Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • تزکیہ نفس تحریر : انجینئیر مدثر حسین

    تزکیہ نفس تحریر : انجینئیر مدثر حسین

    انسان کو اللہ رب العزت نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کی یہ صفت اس کے احساس کے وصف کی وجہ سے ہے. انسان کو جب سے تخلیق کیا گیا آج تک انسان اپنی زندگی کے داؤ پیچ میں مگن ہے. کبھی خوشی کبھی غمی کبھی دکھ کبھی سکھ زندگی کا حصہ رہے ہیں. کچھ انسان پر آزمائش دی جاتی تو کچھ انسان کی اپنی شامت اعمال ہوتی ہیں. یہ رب العالمین کا نظام ہے وہ اپنے بندوں کو ا ی سے صبر کی توفیق اور حالات سے لڑنے کی ہمت دیتا ہے ساتھ ہی ساتھ اس کے گناہوں کا کفارہ بھی بنتا ہے.
    نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کی آزمائش اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے. الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مومن کو جب کوئی بھی تکلیف پہنچتی ہے اس کو گناہوں کو ساتھ لے جاتی ہے.

    یہ رب کریم کی شان کریمی ہے کہ ساتھ ساتھ اپنے بندوں پر نظر عنایت فرماتا ہے.ان سب چیزوں کے ساتھ انسان کو اللہ رب العزت نے اپنی عدالت بھی دے رکھی ہے. جو جب تک انصاف کے سہی ترازو کے ساتھ قائم ہوتی ہے انسان کا محاسبہ کرتی ہے کہ وہ صحیح راہ پر ہے یا غلطجب یہ بھٹک جائے اور شیطانی ترجمانی کی طرف گامزن ہو تو انسان خود کے لیے صحیح فیصلہ نہیں کر پاتا. انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے.
    رات کو جب انسان بستر پر موجود ہوتا تو دو لمحے کے لیے اپنے روز مرہ کے اعمال کا جائزہ لے تو ساری حقیقت عیاں ہو جاتی ہے. یہ اسکی پہلی منزل ہے.
    اس کے بعد باری آتی ہے اس کا اعادہ کرنا کہ جو کام اچھا کیا وہ کیسے ٹھیک کیا اور جو برا کیا وہ کیوں برا ہوا. یہ عمل کی دوسری سیڑھی ہے جو انسان کو اپنی غلطی کا احساس دلانے کے لیے ہوتی ہے. اسسے اس کا من برائ سے بچنے کی ترغیب سوچنے کے قابل ہوتا ہے. یہی خاصیت اس کی بخشش کا سامان بن جانے کے لیے اس کا ساتھ دیتی ہے اور انسان کو اپنے آپ کو سدھارنے کا موقع ملتا ہے.

    تیسری منزل ہے اس سے آگے توبہ
    یہ وہ منزل ہے جو پچھلی دونوں منازل کا مغز ہے. کہ بندا اپنی غلطی تلاش کر چکا اسے تسلیم بھی کر چکا اب رب سے معافی مانگنا چاہتا ہے اور آئندہ اس غلطی سے بچنے کا عہد کرنا چاہتا ہے
    پھر رب کریم بندے کو بخشش مانگنے کا موقع عطا کرتا ہے. بندا جب اس موقعے کو استعمال کرتا ہے تو بخش دیا جاتا ہے. کتا خوبصورت دین ہے.

    اللہ کریم اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اس نے اپنے بندوں کو بخشنے کے بہانے عطا کے ہوے ہیں. کوئی پریشانی میں بخشا جاتا تو کوئی تزکیہ نفس میں. کوئی رو کہ رب کو منا لیتاتو کسی کی نیکی اتنے کامل درجے پر پسند کر لی جاتی کہ بخش دیا جاتا ہے.
    انسان کی اسی میں بقا ہے اسی میں کامیابی ہے کہ وہ اپنے رب سے جڑا رہے جیسے ہی غلطی محسوس کرے فورا اللہ کریم کے حضور طائب ہو جاے. تا کہ رب سے تعلق کا ربط نا ٹوٹنے پاے
    گفتگو سے یہ سب ملا کہ اپنا محاسبہ اور تزکیہ نفس کرتے رہنا چاہیے
    خود پرستی پر دھیان دینے سے بہتر خود محاسبہ پر دھیان دینا چاہیے. روز رات کو سونے سے پہلے اپنے اعمال کو پرکھنا چاہیے اور. اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اچھے اور برے کی ساتھ ساتھ پہچان رکھنی چاہیے. اپنے رب سے تعلق قائم رکھنا چاہیے تاکہ انسان سیدھے راستے رہ سکے. اور رب کی رحمتوں کے حصار میں رہے

    @EngrMuddsairH

  • اقبال کا پیغام قوم کے نام  تحریر: سید حسنین مشہدی

    اقبال کا پیغام قوم کے نام تحریر: سید حسنین مشہدی

    علامہ اقبال کے جزوی مطالعہ کے بعد کچھ جملے آج کے نوجوان اور مسلمان کے لیے کہ عصر حاضر کے مسلمانوں
    اپنی ملی پستی و زوال کا سبب خود ہیں لیکن شکوہ رب سے کرتے رب سے شکوہ کرنے کی بجاۓ پہلے ذرا اپنی اداؤں پر غور نھیں کرتے۔ تمھاری دینی حالت یہ ہے کہ تمھیں صبح فرض نماز کے لئے اٹھنا بھی گراں اور ناگوار ہے کاہلی نے تمہیں اپنے گرفت میں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ دنیا کا شوروغوغا تمھیں سنائی نھیں دیتا پانچ وقت کی گونجتی آواز تمہارے کانوں پر کوئی اثر نھیں چھوڑتی اس قدر بےحسی اور لاپرواہی ہے ؛ گویا تمھیں رب سے پیار نہیں بلکہ اپنی نیند پیاری ہے۔ تمھاری طبیعت اور مزاج رب کے احکام کی پابندی سے اس قدر آزاد ہو چکی ہے کہ رمضان کے روزوں کی پابندی بھی تمھارے لئے مشکل ہے۔جب اللّٰہ تعالیٰ کی عطاء کا عالم یہ ہے کہ اللّٰہ کی طرف سے رحمت کی پکار آتی ہے لیکن تم رحمت سمیٹنا نھیں چاہتے اس کی طرف سے نعمتوں کی برسات کا نکارہ بجایا جاتا ہے لیکن تمھیں سنائی نھیں دیتا ۔ تو تم ہی بتاؤ کہ وفاداری کا اصول اور دستور یہی ہے تمھاری نگاہ میں؟ کہ رب کی رضا کے لئے فرض نماز روزے کی پابندی بھی نہ کرو؟ ارے نادان مسلمانو؛ تم ایک منظم قوم اور مضبوط قوت اپنے مذہب یعنی دین اسلام کی بدولت تھے؛ دنیا میں تمھاری ترقی اور عروج کا راز یہی تھا؛ آج تم نے قرآن و سنت کی رسی چھوڑ دی ہے تو تمھارا باہمی نظم و ضبط بکھر چکا ہے سو تم مسلمان ایک منظم اور طاقتور ملت نہیں رہے بلکہ ایک منتشر ہجوم اور بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہو جسے یہود ہنود ہانک رہا ہے تم خود اپنی ذلت کا سبب بنے ہوۓ ہو کیوں بھول جاتے ہو اپنی اسلاف کی قربانیوں کو ۔آج تم اپنے اسلاف کے نام سے خود کو متعارف کروانا چاہتے ہو لیکن خود عمل پیرا نھیں ہونا چاہتے
    ارے ! تھے تو وہ آبا ہی تمہارے تم کیا ہو؟
    آج تم وہ ہو جس کی دنیا میں کوئی وقعت اور اہمیت نہیں ہے؛

    علامہ محمد اقبال نے اپنی مسلم قوم کے سوۓ ہوۓ ضمیر کو جگانے کی کوشش کی ہے کہ ؛جو قوم کبھی کلیساؤں میں آذانیں دیا کرتی تھی جو قوم کبھی بتوں کو نیست نابود کیا کرتی تھی آج وہی قوم بت خانے آباد کرنے میں لگ گئی ہے؛

    تلواروں کے سائے میں اللّٰہ اکبر کی صدائیں لگانے والوں کی ذلت کا یہ عالم ہے کہ
    آج اس قوم کی بیٹی کلیساؤں اور بت خانوں میں محفل کی زینت بنی ہوئی ہے جس قوم کی بیٹی کی ردا کے لیے املاک فتح کیے جاتے تھے جس قوم کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ کی دیواریں مسلم قوم کے جاہ وجلال کے آگےحل جایا کرتی تھیں لیکن آج وہی قوم خود اپنی ذلت کا سبب بنی ہوئی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے اسلاف کی دی ہوئی دولت کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔ ہم میں مذہبی آہنگی کا تصور ختم ہوگیا ہم نے مذہب کو صرف روایتی لحاظ دیکھا اور جس مذہب کو ہم نے حرف کل سمجھنا تھا اس کو ہم جزوی طور پر بھی اپنانے کو تیار نھیں ۔ہم نے اللّٰہ کے مقابل اپنی آسائشوں کو ترجیح دی اور رب کے حکموں کو پس پشت ڈال کر بڑھنا چاہا جو رب کو ناگوار گزری۔

    @SyedHR92

  • پاکستان کا مطلب کیا؟ جویریہ بتول

    پاکستان کا مطلب کیا؟ جویریہ بتول

    پاکستان کا مطلب کیا؟
    جویریہ بتول

    اس دھرتی کی عالم میں شان ہے جُدا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…!!!

    خوں کے دریا طے کر کے پائی یہ آزادی…
    ہم قومِ خاص ہیں،جب دی جہاں میں منادی…
    جینے،مرنے،کھانے،پینے میں ہے اک گہری تفاوت…
    ایسی دو قومیں اَب رہ سکتی نہیں یکجا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…

    اِس دیس کا ذرہ ذرہ ہمیں جان سے پیارا ہے…
    اس دیس کی صبح پر لاکھ ستاروں کو وارا ہے…
    اُس خوں کی بدولت لہراتا پرچم یہ ہمارا ہے…
    اِس پرچم کی اَب شان کم کیسے ہو بھلا…؟
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…

    اس وطن کا قریہ قریہ خوشبو میں بسانا ہے…
    اس دیس کا ہر گوشہ اَمن سے مہکانا ہے…
    عَلم اس کا ہر ایک بلندی پر لہرانا ہے…
    کہ ہم خالد و جعفر کے روحانی ہیں ورثاء…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…!!!

    اس گُلشن کے آنگن میں رہے سدا بہار…
    اس گھر کے رہیں روشن سبھی لیل و نہار…
    اس کنبے کا بڑھے پھر روز بروز وقار…
    اس کا ہر اِک فرد ہو اپنے محاذ پر کھڑا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ

    اس قوم کے محافظ بیٹے ہیں ہر دَم تیار…
    یہ غیور ،جری، بے باک،جو ہیں مثلِ ضرار…
    اس مٹی کو خوں دے کر ملتا ہے جنہیں قرار…
    ان کے سنگ مل کر اِک نعرہ لگائیں ذرا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…!!!

  • سکول  میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    سکول میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ماں کی گود کے بعد بچے کی درسگاہ کی زمہ داری اس کے اساتذہ پر عائد ہو جاتی ہے. جو اسے زندگی کے جھمیلوں سے نمٹنے کے لیے ہیرے کی طرح تراشتا ہے. اس زمرہ میں معاشرتی اصول و ضوابط کے مطابق تعلیمی اداروں میں یہ کام سر انجام دیا جاتا ہے. جہاں اساتذہ اپنے علم و ہنر کے جوہر آزماتے ہوئے طالب علم کو تراشتے اور انمول ہیرا بناتے ہیں.
    تعلیمی سرگرمیوں میں بچوں کی صحت اور جسمانی تروتازگی کے لیے مختلف کھیلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے.
    گزشتہ چند سالوں میں جب تعلیمی اداروں میں Co-Education نظام کے ترجیحات کو ایک نیا رنگ دیا. پہلے پہل تو اوقات کار بچوں اور بچیوں کے الگ تھے. پھر رفتہ رفتہ اوقات کا تو درکنار کمرہ جماعت بھی اکٹھے ہو گئے. اس پر پھر جو آزادی دی گئی اس نے تعلیمی اداروں کے معیار کو برباد کر کے رکھ دیا. آج میٹرک جماعت کے طلبہ ٹک شاپس پر گلچھرے اڑاتے دکھائی دیتے ہیں. رہی سہی کسر سکولوں اور کالجز میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی مد میں ڈانس پارٹیوں نے نکال دی. آج کل تو معروف ادارے ماڈرنائزیشن کے نام سےکپل ڈانس جیسی لعنتوں کا سہرہ اپنے سر سجاتے نظر آتے ہیں. جس عمر میں بچوں کو اچھائی اور برائی کا شعور آنا چاہیے تھا اس عمر میں ان کی آپسی انڈرسٹینڈنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے.
    یہ کیسی تعلیم ہے جس میں بچوں کو انڈرسٹینڈنگ کے نام پر عشق و معشوقی کے جزبات سکھاے جا رہے ہیں. ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے. میرا اتفاق ہوا انگلش لینگوج کا کورس کرنے کا. اتفاقاً اس ادارے میں صبح میں سکول اور شام میں ٹیوشن سنٹر قائم تھا. میں اور میرے برادر محترم سمیت ان کے چند دوست بھی جو کہ اس کورس میں دلچسپی رکھتے تھے نے شمولیت اختیار کی. شام میں ہم سب بھائی اور دوست اس ادارے میں اپنے انگریزی زبان کہ تقویت کا عزم لیے داخل ہوئے. وہاں ایک تعداد آٹھویں سے دسویں جماعت کے طلبہ اور طالبات کی بھی تھی. پہلا دن تو تعارف میں گزرا. لیکن انکی اٹکیلیوں اور شرارتوں سے فضا نامعقول محسوس ہوئی. اگلے دن جب ہم دوبارہ کلاس لینے پہنچے تو ہم سے پہلے ایک بڑی تعداد اس ادارے میں بچوں کی صف اول میں موجود تھی. مختصر تعارف سے معلوم ہوا کہ یہ اسی سکول کے بچے ہیں جو صبح یہاں سکول پڑھتے ہیں. کلاس کو شروع ہوئے 15 منٹ گزرے تو چٹ چیٹ کا آغاز ہو گیا. جو کہ بڑھتے بڑھتے کاغذ کے گولے بنا کر ایک دوسرے کو مارنے تک جا پہنچا. استاد محترم وہاں تہزیب کا درس دیتے بے بس دکھائی دے رہے تھے. بالآخر استاد محترم کی جوانی پر بات چھڑ گی اور نو عمر 28 سالہ استاد محترم بھی خوش گپیوں میں مشغول ہو گئے. کلاس کا وقت انہی خوش گپیوں میں مکمل ہوا. ہمارے بار بار اصرار پر کلاس پر توجہ دلانے کی ناکام کوشش بھی جاری رہی. وہ دن ہمارا اس ادارے میں آخری دن تھا. کیا یہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں؟
    میرا سوال ان طالبات سے بھی ہے جنہیں چٹ چیٹ سے فرصت نہیں تھی.
    جن طلبا کے جزبات چکنی چپٹی باتوں سے ابھارے گئے کیا وہ کل روشن مستقبل بنا پائیں گے. پھر گناہ سب لڑکوں کا ہوتا کہ اچھے رشتے نہیں ملتے. پڑھی لکھی بیٹیاں بوڑھی ہو رہی ہیں. کیا ہم یہ اپنا مستقبل بنا رہے ہیں. میرا سوال ان طلبا سے بھی ہی جنہیں بکنی چپٹی باتیں سننے کا شوق ہے. کیا اپنی گھر کی بہن بیٹی کو یہ آزادی دو گے. کہ وہ تمہاری من چاہی گڑیا کی طرح اپنے کسی شہزادے کی باہوں میں جھومتی پھرے؟
    کیا ماں باپ اس لیے بھیجتے کہ ان کے بڑھاپے کو اپنے نکھٹو مستقبل سے برباد کرو؟
    میرا سوال تعلیمی اداروں سے ہے. یہ انڈرسٹینڈنگ کے نام پر بچوں کے جزبات ابھار کر اور ڈانس پارٹیوں سے ان میں قربتیں بڑھا کر ڈانس پارٹیوں میں تنگ لباس سے بچیوں کے جسموں کی نمائش کروا کر اور شہوت کو فروغ دے کر کونسا بھلائی کا کام انجام دیا جا رہا ہے؟ اللہ رب العزت کے متعین کردہ حج و عمرہ کے فرائض جہاں عورت کو صفا مروہ دوڑنے تک کی اجازت نہیں تم بنت ہوا کو نا محرموں میں نچا کر کونسی روزی حلال کر رہے ہو؟
    حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو شخص چاہے کہ مسلمانوں میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عزاب ہے.
    خدارا ہوش کے ناخن لیں. ماں باپ اپنے بچوں کے لباس اور تہزیب کا خیال کریں. اساتذہ بچوں کے مستقبل کو خراب ہونے سے روکیں. تعلیمی ادارے اس طرح کے ماحول کو ترک کر کہ ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کریں. جہاں سے نکلنے والے طلبہ اور طالبات تمہارے سکھاے ہوے علم و اداب کی بدولت اپنا مستقبل روشن کر سکیں. تاکہ مستقبل کی نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے.

    @EngrMuddsairH

  • پاکستان اور سیاستدان  تحریر:شمسہ بتول

    پاکستان اور سیاستدان تحریر:شمسہ بتول

    14 اگست 1947 سے لے کر اب تک اگر ملک پاکستان کے حق میں کوٸی صحیح معنوں میں مخلص رہا ہے تو وہ صرف قاٸداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح تھیں جنہوں نے اس کے لیے دن رات جدوجہد کی تھی ۔ ان کے جانے کے بعد پاکستان کے مساٸل میں مزید اضافہ ہو گیا اور معاشی حالت ابتری کی طرف چلی گٸی اس کی بڑی وجہ تقسیم کے وقت اثاثہ جات کی غیر منصفانہ تقسیم بھی تھی اور پھر قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد قاٸداعظم کا اس دنیا سے چلے جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا۔ اس کے بعد بہت سے سیاستدان آۓ جنہوں نے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور مارشل لاء بھی لگے لیکن ملک کی حالت میں کوٸی خاص بہتری نہیں آٸی۔
    اور پھر کچھ سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے اور زاتی مفادات کی وجہ سے پاکستان ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور یوں پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں معاشی بدحالی اور معاشرتی مسائل کی بڑی وجہ سیاسی عدم و استحکام ہے۔
    سیاستدانوں نے تقریباً ایک فیصد کام کیا اور ننانوے فیصد ملک کے وساٸل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ۔ سیاستدانوں کی طاقت کے غلط استعمال اور کرپشن اور سفارشات کی وجہ سے ہمارے قومی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا ہے
    مگر ہم لوگوں نے کبھی سوال نہیں پوچھا کہ ہمارے وطن عزیز کے اثاثہ جات کو نقصان پہنچانے والوں سے یا ہم نے کبھی ان کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف آواز ہی نہیں اٹھاٸی بلکے خاموشی سے فقط اپنے کام سے غرض رکھی اور اس طرح ان کرپٹ سیاستدانوں کو شے ملتی رہی اور 74 سالوں سے یہ ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں.
    تعجب کی بات ہے کہ یہ سیاستدان حکمران بنتے ہی اپنے سارے فراٸض بھول جاتے جو کل تک یہ کہتے تھے کہ وہ پاکستانیوں ہمیں ووٹ دینا ہم آپ کے وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے آپکے مسائل حل کریں گے وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھول جاتے کہ عوام بھی کوٸی شے ہے یا ان کے اس ملک کے زمے کچھ فراٸض ہیں بلکہ وہ تو جس سڑک سے گزرنا ہو وہاں پہ رکاوٹیں کھڑی کروا دیتے کہ یہاں سے عوام نہ گزریں کیونکہ ہم نے گزرنا ہے اس ملک کے اثاثوں اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی عیش و عشرت پہ اڑا دیتے
    اپنے بچوں کو باہر کے ملک میں تعلیم کے لیے بھیجتے باہر کے ملک میں کاروبار اور گھر بناتے وہاں پہ چٹھیاں گزارتے تو پھر الیکشن بھی وہیں لڑ لیا کریں وہیں حکمرانی بھی کریں مگر نہیں رہنا وہاں پر بچے وہاں کی یونیورسیٹیز میں پڑھانے علاج وہاں سے کروانا مگر حکومت پاکستان میں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان میں ان کرپٹ سیاستدانوں کا احتساب نہیں کیا جاتا انہیں فوراً سزاٸیں نہیں سناٸی جاتیں اس لیے یہ بے خوف خطر اپنی طاقت کا ناجاٸز استعمال کر کے ٹیکس چوری کرتے عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر بناۓگٸے پروگرامز کے فنڈز اپنے اکاونٹس میں جمع کرواتے اور تو اور جو ترقی یافتہ منصوبے ہیں ان میں بھی سستا اور ناقص میٹیریل لے کے باقی اپنے اکاونٹس میں۔
    یہ سیاستدان عوام کے مسائل سننا بھی مناسب نہیں سمجھتے مگر الیکشن کے وقت پھر سے عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کے نام پہ بے وقوف بنانا شروع کر دیتے اور غربت اور مہنگاٸی کی ستاٸی عوام مجبوراً یقین کر لیتی کہ شاید واقع ہی یہ ان کے حالات بدل دیں گے
    ہمارے ملک کے تقریبا ہر سیاستدان پر کرپشن کے اور دیگر کیسیسز چل رہے ہیں یہ کیسیسز خود بہ خود تو نہیں بنے بلکے انہوں نے کرپشن کی ملکی اثاثہ جات کا بے دریغ استعمال اور طاقت کا غلط استعمال کیا تبھی ان کے خلاف یہ کیسیز چل رہے اس لیے مہربانی کر کے اپنے آنکھوں سے زات پات اوربراری اور صوبوں کی بنیاد پہ ووٹ دینا اس پٹی کو اتار دیجیے صرف اورصرف پاکستان کی بہتری کے لیے ووٹ کاسٹ کریں۔ کسی بھی پارٹی کے ورکرز بن کر نہیں بلکے پاکستانی بن کے سوچیں کہ کون پاکستان کے ساتھ ہے حقیقی معنوں میں۔ جو لوگ ساری زندگی باہر گزاریں اور وہاں جاٸیدادیں بناٸیں وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتے کیسے انہیں حل کر سکتے کیونکہ انہوں نے تو یہاں رہنا ہی نہیں یہاں تو ہم نے رہنا ہے اور اسکی بہتری کے بارےمیں بھی ہمیں مل کر کوشش کرنا ہو گی😇

    ‎@b786_s

  • ماحولیاتی تبدیلیاں اور پاکستان  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ماحولیاتی تبدیلیاں اور پاکستان تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں اور کرونا کی روک تھام کے لئے کئے گئے اقدامات قابل تحسین ہیں۔
    ان اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر بھی خوب پزیرائ ملی۔
    ماحولیاتی تبدیلیوں کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لئے پاکستان کا بلین ٹری سونامی منصوبہ ٹاک آف دی ٹاؤن رہا۔
    مگر بغض عمران کی ماری اپوزیشن ان منصوبوں پر بھی بلاجواز تنقید کرتی نظر آئ۔اس تنقید کے پیچھے بغض عمران کے علاوہ کمزور آئ کیو لیول والا معاملہ بھی تھا،
    جیسا کہ ن لیگ کے ایک ممبر
    پنجاب اسمبلی کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ اتنے درخت لگانے سے ہمارے شہر جنگل بن جائیں گے۔
    شعور کی کمی کا دنیا میں کوئ علاج نہیں۔
    اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ عمران خان کی مخالفت کریں،اس پر تنقید کریں۔مگر خدارا ان منصوبوں کو تو بخش دیں۔جن کے ساتھ پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے۔
    کہا جاتا ہے کہ مستقبل میں ملکوں کے مابین جنگیں خدانخواستہ پانی جیسے وسائل کے معاملے پر ہوا کریں گی-
    گلوبل وارمنگ سے دن بدن دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے،جبکہ زیر زمیں آبی وسائل کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔
    ان حالات میں ہمیں ڈیمز بنانے کی سخت ضرورت تھی۔جو کہ بدقسمتی سے پچھلی حکومتیں نہیں بنا سکیں۔
    بھارت،چین جیسے ہمسایہ ممالک نے بے تحاشہ ڈیمز بنا کر اپنا مستقبل کافی حد تک محفوظ بنا لیا ہے۔مگر ہم تماشہ دیکھنے میں مصروف رہے۔
    ڈیمز نہ بناۓ جانے کی وجہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں ہی کا کردار تھا۔جبکہ حکمرانوں کی مفاد پرستانہ مصلحتیں اور ان کے کمیشن کی خواہشات بھی اس معاملے میں آڑے آتے رہیں۔
    کالا باغ ڈیم جیسے اہم ترین منصوبے کو بھی اپنے اپنے زاتی اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا،حالانکہ یہ منصوبہ ہماری توانائ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
    ماہرین نے اس منصوبے کو ہر لحاظ سے مناسب اور عوام کے لئے بے ضرر قرار دیا مگر مفاد پرست سیاستدان اپنی ہی ضد پر اڑے رہے،جس کا بھرپور فائدہ بھارت نے اٹھایا اور جائز ،ناجائز طریقے سے کئی متنازعہ جگہوں پر بھی ڈیمز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔
    اس مفاد پرست ٹولے نے بھارت کی طرف سے ہماری آبی گزر گاہوں کا پانی روک کر ڈیم بنانےپر احتجاج تو دور کی بات،کبھی مخالفت میں بات تک نہیں کی۔ہر ایک کو اپنے اپنے وظیفے بند ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔
    مگر جب بھی کالا باغ ڈیم کسی بھی فورم پر زیر بحث آیا تویہ لوگ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اسکی مخالفت میں پہنچ گئے۔
    اس منصوبے کی فزیبلیٹی رپورٹ اور رہائشی کالونیوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے جو ضائع ہو گئے۔اسی مقام پر تیار کی گئی رہائشی کالونی اور سڑکیں کھنڈر بن گئیں۔
    ایک انتہائ شاندار منصوبہ سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔کسی کو پرواہ نہ ہوئ۔کسی نے نہ سوچا کہ ہمارے بچوں کا کیا ہو گا؟
    کیسے ہم مستقبل میں توانائ کے چیلنجز سے نمٹ پائیں گے۔؟
    کوئ فکر کیوں کرتا؟
    جنہیں فکر کرنا تھی وہ تو بیرونی ممالک میں اپنے بڑے بڑے ایمپائر کھڑے کر چکے ہیں،انہوں نے کونسا یہاں رہنا ہے؟
    کونسا انکے بچوں کا مسقبل اس ملک کے مسائل سے جڑا ہوا ہے؟
    وہ تو یہاں صرف لوگوں کو بیوقوف بنا کر اقتدار کے مزے اڑانے کے لئے تشریف لاتے ہیں۔
    یہ مکار اور دھوکے باز لوگ اس بدقسمت ملک پر حکمرانی کے لئے اپنی آئندہ نسلوں کو بھی تیار کر چکے ہیں۔
    ہم انگریزوں کی غلامی سے تو نکل آۓ مگر اپنی غلامانہ اور بیوقوفانہ سوچ کی بدولت اب بھی ان لٹیروں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
    ملکی خزانہ یہ لوگ لوٹ لیتے ہیں،جبکہ ہمارے حصے میں صرف
    آوے ای آوے
    کے نعرے آتے ہیں۔
    تاہم یہ امر انتہائ خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت نے توانائ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوۓ نہ صرف شجر کاری مہم چلا رکھی ہے بلکہ متعدد ڈیمز پر بھی کام شروع کر رکھا ہے۔
    ان میں سے کچھ ڈیمز تو ان شاءاللہ موجودہ حکومت کی اسی مدت میں مکمل ہو جائیں گے،کیونکہ وہاں دن رات کام جاری ہے۔
    اس کام کی نگرانی براہ راست وزیر اعظم ہاوس سے کی جارہی ہے۔
    جو منصوبے حکومت کی موجودہ مدت میں پورے نہیں ہوں گے وہ کچھ عرصہ بعد پورے ہو جائیں گے۔
    عمران خان کی سوچ دوسرے سیاستدانوں سے قدرے مختلف ہے۔وہ قوم کا سوچتا ہے،آنے والے الیکشن کا نہیں۔
    اسی نظریے کے تحت اس نے کئی ایسے ڈیمز پر بھی کام شروع کروا رکھا ہے،جو اسکی موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد پایہ تکمیل تک پہچیں گے۔
    اب یہ بات اللہ کے سوا کسی کو نہیں معلوم کہ 2023میں کون اقتدار میں آۓ گا؟
    اسکے باوجود عمران خان نے ان میگا پراجیکٹس پر کام شروع کروا کے دل گردے کا مظاہرہ کیا،جو ماضی کے حکمران نہیں کر سکے،
    کیونہ وہ اس محدود مفاد پرست سوچ کے اسیرتھے کہ ان لمبے عرصے کے اور عام انتخابات کے بعد مکمل ہونے والے منصوبوں کا انکو الیکشن کے وقت سیاسی فائدہ نہیں ہو گا۔
    اسلئے ایسے منصوبے انکی ترجیحات میں شامل نہ ہو سکے۔
    کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اگر متنازعہ بنا دیا گیا تھا تو دوسرے کئی ڈیمز پر کام شروع کروایا جا سکتا تھا۔
    مگر سواۓ عمران خان کے اس سوچ پر کسی دوسرے نے کام نہ کیا،جو ہماری بدقسمتی تھی۔
    ان سارے ڈیمز کی تکمیل کے بعد بھی شائد ہماری ان ماضی کی غفلتوں کا ازالہ نہ ہو پاۓ مگر کسی حد تک ہم اس مسئلے کی سنگینی سے البتہ ضرور نکل آئیں گے۔
    آبی وسائل کو بڑھانے اور گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں آگے بڑھنے کے لئے ابھی سے آنے والے کئی عشروں کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔چین ماڈل فالو کرنا ہو گا،جہاں ہزاروں ڈیمز بناۓ جا چکے ہیں-#

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    ‎@lalbukhari

  • شکر واجب ہے  تحریر : شاہ زیب

    شکر واجب ہے تحریر : شاہ زیب

    انسان کی زندگی مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے۔
    جس میں نعمت ہے تو ساتھ ہی زحمت بھی ہے۔
    سکھ ہے تو ساتھ ہی دکھ بھی ہے۔
    سکون ہے تو بے آرامی بھی ہے۔
    یعنی ہر چیز/جذبے کے ساتھ اس کا دوسرا پہلو بھی موجود ہے۔
    جو اس زندگی کا اصل حسن ہے۔
    کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم میں سے اکثریت اب بس منفی چیزوں، رویوں، باتوں کے متعلق ہی بات کرتی پائی جاتی ہے۔ اگر اتنی نعمتوں کے ساتھ تھوڑی سی آزمائش بھی آجاۓ تو کیا ہم پر شکر کرنا واجب نہیں رہتا؟
    ہماری زندگی میں ہر دن کوئی نہ کوئی خوشی ضرور ملتی ہے اور کبھی غم بھی۔
    لیکن کیا آپ نے غور کیا کہ ہم اس خوشی کا ذکر کم اور غم کا ذکر زیادہ کرتے ہیں۔ کیا اس خوشی کا شکر ہم پر واجب نہیں؟
    ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی زندگی سے خوش یا مطمئن نہیں ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے شکر ادا کرنا اور نعمتوں کا شمار کرنا کم کر دیا ہے۔ ہم ہر وقت خود ترسی یا کسی غم میں ڈوبے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ نہیں جو فلاں کے پاس ہے۔ کیا ہوتا اگر وہ ہمیں مل جاتا؟
    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جو آپ کے پاس ہے موجود ہے وہ کسی اور کی بھی خواہش ہو سکتی ہے؟
    ہماری زندگی میں بے سکونی، بے آرامی، جیلسی، منفی رویوں کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم اپنے حال سے خوش اور آسودہ نہیں۔
    ہم ﷲ پاک کی عطا کردو نعمتوں سے خوش نہیں اور ان تمام چیزوں کا شکر نہ ادا کر کےہم نے خود کو بے سکون اور بے چین کر رکھا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکر میں مزید ناشکری کر رہا ہے۔
    یاد رکھیں! ﷲ تعالیٰ جب ہمیں اپنی نعمت عطا کرتے ہیں تو ہم پر اس کا شکر واجب ہوجاتا ہے۔ اور جب ہم شکر ادا کرتے ہیں تو نہ صرف اس سے دینے والی ذات خوش ہوتی ہے بلکہ ہمیں بھی سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ جس سے ﷲ خوش ہو کر ہمیں مزید نوازتا ہے۔
    آپ بھی آج سے شکر گزاری کی عادت کو اپنائیں۔ ﷲ نے جو عطا کیا اس کا شکر کریں۔زندگی میں مزید ترقی کے لیے دعا اور محنت ضرور کریں کہ یہ آپ کا حق ہے لیکن اس سب میں یہ بھی نہیں بھولیں کہ جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے وہ ہمارے اعمال کے بدلے نہیں بلکہ ﷲ تعالیٰ کی رحمت کے صدقے ملا ہے۔
    جس کا شکر ادا کرنا ہم پر واجب ہے۔ اور بے شک اسی میں انسان کی فلاح ہے۔

    ‎@shahzeb___

  • زکوۃ اسلام کا ستون اور انسانی معاشرہ  تحریر: عتیق الرحمن

    زکوۃ اسلام کا ستون اور انسانی معاشرہ تحریر: عتیق الرحمن

    انسانی معاشرے مختلف لوگوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کچھ جسمانی طور پر مضبوط ہیں جبکہ دیگر کمزور ہیں۔ کچھ دانشورانہ طور پر برتر ہیں جبکہ دوسرے کم سمجھے جاتے ہیں پر ہوتے نہیں ہیں۔ سب سے اہم فرق مال و دولت سے متعلق ہے۔ مسلمان کی دولت پر واجب الادا سالانہ ٹیکس ہے۔ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے جس پر عمل کیے بغیر اسلام مکمل نہیں ہوتا۔
    یہ اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ جو اپنے منہ میں چاندی کا چمچ لے کر پیدا ہوتا ہے جبکہ دوسرا مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو ان حالات میں زکوۃ کے ستون پر عمل کرنا اسلامی فریضوں میں شامل ہوتا ہے۔ تمام معاشروں میں معاشی طور پر کمزور اکثریت میں ہوتے ہیں اور قدرتی اور غیر قدرتی آفات سے شدید متاثر بھی۔ اسی طرح ، موجودہ کوویڈ 19 وبائی بیماری نے معاشرے کے تمام طبقات کو دھچکا پہنچایا ہے لیکن سب سے زیادہ متاثرہ درمیانے اور نچلے طبقے کو نقصان پہنچا ہے۔ وبائی امراض نے امیر اور غریب کے درمیان فرق کو بڑھا دیا ہے اور سماجی اقتصادی کمزوریوں میں ایک نئی پرت کا اضافہ کیا ہے۔ سماجی یکجہتی کے بہت سے مجموعی نظام غیر رسمی اور غیر رسمی کاروباری شعبوں میں مصروف دیگر مزدوروں نے شہروں میں طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی روزی روٹی کھو دی ہے۔ وہ غربت کے جال میں پھنس چکے ہیں اور زیادہ پسماندہ ہو چکے ہیں ، اس لیے انہیں بارش کی ضرورت ہے جو کہ مٹی تک پہنچتی ہے ، ترقی یافتہ ممالک میں حکومت کی طرف سے اور فلاح یافتہ لوگوں کی طرف سے فوری امداد اور مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اسلام نے صدقہ دینے کے تصور پر زور دیا ہے۔ خیرات کو توہین آمیز طریقے سے نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس طرح دیا جانا چاہیے کہ ضرورت مندوں کو پسماندگی کا احساس نہ ہو۔ ان کی عزت نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے جبکہ آہستہ آہستہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا چاہیے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صدقہ مستحق افراد کو باوقار طریقے سے دینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں چند پیسے وصول کرنے کے لیے کھلے آسمان کے نیچے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جہاں انہیں ہر آنے جانے والے کی سوالیہ نظروں کا سامنا کرنا پڑے۔ اسلام صدقہ وصول کرنے والوں کی عزت نفس کے بارے میں بہت خاص احکامات دیتا ہے صدقہ و زکوۃ سخاوت کام ہے- قرآن مومنوں کو حکم دیتا ہے کہ "اپنے خیراتی کاموں کو یاد دہانیوں اور تکلیف دہ الفاظ سے منسوخ نہ کریں”۔ اسلام لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ مومن اپنی دولت اور وسائل ضرورت مندوں کے ساتھ بانٹیں۔ جو لوگ بہت زیادہ دولت اور وسائل کے ساتھ معاشی طور پر مضبوط ہیں ان کو اضافی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنی دولت کو کئی گنا زیادہ کے ساتھ بانٹیں۔ صدقہ دینے کا تصور اسلامی معاشی نظام کے لیے بنیادی ہے۔ اس کا مقصد غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے۔ یہ سماجی یکجہتی کو ایک آئیڈیل کے طور پر زور دیتا ہے جو انصاف اور سخاوت دونوں کا حکم دیتا ہے جبکہ دولت کے ذخیرہ اندوزوں کی مذمت کرتا ہے۔ صدقہ دینے کی ضرورت اور قدر قرآن میں بڑی تعداد میں بیان کی گئی ہے۔ ان شرائط کے معنی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور یہ اکثر ایک دوسرے کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو شخص زکوٰۃ ادا کرتا ہے وہ نہ صرف اپنی دولت اور جائیداد کو پاک کرتا ہے بلکہ معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ قرآن پاک نے زکوٰۃ دینے سے روح کی زرخیزی کو تقویت بخشی ہے ، پیداوار میں مزید اضافہ کیا ہے۔
    یہ ایک مومن کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ اپنے جائز وصیت میں سے اپنے خالق کو زکوٰۃ ادا کرے جس نے اسے اس کے لیے دولت کمانے اور جمع کرنے کے قابل بنایا اپنی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی۔ دوسرے لفظوں میں ، کسی کو اپنی صلاحیت کے مطابق دینا ہے اور خاندان کے ساتھ ساتھ ذاتی ضروریات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ قرض حسنہ بھی صدقہ دینے کی ایک شکل ہے ، جو اللّہ کی طرف سے انعام کے ساتھ منسلک ہے۔ قرآن پاک لوگوں کو تلقین کرتا ہے کہ وہ اللہ کو "ایک خوبصورت قرض” پیش کریں ، جو اللہ کے فضل سے ہو گا، چونکہ قرض حسنہ اللہ کو آخری دینے والا سمجھا جاتا ہے ، اس طرح کی پیشکشوں کو محض اللہ کی طرف لوٹنے کے عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اس کی سخاوت کی وجہ سے ہے۔ . اسی طرح کی دیگر اصطلاحات جیسے خیرات بھی دوسروں کی ضرورت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے کے تصور کو لاگو کرنا حکومتی ذمہ داری تو ہے ہی لیکن بطور مسلمان ہماری دینی فریضہ بھی ہے اور اللّہ کی خوشنودی کے لئے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اسلام کے پانچوں ستونوں میں سے ایک زکوۃ دینے پر عمل کرے اور امید ہے کہ یہ کوویڈ 19 کے منفی اثرات کو کم کرے گا اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں پرامن بقائے باہمی ہوگی۔ قرآن کے الفاظ میں جو لوگ اپنے وسائل سے ضرورت مندوں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ واقعی نیک ہیں۔

    @AtiqPTI_1

  • پاکستان قدرت کا ایک خوب صورت تحفہ اور حسین شاہکار ہے  تحریر؛شمسہ بتول

    پاکستان قدرت کا ایک خوب صورت تحفہ اور حسین شاہکار ہے تحریر؛شمسہ بتول


    14 اگست 1947، ,27 رمضان المبارک کی بابرکت رات کو ایک عظیم ریاست وجود میں آٸی جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔ پاکستان ہمارے لیے اللّٰہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ ہمارے آباٶاجداد کی لاتعداد قربانیوں کے بعد ہمیں یہ وطن عزیز حاصل ہوا جس میں ہم اپنی مرضی سے اپنے اپنے کلچر اور مذہب کی آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکتے۔
    پاکستان اندھیروں میں ایک امید کی کرن بن کر ابھرا جہاں ہر فرد کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیا گیا خواہ وہ کسی بھی مذہب کا پیروکار یا کسی بھی نسل سے ہو ۔ اس وطن کی قیام میں ہمارے شہیدوں کا لہو ، ہماری بہنوں کی عزتیں بھی شامل ہیں اور یہ سب قربانیاں ہمارے بڑوں نے اپنی آنے والی نسل یعنی ہمارے لیے دیں تھی مگر افسوس ہم نے ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیا اور اس عظیم نعمت کی قدر نہیں کی جیسا کہ اسکی قدر کرنے کا حق ہے۔
    آزادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اپنے وطن کی سڑکوں یا گلی کوچوں میں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا شروع کر دیں۔ اس کے قوانین توڑیں اور نہ ہی اسکا یہ مطلب ہے کہ آپ اس ملک کو کوسنا شروع کر دیں کہ یہاں فلاں فلاں مسٸلہ ہے وغیرہ وغیرہ سو اس لیے جی ہم باہر چلے جاتے ہیں ۔یہاں مساٸل کے علاوہ رکھا ہی کیا ہے اور اس طرح کی بہت سی باتیں جو کہ سراسر غلط ہوتیں ہم بڑے فخر سے کہہ رہے ہوتے۔
    آزادی راۓ کے نام پہ ملک کو کوسنا منافقت کے زمرے میں آتا ہے اس ملک نے آپ کو شناخت دی ایک پہچان دی عزت اور آزادی سے جینے کا حق دیا اور محض چند مساٸل کی بنیاد پر یہ کہہ دینا کہ یہاں ہے ہی کیا جبکہ ہمیں تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے بڑوں نے لہو دے کر اسے حاصل کیا اب ہم نے محنت و لگن سے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اس کے مساٸل کو حل کرنے کی کوشش کرنی ہے نہ کہ اسے چھوڑ کر بھاگ جانا ہے
    اور جن کے پاس باہر جانے کا آپشن نہیں ہوتا وہ پھر سارا سال اسکی سڑکوں پہ کوڑا کرکٹ پھنکتے یا پھر بجلی چوری کر لی یا ٹیکس چوری اور پھر شور مچانا شروع کر دیتے کہ جی پاکستان میں تو مساٸل ہی بہت ہیں۔ اور پھر سال میں ایک دن 14 اگست پہ جھنڈا لگا کے اور سوشل میڈیا پہ پوسٹ شیٸر کر دی یہ بتانے کے لیے جی ہمیں تو بڑی محبت ہے بس ایک دن کے لیے ۔اس طرح فرض ادا نہیں ہوتے عملی طور پر اس سے محبت کرنا سیکھیں صرف ترانے کے وقت کھڑا ہو جانا کافی نہیں بلکہ ادب کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ آپ اس ملک میں ٹیکس چوری نے کریں اس کے وساٸل کا بے دریغ استعمال نہ کریں بجلی چوری نہ کریں پانی اور گیس ضاٸع نہ کریں اس کی سڑکوں اور گلیوں میں کوڑا نہ پھینکیں۔
    اس دن باجے بجا کر ٹاٸم پاس کرنے کی بجاۓ اپنے بچوں کو ترغیب دیں کہ بیٹوں یہ دن تجدید عہدو وفا کا دن ہے اس دن ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم ایک آزاد ریاست میں سانس لے رہے اور عزت و تحفظ کے ساۓ میں جی رہے ہیں ۔لہذا ہم اس دن یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر ممکن پاکستان کی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کریں گے اس کے وساٸل کا ضیاع نہیں کریں گےاور اس کے قوانین کا احترام کریں گے اور پوری ایمانداری سے اس وطن کے فراٸض جو کہ ہمارے اوپر لاگو ہیں ہم ادا کریں گے۔
    اور یہی اس وطن سے محبت اور وفا اور ادب کا تقاضہ ہے۔ مہربانی کر کہ تیرے میرے کا راگ الاپنا چھوڑ دیں پاکستان ہم سب کا ہے اسکی تعمیر و ترقی ہم سب کا فرض و ذمہ داری ہے۔
    جن سے محبت ہوتی نہ ان میں نقص نہیں نکالے جاتے بلکہ انکی بہتری کی خاطر محنت کی جاتی اسلیے پاکستان سے شکوے کرنے کی بجاۓ اسکی بہتری کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان کے بغیر ہمارا کوٸی وجود نہیں اور نہ ہی کوٸی شناخت۔ مگر آپ نے اسے کیا دیا کچھ بھی نہیں الٹا آپکی لاپرواہیوں کی وجہ سے پاکستان مساٸل کا شکار ہوا ۔ ہمارے بڑوں نے بہت مشکلات و مصاٸب کے بعد اسے حاصل کیا خدارا اسکی قدر کریں اور اگر واقع ہی آپکو اس سے محبت ہے تو اسکا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے آپ اپنے گھر کا رکھتے ہیں۔ ملک پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب اس گھر کے فرد ہیں لہذا ہمیں مل جل کر اپنے پیارے گھر پاکستان کی تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے😇

    ‎@b786_s

  • ہمیں ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا تحریر: سحر عارف

    ہمیں ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا تحریر: سحر عارف

    اردو جو کہ قیام پاکستان سے ہی پاکستان کی قومی زبان بن گئی یا یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اردو پاکستانیوں کی پہچان بن گئی۔ ایک دور تھا کہ جب پاکستانی اردو بولنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے سکولوں، کالجوں میں شوق سے اردو بولتے اور سیکھتے تھے۔ اس وقت اردو زبان کو بہت اہمیت حاصل تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ ایک وقت میں اردو زبان کو بہت ترقی بھی حاصل رہی۔

    اردو زبان کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ ہاتھ ہمارے ادیبوں اور شعراء کا ہے جنہوں نے اپنی بے انتہا محنت سے اردو زبان کے لیے کام کیا۔ بے شک یہ ان کی اپنی زبان سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اردو کو آج بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی قیام پاکستان کے وقت تھی؟ کیا باحثیت قوم ہم آج اپنی قومی زبان کا حق صحیح سے ادا کررہے ہیں؟ کیا اپنی زبان کو پیچھے چھوڑ دینے سے اور اسے بھول جانے سے ہم دنیا میں اپنی پہچان بنا پائیں گے؟ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے آخر اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟

    آج اکیسویں صدی میں اردو زبان کافی حد تک اپنا مقام کھو چکی ہے۔ جہاں صدیوں پہلے اردو بولنے، لکھنے اور سننے کا ذوق زور وشور سے ہوا کرتا تھا آج وہیں بہت سے پاکستانی کو انگریزی بولنے، سننے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    یہاں تک کہ اگر کوئی بچہ اردو میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کر رہا ہو یا پھر کوئ اردو مضمون میں ڈگری لے رہا ہو تو لوگ انھیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انھیں اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جو سائنسی مضمون پڑھنے والے بچوں کو دی جاتی ہے۔ اس کے علاؤہ آج کے دور میں پڑھے لکھے ماں باپ اپنے بچوں کو کم عمری میں ہی انگریزی زبان سیکھنی شروع کر دیتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہوکر اچھی انگریزی بول سکے۔

    یہی وجہ ہوتی ہے کہ بہت سے بچے اپنی مادری زبان سے دور ہوجاتے ہیں اور پھر جب ان کے سامنے کوئی دوسرا اردو بولتا یا لکھتا ہے تو اسے بچے خود سے حقیر سمجھتے ہیں اور یوں معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ جو قومیں اپنی زبان، اپنی ثقافت کو اپنے ہاتھوں کھو دیتی ہیں وہ پھر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی صرف اور صرف زوال کا شکار ہوتی ہیں۔

    بس اب تو ڈر اس بات کا ہے کہ ناجانے اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟

    زبانیں کاٹ کہ رکھ دی گئی نفرت کے خنجر سے
    یہاں کانوں میں اب الفاظ کا رس کون گھولے گا؟
    ہمارے عہد کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے
    ہمیں یہ ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا؟
    (فیض احمد فیض)

    @SeharSulehri