Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک   تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اور والدین کے بارے میں تو آپ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ پیدائشی یتیم تھے۔ حضرت بی بی آمنہ کی وفات کی بعد آپ ﷺ کی پرورش آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے بڑی محبت اور دل داری سے کی ۔اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے پوتے تھے مگر وہ خصوصا

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق و عادت کی وجہ سے ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ بیت اللہ کی مسند پر ان کے علاوہ کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا تھا مگر انہوں نے آپﷺ کو اس پر بیٹھنے سے کبھی منع نہیں کیا بلکہ ایک موقع پر فرمایا: میرے اس بیٹے کو چھوڑ دو۔ خدا کی قسم اس کی شان کچھ اور ہی ہے۔ وہ آپﷺ کو کندھے پر بٹھا کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے۔

    حضرت عبدالمطلب نے اپنی بیماری کے دوران ہی حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو پرورش کے لیے اپنے باقی بیٹوں کے بجائے حضرت ابو طالب کے حوالے کر دیا جو خود بھی اپنی عظمت اور سخاوت کی وجہ سے قوم کے سردار مانے جاتے تھے۔وہی آپﷺ کی صحیح طور پر حمایت اور نگرانی کر سکتے تھے۔

    اس وقت مکہ کے اجڈ اور غیرمہزب ماحول میں خود کو برائیوں سے بچا کر پاک صاف زندگی گزارنا صرف نبی ہی کا کام ہو سکتا تھا کیونکہ نبی کی حفاظت اور تربیت اللّٰہ تعالٰی خود فرماتا ہے۔اس لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے شریف، سنجیدہ، فرماں بردار، حیادار، راست گو،بلندہمت اور باادب تھے۔

    بچپن کی عمر کھیل کود اور بے فکری کی ہوتی ہے۔ مگر آپ ﷺ کا بچپن بالکل محنتلف اور مثالی ہے۔آپ ﷺ ہمیشہ مناظر قدرت پر غور و فکر کرنے ، خالق کائنات کی عظمت اور اس کے عجائبات پر سوچ بچار کرنے میں سکون محسوس کرتے۔ حضرت ابو طالب آپ ﷺ کے بچپن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بچپن میں آپ ﷺ کو جھوٹ بولتے ، ہنسی مذاق کرتے ،نہ ہی کبھی کوئی جاہلانہ بات کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ کی کبھی بازاری اور آوارہ لڑکوں سے دوستی نہ رہی

    قارئین ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ حسنہ سلوک میں بھی اپنی مثال آپ ہیں
    ایک مشہور وقع ہے کہ ایک بوڑھی عورت مکہ میں رہتی تھی ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی اس کے گھر کے سامنے سے گزرتے وہ آپ ﷺ پر کوڈا پھینک دیتی۔ کبھی پتھر اور کبھی کانٹے آپ ﷺ کے راستے میں بچھاتی۔آپ ﷺ کو بہت تکلیف ہوتی لیکن آپﷺ اسے کچھ نہ کہتے تھے۔

    ای دن ہمارے پیارے نبی ﷺ اسی راستے سے گزرے تو کسی نے ان کے اوپر کوڈا نہیں پھینکا۔ دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ آپ ﷺ اس عورت کے گھر گئے ۔ وہ بہت بیمار تھی ۔ آپ ﷺ نے اسے کھانا کھلایا۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوئی اس کا خیال رکھا ۔ رسول اللہ ﷺ کے اس سلوک کی وجہ سے وہ عورت مسلمان ہو گئی۔

    اللہ پاک ہمیں بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی طرح سب سے آچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • ‏شکریہ ادا کرنا سیکھیں تحریر ام سلمیٰ

    ‏شکریہ ادا کرنا سیکھیں تحریر ام سلمیٰ

    اکثر اوقات ہم سڑک پے جاتے ہوئے لوگو کو روک کر راستہ پوچھتے ہیں۔ اور پھر جیسے ہی ہمیں مطلوبہ جواب ملتا ہے ہم اپنی راہ لیتے ہیں ایک لمحے کے لیے اگلے کا شکریہ ادا نہں کرتے اور بڑھ جاتے ہیں جیسے ہمارا کوئی ملازم کھڑا تھا ہم بلایا اور راستہ پوچھ لیا.
    بہت سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے شکریہ ادا کرنا اور لوگوں اور ہماری زندگیوں میں موجود چیزوں کے لیے شکریہ ادا کرنا ضروری ہے ، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ شکر گزار ہونا آپ کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے؟ یہاں ایک فہرست ہے جن وجوہات کے لیے ہمارا شکر گزار ہونا بہت اچھا ہے!

    اور سب سے اچھی بات یہ کے آپکا شکریہ ادا کرنا دوسروں کو خوشی دیتا ہے اور ان میں اچھا کام کرنے کی تحریک پیدا کرتا ہے ایک اچھے معاشرے کے لیے یے سود مند ہے.

    آپ دوسرے لوگوں کو اچھا محسوس کرتے ہیں جب آپ انہیں دکھاتے ہیں کہ آپ ان چیزوں کی تعریف کرتے ہیں جو وہ آپ کے لیے کرتے ہیں۔ ایسا کرنا اچھے دوستوں کو بہترین دوست بنا سکتا ہے۔ ایک سادہ "شکریہ” بہت آگے جاتا ہے اور آپ کو بہتر دوستی میں مدد دیتا ہے ، اور آپ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے دوستوں کے ساتھ رشتوں میں اور رابطوں میں اور بھی بہتر ہو جاتے ہیں۔ جب آپ دوسروں کے بارے میں اچھا محسوس کرتے ہیں ، تو یہ آپ کو اچھا لگتا ہے اور پھر سب کو اچھا لگتا ہے!

    شکر گزار ہونا آپ کو اعتماد دیتا ہے۔ اسی طرح آپکا شکریہ ادا کرنا دوسروں کو بھی اعتماد دیتا ہے.

    جب آپ اپنی زندگی کی چیزوں کے لیے شکر گزار ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر یہ ایک خوبصورت غروب آفتاب جیسی آسان چیز ہے اس کو دیکھتے ہوئے اچھا محسوس کریں اور رب تعالیٰ کا شکر ادا کریں تو آپکو سکون ملتا ہے تو اس طرح شکر آپ کو زیادہ خود اعتمادی دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں سے اپنے آپ کا موازنہ کرنے کے بارے میں زیادہ پراعتماد اور کم پریشان ہوں گے۔ شکر گزار ہونا اچھی عادت ہے اس عادت کو دیکھ کر دوسرے بھی آپ کی طرح شکر گزار ہونا چاہیں گے.

    شکرگزاری آپ کی سوچ کو مثبت اور آپکو اچھا انسان بناتی ہے۔

    شکر گزار لوگ منفی کے بجائے زیادہ مثبت ہوتے ہیں۔ جب وہ پانی کے ساتھ ایک گلاس دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔ منفی لوگ پانی کا وہی گلاس دیکھیں گے اور کہیں گے کہ یہ آدھا خالی ہے۔ ہم جو پانی ہے اس کے لیے شکر گزار بننا چاہتے ہیں ، اس پانی کی فکر نہ کریں جو نہیں ہے۔

    سب سے اچھی بات آپکا شکر گزار ہونا آپ کو بہتر سونے میں مدد دے سکتا ہے۔

    اگر آپ ڈائری لکھتے ہیں تو ہر دن کے اختتام پر آپ ان تمام چیزوں کی فہرست لکھیں جن پر آپ اس دن کے شکر گزار ہیں تو آپ کو بہتر نیند آئے گی۔ اس سے آپ کو اپنے دن کی تمام اچھی چیزوں کو یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے ، جیسے آپ کے کھانے میں لذیذ بریانی یہ اپنی پسند کا کھانا کھایا اور شکر ادا کیا ، یا وہ دوست جس نے آپ کے اسکول کے کام میں آپ کی مدد کی ہو اور آپ نے اِسکا خوشی سے شکریہ ادا کیا ہو تو جب آپ یاد کریں گے آپ بڑی مسکراہٹ کے ساتھ خوشی اور سکون سے سو جائیں گے.

    یہ صرف آپ کو خوش نہں کرتا بلکہ جس شخص کا آپ شکریہ آدا کر رہے ہیں اسے بھی خوش کر دیتا ہے.
    شکر گزار ہونا آپ کو زندگی کے مشکل وقت سے گزرنے میں بھی مدد کرتا ہے ، کیونکہ آپ اپنی زندگی کی تمام اچھی چیزوں کو آسانی سے ذہن میں رکھ سکتے ہیں۔ شکر گزار ہونا آپ کو خوش کرتا ہے اور خوش رہنا آپ کے دماغ اور جسم کو صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے!

    شکریہ ادا کریں ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے.

    ‎@salmabhatti111

  • کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر  تحریر : فضیلت اجالہ

    کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر تحریر : فضیلت اجالہ

    تہمت لگانا یا بہتان باندھنا مطلب آپ نے کسی شخص کو وہ برائ کرتے دیکھا نہی لیکن صرف زاتی تسکین کی خاطر آپ نے وہ برائ اس سے منسوب کردی یہ سوچے بغیر کہ
    کسی پر بے جا تہمت اور بہتان لگانا شرعی لحاظ سے بھی انتہائی سخت گناہ اور حرام کام ہےاور اخلاقیات کے بھی منافی ہے

    ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی اور اخلاقی برائیوں میں سے ایک برائ الزام تراشی اور تہمت لگانا ہے ،کچھ لوگ یہ فعل اپنے مزموم مقاصد کو حاصل کرنے کیلیے کرتے ہیں اور کچھ صرف زاتی تسکین ،وقتی خوشنودی اور بعض اوقات کسی کی خوشامد کیلیے بھی یہ گھٹیا کام سر انجام دیتے ہیں
    ۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بھاری وزن ہے ، یعنی کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں بے گناہ لوگوں (مسلمانوں )کو زبانی سے تکلیف دینے والوں یعنی تہمت اور بہتان لگانے کو مکمل طور پر گناہ قرار دیاہے اور سخت عزاب کی وعید سنائ ہے
    خدا لعنت کرے ان لوگوں پر جو کسی بےگناہ پر تہمت لگاتے ہیں اور سنی سنائی جھوٹی باتوں کو آگے آپنے سے ملاکر پھیلاتے ہیں اور لوگوں کی عزتیں اچھالتے ہیں اور مکافات عمل کو مکمل طور پر بھول چکے ہیں
    اپنی زندگی کی Frustration اور جھوٹی انا کی تسکین کے لیے محفل میں چار لوگوں کے ساتھ کسی کے عیب یا زندگی کے مسائل پر اپنی عاقلانہ رائے کا اظہار کرتے یا اس بندے کی کردار کشی کرتے وقت یہ یاد رکھیں کہ حشر کے میدان میں جب خدا سب کے عیبوں پر سے پردہ اُٹھائے گا تو تہمت لگانے والے کی آنکھ پر سے بھی پٹّی اُتاری جائے گی۔ اور اُس کے سامنے ہر اُس شخص کو کھڑا کیا جائے گا جس کی پارسائی پر دُنیا کی عدالت میں اُس نے فیصلہ سُنایا تھا۔

    اُس لمحے خدا کے سامنے اپنی کہی کسی بات کی دلیل پیش کرنے کا موقع نہیں ملے گا آپ کو۔۔۔ بلکل ویسے جیسے آپ نے کسی کے لیے غلط گمان کرتے اُسے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

    زندگی کی کہانی فلم کی طرح تین گھنٹے پر مشتمل نہیں ہوتی۔ اصل زندگی کی کہانیاں ہماری سوچ سے کہیں زیادہ اُلجھی ہوئی ہوتی ہیں۔ خدا تو نصوح کی بھی توبہ قبول کرلیتا ہے پھر انسان کو کیا حق ہے کہ کسی کے لیے سزا کا انتخاب کرے؟

    صحیح غلط، نیک یا گناہ گار یہ فیصلے خدا اور بندے کے آپس کے معاملات ہیں۔ برائے مہربانی اپنی ناقص عقل کو تکلیف نہ دے کر صرف اپنی ذات کا محاصرہ کیجیے۔
    کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں سوائے بغض حسد اور کینہ کے کچھ نہی ہوتا
    وہ بہن بھائی جیسے پاک رشتے پر بھی انگلی اٹھانے سے باز نہیں آتے۔اییسے لوگ خدا اور خدا کے احکامات کو بھول بیٹھے ہیں ۔
    جبکہ اللہ تعالی بار بار فرمارہے ہیں
    جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں یا اس پر تہمت لگائ ، تو اللہ اسے (الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے کو دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا اور روز آخرت یہی اسکا ٹھکانہ ہوگا یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے دنیا میں ہی توبہ کر لے تو اس کی خلاصی ممکن ہے

    ایک حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: مسلمان کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو۔

    الغرض مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے اِس عمل سے باز آنا چاہیے اور جس کسی پر تہمت لگائ ہو اس سے معافی کا خواستگار ہونا چاہیے
    اگر کوئی کچھ نہیں کہہ رہا یا کر رہا تو اس کا مطلب یہ نہیں وہ کچھ کر نہیں سکتا۔
    بہتر ہے جو اللّٰہ پر معاملات چھوڑ کر چپ ہو گیا ہے، اسے چپ ہی رہنے دے۔

    اگر وہ خاموشی توڑ گیا تو یقین کرو، وہ وہ راز وہ وہ کچھ سامنے آئے گا، لوگ اپنے پیدا ہونے پر معافی مانگے گیں۔.
    اللہ تعالیٰ بہترین انتقام لینے والا ہے..

    @_Ujala_R

  • رب اشرح لی   تحریر: محمد شفیق

    رب اشرح لی تحریر: محمد شفیق

    چھوٹی بہن کی ایم ایس کی پریزنٹیشن تھی۔رات بھر جاگتی رہی ۔آنکھیں سوجی تھیں ۔پوچھا کیا ہوا۔کہنے لگی ۔کوئ دعا بتا دیں۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
    میں نے کہا پڑھو تب۔
    رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي * وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي * وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي * يَفْقَهُوا قَوْلِي *

    کہنے لگی اس کا مطلب بھی بتا دیں۔ میں نے مطلب بتایا۔
    ” اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرا کام آسان کراور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ وہ میری بات سمجھیں”
    وہ حیرت سے گنگ میری طرف دیکھ رہی تھی۔میں نے پوچھا کیا ہوا۔ کہنے لگی۔
    بھائ اس میں تو میرے ہر مسئلہ کا ذکر ہے۔جس کے لیے مجھے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔اب حیران ہونے کی میری باری تھی ۔وہ گویا ہوئ۔
    رات بھر پڑھنے کے بعد مجھے لگ رہا تھا۔ جیسے میرا سینہ بند ہوگیا ہو۔اور مجھے لگتا ہے۔کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں ۔ذہن جیسے منتشر ہے۔خدشہ ہےمیں کچھ بول نہیں پاؤں گی۔جیسے زبان پر گرہ لگی ہو ۔اور میرے لئے کچھ کہنا مشکل ہو۔اور ایسے میں جو کہوں گی۔وہ کسی کو کہاں سمجھ آۓ گا۔
    اللہ نے یہ سورت شاید میرے لۓ ہی اتاری ہے۔میری ساری کیفیت کہ کر مجھے مانگنا سکھایا ہے۔کتنا مہربان ہے نا وہ رب۔
    اب یہ بتائیں۔یہ آیت کب اور کس پس منظر میں اتری۔ وہ اپنی ٹینشن بھول کر اس دعا کو سمجھنا چاہتی تھی ۔
    میں نےاسے بتایا۔ان الفاظ میں موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی ۔جب انھیں فرعون کی طرف بھیجا گیا۔ وہ سبق کی دہرائی بھول چکی تھی۔
    اس کا اگلا سوال تھا۔موسی علیہ السلام نے اللہ سے دعا میں یہ سب کیوں مانگا ۔وہ فوج طاقت اور دیگر وسائل بھی تو مانگ سکتے تھے۔ اگر میں ہوتی تو میں شاید یہ سب مانگتی۔
    میں نے اس دعا کو بارہا پڑھا تھا اور دل کی گہرائی سے۔اور اس کے اثرات بھی ہمیشہ کئی لحاظ سے محسوس کیے تھے۔ایسے وقت جبکہ کوئی حل سمجھ نہ آتا۔یہ دعا میری ڈھارس بندھاتی۔مگر اس انداز سے کبھی نہ سوچا تھا۔لہذا کچھ د ن کے غوروفکرسے چند پہلو سمجھ آۓ۔
    سوچا آپ سے بھی شئیر کرو ں۔

    ۔پغمبر کے الفاظ اللہ کی کتاب میں ۔یقینا اس میں خزانے کی کنجیاں چھپی ہیں۔اسکی کھوج لگانی پڑے گی۔

    ۔پتہ چلاکسی کام کی سب سے پہلی رکاوٹ اندر سےہوتی ہے۔آپکے اندر اعتماداور خلوص پیدا ہوجاۓ۔کسی بھی چیز کے درست ہونے کا یقین ہو جائے۔ابہام نہ رہے۔تو دلیری پیدا ہوتی ہے۔انسان بےخوف ہو جاتا ہے۔بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے۔بہترین مشاہدہ سوچ وفکر کے نۓ زاوۓ سجھاتا ہے۔دل میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔انسان کنواں کا مینڈک نہیں بنتا ۔دوسروں کے نکتہ نظر جاننا چاہتا ہے۔یہی سینے کا کھلنا ہے۔ یہ تو کامیابی کا بنیادی نکتہ ہوا یقیناً۔
    ۔مانگنے والا کسی بڑے مقصد کو پانے کے لیے اپنی طاقت اور کمزوری کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگاۓ۔اور رب سے متعین کر کے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگے۔ کہ بڑے مقاصد چھوٹے چھوٹے پہلوؤں پر توجہ دینے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    موسیٰ علیہ السلام نے سافٹ اسکلز مانگیں۔معلوم ہوا سافٹ اسکلز کسی بڑے مقصد تک پہنچنے کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
    اللہ سے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگیں۔اسے پسند ہے۔کہ جوتی کا تسمہ تک اس سے مانگیں۔اس کے لیۓ کچھ مشکل نہیں ۔
    بے دھڑک مانگیں۔
    ہمیشہ اللہ سے آسانی مانگیں۔آپ بس مانگنے والے ہوں۔دینے والا دینے کو تیار ہے۔

    انھوں نے زبان کی روانگی مانگی۔اس سے زبان و بیان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اور یہ کہ یہ صلاحیت اللہ کی بہترین عطا ہے۔
    اس دعا کے ساتھ انھوں نے مددگار کے طور پر اپنے بھائی کو مانگا۔معلوم ہوا کامیابی اور ترقی کے لئےمادی وسائل سے زیادہ انسانی وسائل کی اہمیت ہے۔ انسانی وسائل اعلیٰ درجے کے ہوں تو مادی وسائل خودبخود حاصل ہو جاتے ہیں۔

    انھوں نے بدلہ نہیں مانگا اللہ سے۔یعنی بے غرض ہونا دنیا کے عظیم انسانوں کا شیوہ ہے۔

    ۔کسی بھی فرعون سے مقابلہ کرنے کے لیے سینہ کا کھلنا ،بیان اور اظہار کا ملکہ ہونا ،مخلص ساتھیوں کا میسر ہونا بہت بڑی نعمت خداوندی ہے۔

    سافٹ اسکلز کا ہونا کسی بھی فوج اور مادی وسائل سے ذیادہ اہم ہے۔
    ایک ساتھی سے بات ہوئی کہنے لگا۔
    بعض اوقات اچھا بولنے اور قاٸل کرنے کے لۓ الفاظ اور دلاٸل کا انبار ہوتا ہے لیکن سامنے والا سمجھنے کے لۓ تیار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہ دعا الفاظ میں وہ تاثیر عطا کرتی ہے کہ سامنے والا آپ کا مطمع نظر سمجھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    ایک اور پہلو ۔۔۔۔۔۔
    اس دعا کو ہم درس یا Presentation دینے سے پہلے تو پڑھتے ہی ہیں لیکن اپنی عام گھریلو روٹین میں بھول جاتے ہیں ۔
    تو اپنے روز مرہ کے معمولات میں شامل کرلیں تو اللہ جی ہمارے کام میں آسانیاں پیدا فرما دیںتے ہیں ۔۔۔۔جیسے کسی کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرتے وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بڑے کو کسی بات کا اچھا پہلو بتاتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔اپنی کسی ساتھی ۔والدہ۔ساس۔بہو۔۔ شوہر کسی بھی تعلق میں اپنا مسٸلہ اپنی کیفیت سمجھانے کے لۓ ۔۔۔۔۔یا گھر کے کسی معاملے کسی شادی بیاہ کی رسم کے خاتمے کے لۓ ۔۔۔اپنے کسی بچے یا چھوٹے بہن بھاٸیوں کو کوٸ بات سمجھانے سے پہلے اس دعا کو اس پیراۓ میں رکھ کر رب سے مانگیں تو ان شاء اللہ اللہ ہمارے کاموں کو آسان فرما دیتے ہیں ۔
    @IK_fan01

  • ہمارا معاشرہ اور قانون تحریر: سحر عارف

    ہمارا معاشرہ اور قانون تحریر: سحر عارف

    ہمارے معاشرے میں ہر شخص کی زبان سے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے قانون اندھا ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں بدقسمتی سے ملک خداداد کے اندر وہ چیز اندھی ہے۔ جس نے پورا ایک معاشرہ قائم رکھنا ہوتا ہے ۔ جہاں انصاف قائم کرنے کے لئے قانون ہی اندھا ہو وہاں امن کیسے قائم ہو سکے گا۔

    ایسی جگہوں پر پورا معاشرہ اندھا اور بہرہ بن جاتا ہے اور پھر ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا۔ لوگوں کے سامنے ظلم ہو بھی رہا ہو تو لوگ کتراتے ہیں کہ ہمیں کیا ہم کیوں کسی دوسرے کی لڑائی کا حصہ بنیں۔اور پھر ظالم کو لوگ اپنا ہمدرد اور محافظ سمجھنے لگتے ہیں عزت کا معیار طاقت بن جاتی ہے۔ معاشرے کی بنیادوں میں ناانصافی ظلم جھوٹ اور کرپشن پائی جاتی ہے۔تو بتائیے ایسے میں معاشرے کیسے اپنے پائوں اور اصولوں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    ایسے معاشرے جہاں قانون نافذ کرنے والے انصاف قائم کرنے والے اپنی قیمت لگواتے ہیں۔ جہاں انصاف کرنے سے زیادہ اپنی عیاشیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو لوگ قانون کو ایک کتاب سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے جس نے جب چاہا پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔

    ایسے معاشروں میں ظلم بھی ہوتا ہے ناانصافیاں بھی ہوتی ہیں ۔ اور پھر وہاں انسانیت ختم ہو جاتی ہے سفاک حکمران مسلط ہو جاتے ہیں۔پھر وہاں قانون کی حیثیت ایک طوائف جیسی بن جاتی ہے۔ جس کا جب چاہا قیمت ادا کر کے خرید لیتے ہیں ایک مظلوم کو کئی سال انصاف کے لئے ٹھوکریں کھانے پڑھتے ہیں ۔جہاں طاقتور اور بااثر لوگ قانون کو توڑ کر بھی انصاف خرید لیتے ہیں وہاں انصاف کرنے والے قاضی کا کردار اس طوائف جیسا ہوتا ہے ۔جس کے سامنے گاہک کھڑے ہوں اور وہ اس کی بولی لگاتے ہیں۔

    ایک طوائف سے بھی زیادہ بدکردار ہیں وہ قاضی جو اپنا ضمیر ہی نہیں میری قوم کی نسلوں کا سودا کرتے ہیں۔ جو ایک ایسے مجرم کو چھوڑ دیتے ہیں۔ جو معاشرے کے لاکھوں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرتا ہے۔ جو ٹارگٹ کلنگ منشیات اور جسم فروشی جیسے دھندوں میں شامل ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے کا حصہ رہ کر شرم محسوس تو ہوتی ہے جہاں آپ اپنے حق کے لئے آواز اٹھائیں تو آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔

    یہاں ایک سوال تو بنتا ہے کہ کیا یہ ملک یہ آزاد ریاست صرف اشرافیہ کی ہے ۔کیا چند لوگ اس قوم اور ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں سفارش اور رشوت دے کر منصف کے منصب پر بیٹھنے والے یہ دو ٹکے کے ضمیر فروش لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟

    ایسے وطن فروش کس قانون کے تحت فیصلے اپنی مرضی سے کرتے کرتے ہیں میں ایک پاکستانی شہری ہوں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزاد فرد ہوں۔ میرا حق بنتا ہے میں ایسے قاضی سے سوال کروں وہ کس قانون کے تحت توہین عدالت ہر اس شہری پر لگا سکتا ہے جو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بات کرتا ہو۔ جس عدالت کے باہر چند ٹکوں کے بدلے جھوٹے گواہ ملتے ہیں۔ اسی عدالت کا قاضی جھوٹے فیصلوں کے لئے چند ٹکوں پر بک جاتا ہے ۔لگتا تو پھر ایسے ہی ہے کہ میرے ملک کے اندر جنگل کا قانون بھی نہیں ہے جانوروں کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہوں گے۔

    مگر یہاں میرے معاشرے میں تو ہر طاقتور وقت کا فرعون ہے۔کوئی بھی صاحب اقتدار ہر بااختیار خود کو وقت کا خدا سمجھ لیتا ہے۔

    ہم سب کو ایسے اشرافیہ کے خلاف اعلان بغاوت کرنا ہو گا ہم ایسے قانون کو نہیں مانتے جس میں طاقتور کو چھوڑ دیا جائے غریب کی زندگی تباہ کر دی جائے ۔کیا اس ملک کی بڑی عدالت میں بیٹھا وہ جج جواب دے گا۔ جس نے ہزاروں نواجوانوں کی زندگیاں اندھیری کوٹھڑیوں کی نظر کر دی ہیں۔ یاد رکھیں ایک عدالت خدا کی بھی ہے لیکن وہاں جانے سے پہلے میں سوال کرتی ہوں اگر انصاف قائم نہیں کر سکتے تو میں یہ حق محفوظ رکھتی ہوں ۔ ایسے قاضی کا گریبان ہو گا میرا ہاتھ ہو گا میں ایسے اندھے قانون پر یقین نہیں رکھتی جس میں منصف بھی اندھا ہو جس میں حاکم وقت بھی اندھا ہو جہاں پورا معاشرہ اندھا بن جائے۔
    @SeharSulehri

  • جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے تحریر:حیأ انبساط

    ہمارا معاشرہ اس محاورے کی عملی مثال ہے کہ “جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے “ مغرب کی تقلید کرتے ہم اپنی روایات کو بھولتے جا رہے ہیں جب گھر پہ ہونے والے رنگ و روغن سے لیکر مردوں کے آفٹر شیو تک کے اشتہار میں عورت کو دیکھایا جائے تو ایسے معاشرے میں بےحیائی کا رونا اور بےراہروی کی شکایت جچتی نہیں ہے۔

    ‏کچھ عرصہ پہلے انسٹاگرام پہ ایک اداکارہ نے کسی کا انباکس میسچ اسکرین شاٹ لیکر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا تھا جس میں کسی حضرت نے ایک ملاقات کیلئے لاکھوں روپے آفر کیئے تھے جس کے جواب میں خاتون اداکارہ نے کافی تلخ جواب لکھا تھا جو میں تحریر کرنے سے قاصر ہوں- حال ہی میں ان کی طرف سے ایک اور اسکرین شاٹ شائع کیا گیا تھا جس میں پہلے کی طرح نازیبا فرمائش کی گئی تھی۔

    ‏اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان پبلک فگرز کو اپنی مرضی سے ٹاپ لیس ، بیک لیس ، سلیو لیس پہننے میں کوئی اعتراض نہیں ہوتا ؛ ان کے بقول یہ اُن کا کام ، ان کا پیشہ ہے جس کے لیئے وہ بھاری معاوضہ بھی وصول کرتیں ہیں ۔ مکمل سطر پوشی کے بارے میں بات کرنا انکے آگے دقیانوسی خیالات و روایات سمجھی جاتی ہیں اس سلسلے میں قرآن جیسی مقدس کتاب ،اللّٰہ کے احکامات کی طرف سے آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں اور اس کے نبی کی تعلیمات کو سُنا ان سُنا کر دیا جاتا ہے تو پھر ان معمولی انسانوں کے غیر اخلاقی میسجز کو تو نظر انداز کر دینا بہت ہی آسان سی بات نہیں ؟ کیوں رائی کا پہاڑ بنایا جاتا ہے ؟

    ‏جب آپ خود کبھی صابن کے اشتہار میں ، کبھی شیمپو کے اور کبھی مردوں کی شیونگ کریم کے اشتہارات میں کام کرنے کے لیئے معاوضہ وصول کرتی ہیں تو یہ چھوٹی سوچ کے حامل گھٹیا لوگ بھی آپ کو اور آپ کے کام کو دیکھتے ہوئے اپنی آفرز لیئے آپ کے ان باکس میں حاضر ہوجاتے ہیں ، انہیں بھی درگزر کیجیئے نا جس طرح قرآن کے واضح احکامات کو کر دیتیں ہیں۔

    ‏حالیہ ایوارڈ شو میں ماڈلز کے ملبوسات کے بارے میں تو کچھ کہنے کی میری مجال نہیں کہ اگر ان کے بارے میں ایک لفظ بھی کہہ دیا جائے تو بھاری اکثریت والی آبادی ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔ ان سیلیبرٹیز کے حق میں بولنے کیلئے تو بہت سے لوگ آجاتے ہیں ان کو ہراساں کرنے والوں کو لعن طعن کرنے والوں کی کثیر تعدار ہمیں سوشل میڈیا پہ لکھتی نظر آجاتی ہے مگر جب مختلف برانڈز کے قدآور پوسٹرز ، بل بورڈز میں آپکی تصاویر ہر چوراہے ، شاپنگ مالز کے اندر باہر آویزاں ہوں گی تو دیکھنے والے کا دل بھی مچل سکتا ہے اور جو طبقہ لاکھوں روپے افورڈ نہیں کر سکتا ان کی ذہنی گندگی ، درندگی اور زیادتی کا نشانہ مظلوم ،غریب، کم عمر بچیاں بنتی ہیں ۔

    ‏کبھی آپ نے سڑکوں پہ پھول بیچتی ، سگنل پہ گاڑیاں صاف کرتی بچیوں کے اوپر پڑتی لوگوں کی گندی اور کریہہ نظروں کے بارے میں سوچا ہے؟ کبھی ان معصوم ضرورت مند ، غریب بچیوں کے پیوند لگے ، گھسے ہوئے لباس سے مجبوری میں جھلکتے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے؟ ہزاروں روپے عورت مارچ ، آزادی مارچ میں لٹانے کے بجائے ان پیسوں سے ان مستحق بچیوں کو مکمل لباس دلوانے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا؟ جب کوئی حادثہ رونما ہو جاتا ہے تو ایک ہیش ٹیگ کچھ دن ٹائم لائن پہ گردش کرتا دیکھائی دیتا ہے ، احتجاج کیا جاتا ہے اور افسوس یہ کہ جو محرکات ہوتے ہیں وہی احتجاج میں بھی شامل نظر آتے ہیں ۔ حکومت اور اداروں کو لعن طعن کی جاتی ہے اور میں مانتی ہوں کہ سب ٹھیک ، درست ، بجا ؛ حکومت اور ادارے ذمہ دار مگر ہم انفرادی طور پہ اس سب کو ٹھیک کرنے کیلیۓ کیا کر رہے ہیں ؟؟

    ‏ میں ان پبلک فگرز کی اصلاح کیلیۓ نہیں لکھتی وہ لوگ خود بہت سمجھدار ہیں ، میں تو بس اپنے ملک کے معماروں کو، آنے والی نسلوں کی آمین بچیوں کو ، ان کمسن ذہنوں کو بےحیائی سے پراگندہ ہونے سے بچانا چاہتی ہوں جو ان مغربی تہذیب کے پیچھے اندھا دھند بھاگتی ایکٹریسز کی اندھی تقلید کر رہی ہیں کیونکہ یہ ہی بچے بچیاں ہمارے ملک و قوم کا مستقبل ہیں انکی اصلاح اور بہتر تربیت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

    ‏ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا عقیدۂ آخرت پہ کامل یقین ہے کہ اس دن ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا جو ظالم ہیں انکا کڑا احتساب بھی ہوگا ۔ عورتوں سے جب مکمل سطرپوشی کے بابت سوال کیا جائے گا تو ہو سکتا ہے ان معصوم بچیوں کو تو بحالتِ مجبوری نامکمل سطرپوشی کے معاملے میں اللّٰہ بخش دے لیکن ان خواتین کا کیا ہوگا جو جانتے بوجھتے اپنے ساتھ ۴ محرم ( باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹا) کو بھی جہنم رسید کرنے کے در پہ ہیں، یوں تو ہر انسان اپنے اعمال کا جوابدہ ہے مگر سوچیۓ گا ضرور !!

    ‏Twitter handle : ⁦‪@HaayaSays

  • کرونا وبا اور معاشی جنگ  تحریر  : راجہ حشام صادق

    کرونا وبا اور معاشی جنگ تحریر : راجہ حشام صادق

    اس وقت پوری دنیا میں کرفیو کی طرح کا ماحول ہے دنیا کو اس وقت ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس کے لیے کسی ملک نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی تھی۔اس جنگ کا آغاز تو چین سے ہوا مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جس نے ساری دنیا کو لپیٹ میں لیا وہ ایک وبا ہے جس کا نام ہے کرونا۔

    کرونا کے بعد جو شروع ہوتی ہے اس کا نام ہے معاشی جنگ دنیا بہترین ہتھیاروں کی تیاری اور مقابلے کی دوڑ میں یہ بھول چکی تھی کہ ایک اورجنگ بھی شروع ہونے جا رہی ہے جس جنگ کی نوعیت بہت خطرناک ہو گی اور آج اس جنگ کا سامنا دنیا کا ہر امیر اور کمزور ملک کر رہا ہے۔ کرونا وبا کے آنے کے بعد سے اس جنگ کا آغاز ہو وہ جنگ معاشی جنگ ہے اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج امیر ممالک خوفزدہ ہیں ان کو ڈر ہے کہ کہیں ان کے لوگ بھوک اور غربت سے مر ہی نہ جائیں ۔خود کو سپرپاور سمجھنے والے ایک ایسے بحران کا شکار ہو گے کہ ان کے بنائے گئے جدید میزائل اور اسلحہ بھوک ختم کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔

    قارئین ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری کہ اللہ تعالٰی کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔جو لوگ اسلحہ اور پٹرول کو اپنی طاقت سمجھتے تھے جن کے پاس پٹرول کے ذخائر تھے۔ کیا ہوا ان ممالک کی معیشت کیوں دن با دن نیچے آتی جا رہی ہے۔اب بھی وقت ہے اجتماعی تور پر توبہ کا۔کشمیر اور فلسطین کے مسلمان جس عذاب سے گزر رہے ہیں۔ اللہ پاک نے ایک ہی جھٹکے میں پوری دنیا کو بتا دیا کہ کرفیو اور لاک ڈون میں کیا ہوتا ہے ۔ سچ ہی کہتے ہیں جب خود پے بنے تو احساس تب ہی ہوتا ہے۔ لیکن شاید ابھی تک دنیا خو سمجھ نہیں آئی ابھی تو چوتھی لہر آئی ہے خدانخواستہ اگر اسی طرح پانچویں، اور پھر چل سو چل چلتا رہا تو پوری دنیا تو ویسے ہی ختم ہو جانی ہے۔

    دنیا کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہو گی لیکن کھانے کے لئے بھیک مانگے پر بھی کوئی ایک لقمہ نہ دے سکے گا ہر طرف بھوک ہو گی اس بھوک کو ختم کرنے کے لئے تم جنگ کرنا بھی چاہو گے تو بھی ناکامی ہو گے۔ آج تک اس جنگ سے لڑنے کا کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا دنیا میں ابھرتی بہترین معاشی طاقتیں بھی مفلوج ہو چکی ہیں یاد رکھیں اس جنگ میں صرف چند ممالک تباہ نہیں ہوں گے دنیا کی سب سے زیادہ تباہ کن جنگ ہو گی ۔

    اس جنگ کے بعد شاید آنے والی نسلیں ہم سے زیادہ خوشحال ہوں ان کے لئے ایٹم سے زیادہ ضروری اپنی عوام کی بھوک اور غربت ختم کرنا ضروری ہو گا۔ اس دنیا نے جتنی سرمایہ کاری اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کی ہے یہی غربت کے خاتمے کے لئے کرتی تو ایسے وقت کا مقابلہ بہتر طرح سے کر سکتے تھے۔ ایک وبا نے آج پوری دنیا کو گھروں کے اندر محصور کر کے رکھ دیا ہے ۔

    دعا ہے یا رب العالمین ہم سب کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھنا ۔اور ہمارے مضلوم کشمیری اور فلسطینی بہین بھائیوں کی مدد فرمانا ۔آمین ثم آمین

    @No1Hasham

  • اولیاء کی شان دوسری قسط تحریر یاسمین ارشد

    اولیاء کی شان دوسری قسط تحریر یاسمین ارشد

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا چار قسم کے بندے ایسے ہیں جن کو میں اللہ نے اپنا بنا لیا ان لوگوں نے مجھے اپنا بنایا اللہ پاک نے فرمایا ایک نبیوں پیغمبروں کا طبقہ ہے دوسرا صدیقین سچے لوگوں کا طبقہ تیسرا صالحین نیک بزرگ لوگوں کا طبقہ۔ اور چوتھا شہداء کا طبقہ۔ نبی کا تو سمجھ آتا ہے اللہ پاک نے اپنے پیغمبروں کو نبوت کا تاج پہنایا اس کی نبوت کے اندر اس کی عظمت کے اندر اس کے رافعت کے اندر اس کے مقام اور مرتبے کہ اندر کوئی فرق نہیں یہ صدیقین کون ہے صالحین کون ہے شہداء کون ہے یہ تینوں اولیاء کرام کے طبقات ہیں جن کو اللہ پاک نے اپنا بنایا اور انہیں طبقات نے اللہ پاک کی ذات کو اپنا بنایا ولی پہلے ولی بنتا ہے اللہ اس کو صداقت کا تاج پہناتا ہے اور ان کو انعام اور اکرام کے اندر شہادت کا تمغا دینا ہوتا ہے اس کے احترام اور اکرام کے اللہ پاک نے ولیوں کی شان بنائی ہے ولیوں کی شان حق ہے ولی کی کرامت حق ہے لیکن شرط یہ ہے سچا ولی ہونا چاہیے ہم لوگوں کے کہنے کا ولی نہ ہو ولی وہ ہوتا ہے جن کو اللہ پاک ولی کہتا ہے سچے ولی کے پاوں کی خاک ہماری آنکھوں کا سرمہ ہے ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے جو سچا ولی نہیں وہ ہماری عزتوں کا ڈکیٹ ہے اگر سچا نہیں تو اس کے اندر غیرت نہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ اللہ کی راہ دکھاتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ توحید بیان کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ لوگوں کی مار برداشت کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں بے پردہ عورت کو باپردہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ گمراہ لوگوں کو نور اور روشنی کی طرف لے کے آتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں لوگوں کو موسیقی گانے بجانے سے نجات دلاتے ہیں اللہ کے قرآن کی شان بیان کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں امت کو جہنم کی آگ سے بچاتے ہیں اور جنت کا وارث بناتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ اللہ تعالی کا راستہ اللہ تعالی کی وحدنیت اور توحید تے پہچان سے مارفعت کرتے ہیں اگر سچے ولی نہ ہوتے تو شاید زمین کب سے تباہ ہو گئی ہوتی قیامت قائم ہونے تک اللہ اللہ کرنے والی دنیا وہ انسانیت جن کے اندر اللہ کی محبت وابستہ ہے جن کو اولیاء کرام کہتے ہیں وہ زندہ حیات ہیں یہ ولی تو ہیں جن کی وجہ سے اللہ پاک ہمارے اوپر رحم اور کرم فرمایا ہوا ہے آج کل کے دور میں جس کو پاکی پلیتی کا پتہ بھی نہیں ہوتا ہم اس کو ولی کہنا شروع کر دیتے ہیں حلال حرام کی سمجھ نہیں ہے ہم ان کو گھر کا گھریلو خاندانی پیر بنایا ہوا ہے جس کو ماں بہن بیٹی کی عزت کا پتہ نہیں اس کو ہم نے اپنے سر کا تاج بنایا ہوا ہے وہ تمہاری منتیں کھائے وہ تمہارے گھر پر دم کرے وہ بیماریاں دور گرے گا واہ مسلمانوں کون سے راستے پر چل پڑے ہو اگر کوئی سچا مولوی ان کے خلاف بات کرے تو ہم کہتے ہیں تم گستاخ ہو۔ مسلمانوں اپنے گھر میں کسی سچے ولی کو لے آئیں جس کے چہرے کو دیکھیں تو قرآن کی تصویر نظر آئے جس کے چلنے کو دیکھیں تو اللہ کا قرآن نظر آئے جس کے بات کرنے سے قرآن مجید کی خوشبو آئے جو صداقت کا بادشاہ ہو جس کے اندر عدالت بہت ہو جس کے اندر ایمان چلکتا ہو جس کی آنکھ میں حیا موجود ہو جس کی زندگی میں توحید وسنت کی لکیریں موجود ہو ولی لے کے آؤ اللہ فرماتا ہے ولی کی ولایت کرامت حق ہے یہ میرا عقیدہ ہے جیسے اللہ پاک کا قرآن برحق ایسے ہی ولی کی کرامت اور ولایت حق ہے جس کو داڑھی اور موچھ کی پرواہ نہیں ان کو ہم نے ولی بنایا ہوا ہے مسلمانو جس ٹائم تم نے اپنی بیوی بیٹیوں کو ان کے سامنے بٹھایا اس نے پردہ اٹھا کہ چہرہ دیکھا یہ کس چیز کا ولی ہے اگر اس نے اپنے گلے میں تسبیح پہن لی تو ہم اس کو ولی سمجھلیں کوئی کرنٹ شاہ بنا ہوا کوئی کوئی بنگالی بابا بنا ہوا ہے کوئی تھپڑ والا شاہ بنا ہوا ہے ان کو پاکی پلیتی کا بھی پتہ نہیں ہوتا اسے ہم نے ولی بنایا ہوا ہے؟ سچے ولی پتہ کیا کریں قرآن مجید سے اے اللہ کی کتاب قرآن تم نے کس کو ولی کہا ہے اللہ پاک نے ولیوں کی شان ولیوں کا احترام قرآن مجید میں تذکرہ کیا کون کہتا ہے ولی کی کرامت حق نہیں قرآن مجید کے بے شمار مقامات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے نیکسٹ قسط پبلش ہو گی ان شاءاللہ
    @IamYasminArshad
    IamYasminArshad

  • بیٹی کے نام اہم پیغام تحریر: محمد سدیس خان

    بیٹی کے نام اہم پیغام تحریر: محمد سدیس خان

    پیاری بیٹی!
    خاوند کے گھر جاکر قناعت والی زندگی گزارنے کا اہتمام کرنا،جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا، جو کچھ شوہر کی خوشی کے ساتھ مل جائے وہ مرغ پلاؤ سے بہتر ہے، جو تمہارے اصرار پر خاوند نے ناراضگی سے دیا ہو۔
    خاوند کی ہر بات کو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اس کو اہمیت اور اولین دینا، ہر بات میں اس کی بات پر عمل کرنے کی کوشش کرنا، اس طرح تم اس کے دل میں جگہ بنا لوگی، کیونکہ اصل آدمی نہیں آدمی کا کام پیارا ہوتا ہے۔
    اپنی زینت وجمال کا ایسا خیال رکھنا کے جب وہ تمہیں نگاہ بھر کے دیکھے تو اپنے انتخاب پر خوش ہو، یاد رکھو کے تمہارے جسم ولباس کی بو یاہئیت اسے کراہت ونفرت نہ دلائے۔
    خاوند کی نگاہ میں بھلی معلوم ہونے کے لیے اپنی آنکھوں کو کاجل سرمہ سے حسن دینا، کیونکہ پرکشش آنکھیں پورے وجود کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جچادیتی ہے، غسل اور وضو کا اہتمام کرنا، یہ سب سے اچھی خوشبو ہے اور صحت خوبصورتی کا راز ہے۔
    خاوند کا کھانا وقت سے پہلے ہی اہتمام سے تیار رکھنا، کیونکہ دیر تک برداشت کی جانے والی بھوک بھڑ کتے ہوئے شعلوں کی مانند ہو جاتی ہے۔
    خاوند کی آرام کرنے اور نیند پوری کرنے کے اوقات میں سکون کا ماحول بنانا، کیونکہ نیندادھوری رہ جائے تو طبیعت میں غصہ اور چڑچڑاپن پیدا ہوجاتا ہے۔
    خاوند کی اجازت کے بغیر کوئی گھر میں نہ آئے۔
    خاوند کا مال لغویات یا فضول نمائش اور فیشن میں برباد نہ کرنا، مال کی بہتر نگہداشت حسن انتظام سے ہوتی ہے۔
    خاوند کی نافرمانی نہ کرنا بلکہ اس کی راز داررہنا، کیونکہ نافرمانی چلتی پر تیل کا کام کرے گی، اگر تم آوروں سے خاوند کا راز چھپا کر نہ رکھ سکی تو اس کا اعتماد تم پر سے ہٹ جائے گا اور پھر تم اس کے دورخےپن سے محفوظ نہ رہ سکوگی۔
    خاوند اگر کسی وجہ سے غمگین ہوتو اپنی کسی خوشی کا اظہار نہ کرنا بلکہ اس کے غم میں برابر کی شریک رہنا ورنہ تم اس کے قلب کو مکدر کرنے والی شمار ہوگی۔
    خاوند کی نگاہ میں اگر تم قابل تکریم بننا چاہتی ہوتو اس کی عزت واحترام کا خوب خیال رکھنا اور اس کی مرضیات کے مطابق چلنا، اس طرح تم اس کو بھی ہمیشہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں بہترین رفیق پاؤ گے۔
    جب تک تم خاوند کی خوشی اور مرضی کی خاطر اپنا دل نہیں ماروگی اور اس کی بات اوپر رکھنے کے لیے خواہ تمہیں پسند ہویا ناپسند زندگی کے کئی مرحلوں میں اپنے دل میں اٹھنے والی خواہشوں کو دفن نہیں کروگی اس وقت تک تمہاری زندگی میں کبھی خوشیوں کے پھول نہیں کھلیں گے۔
    تمہاری خوشی تمہارے شوہر کی خوشی سے وابستہ ہے، تم میں سے ہر کوئی دوسرے کی سعادت یا شقاوت کا سبب بن سکتا ہے
    لہذا اپنے اور شوہر کے درمیان کسی بھی نفرت کی بات کو پیدا نہ ہونے دینا، کہیں ایسا نہ ہو کے ایک بات سے کئی نفرتیں جنم لیں، بالآخر معاملہ ہاتھ سے نکل جائے۔
    اپنی استطاعت کے مطابق شوہر کی بات ماننا، اس کے ساتھ استہزاء ومذاق نہ کرنا، بے ہودہ باتوں سے بچنا ، زیادہ غصے میں نہ آیا کرنا کیونکہ یہ طلاق کی چابی ہے ، زیادہ ناراض نہ ہوا کرنا کیونکہ اس سے بغض پیدا ہوتا ہے۔
    اپنی صحت کا خیال رکھنا اور نقصان دہ کریمیں اور پاؤڈر مل کر اپنے چہرے کی تروتازگی اور رونق ختم نہ کرنا۔
    جس کا بوجھ تمہیں اٹھانہ ہے اسے بھر پور ہمت وطاقت سے اٹھانا اور یہ بات ذہن میں رکھنا کے باہر کے معاملات شوہر کے ذمے ہیں لیکن گھر کے امور کی صرف تم جواب دہ ہو۔
    Twitter user name @msudais0

  • دیامر اور سیاحت تحریر: روشن دین دیامری

    دیامر اور سیاحت تحریر: روشن دین دیامری

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گلگت بلتستان جنت نظیر علاقہ ہے ہر وادی ایک سے بڑھ کرایک خوبصورت ہے۔ہم ذرا گلگت بلتستان کے ضلعوں کے حوالے سے آپ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ کس کس ضلع میں کون کون سے خوبصورت علاقے ہیں جہاں آپ سیاحت کے لیے جاسکتے ہیں۔چونکہ دیامر کو گلگت بلتستان کا گیٹ وے کہا جاتا ہے آپ چاہے ناران کاغان سے جائیں یا کوہستان سے دیامر سے گزر کے جانا ہوگا۔دیامر خوبصورتی میں لاثانی ہے اگر میں یہ کہوں کہ گلگت بلتستان کے خوبصورت ترین چند اضلاع میں دیامر بھی شامل ہے تو غلط نہ ہوگا ۔دیامر کی پسماندگی کی وجہ سے گو کہ سیاحتی شہرت اس قدر زیادہ نہیں لیکن باوجود دیامر کی خراب حالات کے بابوسر اور فیری میڈو میں لاکھوں سیاح گھومنے آتے ہیں ۔آج آپ کو دیامر کے خوبصورت علاقوں کے حوالے سے کچھ تفصیلات دیتا ہوں۔دیامر کے تین تحصیل ہیں چلاس داریل اور تانگیر ۔اس وقت سیاحت صرف تحصیل چلاس تک ہے باقی دو تحصیلوں میں سیاحت بلکل نہیں ہے۔اس کی وجوہات بے تحاشہ ہیں اس پہ لکھنا اس تحریر میں مقصود نہیں ۔اگر کوہستان کے طرف سے اپ دیامر میں داخل ہوجائیں تو سب سے پہلے تحصیل تانگیر کا علاقہ آتا تانگیر ایک تاریخی علاقہ ہے۔تانگیر کے کے ایچ کے ساتھ ایک پل کے ذریعے منسلک ہے۔روڈ سے آپکو یہ علاقہ بہت تنگ لگتا ہے جیسے ہی اپ تانگیر کے طرف داخل ہوتے ہو تانگیر کے وادی واسیع ہو جاتے ہے۔تانگیر کے شروع سے.پہلا گاؤں لورک، دیامر، شیخو ، رِم، جگلوٹ ، گلی، درکلی، کوٹ، فروڑی، پھپٹ، مُشکے ، کورونگہ، اور بھی کئی چھوٹے گاؤں ہیں، مشہور اور خوبصورت جگہیں لورک، جگلوٹ اور مُشکے ہیں، کورونگے سے آگے وادی ستیل ہے،یہ ایک انتہائی خوبصورت علاقہ ہے اس طرح اگر داریل ویلی کی بات کی جائے تو داریل بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے داریل ویلی کھنبری منین داریل منیکال نیلی گل داریل منیکال آٹ داریل بشال گیال کے علاقے سیاحت کے بہت خوبصورت ہے۔اس کے علاوہ داریل میں تاریخی پوگچھ یونیورسٹی بھی موجود ہے جہاں آج سے چار سو سال پہلے لوگ تعلیم حاصل کرتے تھے ۔اگر اپ چلاس کے بات کریں تو چلاس میں بابوسر نیاٹ بٹوگاہ گوہراباد تھور ہوڈور اور کھنر کی وادیاں انتہائی خوبصورت ہیں۔دیامر میں اگر سیاحت پہ توجہ دی جائی تو سالانہ کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں جسے ہی دیامر میں امن ہوجاتا ہے تو کسی شرپسند عنصر کو میدان میں اتارا جاتاہے اس کے بہت سارے پس منظر ہیں جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔دیامر کے ترقی کے بغیر گلگت بلتستان کے کی ترقی میں ممکن نہیں ایک پرامن گلگت بلتستان کے لیے پرامن دیامر کا ہوناضروی ہے۔