Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اپنی آزادی کے لیے ، اپنے جھنڈے کی قدرکرو  تحریر: صائم ابراہیم ملک

    اپنی آزادی کے لیے ، اپنے جھنڈے کی قدرکرو تحریر: صائم ابراہیم ملک

    پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ برطانوی ہند میں برصغیر کے مسلمان پاکستان کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے دوران یہ نعرہ لگایا کرتے تھے، اس نعرے کے خالق سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے اصغر سودائی ہیں انھوں نے اسے 1944ء میں ایجاد کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر کے طول و عرض میں ہونے والے مسلم لیگی جلسوں میں گونجنے لگا۔ اس نعرے سے پاکستان کی مذہبی تشخص بھی واضح ہوتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اسی وجہ سے کہا تھا کہ تحریک پاکستان میں اصغر سودائی کا کردار 25 فیصد ہے

    جیسا کے ہم سب جانتے ہیں اس پاک سرزمین پاکستان کا قیام 14 اگست 1947 کو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی بابرکت رات لیلتہ القدر کی شب معرض وجود میں آیا جبکہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم قیام پاکستان سے تین روز قبل فرانس کی سرزمین پر 11 اگست 1947 کو سب سے پہلے لہرایا گیا اس بات کے گواہ معروف محقق عقیل عباس جعفری
    ہیں جن کے مطابق متحدہ ہندوستان کے بوائے اسکاوُٹ کا دستہ عالمی اسکاوُٹ جمبوری میں شرکت کے لیے فرانس میں موجود تھا کہ بین الاقوامی اخبارات میں یومِ پاکستان کی خبریں شائع ہونے لگیں تو دستے میں موجود مسلمان اسکاؤٹس نے فیصلہ کیا چاہے جو بھی ہو چودہ اگست کو ہمارا الگ ملک بن جائے گا تو اس دن ہم کسی بھی صورت انڈیا کے جھنڈے کو سلامی نہیں دیں گے بلکہ اس دن ہم اپنے الگ ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے سبز ہلالی پرچم کے نیچے الگ کھڑے ہوں گے

    تمام شواہد کے مطابق انھوں نے وہاں دستیاب ذرائع سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تیار کیا اور اس طرح برصغیر سے دور فرانس کی سرزمین پر باقاعدہ طور پر پاکستان کا پرچم پر کیف فضاؤں میں سب کے سامنے لہرایا گیا
    پاکستان کے قومی پرچم کا سرکاری نام پرچم ستارہ و ہلال ہے سبز ہلالی پرچم کا ڈیزائن ترتیب دینے والی شخصیت امیر الدین قدوئی ہیں جنہوں نے قائداعظم کے حکم پر پاکستان کے پرچم کا ڈیزائن ترتیب دیا اور یوں پاکستان کا اپنا پرچم معرض وجود میں آیا جبکہ پاکستان پہلا پرچم ماسٹر الطاف حسین اور افضال حسین نے سیا تھا

    یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے گہراسبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند(ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہوتاہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور ستارے کا مطلب روشنی اور علم کو ظاہر کرتا ہے۔

    کسی سرکاری تدفین کے موقع پر’ 21′+14′, 18′+12′, 10′+6-2/3′, 9′+6-1/4سائز کا قومی پرچم استعمال کیا جاتا ہے اور عمارتوں پر لگائے جانے کے لئے 6′+4′ یا3′+2′کا سائز مقرر ہے

    ہم سب جانتے ہیں اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جہاں جہاں محب وطن پاکستانی موجود ہیں وہ آزادی کا جشن منانے کی تیاریاں کرنے لگ جاتے ہیں اور پاکستان میں تو ایک نیا جوش و ولولہ دیکھنے کو ملتا ہےپورے ملک میں جگہ جگہ جھنڈے اور جھنڈیوں کے سٹالز لگ جاتے ہیں ملی نغمے اور ترانے بجنا شروع ہوجاتے ہیں اگست کے مہینے میں آپ کا گزر پاکستان کے جس شہر گلی محلے یا صوبے سے ہو کراچی سے خیبر تک اور کشمیر سے گلگت اور خنجراب تک ہر جگہ پاکستانی پرچم اور ترانے چلتے سنائی اور دکھائی دیتے ہیں

    جہاں آزادی کی خوشی منانا ہم سب کے لیے ضروری ہے وہیں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کے اس آزادی کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بڑوں نے کتنی قربانیاں دی کیسے اپنے کندھے جھکا دیے لیکن نا تو اپنے حوصلےجھکنے دیے اور نا ہی اپنی پہچان سبز ہلالی پرچم کو نیچے جھکنے دیا نا کبھی گرنے دیا اپنے سر تن سے جدا کرا لیے لیکن اپنی ملک کی بقا کو ٹھیس نہیں پہچنے دی یہ ملک ایسے ہی مفت میں نہیں مل گیا اس کے لیے خونِ دل صرف کیا گیا ہے اس پاک دھرتی کو ان گنت جانوں کے نظرانے دے کر اور خون پلا کر سیراب کیا گیا تھا اس کے بعد کہیں جا کر الگ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے

    لیکن آج جب میں اپنے ملک کے باشندوں کو اور نوجوان نسل کو دیکھتا ہوں تو دیکھ کر سکتے میں چلا جاتا ہوں کے اس قوم کے لیے پاکستان بنا تھا یا پاکستان نے ایسی قوم بنائی ہے؟ تو اس کا جواب مجھے واضح انداز میں مل گیا کے پاکستان نے ایسی قوم نہیں دی کیونکہ ماضی کے جھرونکوں میں ایک نظرڈال کر دیکھیں تو بالکل عیاں ہوجائے گا کے پاکستان نے قائداعظم ، علامہ اقبال ، شاہ ولی اللہ ، سرسید احمد خان نواب لیاقت علی اور ناجانے کتنےمعتبر اور اعلی قسم کے لوگوں سے ہمیں نوازا ہے جن کی مرہون منت الگ ریاست کا جواب پورا ہوا

    آج نوجوان نسل آزادی کا جشن صرف ہلڑ بازی، ناچ گانے، سڑکوں پر ون ویلنگ اور شور شرابہ کرنے والے باجے بجا کر مناتے ہیں جس سے لوگوں کو تکلیف کے سوا اور کچھ نہیں ملتا اور حادثات میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے سوا یا ماؤں کے گود اجڑنے کے سوا اور کچھ نہیں ملتا کیا ہمیں آزادی اسی کام کے لیے ملی تھی ؟ ہم کس طرف جا رہے ہیں یہ ہم سب کو آج سوچنا ہوگا اور آنی والی نسل کے لیے بہترین مثالیں چھوڑنی ہونگی تاکہ نئی نسل حقیقی معنوں میں اپنی آزادی اور اس ملک کی قدر کو پہچان سکے

    اس سب سے ہٹ کر سب سے افسوس ناک چیز جو میں نے دیکھی ہے وہ سبز ہلالی پرچم کی توہین جسے صرف 14 اگست تک تو اپنی گاڑیوں اور کپڑوں کے ساتھ سجا کر رکھا جاتا لیکن جیسے ہی آزادی کا یہ دن اختتام پذیر ہوتا اگلی ہی صبح پورے ملک میں ایک الگ ہی نقشہ ابھر کر سامنے آیا ہوتا ہے جس پرچم کے ایک دن پہلے سب سینے سے لگا کر چلتے ہیں اسے پندرہ اگست کو اتار کر نالیوں میں گٹروں میں سڑکوں پر اور بازاروں میں اتنی تذلیل کے ساتھ پھینک دیتے ہیں جیسے زمیں پر پڑا وہ پرچم چیخ چیخ کر پکار رہا ہو کے مجھے اس ملک میں رہنا زیب نہیں دیتا تھا یہ میں کن لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا ؟

    اتنی طویل تحریر لکھنے کا مقصد صرف آپ سب کو یہ بتانا ہے کے اس پرچم کی تذلیل کو مزید آگے مت بڑھنے دیں یہ پرچم ہماری پہچان ہے اور جو قومیں اپنی پہچان کو پاؤں تلے روندتی ہیں دنیا انکی کبھی قدر نہیں کرتی کیوں کے ہم سب اپنی پہچان خود مٹانے پر تلے ہیں ہم سب میں اخلاقیات کا بہت فقدان ہوچکا ہے تبھی اتنی بے دردی سے ہم اپنے آزاد ملک کی آزادی کے دن اپنے ہی پرچم کے ساتھ دشمنوں والا رویہ رکھتے ہیں اور صرف ایک دن کا دکھاوا کرتے ہیں یقین مانیں دل خون کے آنسو روتا ہے جب اپنے پرچم کی بے حرمتی کو دیکھتا ہوں لیکن میرا ملک بہت عظیم ملک ہے انشااللہ اس امید کے ساتھ کے اب کی بار اس آزادی پر وہ سب نہیں ہوگا جو آج سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے

    اپنی آزادی کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے پرچم کی قدر کرو

    اللہ اس وطن عزیز اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالیمن

    @Saimladla786

  • اساتذہ کے تجربے اور تعلیم کا معیار ۔  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اساتذہ کے تجربے اور تعلیم کا معیار ۔ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    گزشتہ دو دہائیوں کے دوران معیاری تشخیص اور بعد میں شریک ممالک کی درجہ بندی میں طالب علموں کی کارکردگی کا بین الاقوامی موازنہ نے عوامی اور سیاسی اضطراب کو جنم دیا ہے ، جس کی وجہ سے اسکول کے طلباء کی تعلیمی کامیابی پر اثر انداز ہونے والے عوامل پر شدید توجہ دی گئی ہے ۔ 20 سالوں میں جب سے او ای سی ڈی کا پروگرام برائے بین الاقوامی طلباء کی تشخیص (PISA) شروع ہوئی ہے ، توجہ طلبہ کے حصول میں ایکوئٹی سے بدل کر رشتہ دار اور مطلق کارکردگی دونوں میں کمی کی طرف گئی ہے ، جس کی وجہ سے تدریس اور "اساتذہ کے معیار” کی جانچ پڑتال میں اضافہ ہوا ہے . توجہ میں یہ تبدیلی دعووں کے ذریعے آگے بڑھائی گئی ہے کہ "طلباء کی کارکردگی کے پیمانوں میں 40 فیصد سے زیادہ بقایا تغیرات (طلباء کے پس منظر اور انٹیک کی خصوصیات کے مطابق) کلاس/اساتذہ کی سطح پر ہے” ۔ قومی معیاری تشخیص کے نظام میں طالب علم کی کامیابی کی بنیاد پر اساتذہ کی تاثیر کے ویلیو ایڈڈ ماڈلز کی ترقی کے ذریعے اساتذہ کی جانچ میں اضافہ ، اساتذہ کے پیشہ ورانہ معیارات اور سرٹیفیکیشن کی ترقی اور نگرانی کے لیے قانونی اتھارٹیز کا قیام ، اور باضابطہ معائنوں کی بحالی ہوی۔ 2009 کے بعد سے ، ایجو ٹورزم-جہاں سیاستدانوں ، پرنسپلوں اور اساتذہ کے وفود اپنی کامیابی سے سیکھنے کی امید پر بین الاقوامی لیگ ٹیبل کے اوپری حصے میں تعلیمی نظام کا دورہ کرتے ہیں-"فن لینڈ کے معجزے” سے "ایشین ٹائیگرز” کی طرف بڑھ گئے ہیں۔ سنگاپور ، ہانگ کانگ ، جنوبی کوریا اور شنگھائی، دلچسپی ریاضی کی تدریس کے لیے "ریاضی کی مہارت” رہی ہے ، جسے انگلینڈ میں دو بے ترتیب کنٹرول ٹرائلز کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا جس میں 90 پرائمری اسکول اور 50 سیکنڈری سکول شامل تھے نیز خبروں کی سرخیاں بنانا کلاس روم شور اور خرابی کے لحاظ سے سسٹم کے مابین اختلافات کی اطلاع ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آسٹریلیا جیسے کم درجہ والے ممالک میں اساتذہ رویے کے انتظام میں ناقص ہیں ۔ ٹیچنگ اینڈ لرننگ انٹرنیشنل سروے (TALIS) کے دھندلے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجربہ کار بمقابلہ نوسکھئیے اساتذہ کے لیے زیادہ سکور ظاہر کرتے ہیں کہ ابتدائی کیریئر اساتذہ کم مؤثر ہوتے ہیں ، اس انتباہ کے باوجود کہ ابتدائی اساتذہ زیادہ چیلنجنگ سکولوں کے لیے غیر متناسب طور پر مختص کیے جاتے ہیں۔ سکروٹنی اس وقت سے نظام کی سطح کے اثرات مثلا اسکول کی فنڈنگ ​​میں عدم مساوات اور مسابقتی اسکول مارکیٹوں کے ذریعہ انجینئر کردہ سماجی علیحدگی کے ذریعے فوائد/نقصان کا ارتکاز-اساتذہ کی تیاری کی تاثیر ہے ۔ یونیورسٹی کی ابتدائی ٹیچر ایجوکیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ بہت زیادہ نظریاتی اور ناکافی طور پر اساتذہ کو کلاس روم کے عملی حقائق کے لیے تیار کررہا ہے یہ تنقید خاص طور پر رویے کے انتظام کے حوالے سے شدید ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں مسئلہ ہے ، یا کیا ابتدائی اساتذہ زیادہ تجربہ کار اساتذہ کے مقابلے میں رویے کے انتظام میں کم موثر ہیں۔ آئی ٹی ای اور "اساتذہ کے معیار” کو جوڑنے کا اثر یہ ہے کہ یہ گریجویٹ یا ابتدائی اساتذہ کو "مسئلہ” کے طور پر فریم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ، حل کی ترقی کو فریم کرتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ، آئی ٹی ای اور اس سے پیدا ہونے والے گریجویٹس پر ایک محدود توجہ کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسکول کی تعلیم کو متاثر کرنے والے مسائل کی اصل نوعیت اور وسعت کا پتہ نہیں چلتا اور حل نہیں ہوتا ، جبکہ دیگر کو ان کی اصل یا عملی اہمیت سے باہر بڑھایا جاتا ہے۔ آئی ٹی ای کا خسارہ خاص طور پر آسٹریلیا میں نمایاں ہے ، جہاں یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن نے 1990 کی دہائی میں ٹیچرس کالج کی جگہ لی اور جہاں زیادہ تر پریکٹس کرنے والے اساتذہ اب ڈگری کے اہل ہیں۔ آسٹریلیا میں معیاری تدریس کے "مسئلے” کے حالیہ حل نے بنیادی طور پر یونیورسٹی کے اساتذہ کی تعلیم اور آئی ٹی ای گریجویٹس کے معیار پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں پر اب دباؤ ہے کہ وہ "کلاس روم کے لیے تیار” گریجویٹ تیار کریں تاکہ ان کے کورس کے مواد کے زیادہ سے زیادہ نسخے رسمی منظوری کے عمل کے ذریعے ہوں ۔ 2016 میں ، مثال کے طور پر ، اساتذہ کی تعلیم کے طلباء کی خواندگی اور اعداد کی صلاحیت کا بیرونی جائزہ آسٹریلوی حکومت نے گریجویشن کی شرط کے طور پر متعارف کرایا تاکہ "گریجویشن کرنے والے اساتذہ کی مہارتوں پر اعتماد میں اضافہ” کو یقینی بنایا جا سکے۔ اساتذہ کی تعلیم کے طالب علموں کے لیے گریجویشن کی مزید رکاوٹ ، جو 2018 میں متعارف کرائی گئی اور یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن پروگرامز کی منظوری سے منسلک ہے ، ٹیچر پرفارمنس اسسمنٹ (ٹی پی اے) کی کامیاب تکمیل ہے۔ طلباء کی تعلیم پر اثر پڑتا ہے اور اساتذہ کے لیے آسٹریلوی پیشہ ورانہ معیارات سے وابستہ ہے ۔
    مزید ، اور جیسا کہ یونیورسٹی آئی ٹی ای انٹری سکور کی ناکافی یا دوسری صورت میں بحث جاری ہے ، ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں آسٹریلیا کے سب سے بڑے تعلیمی نظام کی ذمہ دار حکومت نے لازمی قرار دیا ہے کہ گریجویٹس کو مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ گریجویشن کے بعد بطور استاد رجسٹر ہونے کے لیے ایک نفسیاتی امتحان میں اعلیٰ ذہانت اور کریڈٹ گریڈ پوائنٹ اوسط کو برقرار رکھیں – بشمول آئی ٹی ای میں تھیوری پیشہ ورانہ تجربے میں اضافہ اور استحقاق کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی پروفیشنل سٹینڈرڈ فار ٹیچنگ میں "اسٹیج” اپروچ ، جو کہ گریجویٹ ، ماہر ، اعلی تکمیل ، اور لیڈ پریڈ کی پیش گوئی نہ صرف اس مفروضے پر کی جاتی ہے کہ گریجویٹ اور ماہر کے درمیان فرق ہے ، بلکہ یہ کہ تجربے اور تدریسی معیار کے درمیان مثبت رشتہ ہے۔ تاہم ، یہ تمام اصلاحات اس دعوے کی تائید کے لیے کسی تجرباتی ثبوت کی فراہمی کے بغیر ہوئی ہیں کہ ابتدائی اساتذہ اساتذہ کے مقابلے میں کم اہل ہیں جن کا تجربہ زیادہ سال ہے ، خاص طور پر رویے کے انتظام میں۔ یہ تجرباتی شواہد کی محدود دستیابی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور اس وجہ سے کہ جو ثبوت موجود ہیں وہ مخلوط ہیں۔ تدریسی معیار کا سب سے عام بالواسطہ پیمانہ معیاری تشخیص میں طالب علم کی کارکردگی ہے اور اس تحقیق کے نتائج ملے جلے ہیں۔ کچھ شواہد موجود ہیں کہ اساتذہ کے برسوں کے تجربے کا طالب علم کے نتائج پر بہت کم یا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ۔ ایک بار پھر ، یہ ثبوت واضح نہیں ہے ، یہ تجویز کرتا ہے کہ تجربے کا کچھ اثر ہے لیکن یہ محدود ہے اور مجموعی نہیں۔ مثال کے طور پر ، قومی اور بین الاقوامی سیاق و سباق میں کچھ تحقیق تجربے کے لیے ابتدائی اثر کا ثبوت فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے اساتذہ کی جلد اصلاح ہوتی ہے ، لیکن یہ انجمن میدان میں ان کی ابتدائی ایڈجسٹمنٹ کے بعد زوال پذیر ہوتی ہے ۔ اسی طرح ، فلوریڈا ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے دستیاب اعداد و شمار پر شمالی امریکہ کے ایک بڑے مطالعے میں ، 4 سے 8 گریڈ کے 84،031 اساتذہ ، چنگوس اور پیٹرسن (2011) نے پایا کہ اساتذہ عام طور پر ریاضی پڑھنے کے شعبوں میں زیادہ موثر ہو جاتے ہیں۔ فیلڈ میں ابتدائی منتقلی (خاص طور پر پہلے سال کے بعد) ، لیکن چار یا پانچ سال کے بعد پلیٹاوس یا کمی کا تجربہ کرنے کے لیے واپسی۔ ایک اور شمالی امریکہ کے مطالعہ میں 300 اساتذہ پر پینل ڈیٹا اور 10،000 طلبہ کے لیے معیاری ٹیسٹ اسکور کا استعمال کرتے ہوئے ، (2010) میں ریاضی کی گنتی کے لیے پہلے دو سالوں میں ، اور پہلے 10 سالوں میں اساتذہ کے تجربے کا ایک چھوٹا لیکن مثبت اثر پایا۔ الفاظ اور پڑھنے کی سمجھ کے لیے تجربہ شمالی امریکہ میں اسی طرح کی ایک تحقیق میں 3 سے 7 گریڈ کے 3000 سے زائد اسکولوں میں نصف ملین سے زائد طلباء کا ڈیٹا شامل ہے ، ریاضی میں طالب علموں کے نتائج پر تدریس کے تجربے اور اساتذہ کے پڑھائی کے پہلے سال میں پڑھنے پر مثبت اثر پایا۔ تاہم ، یہ اثرات پیشے میں منتقلی کے ابتدائی دور سے آگے جاری نہیں رہے۔ اساتذہ کے برسوں کے تجربے اور تعلیم کے معیار سے بالواسطہ اقدامات (مثال کے طور پر ، طالب علموں کی کارکردگی) کے مابین وابستگی کے ثبوت بڑی حد تک ملے جلے ہیں اور معیار کے پیش گو کے طور پر تجربے کی اہمیت کے حوالے سے واضح نتائج کی تجویز نہیں کرتے ہیں۔ . ادب نے تدریسی معیار کے زیادہ براہ راست اشارے ، خاص طور پر کلاس روم مینجمنٹ کے شعبوں میں اساتذہ کے مشاہدہ کردہ کلاس روم کے طرز عمل ، طلباء کے لیے سماجی معاونت ، اور ہدایات دی ۔ اکثر حوالہ دی گئی رپورٹوں کے پیش نظر کہ نوسکھئیے اساتذہ کلاس روم مینجمنٹ میں چیلنجوں کی وضاحت کرتے ہیں اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تجربے کے بڑھتے ہوئے سال اس ڈومین میں بہتر کارکردگی کا باعث بن سکتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اساتذہ کی اصل کلاس روم کی بات چیت کی جانچ پڑتال تجربے اور کارکردگی کے مابین روابط کو سمجھنے کی کوششوں میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ مزید برآں ، یہ دیکھتے ہوئے کہ طلباء کے ساتھ تعاملات طلباء پر اساتذہ کے اثر و رسوخ کا سب سے براہ راست اور قریب ترین اشارہ ہیں ، ان تعاملات کا مشاہدہ تعلیمی معیار کا ایک اہم اشارہ ہے۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • اداسی کا علاج  تحریر: حُسنِ قدرت

    اداسی کا علاج تحریر: حُسنِ قدرت

    اداسی کی سب سے بڑی وجہ ہماری توقعات کے الٹ نتائج کا آنا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو انسان بہت زیادہ غصہ کرتا اور پھر آہستہ آہستہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور وہی مایوسی ڈپریشن سمیت متعدد ذہنی بیماریوں کی طرف لے جاتی ہے
    اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ اداسی کا شکار نہ ہوں یا آپ اداسی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ آپ بے غرض ہو جائیں جو کام کریں بےلوث ہو کر کریں جو انسان بغیر کسی لالچ کے کچھ کرتا ہے تو وہ زندگی سے بہت کچھ وصول کرتا ہے یعنی اگر آپ اداسی سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ اس بات کو اپنا نصب العین بنالیں کہ
    میں بغیر کسی ذاتی مفاد کے مخلوقِ خدا کی خدمت کروں گا یا کروں گی”
    روانہ سوچیں کہ آج میں اداس ہوں لیکن مجھے دوسروں کی خوشی کا سبب ضرور بننا ہے میری اداسی یا پریشانی اللہ تعالیٰ دور کرے گا اگر آپ صرف یہی سوچ کر کچھ کریں تو بہت سارے لوگ آپکی وجہ سے خوش ہوں گے اور پھول تقسیم کرنے والوں کے ہاتھ تو ویسے ہی خوشبو سے بھرے رہتے ہیں
    اپنے ملازمین سے انکا حال احوال دریافت کریں ،انکے کام کی نوعیت پوچھیں انکی تعریف کریں اپنے گھر کے لوگوں کا خیال رکھیں اور انہیں خوشی دیں جب آپ بےلوث ہوکر یہ سب کچھ اللّٰہ تعالیٰ کی خاطر کریں گے تو وہ غیب سے آپکی طرف خوشیوں کے تحفے بھیجے گا
    کچھ بھی ایسا نہ کریں جس سے آپکا ضمیر آپ کو روک رہا ہو
    اگر آپ اداس ہیں پریشان ہیں تو بستر پہ جاکر سونے سے پہلے یہ سوچیں کہ کل آپ کس کس کو خوش کریں گے یہ اداسی سے نجات کی طرف بہت بڑا قدم ثابت ہوگا تب عین ممکن ہے کہ آپ اپنے آپ سے یہ کہیں کہ میں تو اداس ہوں میں کیسے کسی کو خوش کر سکتی ہوں/کرسکتا ہوں لیکن اس خیال کو جھٹک دیں اور یہ سوچیں کہ کوئی تو آپکی وجہ سے خوش ہوگا اپنی امی کے لیے آپ کچھ چاکلیٹس لاسکتے ہیں چھوٹے بہن بھائیوں کو کوئی چھوٹے موٹے گفٹس دے سکتے ہیں آپ انکی کسی اسائنمنٹ یا ریسرچ ورک میں مدد کر سکتے ہیں اور چھوٹی موٹی خوشیوں کو باقاعدہ انجوائے بھی کر سکتے ہیں بہن بھائیوں کو بغیر کسی وجہ کے ٹریٹ بھی دے سکتے ہیں دوستوں کو لنچ پہ بلا سکتے ہیں اس سے آپ کو ڈھیروں خوبصورت لمحات ملیں گے اور آپ اپنی اداسی بالکل ہی بھول جائیں گے
    اپنے دوستوں اور کلاس فیلوز سے اچھے تعلقات رکھیں ایک اچھے انسان کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے دوستوں سے خوش گوار تعلقات رکھتا ہے اپنے جیون ساتھی کے ساتھ مخلص ہوتا ہے اور پیار سے رشتے کو سینچتا ہے اور اسکے لیے یہ بہت ضروری ہے آپ خوشیاں بانٹنا سیکھیں اور خوشیاں دینا بھی جیسا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ترجمہ:آپکا اچھا کام وہ ہے جس سے دوسرے کے چہرے پر آپکی وجہ سے خوشی اور مسکراہٹ آتی ہے
    یعنی کسی کو مسکرا کر سلام کرنا بھی اچھا کام ہے،کسی سے اسکا حال پوچھ لینا بھی اچھا کام ہے، کسی کی تیمارداری کرنا بھی اچھا کام ہے اس سے نہ صرف لوگ آپ سے محبت کریں گے بلکہ آپ کے نئے دوست بھی بن جائیں گے نیز پریشانی اور اداسی آپ سے دور بھاگے گی اگر آپ کسی راستے سے گزر رہے ہیں اور کسی کا بھلا کر سکتے ہیں کسی کے چہرے پہ مسکراہٹ لا سکتے ہیں تو یہ لازمی کریں کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ آپ اس راستے سے دوبارہ گزریں گے
    زندگی بانٹنے کا نام ہے آپ جب بے لوث ہوکر بانٹنا شروع کریں گے تو اداسی آپ سے کوسوں دور بھاگے گی

  • حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟  تحریر: خالد عمران خان

    حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟ تحریر: خالد عمران خان

    سیاحت کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔ ثقافت کے رنگ ،روایات،تاریخی مقامات ،دلکش وادیاں اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے قدرتی مناظر کی بدولت پاکستان سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔گزشتہ برس ایک تفریحی میگزین نے پاکستان کو نہ صرف چھٹیاں گزارنے بلکہ مہم جوئی کے لئے بہترین جگہ قرار دیا۔سیاحت جہاں تفریح کا سامان میسر کرتی ہے وہیں کسی بھی ملک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل کے 2019کےاعداد و شمار کے مطابق سیاحت کی صنعت نے ملکی معیشت میں5.9فیصدتک کا حصہ ڈالاہے ۔اس کےعلاہ تقریباً39 لاکھ نوکریاں پیداہوئیں ۔ ایک اندازے کے مطابق سیاحت کی صنعت 2025 تک ملکی معیشت میں ایک کھرب روپے کا حصہ ڈالے گی۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے حکومت سیاحت کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔سیاحت کے حوالے سے حکومتی سطح پر کیے جانے والے چند اقدامات قابل غور ہیں ۔
    سڑکوں کی بہتری: ملک میں سیاحت کے رجحان کو بہتر بنانے اور سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی میں بہترین سڑکوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔اعلیٰ حکام نے اس بات کی اہمیت کو جانتے ہوئے متعددمنصوبوں کا آغاز کیا۔مثلاً خیبر پختون خوا کے سیاحتی مقامات تک باآسان رسائی کے لئےسوات ایکسپریس وے کی تعمیر قابل ذکر ہے۔اس منصوبے سے نہ صرف مسافت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی بلکہ شہریوں میں سیاحت کا رجحان اجاگر ہوا۔

    آن لائن ویزہ کی فراہمی :ماضی میں قدرتی حسن سے مالا مال سرزمین تک رسائی کے لئےغیر ملکی سیاحوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدہ لیتے ہوئےحال ہی میں آن لائن ویزہ سسٹم متعارف کروایا تاکہ ویزہ کے اجرا کو آسان بنایاجاسکے۔اس سے نہ صرف191 ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزہ کی سہولت میسر ہوگی بلکہ 50 سے زائد ممالک کے شہریوں کےلئے آن ارائیولول ویزہ کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

    این ۔او۔سی کی شرط کا خاتمہ : گزشتہ ادوار میں غیر ملکی سیاحوں کی ملک کے مختلف تفریحی مقامات تک رسائی کے لئے این او سی ایک بڑی رکاوٹ تھا۔سیاح ہزاروں ڈالرز خرچ کرکے آتے تو نہ صرف انہیں مایوس کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا بلکہ اعلیٰ حکام کے بارے میں سیاحت کے شعبہ میں دلچسپی نہ لینے سے منفی تاثر جاتا۔موجودہ حکومت نے2019 میں سیاحوں کے لئے این۔او۔سی جیسی رکاوٹ کو ختم کردیاجس سے سیاحت کے رجحان میں بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے روزگار میں بہتری کے روشن امکانات ہیں ۔
    امن و امان کی یقینی فراہمی :9/11سانحہ کے رونماں ہونے کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی طویل جنگ سے سیاحت کی صنعت بے حد متاثر ہوئی ۔وہ وادیاں جو کبھی سیاحوں کی تفریح کامرکز تھیں دہشت گردوں کی آما جگاہ میں تبدیل ہوگئیں۔گزشتہ دہائیوں سے افواج پاکستان کی جانب سے کئے گئے آپریشنز سے امن و امان بحال ہوسکا۔اس کے علاوہ حکومتِ خیبر پختونخواہ نے شہریوں کے جان و مال کےتحفظ کے لئے متعدد سیاحتی مقامات پر پولیس فورس متعارف کروائی جو کہ ایک قابل تحسین عمل ہے۔

    تاریخی و مذہبی مقامات کی ازسرنو بحالی: شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ پاکستان تاریخی و مذہبی مقامات کی بدولت خاص کر غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان میں ایسے کئی مقامات پائے جاتے ہیں جن سے تاریخی و ثقافت کے رنگ جھلکتے ہیں ۔مذہبی مقامات کی بدولت وطن عزیز سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے مرکز نگاہ ہے۔ہر سال بھارت اور دیگر ممالک سے سکھ یاتری ننکانہ صاحب آتے ہیں ۔حکومت وقت نے حال ہی میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر مذہبی سیاحت کے رجحان کے لئے کرتار پور راہداری اور وسیع کملیکس کو پائہ تکمیل تک پہچایا۔
    والڈ سٹی اتھارٹی کا قیام:لاہورتاریخی عمارتوں کی بدولت بے دنیا کے تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔لاہور کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے2012 میں حکومت پنجاب نے والڈ سٹی اتھارٹی قائم کی۔
    ورثہ و سیاحت اتھارٹی :حال ہی میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ورثہ و سیاحت اتھارٹی کا قیام عمل میں آیاجس کامقصد ورثے کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب بھر میں نئے سیاحتی مقامات کی دریافت شامل
    ہے۔
    حکومتی سطح پر آگاہی مہم :پاکستان گزشتہ کئی برس دہشت گردی کی زد میں رہا ہے۔اس وجہ سے ایک عرصہ تک پاکستان کودنیا بھر میں غیر محفوظ سمجھا جاتا رہا۔ اگرچہ یہ منفی تاثر ایک حد تک زائل ہوتا نظر آتا ہے حکومتی سطح پر اسے ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات جاری ہیں ۔پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نےیہ عندیہ دیا ہے کہ ستمبر 2021میں سیاحت کے فروغ کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا جا رہاہے۔
    حکومت کے سیاحت کےلئے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں ۔جس سے ملک میں سیاحت کی صنعت کا مستقبل روشن دیکھائی دیتاہے۔

    Twitter ID: @KhalidImranK

  • تحریکِ پاکستان میں علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ کا کردار  تحریر: احسان اللہ خان

    تحریکِ پاکستان میں علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اُن چند جانباز علماء اور مخلص ترین لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مسلمانانِ ہند کو انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے چھٹکارا دلاکر آزادی کا پرچم اُن کے ہاتھوں میں تھمایا، اور ان کے لئے آزادامذہبی زندگی گزارنے کا پُرخار راستہ ہم وَار کیا۔ آپؒ 1885ء کو ضلع بجنور غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے، جہاں آپؒ کے والد ماجد علامہ فضل الرحمن عثمانیؒ سرکاری مدارس کے ڈپٹی انسپکٹر تھے۔ آپؒ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے تلمیذ رشید اور اُن کے صحیح علمی و سیاسی جانشین تھے۔ آپؒ نے 1908ء میں دورۂ حدیث کا امتحان اعلیٰ نمبروں میں پاس کیا اور مدرسہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے دار العلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کی۔
    علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کے دو پہلو ہیں:ایک پہلو آپؒ کی زندگی کا خالص علمی و تحقیقی ہے۔ آپؒ نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کی تفسیر کا تکملہ لکھا جواُنہوں نے مالٹا جیل میں سورۃ النساء تک لکھی تھی۔ اِس تفسیر کی تکمیل آپؒ نے اِس خوبی سے کی کہ بڑے بڑے علماء کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔حدیث کے میدان میں آئے تو صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم عربی زبان میں تصنیف کرڈالی ۔ تدریس کے میدان میں آئے تو علمی جوہر دکھلائے۔ آپ کا شماردار العلوم دیوبند کہنہ مشق اور اعلیٰ مدرسین میں ہوتا تھا۔ آپؒ نے 1910ء سے 1928ء تک دارالعلوم دیوبند میں متوسط کتب سے لے کر صحیح مسلم تک کی تدریس کی۔ 1928ء میں آپؒ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت چلے گئے، اور وہاں تفسیر و حدیث پڑھاتے رہے۔ 1935ء میں دارالعلوم دیوبند کے صدر مہتمم قرار دیے گئے اور1943ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
    علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا دوسرا پہلوسیاسی ، ملی اور ملکی خدمات کا ہے جس کا باقاعدہ آغاز جنگ بلقان سے ہوا۔ آپؒ نے تحریک خلافت میں زبردست حصہ لیا۔ آپؒجمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے زبردست رکن تھے۔ 1919ء سے لے کر 1945ء تک آپؒ اسی میں شریک رہے۔بعد ازاں آپؒ نے مسلم لیگ میں شریک ہوکر تحریک پاکستان کو تقویت بخشی۔ اور تحریک پاکستان کے حامی علماء پر مشتمل ایک جماعت ’’جمعیت علمائے اسلام ‘‘ کے نام سے تشکیل دی، جس پہلے صدر آپؒ منتخب ہوئے، اور نائب صدر علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو مقرر کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے بعد پاکستان کا وجود اِن دونوں حضرات کا مرہونِ منت ہے۔ اگر یہ حضرات مسلم لیگ میں شرکت کرکے شریعت اسلامیہ کی رُوشنی میں متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کے سوادِ اعظم کی رہبری نہ کرتے تو مسلم لیگ کی طرف ہوا کے رُخ کو موڑنا اور نظریۂ پاکستان کی طرف سیاست کے دھارے کا منہ پھیرنا ناممکن نہیں تو دُشوار ضرورر تھا۔ علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اِس سلسلہ میں جمعیت علمائے اسلام کے صدر کی حیثیت سے ملک بھر کے دورے کیے ، سرحد کے ریفرینڈم میں کامرانی حاصل کی ، آزادیٔ کشمیر کی جد و جہد میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کی تحریک کو اپنی علمی، تحقیقی، اور سیاسی تجربات کی بنیاد پر کام یابی سے ہم کنار کرایا۔
    اِس میں شک نہیں کہ تمام مکاتب فکر کے جید علماء و مشائخ نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کا کردار اِس تحریک میں سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔اِس لئے کہ مسلمانانِ ہند کی جس بالغ نظری اور حکمت عملی سے رہنمائی علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے کی وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکا۔
    اِس حقیقت کا اندازہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کی اُس تقریر سے لگایا جاسکتا ہے جو آپؒ نے 26 دسمبر 1945ء کو دیوبند کے ایک جلسے میں کی، جس میں آپؒ نے فرمایا:’’عرصہ دراز کی کاوشوں اور غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر حصولِ پاکستان کے لیے میرے خون کی ضرورت ہو تو میں اس راہ میں اپنا خون دینا باعثِ افتخار سمجھوں گا۔ اس ملک میں ملتِ اسلامیہ کی بقا اور مسلمانوں کی باعزت زندگی قیامِ پاکستان سے وابستہ ہے۔ میں اپنی زندگی کی کامیابی سمجھوں گا اگر اس مقصد کے حصول میں کام آجاؤں۔‘‘
    تحریک پاکستان کی یہ کوشش اور جد و جہد محض اِس مقصد کے لئے کی گئی تھی کہ اِس خطۂ زمین میں مسلمانانِ پاکستان قرآن و سنت کے قوانین نافذ کریں گے اور اپنی تہذیب و ثقافت، علوم و فنون اور اپنی قومی اُردُو زبان کو فروغ دینے کے لئے کسی کے تابع و محتاج نہیں رہیں گے۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر علماء و مشائخ نے قربانیاں دیں ، بالخصوص علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اپنی حیاتِ مستعار کے آخری سال مقصد کے حصول کی خاطر قربان کیے ۔ آپؒ کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ وطن عزیز ملک پاکستان میں اسلامی احکام اور دینی قوانین کا اجراء اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں، مگر قدرت نے جس سے جتنا کام لینا مقرر کیا ہوتا ہے اُسی قدر اُس سے کام لیا جاتا ہے۔
    قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی زندگی کا مشن مسلمانانِ ہند کے لئے علیحدہ ایک نئے خطے کی صورت میں وطن عزیز ملک پاکستان کا عدم سے وجود میں لانا تھا۔ اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا مطمح نظر قدرت کے نزدیک قرار دادِ مقاصد کی تجویز کا پاس کراکر اِس مملکت خداداد کا آئین و دستور قرآن و سنت پر رکھنا تھا۔
    بالآخر تحریک پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ پاکستان بننے پر مؤرخہ 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان1366ء کی دوپہر کو افتتاحِ پاکستان کی تقریب سعید میں حصہ لینے کے لئے دیوبند سے کراچی تشریف لائے۔ اور 14 اگست کو کراچی میں جشن آزادی میں شرکت فرمائی۔ قائد اعظم محمدعلی جناح رحمہ اللہ نے آپؒ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں ملک کے دارالحکومت کراچی میں پہلی پرچم کشائی آپؒ ہی کے مبارک ہاتھوں سے کرائی۔ اور مجلس دستور ساز میں رُکنیت بھی آپؒ کودلوائی۔ 11 ستمبر 1948ء کو جب قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی وفات ہوئی تو اُن کی وصیت کے مطابق اُن کا نمازِ جنازہ علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے ہی پڑھایا۔
    پھر اِس کے تقریباً ایک سال اور چند ایام بعد علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو 8 دسمبر 1949ء کی شب کو بخار ہوا، صبح طبیعت ٹھیک ہوگئی، آٹھ بجے صبح پھر سینہ میں تکلیف ہوئی اور سانس میں رُکاوٹ ہونے لگی۔ بالآخر مؤرخہ 13 دسمبر 1949ء بمطابق 21 صفر 1369ھ کو 11:40.AMمنٹ پر سہ شنبہ (منگل کے روز) 64 سال کی عمر میں علم و عمل اور دین و اسلامی سیاست کا یہ آفتاب و ماہتات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اِس عالم رنگ و بو سے غروب ہوگیا۔ انان للہ وانا ا لیہ راجعون۔
    یہ خبر بجلی کی طرح سارے عالم اسلام میں پھیل گئی۔ اور دُنیا بھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ سرکاری دفاتر اور کاروباری ادارے بند ہوگئے۔ گورنر جزل خواجہ نظام الدین اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے اپنے دورے منسوخ کردیئے۔ عوام و خواص اور ممالک اسلامیہ میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ میت بغداد الجدید بہاول پور سے کراچی پہنچائی گئی۔ آپؒ کے شاگردِ رشید علامہ بدرِ عالم میرٹھی رحمہ اللہ نے آپؒ کو غسل دیا اور مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے آپؒ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تقریباً دو لاکھ سے زائد مسلمانوں نے آپؒ کے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اور آپؒ کا جسد خاکی اسلامیہ کالج جمشید روڈ کراچی میں سپردِ خاک کردیا ؎
    مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!
    تو نے وہ’’ گنج ہائے گراں مایہ ‘‘ کیا کیے؟
    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • انسان پر اللّہ کی آزمائش تحریر: صادق سعید

    انسان پر اللّہ کی آزمائش تحریر: صادق سعید

    سمندر کی گہرائی تک تو شاید کوئی پہنچ گیا ہو لیکن ماں کے پیار کا کنارہ آج تک کسی کو نہیں ملا اور نہ کبھی مل سکتا ہے کیونکہ ماں جب بولتی ہے تو اس کے لہجے میں جبرائیل بولتے ہیں۔
    کیونکہ ماں جب مسکراتی ہے تو ایسا لگتا ہے کے جنت کی ساری کلیاں پھولوں کی کھل گئی ہوں۔

    اللّہ نے ماں کے سینے میں وہ درد وہ محبت وہ الفتوں کا ایک جاہاں آباد کردیا ہے کیوں کے ماں تو پھر ماں ہی ہوتی ہے۔
    ماں کے سینے میں رکھا ہوا پیار تو ایک اجیب کائنات ہے تڑپتی ہوئی ممتا اور ایک الگ ہی جاہاں ہے کبھی آپ نے دیکھا ہو کے بچہ جب گھر سے نکلتا ہے دنیا کی بڑی بڑی دانش گاہوں میں اسکا انتظار ہو رہا ہوتا ہے لوگوں کو عقلو دینیش سیکھانے جا رہا ہوتا ہے اور اس کی ایک ایک بات کو لوگ موتیوں کی طرح جھولیوں میں ڈالتے ہیں اور دنیا کی دانش گاہوں میں یونیورسٹییو میں اور درست گاہوں میں لوگ موتیوں جیسے اس کے جملے سننے کے لیئے بیتاب ہوتے ہیں اس کی باتیں زندگی گزارنے کا ہنر سکھاتی ہیں تو لوگ سیکھنے کے لیئے جمہ ہوتے ہیں لیکن وہ شخص جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو ماں کتنے بھولے اور پیارے انداز میں کہتی ہے بیٹا زرا سڑک زرا دیہان سے پار کرنا سوچیں زرا آپ جو دنیا کو عقلو دینیش کا سبق سکھانے جا رہا ہے کیا أس کو یہ بھی نہیں پتا کے سڑک کیسے پار کرنی ہے؟
    لیکن ماں کے پیار کا روپ ہے یہ ماں کی محبت کا تیور ہے یہ ماں کی الفت کے رنگ ہیں اور جب تک بچہ گھر پلٹ کر واپس نہیں آتا ماں بیچین رہتی ہے ماں کے دل میں کھٹکا رہتا ہے اور بیٹے کے لیئے دعائیں مانگتی رہتی ہے کے میرا بیٹا خیر سے واپس گھر آجائے ماں کے سینے میں اتنا پیار کیوں ہے؟

    دکھ جی لیتی ہے تکلیفیں گوارا کر لیتی ہے غریب مائیں تو بیٹوں اور بیٹیوں کا پیٹ پالنے کے لیئے کسی کے گھر کے برتن بھی مانجھنے پڑھے تو مانجھ لیتی ہے۔

    تکلیفیں سہے لیتی ہے ازییتیں گوارا کر لیتی ہے لوگوں کی غلامیاں قبول کر لیتی ہے مائیں اپنی اولاد کے لیئے کیا کچھ نہیں کر لیتی ماں کو اولاد سے اتنا پیار کیوں ہے؟

    ایک ہی جواب ہے اس لیئے کے ماں نے اولاد کو جنم دیا ہے جس ماں نے جنم دیا ہے وہ اتنا پیار کرتی ہے اور جس نے ہمیں خلق دیا ہے وہ کتنا پیار کرتا ہوگا جنم دینے والی کے پیار کا ٹھکانہ کوئی نہیں جو خلق کرنے والا ہے اس کے پیار کا اندازاہ کون کر سکتا ہے۔

    ماں گوارا نہیں کرتی کے میرا بیٹا بھوکا رہے تکلیف میں رہے بیٹا بھوک میں تڑپے تو ماں بیچین ہو جاتی ہے اور جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے أسنے کیسے گوارہ کرلیا کے میرا بندہ بھوکا رہے۔

    سحری کا کھانا کھایا ہے کڑکھتی دوپہر ہے برستی گرمی ہے زبان پر پپڑی جم گئی ہے حلق خشک ہوگیا کھانے کے لیئے پینے کے لیئے سب کچھ میسر ہے لیکن کہا نہیں ایک گھونٹ بھی نہیں لینا وضو کرتے وقت بھی احتیاط کرنا ہے کہی حلق سے نیچے کوئی قطرا أتر نہ جائے کچھ کھانا بھی نہیں ہے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب نے یہ کیسے گوارہ کرلیا؟

    اس مسلئے کو سمجھنے کے لیئے پھر دوبارا ماں کی آغوش میں آنا پڑے گا بیٹا بیمار ہوگیا ماں ڈاکٹر کے پاس لیکر گئی أس نے دوا تجویز کی سیرپ کڑوا تھا بیٹا پیتا نہیں ماں نے زبردستی أس کو لیٹا دیا أس کا منہ کھولا أس میں قطرے سیرپ کے ٹپکا رہی ہے بچہ چیختا ہے روتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ قطرے بچے کے حلق سے نیچے اترتے جاتے ہیں ماں کے چہرے پر سکون آنے لگتا ہے۔

    کیا ماں سفاق ہوگئ ہے؟ نہیں
    ماں کی ممتا ختم ہوگئی؟ نہیں
    وہ جو بیٹے کی آنکھ میں آنسوں نہیں دیکھ سکتی تھی وہ تڑپتے ہوئے بچے کو دیکھ کر پر سکون کیوں ہے؟
    کیا ماں کی ممتا رخصت ہوگئی؟
    جواب: نہیں
    تو کیوں ماں اتنی خوش ہے؟
    کہا بیٹا نہیں جانتا ماں جانتی ہے چند لمحوں کی تکلیف ہے تھوڑی سی کڑواہٹ ہے لیکن جب یہ سیرپ اندر اترے گا تو نتیجہ شفا کی صورت میں ہوگا ماں کی نگاہ اس کڑوہے سیرپ پر نہیں ماں کی نگاہ نتیجے پر ہے۔

    کہا ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا رب العالمین تمہیں بہت پیار کرتا ہے لیکن بھوک اور پیاس اس لیئے گوارہ کروائی جا رہی ہے کے اس کا نتیجہ تقویٰ کی صورت میں برآمد ہوگا تمہیں اتباع کی دولت ملے گی کے تم تقویٰ کے نور پالوگے اس لیئے یہ مہینہ ایک موقع ہے ایک فہرست ہے ہم اس فہرست کو غنیمت جانے اور اپنے نفس کو قابو میں کریں روزہ ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے اس لیئے اس سے وہ سب کچھ سیکھیں اور اپنے من کو سنوارنے کی کوشش کریں تو جب ہم تقویٰ کی دولت پالیں گے تو روزے کا مقصود عطاء ہوجائے گا۔
    اللّہ آسانیاں حاصل اور تقسیم کرنے کا شرف عطاء فرمائے آمین یارب العالمین۔

    Name: Sadiq Saeed
    Twitter: @SadiqSaeed_

  • لِبَاسُ التَّقوٰی  تحریر: محمد اسعد لعل

    لِبَاسُ التَّقوٰی تحریر: محمد اسعد لعل

    قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ جو آپ کے اندر خدا تعالیٰ کا ڈر ہے یا خدا کے مقابلے میں اندیشہ ناکی ہے یا یہ احساس ہے کہ آپ کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے، اس سے انسان کو جو لباس حاصل ہوتا ہے، اُسے لِبَاسُ التَّقوٰی کہتے ہیں۔یعنی یہ کسی شلوار قمیض یا پتلون کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ تقویٰ کا لباس ہے جو آپ کے باطن کو ڈھانپتا ہے۔یہ کوئی لباس کی قسم نہیں ہے۔جو لباس ہم اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لیے پہنتے ہیں اس میں تقویٰ کا ظہور تو ہو سکتا ہے کسی نہ کسی پہلو سے لیکن تقویٰ کا لباس اس طرح کا نہیں ہے کہ جسے آپ کسی درزی سے سلوا لائیں۔
    اللہ تعالیٰ کے خوف سے آخرت کی ملاقات کے احساس سےاللہ تعالیٰ سے سچی محبت سے ہر مسلمان کو تقویٰ کا لباس اوڑھنا چاہیے۔اور اسی کا نام اسلام ہے۔اللہ کی سچی معرفت آپ نے حاصل کی اور آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح اس دنیا کے رشتے ہیں ،بہن ،بھائی، ماں ،باپ ایسی طرح میرا سب سے بڑا رشتہ میرے خالق کے ساتھ ہے ،میرے پروردگارکے ساتھ ہے ،زمین و آسمان کے بادشاہ کے ساتھ ہے وہی میرا معبود ہے اور میں اس کی مخلوق کی حیثیت سے اس کے بندے کی حیثیت سے زندگی بسر کروں گا۔ یہ تقویٰ ہے اور جب اس کا لباس اپنے باطن پہ پہن لیتے ہیں تو اس کا ظہور آپ کی چال ڈھال میں ہوتا ہے ،آپ کی گفتگو میں ہوتا ہے،آپ کے علمی معاملات میں ہوتا ہے۔یعنی یہ لباس ہماری روح نے اوڑھ رکھا ہوتا ہے ۔ یہ تو ہے تقویٰ کا لباس اب ہم ظاہری لباس کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ کیا اسلام میں کوئی ظاہری لباس جو ہم اپنے بدن کو ڈھانپنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، مقرر کیا گیا ہے؟
    اسلام نے کوئی لباس مقرر نہیں کیا۔لباس کا تعلق اس سے ہے کہ آپ کس معاشرت میں جیتے ہیں ،آپ کا ماحول کیا ہے،آپ کس زمانے میں ہیں۔ اہل عرب ایک لباس پہنتے ہیں،اہل عجم ایک لباس پہنتے ہیں۔ شروع شروع میں اہل عرب کے لوگ ہی ہندوستان میں آئے تھے لیکن عجم کے راستے سے آئے تھے تو بہت سی عجمی روایات ساتھ لے آئے۔یہ جو پاجامہ جسے سلوار/شلوار کہا جاتا ہے یہ ان ہی لوگوں کے لباس میں شامل تھا۔
    یہ حضرت محمدﷺ کو بھی دکھایا گیا اور آپ نے پسند فرمایا۔لیکن خود آپﷺ تہمد استعمال کرتے تھے کیوں کہ آپ کے زمانے کا لباس یہی تھا۔
    ہر قوم اپنا ایک لباس رکھتی ہے۔اسلام میں کوئی لباس مقرر نہیں کیا گیا لیکن لباس کے بارے میں اصولی ہدایت ضرور دی گئی ہیں کہ جو بھی آپ لباس پہنیں وہ حیا،شرم اور حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ قرآن مجید میں مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کر کہ کہا گیا ہےکہ شرمگاہوں کو ڈھانپنے والا لباس ہونا چاہیے۔وہ لباس کسی انگریز کا بھی ہو سکتا ہے،امریکی لباس بھی ہو سکتا ہے ہمارا پاکستانی لباس بھی ہو سکتا ہےعجمی کا بھی سکتا ہے اور عربی کا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس میں سلیقے سے شرمگاہوں کو ڈھانپا ہوا ہوناچاہیے۔
    دوسری بات یہ کہ لباس کی کوئی ایسی قسم جو کسی دوسری قوم کا مذہبی شعار ہے ، مذہبی شعار بھی دو قسم کے ہیں ۔ایک تو یہ ہے کہ وہ مذہبی شعار کسی بدعت یا شرک پر مبنی ہے تو اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔
    دوسری یہ کہ وہ کوئی اس نوعیت کی چیز تو نہیں لیکن مذہبی روایت سے پیدا ہو گیا ہے اس کے استعمال میں کوئی ہرج نہیں ہے۔لیکن اگر اس میں شرک ہے تو اجتناب کریں ،کیوں کہ یہ جتنے بھی لباس ہیں کسی قوم نے ایسے ہی ایجاد کیے ہوتے ہیں۔ان میں بہت سے عوامل کام کرتے ہیں ، مثلاً موسم،علاقے کی روایات،لوگوں کے معاشی معاملات اور لوگ کاروبار کس طرح کے کرتے ہیں ۔ اب دیکھیں کہ وہی تہمد سائیکل کے لیے کتنے مسائل پیدا کر دیتی ہے۔اس لیے کسی قوم کا لباس ان سب عوامل پر انحصار کرتا ہے۔
    آج کل ٹائی کے بارے میں یہ بات مشہور ہےکہ یہ صلیب کا نشان ہے ۔ بہت سے لوگ ٹائی باندھنے کے خلاف ہیں۔ان کے نزدیک یہ اسلام میں جائز نہیں ہے ۔لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ٹائی صلیب کی علامت ہے۔
    ظاہری لباس سے بڑھ کر تقویٰ کا لباس ضروری ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ الاعراف میں آتا ہے کہ
    (ترجمہ )اے آدم کی اولاد! ہم نے تم پر لباس اُتارا ہے، جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہےاور زینت بھی اور تقویٰ کا لباس! وہ سب سے بہتر ہے، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • کامیابی کیا ہے؟    تحریر :ایم ابراہیم

    کامیابی کیا ہے؟ تحریر :ایم ابراہیم

    ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ کامیاب ہو. وہ زندگی بھر ناکامی سے بچتا رہتا ہے اور کامیابی کے حصول کے لیے دن رات تگ و دو کرتا رہتا ہے. اگر آس پاس نظر دوڑائیں تو ہر کوئی آپ کو کامیابی کے بارے سوچتا نظر آئے گا اور اس کے پیچھے بھاگتا نظر آئے گا. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل میں کامیابی ہے کیا اور کیا اس کے حصول کے بعد انسان مطمئن ہو جاتا ہے؟ کیا جسے وہ کامیابی سمجھتا ہے اس کے حصول کے بعد اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی؟

    کامیابی ہر انسان کے لئے الگ معنی و مفہوم رکھتی ہے. ہر شخص کے لیے کامیابی کا ایک الگ معیار ہوتا ہے. اُس کی کامیابی انحصار کرتی ہے کہ اس نے کامیابی کا معیار کیا طے کیا ہے. کسی کے ہاں دولت کامیابی ہے تو کسی کے لیے شہرت. کوئی اپنی خواہش یا خواہشات کی تکمیل کو کامیابی قرار دیتا ہے تو کوئی اقتدار. کسی کے لئے نوکری اور کوٹھی بنگلے کا حصول ہی کامیابی کہلاتی ہے. بلکہ عام اصطلاح میں تو لوگ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے والے یعنی خود کفیل شخص کو بھی کامیاب کہتے ہیں. اصل میں جس کے پاس جو چیز نہیں ہے اس کا میسر ہونا ہی اسے کامیابی لگتی ہے. بحرحال یہ بات طے ہے کہ کامیابی کا مطلب ہر فرد کے لیے مختلف ہوتا ہے. دوسرے لفظوں میں وہ اپنی زندگی کا ایک مقصد طے کرتا ہے پھر وہ محنت کرتا ہے اور اس کے حصول کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے. لیکن کیا محض ان چیزوں کا حصول ہی کامیابی ہے؟ کیا یہ سب لوگ کامیاب ہیں؟

    یہ سب مفاہیم سراب اور فانی دنیا کی کامیابی کے ہیں. کیونکہ یہ دنیا جب فانی ہے تو اس کی کامیابی بھی ایک وقت کے لئے ہو گی دائمی نہیں ہوگی. اصل میں تو کامیابی وہ ہے کہ جو کبھی ختم نہ ہو اور وہ ہے اگلی دنیا کی کامیابی جو کہ ہمیشہ رہنے والی ہے. اللہ تعالی نے اس دنیا کی کامیابی کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے بلکہ ہمیشہ رہنے والی دنیا یعنی آخرت میں کامیابی کے حصول کا ہمیں حکم دیا ہے. قرآن کریم کیونکہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے تو قرآن سے پوچھتے ہیں کہ فلاح یعنی کامیابی کیا ہے. ایک جگہ ارشاد ربانی ہوتا ہے "دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے، جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہے” (القران 59:20)
    اب اس آیت مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ اصل کامیابی تو یہ ہے کہ ہم نیک کام کریں کریں، احکام الٰہی کے مطابق اس عارضی دنیا میں زندگی گزاریں اور نیک اعمال کا صلہ یعنی جنت حاصل کریں اور کامیاب ہوں. جیسا کہ ایک اور آیت میں ارشاد ہے” مومنو! رکوع کرتے اور سجدہ کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ” (القرآن 22:77)
    یعنی اللہ کے نزدیک ایک انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں اس کی عبادت بجا لائے، نیک اعمال کرے، اس کی مخلوق کی خدمت کرے، ان کی مدد کرے تاکہ اُخروی دنیا میں اللہ کے ہاں سرخرو ہو. ایک اور آیت مبارکہ میں آتا ہے کہ اُس دن (یعنی قیامت کے دن) وہی فلاح پانے والے ہوں گے جن کے پلڑے بھاری ہوں گے یعنی جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی.

    اگر آپ قرآن پاک کا مطالعہ کریں تو آپ کو اِس دنیا کی کی کہیں اہمیت نہیں ملے گی اور ہم نے اسی فانی دنیا میں میں کامیابی حاصل کرنا شروع کر دی. اگر اس دنیا کی برائے نام کامیابی حاصل کر بھی لیں تو وہ عارضی ہوگی. بے شک اس دنیا میں بھی ہمیں محنت کرنی چاہیے اور ایک اچھا مقام حاصل کرنا چاہیے لیکن یہ زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیے. اِسی ہی کو کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اگلی دنیا میں حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھی محنت کرنی چاہیے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے احکامات پر عمل کرکے اُخروی زندگی کے لئے بھی کچھ کرنا چاہیے چاہیے. اللہ تعالی ہم سب کو دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا فرمائے. آمین

    @ibrahimianPAK

  • آزادی کی قدر کریں  تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کی قدر کریں تحریر: تماضر خنساء

    یہ وطن ____یہ پاک سر زمین ! جہاں آج ہم آزاد
    فضاؤں میں سانس لیتے ہیں، جہاں مسلمان ہو یا کوئ عیسائ اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارتا ہے، کوئ زبردستی نہیں ہے، کوئ خوف نہیں ہے، یہ وطن کس قدر قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا، کس قدر جانوں کا تاوان وصول کیا اس مٹی نے ہم سوچ بھی نہیں سکتے!
    جی ہاں آج ہم ان آزاد فضاؤں میں سانس تو لیتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس وطن کو حاصل کرنے کیلیے اپنا سب کچھ قربان کردیا، اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈالا، اپنے خاندان قربان کردیے، اپنا چین و سکون چھوڑدیا بس اس آزاد مٹی کی خاطر! جہاں اُنکی آنے والی نسلیں آزاد ہوں، جہاں اسلام کا نام لینے والے کلمہ پڑھنے والے آزادی سے اپنے رب کے حکم بجالاسکیں، جہاں امن و آشتی کا دور دورہ ہو، جہاں انصاف کا ترازو سب کو برابر تولتا ہو، جہاں حاکم عادل ہو_______
    مگر ان عظیم لوگوں کی آنے والی نسلیں یعنی کہ ہم! ہم تو اس سرزمین کی اہمیت ہی نہیں سمجھتے اور یوں آزادی کی اس دولت کو گنواتے جارہے ہیں کہ ہمیں احساس تک نہیں ہے _____ہم بھول گئے کہ یہ وطن یونہی نہیں حاصل ہوا، بلکہ اسکو حاصل کرنے کیلیے خون کے نذرانے پیش کیے گئے تب کہیں جاکر آج ہمیں یہ آزاد وطن ملا، ہم بھول گئے قائد کے نصب العین کو، ہم بھول گئےاِن قربانیوں کو، ہم نے سب کچھ فراموش کردیا______آج اس وطن میں برائ کی جڑیں بنانے والے ہم خود ہوگئے، آج ہم نے اپنے وطن کی جڑیں خود ہی کھوکھلی کرنا شروع کردیں، جس وطن نے ہمیں نام دیا، مقام دیا، ہمیں عزت دی، آج اسی وطن کو ہم نے غیروں کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے ______
    یہ وطن جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا، جس سے کفار پہ لرزہ طاری ہوگیا کہ آج اس زمین پہ ایسی مملکت وجود میں آچکی ہے جسکی بنیاد ہی” لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ” ہے،ہم نے اسکی بنیاد کو ہی پروان نہیں چڑھنے دیا ____ اپنے وطن کے ساتھ دشمن سے بھی بڑھ کر برا سلوک کیا، پہلے اسکا ایک بازو الگ کردیا گیا تب بھی ہمیں ہوش نہ آیا اب بھی ہم مدہوش ہیں_______
    ذرا سوچیے یہ آزاد سرزمین نہ ہوتی تو آج کشمیر کی طرح کا حال ہوتا ہمارا، ہماری جانیں محفوظ نہ ہوتیں، ہماری ماؤں بہنوں کی عصمتیں دن کے اجالے میں بھی تار تار ہوتیں ، جہاں سانس لینا ایک کلمہ گو کیلیے حرام کردیا جاتا، ہر وقت کا کرفیو ہر وقت کا خوف ہمارے سروں پر مسلط رہتا ___ایک آزاد ملک میں رہنے کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ ہم اب آزاد نہیں رہے تو اٹھیے اور فلسطین جائیے اور جاکر دیکھیے کہ غلامی کیا ہوتی ہے آزادی کیا ہوتی!
    ہم بھول گئے کہ ہم آزاد ہیں، بے بسی کی خود ساختہ بیڑیاں پہن کر اپنے ذہنوں کے غلام بنادیے گئے ہیں کہ آزاد ہو کر بھی ہم مجبور ہیں ____
    ہم نے اپنی ہی فوج کے خلاف سوشل میڈیا پہ محاذ کھول لیے بجائے اس کے کہ ہم انکے پیچھے کھڑے ہوتے ہم نے انہی پہ نقب لگانا شروع کردی_____ اس وطن کی زمام کار ایسے ہاتھوں میں ہم نے بار بار سونپی جن ہاتھوں نے اسے بڑھ چڑھ کر لوٹا، اس کی جڑیں کھوکھلی کرنا شروع کردیں کیونکہ ہم خود بھی تو اسی رستے پر گامزن ہیں _____ہمیں تو یہ بنا بنایا وطن جو مل گیا مفت میں بیٹھے بٹھائے، قربانیاں تو اُن لوگوں نے دیں جو گزر گئے______
    وہ کہتے ہیں نا کہ جو چیز آسانی سے مل جائے یا مفت میں ملے تو اسکی قدر کہاں رہتی ہے؟
    یہی ہماری بھی کہانی ہے ہمیں بھی آزادی کی قدر نہیں ہے، اس پاک سرزمین کی قدر نہیں ہے،اور جس چیز کی بے قدری کی جاتی ہے تو پھر وہ چھین لی جاتی ہے! ______
    ہوش میں آئیں اس سے پہلے کہ ہم آزاد نہ رہیں، قدر کریں اس، وطن کی، اُن قربانیوں کی جن کی وجہ سے آج یہ آزادی جیسی نعمت ہمیں ملی ہے وگرنہ کل کو یہ آزادی، یہ آزاد سرزمین نہ رہی تو سوچ لیجیے کہ ہمارا حال کیا ہوگا ____ہمارا حال تو فلسطینیوں سے بھی برا ہوگا ،ہمارا حال کشمیر سے کچھ زیادہ مختلف نہ ہوگا اس لیے قدر کیجیے اس مٹی کی اور کوشش کیجیے کہ جہاں تک ہوسکے اس وطن کو اور اسکی ساکھ کو فائدہ پہنچے ______ آزادی کا یہ دن ہر سال ہمیں یہی تو یاددلاتا ہے کہ ہمارا مقصد زندگی کیا ہے صرف” لا الہ الا اللہ "ہے اور یہی ہماری اور اس وطن کی کامیابی کی ضمانت ہے _________
    پاکستان کا مطلب کیا
    "لاالہ الا اللہ ”

    @timazer_K

  • خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی  تحریر : تماضر خنساء

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی تحریر : تماضر خنساء

    اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ وہ ایسی قوم کی حالت
    نہیں بدلتے جو اپنی حالت کو خود ہی نہ بدلنا چاہے
    ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے

    :اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ
    (الرعد :11)
    بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے”
    آج اگر ہم خود کو دیکھیں تو یہی وجہ ہے کہ ہمارے حالات نہیں بدلتے کیونکہ ہم خود ہی نہیں بدلنا چاہتے ۔۔۔آج اس معاشرے میں اگر کوئ ایک دھوکہ دے تو اسکی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی وہی شروع کردیتے، چوری کرنا دوسروں کا حق مارنا، مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پیسے اینٹھنا —-غرض یہ چیز ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے کہ جو جیسے چاہتا ہے بس اپنا فائدہ ہو جس میں وہی کرتا ہے اور لوگ اسکو روکنے کے بجائے وہی کام شروع کردیتے۔۔۔۔ہم یہ تو چاہتے کہ ہمارے حالات بدل جائیں مگر ہم خود بدلنا نہیں چاہتے ۔۔۔۔اس قوم کے بگاڑ میں اس قوم کا ہی اپنا ہاتھ ہے ۔۔۔۔۔ہم۔اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی بے ایمانی اور دھوکہ دہی کرنا نہیں چھوڑتے ۔۔۔۔ہر برائ کی جڑ خود ہم سے ہی جڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔اگر کسی بھی برائ کو ختم کرنا ہے تو خود سے شروع کرنا ہوگا نہ کہ دوسروں سے ۔۔۔۔۔ہمارے معاشرے میں منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ جو غلط کام ہم خود کررہے ہوتے اسی پر دوسروں کو کھلم کھلا لعنت ملامت کرتے ہیں آخر ہم دوسروں پہ انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان کیوں نہیں جھانکتے ۔۔۔۔لوگوں کو جج کرنا ہمیں خوب آتا ہے مگر ہر انسان خود کو کیوں اسی مقام پر نہیں رکھتا؟ پھر ہمیں اپنے معاشرے سے ڈھیروں شکایتیں ہیں مگر ان شکایتوں کو ہم خود میں سے دور کرنا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔۔دوسروں کو انکے غلط کام پر ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرنا خوب آتا ہے مگر ہماری اپنی باری کبھی آتی ہی نہیں!
    آج اگر ہمیں اپنے معاشرے سے چھوٹی برائیوں سے لیکر بڑی برائیوں تک کا خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں خود سے ہی شروع کرنا ہوگا جو کام اگر کوئ دوسرا کرے اور ہمیں برا لگے دیکھیے کہ وہی کام کہیں آپ خود بھی تو نہیں کرتے؟ اگر کرتے ہیں تو پہلے خود کے اندر سے اس برائ کو دور کریں تبھی وہ برائ باقی معاشرے سے بھی. دور ہوگی وگرنہ کبھی نہیں ۔۔۔۔
    ہر برائ کو دور کرنے کی ابتدا خود سے کریں پہلے خود کو بدلیں اسکے بعد ہی حالات بدلیں ورنہ حالات بدل جانا ایک خواب ہی رہے گا ۔۔۔۔۔
    آج ہمارے معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لے چکی ہیں ۔۔۔۔ہم اخلاقی پستی کا شکار ہوچکے ہیں ۔۔۔۔وہ تعلیمات جو اللہ اور اسکے رسول نے ہمیں دیں انہیں تو ہم بس کتابوں میں پڑھنا پسند کرتے ہیں اسکے آگے اپنی زندگی میں اسے لاگو کرنے کا تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔وہ تعلیمات وہ زندگیوں کے نمونے ہمارے لیے مشعل راہ تھے. مگر ہم نے ان سب کو بس کتابوں اور تاریخ کا حصہ بناکر رکھدیا جبکہ ان ساری تعلیمات کو آج ہماری زندگیوں کا حصہ ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔جو ہمارے لیے مشعل راہ تھا، اسے تو ہم نے پس پشت ڈال دیا پھر جب ہم ناکام ہیں تو اسکا، سارا قصور وار ہم دوسروں کو سمجھتے ہیں جبکہ قصور وار تو ہم ہی ہیں ______
    ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں جھوٹ بولنا نہیں چھوڑتے ۔۔۔دھوکہ دینا نہیں چھوڑتے توبڑے معاملات میں ہم کیسے سچ بول پائیں گے؟
    آج اگر کوئ اور بھی سچائ پہ گامزن ہوتا ہے تو ہم اسکا ساتھ تک نہیں دے پاتے یہی وجہ یے کہ حق کیا ہے ہم یہ جان ہی نہیں پاتے ۔۔۔۔ہر چمکتی چیز کی طرف ہم دوڑتے ہیں ہر گناہ کی طرف ہم بھاگے بھاگے جاتے ہیں ۔۔۔ہم اپنا مقصد زندگی تو بھول ہی گئے!
    ہماری زندگی کا مقصد پیسے کمانا، نام کمانا چاہے وہ کسی بھی طرح سے ہو بس یہی رہ گیا ہے ۔۔۔۔اچھائ اور برائ کی تمیز کو الماری میں لاک کرچکے ہیں جسکی چابی بھی ہم نے جان بوجھ کر کھودی ہے ۔۔۔
    ہماری زندگی کا مقصد تو اصل میں اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنا تھا جس کیلیے ہمیں اس دنیا میں آزمائش کیلیے بھیجا گیا ۔۔۔مگر ہم نے اپنا مقصد زندگی بھلادیا اور اس زندگی کو دائمی سمجھ لیا ہے _____
    اس معاشرے کو بدلنے کیلیے خود سے آغاز کیجیے کہ جب تک آپ خود کو بدلنا نہیں چاہیں گے تو ہمارا حال یہی رہے گا
    بقول شاعر :
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جسکو خیال آپ اپنی حالت کو بدلنے کا

    @timazer_K