۔

    کچھ دانشور محتاط طبع ہونے کے باعث زندگی کو محض بچ بچا کر انجوائے کرنے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ وہ شعر وشاعری و رومانوی گیتوں کو شیئر کرتے رہتے ہیں اور زائرین کی قلیل یا کثیر تعداد سے پریشان یا خوش نہی ہوتے بلکہ اطمینان قلب کے ساتھ لگی بندھی عادت کا تسلسل رکھتے ہیں۔

    اور کچھ لوگ ان تمام اوصاف کا کچھ نا کچھ حصہ اپنی طبعیت میں رکھتے ہیں وہ گرگٹ کی طرح روز رنگ بدلتے ہیں ۔ کبھی کچھ کبھی کچھ یعنی فیس بک مختلف النوع دانشوران کا چوپال ہے جہاں ہر مزاج کا حامل اپنی استطاعت کے مطابق ذہنی خوراک حاصل و منتقل کرتا ہے۔

  • ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک ہمارے ابا لوگوں کا زمانہ تھا شادی کے بعد بیوی کو خط لکھتے تھے اور خط چونکہ دادی اماں نے پڑھ کر سنسر اپرو کرنے کے بعد آگے دینا ہوتا تھا تو زبان کافی مہذب رکھنا پڑتی تھی۔

    بعد از سلام امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگی۔ یہ ہفتہ بھی اچھا گزرا، تنخواہ کے چھ صد روپے اسی ہفتے منی ڈرافٹ کر دوں گا۔ اس میں سے چار صد روپے آپ اماں کو دے دیجیے گا، ایک صد آپ کا خرچ جبکہ ایک کو آپ غلے میں ڈال دیجیے گا کہ پلاٹ کی کمیٹی کے پیسے پورے ہو جائیں، انشاءاللہ ڈیڑھ سال بعد حاجی صاحب سے بیس مرلے کا پلاٹ جو کہ مبلغ بارہ ہزار نو سو چورانوے کا سکہ رائج الوقت کے مطابق بن رہا ہے وہ لے لیں گے۔

    سلام عرض ہے۔

    ایک ہماری جنریشن ہے۔

    رات ایک بجے فون پہ بات شروع ہوتی ہے کہ بےبی نے تھانے میں تیا تھایا؟ اب اگر بے بی کی اماں جو خط میں فقط منی ڈرافٹ ڈسکس کرنے کی عادی تھی وہ یہ سب پڑھ لیں تو بے ساختہ چھترول کریں کہ ٹٹ پینی دیا کس تھانے چوں کٹ کھا آیا ایں؟ اس سے بات چلتی چلتی سیریلیک کے فلیور تک آ جاتی ہے۔ کہ جانو آپ بلو والا سیریلیک اس بار دو کاٹن ایکسٹر لانا، اب جانو کو بھی پتا ہے کہ یہ سیریلیک بچے کی صحت پہ نہیں بچے والی کی صحت پہ ہی لگنا ہے مگر لانا مجبوری ہوتی ہے۔

    اور

    پھر تنخواہ یوں تقسیم ہوتی ہے۔ امی یہ پانچ ہزار آپ کا، بیس ہزار بل کا، اور یہ تیس ہزار ہم دونوں کے چپس اور پزے برگر کھانے کا۔

    افسوس کہ ہماری جنریشن ایک صد انچاس روپے بھی بچت کے لئے نہیں بچا پاتی۔

  • پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا

    پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا

    یہ دونوں واقعات سچے ہیں اور قریبی جاننے والوں کے گھروں میں ہوئے ہیں. یہ دونوں واقعات آج سے تقریباً پندرہ سے بیس سال پہلے پیش آئے تھے.

    پہلا واقعہ؛

    یہ ایک پاکستانی فیملی ہے جو امارات میں برسوں سے مقیم ہے. صاحب خانہ ایک کامیاب کاروباری ہیں. شدید مصروف رہتے ہیں اور اس لیے گھر اور بچے تقریباً بیگم کی ہی زمہ داری ہیں. بیگم اوسط درجے سے بھی کم پڑھی لکھی ہیں. یہ جس وقت کی بات ہے اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا لیکن کیبل زوروں پر تھا. والدہ کا زیادہ تر وقت کیبل دیکھنے اور فون پہ سہیلیوں اور بہنوں سے لمبی لمبی گفتگو میں صرف ہوتا تھا. بچے پڑھنے میں کافی نالائق تھے. جس کا سدباب ٹیوشن بھیج کر دیا گیا تھا. بچے صبح سات سے رات سات بجے تک گھر سے باہر ہی ہوتے تھے. کچھ عرصہ پہلے خاتون خانہ ایک درس والی باجی سے متاثر ہوگئی تھیں اور ہر منگل کی صبح باقاعدگی سے درس اٹینڈ کرتی تھیں. چونکہ امارات میں چوری چکاری کا مسئلہ نہیں اس لیے بیشتر خواتین کی طرح انہوں نے بھی اپنا زیور گھر پہ ہی رکھا تھا.

    ایک دن انہوں نے مجھے کال کی اور پوچھا کہ بھابھی آپ میرے گھر آئی ہوئی ہیں. کیا آپ کو میرے گھر کی دہلیز بھاری لگی ہے؟؟
    پہلی بات تو مجھے یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی. لیکن اپنی عقل کے مطابق میں نے کہہ دیا کہ مجھے تو آپ گھر میں کوئی بھاری یا طبیعت مکدر کرنے والی فیلنگز نہیں ہوئیں. میں نے پوچھا کہ خیریت ہے یہ بات آپ کیوں کر رہی ہیں. کہنے لگیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے مجھے لگ رہا تھا کہ میرے پیسے کم ہو رہے ہیں. لیکن رقم اتنی معمولی ہوتی تھی کہ میں ہمیشہ یہی سمجھی کہ مجھ سے گننے میں غلطی ہوئی ہے. لیکن اب معاملہ بڑھ چکا ہے. کبھی پچاس درہم کبھی سو درہم. لیکن چار دن سے میری ایک انگوٹھی نہیں مل رہی. پورا گھر چھان مارا. درس والی باجی سے ذکر کیا تو وہ کہتی ہیں کہ یہ شیطان جنوں کی کارستانی ہے. چونکہ میرا علم اس معاملہ میں صفر ہے تو میں چپکی ہو رہی.

    دوسرے ہفتے کہنے لگیں کہ بھابھی اب تو بالیاں اور چین بھی غائب ہیں. میں نے اب تک اپنے شوہر سے سب کچھ چھپایا ہوا ہے. کیا کروں انہیں بتا دوں. میں نے کہا آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا.

    صاحب خانہ کے علم میں جب بات آئی تو انہوں نے بچوں سے پوچھ گچھ کی جس پہ بچوں کی والدہ شدید ناراض ہوئیں. لیکن اتفاق سے کچھ دنوں بعد والد صاحب نے اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو پیزہ ہٹ میں دوستوں کے ساتھ دعوت اڑاتے دیکھ لیا. والد صاحب نے بچوں کے دوستوں پہ ذرا سی سختی کی اور کہا کہ ابھی تمہارے ابو کو فون کرتا ہوں تو پتا چلا کہ یہ سب عیاشی ان کے دو بڑے بیٹے کرواتے ہیں. اکثر ٹیوشن کی چھٹی کر کے وڈیو گیمز کی شاپس، کبھی سینیما اور مختلف ریسٹورنٹس میں دعوتیں اڑائی جاتی ہیں. بچوں کی تسلی بخش مرمت کرنے کے بعد ان کو پاکستان میں کسی کیڈٹ اسکول میں بھیج دیا گیا اور سارا زیور لاکر میں رکھوا دیا گیا.

    دوسری کہانی ایک انڈین فیملی کی ہے. یہ ایک جوائنٹ فیملی ہے. جس میں والدہ اپنے دو بیٹوں کی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں. بڑی بہو کی تین اور چھوٹی بہو کی چار بیٹیاں ہیں. ماں اور بیٹوں کو اولاد نرینہ کی شدید خواہش ہے جو پوری نہ ہونے پہ ساری فرسٹریشن بہو اور پوتیوں پہ نکلتی ہے. گھر کا سارا نظام ساس کے ہاتھ میں ہے. بہو اور پوتیوں کو نیچے سپر مارکیٹ جا کر ایک درہم خرچ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے. دونوں بہویں صبح سے رات تک کام کرتی رہتی ہیں.

    ایک تقریب میں مجھے ان کی ساس ملیں تو کہنے لگیں کہ ہم گھر شفٹ کر رہے ہیں. بہویں اور پوتیاں کہتے ہیں کہ ہمیں اس گھر میں سائے نظر آتے ہیں. دونوں بہویں باری باری بیمار پڑ جاتی ہیں. جب بھی پورے گھر کی صفائی کا پروگرام بنتا ہے تو دونوں کو چکر آنے لگتے ہیں. کبھی کبھی تو دونوں نیند میں سے ڈر کر اٹھ جاتی ہیں. تینوں بڑی پوتیاں بھی کہتی ہیں کہ ہمیں چھوٹے بچے نظر آتے ہیں جو ہمارے گھر کے نہیں. اب تو میرے دوپٹے کے پلو سے پیسے بھی کم ہونے لگے ہیں بلکہ گھر میں تین چار بار چاکلیٹس بھی ملے جن میں نیچے والی سپر مارکیٹ کے اسٹیکر لگے ہوئے تھے. اس لیے ہم دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں.

    پانچ چھ مہینے بعد ملیں تو سخت پریشان تھیں. کہنے لگیں نئے گھر میں جن ساتھ ہی آگئے ہیں. مجھے میری بہویں کہہ رہی ہیں کہ آپ انڈیا میں اپنے پیر صاحب کے پاس چند مہینے رہ کر دعا کر کے آئیں. اسی طرح ان سے نجات ملے گی. میں بھی یہی سوچ رہی ہوں. بیٹا تم بھی میرے لیے دعا کرنا.

    میں نے اثبات میں سر ہلایا اور جنوں کی معاملہ فہمی پر دل ہی دل میں داد دی.

  • زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ دونوں باپ بیٹا راستے میں ٹرین میں سوار ہوئے تھے ۔ باپ کھڑکی کے ساتھ خالی سیٹ پر جاکر خاموشی سے بیٹھ گیا اور باہر دیکھنے لگا جب کہ تین چار سال کا بچہ اس کے ساتھ والی سیٹ بیٹھ گیا۔

    بچہ تھؤڑی دیر تو بیٹھا رہا پھر سیٹ سے نیچے اتر کر دوسری جانب کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر دیکھنے لگا لیکن اس کا باپ اس سے لاتعلق بیٹھا تھا۔ ڈبے میں بیٹھے ایک شخص نے بچے کو ایسا کرنے سے روکا تو بچہ اسے منہ چڑاہنے لگا اور بھاگ کر چلتی ٹرین کے ڈبے کے دروازے میں جا کھڑا ہو۔

    ڈبے میں موجود سب لوگ اس بچے کی شرارتوں سے تنگ ہونے لگے جو کبھی کسی مسافر کا جوتا اٹھا کر باہر پھینکنے کی ایکٹنگ کرتا تو کبھی کی عورت کی نقل اتارنے لگتا۔

    سب لوگوں کو اس کے باپ پر بہت غصہ آرہا تھا جو اس سارے ڈرامے سے لاتعلق کھڑکی کے باہر کے مناظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

    ایک خاتون کہنے لگیں “ عجیب بدتمیز بچہ ہے ۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت ہی نہیں کی”۔

    دوسرا مسافر بولا ل پتہ نہیں یہ لوگ بچے تو پیدا کر دیتے ہیں لیکن ان کی ذمہ داریوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔”

    الغرض ہر طرف سےقسم قسم کے تبصرے ہونے لگے لیکن اس کا باپ بہرا بن کر کھڑکی سے باہر کا منظر انجوائے کررہا تھا۔

    اس وقت تو بچے نے حد ہی کر دی جب اس نے شرارت سے منع کرنے پر ایک بزرگ کے منہ پر چانٹا جڑ دیا۔ اس بابے کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے صبر کا پیمانہ اس حرکت پر لبریز ہوگیا۔

    وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور جاکر بچے کے باپ کو کندھوں کو زور سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولا “ ایسی ناہنجار اولاد پیدا کر لیتے ہیں تو اس کا خیال بھی رکھتے ہیں؟”

    بچے کا باپ جو کہیں خیالوں میں گم تھا اس بے طرح کے جھنجھوڑنے پر اچانک خیالات سے واپس آیا اور پوچھا “ کیا ہوا بھائی؟ اتنا غصہ کس بات پر کر رہے ہو“

    اس کے اس سوال پر ڈبے میں بیٹھے سارے مسافر اس پر تف بھیجنے لگے۔نوجوان بھی اور زیادہ بپھر گیا اور غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے اسے بتایا کہ آپ کے نا خلف بیٹے نے اس بزرگ کے منہ پر چانٹا رسید کردیا ہے۔

    یہ سنتے ہی اس کے باپ نے بزرگ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہنے لگا” معاف کرنا بزرگو۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دوسرے شہر میں اس بچے کی جواں سال ماں یعنی میری بیوی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کے نیچے کچلی گئی ہے۔ اس بچے کو اپنی ماں کی موت کا ابھی تک پتہ بھی نہیں۔ میں اسے لے کر اپنی بیوی کی تدفین کے لئے روانہ ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ماں کی موت کا اس معصوم کو کیسے بتاؤں گا”

    یہ جان کر سارے ڈے کے مسافروں کا اس بچے اور اس کے باپ کو دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا۔عورتیں آگے بڑھ کر اس کو پیار کرنے لگیں۔ دوسرے مسافر اسے جوس اور ٹافیاں دینے لگے۔ وہ بزرگ اٹھے اور بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے گلے لگا لیا۔

    ہر کسی کی خواہش تھی کہ سفر میں جتنا اس کا ساتھ ہے وہ کسی طریقے سے اس بچے کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔

    زندگی کی ٹرین میں بھی ہر مسافر کی اپنی کہانی ہوتی ہے جسے وہ لے کر چل رہا ہوتا ہے۔دیکھنے والے اس کی ظاہری حالت اور روئیے پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہوتے ہیں اور لیبل لگا لیتے ہیں لیکن کسی کی اصل کہانی جاننے کا شوق یا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔

    زندگی کی دوڑ میں ہر بندہ ہر وقت کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ کوئی کس وقت کیسا کیوں کر رہا ہے یہ اسی کو پتہ ہے۔ اگر ہم کسی کے لئے آسانی پیدا نہیں کرسکتے تو کم ازکم اسے تنہا لڑنے دیں۔ اس پر بلاوجہ تبصروں سے گریز کریں۔ہو سکے تو ہم اس کے اس طرز عمل کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اللہ ہم سے راضی ہو۔

    (مرکزی خیال اسٹیفن کووے کی کتاب “پر اثر لوگوں کی سات عادات” سے ماخوذ)

  • یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    بعض اوقات زندگی اتنی تلخ ہو جاتی ہے کہ شیریں چیزیں بھی کڑوی لگنے لگتی ہیں اور دھیرے دھیرے حیات اپنی معنویت کھو دیتی ہے. ہم دن رات انھیں دکھوں اور تکلیفوں میں گزار کر ذہنی و جسمانی طور پر ڈھیٹ ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں ان کی عادت پڑھ جاتی ہے. ہم درد سہتے ہوئے ہس بھی لیتے ہیں اور رو بھی لیتے ہیں. کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا کسی کو سنا لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات اپنی بپتا اپنی یادوں میں دفن کرتے جاتے ہیں. خوشی اور غمی، شاید اسی کا نام حیاتی ہے.

    اگرچہ زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں مگر ان کو ساتھ لے کر جینا بھی ناممکن ہے. قدم قدم پر غم بکھرے پڑے ہیں تو کونوں کُھدروں میں کرب رینگ رہے ہیں. خوشیاں کہیں اوٹ میں چھپی کن اکھیوں سے دیکھ رہی ہیں کہ کب درد موقع دیں اور ہم اگرچہ کچھ لمحوں کے لیے ہی مگر بشر کو راحت و سکون مہیا کر سکیں.

    ماضی ہمیں جینے نہیں دیتا، حال ہمیں ہنسنے نہیں دیتا اور مستقبل کی لامحدود خواہشات ہمیں مرنے نہیں دیتیں. ہم اسی کشمکش میں زندگی کی گاڑی کو آس و یاس کے دھکے لگا کر آگے کو دھکیلتے رہتے ہیں اور ہر دن اسی امید کے ساتھ دل کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح کھوکھلی تسلیاں دیتے رہتے ہیں کہ

    "کوئی بات نہیں، پریشان نہیں ہونا، دل چھوٹا نہیں کرنا، اداس نہیں ہونا، مایوس نہیں ہونا، اچھا وقت بس قریب ہے”.

    اور پھر ہم انہی ٹمٹماتی امیدوں پر اپنی پوری حیاتی گزار کر گزر جاتے ہیں. ہمارے بعد ہمارے بچے اور پھر ان کے بعد ان کے بچے یہی سب کچھ دہراتے ہیں، اسی کیفیات سے گزرتے ہیں.

    ہم زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے، ہم خوش رہنا چاہتے ہیں مگر نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم دوسروں سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں.

    ہمارے پاس ہماری زندگی میں اگر کوئی اثاثہ ہے تو وہ ہماری گزری ہوئی یادیں ہیں، پھر چاہے وہ اچھی ہوں یا بری. ہم ایک ایک یاد کو بیسیوں بار یاد کرتے ہیں اور ہمارے سپنے بھی ہماری یادوں سے بھرے پڑے ہیں. ہم اپنی پوری زندگی تعلق بناتے اور نبھاتے مر جاتے ہیں. پھر ان تعلقات کو اپنی یادوں کی لڑی میں پرو کر یا تو کھل کر ہنس لیتے ہیں یا پھر بلک بلک کر رو دیتے ہیں. یادیں ایک ہی وقت میں ہمیں نئے زخم دیتی ہیں، پرانے زخموں کو تازہ کرتی ہیں اور پھر ان زخموں پر لگانے کے لیے مرہم بھی فراہم کرتی ہیں.

    سچ تو یہ ہے کہ یادیں بعض اوقات ہمیں ماضی کے ان جھروکوں میں لے جاتے ہیں جہاں کچھ پل کے لیے ہی سہی مگر ہمیں سکون میسر آ جاتا ہے. یہ یادیں ہی ہوتی ہیں جو ہمہ وقت ماضی اور حال کو جوڑے رکھتی ہیں. جوانی میں بچپن کے قصے کہانیاں، شرارتیں اور پھر بزرگوں کی جھڑکیاں، بڑھاپے میں جوانی کی پرجوش زندگی اور بعض الٹی حرکتیں اور قباحتیں،اپنی مرضی کے فیصلے لینا اور خود کو سب سے بڑا توپ مار سمجھنا، ہماری یادوں کے وہ سنہری ابواب ہیں جو ہماری حیاتی کو آگے دھکیلنے میں مد و معاون ثابت ہوتے ہیں.

    جو بھی ہے ہم زندگی کو امید اور آس سے زیادہ یادوں کے سہارے جیتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ یادیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں بلکہ اپاہج بنا کر رکھ دیتی ہیں جبکہ آس اور امید ہمیں ہر ہر موڑ پر ایک اندرونی تقویت مہیا کرتی ہیں جو ہمارے لیے بہت ضروری ہے. زندگی کو حقیقت سمجھ کر گزاریں. سپنوں اور یادوں کو اتنی ہی جگہ دیں جتنی کے وہ قابل ہیں تبھی عمر کٹ پائے گی.

  • چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    چلتے ہو تو سسرائیل چلئیے — نعمان سلطان

    ہر خاص و عام کی شدید ترین خواہش ہوتی ہے کہ کبھی وہ بھی شمع محفل بنے اور حاضرین محفل اس کے گرد پروانوں کی طرح پھریں. لیکن

    ہزاروں خواہشیں ایسی ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے ارمان میرے مگر پھر بھی کم نکلے

    مشہور ہے کہ اگر آپ نے دنیا میں جنت دیکھنی ہے تو پاک فوج میں آفیسر بھرتی ہو جائیں لیکن یہ بھی کسی کسی کے نصیب میں ہوتا ہے.قربان جاؤں میں اس رب پر جس نے دنیا میں ہی بندے کے شمع محفل بننے اور جنت کی خواہش پوری کر دی اور اس کے لئے مملکت خداداد سسرائیل تخلیق کی.

    اس مملکت میں تمام اختیارات آئینی طور پر صدر (سسر) کے پاس ہوتے ہیں. لیکن اختیارات کا منبع وزیراعظم (ساس) ہوتی ہے.. وزارت خزانہ (صرف کمانے کی حد تک) اور دفاع (خاندانی لڑائیاں) بیٹوں کے سپرد ہوتی ہے.

    وزرات اطلاعات و نشریات (غیبت) بیٹیوں کے سپرد ہوتی ہے. وزارت محنت وافرادی قوت (گھر کے کام کاج اور خاندان میں اضافہ) بہوؤں کے سپرد ہوتی ہے.اس کے علاوہ تمام وزارتوں کا ایڈیشنل چارج بھی وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے. جن کو چلانے میں بیٹیاں، بہنیں،سہیلیاں اور دیگر لامحدود عورتیں ان کی معاونت کرتیں ہیں.

    اس مملکت میں دوہرا معیار ہوتا ہے.. دامادوں کی زن مریدی پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور بیٹوں کو زن مریدی کرنے پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا اور شریعت میں والدین کے حقوق سے آگاہ کیا جاتا ہے.

    اس مملکت کی دشمن مملکت کا نام بھی سسرائیل (بیٹوں کا سسرال اور داماد کے علاوہ بیٹی کا تمام سسرال) ہوتا ہے. اور وقتاً فوقتاً ان کے درمیان شدید لفظی گولہ باری اور کبھی کبھی ہاتھا پائی بھی ہو جاتی ہے.

    اس مملکت کی نیشنیلٹی آپ کو کڑی جانچ پڑتال (سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک)،لامحدود سوالوں، کام (نوکری یا بزنس) اور خفیہ کیریکٹر رپورٹوں کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے. اور نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لئے آپ کو وہ لڈو کھانا پڑتا ہے جو کھائیں تب بھی پچھتائیں اور نہ کھائیں تب بھی پچھتائیں.

    کیونکہ یہ ارضی جنت عارضی ہوتی ہے تو اس میں سہولیات بھی محدود ہوتی ہیں اس میں مثل حور صرف بیگم اور انواع اقسام کے کھانوں کی جگہ دستیاب بجٹ میں بہترین کھانا ہوتا ہے اور مشروب کے طور پر مشروب مشرق دستیاب ہوتا ہے.

    اور کام کاج کے لئے وزیر اعظم (ساس) افراد خانہ میں سے منتخب افراد کی ڈیوٹی لگا دیتی ہے..الغرض مملکت خداداد سسرائیل کے مقیم اپنے مہمان (داماد) کو اس ارضی جنت میں ہر ممکن راحت اور سکون فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

    اس جنت سے بے دخلی بھی کسی شیطان کے بہکاوے میں آ کر شجر ممنوعہ (اپنی بیگم کے علاوہ تمام عورتیں) کے حصول کی کوششوں یا حصول کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے.

    جب آپ اس ارضی جنت میں داخل ہوتے ہیں تو واپس آنے کے بعد بھی کئی دن اس جنت کے خمار میں مبتلا رہتے ہیں..ویسے سالیاں ہونے کی صورت میں اس جنت میں آپ کے کئی شریک(دوسرے داماد) بھی ہو سکتے ہیں. ایسے میں جنت میں سے اپنے حصے کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے لئے اس وقت جائیں جب کوئی شریک وہاں نہ ہو.

    اس جنت میں آپ کو ایکسٹرا پروٹوکول بھی مل سکتا ہے. پر اس کے لئے آپ کو اپنی بیگم کی ساس اور نندوں کی وہ برائیاں انتہائی دلجوئی سے سننا پڑیں گی جن سے آپ اپنی پوری زندگی ناواقف رہے. البتہ یہ خیال رہے کہ کوئی آپ کی ماں بہنوں کو برا نہ کہے. بیوی کے رشتہ داروں (ساس، نندوں ) سے آپ کو کیا لگے.

    اس جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس میں عارضی (کم سے کم دن کا ) قیام کریں. مستقل قیام کی صورت میں معاملہ الٹ بھی ہو سکتا ہے اور وہ محاورہ سچ ثابت ہو سکتا ہے کہ

    بہن کے گھر میں بھائی. اور ساس کے گھر میں جوائی…..

  • بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    بالی کی مسکراہٹ — اسامہ منور

    کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے میں نے اُن بچوں کو کھڑا کیا جو آج بھی یونیفارم پہن کر نہیں آئے تھے. مختلف لائنوں سے سات بچے کھڑے ہوگئے اور ان بچوں میں آج پھر بالی(اقبال) بھی شامل تھا. میں سب بچوں کے پاس باری باری جا کر ان سے یونیفارم اور جوتوں کے متعلق پوچھ رہا تھا. سب بچے کوئی نہ کوئی جواب دے کر اپنے طور مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور میں انھیں بیٹھنے کا کہہ کر آگے بڑھ رہا تھا. مجھے غصہ نہیں آ رہا تھا بلکہ دکھ ہو رہا تھا کہ بچے روزانہ ہی کوئی نیا بہانہ بنا کر سکول آ جاتے ہیں، کسی کے پاس ٹائی نہیں تو کوئی بیلٹ کے بغیر ہے. کسی کی یونیفارم پریس نہیں ہوئی تو کوئی رنگ برنگی پینٹ اور شوخ جوتوں کے ساتھ آیا ہے. کسی کا منہ نہیں دھلا تو کوئی بالوں کو سلجھائے بغیر ہی سکول آ گیا ہے.

    یہ کام ان کے والدین کا تھا جو سکول میں اساتذہ کو کرنا پڑتا تھا اور اسی میں کلاس کا بہت سارا وقت ضائع ہو جاتا تھا.

    اگر والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی تربیت کا بیڑہ اُٹھا لیں تو پاکستان کا مستقبل سنور سکتا ہے.

    میں یہ باتیں سوچتا ہوا بالی کے پاس جا پہنچا.بالی حسب معمول سر جھکائے کھڑا گہری سوچوں میں گُم تھا. میں نے بالی سے یونیفارم کے متعلق پوچھا تو بالکل خاموش رہا. اس کا سر اُٹھا کر میری طرف نہ دیکھنا مجھے اور پریشان کر گیا. خیر میں نے تین دن کی وارننگ دی کہ سب بچے اپنی یونیفارم مکمل کریں تاکہ کلاس کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے.

    سکول کا وقت ختم ہوا تو میں گھر آ گیا. کچھ دنوں تک میرے چچازاد کی شادی تھی جس میں سب گھر والے ہی شامل ہو رہے تھے. بیگم نے مجھے بھی کہہ دیا کہ جمعہ والے دن شاپنگ کرنی ہے اور میں جانتا تھا کہ ہم تینوں کی شاپنگ پر ایک پوری تنخواہ لگ جانی ہے. شاید ہماری پوری قوم کو ہی فضول خرچی کی عادت پڑ گئی ہے. ایک ہزار کی جگہ دس ہزار کا خرچہ کرنا معمول بن گیا ہے.

    میں اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ کے متعلق باتیں کر رہا تھا جب میرا بیٹا کمرے میں داخل ہوا، اندر آتے ہی اس نے اپنے مخصوص انداز میں کہا! "بابا اس دفعہ شادی پر میں نے تھری پیس لینا ہے اور ساتھ وہ والے جوتے جو اس دن بازار میں دیکھے تھے…….. اور…….. اور ساتھ گھڑی بھی، عینک بھی اور پیسے بھی لینے ہیں”.

    میں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر مسکرا دیا اور اس سے وعدہ کیا کہ جو وہ بولے گا لے دوں گا.

    رات کو سوتے سے پہلے میں نے اندازہ لگایا کہ تو پتا چلا کہ شادی کی شاپنگ پر چالیس ہزار لگ رہا ہے. یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی.

    اگلے دن معمول کے مطابق سکول پہنچا. مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوا تو پوری کلاس کھڑی ہو گئی، حالانکہ میں نے سب کو اپنے لئے کھڑا ہونے سے منع کیا تھا. میں نے بیٹھنے کا کہا اور پھر یونیفارم کے لیے چیکنگ شروع کی اور یہ بات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پوری کلاس یونیفارم میں تھی مگر اس بات کا دکھ ہوا کہ بالی آج بھی یونیفارم کے بغیر تھا. میں اس پاس گیا اور خوب باتیں سنائیں. سخت سردی تھی مگر بالی کے پاس نا تو جرسی تھی اور نا ہی بند جوتا تھا.

    بالی میری باتیں سن کر بلک بلک کر رو دیا. میں نے اسے کلاس میں پہلی دفعہ یوں روتے دیکھا تھا. میرا دل پسیج گیا اور آنکھیں بھر آئیں. بوجھل دل سے لیکچر دیا اور پھر اگلی کلاس میں چل دیا.

    میں سارا دن بالی کے متعلق ہی سوچتا رہا. وہ میرے بیٹے کی عمر کا ہی تھا. چھٹی کے فوراً بعد میں چپکے سے بالی کے پیچھے ہو لیا کہ دیکھوں وہ کہاں جاتا ہے.

    سکول کے سامنے والی سڑک کو پار کر کے بالی سر جھکائے کچے رستے پر چل رہا تھا. اس کے قدم بوجھل لگ رہے تھے. اسے پیدل چلتے بیس منٹس ہو چکے تھے جب وہ رکا اور ایک حویلی کے اندر داخل ہو گیا. میں باہر انتظار کرتا رہا مگر طویل انتظار کے بعد بھی وہ باہر نہ نکلا تو مجھے تشویش ہوئی. کیونکہ یہ گھر نہیں لگ رہا تھا. میں گاڑی کھڑی کر کے گیٹ کے اندر داخل ہوا.

    تبھی مجھے اندر سے ایک بابا جی ملے اور آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں بالی کے متعلق پوچھا.

    بزرگ نے مجھے دائیں طرف جا کر بالکل سیدھا جانے کا کہا.

    میں جلدی جلدی اس سمت ہو لیا. تبھی میرا دھیان اس طرف گیا جہاں پر کچھ بچے بھوسہ پیک کر رہے تھے، ان میں ایک بالی بھی تھا. جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے بھوسے کے بنڈل بنا رہا تھا. اسے دیکھتے ہی مجھے اپنا بیٹا یاد آ گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئی.

    پوچھنے پر پتا چلا کہ بالی اکلوتا بھائی ہے، باپ کی وفات ہو چکی ہے اور ماں کچھ عرصہ سے بیمار ہے. بالی چوہدری کے ڈیرے پر کام کرتا ہے اور بدلے میں چوہدری ان کے چولہے کا خیال رکھتا ہے.

    یہ سن کر مجھ سے مزید وہاں رکا نہ گیا اور جلدی سے گاڑی میں آ بیٹھا. میرا اونچی اونچی رونے کو جی چاہ رہا تھا. ہمارے ارد گرد ایسے کتنے بچے موجود تھے مگر ہم بے حس ہو چکے تھے.

    گھر پہنچ کر میں نے بیگم سے پوچھا کہ اگر شادی پر نئے کپڑے نہ لیے جائیں تو گزارا ہو جائے گا؟؟

    بیگم نے معمولی سے استفسار کے بعد ہاں میں سر ہلا دیا اور کہا کہ ہمارے پاس بہت اچھی حالت میں کپڑے اور جوتے موجود ہیں. بیٹے کو بھی میں نے جیسے تیسے منا لیا اور پھر بینک چلا گیا. وہاں سے بازار جا کر کچھ نئے گرم کپڑے، جوتے یونیفارمز اور کھانے کے لیے ایک ماہ کا راشن خریدا اور بیگم بیٹے کو لے کر بالی کے گھر جا پہنچا. بالی مجھے اپنے گھر دیکھ کر ششدر رہ گیا. میری بیگم نے سارا سامان بالی کی اماں کے حوالے کیا اور ہر ماہ راشن پہنچانے کا وعدہ کر کے ہم لوگ واپس آ گئے.

    اگلے دن میں سکول پہنچا اور کلاس میں داخل ہوتے ہی میری نظر پہلی لائن میں بیٹھے بالی پر پڑی. جو نئی یونیفارم اور چمکدار جوتا پہنے ہوئے بیٹھا مسکرا رہا تھا، اور آج پہلے دن مجھے معلوم ہوا کہ استاد کا کام صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کو پڑھنا بھی ہے

  • بیوروکریسی اور حالات حاضرہ، ابھرتے ہوئے نوجوان کالم نگار کی ایک اور شاندار کاوش

    بیوروکریسی اور حالات حاضرہ، ابھرتے ہوئے نوجوان کالم نگار کی ایک اور شاندار کاوش

    آئینہ از عادل عباس چیمہ

    (بیوروکریسی اور حالات حاضرہ)
    کافی کچھ ریسرچ کرنے اور مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بیورو کا مطلب محکمہ یا ڈیپارٹمنٹ، کریسی کا مطب ہے راج،یعنی سرکاری محکموں کا راج، محکمے جیسا کہ محکمہ پولیس، محکمہ ریونیو، محکمہ واپڈا، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم وغیرہ، محکمہ کوئی بھی ہو یہ کوئی طلسماتی چیز نہیں ہوتا بلکہ یہ مجموعہ ہوتا ہے ان لوگوں کا جنہیں ہم افسر کہتے ہیں اور انکی افسرشاہی کے تمام تر اخراجات ہمارے دئیے ہوئے ٹیکس سے پورے ہوتے ہیں ، ان افسروں کوعوام نے چنا تو نہیں ہوتا مگر سرکاری کاغذوں میں انہیں عوام کا خادم ہی بتایا جاتا ہے مگر عملی زندگی میں یہ عوام کو نہیں بلکہ اپنے سے اوپر والے افسر کو جوابدہ ہوتے ہیں اسی طرح اوپر جاتے جاتے صرف ایک افسر رہ جاتا ہے جسے سیکرٹری کہتے ہیں ہر محکمہ کا سربراہ ایک سیکرٹری ہوتا ہے پھر تمام سیکرٹری مل کر ایک چیف سیکرٹری کے ماتحت ہوتے ہیں یہاں تک یہ سول بیورو کریسی کہلاتی ہے۔

    بیوروکریسی ریاست کے تین بنیادی ستون میں سے ایک ہے۔ عام تصوراور تاثریہ ہے کہ بیوروکریسی آئین اوردستور میںطے کردہ ذمہ داریوں کی ادائیگی اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے پالیسی اور قوانین کے دیانت دارانہ نفاذ کے بجائے حکمرانوں کا دست و بازو بن کر رہ گئی ہے۔
    کوئی بھی نہیں چاہتا کہ بیوروکریسی میں ایسی کوئی اصلاحات ہوں جن سے انکی ‘چودھراہٹ’کو خطرہ لاحق ہوجائے۔
    ملک کی ترقی اور جمہوری استحکام کیلئے بیوروکریسی کے طرز عمل کی جامع اصلاح اب وقت کی ضرورت بن گئی ہے۔ افسران کے انتخاب اور تربیت سے لے کر اس کے تمام مراحل اور پورے نظام میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کے سیاسی گٹھ جوڑ کو بھی ختم کیا جانا چاہیے۔ تب ہی جا کر بیوروکریسی کے ’ استحصال کا ایجنٹ ‘ والا کردار ختم ہوگا۔

    اس وقت میں اپنی لاڈلی بیورو کریسی کے شکوے نہیں کرنا چاہتا عرض یہ کرنی ہے کہ ریاست کے اس نہایت اہم ستون کو مضبوط کرنے کی کوشش بہت ضروری ہے کہ اسے ہی عملاً ملک چلانا ہے اور نئی حکومت کی پالیسیوں کا نفاذ کرنا ہے۔ مگر اب تو اس شعبے میں خرابیاں اتنی بڑھ گئی ہیںاور حالات نے بڑھا دی ہیں کہ اس کو درست کون کرے، کیا اس کو خراب کرنے والے اس کو درست کریں گے مگرکسی نہ کسی کو آغاز تو کرنا ہو گا۔

    یقینا اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں مگروہ اجتماعی سوچ اور رویے میں تحلیل ہو کر رہ جا تے ہیں۔ کام نہ کرنے کیلئے قانون، نظام، سیاسی مداخلت، عدالتی رکاوٹوں اور اختیار نہ ہونے جیسے بہانے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی افسر دیانتداری اور لگن سے کام کرنا چاہتے تو اُس کے لیے 24 گھنٹے بھی کم ہیں اور آج کے دور میں بھی چند افسروں نے دیانت، اخلاص اور لگن سے اس بات کو سچ ثابت کیا ہے۔ اگر کسی ضلع کا DCO یا DPO کام کر نا چاہے تو حاصل اختیارات اور موجودہ سیاسی ماحول کے اندر رہ کر بھی وہ اپنے ضلع کو ایک مثالی ضلع بنا سکتا ہے۔ کوئی پالیسی یا اقدام اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک افسر شاہی اُس میں اخلاص کے ساتھ شامل نہ ہو۔ خود احتسابی کا نظام عملاً ختم ہو چُکا ہے۔ قوانین اور ضابطوں کو کام نہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے نہ کہ آسانیاں پیدا کرنے کیلئے۔ ہماری افسرشاہی کی مجموعی سوچ آج بھی نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے۔

  • اذدواجی زندگی میں غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟؟

    اذدواجی زندگی میں غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟؟

    کسی رشتے میں جذبات، محبت اور ہم آہنگی کو ایک ایسی اھم چیز سمجھا جاتا ہے، تو غصہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے جوڑے اس سوال کے جواب کی تلاش میں رہتے ہیں کہ رشتے میں غصے کو کیسے قابو کیا جائے۔

    غصہ کسی بھی رومانوی شراکت داری کا ایک فطری اور ناگزیر حصہ ہے۔ جب دو لوگ اپنی زندگیوں کو اس قدر گہرے طریقے سے بانٹتے ہیں تو ان میں تصادم اور اختلاف ضرور ہوتا ہے۔ جب اس طرح کے حالات پیدا ہوں تو ‘غصہ میرے رشتے کو خراب کر رہا ہے’ کے خوف سے اپنے جذبات کو دبانے کے بجائے ان کے ساتھ صحیح طریقے سے نمٹنے پر توجہ دینی چاہیے۔
    شادی یا رشتے میں حل نہ ہونے والا غصہ باہر جانے سے کہیں زیادہ نقصان دہ نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے جب آپ کسی رشتے میں غصے پر قابو پانے کے لیے کام کرتے ہیں، تو کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس پر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے اور اسے ختم نہ ہونے دیا جائے۔ ماہر نفسیات کی ماہرانہ معلومات کے ساتھ، آئیے یہ معلوم کریں کہ آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں۔
    اس سے پہلے کہ ہم رشتے میں غصے کی جگہ کو سمجھنے کی کوشش کریں، آئیے اس بات پر غور کریں کہ غصہ دراصل کیا ہے۔ اس جذبات کو بڑی حد تک ایک منفی احساس کے طور پر غلط سمجھا جاتا ہے جو رومانوی شراکت داری کو تباہ کر سکتا ہے۔ غصے کو بھی اکثر محبت کے برعکس سمجھا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ کہ غصہ رشتوں کو نقصان پہنچاتا ہے عام طور پر اس عقیدے میں جڑا ہوا ہے کہ جب آپ کسی سے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں تو آپ ان سے محبت نہیں کر سکتے۔
    حقیقت میں، غصے کے جذبات سے منسلک یہ تمام تصورات غلط ہیں۔ غصہ صرف ایک اور انسانی جذبہ ہے جسے مکمل طور پر ختم یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری نہیں کہ یہ آپ کے رشتے کے لیے تباہی کا باعث بنے، اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں کوئی بھی جوڑا زندہ نہیں رہ سکتا۔ جو چیز واقعی اہم ہے وہ یہ ہے کہ آپ کسی رشتے میں حسد یا غصے کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ اس سے مکمل طور پر بچنے کی کوشش کریں۔
    ‘کیا رشتے میں غصہ محسوس کرنا معمول کی بات ہے’ کے سوال پر واپس گھومتے ہوئے، نکی بینجمن کہتی ہیں، "جی ہاں، رشتے میں غصہ محسوس کرنا معمول کی بات ہے لیکن یہ کس حد تک مختلف عوامل پر منحصر ہے۔ غصہ، اعتماد میں کمی، واضح مواصلات کی کمی، تفریق یا غیر متوازن طاقت کی حرکیات جیسی وجوہات غصے کے جذبات کی جائز وجوہات ہو سکتی ہیں۔
    اگرچہ یہ عام بات ہے، وجوہات بڑی حد تک آپ کے غصے/جواب کی صداقت کا تعین کرتی ہیں۔ اگر آپ اپنے رشتے میں جلدی ناراض ہوجاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اپنا غصہ کھو دیتے ہیں، تو اس میں شامل کسی کے لیے بھی ہموار سفر نہیں ہوگا۔ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور نقصان نہ پہنچانے کے لیے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رشتے میں مختصر مزاج پر کیسے قابو پایا جائ