Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • غنی شاکر اور فقیر صابر تحریر: احسان الحق

    غنی شاکر اور فقیر صابر تحریر: احسان الحق

    اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے کچھ بندوں کو رزق دے کر آزماتے ہیں اور کچھ بندوں کو رزق کی تنگ دستی سے آزماتے ہیں. مال دار اور غنی بندے کو ہر حال میں شاکر ہونا چاہئے، یہ بہترین غنی ہے. اسی طرح فقیر اور تنگ دست بندے کو ہر حال میں صابر رہنا چاہئے، یہ بہترین فقیر ہے. ایسے شاکر "غنی” اور صابر "فقیر” کے لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں اجر عظیم ہے. اگر غنی ناشکری کرنے والا ہو تو ایسا مالدار بدتر مالدار ہے. بے صبری کرنے والا فقیر بدتر فقیر ہے.

    ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ اے ابوذرؓ تمہارے خیال میں کثرت مال "مالداری” ہے؟ فرمایا کہ جی ہاں. دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ قلت مال "فقیری” ہے؟ آپ نے جواب دیا ہاں جی. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں،
    "ابوذرؓ تمہارا جواب غلط ہے حقیقی مالدار اور غنی وہ ہے جو دل کا غنی ہو، جس کا نفس غنی ہو چاہے اس کے پاس مال کم ہو یا زیادہ. فقیر وہ ہے جس کا دل اور نفس فقیر ہو چاہے اس کے پاس بہت زیادہ مال ہو”.

    دل کے غنی ہونے کا مطلب ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے راہ میں خرچ کرنے والا اور شاکر ہو. اپنے پاس موجود کم یا زیادہ مال میں سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کرے یہ حقیقی مالدار اور غنی ہے. اسی طرح مالدار آدمی ہو مگر دل کا فقیر ہو مطلب وہ کنجوس ہو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والا ہو اور ناشکری کرنے والا ہو ایسا بندہ حقیقی فقیر ہے. اسلام میں فقیری اور امیری دونوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور فقیری اور امیری کی مذمت بھی کی گئی ہے. مال کی کثرت سے ہی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور مستحقین پر خرچ کیا جا سکتا ہے جو کہ فقیری پر ترجیح کی وجہ ہے. بہترین مالدار وہ ہے جو شاکر بھی ہو.

    پاکیزہ اور حلال بہت ہی عمدہ ہے اگر وہ نیک اور صالح بندے کے پاس ہو. وہ بندہ جو اس پاکیزہ اور حلال مال اور رزق کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے. مال و دولت آنے کے بعد اس کے دل میں غرور و تکبر پیدا نہ ہو. اکثر ہوتا یہ ہے کہ مال و دولت ملنے کے بعد انسان فرعون بن جاتا ہے. غیر شرعی اور غیر قانونی کاموں میں پیسے اڑاتا ہے. اگر مال کسی ایسے بندے کے پاس ہو جو اپنے مال کو ناجائز طریقوں یا ناجائز کاموں میں خرچ کرے، فضول خرچی کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے روک لے، ایسے مالدار کے لئے اس کا مال آخرت کے دن وبال جان بن جائے گا. ایسا فقیر جو بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر شرعی اور غیر قانونی طریقوں سے مال کمانے کی کوشش کرے یا اپنے عقائد اور منہج پر سمجھوتہ کرتے ہوئے غیراللہ کی مدد طلب کرے تو اس کے لئے بھی آخرت کے دن سزا مقرر ہے.

    جب حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی توبہ قبول ہوئی تو کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے کہا میں اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا اے کعب سارا مال خرچ مت کرو، کچھ مال اپنے پاس رکھو. اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے فرمایا تھا کہ اے سعد اگر تم اپنے ورثاء کو غنی چھوڑ کر جائو تو یہ افضل ہے، تمہارے ورثا امیر ہوں تاکہ وہ لوگوں سے بھیک نہ مانگنے پر مجبور ہوں. اس سے یہ ثابت ہوا کہ غریب اور فقیر ہونے سے مالدار ہونا بہتر ہے.

    اسلام میں مالدار ہونا یا مال اکٹھا کرنا کوئی گناہ نہیں، شرط یہ ہے کہ مال حلال طریقے سے کما کر حلال طریقے سے خرچ کیا جانا چاہئے. اس مال کو مستحقین کی مدد کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے. اسلام میں فقیر ہونا بھی کوئی عیب نہیں مگر شرط یہ ہے کہ بندہ صابر ہونا چاہئے. فقیر کو تنگ دستی سے تنگ آ کر کوئی غیرشرعی اور غیرقانونی کام نہیں کرنا چاہئے.
    ‎@mian_ihsaan

  • منفی سوچ  تحریر : ابوبکر گھمن

    منفی سوچ تحریر : ابوبکر گھمن

    سوچ دو طرح کی ہوتی ہے مثبت سوچ اور منفی سوچ ہم یہاں منفی سوچ کی بات کریں گے۔
    منفی سوچ کیوں پیدا ہوتی ہے۔
    منفی سوچ کی ایک بہت بڑی وجہ ابتدائ زندگی کے کچھ ایسے واقعات اور سانحات ہیں جن کے نتائج منفی ہوتے ہیں اور وہ انسانی زندگی ہر گہرے منفی اثرات مرتب کر جاتے ہیں جو بعد میں رفتہ رفتہ منفی سوچ میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ ان واقعات کے بعد انسان منفی سوچنا شروع کر دیتا ہے ۔ اور وہ ہر چیز کو منفی سوچ سے دیکھتا ہے اور وہ منفی سوچ سوچ کر منفی سوچ کا ماہر بن جاتا ہے کیونکہ منفی سوچنا ایک آسان عمل ہے لیکن ہر چیز کے بارے مثبت انداز سے سوچنا بہت مشکل عمل ہے ۔
    سوچ کے منفی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کو سوچنا ہی نہیں آتا اگر اس کو سوچنا آ جائے تو اس کو انتخاب مل جاتا کہ کون سی سوچ اختیار کرنی ہے۔
    عام طور پر ہمارے پاس ایک ہی انتخاب ہوتا ہے اور وہ ہے منفی سوچنا کیونکہ یہ بہت آسان انتخاب ہے اور مثبت سوچ اختیار کرنا ایک بہت مشکل انتخاب ہے ۔
    عام طور ہر ہم کسی شخص کے بارے میں کسی دوسرے سے غلط سن لیتے ہیں حالانکہ اکثر اوقات وہ سچ پر مبنی نہیں ہوتا لیکن وہ بات ہمارے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے پھر ہم اس شخص کو جس محفل میں دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں ہم اس کے بارے میں منفی سوچنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ اس کے بارے میں ہمارے ذہن میں منفی تاثر ہوتا ہے ۔
    عام طور پر ہمارے گھروں میں ایک بچے کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے کہ اس کی کسی بات ہر یقین نہیں کیا جاتا اس کو ہمیشہ کمتر تصور کیا جاتا جس کی وجہ سے وہ سب کے بارے منفی سوچ رکھنا شروع کر دیتا اور پھر رفتہ رفتہ اس کی سوچ بلکل منفی ہو جاتی ہے اور وہ ہر چیز کو منفی نظریے سے دیکھتا ہے۔
    ہمارے اندر منفی سوچ کے راستے بنے ہتے ہیں ہم اپنی سوچ کو مثبت بنانے کی نہ خواہش رکھتے ہیں نہ کوشش کرتے ہیں اس طرح منفی سوچ ہماری زندگی کہ ہر پہلو پر نظر انداز ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
    اگر آپ کسی کی دس خوبیوں میں سے نو خوبیوں کو نظر انداز کر کے اس کی ایک خامی پر توجہ دیتے ہیں تو آپ منفی سوچ رکھتے ہیں منفی سوچ رکھنے والا آدمی کبھی بھی کسی کی خوبیوں کی طرف توجہ نہیں دیتا وہ ہمیشہ دوسروں کی خامیاں ڈھونڈتا اور ان پر تنقید کرتا ۔
    منفی سوچ رکھنے والا کبھی کسی پر تنقید اس کی اصلاح کےلیے نہیں کرتا بلکہ وہ تنقید اگلے انسان کو کمتر اور نیچا دکھانے کےلیے ہوتی ہے منفی سوچ رکھنے والا دوسروں کی اچھائیوں کو بھی منفی پہلو سے پرکھتا ہے ۔

    "زندگی بدلنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے سوچ کو بدلو”
    سوچ انسانی زندگی کہ اہم ترین عوامل میں سے ہے آپ ویسے ہی ہوں گے جیسی آپ کی سوچ ہو گی لہٰذا سوچ کے طریقہ کار کو سمجھنا اور اس پر قابو پانے کا فن ہمیں سیکھنا ہو گا تب ہی ہم زندگی میں مثبت انداز سے آگے بڑھ سکیں گے۔
    منفی سوچ مایوسی کی وجہ سے جنم لیتی ہے منفی سوچ مثبت سوچ میں تب ہی تبدیل ہو سکتی ہے جب آپ پُر امید ہوں اور یہ تب ہی ہو سکتا جب آپ کا اللہ پاک کی ذات پر مکمل یقین ہو جیسے قرآن پاک میں ارشاد ہے
    ترجمہ :
    "اللّٰه کی رحمت سے ناامید نہ ہو ".

    کبھی بھی نا امید نہ ہوں انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے ہمیشہ مثبت سوچنے کی کوشش کریں ۔

    @Itx_ghumman

  • گناہوں پر آٹھ گواہ  تحریر: مدثر حسن

    گناہوں پر آٹھ گواہ تحریر: مدثر حسن

    آپ کو پتہ قیامت کے دن ہر انسان کے گناہوں پر آٹھ گواہ پیش ہوں گے۔ آٹھ گواہ انسان کے خلاف گواہی دے گئیں اور کہے گئیں کہ اس نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔۔۔۔۔

    پہلا گواہ: جس جگہ بندے نے گناہ کیا ہو گا،وہ جگہ وہ زمین کا ٹکرا قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔۔!!سورۃ الزلزال آیت نمبر(5،6)

    وہ زمین کا ٹکڑا یہ گواہی دے گا اے اللہ پاک یہ بندہ مجھ پر اکڑ کر چلتا تھا غرور اور تکبر کیساتھ اپنی گردن اونچی کر کے مہرے اوپر چلتا تھا حالانکہ تکبر تو اللہ پاک کی چادر ہے باقی مخلوق میں اگر ذرا برابر بھی تکبر ا گیا تو ارشاد ہے کہ اسکو جنت کی خوشبو تک نصیب نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ انسان زمین کے جس جس حصے پر گناہ کرتا ہے وہی حصہ قیامت والے دن بولے گا کہ الہیٰ اس نے میرے اوپر گناہ کیے ۔ ہر زمین کا حصہ بولے گا گواہی دے گا چاہے آپ نے نیکی کی ہو اس خطے کے اوپر یا برائی۔۔۔

    دوسرا گواہ: وہ دن بھی گواہی دے گا جس دن بندے نے گناہ کیا ہو گا۔(سورۃالبروج آیت نمبر 3)

    اس کے علاوہ انسان کا وہ دن جس دن اس نے برائی کی جس دن اس نے کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی کی کسی یتیم کا حق کھایا انسانیت کی تضحیک کی وہ دن بھی گواہی دے کہ مولا اس نے اس دن گناہ کیے تھے۔ اور اس نے اس دن مقررہ وقت پر اچھائی کی تھی۔۔۔

    تیسرا گواہ: قیامت کے دن ان کی زبان بھی ان کے خلاف گواہی دے گی ۔(سورۃ النور آیت نمبر 24)

    انسان کی اپنی زبان بھی اس دن گواہی دے گی وہ بول پڑے گی کہ آیا کہ یہ ساری زندگی گالیاں بکتا رہا یا نیکی پھیلاتا رہا۔ اگر زبان گواہی دے گی کہ اس نے تیری اور تیرے محبوب کی تعریف کرتا رہا ساری زندگی تو پھر تو جنت نصیب ہو جائے گی اور بخشش بھی ہو جائے اگر اس نے بول دیا کہ یہ تمام عمر گالیاں اور فضول باتیں کرتا رہا تو اس کے لیے پھر عذاب ہوگا۔۔

    چوتھا گواہ: انسان کے جسم کے باقی اعضاء ہاتھ پاؤں یہ بھی گواہی دیں گے ان کے خلاف ۔(سورۃ یٰسین آیت نمبر 25)

    انسان کا ہر کر اعضا اس دن بول پڑے گا کہ آیا اس نے اچھائی کی جا برائی۔ آج جو انسان چوری کرتا ہے یا ہاتھ سے جو بھی گناہ کرتا ہے وہ ہاتھ اس دن بول پڑی گے اور گواہی دینگے۔ اگر انہیں ہاتھوں کیساتھ آسانیاں بانٹیں ہونگی خدا کی مخلوق میں تو بخشش ہو جائے گی وگرنہ عذاب تو بھگتنا پڑے گا۔۔۔

    پانچواں گواہ: دو فرشتے جو تم پر نگران مقرر ہیں ،لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دے گئیں تمہارے خلاف ۔(سورۃ الانفطار آیت نمبر12)

    اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاندھے کے اوپر دو فرشتوں کی ڈیوٹی مقرر رکھی ہے ایک فرشتہ اچھائی والا ہے دوسرا برائی والا ہے۔ اچھائی والا فرشتہ اچھائی نوٹ کرتا ہے اور برائی والا برائی۔ جب قیامت کا دن ہوگا میدان حشر لگا ہوگا تو یہ کاندھے پہ بیٹھے دو فرشتے اس دن انسان کا نامہ اعمال جو انہوں نے اسکی زندگی میں لکھا ہوگا پیش کر دینگے۔۔۔ اور سزا و جزا کا فیصلہ اسکی بنیاد پر کیا جائیگا۔۔

    چھٹا گواہ: وہ نامہ اعمال جو فرشتے لکھ رہے ہیں تو زبان بھی گواہی دے گی اور نامہ اعمال بھی دیکھائے جائیں گے قیامت کے دن ۔(سورۃ الکہف :آیت نمبر 49)

    ساتواں گواہ: آپ ﷺ بھی گواہ ہوں گے، اللہ رب العزت آپ ﷺ سے بھی گواہی مانگیں گے اور اس وقت رسول ﷺ بھی گواہی دیں گئیں۔(سورۃ النساء آیت نمبر 41)

    اس دن ہم خود بھی بول پڑینگے کیونکہ اس دن اللہ کی مرضی ہی ہوگی بس وہ حکم دے گا اور ہم بولنا شروع کرینگے اس کے علاوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات جو کہ ہماری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دینگے۔ اگر ہم نے عمل انکی زندگی پر کیا ہوگا تو آپ شفاعت بھی فرمائینگے اور اللہ پاک سے بخشش کی دعا بھی کریںگے۔۔

    آٹھواں گواہ: اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں،جو تم گناہ کرتے ہو،ہم قیامت کے دن اس پر گواہ ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اللہ گواہی دے گا اور کہے گا تم نے یہ گناہ کیا ہے ۔(سورۃ یونس آیت نمبر 61)

    ہمارے گناہوں پر اللہ خود گواہ ہوگا (اللہ اللہ) کیا عالم ہوگا، کبھی سوچا ہے آپ نے کیا جواب دیں گے اس وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو

    یا اللہ ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو بخش دے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرما آمين

    ‎@MudasirWrittes

  • معذور افراد کی زندگی کتنی مشکل ہے  تحریر : احمد فریدی

    معذور افراد کی زندگی کتنی مشکل ہے تحریر : احمد فریدی

    اس دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز دنیا کا مہتاج ہونا ہے جو کہ زندگی کی تمام مشکلات اور پریشانیوں سے اذیت ناک ہوتا ہے،
    کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ معذور افراد کی زندگی میں کیا مشکلات ہوتی ہیں اور وہ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں اور پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک یہ معاشرہ کیسا سلوک کرتا ہے؟
    کہتے ہیں کہ مرنے والے سے سب سے بڑی وفا یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے آخری رسومات میں شرکت کرے اور اپنی اپنائیت اپنی محبت کا یقین دلائے لیکن یہ سب چاہتے ہوئے بھی ایک معزور افراد نہیں کر سکتا کیونکہ وہ دنیا کا مہتاج ہوتا ہے اور اس وقت ہمارے قریبی رشتے دار کہتے ہیں اپ کا کیا کام بہت رش ہے آپ گھر بیٹھیں اور صرف اپنوں کی وافات کے موقع پر ہی نہیں بلکہ شادی بیاہ اور دیگر روز مرہ کے معمولاتِ زندگی اور تقریبات میں شرکت بھی نہیں کرنے دیتے
    آج پوری دنیا میں کورونا کی وجہ سے کچھ حالات بدلے اور چند دن حکومت نے لاک ڈاؤن لگایا تو محسوس ہوا کہ کیسے سارا سال گزرتا ہے ان لوگوں کا جو بیچارے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں کیا ان کا دل نہیں کرتا کے انکے ساتھ بھی کوئی وقت گزارے کیا ان کا دل نہیں کرتا کہ وہ بھی باہر کی دنیا دیکھیں
    جب پیدائشی یا چھوٹی عمر میں انسان کسی طرح کی بھی معذوری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو سب سے اہم چیز اسکی پڑھائی ہوتی ہے جس سے وہ محروم رہتا ہے 100 میں سب صرف 05% افراد ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں،
    جو خود سے پانی تک نہیں پی سکتے کھانا تک نہیں کھا سکتے انہیں پاکستانی تعلیمی ادارے نے کیا سہولیات مہیا کی ہیں ہمارے ہاں تو ان کا حق بھی نہیں دیا جاتا،
    اگر ہم اپنا موازنہ یورپ سے کریں تو وہاں آپ جا کر دیکھیں کہ کیسے انہوں نے اپنے معذور افراد کے لیے اقدامات کیے ہیں
    کیسے انہوں نے اپنے معذور افراد کو سپیشل پرسن بنایا اور ایک نارمل انسان سے کہیں بہتر اقدامات کیے تاکہ وہ معذوری کو مجبوری نہ بنائیں اور اچھے طریقے سے زندگی گزاریں یقیناً اس کا واحد حل صرف اور صرف تعلیم یافتہ ہونا ہے،
    ہمیں ہرصورت ان لوگوں کے لیے آواز بلند کرنی پڑے گی جو بیچارے نا تو احتجاج کر سکتے ہیں نہ کوئی انکی سننے والا ہوتا ہے واحد اللہ ہی انکا سہارا ہے ہم لوگ صرف اپنی حکومت کو کہتے ہیں کہ وہ کوئی اقدام اٹھائے کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے جتنا آپ کر سکتے ہیں کم ازکم وہ تو کریں اور کچھ نہیں کرسکتے تو انکے ساتھ وقت تو گزار سکتے ہیں،
    اور یقین جانئے یہ دنیا کی سب سے بڑی خوشیوں میں سی ایک ہے کہ آپ کیسی کو اپنا وقت دیتے ہیں اور جہاں تک بات ہے وہیل چیئر کی تو وہیل چیئر معذور افراد کی آدھی زندگی ہے،
    اگر ہماری حکومتوں نے معذور افراد کو بھی اپنا شہری مانا ہوتا بروقت اقدامات کیے ہوتے معذور افراد تک مفت وہیل چیئر پہنچائی ہوتی معذوری سرٹیفکیٹ بنوانے کا آسان طریقہ رکھا ہوتا اور سپیشل پرسن والے کارڈ بنا کر انہیں ماہانہ کی بنیاد پر وظیفہ مقرر کیا ہوتا تو آج معذور افراد آپ کو یوں سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر نہ آتے، اور مخیر حضرات آگر حق حقداروں تک حق پہنچاتے تو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا ان لوگوں کی وجہ سے ہم جیسے لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، دوسروں کو الزام دینے کے بجائے آپ خود کو دیکھیں آپ نے کیا کیا ہے آگر ہر بندہ اپنی ذمےداری نبھائے تو معذور افراد کی زندگی بہتر اور بہت خوبصورت بننے کے ساتھ ساتھ گزر بھی جائے گی اور وہی اسی طرح دوسروں کی خدمت کریں گے دوسروں کیلئے جدوجہد کریں گے دوسروں کے حقوق کی جنگ لڑیں گے دوسرے معذور افراد کو اپنایت کا احساس دلائیں گے ان کیلئے سہارا بنے گے،
    پاکستان کی حکومت پاکستان کے ادارے پاکستان کے ٹرسٹ پاکستان کے مخیر حضرات اس اہم ایشو کو اپنے اہم ایشو میں شامل کریں تاکہ پاکستان کے لاکھوں معذور افراد اس پریشانی سے ان محرومیوں سے نکل سکیں اور اپنی صلاحیت پاکستان کیلئے پاکستان کے غریبوں مزدوروں اور معذوروں کیلئے استعمال کریں،
    اس دعا کے ساتھ اور اس امید کے ساتھ اختتام کررہا ہوں یقیناً صاحب اقتدار اور صاحبِ استطاعت ہماری مودبانہ گزارش کا نوٹس لیتے ہوئے تمام تر اقدامات بروئے کار لائیں گے،
    اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو پاکستان ذندہ باد
    Twitter ID
    👇
    https://twitter.com/ahmad_faredii?s=09

  • سوشل میڈیا پر عدم برداشت  تحریر  :  سید محمد مدنی

    سوشل میڈیا پر عدم برداشت تحریر : سید محمد مدنی

    ہمارے سوشل میڈیا پر برداشت کی کمی ختم ہو چکی ہے ہم معمولی سی بات کو بھی گالی اور بدتمیزی سے جوڑتے ہیں کوئی بھی بات ہو ہم سب سے پہلے گالی کا سہارا لیتے ہیں اور گالی دے کر ہم یہ سمجھتے ہیں کے جیسے ہم سامنے والے سے جیت گئے ہیں لیکن حقیقتاً ہم اپنی تربیت کا مظاہرہ دکھا اور ہار رہے ہوتے ہیں اور پستی کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جب ہمارے پاس دلیل نہیں رہتی تو ہی ہم گالی کا سہارا لیتے ہیں جبکہ جو گالی دیتا ہے وہ اسی کو آ کر لگتی ہے

    آپ نے دیکھا ہوگا کے ہم آپس میں مذاق کرتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو گالی دے جاتے ہیں اور یہی اگر لڑائی ہو جائے تو بہت برا لگتا ہے آخر کیوں بھئی جب مذاق میں آپ گالی دیتے ہیں تو سنجیدگی یا غصے کے وقت آپ کو وہی گالی بُری کیوں لگتی ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کے اگر آپ بے ہودہ یا نا مناسب زبان استعمال کریں گے تو اسے کچھ لوگ باقاعدہ انجوائے کرتے ہیں ہنستے ہیں قہقہے لگاتے ہیں کیا آپ نے کبھی تھوڑی سی دیر کے لئے یہ سوچا ہے کے آپ کر کیا رہے ہیں ہم دوسروں کو تو تلقین کرتے ہیں کے گالی مت دو لیکن ہم خود وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کے ہم معمولی بات چیت میں گالی بے ہودہ گفتگو کو سرِ فہرست رکھتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں یہ فخر کی بات نہیں بلکہ بے غیرتی کی بات ہے ایک چیز یہ بھی دیکھی گئی ہے کے اگر کوئی ماں بہن تک پہنچ کر گالی دیتا ہے تو جواب میں دوسرا بھی وہی کچھ کرتا ہے اور اگر کوئی جواباً گالی نا دے تو اسے بزدل سمجھا جاتا ہے جناب یہ بزدلی نہیں شرافت ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے بزدلی کہا جاتا ہے ایک تو گالی نا دیں اور نا ہی اس پر فخر محسوس کریں

    میں نے مشاہدہ کیا ہے اگر اپ اپنی بات سنجیدگی سے لکھتے ہیں کہتے ہیں تو لوگ اس پر اتنی بات نہیں کرتے جلدی ری ایکٹ نہیں کرتے جبکہ یہی بات کسی بھی گالی کے تناظر میں یا عجیب بے ڈھنگی زبان میں لکھ دیں تو مشہور زیادہ ہوتی ہے جیسے کے ایک گروہ نے ایک

    پ یہ ن د ی س ر ی

    (معذرت چاہوں گا الفاظ ملا کر نہیں لکھ سکتا)

    جملہ کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر آدمی وہی جملہ دھہرانے لگا میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کے کیا یہ ضروری ہے کہ ہر بات میں عجیب فنگ ڈھنگ نا سلیقہ نا آداب کے عنصر کو شامل کیا جائے، ہو سکتا ہے میری یہ بات بری لگے بہت لوگوں کو لیکن میرے نزدیک یہ کوئی اچھی بات نہیں کسی محفل میں آپ بیٹھے ہوں اور کوئی عجیب سی بات کہہ ڈالیں یا پھر فلاں کی سری یا فلاں کا کچھ کہیں تو دیگر افراد آپ کو دل میں برا ہی جانیں گے اس لئے ہمیشہ اچھی گفتگو کریں اور بات وزن دار کریں کیونکہ زبان سے ادا ہؤا لفظ اور کمان سے نکلا ہؤا تیر واپس ہرگز نہیں آتے

    آئیے اپنے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کچھ مثالیں قائم کریں اور گندی اور بے ہودہ گفتگو سے اجتناب کریں تاکہ ہمارا نام اچھے الفاظ میں لیا جائے اور لوگ ہمیں ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں

    @M1Pak

  • خود پر ایک نظر   تحریر: سجاد حسین قمر

    خود پر ایک نظر تحریر: سجاد حسین قمر

    اپنی ایک ہفتے کی ہر ایک ایک مصروفیات کو اپنی ڈائری پر لکھیں۔ وہ منفی ہو یا مثبت، ایک ہفتے کے بعد ایک صفحے پر لائن لگا کر ایک طرف اپنی مثبت اور دوسری جانب اپنی منفی مصروفیات درج کریں۔ اب خود جائزہ لیں کہ کس مصروفیت سے آپ کشیدگی اور مایوسی کا شکار ہوئے اور کس سے آپ کو حوصلہ افزائی ملتی ہے یا آپ کا دن اچھا گزرتا ہے۔ اب جس کے اثرات مثبت ہیں اس پر توجہ بڑھا دیں جس کے اثرات منفی ہیں اس کو ترک کر دیں۔ ہم صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے سے پہلے تک لوگوں کی کردار کشی میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم لوگوں کی برائیاں کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے ان کے ساتھ برابر کے حصہ دار بنے ہوتے ہیں۔ ہم ہر آتے جاتے شخص کی راہ دیکھتے رہتے ہیں ہم کسی کی درگت بنانے کے چکر میں لگے رہتے چاہے وہ اپنے محلے کا کوئی شخص ہو یا کوئی نامی گرامی بندہ۔
    ایسا کیوں ہے! کیا لوگ اخلاقیات کے بنیادی تقاضوں کو خود میں ڈھالنے سے عاری رہے ہیں یا جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں؟ ہم نے اپنے اسلاف کے دئیے ہوئے اسباق کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں ایک وجہ ہماری ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتی ہوئی اخلاقی قدریں ہیں۔ کسی بھی قوم کی اخلاقیات کو اس کے حکمران اور دیگر اکابرین رہنمائی کرتے ہیں مگر جہاں اعلیٰ عہدیدار چھوٹی سی بات پر کسی کا مذاق اڑانے کو کار ثواب سمجھتے ہوں وہاں ہم کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ عوام الناس پر ان کی ایسی باتیں اثر نہیں کرتی ہوں گی؟ جہاں آپ کے معتبرلوگ کسی کی شکل و صورت، کسی کے لباس کے مخصوص انداز، کسی کے بولنے اور یہاں تک کہ چلنے پھرنے کی بھی باقاعدہ نقلیں اتارتے ہوئے پائے جائیں تو سماج کی ذہنیت پر اس کا کیا اثر پڑتا ہوگا اس کا مشاہدہ آپ خود کرسکتے ہیں۔ معاشرے کے اخلاقی معیار کو بہتر بنانے کی بجائے سب اس کو مزید نیچے لے کر جا رہے ہیں یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات ایک لمبے عرصہ تک محسوس ہوتے رہیں گے۔ ہم اس مذہب کے ماننے والے ہیں جس میں کسی کا نام لے کر براہ راست تنقید کرنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ہمارے اسلاف نے معاشرے میں نفرت اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کی حوصلہ شکنی کی اور معاشرے میں محبت اور باہمی رواداری کو فروغ دیا۔ آج ہمیں اردگرد نفرت کے کانٹوں کو چن کر وہاں پیار کے پھول برسانے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کی رائے کے احترام کی ضرورت ہے۔ اپنے اخلاق کو اس سطح پر لے کر جائیں جہاں نفرت کی کوئی گنجائش نہ ہو، جہاں جھوٹ اور بددیانتی کی کوئی گنجائش صفر سے بھی نیچے کے درجے پر چلی جائے۔ اس بات کو نظرانداز کردیں کہ فلاں نے ایسا کیا بلکہ اس بات کی فکر کریں کہ اخلاقیات کو بہتر بنانے میں میرا کیا کردار ہوسکتا ہے۔

    جگر مراد آبادی نے کیا خوبصورت انداز میں کوزے میں سمندر کو بند کردیا :

    وہ ادائے دلبری ہو، کہ نوائے عاشقانہ
    جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

  • بچوں پر سختی کے برے اثرات  تحریر: علی رضا بخاری

    بچوں پر سختی کے برے اثرات تحریر: علی رضا بخاری

    آج کل بچوں پر بہت سختی کی جاتی ہے اور اس سختی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں میں آپ کو بتاتا ہوں۔

    بچے پر سختی کرنے اسے وہ آپ سے دور ہو جائے گا، غصہ کرے گا اور ضدی بن جاۓ گا اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا۔

    سب سے پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جو کام بھی کر رہا ہے اچھا کر رہا ہے یا برا کر رہا ہے اگر برا کر رہا ہے تو آپ کا كام اسے سمجھنا ہے، مثلاً وہ گالی دے رہا ہے تو آپ اسے پیار سے سمجھائیں کہ گالی دینا بری بات ہوتی ہے اگر وہ پڑھ نہیں رہا تو آپ اس پر یہ زور نہ دیں کہ بس پڑھو پڑھو پڑھو اس سے اس کے دماغ پر اچھا اثر نہیں پڑے گا، اگر وہ پڑھتا نہیں تو آپ اسے پیار سے پڑھائی کے فائدے بتائیں کہ آپ پڑھ لکھ کر کیا بن سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر کہ ایک اچھا انسان بن سکتے ہیں۔

    اب اگر بچہ ضد کر رہا ہوتا ہے یا آپ کی بات نہیں مان رہا ہوتا تو آپ اسے آنکھیں دکھاتے ہیں اور اس کا بچہ پر یہ اثر پڑتا ہے کہ جب سکول میں کوئی بچہ اس کی بات نہیں مانتا تو وہ اسے آنکھیں دکھائے گا، چلائے گا، ہاتھ اٹھائے گا کیوں کے یہ سب اس نے آپ سے سیکھا ہے۔

    اسلام میں ہے کہ بچہ جب سات سال کا ہو اسے نماز کیلئے کہا جائے نماز کے فائدے بتائے جائیں اور اگر دس سال کی عمر تک نماز نہ پڑھے تو پھر سختی کرنی چاہئے، لیکن آپ تو ڈھائی، تین سال کے بچے پر سکتی کر رہے ہیں اس عمر میں سختی کے بچے کے ذہن پر کیا اثرات پڑیں گے کبھی سوچا ہے؟ جب اسلام میں اتنی سختی نہیں تو آپ کیوں کر رہے ہیں، کیا سکول نماز سے زیادہ اہم ہے؟ اور کچھ نہیں بس آپ اتنی کم عمر میں سختی کر کے بچے کو ذہنی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔

    سختی کرنے سے بچہ غصہ کرے گا، آپ سے دور بھاگے گا اور سب سے بڑھ کر وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا، پھر وہ آگے چل کر آپ کی طرح اپنی بات منوانے کیلئے آنکھیں دکھائے گا، غصہ کرے گا، چیخے گا، چلائے گا یعنی آگے چل کر وہ وہی کرے گا جو آپ سے سیکھے گا، لہٰذا بچپن میں بچوں سے پیار کریں کیونکہ وہی عمر ان کے سیکھنے کی ہوتی ہے۔

    ‎@aliraza_rp

  • قائد اعظم محمد علی جناح ایک منفرد شخصیت کے طور پر  تحریر! صاحبزادہ ملک حسنین

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک منفرد شخصیت کے طور پر تحریر! صاحبزادہ ملک حسنین

    شیکسپیئر کہتا ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں کچھ اپنی انتھک محنت اور جدوجہد کی بدولت بلند مقام حاصل کر لیتے ہیں گو کہ محمد علی جناح میں عظمت ہمت اور طاقت طاقت جیسی خوبیاں تھیں
    محمد علی جناح جب پیدا ہوئے تو لوگوں نے یہ کہا کہ یہ بڑا ہو کر عظیم حکمران بنے گا اور پھر تاریخ گواہ ہے کے لوگوں کے وہ الفاظ سچ ثابت ہوئے 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہونے والا بچہ جس کا نام محمد علی جناح تھا اس نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کیسے برصغیر کے لوگوں کی زندگی بدل دی اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی برصغیر کے مسلمان پچھلی دو دہائیوں سے الگ ریاست کی آس لگائے بیٹھے تھے جس کو حقیقی معنوں میں قائداعظم محمد علی جناح نے پورا کیا
    22 ستمبر 1939 میں روزنامہ انقلاب میں قائد کے شائع ہونے والے الفاظ مجھے آج بھی یاد ہیں

    "مسلمانوں! میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا، دولت شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے
    اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو اطمینان اور یقین لے کر مرو اور میرا ضمیر گواہی دے کہ محمد علی نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی میں اپنا فرض ادا کیا اور میرا رب یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں سے عالم اسلام کے لیے جدوجہد کی”

    یہ آپ ہی کی انتھک محنت اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کو ایک الگ ریاست وجود میں آئی جس کو ہم آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں
    جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو قائد کے یہ تاریخی الفاظ تھے
    ” اس ملک کے پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کو برابری کے حقوق میسر ہوں گے بلا مذہب رنگ و نسل کے ”

    قیام پاکستان کے بعد جب پہلی دفعہ کابینہ کا اجلاس ہوا تو آپ سے پوچھا گیا کہ ممبران کے لئے کھانے میں کیا پیش کیا جائے تو آپ کے یہ الفاظ تھے کہ یہ اس قوم کا پیسہ ہے اور اس قوم پر ہی خرچ ہوگا جس کسی نے کھانا پینا ہو وہ اپنے گھر سے کھا پی کر آئے

    قیام پاکستان سے قبل قائداعظم نے ایک موقع پر فرمایا
    ” مسلمان گروہوں اور فرقوں کی نہیں بلکہ اسلام اور قوم کی محبت پیدا کریں کیونکہ ان برائیوں نے مسلمانوں کو دو سو سال سے کمزور کر رکھا ہے”

    دور اندیش با کردار اور ہمہ صفحات شخصیت کا انتقال پر ملال 11 ستمبر 1948 کو ہوا اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے آپ کی وفات پر صرف پاکستان کے مسلمان ہی نہیں عالم اسلام کے مسلمان بھی غم سے نڈھال تھے ان کی شخصیت میں قوم کو یکجا کر رکھا تھا اور قوم میں ایک جذبہ تھا کہ ہم نے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا ہے مگر آپ کی وفات کے بعد حقیقی معنوں میں کوئی لیڈر نہ مل سکا جس کی وجہ سے اس ملک کے اندرونی اور بیرونی مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا اگر ہم قائد کے اصولوں پر عمل کرتے تو آج دنیا کے نقشے پر وہ پاکستان موجود ہوتا جس کا خواب محمد علی جناح نے دیکھا تھا

  • تحریک آزادی کا سفر تحریر: مزمل مسعود دیو

    تحریک آزادی کا سفر تحریر: مزمل مسعود دیو

    1857ء میں سلطنت مغلیہ کے آخری حکمران بہادر شاہ ظفر کو شکست دیکر انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو انگریزوں نے ہندووں کے ساتھ ملکر مسلمانوں کو غلامی میں دھکیلنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ انگریزوں کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے تھا کیونکہ یہ حاکم قوم تھی۔ کسی وقت بھی سر اٹھا سکتے تھے اور ہندو جو عرصہ دراز سے رعایا بن کر رہ رہے تھے‘ اسی حال میں مطمئن اور خوش تھے بلکہ اب انہیں انگریزوں سے مل کر مسلمانوں کو دبانے کا موقع ہاتھ آگیا تھا۔ انگریز حکومت نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ ہندوئوں کی سرپرستی کریں اور مسلمانوں کیو کمزور کریں تاکہ یہ خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کیا جا سکے۔

    ہندووں نے مسلمانوں کی شکست اور زوال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کا ڈھونگ رچایا کہ انگریز کے سامنے ہندو مسلمان مل کر ہی اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف انگریز کی تابعداری اور بھرپور تعاون کی حکومت کو یقین دہانی کرا دی۔ 1885ء میں کانگریس پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو ہندو سیاستدانوں نے اس میں جوق در جوق شمولیت اختیار کی۔ مسلمان جو بہادر شاہ ظفر کی شکست کے بعد پریشان تھے انہیں بھی اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے کانگرس میں شمولیت کرنا پڑی۔ ہندووں کے تعصبانہ رویے نے مسلمانوں کو سوچنے پر مجبور کردیا اور ڈھاکہ میں 1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور مسلمانوں کے حقوق کی پاسداری کیلئے باقاعدہ سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا۔

    انگریزوں کی مسلمانوں سے نفرت کا فائدہ ہندووں کو ہونے لگا اور اس بات کو بھانپتے ہوئے سرسید احمد خان نے جدید تعلیم کے حصول کے لیے علی گڑھ میں ایک ادارہ بنایا جسے بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی بنا دیا گیا۔ یہیں سے قائداعظم کی رہنمائی میں دو قومی نظریہ پروان چڑھا۔ ملی یکجہتی نے قوم میں ایک نئی جان ڈال دی۔ قوم میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا۔ قائداعظم جو پہلے کانگریس میں تھے، مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ قائداعظم نے 1929ء میں مطالبات کے 14 نکات پیش کردیئے اور کانگریس نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس الہ آباد میں ہوا جس کی صدارت حضرت ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ہندووں کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم وستم بیان کیے اور اس سے نجات کا واحد حل مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کے مطالبے کے طور پر بتادیا۔

    1936ء میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کر دیاگیا اور 1937 ء کے الیکشن کے نتیجہ میں صوبائی حکومتیں بنائی گئیں۔ کانگریس حکومت کے صوبوں میں مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا گیا ، جائیدادوں پر غاصبانہ قبضے کر لئے گئے اور مسلمانوں کو درجہ دوم کا شہری بنا کر ان کے وجود کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔سرکاری ملازمتوں کے دروازے مسلمانوں پر بند کر دیئے گئے۔ ان تمام حالات کی وجہ سے 23 مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کا تاریخ ساز جلسہ لاہور میں کروایا گیا اس جلسہ کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے کی اس کے علاوہ بہت سارے مسلم قائدین نے شرکت کی۔ جلسہ کے آخری سیشن میں تاریخی قرارداد پاکستان پاس کی گئی۔ جلسہ گاہ میں جس جگہ پر سٹیج لگایا گیا تھا یہ وہی جگہ ہے جہاں مینار پاکستان پوری شان سے کھڑاہے۔ اس پارک کا پرانا نام منٹو پاک تھا جسے تبدیل کرکے اب اس پارک کا نام اب اقبال پارک رکھا گیاہے۔
    اس جلسے کے بعد مسلمانوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا اور انہوں نے متحد ہوکر ایک علیحدہ وطن کے علامہ محمد اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا عہد باندھ لیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے میں شدت آتی گئی اور انگریز اس بات پر سوچنے کو مجبور ہوگئے۔ مسلمان رہنماوں نے ہر محاذ پر اپنے مطالبے کو بڑے اچھے طریقے سے بیان کیا اور آخرکار 14 اگست 1947ء کو وہ ملک پاکستان ہمیں مل گیا جسکا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور اس کو پورا قائداعظم محمد علی جناح نے کیا۔
    آزادی کی اس نعمت کے لیے ہمارے آباو اجداد نے بہت قربانیاں دیں اپنے گھر بار چھوڑے اور ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ یہ آزادی اتنی سستی نہیں اس کی قیمت کا شاید ہم میں سے کوئی بھی اندازہ نئیں لگا سکتا۔ اس کی قدر کریں اور عہد کریں کہ اس ملک کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ نکال دیں گے اور اس کا دفاع کریں گے۔
    اللہ پاک ہمارے وطن کو تاقیامت سلامت رکھے آباد رکھے اور شاد رکھے۔ آمین

    ‏@warrior1pak

  • حسد بیوقوفی ہے  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    حسد بیوقوفی ہے تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    حسد ایک ایسی مہلک بیماری ہے جو انسان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ تی۔ ہم حسد کیوں کرتے ہیں ؟ کبھی سوچا ہے یقیناً نہیں سوچا ہوگا! آج سوچ کر دیکھیں کہ ہم آخر کس وجہ سے حسد کرتے ہیں۔ اب بات کُچھ یوں ہے کہ جب کوئی شخص ہماری آنکھوں کے سامنے کامیابی سمیٹ رہا ہوتا ہے تو ہمارے دل میں یہ خیال آتا ہے فلاں شخص آخر کیوں کامیاب ہو رہا اُسکی عزت کیوں ہو رہیں ہے؟ مگر میں پیچھے رہ گیا مجھ سے سب کچھ چھین لیا جائے گا۔ جبکہ ایسا نہیں ہوتا ہر انسان کا اپنا نصیب ہوتا ہے جو اسکو مل کر رہتا ہے اور دُنیا کی کوئی طاقت اُس سے چھین نہیں سکتی۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی محنت کے بغیر بستر پر لیٹ کر خود کو کامیاب کروانا چاہتے ہیں جو کہ فطرتی طور پر نا ممکن ہے اور جب ایسا نہیں ہو پاتا تو ہم پھر دل میں حسد کی چنگاری کو آگ پھیلانے کے لیے ابھار دیتے ہیں اور پھر یہ چنگاری ہماری شخصیت کو ہیں جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے نعمتیں رکھی ہیں ہر انسان کو اُسکی محنت اور لگن کے مطابق نوازا ہے۔مگر پھر بھی کچھ لوگ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس بیماری کا شکار ہیں۔جب کہ کچھ لوگ خود کچھ نہ ہونے کی وجہ سے اس مرض کہ شکار بنے ہوئے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم اللہ کی تقسیم کو کھلم کھلا کیوں چیلنج کر رھے ھیں؟ ہمیں پتہ ہی نہیں کے جس چیز کی ہم مانگ کر رھے ھیں وہ ہمارے لیے کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے یہ ہم نہیں جانتے مگر رب العالمین جانتے ہیں۔رب کعبہ ہمیشہ انسان کو وہی دیتے ہیں جو اسکے لیے بہتر ہے کیوں کہ وہ اپنے بندے سے ماں سے بھی ستر گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔
    حسد کے متعلق شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے بہت خوب لکھا ہے جو میں بیان کیے دیتا ہوں۔”تم کیوں اپنے ہمسائے کے رزق،گھر اور جو نعمتیں جو اسے اللہ نے دی ہیں سے جلتے ہو۔یہ رویہ تُمھیں اللہ کے نزدیک قابل نفرت بنا دیگا۔اگر تم اس حصے سے جلتے ہو جو اللہ نے اسے عنایت کیا ہے تو تم اس بندے کے ساتھ زیادتی کر رھے ہو۔اور اگر تم اپنے حصے کی وجہ سے حسد کر رہے ہو تو تُم نا انصاف ،جاھل ہو کیونکہ تمہارا حصہ تمھارے سوا کسی کو نہیں دیا جائے گا۔تمہیں کیا پتہ کے جس مال کی وجہ سے تُم اسے حسد کر رھے ھو وہ آخرت میں اسکے لیے کتنا عذاب بن جائے گا اور اس وقت تُم کو احساس ہوگا کہ تم کیا مانگ رھے تھے”۔اس لیے اللہ کی دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور رزق حلال کی تمنا کریں۔آپکی آخرت اور دنیا کی زندگی پرسکون رھے گی۔ ہم اپنی محنت اور خدا سے دعا کی بدولت سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں گے اُن سے حسد نہیں کریں گے تو رب العالمین بھی ہمارے لیے آسانی پیدا کریں گے۔ اللہ ہمیں اس بیماری سے محفوظ رکھے۔ آپکی دعا کا طالب۔شکریہ
    TA: @AhtzazGillani