Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • مہنگائی اور وجوہات      تحریر : فضیلت اجالہ

    مہنگائی اور وجوہات    تحریر : فضیلت اجالہ

     

    تحریک انصاف حکومت کی جانب سے عوام پر ایک مرتبہ پھر مہنگائ بم گرا دیا گیا ،پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے اضافہ ،مہنگائ کا جن بے قابو ،مہنگائ خان اور اسی طرح کے لاتعداد جملے آج کل زبان زد عام ہیں ، 

    پاکستان میں مہنگائی کا رونا آج کی بات نہیں ہے۔ ہر حکومت میں سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی رہا ہے۔لیکن ہم عمران خان کو مہنگائ کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ماضی کو بلکل فراموش کر جاتے ہیں ،اور ہمارے نام نہاد صحافی اس بات کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں کہ نیا پاکستان بد ترین پاکستان ہے جبکہ اس کہ بر عکس حقیقت یہ ہےے کہ پاکستان اگر کرپٹ ترین دور سے گزرا ہے تو وہ نواز شریف اور زرداری کا دور تھا۔ اس عرصے کے دوران پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے غیر ملکی قرضے لیے گئے اور ایسے منصوبے شروع کیے گئے جنہیں مکمل کرنے کے لیے بہت زیادہ رقم خرچ ہوئی،اور جن میں عوامی مفاد کم اور زاتی مفادات کی جھلک زیادہ نظر آتی ہے ۔

     

    تنقید کرتے وقت لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب تحریک انصاف کو حکومت ملی تو ملک ڈیفالٹ کے قریب تھا، 15 ارب روپے کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، چور لیگ نے ڈالر کی قیمت مصنوعی طور پر کم دکھانے کےلیے ہر ماہ اربوں ڈالر پھونکے اور ملک تباہی کی جانب دھکیلا،خان حکومت کو اقتدار میں آتے ہی ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلیے ڈالر 128 روپے سے 160 پر لے جانا پڑا جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اسی حساب سے بڑھ گئیں

    اور ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مارچ 2020 کے بعد سے عالمی وبا کورونا کے باعث پوری دنیا تاریخ کے سب سے بڑے معاشی بحران سے گزر رہی ہے دنیا میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں ہم جو بھی چیزیں باہر سے لاتے ہیں ان کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں

    چاہے وہ پیٹرول ہو یا کوکنگ آئل یا دالیں ۔

    اگر حالیہ پیٹرول قیمت میں اضافے کی بات کی جائے تو کچھ لفافہ صحافی ہندسوں کے ھیر پھیر میں اس قدر ماہر ہیں کہ انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی سمری میں 10 روپے کو 1 روپے بنا کر پیش کیا اور یہ گھٹیا الزام سازی کی گئ کے 1 روپے بڑھانے کی درخواست پر اکٹھے 5 روپے بڑھا کہ غریب کی غربت کا مزاق اڑایا گیا۔

    پاکستان پیٹرول اور پیٹرولیم مصنوعات کے لیے مکمل طور پر دوسرے ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں 2020 میں پیٹرول کی قیمت 42 ڈالرز تھی جو محض ایک سال میں 80% اضافہ کیساتھ 75 ڈالرز تک پہنچ چکی ہے ،جب کہ پاکستان میں سال 2020 میں پیٹرول کی قیمت تھی 103.97 روپے جس میں ایک سال میں صرف 18% فیصد تک اضافہ کیا گیا، 

    دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں پیٹرول کی قیمت انتہائ کم ہے ،اسوقت انڈیا میں پیٹرول 245 روپے ،بنگلہ دیش میں 175 روپے ہے ،دوبئ اور سعودی عرب جیسے ممالک جو تیل اور پیٹرول کی پیداوار میں خود کفیل ہیں ان میں بھی پیٹرول کی قیمتیں بالترتیب 111 اور 140 روپے ہیں ،لیکن پاکستانی میڈیا یہ حقائق بتانے کی بجائے پہلے سے پریشان عوام کو مزید مشتعل کرنے کا گھناؤنا کام سر انجام دے رہا ہے 

        

    دنیا میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں

    انگلینڈ ،آسٹریلیا اور امریکہ جیسے مما لک میں بھی رواں برس مہنگائ کے کئ سالہ پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں 

    اور ایک اور چیز۔

    گندم ، چاول، گنے کی قیمتیں نون لیگ نے کئی سال ایکُ جیسی رکھیں جس سے کسان تباہی کے دہانے پر تھا ،کسان کو استحکام بخشنے کیلیے تحریک انصاف نے گندم کا ریٹ 1300 سے بڑھا کر 1800 کیا جس سے آٹا بھی اسی حساب سے مہنگا ہوا لیکن کسان خوشحال ہوا اور اس نے گندم اگانا ترک نہیں کیا ،

    گنے کا ریٹ 130 تھا اب 250 تک کسان کو ملتا ہے۔۔۔ اسی حساب سے چینی مہنگی ہوئی

    ماضی کی حکومتوں نے زاتی مفادات کی خاطر ہمیشہ بھارت سے سبزیاں خریدنے کو ترجیح دی جو بظاہر تو سستی تھیں لیکن اس وجہ سے پاکستان کا کسان تباہی کے دہانے پر تھا ۔ نئے پاکستان نے فروری 2019 میں انڈیا سے سبزیوں کی امپورٹ ختم کی ،جس سے وقتی طور پر بہت مشکلات بھی آئ ایک سال سبزیوں کا بحران رہا لیکن اب تمام لوکل سبزیاں سستے نرخوں پر دستیاب ہیں

    ہم جانتے ہیں کہ اس وقت مہنگائی ہے اور عوام اس سے بہت پریشان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کی بے پناہ کامیابیوں کے باوجود حکومت کی مقبولیت میں بظاہر کمی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ لیکن ہم مہنگائ کا زمہ دار حکومت کو ٹھہراتے اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔

    وہ ملک مہنگائ کا شکار کیوں نا ہو جہاں گروسری اسٹور مالک اور کلرک سے افسر تک ہر ایک لوٹ مار میں مصروف ہو۔ ایسے بزنس مین حضرات بھی مہنگائ کا رونا روتے اور حکومت کو قصور وار ٹھہراتے نظر آتے ہیں جو وطن عزیز سے لاکھوں روپے کماتے ہیں لیکن ٹیکس کا ایک روپیہ ادا نہیں کرتے۔

    مہنگائ کی بڑی وجہ زخیرہ اندوز اور وہ عوام دشمن عناصر بھی ہیں جو اصل نرخ سے کئ گنا زیادہ قیمت پر اشیاء فروخت کرتے ہیں اور سوال کرنے پر عمران خان کو ووٹ دینے کا طعنہ دے کر معصوم عوام کا منہ بند کر دیتے ہیں

    مہنگائ کسی ایک کا نہیں بلکہ عوامی مسلہ ہے جس سے مجھ سمیت سبھی پریشان ہیں لیکن ہمارا یہ بات جاننا اور ماننا ضروری ہے کہ عمران خان اور نہ ہی پی ٹی آئی حکومت اس مہنگائی کے حق میں ہیں ۔ ایسا حکمران جس نے اس ملک کے لیے اس کی عوام کی بھلائ کیلیے 22 سال جدو جہد کی ہو اپنی پرآسائش زندگی ،آرام و سکون حتی کہ اپنی اولاد تک اس دھرتی کی خاطر چھوڑ دی ہو وہ کیوں چاہے گا کہ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو؟

    اس بات میں کوئ دو رائے نہیں ہے کہ اگر تحریک انصاف کو آئیندہ ہونے والے انتخابات میں فتح حاصل کرنی ہے تو اسے مہنگائ پر قابو پانا ہوگا اور عوامی مقاصد پر کام کرنا ہوگا ،جس کیلیے تحریک انصاف کافی حد تک جدو جہد کر بھی رہی ہے ،بہت سے ایسے منصوبے شروع کیئے گئے ہیں جس سے غریب کو ریلیف ملے جن میں ھیلتھ کارڈ ا اجراء ایک احسن قدم ہے جو اس سال کے اختتام تک سب کو مل جائے گا ۔اسکے علاوہ احساس پروگرام سے بھی غریب عوام کو کافی مدد ملی ہے ۔

    احساس پروگرام کا سروے مکمل ہونے والا ہے اس میں کروڑوں نئے خاندان آئیں گے 

    لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عمران خان 35 سالوں کے بوسیدہ نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور کرپٹ مافیا سادہ لوح عوام کو بھڑکا کر اپنے مزموم مقاصد کیلیے عوام کی پریشانیوں کو استعمال کر کے اس مرد مجاھد کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ہم مہنگائ کا رونا تو روتے ہیں لیکن کوئی بھی ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی رشوت کی کمائی چھوڑنے کو تیار ہے۔ مجھے آج بھی بھروسہ ہے کہ عمران خان اس بوسیدہ نظام کو ضرور بدل ڈالے گا اور پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا لیکن یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے جس سے ہم سب نے مل کر نبٹنا ہے ،ہمیں مل کر مادر ملت کی جڑیں کھوکھلے کرنے والے شر پسندوں کا مقابلہ کرنا ہو گا کیونکہ جو لوگ حرام کھانے کے عادی ہو چکے ہیں وہ کبھی آسانی سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

    @TPW_U

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    –  

                                             Written by : Asghar Ali 

    حصہ دوئم:-                                                          انقرہ شہر کا محاصرہ ہو چکا تھا صرف یہی نہیں اس کے بعد امیر تیمور کی فوج نے سلطان بایزید اول کے واپسی کے راستے پر تمام فصلیں اور گودام جلا ڈالے اب سلطان بایزید اول کے لیے واپس انقرہ جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اور واپس اسی راستے سے جانا تھا جس راستے پر امیر تیمور کی فوج  نے سب کچھ جلا دیا تھا اب نہ کچھ کھانے کو تھا اور نہ ہی کچھ پینے کو اور تیموری لشکر ایک ایسی جگہ پر  تھا جہاں پر گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا اس جگہ پر امیر تیمور کو تین فائدے تھے نمبر ایک گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا نمبر 2 امیر تیمور کی فوج سلطان بایزید اول سے 60 ہزار سے زیادہ تھی جبکہ اس فوج میں ہندوستان سے لائے گئے ہاتھی بھی شامل تھے نمبر تین  امیر تیمور کی فوج کو آرام کرنے کا موقع مل گیا تھا اس کے مقابلے میں سلطان بایزید اول کی فوج کو دیکھیں اس مقام پر اس کو تین بڑے نقصان تھے ایک اس کی فوج منظم بھی نہیں تھی ایک لمبے سفر سے بھوک اور پیاس کا مقابلہ کر رہی تھی دوسرا یہ یہ کہ لمبے سفر کے باعث بھوک اور پیاس سے بیس ہزار سپائی راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے تیسرا بڑا نقصان فوج کی تنظیم میں چھپا تھا وہ یہ کہ اس میں تین طرح کے لوگ تھے یعنی وہ فوج ایک منظم اور اکٹھی فوج نہیں تھی اس میں میں سب سے پہلے جینیسیریز تھے جو کہ وہ سلطان بایزید اول کے بھروسے کے لوگ تھے اس کے بعد وہ ترک اور تاتاری سپاہی تھے جن کو پیسے دے کر فوج میں شامل کیا گیا تھا اور وہ کسی بھی لالچ کے تحت کسی بھی ٹائم ترک فوج کو چھوڑ سکتے تھے تیسرے وہ یورپی دستے جو سلطنت عثمانیہ کی وفاداری کے تحت اس کے ساتھ شامل تھے اب ڈیڑھ لاکھ تیموری فوج 70 ہزار  عثمانی فوج کے سامنے کھڑی تھی یہ بات دونوں سلطان بایزید اول امیر تیمور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ ایک بہت بڑی جنگ ہونے جا رہی ہے کیونکہ اس وقت پوری روئے زمین پر ان دونوں سے بڑی اور خطرناک سلطنتیں اور کہیں نہیں تھی دونوں سلطان جو کل تک ایک دوسرے کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے تھے آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں اب جنگ باضابطہ طور پر شروع ہو چکی تھی پہلا حملہ امیر تیمور کی جانب سے ہوا مگر اس کو ترک فوج نے پسپا کردیا جیسے جیسے جنگ آگے بڑھتی گئی امیر تیمور کا لشکر عثمانی سلطان کے لشکر پر حاوی ہوتا چلا گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ امیر تیمور کی فوج سلطان سلطان بایزید ثانی کی فوج کو شکست دینے لگی اب سلطان بایزید اول کے پاس چند ہی وفادار سپاہی بچے تھے جن کو جینسیریز کہتے تھے تیموری فوج طاقت کے ساتھ ساتھ تیرے برساتی رہیں لیکن کب تک جینسیریز ان کا مقابلہ کرتے جب سلطان نے دیکھا کہ امیر تیمور کی فوج حاوی ہونے لگی ہے تو وہ میدان جنگ سے فرار ہو گیا یہاں پر پر اب امیر تیمور کی تیموری فوج جیت چکی تھی مگر سلطان بایزید اول ان کی حراست میں نہیں تھا اور ان کے سامنے سے زندہ فرار ہو چکا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ہوا ایک ایک تیموری گھڑسوار نے بھاگتے ہوئے سلطان بایزید اول کے اوپر تیر برسایا جس کا گھوڑا زخمی ہو گیا اور سلطان زمین پر گر گیا اور امیر تیمور کا قیدی بن گیا یہ سلطنت عثمانیہ کے لیے بدترین شکست تھی اس سے بدترین شکست عثمانیوں کو آج تک نہیں ہوئی تھی اب سلطنت عثمانیہ کا سلطان امیر تیمور کا قیدی تھا اور اس کے تین بیٹے بھی امید تیمور کی تلواروں کے نیچے تھے لیکن امیر تیمور نے اس کے بیٹوں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ تیمور کی اطاعت قبول کرتے رہیں گے سلطان بایزید اول یورپ کا بہت بڑا فاتح تھا اور وہ یہ اذیت برداشت نہ کر سکا اور چند ماہ بعد دوران قید ہی مر گیا اس کے کچھ ہی ماہ بعد1405 میں امیر تیمور بھی مر گیا اس کے بعد تیموری سلطنت کافی حصوں میں ٹوٹ کے بکھر گئی جب کہ سلطنت عثمانیہ بھی سلطان بایزید اول کے تینوں بیٹوں میں بٹ چکی تھی  بھائی بھائی کے خون کا پیاسا تھا اور پوری سلطنت خانہ جنگی میں چلی گئی لیکن اس خانہ جنگی میں سلطنت عثمانیہ بکھری ضرور مگر ٹوٹی نہیں اس کی وجہ  تھی کہ یورپ میں کوئی بھی ایسی طاقت نہیں تھی جو سلطان بایزید کی حکومت ختم ہونے کے بعد یورپ سے ترکوں کو نکالنے کی کوشش کرتی یا اناطولیہ پر قبضہ کرتی اور دوسرا یہ کہ امیر تیمور اور اس کے ساتھی بھی اناطولیہ میں ٹھہر کر  عثمانی سلطنت پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے ترک سلطنت کو تیمور اور اس کے جانشینوں نے بھی کنٹرول میں نہیں لیا تو بہرحال بایزید کے چار بیٹے محمد اول عثمان عیسی اور موسی کے درمیان اگلے 11 سال تک خونریز جنگ ہوتی رہی اس میں عثمان عیسی  مارے گئے اور موسی فرار ہوگیا اور محمد اول بچ گیا اس طرح سلطنت عثمانیہ کو ایک نیا سلطان محمد اول مل گیا تھا اور سلطنت عثمانیہ ایک دفعہ پھر دنیا کے نقشے میں چودہ سو چودہ میں نمودار ہوگی سلطان محمد اول نے ایک تاریخی کام کیا کہ اس نے ترکوں کی تاریخ لکھوانا شروع کر دی آج ہم ترکوں کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ سلطان محمد اول کی مرہون منت ہے

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI

  • کیا ہم انسان ہیں؟  تحریر: ظفر ڈار

    کیا ہم انسان ہیں؟ تحریر: ظفر ڈار

    @ZafarDar 

    کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہم کسی ظلم اور جبر کی داستان نہ سنیں۔ کہیں قتل وغارت تو کہیں لوٹ مار، کہیں عزتوں کے سودے اور کہیں خواہشات کی غلامی میں معصوم بچوں اور بچیوں کی آبروریزی۔ کسی بھی حساس انسان کیلئے خود کو ایسی خبروں سے بے نیاز رکھنا ممکن نہیں ہوتا اور لامحالہ ہماری سوچ ہمیں اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہم انسان بھی ہیں یا محض لباس انسان میں ہیں؟

    اللہ تعالٰی نے ہمیں انسان بنا کر اشرف المخلوقات قرار دیا، حتیٰ کہ اپنے عبادت گزار فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ فرشتوں کو حکم ربی بجا لانے کا ہی اختیار ہے، انکار کا نہیں۔ جس نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی وہ اگرچہ گروہ جنات سے تھا لیکن اپنے علم کی وجہ سے فرشتوں کا سردار تھا، ابلیس سے شیطان بن کر ہمیشہ کیلئے معتوب ہو گیا۔ یوں اللہ تعالٰی نے انسان کی فضیلت اپنی تمام مخلوقات پر قائم کر دی۔ اللہ کی ہزاروں مخلوقات میں سے اس دنیا میں ہمارا واسطہ حیوانات و نباتات سے رہتا ہے اور کبھی کبھار جنات سے لیکن وہ ایک غیر مرئی تعلق ہے۔

    انسان اور حیوان اس دنیا میں تقریباً ایک جیسے انداز میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی پیدائش و افزائش نسل، سونا، جاگنا، کھنا پینا، ہضم کرنا اور دیگر معاملات انسانوں کی طرح ہی ہیں۔ اسی لئے میڈیکل کے طالبعلموں کو جانوروں کے نظام پر پہلے تجربات کرائے جاتے ہیں اور کسی بھی نئی دوا کو متعارف کرنے سے پہلے اس کی افادیت اور مضر اثرات جاننے کیلئے جانوروں پر ہی تجربات کئے جاتے ہیں۔ تمام خصوصیات میں مماثلت کے باوجود ایک فرق جو انسان اور جانور میں تفریق کرتا ہے وہ شعور ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، اچھے برے کی تمیز، اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔ اللہ نے انسان کو بے شمار معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے جو اپنی مرضی اور سوجھ بوجھ کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ گویا انسان جب اپنے علم، شعور اور دماغی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے تو وہ انسان کے درجے سے نکل کر حیوان کے درجے میں شامل ہو جاتا ہے۔

    انسانیت کو معراج اس وقت عطا ہوئی جب اللہ نے انسانیت پر احسان فرمایا اور اپنے محبوب ﷺ کو خاتم الانبیا بنا کر مبعوث فرمایا۔ گویا مسلمان ہونا اور حضور اکرم ﷺ کا امتی ہونا ہمیں انسانیت کے اعلٰی ترین مرتبے پہ فائز کرتا ہے۔ اگرچہ ایک مسلم معاشرے کا رکن ہونے کے ناطے میرا فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں اور میرا دین وہ مکمل دین ہے جس کے بعد کسی مزید ترمیم اور اصلاح کی ضرورت اور گنجائش نہیں اور جو قیامت تک قائم رہنے والا ہے۔ اس طرح دین فطرت اور سرکار ﷺ کے امتی ہونے کے ناطے ہم سب مسلمانوں کا طرز عمل دیگر انسانوں (اور مذاہب کے ماننے والوں) سے بہت اعلٰی معیار کا ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن مجید اور محسن انسانیت ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہماری راہنمائی کیلئے موجود ہے۔

    لیکن جب ہم عملی طور پر موجودہ معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اکثر غیر مسلم، انسانیت کا بہتر نمونہ نظر آتے ہیں۔ جو احکام اسلام نے ہمیں دئے، ہم نے انہیں بھلا دیا اور غیر مسلموں نے ان احکام کو اپنی زندگیوں اور معاشروں میں رائج کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ اخلاقی طور پر ہم سے بہتر نظر آتے ہیں۔ جبکہ ہم عمل سے خالی ہونے کے باوجود خود فریبی کا شکار ہیں۔ اگرچہ ہم حقوق اللہ کی طرف مائل ضرور ہیں لیکن حقوق العباد سے بہت دور ہیں جبکہ دین ہمیں معاشرت سکھاتا ہے۔ "تم میں سے بہتر وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے  مسلمان محفوظ رہیں” یہ کس طرف اشارہ ہے؟

    ابھی تک کی گفتگو میں یہ معاملہ زیر غور لانا چاہ رہا ہوں کہ معاشرتی رویوں اور اپنے عمل سے ہم نے خود کو انسانی درجے سے بھی نیچے حیوان کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ جو یہ نہیں سوچتا کہ میں کسی کے ساتھ ظلم کیوں کر رہا ہوں؟ کیا مجھے اللہ کے سامنے حاضر نہیں ہونا جہاں مجھ سے سوال کیا جائے گا؟ میں کسی کی ماں، بہن یا بیٹی کے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں تو کوئی میری بہن بیٹی کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے۔ ہمیں حیوان کی سطح سے انسان اور پھر مسلمان کی سطح پر واپس آنا ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر معاشرہ دے سکیں۔ خود کو تبدیل کئے بغیر ہم ریاست مدینہ کے خواب کی تعبیر نہیں حاصل کر سکتے۔

    یاد رکھیں قومیں ترقی اسی صورت میں کرتی ہیں جب وہ اچھے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔ آج یورپ اور امریکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہیں تو دو سو سال پہلے یہ صورتحال نہیں تھی۔ اور آج ہم مسلمان تباہی اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں تو چند سو سال پہلے تک ہم ایک تہائی دنیا پر حکومت کرتے رہے ہیں۔

    تحریر: ظفر ڈار

    @ZafarDar 

  • نظامِ زندگی میں صبر کی طاقت تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    نظامِ زندگی میں صبر کی طاقت تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    صبر کی طاقت کامیابی کے ایک اہم جز میں سے ایک ہے۔. اگر آپ صبر کرتے ہیں تو ، اس سے بہت سارے انعامات ملتے ہیں ، جیسے ذاتی نمو ، زیادہ بصیرت اور افہام و تفہیم حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ، یہ ایک مضبوط کردار بناتا ہے جو آپ کو پرامن زندگی کی طرف لے جاتا ہے

    عظیم سائنس دانوں ، کاروباری افراد اور کاروباری افراد کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جن کی زندگی میں صبر نے ایک بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔. انہوں نے حالات کو بالکل بھی توڑنے نہیں دیا ، لیکن نئے امکانات کو وسعت دیتے ہوئے وہ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔. یہ ان کی صبر کی طاقت ہے ، ماحولیاتی حالات اور کھلے ذہنیت کی طرف رواداری کی خوبی جس نے انہیں کامیاب ہونے کے قابل بنایا ہے۔. اس مقام پر ، نپولین ہل کے الفاظ قابل ذکر ہیں ، "صبر ، استقامت اور پسینہ کامیابی کے لئے ناقابل شکست امتزاج بنا دیتا ہے

    صبر کی طاقت آپ کو اپنی زندگی کو بااختیار بنانے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ سے حکمت اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔. کامیابی خوشی کو جنم دیتی ہے اور خوشی محنت اور صبر کی پیداوار ہے۔. صبر کا حصول اعتماد کا بہتر احساس حاصل کرنا ہے ، تاکہ آپ کو ہر پریشانی کا ازالہ ہو ، مسائل کا حل ہو اور زندگی کے دکھوں کا حوصلہ ہو ۔صبر کو زندگی کے ستونوں میں سے ایک کے طور پر بنانا چاہئے ، کیونکہ صبر کی ایک اچھی مقدار کامیاب اور پرامن زندگی کی شاہراہ ہے۔.

    اگر آپ صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ، آپ نئی مہارتیں حاصل کرسکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔. اس طرح ، آپ اپنے اہداف اور مقاصد کے حصول کی طرف خود کو ہدایت کرسکتے ہیں۔. صبر آپ کو اپنے تیز فیصلوں پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے جبکہ یہ آپ کو دباؤ والے حالات اور جذباتی اتار چڑھاؤ سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں بہت مدد دیتا ہے۔.

    صبر آپ کو دوسروں پر ہمدردی رکھنے کی اجازت دینے میں بھی روادار ہونے میں مدد کرتا ہے۔. جتنا آپ صبر کرتے ہیں ، اتنا ہی آپ دوسروں کے روادار ہوتے ہیں جو آپ کو ان سے عزت دیتا ہے۔.

    یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ، لیکن کامیابی نظم و ضبط ، محنت اور صبر کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔. رکاوٹیں آپ کے راستے میں آتی ہیں اور آپ کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔. خود اعتماد اور صبر کی بنا پر آپ کو خوف اور ناکامیوں کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔. تمام تر مشکلات کے خلاف متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔

    صبر صرف ایک خصلت نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک ایسی مہارت ہے جسے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ، ہمیں خود کو یہ کہتے ہوئے مستقل طور پر یاد دلانا چاہئے ، صبر  کا پھل میٹھا ہوتا  ہے۔

    @HamxaSiddiqi 

  • افغانستان اور دنیا تحریر : سکندر ذوالقرنین پارٹ نمبر ون

    امریکہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے ہونے کے بعد جس میں تین ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی اس کا الزام اسامہ بن لادن کو لگا دیا گیا اور اس کو ایک مسلم ٹیرارسٹ کا نام دیا گیا تھا اور امریکا افغانستان آپہنچا میرے خیال میں یہ صرف مسلمانوں کو تنگ کرنےاور پاکستان چین ایران اور روس کا راستہ روکنے کے لئے کیا کیا اور بعد  ایسے ہی پاکستان بھی کسی کی لڑائی میں کود پڑا

    کسی کی جنگ میں ہم نے اپنے ستر ہزار لوگوں کو کھو دیا اور ایک ڈیڑھ سو ارب  کا نقصان ہوا

    اور ہم پر ہی الزام ڈال دیا کہ سارا قصور ہمارا ہے

    امریکہ نے بیس سال تک جنگ کی اور اس بیس سالوں میں بہت سارے واقعات ہوئے اور اس میں ایک واقعہ اسامہ بن لادن کو مارنے کا ڈرامہ بھی ہوا جو 2011 میں پاکستان میں ہوا

    بیس سال بعد امریکہ کو شکست نظر آئی اور امریکہ کا جنازہ دھوم دھام سےنکلا
     امریکا نے طالبان سے معاہدہ کیا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق ایک مئی  دو ہزاراکیس کو امریکہ کو افغانستان میں نکلنا تھا لیکن وہاں حکومت تبدیل ہونے کی وجہ سے اس معاہدے کو  توسیع دی گئ اس پر عمل درآمد کرنے کا وقت آچکا تو انحلا شروع ہوچکا تھا

    تو آہستہ آہستہ طالبان نے افغانستان کو فتح کرنا شروع کردیا ایک مہینے پہلے افغان حکومت بتا رہی تھی کہ  طالبان سے ہم اپنا قبضہ واپس لے رہے ہیں اصل مسئلہ یہ تھا کہ افغان حکومت ایک کرپٹ تھی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے
    پورے افغانستان پر قبضہ ہوتا جارہا تھا

    طالبان نے ایک حکمت عملی کے تحت افغانستان کے بارڈر پر اپنا کنٹرول حاصل کیا اور بعد میں لشکر گاہ قندھار اور ہرات پر قبضہ کرلیا اور افعان حکومت پاکستان پر الزام اور ٹیوٹر پر بس پاکستان سے جنگ کرنے میں مصروف رہے ہیں

    بڑی بڑی باتیں کی گئی امریکہ کی انٹیلیجنس کا دعویٰ یہ تھا کہ طالبان  کا دو ماہ تک قبضہ ہو گا بعد میں ان کے اپنے اندازے غلط ثابت ہوئے ایک ماہ قبلُُ طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے پاس  80پرسنٹ علاقہ موجود ہے جو کہ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی بات درست تھی

    بڑی بڑھکیں مارنے والے نظر ہی نہ آئے اشرف غنی اور محب اس طرح غائب ہوئے کہ جس طرح گدھےکے سر سے سینگ ہوتے ہیں پانچ چھ دن بعد پتہ چلا کے اشرف غنی دبئی میں موجود ہیں اور  بہت سارا مال   لے کر فرار ہوئے تھے اشرف غنی کی حکومت کی نااہلی تھی اور امریکہ کو یقین دہانیاں کرانے رہے کہ ہم لڑیں گے لیکن وہ تو چند دن بھی لڑ نہ کہ سکے اور پندرہ دن میں ہی طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا اور طالبان کابل پہنچے کی تاریخ بڑی دلچسپ ہیں پندرہ اگست 2019 تھی تھی

    کہتے ہیں کسی ملک کے لیے یہ  سرپرائز سے کم نہیں تھا امریکہ اور یورپ کے اور بہت سارے ملک کو دیکھتے رہ گے

    افغانستان طالبان کے قدموں میں پڑھا تھا امریکہ اور مغربی ممالک کو لینے کے دینے پڑ گیا اور اپنے فوجیوں اور شہریوں کو نکالنے کیلئے صبح و شام کوشش شروع کر دی 31 اگست سے پہلے نکلا جا سکیں اور کابل  ایئرپورٹ لوگوں سے بھر چکا تھا

    سکیورٹی کے بہت خدشات تھے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا اوردو دھماکے ہو گئے جس میں 178 افغانی تیرا امریکی مارے گئے

    31اگست کے بعد طالبان کے پاس پنجشیر   کے علاوه تمام علاقے کنٹرول میں تھا  اور  احمد مسود کے ساتھ مذاکرات  کا سلسہ شروع ہوا اور بیس دن بعد مذاکرت ناکام ہونے کے بعد  جنگ شروع ہوئی اور چھ ستمبر کو پنجشیر فتح بھی
    ہوگیا@sikander037 #sikander037

  • ‏*زہر کا گھونٹ* *تحریر   بسمہ ملک*  *پارٹ 2*

    ‏*زہر کا گھونٹ* *تحریر بسمہ ملک* *پارٹ 2*

    پھر ایک شام ابّو نے ریحان کو چائے پہ بُلایا تو ابّو کے کچھ کہنے سے پہلے ہی انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ’’مجھے کوئی شرط منظور نہیں۔‘‘ کس قدر بے گانگی اور بے رُخی تھی ان کے لہجے اور رویّے میں کہ ابّو تک کا لحاظ نہیں کیا۔ میرے آنسو ہر حد توڑ دینا چاہتے تھے، جب کہ امّی کہہ رہی تھیں ’’دیکھو عائشہ! اس موقعے پر تمہیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ دو معصوم بچّوں کا ساتھ ہے، صرف اپنے بارے میں نہیں، ان کے بارے میں سوچو۔ اگرتمہارے ابّو نے کوئی انتہائی قدم اٹھا لیا توپھرکیا ہوگا… ؟‘‘ جب کہ دوسری جانب ریحان کے رویّے میں بھی کوئی لچک نہیںتھی۔
    امّی پھر کہہ رہی تھیں’’ اپنی بہنوں کی طرف دیکھو ، زہرا اور عنائیہ کے رشتے اسی خاندان میں طے پا چُکے ہیں۔ ہمیں اپنی دوسری بچیوں کا بھی سوچنا ہے، اگر تم اسی طرح سال ،سال بھر میکے میں بیٹھی رہو گی، تو تمہاری بہنوں کا کیا بنےگا؟ یوسف اور عنائیہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیںاور پورا خاندان یہ بات جانتا ہے۔ عنائیہ نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ یوسف کے علاوہ کسی سےشادی نہیں کرے گی۔‘‘امّی نے اپنی تمام مجبوریاں میری جھولی میں ڈال دیں۔
    ’’تو امّی اب مَیں کیا کروں؟ ابّو کی مرضی کے بغیر کیسے چلی جائوں، انہوں نے ہی تو مجھے کتنے مان سے بلایاتھا۔‘‘’’تم ریحان کو فون کردو کہ مَیں آرہی ہوں، نوید(بھائی) تمہیں تمہارےگھر چھوڑ آئے گا۔‘‘’’لیکن ابّو…ابّو ناراض ہوں گے۔‘‘’’مَیں نے تمہاری دادی اور پھپھو کو بلایا ہے، تھوڑی ہی دیر میں شمع آپا اور امّاں آجائیں گی پھر تمہارےابّو کو وہ خود سنبھال لیں گی۔ وقتی طور پر غصّہ کریں گے پھر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ اورجب تم اپنے گھر میں بس جاؤ گی، رہنےسہنے کی عادی ہوجاؤگی تو انہیں بھی تسلّی ہو جائے گی۔ ‘‘ امّی نے تو جیسے مجھے بھیجنے کی ٹھان ہی لی تھی کہ وہ میری کوئی بات سُننے کو تیار نہ تھیں۔
    گویا مجھے ایک بار پھر اُسی دَر پہ سر جُھکانا تھا، جہاں میری کوئی وقعت ، ضرورت نہ تھی کہ یہی تو دستور ہے کہ ماں، بیٹی، بیوی، بہن کے رُوپ میں زہر کا گھونٹ عورت ہی کو پینا پڑتا ہے۔
    ‎@BismaMalik890

  • دل کی حفاظت کریں تحریر : واجد خان

    ‏”
    دنیا میں ہونے والی بیشتر اموات کی وجہ قلبی بیماریاں ہیں، ایک اندازے کے مطابق ہر سال 17.9 ملین اموات کی وجہ دل کے امراض ہیں۔ دل کے دوسرے امراض یا پیچیدگیوں کی نسبت ہارٹ اٹیک اور اسٹروک سے ہونے والی اموات کی شرح 85 فیصد ہے۔۔
    دل کے امراض کی بڑی وجہ غیر معیاری لائف سٹائل اور کھانے پینے میں بے احتیاطی ہے۔۔
    یہ بتانا تھوڑا مشکل ہے کہ کب ، کس کو ہارٹ اٹیک آ سکتا ہے لیکن بے شک اپنے روزمرہ زندگی میں کچھ تبدیلیاں اور احتیاطی تدابیر سے ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔۔۔
    ہمارے پھیپھڑوں اور پسلیوں کے درمیان گھرا ہوا دل ایک بند مٹھی کی مانند ہوتا ہے جس کا وزن 300 سے459 کے درمیان ہوتا ہے۔۔
    اس عضو ( دل ) کے ذمے پورے جسم میں خون کے بہاؤ کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔۔
    دل کے زریعے خون تمام جسم میں سپلائی ہوتا ہے جس میں آکسیجن اور ضروری غذائی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔۔
    ایک انسان میں ہارٹ اٹیک کی بنیادی وجہ کارنری شریانوں کا بند ہونا ہے۔ اسکی وجہ وقت کے ساتھ شریانوں میں چکنائی کا جم جانا ہے ۔ اس بلاکیج کی وجہ سے اور شریانیں تنگ ہونے سے دل کو خون کی سپلائی میں مشکل ہوتی ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔۔اس سے بچاؤ کے لیے اپنے روزمرہ زندگی میں تبدیلیاں کر کے ہم صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔۔
    متوازن غذا۔۔
    دل کی بیماریوں سے بچنے کےلئے صحت مند غذاؤں تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال نہایت ضروری ہے ۔ کیونکہ مرغن غذاؤں اور چکنائی دار چیزوں کی وجہ سے شریانوں کا سکڑاؤ اور شوگر لیول کا بڑھنا اور بلڈ پریشر یہ سب مل کر دل کے عارضے کا باعث بن سکتے ہیں۔۔۔
    اپنی پلیٹ کو سلاد، پھلوں اور صحت مند غذاؤں سے بھرئیے ، اور مصالحے دار اور چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کریں اور صحت مند رہیں ۔
    چاق و چوبند رہیں۔
    کوشش کریں کہ زیادہ تر خوشگوار ماحول میں رہیں، خود بھی خوش رہیں دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔۔ گھر کے کاموں سے فرصت نکال کر صبح یا شام واک پر جائیں اور ذیادہ سے ذیادہ کوشش کریں خود کو ایکٹیو رکھنے کی، اس کے لئیے ورزش کریں، یوگا کریں اور صحت مند رہیں۔۔
    بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں ۔
    ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے شریانوں کے سکڑاؤ کے ساتھ نہ صرف خون کے بہاؤ بلکہ جسم میں آکسیجن اور ضروری غذائی اجزاء کی فراہمی میں بھی مشکل ہو جاتی ہے اسی طرح لو بلڈ پریشر بھی ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتا ہے ۔ اس لئے اپنے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے چیک کرتے رہیں اور ڈاکٹر کی دی گئی ادویات کا استعمال جاری رکھیں۔۔
    اسکے ساتھ اپنے شوگر لیول کو اعتدال میں رکھیں شوگر لیول کے بڑھنے یا کم ہونے سے بھی دل کی شریانوں پر دباؤ بڑھتا ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے اپنی غذا میں ایسی اشیاء شامل کریں جو خون میں شوگر لیول متوازن رکھیں۔۔
    کولیسٹرول ، پروٹین اور چکنائی دار چیزوں سے بننے والی چربی کو کہتے ہیں۔ ہمارے جسم میں نئے خلیات کی تشکیل اور جسم کو گرم رکھنے کیلیئے ضروری ہے لیکن اس کا مقدار سے بڑھ جانا دل کے لیے نقصان دہ ہے۔
    کولیسٹرول کی وجہ سے نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے دل کو خون اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے زیادہ پریشر سے خون پمپ کرنا پڑتا ہے جو کہ پارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔۔
    زہنی صحت۔۔
    ہماری ذہنی اور جسمانی صحت بھی دل کے افعال کو متاثر کرتی ہے، جب آپ زہنی طور پہ پرسکون ہوں گے تو اس کے خوشگوار اثرات جسم پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں جبکہ سٹریس اور ٹینشن بھی دل کے عارضے کا باعث بنتا ہے۔۔ اس لئیے کوشش کریں کہ خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔۔
    وزن کا بڑھنا، موٹاپا۔۔
    وزن کا بڑھنا یا موٹاپا بھی دل کی بیماریوں کا سبب ہیں۔۔
    ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ وزن والے لوگوں میں ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول لیول کا بڑھنا ہارٹ اٹیک کی بڑی وجوہات میں سے ہیں۔۔اپنے وزن کو کنٹرول رکھیں اور متوازن غذا کا استعمال کر کے ہی وزن کو کم کیا جا سکتا ہے۔۔
    اسی طرح جو لوگ سگریٹ نوشی ، شراب نوشی یا کسی بھی قسم کے نشے میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں بھی دل کی بیماریاں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔
    اس لئیے ان چیزوں کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے ۔۔
    اس سب کے علاؤہ آپکی فیملی ہسٹری ، آپکی عمر، اور جنس بھی دل کے عارضے کا باعث ہو سکتی ہیں ۔۔
    اس سے بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ صحت مند غذاؤں اور ورزش اور روزمرہ زندگی میں تبدیلیاں کر کے صحت مند زندگی کو ترجیح دیں تاکہ ان بیماریوں کے خطرات سے بچا جا سکے ۔۔
    ‎@Waji_12

  •   بداخلاقی،عریانی،فحاشی کا سیلاب  تحریر: شھریار سیالوی

    ٹوئیٹر ہینڈل: @shehryarsialvi

    پاکستان اسلامی نظریاتی مملکت خداداد ہے۔ ہماری نئی نسل کو بھی تحریک پاکستان کے مقاصد سے آگاہ رہنا چاہیئے تاکہ وہ تعمیر پاکستان کیلئے کوشاں رہے۔ آج پاکستان میں سے  بےسمت نظام تعلیم، شرم وحیاء کا خاتمہ، عریانی، فحاشی اور مادر پدر آزاد تہذیبی چلن نئی نسل اور ملک و ملت کیلئے بڑی تباہی، خطرات کے اشارے ہیں۔پاکستان قائد اعظم (رح)، علامہ اقبال( رح) اور مشاہیر پاکستان کے تصور کے مطابق صالح فکر اور نظریاتی پختگی کی ضرورت ہے۔

       قائد اعظم (رح) نے ملت پاکستان کیلئے نظریہ، ثقافت، تہذیب، اتحاد و یگانگت، درد مشترک اور قدر مشترک کیلئے شاندار راہ متعین کی لیکن آج نظام تعلیم، نظام ثقافت و معاشرت، تہذیب و اقدار کو فحاشی، بےحیائی اور مذہب بیزاری کیطرف پوری قوت سے دھکیلا جارہا ہے۔ جہاں بداخلاقی، نفس پرستی اور لذات جسمانی کی بندگی آخری حدوں کو چھو رہی ہو، جہاں مرد و خواتین، جوان و پیرعیش پرستی اور بےحیائی کے دلدادہ بنائے جارہے ہوں تو یہ قومی ہلاکت کے آثار ہیں۔ مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے عورتوں میں حسن کی نمائش، عریانی اور فواحش کو غیر معمولی ترقی دے دی ہے۔ اسلامی نظریاتی مملکت میں فیشن کے نام پر عریانیت پر مبنی کیٹواک، الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور اور منہ زور تشہیر آخر نئی نسل کو کس آزادی سے روشناس کیا جارہا ہے؟ یہی طریقہ واردات مغربی قوموں کو قوت حیات کو گھن کیطرح کھا رہا ہے۔ یہ ایسا گھن ہے کہ جس قوم کو لگ جائے اس کا جینا محال ہوجاتا ہے۔

    افراط و تفریط کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے والی دنیا کو اگر عدل، سلامتی، باہمی احترام کا راستہ اگر کوئی دکھا سکتا ہے تو وہ مسلمان ہے جس کے پاس انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل اور الجھنوں کے صحیح حل موجود ہیں لیکن تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ جن کے پاس حیاء، عزت و احترام، محبت و حدت کی روشنی کا چراغ ہے وہی خود اپنے اعمال کی خرابیوں کی بنیاد پر دوسروں کو راستہ دکھانے کی بجائے خود اندھوں کیطرح بھٹک رہے ہیں، جو قومیں بھٹک چکی ہیں، جن کی نسلیں بگڑ چکی ہیں، اسلامیان پاکستان ان بھٹکنے والوں کے پیچھے دوڑتے پھرتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، پاکستان بڑے مقاصد اور بڑی قربانیوں کیساتھ وجود میں آیا۔ آخر کب تک ہم بھٹکیں گے؟ بحیثیت انسان کوئلے کی چھت اور تاروں بھرے آسمان کا فرق محسوس کرنے سے کب تک انکار کرتے رہیں گے؟ اسلامی اخلاقیات میں حیاء کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس سے الگ نہیں ہوسکتا۔ حیا، تمدن و معاشرت کو صحیح سمت اور عریانی و بےحیائی انسانی معراج کو زمین بوس ہی نہیں ذلت و بربادی سے دوچار کر دیتی ہے۔ اسلام کے تصور اخلاق کے مطابق تشکیل پانے والا معاشرہ، خاندان کی بقاء اور تحفظ پر توجہ مرکوز رکھتا ہے کیونکہ خاندان ہی تہذیبوں کی بنیادی اکائی ہے۔ اسلامی تعلیمات اخلاقی اور روحانی قدروں کی حامل اور دین میں اس حوالہ دے خاندان کا ادارہ ماضی اور حال کے درمیان اہم رابطہ اور بندھن ہے، اسلامی تعلیمات نوجوان نسل کی تربیت اور تنطیم کا اولین مکتب ہے، اقدار کی تعلیم، باہمی احترام و محبت، تفہیم و تعاون، حکم اور اطاعت جیسے اعمال اور اوصاف پر زور دیتا ہے جس سے متوازن مزاج افراد تیار ہوتے ہیں۔ اس سے ہی معاشرے کو استحکام ملتا ہے۔ مسلم خاندان پر فحاشی، بےحیائی، عریانیت، بدتہذیبی کے وار کے ذریعے اسے بےوقعت، بےوقار اور ذلیل کیا جارہا ہے تاکہ خاندان ٹوٹ پھوٹ جائیں۔ یہ روش دین اور ایمان کو لوگوں کے سماجی اور سیاسی امور سے بےدخل کردینا چاہتی ہے۔ 

    آپ نے فرمایا: 

    "جب عریانی اور فحاشی عام ہوجائے گی، تو لوگوں میں ایسی ایسی بیماریاں پیدا ہونگی، جنکے متعلق نہ تو تم نے پہلے کبھی سنا ہوگا اور نہ تمہارے آباو اجداد نے” ۔ عریانیت، برہنگی، نجی شخص اور تنہا ایک گناہ نہیں بلکہ متعدی اور کئی گناہوں کا اذیت ناک مجموعہ ہے۔ اللہ اور اسکے رسول کو ناراض کرنا ہے، بےحیائی، فحاشی اور بدکاری کو دعوت دینا ہے۔ معاشرہ میں گندگی، اخلاقی انارکی کو عام کرنا ہے۔ غرض عریانیت، نفسانی جذبات اخلاقی نوعیت کے تمام گناہوں میں بنیادی اور اولین کردار ادا کرتی ہے۔ 

    گذشتہ اور قریبی عرصہ میں عریانیت، فحاشی کے خلاف ریاستوں  اور قانون نے تو کوئی سنگین اور سخت سزا تجویز نہیں کی لیکن ایک اور نقد سزا دریافت ہوئی ہے، سزا کیا ہے، موت کا پروانہ ہے۔ جیتے جی انسان مر جاتا ہے۔ معاشرہ اور برادری سے کٹ جاتا ہے۔ علیحدہ کردیا جاتا ہے، یہ قدرت کی گرفت ہے اور یہ سزا ایڈز ہے۔ 90ء کی دہائی میں اس مرض کی تشخیص کی گئی اسکے بعد سے ایڈز، ایچ آئی وی (HIV Positive) کی امراض مسلسل بڑھتی جارہی ہیں اور لاعلاج مرض ہے۔ اگر اس وقت دنیا میں ایڈز کا مرض پھیلنے کی رفتار برقرار رہی تو مجموعی طور پر پوری دنیا میں   2022ء تک ایڈز سے مرنے والوں کی تعداد 70 ملین تک پہنچ جائے گی۔ 

    اس سنگین صورتحال میں تو عبرت یہ تھی کہ انسانوں کی آنکھیں کھل جاتیں اور رہنمایان قوم، پالیسی سازوں، میڈیا کی دنیا کے آقاوں کا مردہ ضمیر جاگ جاتا اور تمام مل کر فحاشی، بدتہذیبی، عریانیت، کے خاتمے کیلئے کمربستہ ہوجاتے، کم از کم اسلامیان پاکستان کیلئے اسلام کی سراپا رحمت تعلیمات کو اپنا لیا جاتا مگر یہ حیران کن حقیقت ہے کہ بےحیائی اور عریانیت کو تاریخ بنادینے کی آواز کوئی بلند نہیں کرتا، معاشرہ کو صاف ستھرا، پاکیزہ اور عریانیت سے محفوظ بنانے کی کوئی بات نہیں کرتا۔ دردناک اور عبرتناک بیماریوں سے نجات کیلئے اس کی خرابی کی جڑ کوختم کرنیکی آواز بلند نہیں ہوتی۔عریانیت، بےحیائی، بداخلاقی اور بدتہذیبی کا ماحول برقرار رکھنے اور بیماریوں سے بچنے کیلئے سدباب کی جو تجاویز دی جارہی ہیں یہ فریب، دھوکہ، اور مزید تباہی کا سبب ہیں۔ اس صورت حال سے نجات کا تو یہی طریقہ ہے کہ فکر لاحق ہو، احساس کی جڑیں گہری ہوں، بےحیائی، بداخلاقی، عریانیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے دانش مندانہ، موثر اور کامیاب علاج یہ ہے کہ اس بربادی کی راہ کے قریب بھی نہ پھٹکا جائے، جو اسلوب جان لیوا ہیں، خاندان کی بربادی، انسانیت کی توہین اور دوسروں کے حقوق کی پامالی ہو۔ ایسے ارادوں اور عمل سے اجتناب اور کنارہ کشی اختیار کی جائے، اپنے گھرانوں اور اولادوں کو حق سے آشنا اور قرآن و سنت کی تعلیمات کا خوگر بنایا جائے۔ قرآن کی انسانیت نواز تعلیمات پر عمل کرنے کی بنیادوں پر اسلامی معاشرت کو اپنانے اور اختیار کرنیکی کوشش کی جائے۔ 

    ملک میں آئین، قوانین، ذرائع ابلاغ کا ضابطہ، عریانیت، فحاشی، بدتہذیبی کے تدراک کی رہنمائی دیتے ہیں۔ عدالت عظمی میں ان قوانین پر عملدرآمد کے مسائل پر آئینی، قانونی پٹیشن زیر سماعت ہیں۔ عوام خود خاندانون کے سربراہ، حکمران، پالیسی ساز، قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اور عدلیہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ فکر کریں، آگے بڑھیں، خاموشی توڑیں اور اس بڑھتی بربادی کا سدباب کریں اور نئی نسلوں اور قیام پاکستان کے مقاصد کو محفوظ بنائیں۔

  • ذہنی سکون- ترجیح اول تحریر: سید غازی علی زیدی

    ذہنی سکون- ترجیح اول تحریر: سید غازی علی زیدی


    آج کے پر آشوب اورنفسانفسی کے دور میں، زیادہ تر لوگ ڈپریشن و ٹینشن جیسے امراض سے نبردآزما ہیں۔ ذہنی سکون اولین ترجیح تو ہے لیکن بدقسمتی سے نایاب ہوتی جارہی۔
    معاشی مسائل ہوں یا معاشرتی تفکرات، روز بروز ہمارے اضطراب و بے سکونی میں اضافہ کررہے اور ہم بےبسی سے تماشا دیکھ رہے۔بظاہر پرآسائش گھر، پرتعیش گاڑیاں،مال ودولت، اولاد سب ہے لیکن قلبی سکون نہیں۔ عجیب بےچینی ہےجس کا مداوا نہیں ہوپارہا۔گولیاں پھانک کر بھی نیند سے محرومی ہے۔ حالانکہ صدقہ و خیرات میں کوئی کوتاہی نہیں، نماز پنجگانہ اور حج و عمرہ باقاعدہ، پھربھی پریشانی ہے کہ جاتی نہیں۔ پریشانی بھی ایسی جو ناقابل بیان و برداشت،ایسے رستے زخم جن کا مرہم ناپید۔ وجہ؟ حقوق اللّٰہ و حقوق العباد میں کوتاہی۔
    اورحل؟ سادہ ترین۔ لیکن اپنی انا کو کون مارے؟
    فرمان باری تعالیٰ ہے
    "اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان(سکون) نصیب ہوتا ہے۔”
    لیکن اگر عبادات، صدقات، خیرات سکون دینے سے قاصر ہیں تو یقیناً ہمارےمعاملات زندگی بگاڑ کا شکار ہیں۔
    حقوق اللہ کی معافی تو یقیناً توبہ استغفار سے مل سکتی لیکن حقوق العباد کی معافی بغیر تلافی و کفارہ دیے ممکن نہیں۔کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف کردیں گے لیکن بندوں کے حقوق جب تک معاف نہیں ہوں گے جب تک مظلوم خود معاف نہ کرے۔
    تو پھر ہم کہاں بھٹکتے جا رہے؟
    انسان اتنی عجیب مخلوق ہے کہ جو چیز اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھ دی ہے اسے مادی اشیاء میں تلاش کرتا۔حقوق العباد سے پہلو تہی کرنے والوں کے مقدر میں بےچینی و پریشانی لکھ دی جاتی۔ سکون، خوشی، اطمینان یہ سب انسان کی ذات میں پوشیدہ ہیں۔ اچھائی و نیکی کیلئے معمولی سی کاوش بھی لامحدود نتائج دیتی جبکہ ایک معمولی غلط کاری دل پر سیاہ داغ کی صورت اپنا نشان چھوڑ دیتی۔ دل جتنا خوبصورت و پرنور ہو گا اتنا ہی اطمینان قلب نصیب ہو گا۔ جبکہ سیاہ کاروں کیلیے تو دنیا میں بھی بے سکونی و گمراہی ہے اور آخرت میں بھی ضلالت و رسوائی۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم ظاہری خوبصورتی کیلئے تو ہر حد تک جاتے یہاں تک کہ پلاسٹک سرجری کرانےسے بھی گریز نہیں کرتے لیکن اندرونی بدصورتی کا سدباب کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
    دولت کے انبار، رنگ و نور کا سیلاب، عیش وعشرت، سیرو سیاحت، تفریحات و ترغیبات، شراب و کباب سے آراستہ رنگین محافل، منشیات،مزید برآں ان خرافات کے حصول کیلئے کی گئی کرپشن، رشوت، حرام کمائی، دھوکہ بازی! الغرض حرص و ہوس،بداعمالیاں، بے راہ روی، بداخلاقی انسان کے ضمیر کو مردہ کرتی چلی جاتی۔
    جان لیجیئے: یہ سب وقتی خوشی تو دے سکتے لیکن سکون قلب دینا ان مادی اشیاء کے بس کی بات نہیں۔الٹا سرمایہ، وقت اور صحت کا ضیاع ہے
    کیا وجہ ہے کہ تاریخ انسانی کےکامیاب ترین افراد خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتے حالانکہ وہ بظاہر تمام نعمتوں سے مالا مال تھے؟ پھر خواہ وہ ہٹلر ہو یا مشہور پینٹر وان گوگ، حسنیہ عالم قلوپطرہ ہو یا سلیبرٹی شیف انتھونی بورڈین، اداکار سوشانت سنگھ ہو یامزاح کا بے تاج بادشاہ رابن ولیمز، کامیاب ترین ہوکر بھی ناکام قرار پائے۔
    "بےشک انسان خسارے میں ہے”
    اپنی گمراہی پر خود گواہ،شیطانیت کا آلہ کار بناہوا۔ حرص و ہوس،بداعمالیاں، بے راہ روی، بداخلاقی انسان کے ضمیر کو مردہ کرتی چلی جاتی اور اپنے وقتی سکون کیلئےگھاٹے کا سودا کرکے خوار ہوتا۔
    اگر ذہنی سکون چاہیے تواپنے مردہ ضمیر کو جگائیں۔خود احتسابی پہلا قدم ہے سکون قلب کے حصول کیلئے۔ اور یہ قدم ہر انسان کو خود اٹھانا پڑتا۔خلوص، محبت، اخوت ، رزق حلال، سادگی، عاجزی یہ وہ گنج ہائے گراں مایہ ہیں جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتے۔ بظاہر معمولی لیکن ہر وصف اپنے اندر سمندر جیسی وسعت سموئے ہوئے ہے۔ حقداروں کو ان کا حق دیں۔ مخلوق خدا کے ساتھ معاملات ٹھیک کریں،حق تعالیٰ وہ بھی ودیعت کرے گا جو آپ کے گمان میں بھی نہ ہوگا۔ آزمائش اور سزا کا فرق جاننے کی کوشش کریں جو مصیبت قرب الٰہی عطا کرے وہ آزمائش ورنہ سزا۔ حضرت محمد ﷺ پر سب سے زیادہ تکالیف آئیں لیکن ان سے بڑھ کر خدا کومحبوبﷺ کوئی نہیں۔ لوگوں کی تکلیفوں میں انکا ساتھ دیں اللّٰہ تعالیٰ آپکی تکالیف دورکردے گا۔
    فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
    مگر اس میں لگتی ہے محنت 
    ناانصافی، رزق حرام، جھوٹ، نمود و نمائش ہماری زندگی کو جہنم بنادیتے لیکن ہم وقتی و ذاتی اغراض کے حصول کیلیے ان علتوں کو گلے لگائےبیٹھے ہیں۔ رسم ورواج، سماجی روابط، عہدے و رتبے کو خدا بنا کرسکون قلب کے طلبگار ہیں؟
    ذہنی سکون عطائے خداوندی ہے جس کو میسر ہو گیا اس کیلئے مشکلات میں بھی آسانی کا وعدہ ربی ہے اور جو اپنی خطاکاری و ریاکاری کی وجہ سے محروم رہا وہ حریر و ریشم کے باوجود بھی نامراد رہے گا
    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
    writer :

    Syed Ghazi Ali Zaidi

  • درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو    تحریر : فضیلت اجالہ 

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو  تحریر : فضیلت اجالہ 

    ہم مساوات کا سبق بچپن سے سیکھ رہے ہیں لیکن آج تک ہم یہ سمجھنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں کہ مساوات کیا ہے اور مساوات کی نوعیت کیا ہے۔ مساوات انسانیت کی اہم ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔

    انسانیت وہ جذبہ ہے جو ہمیں دوسروں کے بارے میں مثبت سوچنے پر اکساتا ہے۔ انسانیت کے بغیر معاشرے میں رواداری ممکن نہیں ہے۔ انسانیت ہمیں دوسروں کے دکھ اور تکلیف کو سمجھنا سکھاتی ہے۔

    لیکن افسوس آج ہم خود کو انسان تو کہتے ہیں لیکن انسانیت سے نا آشنائ ہے ۔

    انسان کی تخلیق  کے ساتھ ہی انسانیت نے جنم لیا.

    بہت سے مسلمان صرف عبادت کرنے کو زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں لیکن اگر مسلہ عبادت کا ہوتا تو اللہ تعالی کی عبادت کرنے کیلیے جن ،چرند ،پرند اور حیوان ہی کافی تھے ،انسان کی تخلیق کا مقصد ہی انسانیت کی تسکین تھا  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان بڑھتے گئے اور انسانیت مرتی گئ ،بحیثیت مسلمان ہمارا مزہب بھی ہمیں انسانیت کی تلقین کرتا ہے 

    انسانیت کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم اور بنیادی ذریعہ قرآن پاک اور سنت نبوی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل سیرت ہمارے لیے انسانیت کی سب سے بڑی اور انمول مثال ہے۔ کفار اہل مکہ نے نبی آخر الزمان  اور ان کے ساتھیوں کی راہ میں مختلف مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کیں لیکن میرے نبی نے کبھی بدلہ نہیں لیا ،کبھی رنگ ،زات،نسل،مزہب کا فرق نا پالا اور انسانیت کی وہ داستانیں رقم کی جس نے انسانیت کو معراج کروائ ۔

    ۔ فتح مکہ کے موقع پر اللہ کے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دشمنوں کو معاف کیا اور دنیا کو انسانیت کی سب سے بڑی تعلیم دی۔

     نا صرف سنت نبوی بلکہ قرآن میں بھی اللہ نے ہمیں بار بار  انسانیت کی تعلیم دی ہے۔

    آج ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات کو بھول گیا ہے۔ آج ہم ایک دوسرے کے درد اور تکلیف سے ناواقف ہیں ، یہاں تک کہ اگر ہم جانتے ہیں تو ہم بے حس ہو گئے ہیں۔ آج ہم ایک دوسرے کو مصیبت میں دیکھ کر بھی خاموش ہیں۔

    اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانیت ہمارے دلوں سے مٹ گئی ہے۔ ترقی کے اس مادر پدر دور میں جیسے جیسے انسان بڑھتے جا رہے ہیں انسانیت کہیں ناپید ہوتی جا رہی ہے ۔کیا اتنا ہی مشکل ہے ہے انسان ہونا؟ ہر گز نہیں ارے انسانیت کا اظہار تو ہمارے چھوٹے چھوٹے اعمال سے بھی ممکن ہے۔

    کسی انجان ،راہ چلتے مسافر کو پانی پلا دینا،کسی بھوکے کی بھوک کا بغیر کہے احساس کر لینا ،صرف انسان ہونے کے ناتے کسی دوسرے انسان کی مدد کر دینا ،راہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ،بظا ہر چھوٹے چھوٹے دکھنے والے یہ اعمال ہمارے اندر موجود انسانیت کو زندہ رکھنے کا موجب بنتے ہیں ۔

    اور ہم تو اس عظیم ہستی کے امتی ہیں جن کے حسن سلعک کی مثا لیں کفار بھی دیتے تھے ہم تو اس مزہب کے پیروکار ہیں جو انسان تو انسان جانوروں سے بھی ،ہمدردی ،رحم اور حسن سلوک کا درس دیتا ہے اور یہ سب تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب ہم میں انسانیت موجود ہو 

    آج ہمیں انسانیت کے جذبے کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    آج ہمیں قرآن پاک کا بغور مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے اور حضور پاک  کی زندگی کا مطالعہ کرنا ہے۔  اسوہ حسنہ سے سچی محبت اور حضور پاک  کی اطاعت ہماری کامیابی کی کلید ہے۔

    اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت عطا فرمائے،ان جیسا تو کائنات میں ممکن ہی نہیں لیکن ایسا انسان ضرور بنائیں جس پہ انسانیت فخر کرے ۔

    @TPW_U