Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    تربیت امت کے گلدستہ سے ایک پھول کو چنا ہے جس کی خوشبو آپ تک بکھیرنے کی کوشش ہے اللہ کریم مجھے حق لکھنے آپ کو پڑھنے سمجھنے اور ہم سب کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے.
    بہن احساس کا نام ہے جب بھائی روتا ہے تو اس کو اس کے زخم اپنے زخم محسوس ہوتے ہیں. اس کی تکلیف اپنی تکلیف محسوس ہوتی ہے. گھر میں کھلتی یہ کلیاں گھر کی رونق ہوتی ہیں بولتی ہیں تو جیسے آنگن چہچہاتا ہے. بھائی سے زد فرمائشیں ان بھر پورا ہونے پھ شکرانے کی وہ نظر کمال کا احساس ہوتا ہے.
    یہ محبت تو اللہ کریم کی دی ہوئی بے لوث نعمت ہے.
    سیرت کی کتاب سے مجھے ایک خوبصورت واقعہ ملا آپ کی سمانے گوش گزار کرتا چلوں تا کہ پتا چلے کہ ہمارے پیارے نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰ ﷺ کا اپنی بہن سے پیار کیسا تھا. اور بہن کا اپنے بھائی سے پیار کیسا تھا.
    عرب کے رواج کے مطابق نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں جب حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پرورش فرما رہے تھے تو ساتھ میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی اپنی بیٹی اور حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد مصطفیٰﷺ کی بہن بھی پرورش فرما رہی تھیں. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ سے بڑی تھیں جب باہر سہیلیوں میں بھای ﷺ کو لیکر نکلتیں تو کہتیں لاؤ کوئی میرے بھائی جیسا سہنا بھائی لاؤ. اللّٰہ اللّٰہ بہنوں کے کمال لاڈ. آپ ﷺ کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتیں آپ ﷺ کے ساتھ کھیلتیں. بچپن کا زمانہ گزر گیا.
    وقت اور الفاظ کی قید کے پیش نظر اسی داستان کو مختصراً بیان کرتا ہوں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا اور دوسری جانب حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺ کی وہی رضائی بہن جو اس وقت تک ایمان نا لائی تھیں ان کی شادی ہو چکی تھی. جب اعلان نبوت کے بعد جنگوں اور فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک جنگ کے مال غنیمت میں کچھ قیدی لاے گئے. جن کا تعلق حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قبیلہ سے تھا. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قبیلہ کے لوگوں نی بلایا اور کہا کل سنا کے محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں تمہارے بھائی ہیں اور ان کی قید میں ہمارے کچھ قیدی ہیں اگر تم انہیں چاہو تو چھڑا لاؤ. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی سہیلیوں کی ساتھ آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں. صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کے باہر روکا اور پوچھا تو جواب ملا جاو اندر جا کر بولو محمدمصطفیٰﷺ کی بہن آئی ہے. وہی بڑی بہن والا انداز جواب آیا عزت سے لایا جاے آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر استقبال فرمایا چادر بچھائی اور بٹھایا. بچپن کی باتیں ہونے لگیں. سوال آیا بہن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اے محمدمصطفیٰﷺ تجھے کبھی بڑی بہن ہاد نا آئی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستین چڑھائی اور فرمایا بہن تجھے یاد ہے ایک بار تو نے یہاں میری بازو پر دانت کاٹا تھا. میں جب بھی تجھے یاد کرتا ہوں اپنی آستین پر تیرے دانت کا نشان دیکھ لیتا ہوں. تجھے کیسے لگا تیرا بھائی تجھے یاد نہیں کرتا. بہن بھائی کی محبت نے مسجد کے اندر مجمع اشک بار کر دیا. پوچھا کیسے آنا ہوا آج بھائی کیسے یاد آیا. کہنے لگیں ہمارے قبیلے کے کچھ قیدی مال غنیمت میں آے ہیں ان کے لیے آئی ہوں. جواب ملا بہن پیغام بھیج دیتی یا مجھے بلایا ہوتا اتنے سے کام کے لیے. جواب ملا تم ﷺ سے ملنے کا بھی دل تھا مدت ہوئی تھی دیکھے ہوے.
    کیا کمال ماحول ہو گا. آپ ﷺ نے کچھ مال بطور تحفہ عطا کیا اور قیدی بھی آزاد کیے. بہن نے بھی اسلام قبول کر لیا.
    سوال یہ ہے کبھی ہم نے بھی اہنی بہن سے اس طرح احساس والا معاملہ فرمایا ہے؟ بہن کے لیے اصول مال غنیمت ہی بدل ڈالا.
    بہنوں کی وراثت کھانے والوں سے سوال ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عطا کرنے کا حکم فرمایا ہے. ہم کس رخ جا رہے ہیں.
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.
    جب تم اپنی بہن کے گھر جاؤ تو کچھ نا کچھ لے کر جایا کرو.
    بہنوں کو بھائیوں کا انتظار ہوتا ہے.
    فی زمانہ دوسروں کی بہنوں پر ڈورے ڈالنے والوں سے گزارش ہے خدارا وہی خرچ اپنی بہن پر کرو تم کسی کی بہن کے 32 دانتوں سے بات نکلنے سے پہلے پورءمی کرنے کا جزبہ لے کر بیٹے ہو. تمہاری اپنی بہن کس کا انتظار کرے. وہی پیسہ وہی محبت اپنی بہنوں کو دو تاکہ اسے یہ کمی نمباہر سے پوری نا کرنی پڑے ان سے پیار کرو.
    ان کا خیال رکھو انکی ضرورت پوری کرو ان سے خوشگپیاں کرو. ان کا احترام کرو ان لر شفقت کرو. یہ تمہارے گھر کی رونق ہیں خدارا اس رونق کو آباد کرو. بہنوں سے بھی گزارش ہے کہ بھائی کو رازدار بنائیں تاکہ عزت اپنی بھی محفوظ رہے بھائی کی غیرت بھی باپ کا مان بھی. گھر کا ماحول بھی سکون بھی خوشیاں بھی قرار بھی

    @EngrMuddsairH

  • غصہ ۔اسباب و تدارک  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    غصہ ۔اسباب و تدارک تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    غصہ، غیظ یا غضب فطرت انسانی کاایک شدید جذبہ ہے جس کی وجہ سے اس حالت میں ایک اضطرابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اورغصہ کا شکار ہونے والےمیں غیر دوستانہ رد عمل شروع ہوجاتا ہے جو اشتعال انگیزی، جذباتی مجروحیت یا دھمکی کی شکل میں نمودار ہوسکتاہے۔
    ماہرین کے مطابق غصہ معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتاہےاورغصے سے خاندانی زندگی بھی تباہ ہو سکتی ہے.غصہ ایک پریشر ککر کے مشابہ ہوتا ہے اگر وقت پر اس کی نوب کو کھولا نہ جائے تو پریشر پتہ نہیں کیا کر جائے۔
    یہ بات بھی سچ ہے کہ والدین کے لئےبچوں کی پرورش یقیناً ایک تھکادینے والا عمل ہے اور یہی تھکاوٹ غصے کا ایک بڑا سبب بن جاتی ہے لیکن ہم اپنی تھوڑی سی ذہنی اور عملی کوششوں سے اس پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے لیے تربیت کا ایک اچھا ذریعہ بھی بناسکتےہیں۔ یادرکھیں کہ اگرگھر کے ماحول اور گھر کےکلیدی افراد میں اگرغصے کی لہریں جتنی زیادہ ہوں گی، بچوں کی سوچ اور عمل بھی اسی تناسب سے اسی سانچے میں ڈھلتی جائےگی۔
    یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہم سب ہی کبھی نہ کبھی غصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔کبھی ٹریفک میں پھنسنے پر، کبھی دفتر میں ترقی نہ ملنے پر، کبھی کام مقررہ وقت پر نہ ہونے پر یا پھر بچوں کے شور شرابے پر ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ ہم سب غصے کی کیفیت میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں؟
    اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں مسئلے کی جڑ تک جانا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمیں غصہ کن محرکات یا اسباب کی وجہ سے آتا ہے اور پھر ہمیں مسئلے کو حل کرنے کے لیے کون سے ممکنہ طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔
    گھر میں بچوں کا خراب رویہ رویہ،جھنجھلاہٹ کا شکار کر دینے والے واقعات جیسے کہیں پھنس جانا، دفتری تناؤ، مالی یا خاندانی تنازعات، حسد یا سازشیں اور اس کے ساتھ ساتھ بیماری و تھکن جیسے مسائل بڑوں میں غصہ کا باعث بنتے ہیں۔
    جبکہ بچوں میں غصے کے محرکات بھی عمومی طور پر بڑوں سے ملتے جلتے ہوتے ہیں تاہم ان میں غصے کی بعض دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، جیسے دوسرے بچوں سے لڑائی،کسی کام کی اجازت نہ ملنا، ہم عمر بچوں کا نظر انداز کرنا، اسکول یا باہر تشدد کا شکار بننا، غنڈہ گردی کا شکار ہونا، سزا کا ملنا یا ڈانٹ پڑنا اور کبھی کبھی بچوں میں صحت کے مسائل بھی وجہ بن سکتی ہے۔
    غصے کی حالت میں فوری طور پر کسی بھی قسم کا ردعمل عام طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، خود کو پرسکون کرنے کے لیے مختلف ذہنی، جذباتی یا عملی تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں، مثلا۔
    جیسے ہی غصہ قابو سے باہر ہونے لگے تو کوئی رد عمل دینے سے پہلے دس منٹ کا وقفہ لیں گے، یوں تھوڑی دیر بعد، جب اعصاب پرسکون ہوجائیں تو آپ اپنی بات اچھے طریقے سے کر سکیں گے۔اس کے علاوہ ذہن کو مصروف رکھنے کے لیے کوئی بھی سرگرمی شروع کی جا سکتی ہے، اگر اور کچھ سمجھ نہ آرہا ہو تو فوری طور پر سو سے الٹی گنتی گننا شروع کر دیں، سو سے الٹی شروع کرکے ایک تک ختم کریں اور اس عمل کو بار بار دہرائیں۔
    علاوہ ازیں بالکل آہستگی سے دس یا بیس بار گہری سانسیں لیں، یہ عمل براہ راست غصے کو پیدا کرنے والے ذہنی کیمیکل ‘ایڈرینالائن’ کو نارمل کر دے گا۔
    اس کے علاوہ روحانی عمل کے طور پر دعا پر مبنی الفاظ کو مسلسل دہرانے سے بھی جذبات قابو میں آجاتے ہیں۔
    جسمانی ورزش کرنے، چہل قدمی کرنے یا صرف غصے کے مقام سے باہر چلےجانے سے بھی غصے کی کیفیت کو بہتر کیاجاسکتا ہے۔
    اسی طرح اگر غصے کے دوران ٹھنڈے پانی یا مشروب کےچند گلاس پی لئے جائیں تواس سے بھی اعصابی نظام بہتر ہوسکتا ہے۔
    غصے کا آنا ایک فطری عمل ہے لیکن اگر ہم مسلسل اس غصے کو دبانے یا چھپانے کی کوشش کرتے رہیں گے تو یہ ہمارے لیے کئی طرح کے دیگر ذاتی اور سماجی مسائل کا سبب بن سکتاہے۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد جب آپ یا آپ کا مد مقابل غصے کی کیفیت سے نکل آئے تو اس سےغصے اور اس کی وجوہات سے متعلق بات کرلی جائے تو بہتر ہو جاتا ہے، آپ خود بھی کسی دوسرے فرد سے اس کے متعلق گفتگو کر سکتے ہیں جس کے بہتر نتائج برامد ہو سکتے ہیں۔
    غصے کی حالت میں سکون دینے والی مصروفیات تلاش کریں اور چونکہ غصے کی حالت ایسی توانائ پیدا کرتی ہے جس میں ذہنی حرکیات بہت تیز ہو جاتی ہیں اس لئے اس توانائ کو مثبت سمت میں موڑا جاسکتا ہے جیسے کچھ لکھنے، ڈرائنگ یا مصوری جیسی ذہنی سرگرمیوں کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے اوریقین جانئے یہ سرگرمی خاص طور پر بچوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اور خاص بات یہ بھی ہے کہ غصے میں لکھی گئی تحریریں مستقبل میں آنے والوں کے لئے سبق آموز نتائج فراہم کرتی ہیں . غصے کی حالت میں آپ کی جسمانی سرگرمی ، پیدا ہونے والی منفی توانائی کو مثبت صورت میں بدل دیتی ہے، اس کے لیے آپ ورزش کو اپنی عادت بنائیں، جسمانی مشقت کے بعد آنے والی پر سکون نیند کے ذریعے اپنے اعصاب اور جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
    آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ غصے والے بچوں کے لیے والدین کو رول ماڈل بننا چاہیے، کیوں کہ بچے گھر کے ماحول کا عکس ہوتے ہیں اس لئے پہلے والدین اپنے غصے پر قابو پانے کی صلاحیتوں پر کام شروع کریں اس طرح نہ صرف یہ کہ بچوں کو غصہ کی کیفیت سے بچایا جاسکے کا بلکہ معاشرے میں بھی برداشت کا عنصر غالب ہو سکےگا اورپھر ایک بہتر معاشرے کے قیام میں مدد گار ہو گا۔

    @Azizsiddiqui100

  • کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    جو عبرت سے نہ سمجھے ، دلائل بھی نہ مانے تو
    قیامت خود بتائے گی، قیامت کیوں ضروری تھی!
    بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ مرد عورت کا محافظ ہوتا ہے پر آج میں یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کیسا محافظ ہے یہ مرد جس سے عورت خود کو محفوظ تصور نہیں کر پاتی۔ کیا محافظ ایسے ہوتے ہیں؟
    14 اگست ۔۔ آزادی کا دن۔۔ جشن کا سماں۔۔ جگہ بھی مینار پاکستان!!کیا دیکھنے کو ملتا ہے کہ حوا کی بیٹی کو دن کے وقت میں ایک نہیں ، دو نہیں ، سو نہیں بلکہ پورے 400 درندے یک دم گھیر لیتے ہیں ۔ معافی چاہتی مگر مرد تو دور کی بات میں انہیں جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین سمجھتی ہوں۔ پھر ! پھر کیا حوس کے یہ پجاری دل بھر کے اس کی عزت کا تماشہ بناتے ہیں، ہوا میں اچھالتے ہیں ا ور اس کی عصمت دری کرتے ہیں۔ اور حد یہاں ختم ہوتی کہ اس کو ان درندوں سے بچانے کی بجائے وہاں کچھ حیوان اس سب کی ویڈیوبنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔وہ بھی آزادی کے دن، اقبال پارک میں۔۔ کیا ہم سب پاکستانی واقعی آزاد ہیں!! یا اس ملک میں صرف یہ درندے آزاد ہیں جو جب چاہیں ، جہاں چاہیں، جسے چاہیں اپنی درندگی کا نشانہ بنا لیتے ہیں، جنہیں اب تک کی تمام حکومتیں اور تنظیمیں لگام ڈالنے میں ناکام رہیں۔
    چلیں اس بات کو بھی مان لیتے ہیں کہ لڑکی خراب تھی وہ ، ٹک ٹاکر تھی، ناچ رہی تھی ، بے حیا تھی اس لیے اس کے ساتھ یہ سب ہوا مان لیتے سوشل میڈیا پہ ان درندوں کو ڈیفنڈ کرنے والوں کی یہ بات بھی مان لیتے ہیں۔ مگر ابھی پچھلے ہی عرصے کی بات ہے جب راولپنڈی میں ایک لڑکی جو ٹیچرتھی مکمل عبائے میں یہاں تک کہ منہ بھی ڈھکا ہواہاتھ میں کچھ کتابیں لیے نظریں جھکائے صبح کے وقت سکول میں بچوں کو تعلیم دینے جارہی تھی کہ راستے میں ایک درندہ بائیک پہ آتے ہوئے اس کو عبائے سمیت زور سے کھینچتا ہوا گرا کہ چلا جاتا ہے۔ کیا یہ لڑکی بھی خراب تھی؟اس کا کیا قصور تھا۔ چلیں اسے بھی چھوڑیں پر یہ سوچیں کہ زینب جیسی ان ننھی بچیوں کا کیا قصو ر ہوتا جنہیں یہ درندے اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ساری زندگی وہ اس صدمے سے نکل نہیں پاتیں۔آج جو بھی سوشل میڈیا پہ کہہ رہا ہے کہ باحیا لڑکی کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا میں انہیں بتانا چاہتی جب انسان میں انسانیت کی جگہ درندگی لے لیتی ہے نہ تو اس کے لیے یہ حیا اور بے حیا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔یہ الفاظ اس کے لیے بےکار ہو جاتے ہیں۔۔ ایسے لوگ اپنی حوس کی تسکین کے لیے کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔
    بس ایک چیز جو مجھے بے چین کر رہی ہے اور ذہن کو سکون نہیں لینے دے رہی کہ وہاں موجود تمام لوگوں میں سےکوئی ایک بھی مرد نہ تھا یا سارے مرد ہی ایسے ہوتےہیں ! کیا کسی ایک کا بھی نہیں دہلا! کسی ایک کو بھی خیال نہ آیا کہ وہ اللہ کو کیا منہ دیکھائیں گے! اپنے نبی ﷺکا سامنا کیسے کریں گے! میں پوچھتی ہوں کہ کس منہ سےنبی کی بیٹیوں کی بے حرمتی پہ روتے ہو، کیا تم کسی یزید سے کم ہو؟
    عورت کو نچواتے ہیں بازار کی جنس بنواتے ہیں
    پھر اس کی عصمت کے غم میں تحریکیں بھی چلواتے ہیں
    ان ظالم اور بدکاروں سے بازار کے ان معماروں سے
    میں باغی ہوں، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پہ ظلم کرو

    @MS_14_1

  • نوجوان اور منشیات. تحریر  ​فاروق زمان

    نوجوان اور منشیات. تحریر ​فاروق زمان

    منشیات تباہ کن زہر ہے جو لوگوں خصوصاً نوجوانوں کی رگوں میں سرائیت کر کے رفتہ رفتہ انھیں موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔ آج کے نوجوان تیزی سے منشیات کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جس کے پیچھے مختلف محرکات اور وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن کوئی عوامل اور وجہ اتنی ٹھوس نہیں ہو سکتی کہ منشیات کے زہر قاتل کو اپنا کر اپنی زندگی ختم کر بیٹھیں۔ منشیات کا استعمال نہایت خطرناک ہے، اور یہ جان لیے بغیر نہیں ٹلتا۔ منشیات نوجوانوں کو دیمک کی طرح ضائع کر رہی ہیں، اور لوگ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    چرس، شراب، سگریٹ، ہیروئن، شیشہ اور کوکین وغیرہ عام استعمال ہونے والی منشیات ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء میں ان کا استعمال عام ہے ان کا استعمال فیشن بن گیا ہے۔ اور صرف لڑکے ہی نہیں، لڑکیاں بھی اس کے استعمال میں آگئی ہیں۔ یہ صورتحال بہت تشویشناک ہے۔

    اسلام میں نشہ اور اشیاء کی سخت ممانعت ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر نشے اور خمار کی چیزوں سے دور رہنے کا کہا گیا ہے۔ حیف صد حیف، مذہب اور قرآن سے دوری کی وجہ سے ہی نوجوان منشیات اور برائی کے کاموں کا شکار ہوتے ہیں، ان کو مذہب اور قرآن کے احکامات، تعلیمات اور بیان کون بتلائے۔

    منشیات کا شکار ہونے والے نوجوان صرف اپنی زندگی ہی جہنم نہیں بناتے بلکہ خود سے منسلک کتنی ہی زندگیاں اجیرن کرتے ہیں۔ پورے گھرانے کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں جو ان کی خوشیوں کو نگل لیتی ہے، ان کے خوابوں اور خواہشوں کو ملیا میٹ کر دیتی ہے۔ والدین بے بسی سے اپنی اولاد کو موت کے منہ میں جاتے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

    منشیات صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہیں۔ منشیات کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی کام کرنے اور پڑھنے لکھنے کی صلاحیتیں ختم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی تمام طاقتیں مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔ وہ نوجوان جنھوں نے سنہرے خوابوں کی تکمیل کرنی تھی، روشن راہوں پر چلنا تھا، خوبصورت مقصد حاصل کرنے تھے وہ اخلاقی برائیوں کا شکار ہو کر زوال پزیر ہو جاتے ہیں۔ وہ سارے دیکھے گئے خواب ملیامیٹ ہو جاتے ہیں اور بہت سی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ منشیات استعمال کرنے والوں کا انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔

    دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوان ایڈونچر کرنے کی غرض سے منشیات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یا دوستوں کے کہنے پر منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں، پھر وہ اس کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں اور چاہ کر بھی اس دلدل سے نہیں نکل پاتے۔ بہت سے ایسے نوجوان ہیں جو منشیات کو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

    جو نوجوان اس کا شکار ہو چکے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ خود اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ مثبت سوچ اور انداز کو اپنا کر اس سے چھٹکارا پائیں۔ بہترین عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنا نصب العین متعین کریں اور اس کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوں۔ اپنی اور اپنے سے منسلک لوگوں کے بارے میں سوچیں۔ آپ ملک اور والدین کا قابل قدر سرمایہ ہیں، جود کو ضائع مت کریں۔ بلکہ خود کو ثابت کریں۔

    ہمیں مل کر منشیات کے ناسور کو اپنے ملک سے ختم کرنا ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات کی روک تھام کے لیے اعلیٰ سطح پر بہترین، جامع اور مؤثر حکمت عملیاں بنائے۔ زیادہ سے زیادہ ریہیبلیشن سنٹرز اور صحت مراکز قائم کیے جائیں، تاکہ جو اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے ری ہیبلیشن سنٹرز نہیں جا سکتے، ان کا مفت علاج ممکن ہو سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات سمگلرز کو سخت سے سخت سزائیں دیں اور منشیات کے فروغ میں کردار ادا کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اس کے علاوہ منشیات کے خلاف آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے، اس ضمن میں میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں بھی اپنے حصے کا دیا جلانا ہو گا، نشے کے شکار افراد کے ساتھ بہتر رویہ اپنائیں، ان کو زندگی کی طرف مائل کریں، جو لوگ زیادہ مقدار میں منشیات کا استعمال کرتے ہیں ان کی نشاندہی کریں اور انھیں ری ہیبلیشن سنٹرز لے جائیں۔ تاکہ ان کا علاج ہو اور وہ زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ ہم مل کر منشیات کا جڑ سے خاتمہ کر سکتے ہیں۔

    @FarooqZPTI

  • ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    جابر رضي الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ( تم عورتوں کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو ، 14 اگست 1947 کا دن پاکستانیوں کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے.آزادی کا دن ۔کہ اس دن پاکستان آزاد ہوا تھا ۔۔ہمیشہ 14 اگست نہایت پرامن طریقے سے منائ جاتی ہے ۔۔اس بار کیا ہوا۔ایک عورت 14 اگست کو شام چار اور پانچ بجے کے درمیان اقبال پارک جاتی لے وہاں وڈیو بناتی ہے کہ وہاں پر موجود لوگ اس ٹک ٹاکر کہ گرد جمع ہو گے اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اس کو ہراس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس لڑکی کو جہاں ہاتھ لگتا ہے لگاتے ہے وڈیو وائرل ہوتی رہی ۔اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ایف آئ آر کاٹی جاتی ہے اب ہو گی قانونی کاروائ۔
    جب معاشرہ بے لگام ہو ۔تربیت کا فقدان ہو جہاں مفتی عزیز اور قوی جیسے کردار ۔اور وہ سکول ماسٹر حو سو بچوں سے زنا کر کہ بھی جیل میں سکون سے روٹی پانی کھا اور ٹی وی دیکھ رہا ہو ۔وہاں کی جنریشن قانون سے ڈریں گی یا مجرموں کے جرم سے شے پاے گی؟
    جہاں قانون کے رکھوالے منصف حاکم وقت سب کے سب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھ بند کیے بیٹھے ہوں ۔۔وہاں جنریشن قانون سے ڈرے گی؟ جہاں قانون پر عمل تو ہو لیکن سوشل میڈیا پر وڈیو اور تصاویر وائرل کروانے کے بعد ۔۔جہاں انصاف لینا ہو تو خود کے ساتھ ہووی بغیرتیوں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنا پڑے ۔۔جہاں اپنے حق کے لیے لڑنا ہو تو چار پانچ ٹھڑکی مردوں کا ساتھ چاہیے جو تمھارے حق کے لیے بھرے بازار میں تمھیں پاک دامن کہ سکے ۔۔کیا وہاں کی نسل قانون سے ڈرے گی؟ جہاں عدالتوں میں بیٹھے جج اور تھانوں میں بیٹھے ایس ایچ او تھانیدار کو جسم بیچ کر انصاف لینا پڑے ۔کیا وہاں کی عوام قانون سے ڈرے گی ؟
    اس لڑکی کی غلطی پتہ کیا تھی ۔کہ وہ ٹک ٹاکر ہے ۔کیا ٹک ٹاکر ہونا اتنا غلط ہے کہ چار سو بھیڑیہ تاک لگاے بیٹھا تھا ۔۔جب کہ یہ چار سو بھیڑیا خود بھی ٹک ٹاکر ہے ٹک ٹاک پر موجود ہے. ٹک ٹاکر کو اچھے سے پسند کرتا ہے۔اس ہجوم کا دوغلا پن تو دیکھو کہ یہ ہجوم میں شاید ہی کبھی پانچ وقت نماز بھی پڑھی ہو ۔شاید زندگی میں کبھی سچ بولا ہو ۔شاید کہ اپنی بہنوں کو کبھی پردہ کروایا ہو.اس ہجوم کی غیرت ایک اکیلی تنہا عورت کو دیکھ کر جاگی ۔۔کہ بس اسے چھوڑنا نہیں وہ ٹک ٹاکر ہے ۔۔یورپ جانے کے یہ سارے خواہش مند پاکستانیوں کو ایک پتے کی بات بتاتی ہوں کہ یورپ میں عورت ننگی الف ننگی بھی سڑک پر جارہی ہو ۔اس ننگی عورت کو تاک لگاے کوی دیکھتا ہے وہ بھی وہاں کے قانون کے مطابق ہراسمنٹ کہلاتی ہے.چاہے وہ عورت اپنی مرضی سے کہیں بھی کسی بھی مرد ساتھ جاے ۔۔۔لیکن کسی اجنبی کا اسے چھیڑنا تکنا ہراسمنٹ کہلاتا ہے ۔دوسری طرف میرے اسلامی جہموریہ پاکستان میں دین کے ٹھیکدار رات رات بھر لڑکیوں سے موبائل فون پر زنا کرتے تب ان کو غیرت نہیں آتی ۔ان کو دھمکیاں دے کر ان سے انھی کے گھر کا سامان چوری کرواتے ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اپنے دوستوں سے ملنے کا کہتے. ورنہ وڈیو تصاویر لیک کر دوں گا ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اس بھیڑیے نما ہجوم کی غیرت ایک اکیلی عورت پر جاگی ۔اس عورت پر جس کا ان سے کوی سروکار نہیں ۔۔ابے شیطان کے چیلوں تجھ پر فرض ہے پردہ کروانا اپنی ماں بیوی بیٹی بہن کو ۔۔صرف ان چار عورتوں کی زمہ داری ہے تیرے پر ۔پر توں گھر کے فرائض چھوڑ کر گلی کا آوارہ کتا بن کر اجنبی عورتوں نامحرم عورتوں پر لال ٹپکاے بیٹھا ہے. وہ ننگی بھی ہوتی تجھ پر تب بھی نامحرم تھی حرام تھی ۔۔ہر مرد کی اب روح کانپ رہی ہے ہر مرد اب آگ بگولہ ہے مینار پاکستان والے اس واقعے پر۔۔مرد اگر ایسے ہوتے ہیں تو وہ چار سو مرد کون تھے ۔۔پھر ان کی بات شروع ہوتی ہے گھر کہ مرد سے کہ مرد اگر برا ہے تو تمھارے گھر کا مرد بھی برا ہوگا تمھارے گھر مرد نہیں پھر ایسی باتیں سننے کو ملتی ہے ۔دل کرتا ان جنگلی بھیڑیوں کے منہ سے زبان نوچ لوں کہ تمھارے جیسے گلی کے آوارہ کتوں کے منہ سے ہمارے باپ بھائ کا زکر اچھا نہیں لگتا ۔مرد ایک عظیم چیز ہے اس کی سب سے بڑی مثال میرا باپ ہے. بھائ ہے تو تحفظ کا احساس ہے ۔۔۔تم اگر بھیڑیے نامرد ہو تو اس میں ہمارے باپ بھائ کا کیا قصور ۔۔جنھوں نے کبھی کسی عورت کی طرف آنکھ کر نہیں دیکھا ۔۔تمھیں بھیڑیا اور نامرد کہنا چاہیے تاکہ تم جیسے غلیظ کیڑوں کی وجہ سے ہمارے گھر کہ مرد بدنام نہ ہوں ۔۔
    آخر میں بات کروں گی عورت کی.مزار قائد پر ان دنوں صرف مرد حضرات جاتے ہیں مطلب ان چھٹیوں میں وہاں صرف مرد حضرات کا رش ہوتا ہے وہ بھی مزدور طبقے کا عام تعطیلات میں مزار قائد مینار پاکستان بلکہ چڑیا گھر تک میں خواتین کے جانے والا نہیں ہوتا۔پھر کیوں شامت بلوانے پہنچ گئ وہ بھی لاہور۔وہاں تو یہ حال ہے کہ برقعے والی عورت تک کو بھی چھیڑتے ہیں عام لڑکی گزر رہی ہو کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نوچنے کی حوس سے دیکھنے لگ جاتے ۔ تو وہاں کی مقامی عورتیں کیسے اس بات سے انجان ہوں گی ۔یہ عورت ٹک ٹاک مووی بناتے خودی اس ہجوم میں گھس گئ ۔جہاں پورا لاہور اور آس پاس کے علاقے کے مکین جانتے کہ وہاں ان دنوں عورتوں کو نہیں جانا چاہیے ۔۔چاہے کوی ٹک ٹاکر ہو چاہے کوی مدارس میں پڑھاتی برقعہ پوش عالمہ ۔باقی یہاں اکثریت مرد حضرات موقع نہیں چھوڑتے ۔

  • کال پے بات اور آداب گفتگو تحریر : ولید عاشق

    انسان اور حیوان میں بنیادی فرق لسان اور شعور کا ہے،اسلیے گفتگو انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کے ہمہارے اچھے یا برے ہونے،مزاج اور اخلاق کا دارومدار بھی ہمہاری گفتگو پر ہی ہوتا ہے،ہمہارے ساتھ ملنے جھلنے والوں پر بھی پہلا تاثر ہمہاری گفتگو کا ہی ہوتا ہے،لہٰذا ہر شخص کو گفتگو میں محتاط ہونا چاہیے،گفتگو کے وقت بہت سی اہم باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے،
    گفتگو کے وقت لہجے میں نرمی متانت اور وقار کا خیال رکھیے،بات شروع کرنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے،بغیر سوچے سمجھے بولنا بیوقوفی کی علامت ہے،
    گفتگو کے دوران غصے کا اظہار ،سخت الفاظ کا استعمال ،مسخرہ پن اور اپنی تعریف یہ تمام چیزیں اداب گفتگو کے خلاف ہے،
    کسی کے سامنے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس کی سچائی پر ہمیں خود شک هو،اگر اتفاق سے ایسی کوئی بات کہنی بھی پڑھ جاۓ تو اس کے ساتھ اپنا شک بھی ظاہر کر دینا چاہیے،
    کسی کے عقیدے مذہب یا بزرگوں کی شان میں نا زیبا الفاظ کا استعمال کرنا مناسب نہیں،جاہلوں اور ان پڑھوں سے زیادہ مشکل باتیں نا کریں،بات کرتے وقت آواز اتنی دھیمی نا هو کے آواز آپ کی سنائی نا دے،اور نا اتنی تیز کے سننے والے کو نا گوار گزرے،
    موبائل فون اور سوشل میڈیا آج کل ہر انسان کی مجبوری بن چکا ہے،ہر غریب امیر کے ہاتھوں میں یہ موبائل فون نظر اتا ہے،اب ضرورت اس بات کی ہے کے یہ اللہ‎ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اور نعمت کا جائز استعمال کیا جاۓ ،نعمت کا غلط استعمال زحمت بنا دیتا ہے،اور دنیا اور آخرت میں بربادی کا ذریعہ بنتا ہے،سیل فون ایک بہت بڑی نعمت ہے،آپ ذرا تصور کیجئیے پہلے زمانے میں ایک دوسرے تک خبر پہنچانے کے لیے کتنے مسائل ہوتے تھے،اگر کسی کا انتقال ہوتا تھا تو دوسری جگہ پیغام پہنچانا انتہائی مشکل ہوتا تھا،آج دنیا میں کسی جگہ پے بھی انتقال هو تو ایک منت میں پوری دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے،اور آج ہم صرف موبائل فون پے کال پے بات چیت کے اداب کے بارے میں آپ کو اگاہ کرے گے،

    1. پہلی بات کسی کو صبح 9 بجے سے پہلے اور رات 9 کے بعد کال مت کیجیے.

    2. چھٹی والے دن دس گیارہ بجے تک بندے کی جان بخش دیں اس کے بعد کال کریں۔

    3. دوپہر کے اوقات میں بھی اور خاص طور پہ نماز کے اوقات میں کال نا کریں۔

    4. بہتر ھے وائس نوٹ چھوڑیں اور کال کرنے کا ٹائم لے لیں ھم آج بھی اپنے پرانے دوستوں کو واٹس ایپ پہ میسج کر دیتے ھیں کہ فری ھو کے کال کرنا یا فری ھو کے بتانا مجھے بات کرنی ھے یا ارجنٹ بات ھے۔ ھر بندے کی پرائیویسی ھے اسکا مکمل خیال رکھیں۔

    5. کسی کو پہلی بار کال کر رھے ھیں تو لازمی میسیج کر کے اجازت لیں اور ٹائم لیں۔

    6. سب سے اچھا طریقہ ھے وائس نوٹ بھیج دیں جب دوسرا فری ھو گا سن لے گا اور جواب بھی دے دے گا۔

    7. جب پہلی بار کسی سے بات کریں تو پہلے اپنا تعارف کروائیں اور ساتھ ھی مدعا بیان کر دیں مکمل بات ایک ساتھ کر دیں سوال جواب کھیلنا شروع مت کریں۔

    8. اگر کوئی فون کاٹ دے تو اس اسکا مطلب وہ مصروف ھے ابھی بات نہیں کر سکتا اتاولے ھو ھو کے کال پہ کال مت کیے جائیں۔

    9. اگر کوئی ایک مکمل رنگ پہ فون نہیں اٹھاتا اسکا بھی یہی مطلب ھے کہ وہ دستیاب نہیں ھے دس منٹ صبر کر جائیں یا میسج بھیج دیں کہ فری ھو کے کال بیک کریں۔

    10. اگر کسی کا فون مصروف ھے تب بھی بار بار فون ملا کے اسکی کال انٹرپٹ نا کریں۔
    اللہ‎ پاک ہم سب کو توفیق عمل سے نوازے
    امین

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • اختلاف مگر احترام کے ساتھ تحریر: سیدہ بنت زینب

    اختلاف مگر احترام کے ساتھ تحریر: سیدہ بنت زینب

    ‏**
    ہم آج ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر ایک مختلف ہے، چاہے وہ کسی ملک میں بھی پروان چڑھے، ان کے عقائد، ان کی جسمانی شکل، ان کے دوست اور کنبہ، اور یہاں تک کہ بہت سارے مضحکہ خیز مضامین کے بارے میں ان کی رائے جو آج کی دنیا کو متاثر کررہی ہے وہ بھی الگ ہے. ہم سب کی ایک رائے ہوتی ہے اور بہت سے لوگ اس رائے سے متفق ہو سکتے ہیں یا نہیں بھی. یہ معمول کی بات ہے کیونکہ ہمارے عقائد اور آراء اس بات کی نمائندگی کرتی ہیں کہ آپ دنیا کو اپنی دو آنکھوں اور کانوں سے کیسے دیکھتے اور سنتے ہیں. اگر آپ کے اردگرد کے لوگ ایک دلچسپ موضوع کے بارے میں ایک ہی رائے رکھتے ہیں تو رائے کا اظہار کرنا اچھا ہو سکتا ہے. تاہم، اگر کسی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے اور ایک یا بہت سے لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں، تو آپ کے پاس ایک انتخاب ہے، آپ یا تو گفتگو کو چھوڑ سکتے ہیں اور اس شخص کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ایک مختلف موضوع کی طرف بڑھ سکتے ہیں، حالانکہ آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے. دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ ان کی رائے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور اپنا معاملہ بیان کر سکتے ہیں.
    کسی ایسے شخص کے مابین شروع ہونے والے تنازع کو روکنے کے لیے جو آپ کی رائے سے ذاتی طور پر متفق نہیں ہے، سمجھ لیں کہ دنیا میں ہر ایک کے مختلف نظریات ہیں اور بہتر ہے کہ ایسے مضحکہ خیز موضوع سے گریز کیا جائے جو رائے کی تقسیم پیدا کرے اور لوگوں کی رائے کے احترام سے باہر لوگوں کے درمیان بحث شروع کردے.
    اختلاف ہر کسی کا حق ہے اور جواب دینا یا نہ دینا آپ کی مرضی. کسی کو اختلاف سے نہیں روکا جاسکتا، اگر اختلاف نہ ہو تو وہ اندھی تقلید بن جاتی ہے. بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلاف تہذیب کے دائرے میں کیا جائے. اختلاف سے کسی کی دل آزاری نہ ہو لیکن یہ آجکل سوچتا ہی کون ہے…..؟
    سوال صرف یہ ہے کہ آپ رائے کے اُس اختلاف پر کسی کو بھی گالی کیسے دے سکتے ہیں جس رائے پر دونوں میں سے کسی ایک کے غلط ہونے کا امکان موجود ہے کیونکہ نعوذ باللہ نہ آپ ولی ہیں نہ ہی کوئی اور انسان.
    میری شدید خواہش ہے کہ لوگوں کو اختلاف کرنے کا سلیقہ آ جائے….!
    محبت، پیار، احترام سے بات کرنے لگیں، نفرت، گالی، بد تہذیبی سے جان چھڑوا کر، عقل و فہم اور دلیل سے بات ہونے لگیں….!
    دوسرے لوگوں کی رائے کا احترام کرنا بہت ضروری ہے یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کوئی بھی کامل نہیں ہے اور ہر انسان مختلف سوچتا ہے. دوسروں کی رائے کا احترام کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی رائے کو غلط سمجھیں. دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمیں زندگی اور لوگوں کے بارے میں مزید جاننے میں مدد ملتی ہے.
    دوسرے لوگوں کو سمجھنے سے ہمیں عاجز رہنے اور کھلے ذہن رکھنے میں مدد ملے گی. میرے خیال میں دوسرے لوگوں کی رائے کو سمجھنا بہت ضروری ہے. الحمدللہ جب سے میں نے سید اقرار الحسن کی باتوں پر سوچنا اور عمل کرنا شروع کیا ہے تب سے میں نے ہر لحاظ سے مثبت سوچنا شروع کر دیا ہے کہ ہر کوئی مختلف ہے اور مجھے احترام کرنا ہے کہ دوسرے لوگ کیسے سوچتے ہیں، اور میری وجہ سے کسی کی دل آزاری نا ہو. اختلاف کرنا چاہیے مگر پورے احترام کے ساتھ.

    ‎@BinteZainab33

  • رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں   تحریر ام سلمیٰ

    رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں تحریر ام سلمیٰ

    شادیوں میں دعوتوں میں اکثر آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ بے جا اپنی پلیٹ بھر لیتے ہیں جو کے اِنکی ضرورت سے انتہائی زیادہ ہوتی ہے اور پیٹ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اسے پلیٹ میں ہی چھوڑ دیتے ہیں.اور وہ کھانا آخر میں ضائع کیا جاتا ہے.
    پاکستان میں ایسی بہت کم تنظیمیں کام کر رہی ہے جو بچے ہوئے کھانے کو ضرورت مند تک پنہچا رہی ہیں.
    ہمیں کھانے کی ضائع ہونے سے روکنے کی ضرورت کیوں ہے؟
    یہ ایک بہت اہم اور بڑا مسئلہ ہے ، اور یہ ہم سب کو متاثر کرتا ہے۔ نہ صرف ہمیں بلکے ہمارے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے.

    میری یہ تحریر کھانے کے ضائع ہونے سے اس کے ماحول پر پڑنے والے شدید اثرات سے لے کر یہ کہ یہ کس طرح ہماری جیبوں میں سوراخ کو گہرا کر سکتا ہے اس پر ہے ، کھانے کا فضلہ بھی ایک بڑا کا مسئلہ ہے۔

    یہ تین وجوہات دیکھیں کہ ہمیں کھانے کا ضیاع روکنے کی ضرورت کیوں ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کھانا نہیں ہے۔
    دنیا بھر میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہیں ، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے پاس موجود خوراک کا صحیح استعمال کریں۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر شخص اپنے جسمانی وزن سے زیادہ خوراک کو ہر سال ضائع کرتا ہے ، جو صرف ظاہر کرتا ہے کہ یہ واقعی کتنا بڑا مسئلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں خوراک کا ضیاع ترقی پذیر ممالک کی طرف سے پیدا ہونے والے تمام کھانے کے برابر ہے۔ صرف یورپ میں ضائع ہونے والا کھانا 200 ملین بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کافی ہوگا۔تو اس سے اندازہ لگائیں کہ دنیا میں کھانے کہ ضائع ہونا کس قدر زیادہ ہے.

    جنتی بڑی مقدار کے ضائع ہونے کی ہم بات کر رہے ہیں اگر یہ ملک ہوتا تو ضائع شدہ خوراک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تیسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ہوگا۔ 3.3 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار کے ساتھ ، خوراک کا فضلہ عالمی آب و ہوا پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ زیادہ خوراک ضائع ہونے کے ساتھ ، لینڈ فلز اونچائی سے اونچی ہوتی چلی جاتی ہے ، جو ہر قسم کی جنگلی حیات مکھیاں اور کیڑے ان سب کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور نازک ماحولیاتی نظام کو توازن سے باہر رکھتی ہے۔ سمندری غذا کے فضلے کو دوبارہ سمندر میں پھینکا جانا بھی سمندری زندگی اور ان کے قدرتی توازن پر نقصان دہ اثر ڈال رہا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی صرف سیارے کے لیے بری نہیں ہے۔ 2050 تک اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 84 فیصد تک اضافے کی توقع ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی پیداوار کو کیسے متاثر کرے گی۔ یہ پہلے ہی ضائع ہونے والی رقم کی ایک بڑی مقدار کا باعث بن رہا ہے ،

    لہذا اگلی بار جب آپ اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہو ضرور سوچیں کے جیتنا آپ کھا سکتے ہیں اتنا ہی پلیٹ میں نکالیں تاکہ کھانے کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے یہ ہی ہماری دینی تعلیم بھی ہی کیوں بچایا ہوا کھانا پھینکا جانا ہے تو ان حقائق اور کھانے کے ضائع ہونے کے نقصانات کو ذہن میں رکھیں۔ بچایا ہوا ہر تھوڑا سا کھانا مدد کرتا ہے ، اور یہ آپ کے خیال سے کہیں زیادہ فرق ڈال سکتا ہے۔

    @salmabhatti111

  • کچھ وقت خاموشی کو دیجئے قیلولہ کیجئے تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    کچھ وقت خاموشی کو دیجئے قیلولہ کیجئے تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں ڈھیروں مصروفیات کو وقت دیتا ہے لیکن اپنے آپ کو اس طرح وقت نہیں دیتا جس طرح اسے دینا چاہیے. سجنے سنورنے میں وقت گزار لیتا ہے. خوش گپیوں کے لیے وقت نکال لیتا ہے لیکن اپنے لیے وقت نہیں نکالتا جس میں وہ دنیا سے بیگانہ ہو کر اپنے زہین کو سکون دے سکے.
    زمانے کی جدت کے ساتھ ساتھ انسان نے خود کو بھی مشینی روایت میں ڈھالنے کی شروعات کر دی ہے. سارا دن کسی نا کسی کام میں مگن رہتا ہے. رویوں کو سمجھنے پرکھنے میں مشغول رہتا ہے.
    لیکن اپنے دماغ کو کہیں سکون نہیں لینے دیتا.
    مشینی دور کی اس کشمکش نے رشتوں ناطون دوستوں یاروں تعلق داروں سے دوریوں میں اضافہ کر دیا ہے. مسلسل جاری رہنے والی اس تگودو نے انسان کو تھکا کر رکھ دیا ہے.
    انسان اگر اپنی روٹین کم کرتا ہے تو زمانے کو دوڑ سے پیچھے رہتا دکھائی دیتا ہے اور مسلسل دوڑ اسے تھکا دیتی ہے. اسلام نے اسن کا حل دیا ہے اور وہ ہے قیلولہ. جسے جدید سائنس یوگا کے نام سے تھوڑا مختلف نظریہ سے جانتی ہے
    قیلولہ کے صحت پر حیرت انتہائی انگیز فوائد ہیں
    اگر آپ مصروفیت کے دوران دن میں کم از کم 15 سے 20 منٹ کی نیند لیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں دماغی کارکردگی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور انسانی صحت پر اس کے حیرت انگیز فوائد حاصل ہوتے ہیں جنہیں سائنسی تحقیق بھی ثابت کر چکی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر، تھکاوٹ اور ذہنی تناؤ سے بچاؤ کے لیے اور ہشاش بشاش زندگی گزارنے کے لیے دن میں کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینا نہایت ضروری ہے جبکہ مصروف ترین روٹین کے سبب بیشتر افراد ایسا نہیں کر پاتے اور دن بہ دن ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ کے سبب مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگ جاتے ہیں جس کے دور آزما اثرات دکھائی دیتے ہیں.
    ماہرین صحت کے مطابق دوپہر کے دوران قیلولہ یعنی چند منٹوں کی نیند لینے کے سبب انسانی دماغی صحت حیرت انگیز طور پر بہتر ہوتی ہے جس کے مثبت اثرات مجموعی صحت پر آتے ہیں، سائنسی تحقیق کے نتیجے میں ثابت ہونے والے قیلولہ کے فوائد میں دوپہر میں نیند لینے کے سبب دماغ، اعصابی نظام اور پٹھوں کی کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور دماغی خلیوں کو سکون اور آرام ملتا ہے جس سے دماغی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ صبح سے لے کر رات تک جاگنے والےافراد کو یہ فوائد حاصل نہیں ہوپاتے ۔قیلولہ پر کی جانے والی ایک تحقیق میں دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ جو طالبعلم دوپہر کو قیلولہ کرتے ہیں ان کی جسمانی توانائی بڑھتی ہے اور مزاج بھی خوشگوار رہتا ہے۔
    مزید طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق قیلولہ کا مثالی وقت 10 سے 20 منٹ تک ہوتا ہے، بہت زیادہ دیر تک سونا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
    ایک تحقیق کے مطابق دوپہر کو سونے سے ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے اور یہ عمل بہتر کاکردگی کا باعث بنتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر کو کچھ دیر سوتے ہیں وہ ریاضی کے مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے حل کر پاتے ہیں۔ طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر کو سونے کے عادی نہیں ہوتے ان میں تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح عموماً زیادہ ہوتی ہے اور ان میں نفسیاتی مسائل کے بڑھنے کے خدشات بھی قدرے زیادہ ہوتے ہیں۔
    قیلولہ نہ کرنے کے سبب انسان مصروف روٹین کے دوران اضطراب اور بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ یہی اس کی بےسکونی اور چڑچڑے پن میں اضافے کا باعث بن جانتی ہے
    اس لیے اپنی روز مرہ زندگی میں خود کے لیے وقت نکالیں قیلولہ کریں صحت مند رہیں

    @EngrMuddsairH

  • والدین کی خدمت کا انعام تحریر:محمد سدیس خان

    والدین کی خدمت کا انعام تحریر:محمد سدیس خان

    والدین کی خدمت کیسے دامن کو خوشیوں سے بھرتی ہے، اس کی جھلک درج ذیل واقعہ میں دیکھی جاسکتی ہے، اپنے بچپن میں دیکھا کہ ہمارے ضعیف داداجان کو دمہ کی تکلیف تھی ان کی رہائش بالائی منزل پر تھی تو والد صاحب نے دادی جان کو کہہ رکھا تھا کہ جب والد صاحب کو تکلیف ہو تو آپ مجھے بلانے کے لیے آواز نہ دیں بلکہ کمرے کے فرش پر کھڑکادیا کریں میں حاضر ہو جاؤں گا۔
    ہم نے خود بار ہاد دیکھا کہ دادی جان فرش پر کسی چیز سے آواز کردیتں، بس پھر کیا ہوتا والد صاحب بعض اوقات ننگے پاؤں بھاگ کر والد صاحب کی خدمت میں پہنچ جاتے اور ان کی تیمارداری ہی نہ کرتے بلکہ ان کا دل بہلانے کیلئے انہیں امید افزا باتیں کرتے، داداجان کی یہ تکلیف بعض اوقات ساری رات جاری رہتی تو والد صاحب بھی تمام رات جاگ کر گزارتے۔
    والد محترم خشکی کے راستے حج پر تشریف لے گئے واپس آتے ہی اپنی ایک قیمتی جائیداد فروخت کی اور والدین کو حج پر لے جانے کی کوشش شروع کی، بعض لوگوں نے منع بھی کیا کے اتنی قیمتی جائیداد کو بیچنا مناسب نہیں تو آپ فرماتے کہ میری قیمتی ترین متاع میرے والدین ہیں۔ خیر والدین کے ہمراہ حج پر تشریف لے گئے اور دوران سفر والدین کی خوب خدمت کی اور بعض مقامات پر والدین کو کندھوں پر سوار کرکے چلتے رہے۔
    حضرت والد صاحب کی زندگی خدمت سے عبارت ہے مذکورہ چند سطور میں اس خدمت کی جھلک دکھائی گئی ہے جو سعید لوگوں کیلئے کافی وافی ہے۔
    آپ نے خدمت والدین سے سعادتیں وصول کیں اور والدین کی مقبول و مستجاب دعائیں حاصل کیں۔ والدین کی دعاؤں کا ثمرہ دنیا میں ملا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے دنیاوی دیگر نعمتوں کے علاوہ کثیر صالح اولاد سے نوازا جن میں سے اکثر حافظ و قاری ہیں اور دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔
    دوسری عظیم نعمت یہ حاصل ہوئی کہ بچپن ہی سے آپ کے دل میں مدینہ منورہ کی زیارت واقامت کا داعیہ وجذبہ تھا تو اللّٰہ تعالیٰ نے پورا فرمایا اور آپ عرصہ دراز سے مدینہ منورہ میں مقیم ہیں۔
    حضرت والد محترم الحاج عبد القیوم مہاجر مدنی مدظلہم اپنے
    والدین کی بے پناہ دعاؤں وقت کے اکابر علماحق و بزرگان دین کی توجہات کی بدولت تا حال بحمد للہ صحت وعافیت سے ہیں عرصہ 30 سال سے مدینہ منورہ میں مقیم ہیں۔ دین کی بے لوث خدمت آپ کے رگ و ریشہ میں سرایت کئے ہوئے ہے۔
    خاص طور پر تحریک ختم نبوت سے آپ کو عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔ عمر کی تقریباً 75 بہاریں دیکھنے کے باوجود تا حال ہمت وعزم کی یہ کیفیت ہے کہ مسلسل 10 گھنٹے یومیہ اعصاب شکن مطالعہ اور تالیف وترتیب وغیرہ کا کام جاری ہے اور ذریعہ معاش کیلئے 8 گھنٹے ڈیوٹی اس کے علاوہ ہے۔
    دینی دسترخوان کی اشاعت اور متوقع پذیرائی سے والد محترم کو مزید حوصلہ ہوا تو تعمیر انسانیت کے نام سے دو ضخیم جلدوں میں ایک نیا مجموعہ مرتب فرمادیا، سچ ہے کہ اللّٰہ پاک اپنے دین متین کی خدمت ایسے درویش صفت وغیر معروف ہستیوں سے بھی اس طرح لے لیتے ہیں کہ عقل حیراں کھڑی سوچتی رہتی ہے
    ابھی ان کتب کی تالیف ہی میں مصروف تھے کہ دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ اردو کی ضخیم اور مستند چھ تفاسیر کے ضروری، عام فہم اقتباسات کو جمع کرکے ایک نیا گلدستہ تیار کیا جائے جس پر حالت خواب و بیداری میں کئی طرح کی بشارتوں سے نوازے گئے علماء اکرام کی مشاورت اور بزرگوں کی مستجاب دعاؤں کے بعد مدینہ منورہ کی مبارک فضاؤں میں اس صبر آزما کام کیلئے دن رات ایک کر کے گلدستہ تفاسیر کا سات جلدوں پر مشتمل ایک عظیم تحفہ عوام الناس کی خدمت میں پیش کردیا جس سے عوام وخواص کے علاوہ علماء اکرام اور تفسیر کے مدرسین نے خاطر خواہ استفادہ کیا اور تا حال مستفید ہورہےہیں یاد رہے کہ اس عظیم تفسیری مجموعہ کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
    Twitter : @msudais0