ہمارے ہاں بہت سی شخصیات ایسی ہیں جن کی اصل شہرت ہم نہیں جانتے ہیں اور ہمیں ان شخصیات کے صرف وہی کارنامے جانتے ہیں جو ان شخصیات کی زندگی اور ان کی شہرت میں ثانوی مقام رکھتے ہیں۔۔۔
آؤ چلتے ہیں تخیلات کی دنیا میں اور عمر خیام پر اپنی بحث شروع کرنے سے پہلے ایک مثال لیتے ہیں ۔۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کو دیکھیں۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا نام سن کر ہمارے ذہنوں میں شاعری آتی ہے، اس میں شک نہیں کہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری لاجواب ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری کو بھی جس وجہ سے شہرت حاصل ہے وہ اس کا فلسفہ ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ بیک وقت ایک عظیم فلسفی، ایک کامیاب وکیل، ایک باستقامت رہنما اور اعلیٰ پائے کا شاعر تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں لوگوں کے ذہنوں میں صرف اس کی شاعری ہے۔
بالکل اسی طرح معاملہ عمر خیام کے ساتھ بھی ہے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ پر پھر کبھی بات کرینگے آج چلتے ہیں عمر خیام کے بیت النجوم میں اور عمر خیام کے بارے میں پڑھتے ہیں۔۔۔
جیساکہ اوپر زکر کیا ہے عمر خیام کے ساتھ بھی علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا معاملہ ہے، عمر خیام ایک عظیم ماہر فلکیات، ماہر علم نجوم، عظیم ریاضی دان اور اعلیٰ پائے کا شاعر تھا۔۔۔
عمر خیام 1048ء میں نیشاپور کے ایک خیمہ ساز کے گھر میں آنکھ کھلی۔ ابتدائی تعلیم زمانے کے عرف کے مطابق حاصل کی۔ علمی و تحقیقی مضامین کی طرف ملن زیادہ تھا اس وجہ سے باپ کا پیشہ اختیار نہیں کیا بلکہ علمی دنیا میں سفر جاری رکھا۔۔۔۔
جوانی میں عمر خیام باپ کے سایے سے محروم ہوگیا اور کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن علم و تحقیق سے اپنا رشتہ نہیں توڑا ۔۔۔۔
سلطان الپ ارسلان کے روم کے خلاف ملاذگرد کی جنگ میں عمر خیام کی ملاقات سلطان الپ ارسلان کے بیٹے سلطان ملک شاہ سے ہوا اور اس کو تین پیشنگوئیاں کیں کہ جنگ میں فتح سلطان الپ ارسلان کی ہوگی لیکن بعد میں شہنشاہ روم اور سلطان الپ ارسلان فوت ہو جائینگے ۔۔۔۔
خدا کا کرنا بھی ایسا ہوا۔ اس وجہ سلطان ملک شاہ عمر خیام کے علم نجوم پر کافی یقین پیدا ہوا، سلطان ملک شاہ عمر خیام کے علم سے کافی متاثر تھے۔
اس جنگ کے بعد عمر خیام سلجوقی سلطنت کی سرپرستی میں ریاضی کے ایک ماہر استاد سے ریاضی پڑھنے لگا۔ اس کے استاد نے اس کے اندر چھپی صلاحیتیں دیکھیں اور اس نے نظام الملک طوسی کو ایک خط بیجھا کہ عمر خیام میں بہت صلاحیتیں ہیں اگر اس کو موقع دیا جائے یہ بہت کچھ کر پائے گا۔ نظام الملک طوسی سلطان ملک شاہ کا وزیراعظم تھا اس نے عمر خیام کے بارے میں سلطان ملک شاہ کو بتایا۔ ملک شاہ پہلے سے عمر خیام کے علم کا گرویدہ تھا اس لیے بنا وقت ضائع کیے عمر خیام کو ایک تجربہ گا تعمیر کروایا عمر خیام کی خواہش پر جو "بیت النجوم” کے نام سے مشہور ہوا۔ وہاں وہ مختلف تجربات و مشاہدات کرتا تھا۔ اور بعد میں سلطان ملک شاہ نے اس کو دربار میں منجم خاص کے عہدے سے نوازا۔۔۔۔۔
عمر خیام کے وہ کارنامے جس کی وجہ سے ان کو شہرت ملی تھی ہم میں سے اکثر کو معلوم نہیں وہ صرف شاعری نہیں تھی بلکہ اس کے یہ کارنامے علم فلکیات، فلسفہ اور ریاضی کے شعبوں میں ہیں۔۔۔ ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ شمشی کیلنڈر میں ہر چار سال بعد فروری 29 دن کا ہوتا ہے اور اس طرح سال 366 دن کا۔ یہ عمر خیام کا کارنامہ ہے عمر خیام نے سلطان ملک شاہ کے دور میں بیت النجوم میں سات سال کی مشکل محنت کے بعد یہ اندازہ لگایا تھا کہ سال میں 365 دن نہیں بلکہ 365 دن اور 6 گھنٹے ہوتے ہیں جو کل ملا کر چار سال میں ایک دن بنتا ہے۔ اس لیے سلطان ملک شاہ کے لئے نئے کیلنڈر کو اس نے جو ترتیب دیا تھا اس میں عمر خیام نے یہ فرق مٹایا تھا۔ یہ وہ کارنامہ ہے کہ آج کے جدید دور کی سائنس بھی اس کو درست مانتی ہے حالانکہ اس زمانے میں یہ جدید آلات نہیں تھے۔۔۔۔
ریاضی کے شعبہ میں اس کے بھی بڑے بڑے کارنامے ہیں مثال کے طور پر الجبرا میں اس کی مشہور کتاب الجبرا و مقابلہ، جس سے آج کے دور میں بھی الجبرا پڑھنے والے مستفید ہوتے ہیں۔ اس طرح الجبرا میں اس نے چھ نئی کلیے دریافت کیے ہیں۔ مسلہ دو رقمی (بائنمیل تیورم) کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے ۔۔۔۔
عمر خیام 1131ء میں وفات پائی۔ وفات ہونے سے پہلے عمر خیام نے ایک دفعہ پھر بڑی مشکل زندگی گزاری تھی۔ ہوا یوں کہ عمر خیام نے ایک نظریہ دیا تھا جو آج کل سارے لوگ اس کو صحیح مانتے ہیں لیکن اس زمانے میں عمر خیام کو اس کی وجہ سے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ سورج دنیا کے گرد نہیں گھومتا ہے بلکہ اس کے برعکس دنیا سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس زمانے میں یہ ایک کفریہ سوچ تصور کیا جاتا اور لہذا اس وجہ سے سلطان ملک شاہ کی وفات کے بعد عمر خیام پر مقدمہ چلایا گیا اس میں بڑے بڑے علماء جیسے کہ امام غزالی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اور بڑے بڑے قاضیوں نے شرکت کی تھی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ عمر خیام کو قتل نہیں کیا جائے گا لیکن اس کی تصانیف کو جلایا جائے، اس کی تصانیف کو مدراس میں نہیں پڑھایا جائے گا اور اس کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کی تکمیل کیلئے اس کو نیشاپور سے نکال دیا گیا اس کی تصانیف اور ایجادات کو اگ لگائی گئی اور مدارس میں بھی اس پر پابندی لگ گئی۔ ۔۔
عمر خیام کی شاعری کا زیادہ حصہ اس نے اس کے بعد مرنے تک لکھا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔
Category: ادب و مزاح

عمر خیام کون تھا؟ تحریر: آصف شاہ خان
حالات حاضرہ اور افضل سراج صاحب کی شاعری تحریر: مجاہد حسین
خبر: تبدیلی کے تین سال، غریب عوام کے لئے ظلم کی تین صدیاں، شہباز شریف۔
تبصرہ: اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے لیکن کیا جناب بتانا پسند کریں گے کہ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
کیا آپ نے اپنے تیس سالہ عہد سلطانی میں کوئی ایک ادارہ ایسا چھوڑا جو منافع دے رہا ہو؟ کیا کبھی آپ نے اتنا ٹیکس اکٹھا کیا جتنا خود کے لئے پیسے اور کک بیکس؟ میٹرو بس اور اونج ٹرین جیسے ذہر بھرے لقمے حکومت کے گلے میں ڈال کے چلے گئے جو نہ نگلے جا رہے ہیں نہ تھوکے جا رہے ہیں اور حکومت ہر سال اربوں روپے ڈال کے خالی بسیں بھی چلا رہی ہے اور ان کا قرض بھی دے رہی ہے۔ آپ لوگوں کے لئے ہوئے قرض چکانے کے لئے حکومت کے پاس مہنگائی اور ٹیکس لگانے کے علاوہ کیا راستہ تھا؟؟
لیکن آپ کو احساس پروگرام، کامیاب جوان پروگرام، بلین ٹری سونامی، کوئی بھوکا نہ سوئے، پناہ گاہیں اور لنگر خانے نظر نہیں آئیں گے جو غریب کا پیٹ پھرتے ہیں۔ تف ہے آپ کی سوچ پر۔خبر: جسٹس قاضی فائز عیسی سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر بن گئے، اخباری ذرائع
تبصرہ: آپ کو بتاتے چلیں کہ موصوف پر اوقات (آمدن) سے زائد اثاثے بنانے کا کیس اور منی ٹریل پیش نہ کر سکنے کا ٹرائل سپریم جوڈیشل کونسل میں ہی چل رہا تھا، اب جبکہ موصوف خود بھی اس کونسل کا حصہ بن بیٹھے ہیں تو بھولی عوام کا اس ملک کے عدالتی نظام پہ اور بھی یقین مضبوط ہو گیا ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہو گیا کہ جیسی بلی کو دودھ کی رکھوالی سونپ دی گئی ہو۔ سب کہیں سبحان اللہخبر: ججوں اور بیوروکریٹس کو قرعہ اندازی سے ملنے والے پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
تبصرہ: یقین نہیں آ رہا کہ ایسا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ سے سامنے آ رہا ہے اور اتنے حیران کن ریمارکس سن کے طبیعت حیران پریشان ہو گئی ہے۔ جج صاحب فرماتے ہیں کہ اس تقسیم میں "کرپشن اور جرائم” میں سزا پانے والے ججوں کو بھی پلاٹ ملے۔ چلیں آج اتنا تو سمجھ میں آیا کہ اس ملک کے منصف بھی راشی اور جرائم پیشہ ہیں۔ پھر یہاں انصاف کی امید لگانا کہاں کی دانشمندی ہوئی؟خبر: سعودی عرب میں سکیورٹی اہلکار کے قاتل کا سر قلم، اخباری ذرائع
تبصرہ: جرائم کی روک تھام تب تک ممکن نہیں جب تک جزا و سزا کا نظام پوری طرح کاآمد نہ ہو۔ جب یہ خبر پڑھی تو میرے ذہن میں پاکستانی نظام انصاف گھعمنے لگا جہاں سینکڑوں لوگوں کے قتل میں ملوث عزیر بلوچ عدم ثبوت کی بنا پر رہائی پاتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک سیاستدان دن دیہاڑے ڈیوٹی دیتے ایک سرکاری پولیس والے کو نشے کی حاکت میں اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیتا ہے لیکن عدالت اسے بھی ضمانت پہ رہا کر دیتی ہے۔ ایک امریکی دن دیاڑے تین پاکستانیوں کو گولی سے بھون دیتا ہے لیکن ہم "قوم کے وسیع تر مفاد میں” اسے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں۔ جہاں چند سیاستدان ملک کی جڑیں کھوکھلی کر ڈالتے لیکن عدالتیں انہیں چھٹی کے دن بھی ضمانتیں دیتی دکھائی دیتی ہیں۔
جناب من! جب تک بنیادی انصاف کا نظام بہتر نہیں ہوگا، آپ ایسے ہی ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔اور اب افضل سراج صاحب کی ایک غزل:
اِدھر ہے آنکھ چوکهٹ پر، اُدھر ہیں کان آہٹ پر
لگی رہتی ہے سارا دن، یہ میری جان آہٹ پرترے آنے سے پہلے ہی، تجهے پہچان لیتا ہے
مہکنے خود ہی لگتا ہے، مرا دالان آہٹ پراسے کہنا کسی لمحے، وہاں کی بهی خبر لے لے
جہاں وہ بهول آیا ہے، کسی کے کان آہٹ پربہت مانوس ہیں تم سے، مرے گهر کی سبھی چیزیں
چہک اٹهتے ہیں پردے، کهڑکیاں، گلدان آہٹ پربڑی حسرت سے تکتے ہیں تمهاری راہ دن بهر یہ
لگے رہتے ہیں دروازے، دریچے، لان آہٹ پربنا سلوٹ کے بستر پر پڑی بے جان آنکهوں میں
چمک اٹهتے ہیں پل بهر میں کئی ارمان آہٹ پرڈیوڑهی، صحن، خلوت خانہ، پائیں باغ، بیٹھک تک
چہکتی پهرتی ہے گهر بهر میں اک مسکان آہٹ پرکشن، فٹ میٹ، ٹیبل، کرسیاں، قالین، ترپائی
امڈ آتی ہے ہر شے میں انوکهی شان آہٹ پرہمہ تن گوش ہیں کمرے، سراپا شوق دروازے
کوئی دیکهے کہ ملتا ہے انبہیں کیا مان آہٹ پریہی ہے وقت آنے کا، بڑی بےتاب دهڑکن ہے
"نکلتی جا رہی ہے لمحہ لمحہ جان آہٹ پر”ٹهٹهرتا رات دن افضل میں سُونے گهر میں رہتا ہوں
بهڑک اٹهتا ہے سینے میں اک آتش دان آہٹ پرآخر میں آج کا شعر:
وہ مجھے روز بلاتا ہے تماشے کے لئے
روز میں خاک اڑاتا ہوا آ جاتا ہوں@Being_Faani
پیش بندی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ
دوستوں اب ہم دجالی دورمیں قدم رکھ چکے ہیں،یہ دجالی دورآنے والے دنوں میں ہمیں بہت کچھ نیا دکھائے گا ایک کرونا ہی دکھا کر پوری دنیا کو کیسا گھما دیا گیا ہے جس کا ادراک تو ہو جکا ہو گا اور ابھی تک دنیا کو کچھ سمجھ نہیں آپارہا ہے کہ کیا کرے۔بالکل اسی طرح آگےآنے والے دور کے فتنے اس سے بھی زیادہ سخت ہونگے اور یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے ایک توتمام حالات آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں دوسرا یہ کہ ان سب حالات کی خبر ہمارے سرکار دو عالم نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پہلے ہی دے چکے ہیں کہ یہ سب ہو کر رہے گا، اب بچے گا وہی جو چوکنا ہو گا، دانشمندی اور ایمان و عمل کو اختیار کرے گا.اس لیے اب ایمانی، جسمانی، روحانی اور اعصابی مضبوطی بہت ضروری ہے، اگر زندہ رہنا ہے اور ان تمام فتنوں سے بچنا ہے تو اب ذرا جاگ جائیں…!
اپنے بچوں کو آنے والے دور کے لیے تیار کریں…
جسمانی طور پر، ذہنی طور پر اور روحانی طور پر بھی…
ان کو اردو انگریزی اور عربی زبان لازمی طور پر سکھائیں، اسلامی تاریخ اور تہذیب کے بارے میں مکمل آگاہ کریں ،مزہبی طور پر مضبوط بنائیں اوراپنے بچوں کو لازماً ہنر سکھائیں، کوئی نہ کوئی ہاتھ کا کام جو ان کو مصروف بھی رکھے اور جس سے آنے والے وقت میں یہ کارامد ہو سکیں۔
جیسے سلطان عبد الحمید ثانی جوسلطنت عثمانیہ کے 34ویں فرماں روا تھے لیکن وہ ایک بڑھئ کا ہنر جانتے تھے۔انہوں نے ذاتی طور پر کچھ اعلی معیار کا فرنیچر تیار کیا تھا ، جسے آج بھی استنبول کے یلدز محل ، سیل کوسکو اور بییلربی محل میں دیکھا جاسکتا ہے اسی طرح محی الدین اورنگزیب عالمگیر سلطنت مغلیہ کےچھٹے فرمانروا تھے۔ان کے پاس خطاطی کا ہنر تھا انہوں نے متعدد قرآن پاک کے نسخے تحریر کیے۔ اس کے علاوہ انبیاء کی زندگی پر نظر ڈالیں
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اولاً کپڑا سازی کا کام کِیا کرتے تھے پھرکھیتی باڑی کرنے لگے۔حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلَام لکڑی کا پیشہ اپنائے ہوئے تھے حضرت اِدْرِیْس عَلَیْہِ السَّلَام درزی گری، حضرت ہُود و صالح عَلَیْہِمَاالسَّلَام تجارت،حضرت اِبراہیم و لُوط عَلَیْہِمَا السَّلَام کھیتی باڑی اور حضرت شُعَیْب عَلَیْہِ السَّلَام جانور پالتے تھے۔اسی طرح حضرت مُوسیٰ کَلِیۡمُ اللہ بکریاں چراتے،حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام زِرَہ(جنگ میں استعمال ہونےوالا فولاد کا جالی دار کرتا) بناتے،حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام پوری دنیا کے بادشاہ ہونے کے باوجود پنکھے اور زنبیلیں بنانے کا فن جانتے تھےاورہمارے پیارےآقا احمدِ مُجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے تجارت کواپنی ذات ِ بابرکت سے شرف بخشاتھا گویا
اب ڈگریاں ہاتھ میں لے کر کالج سے نکل کر نوکریاں تلاش کرنے کا دور ختم ہوگیا۔اپنے اجداد کی طرح ہنر مند ہونے کی ضرورت ہے
بہت سے لوگ ابھی بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا دوبارہ پرانی ڈگر پر واپس چلی جائے گی ایسا بالکل نہیں ہوگا اب آپ ہوش میں آ جائیں دنیا بدل گئی ہے، اب دنیا دوبارہ اس ڈگر پہ کبھی نہیں لوٹے گی..
اپنے بچوں کی جسمانی اور ذہنی طور پر لازماً ایسی تربیت کریں کہ مشکل اور نامساعد حالات میں وہ برداشت کرنے کے قابل ہوں، جس طرح اسکاوٹ یا کیڈٹ کی تربیت ہوتی ہےبالکل ویسے ہی جنگل میں خیمہ لگانا، آگ جلانا، کھانے پکانا، شکار کرنا اور ہتھیار چلانا۔ساری صلاحیتیں آپ کے بچے میں بدرجہ اتم موجود ہونی چاہئے۔گو کہ آج کل ہمارے بچے بہت ہی آرام طلب اور نازک ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں بچوں کو ایسا تعلیمی نظام دینا ہوگا جیسے ماضی میں دیا جاتا تھا جب بچوں کو دین اور ادب کے ساتھ ہنر بھی سکھایاجاتا تھا، تمام مسلمان اپنے ہاتھوں میں مخصوص ہنر رکھتے تھے اور ہاتھ سے کام کرتے تھے…
کوئی لوہے کا کام جانتا تو کوئی لکڑی کا، کوئی کپڑا بناتا تو کوئی چمڑے کا، کوئی مرغبانی کرتا تو کوئی گلہ بانی یا کاشتکاری.کا بلکہ انکی کاسٹ بھی ان کے پیشے سے ہی منسوب ہوتی تھی۔اس زمانے میں کسی کو نوکری تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی سب ہنر مند تھے۔یاد رکھئےآپ کی ہنر مندی ہی آپ کو کامیاب بناسکتی ہے اور خود کفالت تک لے جاسکتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کے ملک کو ہر نعمت سے نوازا ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔دوستوں! جو آپ کے پاس ہے اس سے ہی استفادہ کرنے کی عادت ڈالیں اور کوشش کریں کہ غیر ضروری درآمد نہ کی جائے زندگی کو سادہ اور آسان بنانے کی کوشش کریں اور اپنی ہنر مندی کی بدولت اپنے منفرد کام کو دنیا کو برامد کرنے کی کوشش کریں تاکہ ملک میں زر مبادلہ آسکے۔دوستوں یاد رکھنا ایک وقت آئیگا سب کو اپنے وطن واپس لوٹنا پڑے گا کوئ ملک کسی دوسرے ملک کے شہری کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا عملی مظاہرہ شروع بھی ہو چکا ہے تو بہتر یہ نہیں ہے کہ ہم پہلے سے ہی پیش بندی کر لیں۔سب ایک ساتھ بھائ چارگی سے اللہ کے دئے گئے وسائل سے استفادہ کریں ۔اسراف نہ کریں۔سادگی کو شعار بنالیں۔اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے کی عادت بنا لیں۔اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔@Azizsiddiqui100

ورکنگ وومن تحریر:فاروق زمان
ورکنگ ویمن وہ خواتین ہیں جو گھر سے ملازمت کی غرض سے نکلتی ہیں اور ملازمت کے کسی بھی پیشے سے منسلک ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ملازمت کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جیسے عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہے ورکنگ وومن کو دوران ملازمت اس سے زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کا حصول ایک مشکل کام ہے۔ لیکن خواتین اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے بل بوتے پر ہر میدان میں آگے ہیں۔ ہر جگہ ملازمت کر رہی ہیں لیکن ورکنگ وومن کو اس سب میں بہت سی مشکلات جھیلنے کے ساتھ کئی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ ورکنگ وومن صرف وہی نہیں ہیں جو فیکٹریوں اور آفسز میں کام کرتی ہیں، بلکہ وہ خواتین بھی ورکنگ وومن ہیں جو دیہات اور گاؤں میں گھروں سے نکل کر کھیتوں میں مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔
ورکنگ وومن عام گھریلو خواتین اور مرد حضرات سے زیادہ ذمہ داریاں اور کام کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ ملازمت کے ساتھ گھر کے کام کاج سنبھالنا، بچوں کے کام، خاندان کی ذمہ داریاں، تقریبات، لین دین اور دیگر امور یہ سب عورت کے ذمہ ہوتا ہے وہ مردوں سے کئی گنا زیادہ کام کرتی ہیں۔ جو کہ ایک مشکل زندگی ہے۔ اگر توازن نہ ہو تو ایسی مشکل زندگی تھکاوٹ اور مایوسی کا سبب بنتی ہے۔ ورکنگ وومن دو کشتیوں میں سوار رہتی ہیں۔ گھر کے کام کرتے ہوئے ملازمت کے کام یاد آتے ہیں اور ملازمت کے کام کے دوران گھر کے کاموں کی طرف توجہ بھٹک جاتی ہے۔ ایسے میں ان کا ارتکاز بٹ جاتا ہے۔ اور وہ اپنا کام توجہ سے سرانجام نہیں دے پاتیں۔ گھر اور ملازمت اور گھر کی ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے وہ تھک جاتی ہیں۔ ورکنگ وومن کے لیے کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ چھٹی کے دن بہت سے نظر انداز یا موخر کئے گئے کام توجہ سمیٹ لیتے ہیں۔
۔معاشی بوجھ اٹھانا عورت کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن وہ بہت سی مجبوریوں اور خواہشوں سے مجبور ہوکر معاشی بوجھ بھی ڈھوتی ہیں۔ مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اس سے بڑھ کر کام کرتی ہیں۔ ورکنگ وومن گھر چلانے میں معاون ہیں، کیونکہ آج کے دور میں صرف مرد کی کمائی سے گھر چلانا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ گھر، رشتوں سے جڑے رہنا اور اس کے ساتھ خود کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد ثابت کرتے ہوئے اپنے حصے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنا۔ اور بہتر طریقے سے کردار نبھانا بلاشبہ عورت کے عظیم ہونے کا ثبوت ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر اور ملازمت کی زندگی لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
ورکنگ وومن کے لیے گھر سے نکل کر ملازمت کے لیے جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ورکنگ وومن کو گھر کا آرام سکون چھوڑ کر باہر کی سختیاں جھیلنے کے لئے نکلنا پڑتا ہے، ان کو گھر بار بچے چھوڑ کے ملازمت کی جگہ پر جانا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اکثر اوقات غیر محفوظ طریقے سے سفر کرنا اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا یقینا زہنی جھنجھلاہٹ اور پریشانی کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ ملازمت کی جگہ پر ہراسگی، برے رویے کا سامنا، نا زیبا کلمات و غیر شائستہ باتیں سننا، اخلاق سے عاری لوگوں کا سامنا، برے جملے سن کر برداشت کرنا ورکنگ وومن کی شخصیت کو روند ڈالتے ہیں۔ ملازمت کی جگہوں پر عورتوں کو تحفظ اور عزت و احترام نہیں دیا جاتا۔ لیکن ورکنگ وومن کو چاہیے کہ بہادری کا مظاہرہ کریں، خود مضبوط رہیں، ڈٹی رہیں تو وہ بہت سے محاذوں پر جنگ لڑ سکتی۔ ہیں برے لوگوں کے جملوں اور ہر اسگی کا بلا خوف و خطر سامنا کر سکتی ہیں۔ اپنی بالا دستی کی جنگ جیت سکتی ہیں۔
بہت سی خواتین ضرورتاً اور کئی شوقیہ ملازمت کرتی ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کو غلط کردار کا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کردار پر باتیں کی جاتی۔جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب کا رویہ ان کے ساتھ عجیب سا ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں میں عورتوں کو ملازمت کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بہت سی خواتین کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کو وہ سب کچھ نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ اپنوں کی طرف سے بھی کوئی خاطر خواہ سپورٹ نہیں ملتی۔ ورکنگ وومن کو بھی انسان سمجھیں۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔ وہ مدد اور سہارے کی اتنی ہی مستحق ہیں جتنی کہ گھر میں رہنے والی عورتیں۔ورکنگ وومن کو ویسے ہی عزت و تحفظ دیں۔ جیسے باقی تمام عورتوں کو دیا جاتا ہے۔
مردوں کے معاشرے میں اگر عورتیں کام کر رہی ہیں تو یہ بات نہیں ہے کہ مرد کا کردار اور صلاحیتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں، یا ان پر کوئی شک و شبہ ہے۔ نہیں مرد کا کردار اپنی جگہ مسلم ہے۔ مرد و عورت کے تقابل کے بغیر عورتوں کی صلاحیتوں اور کردار کو سراہا جانا چاہیے اور ان کو عزت اور تحفظ دینا چاہیے۔ عورتوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لئے سازگار ماحول اور بہتر مواقع ملنے چاہئیں۔ اور انہیں ملازمت کی جگہ پر مکمل تحفظ اور آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
@FarooqZPTI

تعفن زدہ معاشرہ اور عورتیں تحریر:-محسن ریاض
کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر چند دوستوں کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں یوم آزادی کے موقع پر رکشے پر سوار دو عورتیں جا رہی ہوتی ہیں کہ اچانک سے ایک درندہ چلتے رکشے پر سوار ہوتا ہے اور بوسہ لے کر فرار ہو جاتا ہے اس منظر کو دیکھنے والے کئی لوگ تھے اور چند لوگ اس کو فلمانے میں مشغول تھے مگر کسی میں بھی اتنی اخلاقیات موجود نہ تھی یا اتنی ہمدردی نہ تھی جو ان کی اپنی ماں یا بہن کی لیے ہونی چاہیے اس لیے کی نے اس درندے کو پکڑنے کی کوشش تک نہ کی بلکہ اس منظر کو دیکھ کر چند اور منچلوں نے اس حرکت کو دوبارہ سرانجام دینے کی کوشش کی لہذا مجبوری اور بے بسی کی حالت میں ایک عورت نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوتا اتار لیا اور ان بزدلوں کو للکارا جس کی وجہ سے وہ یہ حرکت کرنے سے باز رہے اگر وہ اس طرح ہمت نہ کرتی تو شائد یہاں پر بھی مینار پاکستان پر عائشہ کے ساتھ مردوں کی طرف سے اجتماعی بے حرمتی کی گئی وہی مناظر دیکھنے کو ملتے -اس ویڈیو میں ایک اور بات جو ابھی تک میرے دماغ میں اٹکی ہوئی ہے وہ یہ کہ جو نوجوان موٹر سائیکل پر سوار اس ساری واقعے کو فلمانے میں مصروف تھے اگر وہ چاہتے تو باآسانی اس حیوان کو پکڑ سکتے تھے مگر وہ بے حس اس بات پر پچھتا رہے تھے کہ وہ لڑکا جو بے ہودہ حرکت کر رہا تھا وہ بازی لے گیا ہے اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں اگر یہی عمومی رویہ ہے تو شائد ابھی ہمیں انسان بننے کی منزل تک پہنچنے کے لیے کئی صدیاں لگیں-اس ویڈیو میں ایک اور بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ پچھلے چند دنوں میں جو واقعات سامنے آئے ہیں ان کو صرف جوتوں کی زبان ہی سمجھائی جا سکتی ہے اگر اس طرح کہ دو چار اور واقعات میں عورتیں بدتہذیبی کرنے والے دو چار آوارہ گردوں کو جوتے مار دیتی ہیں تو شائد اس طرح کے واقعات میں کمی آ جائے ایک اور بات جس کو کہنے کے لیے شدت سے دل کر رہا تھا مگر ڈر رہا تھا کہ کہنے سے شائد عائشہ اور اس طرح کی دیگر لڑکیوں کو انصاف دلوانے کی جو مہم چل رہی ہے وہ متاثر نہ ہو جائے -وہ بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی تمام انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح تمام مرد بھی ایک جیسے نہیں ہوتے مینار پاکستان میں ہونے والے واقعے میں جو کہ یقیناً ایک بہت ہی بھیانک منظر تھا اور لوگ اس معصوم کو اچھال رہے تھے اور اپنی وحشت کا مظاہرہ کر رہے تھے مگر اس میں چند ایسے مرد بھی تھے جو اس کی مدد کر رہے تھے جس کا اس نے باقاعدہ ذکر کیا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ جو وہاں پر موجود تھے انہوں نے جنگلا ہٹایا تاکہ وہ چند شرپسند عناصر جو نازیبا حرکات کر رہے تھے ان سے محفوظ ہونے کے لیے اندر آ جائے اور ان میں وہ مرد بھی شامل تھے جو اس کے فالورز تھے اور اس کے ساتھ ویڈیو بنانے کے لیے آئے ہوئے تھے اور کچھ اس کے ساتھ ویڈیو بنا چکے تھے مگر کچھ بھی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا بلکہ اچانک چند نوجوانوں پر مشتمل ایک گروہ سامنے آیا اور اس نے اس طرح کی حرکات شروع کر دی لہذا تمام مردوں کو اس میں مورد الزام ٹھہرانا ہر گز مناسب نہیں اس کے بعد وکٹم بلیمنگ کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اس نے پہلے سے موجود منصوبے کے تحت یہ ساری کاروائی سرانجام دی ہے تاکہ شہرت حاصل کی جاسکے جبکہ یہ دلیل بھی جا رہی ہے کہ وہاں پر موجود تمام لوگ بےگناہ تھے تو یہ بات ماننے کو بھی دل تیار نہیں ہے اگر یہ باتیں مان بھی لی جائیں تو کیا رکشے میں سوار خواتین بھی مشہور ہونے کے لیے یہ سب کررہی ہیں خدارا انسان بن جائیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور ہماری عورتیں اپنے آپ کو اس ملک میں محفوظ تصور کریں-
تحریر-محسن ریاض
ٹویٹر-mohsenwrites@
سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان
اکیسوی صدی میں دنیا نے تیزی سے کی ترقی پہلے فاصلے طے کرنے کے لئے پہلے دنوں اور مہینوں کا سفر کرتے تھے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی نے یہ فاصلے سکینڈ کے کر دئیے ہیں پہلے رابطوں کا سلسلہ خط و کتابت سے ہوتا تھا پھر اس کی جگہ ٹیلی فون نے لے لی مواصلاتی سروس کا آغاز کیا گیا جس میں چند لفظوں پر مشتمل مختصر پیغام بھیجا جا سکتا ہے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے اپنی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا پہلے حساب کتاب تحریری طور پر رکھا جاتا تھا پھر اس کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی جس میں تمام ڈیٹا محفوظ کیا جانے لگا۔
انٹرنیٹ کے آغاز سے دنیا سمٹ گئی فاصلے مٹ گئے اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے ہم مختلف ایپلیکشنز کے ذریعے ویڈیو کالز سے ہم اپنے عزیز و اقارب سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
گذشتہ پچاس سال ٹیکنالوجی کے عروج کے سال مانے جاتے ہیں ہماری نسل اس دور سے تعلق رکھتی جس نے جدید ٹیکنالوجی کا ہر دور اور اس میں آنے والااتار چڑھاﺅ بڑے قریب سے دیکھا ۔
ٹیلی ٹیکس نیٹ ورک ایک ٹیلیفون نیٹ ورک کی طرح ٹیلی پرنٹ کرنے والا عوامی سوئچ شدہ نیٹ ورک تھا ، جو متن پر مبنی پیغامات بھیجنے کے مقاصد کے لئے تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں کاروبار کے مابین الیکٹرانک طور پر تحریری پیغامات بھیجنے کا ایک بڑا طریقہ ٹیلی کام تھا۔ اس کا استعمال زوال پذیر ہوا کیونکہ 1980 کی دہائی میں فیکس مشین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
ٹیلی پرنٹر سے G 5 تک کا سفر کوئی بہت طویل نہیں یہ صرف گذشتہ پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اخبارات میں ٹیلی پرنٹر پر نیوز ایجنسیوں کی خبریں اور ٹیلیکس پر پیغامات اس کے بعد فیکس مشین کی آمد کو جدید ترین تصور کیا گیا لیکن 2 G سے 3 G کی سیریز نے دنیا کو یکسر تبدیل کر کے رکھا دیا ہے اب سماجی رابطوں ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔
سوشل میڈیا وہ ڈیجیٹل ٹول ہے سوشل میڈیا سستا اور آسان رابطے کا ذریعہ ہے جو صارفین کو عوام کے ساتھ جلدی سے مواد تیار کرنے اور ان کا اشتراک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپس کی ایک وسیع رینج رکھتا ہے کچھ ، جیسے ٹویٹر ، روابط اور مختصر تحریری پیغامات کو بانٹنے میں مہارت رکھتے اس وقت دنیا میں بے شمار سائٹس موجود ہیں جن کے ذریعہ سوشل میڈیا یا نیٹورکنگ کا حصول ممکن ہے۔تاہم چند ایک سوشل میڈیا کمپنیاں ہیں جن کو اس سلسلہ میں خاص مقام حاصل ہے مثلا فیس بک، ٹویٹر، سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، پن ٹرسٹ وغیرہ۔ یہ تقریبا ناممکن ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کو ان سے واقفیت نہ ہو۔ اب ہم ان کے مقاصد پر مختصر بات کرے گے تاکہ صارفین کو ان سے متعلق آگائی میںآسانی ہو کہ وہ کس سائٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
فیس بک سوشل نیٹورکنگ کے حوالے سے سرفہرست ہے بنیادی طور پر اس کا مقصد آپ کو اپنے دوست احباب سے رابطے میں مدد دینا ہے آپ اپنے روز مرہ کے معمولات یا خاص مواقع ان کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں چونکہ اس کے صارفین کی تعداد بہت بڑی ہے اور اس کے ذریعہ خبر بہت جلدی پھیلتی ہے لہذا اس میں آپ کسی قسم کے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتے ہیں۔ چند بنیادی فیچرز میں ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز، ٹیگ، آڈیو/ویڈیو چیٹ، گروپ چیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
اگرچہ کوئی بھی فرد سوشل میڈیا کے لئے سائن اپ ہوسکتا ہے ، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہر قسم کے کاروبار کے مارکیٹنگ کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ کامیاب سوشل میڈیا ورکزبنے کی کلید یہ ہے کہ اس کو کسی اضافی ضمیمہ کی طرح نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی خاص خیال احترام اور توجہ کے ساتھ استعمال کیا جائےجس کی آپ اپنی ساری مارکیٹنگ کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کاروباری اداروں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہئے۔
ٹویٹر فیس بک سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ایک تو اس میں پیغام کی ایک حد مقرر ہے جو کہ تقریبا 165 حروف پر مشتمل ہے دوسرا اس میں آپ کاسوشل سرکل فرینڈس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ آپ مختصر پیغام ،تصاویر، متحرک تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن ان دنوں ٹویٹر کا استعمال ہمارے سب نیوز چینلز سیاست دانوں اور مشہورشخصیات میں ہونے لگا ہے یہ ابلاغ کا مو ¿ثر و مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ آپ کسی بھی شخصیت کو فالو کر کے اس کے پیغامات کی اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ری-ٹویٹ کے ذریعہ آگے پہنچا سکتے ہیں۔ ٹویٹر کو کسی حد تک خبروں کا آفیشل ذریعہ مانا جاتا ہے۔انسٹا گرام تصاویر اور ویڈیوز کا تیز ترین سوشل نیٹورک ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ استعمال میں سہولت، فوٹو فلٹرز مہیا کرنا اور دیگر سوشل نیٹورکس پر آسان شئیرنگ ہے۔
ایک سروے رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سے براہ راست ا?ن لائن کاروبار کی نمائش سے آمدنی میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ ممکن ہے کیونکہ بذریعہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ایک محدود پیمانے پر اشیاءکو پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پروڈکٹ متعارف ہو جاتی ہے۔ گوگل کی پیش کردہ اشتہاری مہم نے ان لائن کمائی اوراشتہارات کا کافی فروغ دیا ہے۔
انٹرنیٹ انقلاب کا ایسا دور ہے جس نے سوچ اوراظہار ران کا عالمی منظر نامہ بدل دیا۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی نصف سے زائد آبادی 56.1 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد 37تقریباملین ہے جو کل آبادی کا تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مما لک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی شرح میں کافی فرق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں انٹرنیٹ صارفین کی شرح 81فیصد ہے۔ دو ہزار ا ٹھا رہ کے اعدادو شمار کی مطابق دنیا میں 100ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریبا اکیس فیصد موبائل انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔موبائل سبسکرپشن 150 ملین سے زائد ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار انیس تک موبائل سبسکرپشن میں آٹھ ملین کا اضافہ ہوا۔دنیا میں کتنے لوگ آن لائن ہیں ؟ کیا مرد اور عورتیں یکساں تناسب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں ؟۔ خواتین انٹرنیٹ صارفین کی تعداد مردوں کی نسبت تقریبا250ملین کم ہے۔خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی کمائی کے ذرائع بھی بڑھا رہی ہیں۔ بالخصوص فیس بک پیجز اور انسٹا گرام کے ذریعے مختلف بزنس کر رہی ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی موجودگی معاشرے میں خواتین کی حیثیت میں مثبت تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے۔
خواتین آرٹ کلچر سے لے کر سرمایہ کاری اور انجینرنگ جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ وہ ادارے جو خواتین کی معاشرے میں حیثیت منوانے کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر خواتین کی براہ راست شمولیت کو بڑھانے پر توجہ دینی ہو گی سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے تحقیق سے پہلے ہی خبر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے جالی اکاونٹس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے لیکن جہاں سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کا غیر ضروری استعمال بھی کیا جا رہا ہے سنسنی خیزی بھی پھلانے کی بھی کوشش کی جاری ہے بے معنی عام اظہار ،ناشائستہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں اس لئے ہمیں اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے خبر دار رکھنا ضروری ہے جو سوشل میڈیا پر فساد،بدعمنی،لڑائی جھگڑے اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں ہمیشہ سماجی و یب سائٹس پر اچھی اور حق و صداقت پر مبنی خبریں شیئر کریں جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکانٹس رکھنے والوں کو کڑی سزا دے، لہذا ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کرنے چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھ سکے۔
وفاقی حکومت نے ٹوئٹر، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک کر دیا جائے گا اور تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتاکہ فیس بک یا یوٹیوب جیسی بڑی کمپنیاں پاکستانی قانون کی وجسے یہاں اپنے دفاتر کھولیں اور سٹاف رکھیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت سوشل میڈیا نیٹ ورک پر پابندی لگاتی رہی ہیں۔نئے رولز کا مقصد ’سکیورٹی ادروں اور ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔
email : saima.arynews@gmail.com
Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6
معاشرتی اقدار نشانہ پر ہیں تحریر: آصف گوہر
"آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن ( یعنی جن کی مخالفت ) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو ۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کا خون کرنا اللہ تعالٰی نے حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو ۔”
سورة الأنعام 151
گزشتہ چند روز میں دو واقعات ایسے ہوئے جنہوں نے ہمارے خاندانی معاشرتی نظام بارے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ پہلا واقعہ ایک ایلیٹ کلاس کی نوجوان لڑکی جو اپنے بوائے فرینڈ کے گھر پر
سربریدہ پائی گئ مذکورہ واقعہ کا فوری نوٹس لیا وزیر اعظم عمران خان نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر کے خود ہدایات جاری کیں ملزم گرفتار ہوا اور اب زیرتفتیش نے ۔ اس بارے کوئی ابہام اور دو رائے نہیں ہے کہ مجرم کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے ۔ اب اس واقعے کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ والدین نے اپنی بچی کو اتنی آزادی کیوں دی کے وہ ایک غیر محرم کے ساتھ انتہائی میں وقت گزارے اس چیز کی اجازت نہ تو ہمارا معاشرہ دیتا ہے اور نہ ہی ہمارا مذہب ۔ اس پر جب سینئر صحافی عمران ریاض نے یہی بات کی کہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا اس کے قاتل کو کڑی سزا دی جائے لیکن اس میں قصور والدین کا بھی ہے کہ کیوں اپنی بیٹی کی تربیت نہیں کہ ہمارا معاشرہ نامحرم کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت نہیں دیتا یہ غلط ہے عمران ریاض کا اتنا کہنا ہی تھا کہ خونی لبرل نے ان پر ہر جانب سے ہدف تنقید بنا لیا۔دوسرا واقعہ اقبال پارک لاہور میں چودہ اگست جشن آزادی والے روز سامنے آیا واقعہ کے دو روز گزرنے کہ بعد سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوتی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مردوں کا بےقابو ہجوم کہ نوجوان لڑکی سے دست درازی کر رہا ہے۔ انتہائی شرمناک اور ناقابل معافی جرم ہے ملوث افراد کو نشانہ عبرت بنایا جائے پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار نے نوٹس لیا مقدمہ درج ہوا متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کی اور پولیس کے اعلی آفیسرز کو غفلت برتنے پر عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے مزید جدید ذرائع سے پولیس اور نادرا حکام کی ملزموں کی شناخت کے بعد گرفتاریاں جاری ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ لڑکی ٹک ٹاکر ہے اور اس نے اپنے ساتھی لڑکے سے مل کر لوگوں کو چودہ اگست والے روز مینار پاکستان آنے کی دعوت دی کہ ہم کچھ خاص کرنے جا رہے ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق پہلے وہاں پر فلائنگ کسز کا تبادلہ بھی ہوا۔ ان حالات میں نوجوانوں لڑکوں اور مردوں کو موقع خود فراہم کیا گیا۔لیکن اس سب کے باوجود اس میں کوئی اگر مگر لیکن نہیں ہجوم کو کوئی حق نہیں کہ خاتون سے دست درازی پر اتر آئے مذکورہ بالا دونوں واقعات نے سوسائٹی کو دو طبقوں میں تقسیم کر دیا دونوں طبقات ان واقعات کی شدید مذمت تو کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک طبقہ کا کہنا ہے کہ ان دالخراش واقعات کے محرکات پر بھی غور کیا جائے کہ کیوں یہ واقعات پیش آئے کچھ لوگ اس کیوں کو "متاثرہ کو مورد الزام ” ٹھہرانا کہ رہے ہیں اور سوال کرنے والوں کے لتھے لے رہے ہیں ۔
گذشتہ رات ایک نیوز کاسٹر سے صحافی بننے والی خاتون نے نئ بحث چھیڑ دی کہ ماں باپ اپنے لڑکوں کو” Consent” کے بارے بتائیں کہ رضامندی کے تحت جو چاہیں وہ صنف مخالف کے ساتھ کر سکتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور اسلام نے زنا بالجبر اور زنا بالرضا دونوں کو حرام قرار دیا ہے ۔کبھی بغیر نکاح کے اکٹھے رہنے اور تعلقات رکھنے بارے بات کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ایک ایسا طبقہ سامنا آ چکا ہے جو اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے لیکن حقیقت میں وہ خونی اور متشدد لبرل بن چکے ہیں جو اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کی رائے کو سننے کے بھی روادار نہیں ہیں ۔
پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا یہاں پر اسلام نے آباد رہنا ہے اس لئے جو بھی ہماری معاشرتی اقدار کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا عوام اس کا محاسبہ بھی کریں گے اور ان کے پوشیدہ عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔
@Educarepak
پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء
پروفیسر فتح محمد ملک جیسے عظیم دانشور ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کرتے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال اور قائد کے نظریہ سے روشناس کرتے ہیں۔ اور نظریہ پاکستان اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف اعتدال پسند پروفیسر جنکی محفل آپ کو گھنٹوں علم سے بھرپور گفتگو سننے پر مجبور کردے اور اختتام پر آپ کا دل پروفیسر صاحب کی علمی و ادبی نشست چھوڑنے پر اگلی بیٹھک تمنا رکھے۔
تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان، اقبال اور قائد اعظم بارے علم سے سرشار ایسا انداز بیان کے آپ انکی سادہ گرفتار کے اسیر ہوجائیں۔ فتح محمد ملک کی زبان و بیان اور عمل و فکر سے ناصرف اقبالیات جھلکتی ہے بلکہ قائد اعظم کا پاکستان اور وسیع النظر اسلامی سوچ کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے۔
پروفیسر فتح محمد ملک 18 جون 1936 کو ضلع چکوال تحصیل تلہ گنگ کے چھوٹے سے گاؤں ٹہی میں ایک غریب کسان ملک گل محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ والد کی تعلیم میٹرک تک تھی لیکن وہ انہیں ہمیشہ تقاریر، مناظرے اور علمی مجالس میں لے جاتے تھے۔ اور گھر میں بھی بچوں کیلئے کتب رکھی ہوئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فتح محمد ملک کو کالج میں داخلہ کرانے کا وقت آیا تو اس وقت جو آپشن تھا اس میں راولپنڈی کا گارڈن کالج، زمیندار کالج گجرات، گورنمنٹ کالج چکوال اور گورنمنٹ کالج کیمل پور یعنی اٹک تھا۔ لیکن ملک گل محمد نے کیمل پور کالج کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں ڈاکٹر غلام جیلانی برگ اور پروفیسر محمد عثمان جیسے ہونہار اساتذہ تھے۔اب آپ اندازہ لگائیں کہ اس زمانے میں پروفیسر صاحب کے والد گرامی نے عمارت یا فاصلے کو نہیں دیکھا بلکہ یہ دیکھا کہ وہاں تعلیم کون دے رہا ہے جہاں ملک صاحب کے ہم جماعت شفقت تنویر مرزا اور منو بھائی تھے۔ بعد ازاں جب ملک صاحب روالپنڈی کالج ایم اے کرنے کیلئے آئے تو وہاں منو بھائی اور شفقت تنویر مرزا کے ساتھ مقامی اخبار روزنامہ تعمیر میں ملازمت بھی کی جس کے ایڈیٹر محمد فاضل تھے۔ پھر تینوں بیروزگار ہوگئے تو یہ دوست تقریباً بائیس دن تک لیاقت باغ میں سوتے رہے کیونکہ ان کے پاس بیروزگاری کے سبب رہنے کی جگہ نہیں تھی اور سامنے ایک چائے والا تھا جس کے ساتھ کنٹریکٹ کیا گیا تھا کہ وہ انہیں چائے اور رس دے گا یعنی انہوں نے مسلسل بائیس روز تک بنا روٹی کے چائے اور رس پر کھلے آسمان تلے گزارا کیا۔
اس دوران ریڈیو پاکستان کے کمپیئر طارق عزیز مرحوم کچھ دنوں کیلئے بیمار ہوگئے تو انہوں نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری جگہ آپ آجائیں اور خبریں پڑھیں اور منو بھائی کو سکرپٹ رائٹر بنا دیا گیا۔ پھر جب انہیں تنخواہ کا چیک ملا اور یہ پیدل آرہے تھے اور اس وقت ریڈیو پاکستان پشاور روڈ پر ہوا کرتا تھا تو راستے میں ہوٹلوں پر تکہ کڑاہی اور گوشت بنا نظر آیا تو فتح ملک نے ہاتھ پکڑ کر منو بھائی مرحوم سے کہا اس طرف نہیں دیکھنا بلکہ پہلے اپنے اس محسن چائے والے کا ادھار چکانا ہے کیونکہ اس نے بائیس دن تک ہمارے ساتھ تعاون کیا۔
پروفیسر فتح محمد ملک نے اردو اور انگریزی زبان میں درجن بھر کتب لکھی ہیں، جن میں “تعصبات، انداز نظر، تحسین و تردید، فلسطین اردو ادب میں، اقبال فکر و عمل، اقبال فراموشی، اقبال اسلام اور روحانی جمہوریت، فیض شاعری اور سیاست، ن م راشد شخصیت اور شاعری، منٹو ایک نئی تعبیر، ندیم شناسی، انتظار حسین شخصیت اور فن، انجمن ترقی پسند مصنفین، فیض کا تصور انقلاب، اردو زبان ہماری پہچان، پاکستان کا روشن مستقبل، اقبال کی سیاسی فکر، پاکستان کے صوفی شعرا، پنجابی شناخت، اسلام بمقابلہ اسلام” وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ جتنی بھی کتابیں ہیں ساری اکٹھی کرکے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے دو جلدوں میں چھاپی ہیں جن میں ایک کا نام “آتش رفتہ کا سراغ” اور دوسری “کھوئے ہوؤں کی جستجو” ہے۔ یعنی یہ دو کتابیں باقی تمام کتب کا مجموعہ ہیں۔اس کے علاوہ مصنف و قلم کار محمد حمید شاہد نے پروفیسر فتح محمد ملک کی زندگی پر “پروفیسر فتح محمد ملک شخصیت اور فن” کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی ہے اور انہوں نے پروفیسر صاحب کے مزاج اور عظمت کو یہ کہہ کر جیسے دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ: "علامہ محمد اقبال نے نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو جیسے پروفیسر فتح محمد ملک بارے کہا تھا۔ یہ ایسی عظیم اور اعلی طبیعت شخصیت ہیں جس کی کوئی مثال نہیں۔”
پروفیسر فتح محمد ملک کی شادی اپنے آبائی علاقہ عطا اللہ شاہ بخاری کے احراری خاندان کی ذکیہ ملک سے ہوئی تھی جو پڑھی لکھی اور انتہائی عظیم خاتون تھی جن کی تربیت ان کے چاروں بچوں میں جھلکتی ہے، جس میں محمد طارق ملک موجودہ چیئرمین نادرا، پروفیسر طاہر نعیم ملک نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج اسلام آباد، اور پروفیسر ڈاکٹر عدیل ملک آکسفورڈ یونیورسٹی لندن جبکہ چھوٹی بیٹی سعدیہ ملک بھی پروفیسر ہیں۔
فتح محمد ملک کی رفیق حیات ذکیہ ملک ایک ہاوس وائف خاتون تھیں جو بیماری میں مبتلا ہو کر 1995ء میں جہان فانی سے کوچ کرگئی تو فتح محمد ملک کو رشتہ داروں اور احباب نے مشورہ دیا کہ آپ دوسری شادی کرلیں لیکن ملک صاحب نے انہیں یہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ: "یہ تو بہت بڑی زیادتی ہوگی کہ میرے دل میں کوئی اور ہو اور گھر میں کوئی اور۔”
پروفیسر صاحب پر نمل یونیورسٹی، بہاولدین زکریا یونیورسٹی، اور بہاول پور یونیورسٹی میں تین ایم فل ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں اردو یونیورسٹی میں ان کی علمی، ادبی خدمات پر پی ایچ ڈی کا ایک تھیسس بھی لکھا گیا ہے۔ اور علم و ادب کی بے پناہ خدمات پر 2006 میں ستارہ امتیاز، 2017 میں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ سمیت مختلف اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ ناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی جامعات سے بھی آپ وابستہ رہے۔ جن میں کولمبیا یونیورسٹی، ہیڈلبرگ یونیورسٹی، ہمبولٹ یونیورسٹی، سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی شامل ہیں۔
پروفیسر صاحب نے ہمیشہ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے نظریات کو اہمیت دی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان سے پہلے نیا پاکستان بنانے کا عزم ذوالفقار علی بھٹو بھی سامنے لائے تھے لیکن ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقیقی پاکستان کا تصور پیش کیا جائے کیونکہ اس پاکستان کا خواب علامہ اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا۔ اور جس پاکستان کیلئے انہوں نے دن رات انتھک محنت کی تھی۔ اور وہ اپنے نظریات کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ حقیقی پاکستان بنانے کیلئے سب سے پہلے پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا جائے۔ سردار اور وڈیرا نظام شاہی وہ چاہے کہیں بھی ہو ختم ہوگا تو عام عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملیں گے۔
قائداعظم نے سب سے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ: نسل، رنگ اور لسانی تصورات کے تعصبات کو ختم کیا جائے۔ ایک دفعہ تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم ایک بہت بڑے جلسے کی قیادت کررہے تھے تو ان کے کان میں ایک آواز سنائی دی کہ حضرت مولانا قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد اس پر انہوں نے جلوس کو روک کر نعرہ لگانے والوں کو مخاطب کر کے انگریزی میں کہا میں آپ کا مذہبی رہنما نہیں بلکہ سیاسی رہنما ہوں، اس لیے مجھے مولانا نہ کہیں۔
پروفیسر فتح محمد ملک کہتے ہیں کہ: کاش جنرل ضیاء جیسی ذہانت کے لوگ اس جلسہ میں شریک ہوتے اور قائد کے اس فرمان سے سبق اندوز ہوتے۔
ہمارے ہاں موسیقی کو اسلام سے دوری سمجھا جاتا ہے لیکن پروفیسر صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ میں ہیڈلبرگ یونیورسٹی میں ایک کلاس میں پڑھا رہا تھا جس میں اس سمسٹر کا مضمون تھا Muslim thoughts and South Asia تو وہاں ایک خاتون مجھ سے ملنے آئی اور وہ گیٹ پر میرا انتظار کررہی تھی، میں جیسے باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ جناب میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی اور بتانے لگی "میں میڈکل کی طالبہ ہوں۔” انتظار کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی مجھے آپ کی اجازت چاہئے تاکہ آپ کی کلاس میں، میں بھی بیٹھ سکوں؟ کیونکہ میں اسلام سے متعلق جاننا چاہتی ہوں۔ جس پر میں نے انہیں کہا خوش آمدید، ضرور آئیں اور پھر اس نے اپنا ایک واقع سنایا کہ: میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک پب میں بیٹھی تھی اور وہاں ایک میوزک لگا ہوا تھا اور اتنا لطیف میوزک تھا، بہت اعزاز کی کیفیت تھی۔ خیر میں نے سمجھا کہ شائد میں زیادہ (شراب) پی گئی ہوں اس لیے یہ کیفیت ہے۔ لیکن دوسری صبح میں نے سوچا اب دوپہر کو جاونگی وہاں دوپہر کا کھانا کھاوں گی اور ان سے اسی موسیقی کی فرمائش کروں گی۔ تو انہوں نے جب وہ میوزک لگایا تو وہی کیفیت وہی وجد طاری ہوگیا تو میں حیران ہوئی اور ان سے جاکر پوچھا کہ: یہ کس ملک کا میوزک ہے اور یہ موسیقار کون ہیں تو انہوں نے کہا یہ پاکستانی میوزک ہے اور نصرت فتح علی خان وہاں کے بہت بڑے موسیقار ہیں یہ ان کی گائیکی ہے۔ پھر میں نے کہا یہ پاکستان سے کسی کو کہہ کر منگوانا پڑے گا، جس پر جواب ملا نہیں باہر جاکر کسی موسیقی کی دوکان پر یہ نام بتائیں اور آپ کو مل جائے گا۔ میں نے جاکر خرید لیا اب یہ سنتی ہوں اور بہت لطف اندوز ہوتی ہوں اور پھر سوچا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کچھ سمجھ ہونی چاہیے۔ اور میں اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں۔
جہاں پر پروفیسر صاحب نے وضاحت کی موسیقی بھی اللہ کی دین ہے اور یہ سننے اور گانے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس زاویہ سے سنتا ہے۔
ملک صاحب نے ناصرف اقبال کے نظریہ پر چلتے ہوئے اس ملت کو بحث تنقید بنایا جس کے بارے میں اقبال نے فرمایا تھا کہ “نیم حکیم خطرہ جان؛ نیم ملا خطرہ ایمان، دین کافر فکر و تدبیر و جہاد، دین ملا فی سبیل اللہ فساد” بلکہ جب فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو نے آپ ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کئے تو اس سے متعلق ایک مضمون بعنوان ” آزادیء اظہار یا آزادی آزار” لکھا اور اس میں متذکرہ بالا جریدے اور فرانسیسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو صحافتی دہشت گردی قرار دیا اور فرانسیسی قیادت کو اس قبیح حماقت پر ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری جیسے القابات سے مخاطب کیا۔ اور یہ مضمون مصنف کی کتاب “چچا سام اور دنیائے اسلام” میں بھی موجود ہے۔
قارئین آپ کو ان کی تحاریر پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ یہ مذہبی انتہاپسندی اور لبرل فاشزم دونوں کے خلاف ہیں ایک اعتدال پسند یعنی پروگریسو مسلمان ہیں۔ تبھی تو ان کی مسلسل یہی کوشش رہی ہے کہ نئی نوجوان نسل میں وہ اپنی قلم کے ذریعے حقیقی پاکستان، اسلام اور علامہ اقبال و قائد کی روح پھونک سکیں۔ چونکہ نوجوان نسل ہی قوم و ملک کا مستقبل ہوتی ہیں تو اگر ان کے دل اقبال اور قائد کے فکر و عمل سے صحیح معنوں میں سرشار ہونگے تو تب جاکر کہیں حقیقی پاکستان کا تصور عمل میں لانا ممکن ہوگا۔
پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی عمر اب 85 سال کو پہنچ گئی جس میں 55 سال اور علم ادب کی خدمات میں گزرگئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لہذا اس عظیم دانشور کی بے بہا خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یہ تحریر بالکل ناکافی ہے کیونکہ یہ احقر ایک علم کے پہاڑ کے سامنے مٹی کا ایک زرا ہے۔ بس دعا ہے کہ اللہ تعالی ایسے دانشوروں کا سایہ ہم طلبہ اور انکے بچوں پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین
پیار، محبت اور عشق میں فرق تحریر محمد احسان ارشد
”
عنوان سے پتہ لگ گیا ہو گا آج کس پر تحریر لکھنے والا ہوں آج کے موضوع سے کچھ اپنے حقائق بیان کروں گا کہ پیار، عشق اور محبت کیا ہیں؟ کیا یہ ایک ہی احساس کا نام ہے؟
آج لوگ ایک دوسرے کو پسند کرنے کو پیار عشق اور محبت کا نام دے دیتے ہیں جو کے مکمل طور پر بے بنیاد ہے اگر ان کے حقائق پر جائے تو بہت کچھ پتہ چلتا ہے جیسے
پیار مطلب حاصل شدہ
محبت مطلب رشتوں کا جوڑنا یا جوڑ دینا
عشق مطلب لاحاصل
1- پیار
لفظ پیار اصل میں دانائی کے مطابق پیار کا مطلب حاصل شدہ مواد ہے جیسے کوئی چیز یا انسان کو پانے کی حد تک جدوجہد کرنا اس میں مخلص رہنا وہ سب کرنا جس سے اس کو پانے کی آرزو زیادہ ہو. لیکن حاصل ہونے والا مواد یا انسان اس کے بعد اس رشتہ میں احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے. اور یہ ایک عام بات ہے کیونکہ آپ نے وہ چیز پانےکی حد تک کا سفر کرنا تھا سفر بعد کا نہیں. اس پیار کو محبت کہنا غلط ہو گا
2- محبت
محبت ایک لفظ ہے اور جب آپ اس لفظ کا ستعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپکی اس لفظ سے آشنائی ہے. اگر یہ کہا جائے کہ بینائی کیا ہے؟ تو پھر اسکا جواب یہ ہے بینائی دیکھنے والی چیز ہے. اسی طرح محبت جو ہے وہ محبت ہے اگر آپ محبت کی تعلیم دے رہے ہیں تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ محبت کی کوئی تعریف نہیں ہو سکتی. پہلی بات جو انسان محبت سے آشنا نہ ہو وہ سمجھنے سے قاصر ہے اور جو آشنا ہے اسے محبت کی سمجھ ہی نہیں آئے گی کیونکہ محبت کو آپ ماپ نہیں سکتے اور اس کی کوئی تعریف نہیں.
جو محبت کی تعریف اور اس احساس کو جانتا ہے وہ محبوب سے دور ہے. بہر حال محبت میں ایک چاہنے والا اور ایک چاہا والا ہوتا ہے ان دونوں چاہنے والے اور چاہے جانے والے کے درمیان رشتہ کو ” محبت” کہتے ہیں. محبت میں دو انسان کا ہونا لازمی ہے ایک ” محب” اور دوسرا "محبوب” تب اس تعلق کا نام محبت بنتا ہے. مزید اگر محبت کو اپنی دانائی سے بیان کرو تو محبت کا مطلب جوڑنا یا جوڑ دینا بھی ہے محبوب اور محب کا ملنا ہی محبت نہیں بلکہ اس رشتہ کو اسی احساس سے لے کر چلنا اور اسی احساس میں محبت کے دائرے کو وسیع کرنا رستوں کے بندھن کو جوڑئے رکھنا اگر محبت کہا جائے تو غلط نہیں
3- عشق
کسی نے کسی سے دل لگی کی تو اس کو پیار عشق محبت کا نام دے دیا جاتا ہے. اصل میں عشق کے معانی ہی” لاحاصل” کے ہیں.
لاحاصل مطلب کسی ایک انسان کی قربت اس کے احساس اس کے جنون اسکی محبت اسکی تمنا میں اپنے آپ کو فنا کر دینا زندہ رہنا باعث اس کے لیے دنیا کی دنیاداری سے الگ رہنا. عشق میں آپ کی زندگی ایک انسان کی قربت میں گرز جاتی ہے جسکا آپ کو ہر ایک اچھا پن یا برا پن ہونے کا احساس ختم ہو جائے وہ عشق ہے. اس کرہ ارض پہ ایک انسان آپ کی دنیا بن کے راہ جاتا ہے دنیا کے لیے چاہیے وہ فنا ہو چکا ہو آپ کے لیے آپ کے عشق نے اسے آب حیات جیسے پلایا ہو. جیسے عشق کی مثال دی جائے تو دیکھو ان فقیروں کو درویشوں کو ملنگوں کو بابا بلھے شاہ ہیر رانجھا یا پھر لیلیٰ مجنوں کو. ان میں کسی نے انسانوں میں اپنا اپ فنا کیا اور کسی نےرب سے لو لگا کے فنا ہوئے لیکن اس عشق کی دوڑ میں کامیابی وہی پایا جس نے عشق اس پاک ذات سے کیا.
سوال یہ ہے کیا پیار عشق محبت کرنا جائز ہے؟ تو جواب ہے اس میں گناہ نہیں شرط اگر من پاک ہے اگر محبت گناہ ہوتی تو نا کرتا میرا سوہنا رب اپنے محبوب سے اور نا بنتی اس کے عشق میں یہ کل کائنات.
عشق اندھا ہے محبت پاک ہے پیار منزل ہے ارمان ہے
اپنے مراسلے کے اختتام پر ایک پنجابی شعر لکھو گالیلیٰ نے کیتا سوال میاں مجنوں نوں
تیری لیلیٰ تے رنگ دی کالی اے
دتا جواب میاں مجنوں نے
تیری اکھ نہ ویکھن والی اے
قرآن پاک دے ورق چٹے
اتے لکھی سیاہی کالی اے
چھڈ وے بلھیا، دل دے چھڈیا
تے، کی کالی، کی گوری اےTwitter @OfficalihsanMg

14 اگست لاہور واقعہ کا مجرم کون؟؟؟ تحریر: نعیم عباس
جہاں دنیا میں بہت سے کاروبار آنلائن ہوچکے ہیں تاکہ انکی مصنوعات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے اور وہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں بالکل اسی طرز پر جسم فروشی اور بازار حسن نے بھی اپنا کاروبار ٹک ٹاک اور دوسری ایسی سوشل سائٹس پر اونلائن کردیا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مشہور ہوکر فینز کی صورت میں اپنے کسٹمرز بنائیں اور اس بنا پر زیادہ پیسہ کمائیں.
ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے جہاں شہرت اور پیسے کی خاطر لوگوں نے اپنی تمام حدود و قیود کو پس پشت ڈال دیا. اسی طرز کا واقعہ لاہور میں مینار پاکستان پر دیکھنے کو ملا جب ایک ٹک ٹاکر نے اپنے کسٹمرز (فینز) کو 14 اگست یوم آزادی پاکستان کے دن میٹ اپ (کاروباری تشہیر) کے لئے مدعو کیا جہاں وہ خود جلوہ آفروز ہوکر اپنی اداؤں سے اپنے فینز کی آنکھون کو سیراب کریں گی.
ایک بات یاد رکھیں کہ جیسی چیز ایک کاروباری کمپنی فروخت کرنے کیلئے بناتی ہے اسکے خریدار بھی ویسے ہی ہوتے ہیں مثلا جوتوں کی پالش وہی خریدا گا جس گاہک کے پاس جوتے ہوں گے. چپل پہننے والا کیوں پالش خریدے گا. یونہی شراب پینے والا شراب خریدتا ہے اور کمپنی اسی کیلئے شراب بناتی ہے. عام بندہ جو شراب پیتا ہی نہیں وہ کیوں شراب خریدا گا.
بالکل اسی طرح لڑکی کے اعلان پر وہاں مساجد کے امام, یا صوم وصلات کے پابند لوگ تو نہیں آئیں گے نا. ظاہر ہے وہی آئیں گے جنکو لڑکی صرف استعمال کی چیز لگتی ہے. جن کا مقصد صرف اپنی ہواسیر کی بیماری کی تسکین ہے. اور پھر وہی ہوا کہ اس لڑکی کے تشہیری اعلان کے بعد اسی طرح کے اوباش,لفنٹر,ننگ خلقت, بازارو, متنفر ذہنیت کے حامل,تعلیم و تربیت سے نالاں افراد کا ہجوم اس لڑکی (پروڈکٹ) کے گاہک کے طور پر جمع ہوئے اور انہوں نے وہی کیا جس مقصد کیلئے وہ اس لڑکی کی فین لسٹ میں موجود تھے یعنی کسٹمر بنے تھے. اب اس صورتحال کو پیش نظر رکھا جائے تو قصور وار کون ہوگا یہ فیصلہ آپ سمجھدار لوگ خود کرسکتے ہیں.
میں ہرگز اس چیز کے حق میں نہیں جو اس لڑکی کے ساتھ کیا گیا اور اس بات کی اپیل ہے کہ ان اوباش لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان چند ایک کو سزا دینے پر ہی اکتفا نا کیا جائے بلکہ اس ٹک ٹاک جیسے بیہودہ سوشل میڈیا سائٹس جہاں دن رات جسم فروشی کا کاروبار گرم رہتا ہے اس پر بھی روک تھام لگائی جائے وگرنہ تاریخ پھر خود کو دہرائی گی پھر کسی اور 14 اگست یوم آزادی پاکستان جیسے مبارک دن ایک ٹک ٹاکر اور اسکے چند آوارہ گندی ذہنیت کے گاہک(فینز) پوری قوم کو دنیا کے سامنے شرمندہ کر دیں گے.
@ZaiNi_Khan_NAK







