Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • وَش ہے یا وائرس، تحریر:محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    وَش ہے یا وائرس، تحریر:محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے شاعر رشید حسرت کا شعر ہے کہ
    ؎ خدا کا خوف نہیں وائرس کا تھا خدشہ
    جسے بھی موقع ملا ہے وہ چین چھوڑ گیا
    مندرجہ بالا شعر میں وائرس پر نظر ٹک جاتی ہے۔وائرس کا لفظ لاطینی زبان سے انگریزی زبان میں پھر ادھر سے دیگر الفاظ کی طرح غیرمحسوس انداز سے اردو میں داخل ہوا۔ لاطینی زبان میں بھی یہ لفظ یونانی زبان سے آیا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ یونانی لفظ ”یوس“کی تبدیل شدہ شکل وائرس ہے۔لاطینی زبان کے لفظ ”Virus“کا ماخذ ”Weis“ہے۔ لاطینی زبان کے لفظ Virulentusکو پہلی بار انگریزی میں 1398ء کے قریب Virusمیں ترجمہ کرکے استعمال کیا اور پھر 1798ء میں ان ذرائع کا نام وائرس رکھ دیا گیا جو بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔سائنسی نقطہ نظر سے بات کروں تو 1880ء میں اسے استعمال کیا گیا اور کمپیوٹر کی دنیا میں یہ لفظ 1972ء میں داخل ہوا۔ گھریلوانسائیکلوپیڈیا میں وائرس کے متعلق لکھا ہے ”متعدی امراض کا سبب بننے والا زہر یا جراثیم سے بھی نہایت چھوٹا کوئی عنصر جو عام خوردبین سے نظر نہیں آتا“وائرس کو ہم زہریلا مادہ، متعدی امراض کا زہراور بَس وغیرہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ایک اور کتاب ”اپنے لوگ“ میں وائرس کے متعلق لکھا ہے ”اب کوئی فائدہ نہیں، محبت کا وائرس فاصلوں کی پروا نہیں کرتا“۔ خالد مبین کہتے ہیں
    ؎ محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
    ہمارے درمیاں یہ فاصلے کیسے نکل آے

    سنسکرت میں یہ لفظ ”وش“ کی شکل میں دیکھ کر گمان گزرا کہ یہ لفظ ہو نہ ہو ادھر سے ہی اُدھر تک پہنچا ہو۔ پھر جب اس متعلق چیمبرز ڈکشنری کا ایک حوالہ ملا تو گمان کو یقین کی قوت میسر آئی۔ یاد رہے کہ یہ انگریزی کا Wishنہیں ہے بلکہ سنسکرت کا ”وش“ ہے جس سے وش کنیا کی طرف دھیان جاسکتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ ایسی حسینہ جسے زہر پلاکر تیار کیا گیا ہو اور قدیم روایات کے مطابق اس سے لوگوں کو مروایا جاتا ہے۔ وِش ناشک لفظ پہلی بارمیری نظروں سے گزرا ہے جب اسے لغت میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس سے مراد تریاق ہوتاہے۔آگ کا دریا کتاب میں لکھا ہے”آہا پنڈت جی کٹوٹا کا وش ناشک میرے پاس بھی نہیں، کمال نے ہنس کر جواب دیا“۔ وش اگرچہ اردو میں بھی مستعمل رہا ہے لیکن اس کا ایک مترادف لفظ بِس بھی اردو میں پڑھا اور لکھا جاتا ہے جسے ہم دیوان حالی میں دیکھ سکتے ہیں۔
    ؎ کی نصیحت بری طرح ناصح
    اوراک بِس ملادیابِس میں
    اگر وِش کو وَش کردیا جاے تو فارسی کا لفظ بن جاے گا جس کا مطلب ہو مانند، نظیر اور خوب، وَش کے متعلق امجد اسلام امجد صاحب نے کیا خوب کہا ہے
    ؎ ہو چمن کے پھولوں کا یاکسی پری وش کا
    حسن کے سنورنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
    اب دوبارہ سے لفظ وائرس پر چلیے۔ اس سے مراد شروع میں زہر تھا جو بعد میں مہلک کے معنوں میں بھی آگیا۔ انگریزی زبان میں سیاسی جھگڑوں کو بیان کرنے کے لیے Virulent اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ وائرس پر کیا کچھ بیتا اور اس پر کیسے کیسے تجربات ہوے اور کس قدر درجہ بندیاں ہوئیں اور کیسے یہ لفظ سائنس کا حصہ بن گیا۔ یہ ایک الگ کہانی ہے کہ اس تک پہنچنا میرے لیے قدرے مشکل کام ہے۔ سرفراز شاہد کیا خوب کہتے ہیں کہ
    ؎ہے مبتلاے عشق بتاں میرا ڈاکٹر
    جو مجھ میں وائرس ہے وہی چارہ گر میں ہے

  • آج کا نوجوان تحریر: ثناءاللہ محسود

    آج کا نوجوان تحریر: ثناءاللہ محسود

    نوجوان کسی بھی معاشرے کی ایک اہم طاقت ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی خاندان ، ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بوڑھوں کی نسبت مضبوطی اور طاقت بخشی  ہے۔ یہ اپنے بل بوتے پر زندگی کی ہر جنگ میں فتح یاب ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی کامیابی کا انحصار نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ یہ اپنے ملک کی بنیاد ہوتے ہیں۔ وقت آنے پر ان کا خون ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتاہے ۔یہ پہاڑوں کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی نوجوان کو علامہ اقبال نے شاہین کا نام دیا۔

    تو سوال یہ ہے۔ کہ کیا آج کا نوجوان اپنی قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتا ہے۔ کیا یہ اقبال کا شاہین بننے کا ولولہ رکھتا ہے۔

    تو اس کا جواب یہ ہے ، کہ آج کا نوجوان ان سارے جذبوں سے خالی ہے۔اور اس کی وجہ نوجوانوں کا سوشل میڈیا ، منشیات ، اور دوسرے فضول امور میں دلچسپی لینا ہے ۔ رئیس لوگوں کے بگڑے ہوئے امیر زادے نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے میں مگن رہتے ہیں۔ اور دوسری طرف غریب طبقے کے لوگ دال، روٹی کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کو ملک کی فکر کیونکر ہو ۔

    اور ان سب کی وجہ یہ ہے۔ کہ آج کے دور میں نوجوانوں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگر وہ کسی بات میں مداخلت کریں تو ان کی بات کی تردید کر دی جاتی ہے۔ انھیں معاشرے کا اہم رکن سمجھنے کی بجائے  نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے لئے صحیح راستے کا انتخاب نہیں کر پاتے، اور ایسے عوامل کا شکار ہو جاتے ہیں جو معاشرے کے ساتھ ساتھ انہیں بھی تاریکیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔

    اور ایسی صورتحال میں جرائم مافیا  انہیں با آسانی جرائم کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔جس سے ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کا نقصان بھی ہوتا ہے۔

     ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوگا کہ ایک زمانہ تھا جب اسکولوں، کالجوں میں کھیل کے میدان ہوتے تھے، جہاں کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے تھے۔  ان کھیلوں کے ذریعے صبر و برداشت، حوصلہ، مقابلہ کرنے کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں غیرنصابی سرگرمیاں جیسے بیت بازی، تقریری مقابلے، مضمون نویسی وغیرہ ہوا کرتے تھے۔کیوں ختم کردی گئیں یہ ساری چیزیں جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل  بیان کرتے تھے۔  اس تیز ترین دور میں نوجوانوں سے ان کی رائے کا ہر وسیلہ چھین لیا گیا ہے ۔ سکول ، کالج نیز ہر ادارہ اپنا نام کمانے کی فکر میں نوجوانوں کے جذبات کا خون کرتا ہے۔ اور رہی سہی کسر بے روزگاری نے پوری کر دی ہے۔ 

    ان سب مسائل کا حل بس یہی ہے۔ کہ نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے وسائل مہیا کیے جائیں۔ کیونکہ ہمارے ملک کا مستقبل انہیں نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں تعلیم، صحت،  اور تجربات کا موقع دیا جائے تا کہ نوجوان ذہنی اور نفسیاتی دباؤ سے باہر نکلیں۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے ذرائع مہیا کیے جائیں۔ بہت سے نوجوان مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیم سے دور ہیں۔ ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا آسان کیا جائے۔ تا کہ اقبال کے شاہین اپنے وطن کو ایک بہترین مستقبل دے سکیں۔

    @Sanaullahmahsod

  • ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب۔۔۔ ہنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے ادبی است تحریر عقیل احمد راجپوت

    ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب۔۔۔ ہنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے ادبی است تحریر عقیل احمد راجپوت

    شہنشاہِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ان کی کے جن کی خاطر دنیا تخلیق کی گئی وہ جو نبیوں کے سردار ہیں وہ جو رحمت اللعالمین ہیں کے جن کے آنے سے قیصر و کسریٰ کے درباروں میں زلزلہ آگیا وہ جو یتیم مکہ ہوکر آقائے دو جہاں ہیں وہ کے ان کی آمد اس وقت ہوئی جب پورا جہاں بدکاریوں میں ڈوب چکا تھا لڑکیوں کو ذندہ درگور کرنے والے معاشرے میں محبت اور امن کا پیغام لیکر آنے والے میرے تمہارے ہم سب کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو امت مسلمہ کو بھائی سے بھائی کو ملانے آئے کالے اور گورے کا فرق مٹانے والے چاند کو دو ٹکڑے کرنے والے سر سے پاؤں تک لہو لہان کرنے والوں کے لئے بھی بددعا نا کرنے والے محمد کے کیا کہنے
    وہ کے جن ہونے کی سعادت نصیب کرنے والی وہ اونٹنی جو کمزور اور آہستہ آہستہ مقام پر پہنچا کرتی تھی وہ ایسے بھاگی کے طاقتور اونٹ کے مالکان دیکھتے رہ گئے
    حلیمہ کی بکریوں نے اتنا دودھ دیا کے برتن ختم ہو گئے دودھ آنا ختم نہیں ہوا
    وہ کے جن کے غلام بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کی بیٹی فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کے نواسے حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

    میرے آقا میرے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کیا کہنے وہ جو عرشِ بریں پر جوتیا پہن کر گئے وہ جہاں براق کا اختتام ہوا جہاں جبرائیل امین کے جانے کی حد ختم ہو وہاں میرا اور آپکا نبی اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو اپنی امت کی بخشش کی ہر دعا میں اللہ سے سفارش کرنے والا میرا آپکا نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم.

    کچرہ پھینکنے والی عورت کی تیمارداری کرنے جانے والے رحمت اللعالمین محمد جنت میں جن کے ہاتھوں سے حوض کوثر کا پانی نصیب والوں کو ملے گا

    دین اور دنیا کا خلاصہ کرکے امت کو راہِ حق دکھانے والے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم فاقوں میں اللہ کا شکر ادا کرنے والے محمد کافروں میں بھی صادق اور امین کہلاتے والے محمد اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کا طریقہ بتانے والے محمد اپنے آخری وقتوں میں بھی امت امت پکارنے والے محمد پر لاکھوں کروڑوں درود وسلام 

    انسانوں کے نبی جنات کے نبی مچھلیوں کے نبی فرشتوں کے نبی میرا اور آپکا نبی کسی شہر صوبے یا ملک برادری کا نہیں پوری کائنات کا نبی سارے نبیوں کا بنی بن کر آیا ہاں اپنی پیدائش پر خوش ہوا کر اے امت محمدی کے انسان تو اس نبی کا امتی بن کر دنیا میں پیدا ہوا جو ساری کائنات کے نبیوں کے سردار ہیں
    ہاں ہاں وہ نبی جس نے دنیا میں قدم رکھا تو ہزاروں سال سے جلنے والی فارس کی آگ بجھ گئی

    میرا اور آپکا نبی وہ ہے جس سے پوچھ کر موت کا فرشتہ حجرے میں داخل ہوا اور فرمایا اللہ کے نبی جانا چاہتے ہیں تو چلیں نا جانے کا حکم ہو تو میں واپس ہوجاتا ہو اللہ اللہ فرشتے نے پہلی بار کسی سے پوچھا ہے کہ روح نکال لو یا نہیں جب سے دنیا بنی ہے یہ کسی انسان سے نہیں پوچھا گیا آنا چاہیں تو آجائیں نا آنا چاہیں تو نہیں لانا ایسا ہے  ہمارا نبی

    لوگوں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہو نبی کریم کے سامنے پیش ہوگے کیا منہ لیکر جاؤ گے دنیا میں کتنی بدمعاشی اور غلط کاریوں میں لگے پڑے ہو نبی کے احکامات کی پابندی کرو انصاف اور سچ کے سوا کسی چیز پر نا چلو اپنی اور اپنے چاہنے والوں کی ابدی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کرو خود بھی عمل کرو دوسرے کو بھی تلقین کرو نبیوں والے کام امت محمدی کے حصے میں آئے ہیں

    غلطی کی ہزار بار معزرت

  • ادب و احترام گھر کو جنت بنا دیتا ہے | تحریر :عدنان یوسفزئی

    ادب و احترام گھر کو جنت بنا دیتا ہے | تحریر :عدنان یوسفزئی

    گھر ایک ایسا معاشرتی مرکز ہے جو جنت کی تصویر بھی ہے اور دوزخ کا نمونہ بھی، قرآن کی رو سے دوزخ کی آگ کے شعلے چاروں طرف سے گھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن گھر کی دوزخ کے شعلے انسانوں کو نظر نہیں آتے ۔مگر وہ ان کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں ۔بےچینی، اضطراب مایوسی، بےسکونی جیسی بہت سی کیفیات نے افراد خانہ کو اس قدر ایک دوسرے سے بیگانہ بنادیا ہے کہ حشر کا سا سماں معلوم ہوتا ہے غصہ، حسد، تکبر، نخوت اور غیبت جیسے سینکڑوں روحانی امراض نے افراد خانہ میں بے ادبی اور بداحترامی کو جنم دیا ہے ۔

    یہی بے ادبی اور بداحترامی افراد میں عدم تعاون اور عدم مطابقت کا باعث ہے ۔گھر کا چھوٹا سا معاشرہ نظارہ جنت کی بجائے نظارہ دوزخ ہے ۔جب معاشرہ کے بیشتر گھروں میں یہ کیفیات نشوونما پاتی ہیں تو تمام معاشرہ بداخلاقیوں کا نمونہ بنتا ہے ۔یہی بداخلاقیاں افراد معاشرہ کے لئے ازخود اس دنیا میں عذاب کا موجب بنتی ہیں، گویا یہ عذاب فانی ہے مگر وہ اسی سے آنے والے "ابدی” عذاب کے مستحق بنتے چلے جاتے ہیں ۔

    اس کے برعکس باہمی ادب و احترام وہ کنجی ہے جس سے ہر قسم کے تالے کھلتے چلے جاتے ہیں۔یہی وہ صراطِ مستقیم جس پر چل کر افراد میں محبت وپیار کے سوتے پھوٹتے ہیں، ایثار اور قربانی کے جذبے کار فرما ہوتے ہیں، بغض وعناد کے شعلے ٹھنڈے ہوتے ہیں ۔احساسات محرومی پر صبر کرنا آتا ہے، ہر عمل پر بدنیتی، نیک نیتی میں تبدیل ہوتی ہے ۔باہمی احترام سے نیکیوں میں اضافہ اور بدیوں میں کمی آتی ہے ۔معیار زندگی کے حصول کی دوڑ ختم ہوتی ہے ۔احترام آدمیت کی تربیت کا شوق پیدا ہوتا ہے ۔قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی و حفاظت ہوتی ہے ۔انفرادیت کی بجائے اجتماعیت جلا پاتی ہے ۔ہر فرد سب کے لئے اور سب ایک کے لئے سوچتے ہیں ۔ایک گھر ہی نہیں، بلکہ تمام معاشرہ فلاح وبہبود کا نمونہ بنتا ہے ۔

    کامیابی کے لئے ہر وقت اور ہر مقام پر دو چیزیں ضروری ہیں ۔ایک ایمان اور دوسرے نیک اعمال ایک بنیاد ہے اور دوسری عمارت خوبصورت عمارت کے لئے مضبوط بنیاد کی اشد ضرورت ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کو پیدا کیا ۔انسانوں میں باہمی ادب و احترام کی بنیاد اللہ کا ادب و احترام ہے اللہ تعالیٰ کا ادب و احترام کیا ہے؟

    اللہ کو محض اور محض ایک مانا جائے ۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، اسی لئے شرک کو سب سے بڑی بے ادبی، بداحترامی، بدتمیزی اور ظلم عظیم کہا گیا ہے ۔مزید اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین، کسی سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہو، کسی اور سے بات بننے کا یقین اللہ کی سب سے بڑی بے ادبی ہے ۔اللہ کا بے ادب کسی اور کا ادب و احترام نہیں کرسکتا ۔دوسرے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور انہیں کے طریقوں میں کامیابی کا مکمل یقین ہو، غیروں کے طریقوں میں خدا کے رسول کی بے ادبی اور بداحترامی کا یقین ہو ۔الغرض ایمانیات ہوں، عبادات ہوں اور اخلاق و معاملات ہوں ۔اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ادب و احترام کا ایک خاص معیار قائم کیا ہے ۔اس معیار کو قائم کیے بغیر باہمی ادب و احترام کا تصور کرنا غلط ہے ۔گھر ہو یا معاشرہ، اخلاق و معاملات کے اس معیار کو مشعل راہ بنانا ہوگا، ورنہ جنت نہ یہ دنیا بنے گی اور نہ اس دنیا میں ملے گی ۔

    اس وقت ضرورت ہے کہ مسلمان قوم کو اسباب برکت پر لایا جائے، مسلمان معاشرہ میں عملاً اسباب برکت کو رواج دیا جائے، تاکہ انسانیت خدائی برکت کے ثمرات ولوازمات سے مستفیض ہوسکے ۔

    آسان ترین اور معاشرہ میں ہر محلہ گھر اور ہر فرد کیلئے جسم و روح کی تسکین و خوشی کا ذریعہ، ظاہری و باطنی جسمانی و روحانی برکتوں سے مالا مال کردینے والا مجرب نسخہ برکت کیا ہے؟

    سنئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا البرکتہ مع اکابرکم برکت تمہارے بڑوں کیساتھ ہے ۔بڑوں کا ادب و احترام اور ان کی راحت رسانی اور ان کے حقوق کی ادائیگی برکتوں کے نزول کا بہترین اور یقینی ذریعہ ہے ۔

    بے شمار واقعات اس پر شاہد ہیں کہ والدین کے خدمت گزار اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے اور ان کے حقوق شریعت کے مطابق ادا کرنے والے کو ہر طرح کی برکتوں سے نوازا گیا اور ایسے ہی اساتذہ اور علماء اور اہل اللہ کا ادب و احترام اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق ادا کرنے والے کے علم و عمل اور تقوی و طہارت میں ظاہری و باطنی برکتیں نمایاں نظر آتی ہیں اور اس کے برعکس جو لوگ بڑوں کے حقوق میں کوتاہی کرتے ہیں، والدین اور اساتذہ کا ادب و احترام اور حسن سلوک شریعت کے مطابق نہیں کرتے تو ان کی ہر چیز میں بے برکتی ہی بے برکتی ہے اور یہی شکوہ و گلہ زبان زد عام ہے کہ کسی چیز میں برکت نہیں ۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بڑوں کا ادب و احترام کرنیوالا بنائے ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai 

  • معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈپریشن تحریر: صائمہ ستار

    معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈپریشن تحریر: صائمہ ستار

    اتار چڑھاؤ زندگی کاحصہ ہیں. جہاں زندگی میں بہت سے خوش کن لمحات آتے ہیں کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے وہیں زوال و ناکامی  بھی زندگی کا حصہ ہیں. بلند ہمت اور زندہ دل افراد عزم سے نامسائد حالات کا مقابلہ کرتے ہیں. جبکہ پست ہمت افراد جلد دل ہار بیٹھتے ہیں اور زندگی کی مشکلات کو پہاڑ بنا لیتے ہیں نتیجتاً مسلئے کا واضح نظر آنے والا حل دیکھنے سے بھی محروم رہتے ہیں. وقت کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات نے یوں تو زندگی کو آسان بنا دیا ہے مگر اسکے ساتھ ہی معاشرے میں عدم برداشت اور ذہنی تناؤ میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے. انسان تعلاقات کے مصنوعی ذرائع جیسا کہ موبائل اور سوشل میڈیا کو زیادہ اہمیت دینے لگا ہے جبکہ اسکے ارد گرد موجودہ رشتے اور افراد نظر انداز ہوتے ہیں. لہذا وقت کے ساتھ ساتھ انسان خود کو تنہا مایوس کرنے لگا ہے خصوصاً نوجوان نسل میں یہ رحجان بہت زیادہ ہے. ڈپریشن آجکل ہر نوجوان کا مسلئہ بن چکا ہے. ہر دوسرا فرد اس نفسیاتی مسلئے کا شکار نظر آتا ہے. 

    وقتاً فوقتاً انسان کا مایوس یا اپنے اردگرد افراد اور حالات سے بیزار ہونا نارمل ہے کہ دل ہر وقت ہی زندہ دل محسوس نہیں کر سکتا. یہ اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہیں مگر ڈپریشن کی کیفیت کا دورانیہ نارمل مایوسی یا بیزاری سے بہت زیادہ ہوتا ہے. کبھی ڈپریشن کی کیفیت کی کچھ خاص وجہ ہوتی ہے جبکہ بہت سے کیسز میں بغیر کسی وجہ کے لوگوں کو ڈپریس دیکھا گیا ہے.ڈپریشن کی بیماری کی  شدت  عام اداسی کے مقابلے میں جو ہم سب وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہیں  کہیں زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ڈپریشن بعض دفعہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے.ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ تنہائ بھی ہے. زیادہ دوست یا میل ملاپ رکھنے والے افراد میں یہ مسلئہ بہت کم پایا جاتا ہے. بعض اوقات اچانک کسی سنجیدہ بیماری کا شکار ہونے والے افراد میں بھی یہ مسلئہ موجود ہوتا ہے. بعض لوگوں کی شخصیت میں کوئ ذاتی کمی کا احساس یا دوسروں سے ہر وقت موازنہ بھی ذہنی تناؤ کی وجہ بنتا ہے. بہت سے افراد میں یہ مسلئہ موروثی طور پر بھی نسل در نسل منتقل ہوتا ہے. اس سب کی بہت سی وجوہات ہیں.معاشرتی حالات کا بھی اس میں بہت زیادہ کردار ہے. مشرکہ خاندانی نظام جو ہماری روایت تھا وقت کے ساتھ یہ روایت دم توڑ رہی ہے. لوگ مل جل کہ رہنے کی بجائے تنہا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں.روپیہ پیسہ رشتوں سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے. بڑھتی ہوئ مہنگائ اور معاشی حالات بھی ذہنی تناؤ کی وجہ بنتے ہیں.وہ افراد جنکی آمدنی محض میں ایک دن کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے اچانک پیش آنے والے حادثے کی صورت میں تمام خاندان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے. والدین کی آپس کی ناچاقی بھی 

    ٹین ایج افراد میں مایوسی اور ڈپریشن کی بڑی وجہ ہے. بدقسمتی سے پاکستان میں ذہنی امراض کے بارے میں جانکاری کی شرح نہایت کم ہے. بہت سے والدین "لوگ کیا کہیں گے ” کے نام پر بچوں کے نفسیاتی مسائل کو چپھا کر رکھنا بہتر سمجھتے ہیں. موبائل فونز کے بہت زیادہ استعمال سے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، قوت برداشت کم ہونے سے نوجوان نسل میں ڈپریشن و اینزائٹی کی شرح تیزی سے بڑھی ہے مگر ہم ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کے نشے میں اس طرح مبتلا ہیں کہ ان کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے۔ہمیں چاہیے کہ رابطے کے مصنوعی ذرائع پر وقت صرف کرنے کی بجائے اپنے ارد گرد کے افراد کو توجہ کا مرکز بنائیں. کسی کہ دکھ درد کو سنیں. دوسروں کے مسائل اور مشکلات آسان کرنے پر توجہ دیں تا کہ معاشرے میں دوبارہ سے مثبت سوچ رکھنے والے اور ذہنی طور پر صحت مند افراد کا تناسب بڑھے. 

    @just_S32

  • کامل مومن کی نشانیاں  تحریر: تیمور خان

    کامل مومن کی نشانیاں تحریر: تیمور خان

    قرآن کریم فرقان حمید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک مومن کامل کی دنیاوی و اخروی جزا بیان فرمائی ہے

    ہر کلمہ گو مسلمان اور مومن ہے لیکن جو شخص کلمہ پڑھ کے یعنی کلمہ اسلام کلمہ طیبہ پڑھ کہ پھر اس کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات اور فرامین کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے ، تو وہ ہی مومن کامل کہلاتا ہے، اور جو شخص اپنے ایمان اور کلمہ طیبہ کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو مسلمان اور مومن تو وہ بھی ہے لیکن  وہ کامل مسلمان اور کامل مومن نہیں ہے۔

    اسی لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم فرقان حمید میں اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنے احادیثِ طیبہ میں ایک مسلمان اور مومن کے جتنے بھی انعامات اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے، تو وہ مومن کامل کی جزا کا ذکر فرمایا ہے ہر مسلمان اور مومن کی جزا جو قرآن وسنت میں بیان کی گئی ہے وہ نہیں ہے ہر ایک کلمہ پڑھنے والا ان انعامات کا جو دنیاوی ہوں یا اخروی ہوں مستحق نہیں ہے،دنیاوی و اخروی انعامات کا مستحق وہی ہے جو اپنے تقاضوں پر پورا اترتا ہے، اسی لئے قرآن کریم کی پہلی آیات میں بیان کیا گیا ہے، اللہ نے فرمایا کہ قرآن کریم یہ عظمت والی کتاب ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور پھر اللہ نے فرمایا یہ متقین کے لئے ہدایت ہے  اس کا مطلب یہی ہے کہ متقی وہ شخص ہے جو اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے جب ایک شخص ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے گا تو قرآن کریم اس کے لئے راہ ہدایت بنے گا، اور اس کے برعکس ایک مسلمان جو قرآن کی ہدایت کو اپنانا ہی نہیں چاہتا تو قرآن کیسے اس کو ہدایت دے گا،اور دوسرے جگ پہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تمام مسلمانوں کے لئے ہدایت ہے، اب ہدایت حاصل کون کرے گا جو متقی ہوگا, اسی لئے قرآن کریم میں دنیاوی و اخروی جتنے بھی احکامات ارشاد کیے گئے ہیں ان تمام کا تعلق مومن کامل کے ساتھ ہے۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مومن کامل کے متعلق سورہ کعف میں اخروی جو جزا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیا صاحب ایمان ہوئے اور اپنے ایمان کو تکمیل تک پہنچا دیا اور نیک اعمال کیے اللہ نے فرمایا اب ان کا اخروی جو انعام ہوگا اللہ نے مختصراً فرمایا کہ اللہ نے ان مومنین کاملین کے لئے جنت الفردوس میں مہمان نوازی تیار رکھی ہوئی ہے، جنت میں یہ اللہ کے مہمان ہونگے،ان کے لئے جتنے بھی انعامات ہے یہ سب کہ سب مومنین کاملین کے لئے ہے، اور اللہ نے فرمایا کہ دنیا میں بھی ایمان کامل اور مومنین کے لئے جزا ہے اس کے متعلق اللہ نے سورہ مریم میں فرمایا۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا وہ لوگ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال کیے، یعنی ایمان کے تقاضوں کو پورا کیا اللہ نے فرمایا دنیا میں ان کی جزا اور انعام کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اس کے عزت پیدا فرما دے گا، اس کے ساتھ کسی کا نا سیاسی، معاشرتی یہاں تک کہ رشتہ داری کا تک نہیں ہوگا لیکن اللہ دوسرے لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے محبت پیدا کر دے گا، اور یہی اللہ تعالیٰ ایمان کامل والوں کو عطا کرتا ہے۔

    اگر ہم اپنے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ دیکھیں تو یہاں پہ جتنے بھی متقدمین اور کبار اولیاء جو آئے تو ان میں بڑا نام حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللّٰہ کا ہے، حضرت داتاگنج بخش جن کو کہا جاتا ہے لاہور میں ان کو تقریباً گزرے ہوئے ہزار سال ہونے کو ہیں، لیکن آج بھی ان کا نام برصغیر پاک وہند میں چمک رہا ہے آج بھی اگر ان کے مزار پہ آپ جائیں تو لوگ اس عقیدت سے ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں، لوگوں کا  وہاں بیٹھ کر تلاوت کرنا اللہ کا ذکر کرنا اور ان سے روحانی فیض حاصل کرنا اپنے لئے سعادت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اب ان کے ساتھ جو آئے افعانستان سے تھے ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے تعلق زمانہ بھی نہیں وہ ہزار سال پہلے کے گزرنے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے دلوں میں ان کے لئے محبت اور محبت آج بھی موجود ہے، اسی طرح اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰہ وہ تشریف فرما ہوئے انہوں نے ہندوستان میں اسلام کو سربلند کیا اسلام کو پھیلایا اور اپنی زندگی اللہ کے راستے میں وقف کی، جس وقت ہندوستان میں کلمہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا، اور جب آپ دنیا سے جا رہے تھے تو ایک مستند روایات کے مطابق 90 لاکھ مسلمانوں کو کلمہ پڑھا کر جا رہے تھے، اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق زمانہ بھی نہیں لیکن پھر اللہ نے ہمارے دلوں میں ان کے لئے عقیدت اور محبت رکھی ہے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے ایمان کامل کا تزکرہ کیا، تو ان ایمان کاملین کی محبت اللہ فرماتا ہے میں لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دوں گا،

    بخآری شریف کی حدیث ہے سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے جو کہ ایمان کامل کی جزا ہے دنیا میں، تو اللہ تبارک جبریل علیہ السلام کو دنیا میں بولاتا ہے اس دنیا میں امام بخآری اس حدیث کو روایت فرماتے ہیں، اللہ فرماتا ہے اے جبریل میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبریل فلاں بندے سے میں بھی محبت کرتا ہوں تم بھی کرتے ہو جا آسمانوں میں اعلان کر دے کہ فلاں بندہ اس سے تم لوگ بھی محبت کرو، فرشتے بھی اس نیک بندے سے محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور فرشتوں کی محبت کہ وہ اس نیک بندے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعائیں مانگنا شروع کر دیتے ہیں، سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نیک بندے کی محبت جو آسمانوں میں بھی مقبول چکی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اس کی محبت زمین بھی لوگوں کے دلوں میں مقبول کر دیتا ہے اور یہی اللہ کا وعدہ ہے، 

    اور اسی طرح مشہور حدیث ہے جس کو حدیث قدسی کہتے ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ جو میرے نیک بندے کے ساتھ دشمنی کرتا اس کے ساتھ میں جنگ کا اعلان کرتا ہوں وہ میرے جنگ کے لئے تیار ہو جائے، اور یہ وہی بندہ ہے جس نے اپنے زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق گزاری ہے اور ایمان کامل کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔

    ایک شخص اللہ کا محبوب تب ہی بنتا ہے کہ اللہ نے اس پر جو احکامات فرض کئے وہ اس پہ پورا ہوتا ہے، اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور بندوں کے حقوق بھی عطا کرتا ہے، تو اللہ فرماتا ہے اس بندے کو میں اپنا محبوب بنا دیتا ہوں، اب یہ اللہ کا محبوب تو بن جاتا ہے لیکن اس کا یہ مرتبہ یہ پکا کب ہوتا ہے تو پھر اللہ فرماتا ہے کہ جب یہ مومن کامل فرائض کے بعد نوافل ادا کرتا ہے تو یہ یہ میرا قرب حاصل کرتا ہے یہ میرے اور بھی قریب ہو جاتا ہے، تو یہی وہ چیز ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ دنیا میں ایمان کامل والوں کو عطا فرماتا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو بھی ایمان کامل والوں کی دولت عطاء فرمائے اور جو کلمہ طیبہ ہم نے پڑھا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @iTaimurOfficial

  • آزاد وطن تحریر: تنزیلہ اشرف

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد آزاد ملک بھی حاصل کرنا تھا جہاں دینی ،معاشرتی،تعلیمی آزادی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی رائے کی بھی آزادی حاصل ہو گئی ہر شخص اپنی رائے کے اظہار کے لیے آزاد ہو گا۔سوچ آزاد ہو گی ، انسان آزاد ہو گا۔۔ہم اپنی رائے دینے میں آزاد ہوں گے۔۔یہ تھا اصل ملک جس کو حاصل کرنے کا خواب دیکھا تھا اقبال نے”۔۔
    "قائد اعظم نے تعبیر دی تھی ان کے اس خواب۔۔ان کا خیال تھا ہم آزاد وطن حاصل کر چکے ہیں جہاں ہم اپنی رائے آزادانہ , بلا خوف کے دے سکتے ہیں۔۔
    لیکن افسوس ہم وطن حاصل کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن آزاد وطن،آزاد سوچ حاصل کرنے میں آج بھی ناکام ہیں ہمارا دماغ غلامی کی نا ختم ہونے والی زنجیروں میں جکڑا ہے۔۔۔جسے لبرل ازم نے اور غلام بنا دیا ہے”۔۔
    پاکستان میں کوئی شخص آزاد نہیں کہ وہ اپنی سوچ کو لوگوں پر آزادانہ ظاہر کر سکے ۔۔۔کوئی شخص سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بات کرتا ہے, اپنا مثبت پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے تو غلام ذہن اس پیغام کو نہیں سنتے! اس بات کی گہرائی میں نہیں جاتے بلکہ اس شخص کے ماضی کو اچھالتے ہیں۔۔
    "پچھلے دنوں! پاکستان کے نامور گلوکار ابرار الحق صاحب کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں اولاد کی تربیت پر انھوں نے اپنا موقف ظاہر کیا۔۔وہ ایک آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں۔۔ اس وطن نے انھیں یہ حق دیا ہے کہ وہ آزادی رائے کا حق رکھتے ہیں ان کا پیغام مثبت تھا لیکن ہماری غلامانہ سوچ ۔۔کچھ لوگوں نے ان کی والدہ کی تربیت پر افسوس کیا! تو کسی نے انھیں ذاتی نشانہ بنایا کیا وہ آزاد ملک کے شہری نہیں؟
    ہم کیوں مثبت پیغام دینے والے کو بھی نہیں چھوڑتے اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا وہ واقعی ہی آزاد ملک میں سانس لے رہا ہے”؟ ۔
    "مینار پاکستان لاہور میں جو واقعہ پیش آیا اس پر آپ نے بھی اقرار الحسن کے ویوز سنے ہوں گے۔۔انھوں نے کہا یا اللہ تیرا شکر ہے ! اس معاشرے میں تو نے مجھے بیٹی نہیں دی۔۔۔سارا ملک ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، بات کی گہرائی جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔۔انھوں نے "اس معاشرے کا "لفظ استعمال کیا تھا یعنی وہ بیٹی کے وجود سے نہیں ،معاشرے میں جا بجا بکھرے ان بھیڑیوں سے خوف زدہ ہیں جو معصوم بچوں کو گدھ کی طرح نوچ کھاتے ہیں۔۔
    اس معاشرے سے کیا انسان کوخوف زدہ نہیں ہونا چاہیئے ؟
    "ان کی بات کی گہرائی میں نہ اترنے والے اپنی بیٹیوں کو ان بھیڑیوں سے بچانے کے لیے آغوش میں چھپائے پھرتے ہیں”۔۔۔
    "کیا ہمارا معاشرا ایک بیٹی کے لیے محفوظ ہیں ؟”
    پہلے یہ سوال خود سے پوچھیں ،پھر کسی کو جواب دینے کے قابل بنیں۔۔ایک بندہ اپنی آزادی رائے کا حق استعمال کر رہا ہے آپ کو اس کی بات پسند نہیں آئی تو یہ آپ کی آزاد سوچ ہے۔۔اگلا بھی آزاد ہے۔۔
    اس کے علاوہ حالیہ ہونے والے بہت سے ایسے واقعات دیکھنے میں آئے جن میں ایک شخص اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے ،”تو ہزاروں لوگ یہ ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ وہ ہوتا کون ہے ایک آزاد ملک میں سانس لے کر آزادی رائے کا حق استعمال کرنے والا”۔۔
    ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم واقعی ہی آزاد ہیں؟
    "آزاد وطن حاصل کرنے سے ذہنوں کی غلامی کو ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ سوچ آزاد ہونا ضروری ہے۔۔۔
    سوچ آزاد ہو گی تو معاشرا آگے بڑھے گا نہیں تو ہم جیتے رہیں گے غلامی میں” ۔۔
    "ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں کوئی مثبت بات کرتے ہوئے بھی غلام ذہنوں کی کائی زدہ باتوں سے نہ گھبرائے ۔ہم آزاد ہوں ،اور واقعی میں آزاد ہوں”۔
    پاکستان زندہ باد

  • یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    آپ جانتے ہوں گے ۔کچھ دن پہلے پورے پاکستان میں یکساں تعلیمی نصاب کا قانون بنا دیا گیا ہے ۔۔اور پرائمری لیول تک پورے ملک میں یکساں نصاب پڑھایا جاے گا ۔اس پر ایک مخصوص گروہ کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے ۔ہمارا مسئلہ يہ ہے کہ ہم ہر چيز کو مخصوص عينک لگا کر ديکهتے ہيں اور اپنے مطلب کے معنی اخذ کرتے ہيں۔يہی وجہ ہے کہ ہميں صرف قابلِ اعتراض چيزيں ہی نظر آتی ہيں جو بعض اوقات قابلِ اعتراض ہوتی بهی نہيں ہيں۔۔‏جیسے دین بیزار feminists،liberals پاگلوں کی طرح نئے یکساں تعلیمی نصاب کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ تڑپ رہے ہیں۔ لڑکی کو نماز پڑھتی کیوں لکھا، عورتوں کو دوپٹے میں کیوں دکھایا، لڑکے فٹبال کھیلتے کیوں لکھا لڑکی کیوں نہیں، لڑکی گھر کی صفائی کرتی کیوں دکھائی، عورتوں کو ٹیچر اور نرس ہی کیوں دکھایا۔ لڑکی زمین پر بیٹھی لڑکا کرسی پر کیوں ۔لڑکا زمین پر بیٹھا تو لڑکی کرسی پر کیوں ۔ان کے اعتراضات یا تنقید سے لگتا ہے کیا کہ کہیں سے بھی یہ پڑھے لکھے شعور والے لوگ ہے انھوں نے دنیا گھوم لی جہازوں میں سفر کر لیے ۔ہر ملک جا کر گوروں ساتھ سیلفیاں بھی بنوا لی لیکن ان کی سوچ سے آج بھی جھونپڑی میں رہنے والے اس محنت کش مزدور کی سوچ اچھی ہے جو ٹوٹی سائیکل پر بھی پرچم لگاتا ہے اور وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے. یہ کیسے لوگ ہے جو دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ پر گھومتے ہیں اور پھر گوروں کے سامنے اپنے ملک کو بدنام کرنے واسطے کچھ بھی بولتے رہتے ہیں ۔
    ہم ایک پاکستانی ہے ایک قوم ہے مانتے ہیں نہ تو ہم ایک نصاب کیوں نہیں بنا سکتے ہیںایک نصاب کیوں نہیں پڑھ سکتے ۔ ۔۔‏یکساں تعلیمی نصاب کی تجدید صرف کپتان نے اکیلے نے نہیں کی ۔ ۔اعلی تعلیم یافتہ افراد اور اسکالرز نے کی ہے. موجودہ معاشرے کے تمام اہم پہلو اور اخلاقیات کو بہتر کرنے کے حوالے سے مضامین شامل کئے گئے ہیں. تمام بڑے پبلشرز، سرکاری تعلیمی بورڈ اور پرائیوٹ اسکولوں منیجمنٹ ٹاسک فورس بھی اس میں شامل تھی.تنقید کرنے والے اس سے لاعلم ہیں۔۔۔تنقید کرنے والے کیا نہیں چاہتے کہ اس ملک کا غریب بھی پڑھ لکھ سکے ۔۔کیا نہیں چاہتے کہ جو کتابیں ان کے بچے پڑھ رہے ہیں ۔وہی کتابیں غریب کا بچہ بھی پڑھ سلے اپنا اچھا مستقبل بنا سکے ۔۔۔اگر ایسا نہیں تو تنقید اور حکومت کے اس فیصلے کو برا بھلا کیوں بول رہے ہیں
    یکساں نصاب کے اس فیصلے کو ہر باشعور پاکستانی کیطرف سے قابل تحسین قرار دیا گیا۔
    لیکن بیکن ھاؤس کے پرنسپل مائیکل تھامس نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔اس انکار کی وجہ شاید آپ جانتے ہی ہوں دو تین سال باقاعدہ سوشل میڈیا پر بیکن ہاوس کے خلاف کمپین چلائ گئ تھی ۔اس کمپین میں پڑھائے جانے والی نصابی کتب کے سکرین شاٹس شئیر ہوئے جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو ” انڈین سٹیٹس” لکھا ہوا تھا ۔
    بیکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔۔مطلب اتنا پیسہ کماتا ہے پاکستان سے ۔وہ بھی کس لیے؟ پاکستانی بچوں کے دماغوں میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے واسطے ۔
    اس کے علاوہ لبرل ازم کا علمبرادار ” بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنس مین اور وڈیرے شامل ہیں۔
    مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں جس کا کہنا تھا
    ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے
    صرف بیکن ہاوس ہی نہیں بہت سے ایسے پرائیویٹ اسکولز کالجز ہوں گے جن کا اکثر نصاب سرکاری سکولوں میں پڑھائ جانے والی کتابوں سے بہت حد تک مختلف ہوتا ہے
    پرائیویٹ سکول میں پڑھنے والے اکثریت بچوں کی اسلام بارے الف ب نہیں جانتی ہوتی ان کو یہ تک نہیں پتہ ہوتا کہ آل رسول کون ہے ان کے نام کیا ہے اصحابیات کون تھے ۔۔
    ایسی بہت ساری چیزیں جو اہم ہے جاننا ہمارے دین کا حصہ ہے وہ پرائیویٹ سکولوں میں نہیں پڑھائ جاتی ۔۔۔ان سکولوں کا مقصد صرف انگلش پہ فوکس ہوتا ہے پھر انگلش میں چاہے یہ پاکستان کے خلاف پڑھاتے رہیں ۔یا دین اسلام کے ۔۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سکول پوری ریاست کی مخالفت کررہا ہے ۔ایک ملک کی مخالفت کررہا ہے ۔۔میرا رائے ہے ۔۔فقط تعلیم.میں نہیں تمام ڈیپارٹمنٹ یکساں ہونے چاہیے تاکہ غریب اور امیر کا امتیاز مٹ جائے۔۔۔اور کسی کے دماغ میں بھرا امیر بھرتر والا خناس بھی مٹ جاے ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب سے نوجوانوں کا مستقبل روشن ہوگا ۔۔میرٹ بھی عام ہوگا ۔۔یہ فرق بھی مٹ جاے گا کہ جی میں تو فلاں کالج سکول سے مہنگی فیسوں پر پڑھا ۔پڑھی ہوں ۔تو میری اہمیت سرکاری سکول میں پڑھنے والے بچے سے زیادہ ہو ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب حکومت پاکستان کا بہترین فیصلہ ہے ۔خدارا حکومت کے بغض میں غریب سے حسد تو نہ کریں ۔۔۔حکومت کے اس فیصلے کو سراہیں تاکہ جلد از جلد تمام سکول کالجز میں یکساں تعلیمی نصاب کا سلسلہ جاری ہو سکے ۔۔سڑک میں پڑھا پتھر ثابت نہ ہوں۔۔۔بلکہ دوسروں کے لیے امید کی کرن بنیں
    ۔

  • تعلیم نظام  تحریر:افشین

    تعلیم نظام تحریر:افشین

    دور حاضر میں جدید ٹیکنالوجی  کے استعمال کے باعث  تعلیمی نظام میں بہت تبدیلی آئی ہے جیسا کہ اب نیٹ ورک تقریباً ہر جگہ میسر ہے۔ جدید آلات مثال کے طور پہ کمپیوٹر اور موبائل ، لیپ ٹاپ کی بدولت تعلیمی نظام میں جہاں آسانی آئی ہے وہاں کچھ منفی آثرات بھی منعقد ہوئے ہیں۔ نیٹ ورک کی سہولت سے ہم ہر طرح کی معلومات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ پہلے پہل کتابیں پڑھی جاتی کچھ معلوماتی کتابیں بہت مشکل سے دستیاب ہوتی تھیں ۔اب جیسا کہ ہر طرف کرونا کی وباء عام  ہے اس سے بچاو کے باعث  بچے اور بڑے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ ایک طرح کی سہولت ہے پر جس طرح کی تعلیم سکول اور کالج جا کے حاصل کی جاسکتی ہے ویسی گھر بیٹھے ہر شاگرد حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ بچوں کی مختلف ذہنیت ہوتی ہے ۔ کچھ دماغی طور پہ تیز اور کچھ کمزور ہوتے ہیں ۔ اساتذہ کرام کی بات کی جائے تو پہلے اساتذہ کرام بچوں پہ انتہائی محنت کرتے اب کچھ اساتذہ کرام نے بس اس کو پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے انکو بس اپنی تنخواہ سے غرض ہوتی ہے بچے پڑھے نہ پڑھے ۔ سرکاری سکولوں کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہاں اتنی پڑھائی نہیں کروائی جاتی کچھ ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جو حاضری لگا کے گھر واپس آجاتے ہیں اور بچوں کی پڑھائی پہ کوئی توجہ نہیں دی جاتی سال کے اختتام پہ خود ہی پیپر کروا کے پاس کر دیا جاتا ہے ۔ 

    پرائیوٹ سکولوں کے بچوں کی  فیس زیادہ اور اساتذہ کی کم ہے وہاں پڑھائی تو اچھی کروائی جاتی ہے مگر والدین کو صیحح لوٹنے کا کام بھی کیا جاتا ہے ۔اگر چھٹیاں دی جائیں مہینہ یا دو مہینہ اسکی فیس بھی بطور اڈوانس لی جاتی ہے ۔جیسا کہ کرونا کی وجہ سے سکول بند رہے مگر بہت سے سکولوں میں فیس لیتے رہے کم از کم فیس کم کردی جاتی کیونکہ اگر بچے گھر بیٹھے آن لائن کلاسز لگا رہے ہیں تو انٹرنیٹ کا خرچہ بھی تو اٹھا رہے ہیں ۔ تعلیم حاصل کرنا آسان بنایا جائے نہ کہ دشوار ۔گھر بیٹھے اساتذہ کو کمانا آسان لگ رہا ہوگا مگر کچھ سفید پوش لوگوں کا بھی خیال کیا جائے ۔ اتنے خرچے کیسے برداشت کریں ۔ 

    گاوں میں ہر جگہ سکول بن چکے ہیں تعلیم دی جارہی ہے پر بچوں کی کاپیاں خالی ہوتی ہے یا پھر سوال اور  اسکا جواب اور لکھا ہوتا ہے ۔ کچھ اساتذہ مشق کی دہرائی کروا دیتے ہیں اور کہتے ہیں مشق گھر سے خود کر آنا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آپ لوگوں کے پاس بچوں کو کیوں بھیجا جاتا ہے کیونکہ آپ پڑھائیں سب کام لکھوائیں ۔اگر ماں باپ بچوں کو ٹیوشن بھی بھیجتے ہیں تو بھی آپ اپنا کام پورا کروائیں ٹیوشن والوں کا کام جو سمجھ نہ آیا ہو وہ کروانا اور ٹیسٹ یاد کروانا ہے ۔یہ ایک عزت دار پیشہ ہے محنت سے کمائے رزق کو حلال کریں مفت خوری اچھی بات نہیں ۔بہت سے اساتذہ وہ سوالات چھوڑ دیتے ہیں جو انکو بھی نہ آتے ہو۔ بچوں کو کہہ دیا جاتا ہے خود کرلو نہیں آتا تو چھوڑ دو. پہلے کی تعلیم اور اب کی تعلیم میں بہت فرق ہے مگر پہلے اساتذہ اور اب کے کچھ اساتذہ میں بھی بہت فرق ہے ۔گاوں میں تعلیمی نظام پہ توجہ دی جائے ۔سرکاری سکولوں میں بس اساتذہ کی تنخواہیں ہی زیادہ نہ کی جائیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے وہ کروا کیا رہے ۔ یہ تلخ حقیقت ہے پر سچ یہی ہے ۔ پرائیوٹ سکولوں پہ دھیان دیں۔  ماں باپ کو کم لوٹا جائے ۔ سرکاری سکولوں میں پچاس ساٹھ ہزار تنخواہیں ہیں اور بچوں کو لکھنا بھی نہیں آتا ارود بھی اتنی کمزور ہوتی ہے انگلش پڑھنا تو دور کی بات ہے ۔ سمجھ نہیں آتی تنخواہیں اتنی زیادہ کیوں ہیں انکی ؟؟ اتنی تنخواہیں مزدور کی نہیں ہوتی جو سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے ۔ بیشک اساتذہ کرام پڑھانے میں دماغ  لگاتے ہیں پر کچھ یہ کام بھی نہیں کرتے مفت میں بس کھانے پینے کا کاروبار بنا ہوا ہے. جنکی تعلیم بھی کم ہوتی ہے وہ بھی اساتذہ بنے ہوئے ہیں کیا استاد بننا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ ہر کوئی استاد بن رہا ہے ۔ استاد بننا آسان نہیں ہے بہت محنت کی جاتی ہے تب روزی حلال ہوتی ہے پر افسوس معاشرہ سچائی کم سنتا ہے سچائی کی مخالفت زیادہ کرتا ہے ۔

    #افشین 

    @Hu__rt7

  • انسانیت اور مسلمانیت   تحریر : امین 

    انسانیت اور مسلمانیت  تحریر : امین 

    خط جو میں نے لکھا انسانیت کے نام پر ڈاکیاں ہی مر گیا پتہ پوچھتے پوچھتے ۔

    ہروز سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا میں انسانیت سوزی کے ایسے ایسے واقعات اور شہ سرخیاں نظروں سے گزرتی ہیں کہ انسانیت شرمسار نظر آتی ہے ۔ 

    زاتی اناؤں،جھوٹی شخصیت کے تکبر میں گم ہم اپنے اصل اپنی پیدائش کے مقصد کو مکمل بھول چکے ہیں 

    کہ 

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 

    انسان انس سے ہے اور انس محبت ہے جس میں محبت ہی نہیں وہ انسان ہی نہیں 

    انگریزی کہاوت ہے کہ 

                                                 Do good Have good 

    اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ کسی کے ساتھ نیک عمل کریں تو وہ ہی  شخص ہی آپ کے ساتھ بھلائ کرے  نہیں ایسا نہیں ہے جس طرح آپ نے انسانیت کے ناطے کسی کی مدد کی بلکل اسی طرح کہیں کسی موڑ پہ کوئ اجنبی آپ کے معاملے بھی ایسے ہی انسانیت دکھائے گا اور  اسکا مطلب یہ بھی  ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ بھلائ کریں گے تو اللہ تعالی ہمارے ساتھ بھلائ کا معاملہ فرمائیں گے  

    ہم پہلے انسان ہے اور پھر مسلمان  اگر ایک شخص صرف مسلمان ہے اور اس میں انسانیت نہیں  تو یہ اسکے لۓ کافی نہیں وہ کامیاب نہیں ہے در حقیقت وہ مسلمان ہی نہیں ۔اسلام کو تمام مزاہب میں سے بہترین مزہب کا درجہ انسانیت کی بنیاد پہ ہی دیا گیا ہے 

    مذہب میں سے انسانیت اور خدمت نکال دی جاۓ تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کیلۓ پروردگار کے پاس فرشتوں کی کوئ کمی نہیں تھی   

    میرے پیاروں اگر ایک انسان پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے روزے رکھتا ہے حج ادا کرتا ہے اپنے چہرے پر داڑھی سجاتا ہے سفید کپڑے پہنتا ہے تہجد پڑھتا ہے دیگر نوافل ادا کرتا ہے حقوق اللہ تو پورا کرتا ہے لیکن 

    وہ انسان حقوق العباد میں کوتاہی کرتا ہے اس میں انسانیت نہیں ہے وہ حرام کھاتا ہے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے لوگوں کو تنگ کرتا ہے تو یقیناً یہ انسان خسارے میں ہے اسکی آخروی کامیابی ناکامی ہے 

     کیونکہ انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہی کہی پیدا ہوتی ہے  میرا مذہب انسانیت پسندی ہے جو کہ دنیا کے ہر مذہب کی بنیاد ہے۔

    دوسرے طرف ایک انسان جس میں انس ہے محبت ہے شفقت ہے ہم دردی ہے اخلاق ہے حرام نہیں کھاتا حقوق العباد تو پورا کرتا ہے لیکن یہ انسان محض انسانیت کی حد تک ہے روزے نہیں رکھتا نماز نہیں پڑھتا حلال کام نہیں کرتا حقوق اللہ پورا نہیں کرتا تو یہ انسان بھی خسارے میں ہے اسکی کامیابی ناممکن ہے

     طرف لاکھوں انسان بھی دیکھے اور لاکھوں مسلمان  بھی دیکھے لیکن ایسا بہت کم دیکھا جو انسان بھی ہو اور مسلمان بھی ہو ۔

    آج انسان چاند پر پہنچ گیا ،سمندر کی تہوں تک رسائ حاصل کر لی ،صدیوں کے سفر کو لمحوں میں سمیٹ لیا ،لیکن افسوس انسانیت تک نہ پہنچ پایا ۔وہ اونچائ یا  بلندی کس کام کی جس پر سوار ہو  کر انسان انسانیت کے میعار سے ہی گر جائے

    اے بادل اتنا برس کے نفرت ڈھل جائیں 

     انسانیت ترس گئ ہے محبت کے سیلاب کو  

    قربان جاؤں اس عظیم شخص اور عظیم انسان سے جسکی انسانیت اور مسلمانیت دیکھ کر غیر مذہب ایمان لے آتے  

    آپ میرے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ تو پڑھے آپکو ایک ہی شخصیت میں انسان بھی نظر آئیگا اور مسلمان بھی ۔اور کتنے بد نصیب ہیں ہم کہ ہم اس نبی کے امتی ہیں لیکن انسانیت کے الف سے بھی واقفیت نہیں رکھتے 

    یہاں  اگر مسلمان ہے تو انسان نہیں اور گر  انسان ہے۔جب کہ اسلام بار بار کہتا ہے کہ دین و دنیا کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی پورے کیے جائے یعنی ثابت ہوا کہ مزہب اور انسانیت لازم و ملزم ہیں ،

     آج ہمارہ مقصد صرف دوسروں پہ طنز و تنقید کرنا رہ گیا ہے ،دوسروں کے رویوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہم اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔ خدارا دوسروں پہ فتوے لگانے کی بجائے اپنے اعمال کو سدھاریے ،صحیح اور غلط کا فیصلہ رب تعالی پر  چھوڑ دیں 

    آپ انسان ہیں انسانیت پر زور دیں۔ 

     کسی کو دنیا اور آخرت میں خوشحالی، کا میابی و کامرانی چاہئے تو مزہب اور انسانیت  دونوں چیزیں خود میں پیدا کرے اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ اچھا انسان بھی بنے

     موجودہ دور کا سنگین المیہ ہے کہ سمجھانے والے نے سمجھا کر چھوڑا سمجھنے والے نے سمجھ کر چھوڑا 

    سنانے والے نے سنا کر چھوڑا سننے والے نے سن کر چھوڑا

     پڑھانے والے نے پڑھا کر چھوڑا پڑھنے والے نے پڑھ کر چھوڑا

    لکھنے والے نے لکھ کر چھوڑا ،عمل کرنے کے مقام تک کوئ نہیں آتا ۔بحیثیت مسلمان ،بحیثیت انسان ہمیں اس بات کو  سمجھنا ہے کہ کامیاب انسان بننے کیلیے 

    گفتار کے دور میں کردار کی ضرورت ہے ۔

    محض دلچسپی کے لۓ نہ پڑھے عمل کی کوشش ضرور کیجۓ گا۔

    Twitter Handle : @ameyynn