Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    بچے سب کو اچھے لگتے ہیں، والدین اپنے بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں اس لئے انہیں اچھی تعلیم دلاتے ہیں،اور ان کی صحت کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ اچھے شہری اور اچھے انسان بن سکیں، لیکن بدقسمتی سے دنیا میں بعض بچوں کو غریبی اور مجبوری کی وجہ سے تعلیم کے بجائے محنت مزدوری کرنا پڑتی ہے ۔۔ ۔۔
    یہ بچے سارا دن سڑکوں ، بازاروں اور گلی کوچوں میں گھومتے پھرتے محنت مزدوری کرتے نظر آتے ہیں، بہت سے معصوم اور پھول جیسے بچے گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ہوئے، بسکٹ اور ٹافیاں بیچتے ہوئے، اخبار اور پھولوں کے ہار فروخت کرتے نظر آتے ہیں، ان کی عمریں بھی عموماً کم ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ۔۔۔۔
    بعض والدین بھی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بچوں کو کام پہ لگا دیتے ہیں، غربت اور تنگدستی کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی بجائے ان سے محنت مشقت کروانے پہ مجبور ہوتے ہیں، تاکہ وہ بھی کچھ کما کر گھر کا خرچ چلانے میں مدد کر سکیں، ان میں ایسے بچے بھی ہیں جو ماں باپ کے سائے سے محروم ہوتے ہیں اور اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کام کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    یہ محنت کش معصوم بچے تعلیم سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور اور زندگی کے آرام و آسائش سے بے نیاز صبح سے رات تک اپنے کام میں مگن رہتے ہیں، انہیں تو زندگی کی سہولتوں کا بھی پتا نہیں ہوتا، یہ ان کے کھیلنے کودنے کے دن ہوتے ہیں، لیکن وہ اتنی چھوٹی سی عمر میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    بچوں کو مستقبل کے معمار کہا جاتا ہے، لیکن کیا تعلیم سے محروم یہ محنت کش بچے ہمارے ملک کا روشن مستقبل اور معمار بن سکتے ہیں ؟ محنت مزدوری کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن معصوم بچوں سے مشقت لینا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 11 میں کہا گیا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ فیکٹری، دکان، ہوٹلز، میں ملازمت نہیں کر سکتا، لیکں اس کے باوجود چودہ سال سے کم عمر کے بچے مختلف ہوٹلوں، کارخانوں میں کام کرتے نظر آئیں گے، اکثر بچوں کو گھریلو ملازم کے طور پہ بھی رکھا جاتا ہے جہاں ان کی عمر سے بھی بڑے کام کروائے جاتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔۔۔
    بطور معاشرہ ہم اتنے پستی میں گھر چکے ہیں کہ ان معصوم بچوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک دیکھنے میں آتا ہے،جو کہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ شرم بات ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی یہ زمہ داری ہے کہ ہم ان بچوں کو تعلیم دلوانے کی کوشش کریں اور جہاں کہیں انہیں ظلم کا شکار ہوتا دیکھیں ہر ممکن طور پہ ان کی مدد اور داد رسی کریں، اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور بازاروں میں نظر آنے والے محنت کش بچوں کو روزانہ کی بنیاد پہ کم سے کم دو گھنٹے نکال کر پڑھانے کا اہتمام کریں، یقیناً یہ بچے پڑھ لکھ کر مستقبل کے معماروں میں شامل ہوں گے۔۔۔
    محنت کش بچے قابلِ تعریف اور قابلِ توجہ ہوتے ہیں، زیادہ نہیں تو اپنے گھر کے ملازم بچوں کو ہی تعلیم دینا شروع کریں، ہو سکتا ہے کہ کل کو یہ بچے اس قابل ہو جائیں کہ دوسرے بے سہارا بچوں کا سہارا بن جائیں، اس طرح علم کے چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں گے۔۔۔
    آئیں بے سہاروں کا سہارا بنیں یہ صدقہ جاریہ بھی ہے اور اللّٰہ کی خوشنودی کا باعث بھی، آئیے ہم اور آپ بھی اس کا حصہ بنیں
    ” وہ سب معصوم سے چہرے تلاش رزق میں گم ہیں،
    جنہیں تتلی پکڑنا تھی، جنہیں باغوں میں ہونا تھا

    ‎@Waji_12

  • ٹائم پاس  تحریر: افشین

    ٹائم پاس تحریر: افشین

    کسی کے ساتھ وقت گزاری کرناموجودہ دور میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے ہر کوئ ٹائم پاس کے چکر میں ایک دوسرے کو دھوکا دے رہا ہے اس عمل میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہے اول تو کسی کو موقع ہی مت دیں کہ کوئ اپکے ساتھ ٹائم پاس کر سکے پر دلِ ناداں غلطی کر ہی جاتا ہے باتوں میں آہی جاتا ہے مٹھاس لہجے کے جال میں پھنس ہی جاتا ہے انسان غلطی ایک نہیں بہت سی غلطیاں کرتا ہے پرکسی معصوم کے ساتھ ٹائم پاس کرنا اور اسکو کہیں کا نہیں چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہےٹائم پاس سے آپ اپنا اور دوسروں کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں ٹائم پاس سے کسی کی بھی دل آزاری ہوسکتی ہے اور بہت سے لڑکے لڑکیاں اس وجہ سے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں کیونکہ ٹائم پاس سے دو انسانوں کو ایک دوسرے کی عادت لگ جاتی ہے جیسے نشے کی عادت لگ جانا۔ اگر ایک کو فرق نہیں بھی پڑتا دوسرا ضرور برباد ہوجاتا ہے۔ٹائم پاس کرنے والے کسی ایک کی نہیں بہت سے لوگوں کی زندگیاں خراب کر دیتے ہیں کاش ایسے لوگوں کے لیے بھی کوئ قانونی سزا بنی ہوتی دل کے مجرم قرار پاتےکسی کا قتل کرنا گہری جسمانی چوٹ دینا یہ سب زخم وقت کے ساتھ بڑھ ہی جاتے ہیں پھر کسی کو روحانی اذیت میں مبتلا کرنا زندہ مار دینا ہے اس کا کوئ کفارہ نہیں ہوسکتا ہے معافی لفظ استعمال کرنے سے اذیت کم نہیں ہوجاتی اگر ٹائم گزارنا ہے تو اور بھی بہت سے طریقے ہیں گیمز کھیل لیں کتابیں پڑھ لیں اگر کسی سے بات کرتے بھی ہیں اسکو خوشی دینے کے مقصد سے کریں چونکہ ہر کوئ اپنی پریشانیاں دور کرنا چاہتا ہے تو کسی کے ذہنی سکون کا باعث بنے ناکہ اس کو مزید پاگل کردے کسی کو اچھا وقت دینا کسی کی دلجوئ کرنا نیکی ہے مگر کسی کو ٹائم پاس بنانا کسی کو اذیتوں میں دکھیلنا درندگی ہےمثال کے طور پہ لڑکا لڑکی کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کرتا ہےپھر محبت کا دعوہ کرنے لگ جاتا ہے کچھ تو ثابت کرتے ہیں اپنی اچھی تربیت کچھ بس وقت گزاری کے لیے جھوٹے دعوے کرتے ہیں کچھ عرصہ چلتی ہے محبت کہانی پھر وہی اسکو اپنے مزاج کے خلاف لگنے لگتی ہے جس کو شروعات میں ذہنی سکون مان رہا ہوتا ہے جس کو کہہ رہا ہوتا ہے بس تم ہی میری کل کائنات ہو تمھاری خوشی چاہیے بعد میں اسی کو جان کا عذاب کہنے میں دیر نہیں لگاتا جب ایک دوسرے کو چُنا تھا اس ٹائم کیا سوچا نہیں تھا یا کوئ اور ملا نہیں تھا ؟؟ارے کیوں برباد کرتے ہو ایک دوسرے کو؟؟اس میں ناصرف لڑکے لڑکیاں بھی شامل ہیں ایک لڑکی کسی کے ساتھ ایسے کرتی ہے تو وہ لڑکا باقی لڑکیوں سے بدلہ لینے لگتا ہے یہ سوچ کہ سب ایک جیسی ہیں کیا یہ صیح عمل ہے؟؟کچھ مہینے یا سال محبت کے نام پہ ٹائم پاس ہوتا ہے پھر ختم ہوجاتا ہے یا پھر دوستی کے نام پہ شروع ہوجاتا ہے۔ تم میری محبت ہو کہنے والا کہہ دیتا ہے مجھے اب تم سے محبت نہیں رہی میری زندگی میں کوئ اور آگئ یا پھر یہ کہہ دیتا ہے ساتھ چلنا ہے تو چلو مگر اب ہم دوست ہیں!! کیا محبت دوستی میں بدل سکتی ہے ؟؟؟ کیا وہ محبت بھرے جذبات اور الفاظ فریب تھے ؟؟؟ کیا وہ ٹائم پاس تھا؟؟؟آپ کیا کہے گے اسکو؟؟؟ ہمم کوئ جواب ملے ضرور بتائیے گا !! کچھ لڑکیاں لڑکے آسانی سے راستہ بدل لیتے ہیں مگر کچھ جو پاگل پن میں جا چکے ہوتے ہیں وہ اس سمجھوتے میں جینے لگتے ہیں کہ چلو ساتھ تو ہے کافی ہے انکو کسی کو چھوڑنا موت کی مانند لگتا ہے۔ عادت کہے یا پاگل پن یا جنون !! کسی کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا، اسکے لیے جس کے جذبات سچے ہو جس کے خلوص میں ملاوٹ نا ہو اگر عادت بھی ہے تو نشائ کا نشہ نا ملے تو بھی وہ مر ہی جاتا ہے یا پھر وہ اس راہ پہ چل نکل پڑتا جس کو دلدل کہتے ہیں کسی نا کسی برائ کی طرف راغب ہوجاتا ہےیہ الفاظ تو میرے ہیں پر اس میں ہر اس انسان کی آواز شامل ہے جو اس ٹائم پاس کی زد میں آچکا ہے
    کیوں کسی سے محبت کے دعوہ کے بعد اتنی آسانی سے جذبات بدل جاتے ہیں؟ ظاہر ہے سب فریب تھا اتنا گہرا تعلق رکھنے کے بعد یا تو جدائ ہوجاتی ہے یا پھر دنیا کی نظر میں "ہم دوست ہیں ” یہ کہہ کہ رشتہ چلتا رہتا ہے۔ اور ایک ایسا وقت بھی آجاتا ہے دوستی بھی اختتام پذیر ہوجاتی ہے ٹائم پاس کہا جائے؟ اسکو کیا کہا جائے ؟ کیجیے سوال خود سے کیا یہ اذیت نہیں ؟کتنی آسانی سے دوسرا انسان آجاتا ہے نا!!کیسے نئے رشتے کے لیے آپ پرانے رشتے کا لحاظ تک نہیں کرتے رنگ برنگے لوگوں میں خوش رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کو وہ اذیت دو جو وہ سہہ نا پا رہا ہو پھر اسکی باری پھر ناجانے کس کی باری کسی کو اتنی اذیت نا دیں کہ اپ کو بھی کسی اور کے ذریعے ایسی اذیت سہنی پڑے کیونکہ مکافات عمل آٹل ہے اور ہر ایک جواب دہ ہوگا اپنے اعمال کا !! اذیت یہ بھی ہے جب کوئ تیسرا جانتے بوجھتے درمیان میں آنے کی کوشش کرئے، کیوں کسی کی زندگی میں زہر بن کے آجاتے ہیں ؟پھر کہتے ہیں ہم تو کچھ نہیں کیا حالانکہ اپنا کام تمام کر دیتے ہیں جو وہ کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں ۔
    خدارا رحم کھائے خود پہ اور دوسروں پہ کوئ رشتہ ناتہ نا سہی انسانیت باقی ہونی چاہیے
    آگ لگے دھواں نا ہو اور محبت ہو اذیت نا ہو نا ممکن ۔ٹائم پاس نا کرئے کسی سے محبت کرئے نبھائے رشتوں کو سمجھے میری گزارش ہے میری تحریر پڑھنے والوں کے لیے ایسے رنگ بدلتے انسانوں سے بچیں کسی کے ساتھ ٹائم پاس نا کریں اپنی حدود میں رہیں محبت کا دعوہ کرئے تو اسکو نکاح کی صورت میں پورا کریں اگر ملنا نا مکمن ہو تو ایسے رشتے بنا کے اذیت نا دیں پہلے سے سوچ کے کسی کی زندگی میں داخل ہو محبت محبت ہوتی ہے دوستی میں تبدیل نہیں ہو سکتی، اور اتنا آسان نہیں ہوتا دنیا کے سامنے خود کو دوست ظاہر کرنا اور حقیقت کچھ اور ہونا ،اور جو محبت ہوجانے کے بعد بھی اپ کا ساتھ نہیں چھوڑتے دوستی میں رہ کے صبر کرنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں دنیا کے سامنے دوست ہی بن کے آپکے ساتھ رہنے لگتے ہیں انکے جذبات سمجھےکہ وہ آپکا ہر حکم کیوں مان رہے ہیں ظاہر ہے وہ مخلص ہیں ہمیشہ کا ساتھ چاہتے ہیں کیا ایسے انسان کے ساتھ بھی اپ ٹائم پاس کریں گے ؟سچے جذبات کی قدر کریں اور آخری بات کہنا چاہوں گی جو کسی ایک کو ایسی اذیت میں مبتلا کر سکتا ہے وہ کسی کے لیے سکھ نہیں بن سکتا اپنے قدم سنبھال لیں ایسی راہ کے راہ گیر نا بنے جو کسی کو خوشی کسی کو اذیت دے رشتوں میں عزت برقرار رکھیں

  • اخلاقیات کا مآخذ   تحریر:سید غازی علی زیدی

    اخلاقیات کا مآخذ تحریر:سید غازی علی زیدی

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    اخلاقیات کا مآخذ کیا ہے؟ اصول و اقدار کی پاسداری، حق وباطل کے تصور سے مکمل آگاہی ، شر سے مستقل لڑائی، فلسفیانہ تحقیق اور مسلسل جستجو۔ مختصراً جو علم انسان پر بھلائی اور برائی کی پہچان واضح کر دے، اچھائی برائی کا شعور دے، باہمی تعلق داری کو فروغ دے یہی علم اخلاق کی اصل روح ہے۔ خود احتسابی ایک مستقل جنگ ہے اصول و اقدار کی، تصورات و نظریات کی۔ ناقدانہ انداز میں خود کو سچ و جھوٹ کی کسوٹی پر وقتاً فوقتاً پرکھنے کی تاکہ اپنے اعمال و افعال کی واضح نیت آشکار ہو۔ یاد رکھیے بلاشبہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ جتنی نیت نیک ہو گی اتنا ہی انسان خود اعتماد اور ذہنی طور پر پرسکون ہو گا۔
    اخلاقیات کسی ایک امر تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر و جامع موضوع ہے جس کی حدود ذات سے شروع ہو کر کائنات پر ختم ہوتی ہیں۔ انفرادی ہو یا اجتماعی، سماجی ہو یا مذہبی، عائلی ہوں یا قانونی غرض ہر شعبہ زندگی کے اعمال سے لیکر امور تک اخلاقیات کی پاسداری لازمی ہے۔ سیدھی راہ پر چلنے والے ہر حال میں اخلاقیات کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ فکری و عملی طور پر بہترین اخلاقیات کا تعین کرنا ہی اشرف المخلوقات ہونے کی اصل پہچان ہے۔
    محبت، شفقت، مدد، ایفائے عہد، حق گوئی و صداقت اعلی ترین اخلاقی اقدار کے زمرے میں آتے ہیں لیکن یہ نہ تو نفسیات ہے نا انسانی فطرت بلکہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس کے بالکل برعکس نفرت، جھوٹ، ایذارسانی، وعدہ خلافی ایسی علتیں ہیں جو انسانی شخصیت کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔
    اخلاقیات کو اپنانے والا انسان نہ صرف خود کیلئے بلکہ پورے معاشرے کیلئے خیر و برکت کا باعث بن جاتا ہے۔ شعور و آگاہی سے بہرہ مند افراد ایک متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتے۔ لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمارے معاشرے میں سوچنا اور سمجھنا ایک غیر ضروری و قبیح فعل سمجھا جانے لگا ہے۔ عقل و شعور سے عاری لوگ نفسانفسی کی بھینٹ چڑھ کر اخلاقی طور پر مردہ لاش بن چکے ہیں۔ اصل اخلاقیات کا ادراک ختم ہو چکا۔ صرف پیسہ و اختیارات ہی کسی انسان کی عزت کا معیار بن چکے ہیں۔ بنیادی اخلاقی اقدار کی گراوٹ کا شکار معاشرہ فکری بانجھ پن کا شکار ہے لیکن باشعور و سنجیدہ افراد بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے بیٹھے۔جب تک ہم رجعت پسندی کو خیرباد کہہ کر درایت کو فروغ نہیں دیں گے تب تک ہم پسماندگی و تنزلی کا شکار رہیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے دانشور و اساتذہ بجائے متوازن تنقید اور اخلاقی اقدار کو رائج کرنے کے صرف پند و نصائح تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں انسانیت کی جگہ حیوانیت جڑ پکڑ چکی ہے جو کہ بگڑتے بگڑتے اس نہج پر پہنچ چکی کہ اب اخلاقیات بالکل مفقود ہو کر رہ گئی ہے۔
    مثل حیواں، خوردن، آسودن چہ سود
    گر بخود محکم نہ بودن چہ سود
    Twitter: ‎@once_says

  • یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے، تحریر: محمد عاصم صدیق

    یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے، تحریر: محمد عاصم صدیق

    ساتوں بیٹیوں کا کے باپ کو جب دوسری بار دل کا دورہ پڑا تو، فرسٹ ایڈ کے لئے اس کے پرس سے وہ گولی فوری نکال کر اس کی زبان تلے رکھی گئی تاکہ عارضی طور پر زندگی کی سانس کو بحال رکھا، لیکن گولی نے کوئ اثر نہ کیا، اور یوں لاتعداد بیٹیوں کی کفالت کرنے والا باپ ہمیشہ کے لئے اس جہاں سے چلتا بنا، بعد میں تحقیق ہوئ تو پتہ چلا کہ گولی نمبر دو تھی جس کا اثر ذرہ بھی نہ ہوا،
    نمبر دو ادویات بنانے والی کمپنی کو اس کا بھی احساس نہیں رہا کہ کم از کم جان بچانے
    والی گولی کو جعلی نہ بناتی،
    اسی طرح معاشرے میں جعلی اور ملاوٹ سے بھری چیزوں کی مارکیٹ میں بھر مار ہے، جس چیز کو بھی پرکھیں ، وہ آپ کو نمبر دو اور غیر معیاری نظر آئے گی،
    غیر معیاری کی پیشکش اتنی دلکش ہے معیاری شہ کو بھی مات دے،
    ہم کسی چیز بھی دیکھ لیں وہ حفظان صحت کے اصولوں سے بہت پرے نظر آتی ہے، ہمارے گھروں میں روزانہ چائے بنتی ہے اور چائے چھوٹے بڑے کے حلق سے گزرتی ہے لیکن چائے جس دودھ سے تیار ہوتی ہے، اسے ٹی وائٹنر کہا جاتا، اور ٹی وائٹنر میں دودھ نام کی کوئ چیز تک نہیں بلکہ یہ اک لیکوئیڈ مادہ ہے جس سے چائے تیار کی جاتی ہے، اور اسی طرح چائے کی پتی کو دیکھ لیں جو اصلی چائے نہی ہے بلکہ کالے چنوں کے چھلکوں سے اور مساگ کی کڑواہٹ سے مارکیٹ میں لانچ کی جاتی اور سستے دام ہونے کی وجہ سے لوگ خرید کر چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں،
    اسی طرح ہم چولہے پہ تیار ہونے والی دوسری چیزوں کی غیر معیاری چیزوں سے نہیں بچ رہے ہیں، اگر سبزیاں دیکھیں تو گٹر کے پانی سے پل بڑھ کر ہمارے معدہ کا حصہ بنتی ہیں،اور جس گھی سے تیار ہوتی ہیں وہ انتہائ غیر معیاری ہے جو کہ مردار جانوروں کی چکنائی سے تیار ہوتا ہے اور یوں عوام اک بار پھر سستے دام میں اپنی مہنگی صحت کی دھجیاں اڑاتے ہیں،
    رہا مسلہ پانی کا، پانی کا بھی یہی مسلہ ہے، ہر دسواں آدمی ہیپاٹائٹس کا شکار ہے وجہ صرف آلودگی سے بھرا پانی ہے،
    گورنمنٹ میٹرو بسیں ،اورنج ٹرین اور ہائ فائ روڈوں پر اربوں خرچ کرتی ہے لیکن عوامی صحت کی طرف توجہ نہیں کرتی، جس ملک کا وزیراعظم خود صحت مند ہو تو ظاہر ہے وہ دماغ کا ضرور کم ہو گا،
    کیونکہ عقل انسان سے صحت چھین لیتی ہے،
    ہم جس فیلڈ میں بھی غور کریں انسان انسان کی زندگی کو تباہ کئے جا رہا ہے، کوئ پوچھنے والا نہیں جس کے ہاتھ میں پیسہ وہیں حکمران ہے، پیسہ ہمیشہ قانون کو توڑ دیتا ہے، لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں ، ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، صحت بگڑتی چلی جا رہی ہے،کوئ کسی کا پرسان اس لئے بھی نہیں کہ وہ خود مبتلاء صحت ہے،
    اگر یہی صورت حال رہی تو پھر بیماریوں کا یہ گھمبیر مسلہ آپے سے باہر ہو جائے گا، اور ایسا نہ کہ پھر ریاست پہلے بھی ناکام ہے اور پھر مزید ناکامی پہ ناکامی دیکھے،
    عوام الناس کو بھی گونگا بہرا نہیں ہونا چاہئے اللہ کریم نے کائنات کی سب سے اہم نعمت عقل کی دی ہے اس سے بھی فایدہ اٹھانا چاہئے اور غیر معیاری اور معیاری چیز کو پرکھے جہاں کھانے پینے کی چیزوں بارے میں غلط ہوا دیکھے تو روکے یا پھر ریاستی مدد کو کال بھی کر سکتا ہے، کیونکہ ہماری صحت سب سے پہلے ہے، اسی صحت کے ساز سے کائنات میں رنگینیاں ہیں، اگر صحت سلامت ہے تو غریبی میں بھی امیری ہے اور صحت نہیں تو امیری بھی غریبی ہے، ہم جو بھی کھا رہے ہیں پی رہے ہیں اپنے نصیب میں لکھا سمجھ کے کر رہے ہیں اور یوں سلسلہء حیات چلتے جا رہا ہے، حالانکہ نصیب بنانے والی خود پاکیزہ ہے پاکیزہ چیزوں کو پسند کرتا ہے،
    اللہ ہم سب کو معیاری اور غیر معیاری چیزوں کی پرکھنے بارے آگاہی دے، اللہ ہم سب کی صحت سلامت رکھے، کیونکہ ہوائیں رنگ خوشبوئیں سب اسی کی مٹھی میں ہیں چاہے تو موسم پل میں بدل دے چاہے تو ہماری سیات حسنات میں بدل دے

    Muhammad Asim Siddiq
    ۔ Twitter Handle : ‎@Asimsiddiq_
    Email; asimsak47@gmail.com

  • درد کی داستان تحریر: محمداحمد

    درد کی داستان تحریر: محمداحمد

    زندگی کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جیسے ہم جنت نظیر وادی کہتے ہیں آج وہ صدی دو سالوں سے خون سے دُھلی پڑی ہے اُس وادی کو جنت نظیر کہتے ہیں یہ وہ وادی ہے جہاں لوگ سیر و تفریح کرنا بڑی خواہش سمجھتے تھے جو آج خاموش ہے کشمیر میں ظلم اور بربریت کے ایسے پہاڑ توڑے گے ہیں جس کی مثال کہیں نہیں ملے گی اور جن نام نہاد مسلم امہ کا اتحاد بنا ہوا ہے نام کا رہ گیا ہے انسانیت کا درس دینے والوں کو ظلم نظر نہیں آتا سب اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہیں مسلم امہ انڈیا میں انتہا پسند تنظمیں نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح مسلمانوں کو شہید کر رہے ہیں کسی کو بھی شوشل میڈیا پہ شئیر کی گئی تصویریں نظر نہیں آئیں سب مسلم ممالک اپنے مفادات کی خاطر بیان بازی کر کے تھکتے نہیں ہیں لیکن جو جبر اور ظلم کی داستان سے کشمیر میں جو بچے یتیم ہوگے کتنے لوگ لاوارث ہوگے کتنوں کے گھر برباد ہوگے سب کِن کے منتظر ہے سب لوگ مسلم امہ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب یہ بے حس لوگ ہمارے لئے ہمارے حق کے ساتھ لڑیں گے

    اللہ تعالیٰ کو ظلم و ستم بالکل پسند نہیں جس طرح کشمیر اور فلسطین میں ظلم کے پہاڑ توڑے گے ہیں پوری دنیا جانتی ہے ۔ اُن بہنوں ، بیٹیوں، بچوں ، بزرگوں کی آہ لگی ہے جو آج پوری دنیا کرونا کی وباء میں مبتلا ہے اب کرونا کی وجہ سے پوری دنیا پر عذاب آیا ہوا ہے اسی وجہ سے اب کفار کو انڈیا میں بڑھتے ہوئے کرونا کیسسز کی وجہ سے انسانیت یاد آگئی اس وقت سوشل میڈیا پر کشمیر اور فلسطین میں ظلم کی داستان نظر نہیں آئی بچوں کے سامنے والدین کو گولیاں ماری گئیں بزرگوں کو شہید کیا گیا پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے پوری کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح پاکستان کو بدنام کیا جاۓ لیکن کشمیریوں کی داد رسی کیا ہے وہ اپنا حق مانگتے ہیں کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کسی بھی دوسرے ملک میں حق ارادیت کا قانون ہے وہاں ان کے مزہب کیلئے کوئی پابندی نہیں لگائی جاتی ان کو پورا حق دیا جاتا ہے وہ جیسے مرضی اپنی عبادت کریں لیکن انڈیا میں کہیں مسلمان ملے اس کو زندھ جلا دیا جاتا ہے یا اس پر تب تک ظلم کیا جاتا ہے جب تک وہ اپنی جان سے ہاتھ نہیں دھو بیٹھتا جہاں داڑھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت رسول کو زبردستی کاٹ دیتے ہیں کہیں بھی جبر سے کچھ بھی نہیں منایا جاتا

    اس جبر کے نظام کی وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ دنیا نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو قراردادوں کے ذریعے سے اُن کو اُن کا حق دلانا ہے کشمیریوں کےلئے ریفرنڈم سے فیصلہ کرنا چاہیے کہ کشمیری آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں یہاں حالات ایسے ہیں اگر کوئی ملک کشمیر ، فلسطین کیلئے آواز بلند کرتا ہے ہا حمایت کرتا ہے تو اس کو زور دیا جاتا ہے اس پر معافی مانگے کیا مسلمانوں کے خون اتنے سستے ہوگے ہیں کہ 65 ممالک نے انکھوں پہ پٹی باندی ہوئی ہے جن میں انسانیت ختم ہوگئی ہے انصاف کے تقاضے ختم ہو گے ہیں عمران خان صاحب نے جب پہلی دفعہ کشمیر کے حق میں آواز بلند کی تھی اور تقریر کرکے دنیا کو واضع پیغام دیا تھا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے اور کرفیو ہٹانے کی آواز بلند کی ۔ بہت سے لوگوں نے مزاق اڑانا شروع کر دیا کہ آدھے گھنٹے کی تقریر سے کیا ہوگا بہت زیادہ مزاق اڑایا حالانکہ عزت اور زلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے پوری دنیا میں کہرام مچ گیا تھا کہ پاکستان اس حد تک بھی جا سکتا ہے پاکستان نے کھلا پیغام دیا ہے پاکستان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ہم کسی بھی صورت کمپرومائز نہیں کریں گے اللہ نے کشمیروں کو ان کا حق ضرور دلانا ہے ایک دن آۓ گا کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہے ظلم جب حد سے بڑھ جاتا یے مٹ جاتا ہے
    تمام دوستوں عزیزوں سے گزارش ہے جتنا ممکن ہوسکے اپنے کشمیری بہن بھائیوں کیلئے آواز بلند کریں ہمیشہ یہ سوچ کر آواز بلند کریں کہ شاید آپ ایک میسج سے کسی کا ضمیر جاگ جاۓ
    @JingoAlpha

  • زندگی  تحریر: محمد عدنان شاہد

    زندگی تحریر: محمد عدنان شاہد

    زندگی سفر کے آغاز کا نام ہے اس سفر کے اختتام کو موت کہتے ہیں اس سفر میں انسان کو بہت کچھ سہنا پڑتا ہے انسان بہت کچھ پاتا ہے انسان بہت کچھ کھو دیتا ہے ہم زندگی کے ان مراحل کو بیان کرتے ہیں
    زندگی ہر مخلوق کو ملتی ہے لیکن ہم انسانی زندگی کی بات کریں گے انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے سفر کا آغاز بچپن سے ہوتا ہے یہ مرحلہ حیرت انگیز حد تک حسین اور پیارا ہوتا ہے اس مرحلے میں کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی اس مرحلہ میں انسان دھوکے سے بچا رہتا ہے انسان کی زندگی میں جتنی خوشیاں آ جائیں اسے بچپن کبھی نہیں بھولتا بچپن کی یادیں آپ کا سہارا ہوتی ہیں انسان جوں جوں آگے بڑھتا ہے اسے اپنا بچپن اس قدر ہی یاد آتا ہے بچپن دراصل زندگی کا ایسا دورانیہ ہے جس میں آپ کسی سے کوئی غرض نہیں رکھتے بچپنہ زندگی کا ایک بہترین حصہ ہوتا ہے جو ہر قسم کی پریشانیوں سے آزاد ہوتا ہے۔

    اس کے بعد آتا ہے لڑکپن یہ وہ دورانیہ ہوتا ہے جہاں آپ کی عادات بنتی ہیں آپ ہر لمحے کچھ نہ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں آپ کے اندر جستجو ہوتی ہے آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں آپ دنیا پر اپنی نگاہیں جماۓ رکھتے ہیں

    اس کے بعد جوانی کا دورانیہ شروع ہوتا ہے یہ عملی اور مشکل زندگی کا آغاز ہے یہاں آپ خواب دیکھتے ہیں اور ان خوابوں کو پورا کرنے میں لگ جاتے ہیں یہ خواب آسان نہیں ہوتے ان خوابوں کو پورا کرتے کرتے آپ کی جوانی ختم ہو جاتی ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو بھی انجوائے کرے اپنوں کو وقت دے خوشی اور غمی کے لمحات میں ان کے ساتھ شریک ہو زندگی کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہی نہیں، جوانی کا وقت ہی انسان کا اصل امتحان ہوتا ہے اسی دوران انسان بھٹک بھی جاتا ہے یا پھر زندگی کے اصل مقصد کے حصول کیلئے سہی راستے پر چل پڑتا ہے۔ جوانی کا وقت انسان کیلئے ایک امتحان ہوتا ہے انسان کو چاہیے کہ اس دوران سمبھل کر چلے ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر اٹھائے۔

    اس دورانیے میں انسان اپنے مقاصد بناتا ہے ان مقاصد کی تکمیل کے لیے انسان سر توڑ کوشش کر جاتا ہے جو اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے وہ کامیاب ٹھہرتا ہے

    جوانی زندگی کا نازک مرحلہ ہوتی ہے اس مرحلے میں چھوٹی سی غلطی آپ کی گزشتہ کامیابیوں اور آنے والی زندگی پر پانی پھیر دیتی ہے یہاں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے اس مرحلے میں انسان کو اپنی حفاظت خود کرنا ہوتی ہے

    زندگی کا آخری مرحلہ بڑھاپا ہوتا ہے اس مرحلے میں انسانوں کو دو طرح کی زندگی ملتی ہے جن کی اولاد نیک ہو انہیں حسین اور پر آسائش زندگی ملتی ہے جن کی اولاد نا خلف نکلے انہیں موت سے پہلے موت جیسی زندگی ملتی ہے

    جیسا کہ شروع میں بولا تھا کہ زندگی ایک سفر ہے تو اس سفر کا اختتام بھی ہونا ہے زندگی کے سفر کے اختتام کو موت کہتے ہیں انسان زندگی میں بنایا سب کچھ چھوڑ کر آخرت کی جانب گامزن ہو جاتا ہے اس کا نام، دولت اور مرتبہ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے لیکن سچے لوگوں کا نام ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔

    بس انسان کو چاہیے کہ وہ جس مقصد کیلئے اس جہاں میں آیا ہے اپنے اس مقصد کو پورا کرنے میں کامیاب ہو اور اس مقصد کو پورا کرے نہ کہ بھٹک جائے، مشکلات اور مصائب آتے رہتے ہیں بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہئے، اللّه تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّه تعالیٰ ہمیں سہی معنوں میں زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    ٹویٹر ہینڈل: @RealPahore

  • والدین اور بچوں کا بچپن   تحریر  : راجہ حشام صادق

    والدین اور بچوں کا بچپن تحریر : راجہ حشام صادق

    اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے کیا وجہ ہے کہ ہم بچوں کے بچپن سے ہی یہ الفاظ بولنا شروع کر دیتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر پاٶ گے تم سےنہیں ہو گا یا تم یہ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ۔

    اس کائنات میں کوٸی بھی ایسی چیز یا کام نہیں جو ایک انسان کے لیے ناممکن ہو۔پھر ہم بچوں کے دماغ میں ایسی چیزیں کیوں ڈالتے ہیں؟؟؟
    انسان کسی کام کو کرنے کی کوشش کریں اور وہ نہ ہو۔ایسا ممکن نہیں
    بچہ بھی جب اٹھ کر چلنا شروع کرتا ہے تو آپ سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتے ہو کیونکہ اس کے گرنے پر آپ اسے تھام لیتے ہو شروع شروع میں بچہ لڑکھڑا بھی جاتا ہے مگر آہستہ آہستہ ماں اس بچے کو سہارا دے کر چلنا سکھا دیتی ہے آخر کار وہ صرف چلنا نہیں بلکہ بھاگنا شروع کردیتا ہے۔

    ایک رینگتے بچے کو آپ چلنا سکھا سکتے ہو تو زندگی کے طویل سفر کے لیے اسے مایوس کیوں کر رہے ہو
    میرے نزدیک والدین کا بہت آہم رول ہے اپنے بچے کی کامیابی میں۔

    انسانی دماغ میں ہر چیز ہر لفظ ٹہر جاتا ہے اب یہ آپ کے اختیار میں کہ آپ اپنے بچے کے دماغ میں امید کی کرن کو کیسے روشن کرتے ہیں۔اگر آپ اپنے بچے کے دماغ میں ایک بات بٹھا دیں کہ تم یہ کر سکتے ہو تو یقین کریں وہ بچہ کر بھی جائے گا

    اللہ تعالٰی نے انسان کو قابلیت ،صلاحیت سب کچھ عطا کیا ہے بس ہمیں تھوڑا سا پالش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں دنیا کی کوٸی طاقت انسان کو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک انسان خود شکست تسلیم نہ کر لے۔

    @No1Hasham

  • تعلق اور رابطے۔پاٹ 2 تحریر : راجہ ارشد

    تعلق اور رابطے۔پاٹ 2 تحریر : راجہ ارشد

    بھٹی نے کامیابیوں کے سفر کا آغاز صحافت سے کیا اتفاق سے ایک بہت ہی آچھے ٹی وی چینل کے ساتھ سیٹ ہو گیا۔

    ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے استاد محترم کا انٹرویو کیا جائے۔ چنانچہ بھٹی اپنے استاد محترم کے گھر پونچ گیا۔ابتدائی سلام دعا کے بعد بھٹی نے انٹرویو لینا شروع کیا۔
    بھئی اپنی تعلیم کے پرانے دور کی مختلف باتیں پوچھ رہا تھا۔ انٹرویو کے دوران بھٹی نے اپنے استاد محترم سے پوچھا سر ایک بار آپ نے اپنے لیکچر کے دوران contact اور connection کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے ان دو الفاظ کا فرق سمجھایا تھا اس وقت بھی میں کنفیوز تھا اب جب کہہ بہت عرصہ ہو گیا ہے مجھے وہ فرق یاد نہیں رہا آپ آج مجھے ان دو الفاظ کا مطلب سمجھا دیں تاکہ مجھے اور میرے چینل کے ناظرین کو آگاہی ہو سکے۔

    استاد محترم مسکرائے اور سوال کے جواب دینے سے کتراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا کیا آپ اسی شہر سے تعلق رکھتے ہو ؟
    بھٹی نے کہا جی ہاں سر میں اسی شہر کا ہوں استاد محترم نے پوچھا آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے؟
    بھٹی نے سوچا کہ شاید استاد محترم میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے اس لیے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں بہر حال بھٹی نے بتایا میری والدہ محترمہ وفات پا چکی ہیں والد صاحب گھر میں رہتے ہیں۔
    تین بھائی اور ایک بہن ہے اور سارے شادی شدہ ہیں۔

    استاد محترم نے مسکراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا تم اپنے والد محترم سے بات چیت کرتے رہتے ہو؟
    اب بھٹی کو غصہ بھی آرہا تھا اور اور بولا جی میں والد محترم سے گپ شپ کرتا رہتا ہوں استاد محترم نے پوچھا یاد کرو پچھلی بار تم اپنے والد سے کب ملے تھے؟
    بھٹی نے غصے کا گھونٹ پیتے ہوئے کہا شاید ایک ماہ ہو گیا ہے جب میں ابو جان سے ملا تھا۔
    استاد محترم نے کہا پھر تم اپنے بہن بھائیوں سے تو اکثر ملتے رہتے ہوگے ؟ بتاو لاسٹ ٹائم کب اکٹھے ہوئے تھے اور گپ شپ حال احوال پوچھا تھا؟

    اب تو بھٹی صاحب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور لینے کے دینے پڑ گیے وہ سوچنے لگا میں تو استاد محترم کا انٹرویو لینے چلا تھا مگر الٹا استاد میرا انٹرویو لینے لگے ہیں۔

    بھٹی نے ایک لمبی آہ بھری اور بولا شاید دو سال ہونے والے ہیں جب ہم بہن بھائی اکٹھے ہوئے تھے استاد محترم نے ایک اور سوال ڈالتے ہوے پوچھا تم لوگ کتنے دن اکٹھے رہے تھے؟ بھٹی نے پسینہ پونچھتے ہوئے جواب دیا ہم لوگ تین دن اکٹھے رہے تھے۔

    استاد محترم نے پوچھا تم اپنے والد کے پاس بیٹھ کر کتنا وقت گزارتے ہو؟
    اب تو بھٹی بہت پریشان ہو گیا اور میز پر رکھے ایک کاغذ پر کچھ لکھنے لگا۔ استاد محترم نے پوچھا کبھی تم نے والد صاحب کے ساتھ ناشتہ لنچ یا ڈنر بھی کیا ہے؟
    کبھی آپ نے ابو سے پوچھا وہ کیسے ہیں؟
    کبھی تم نے والد صاحب سے دریافت کیا کہ تمھاری والد محترمہ کے مرنے کے بعد اس کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟
    اب تو بھٹی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے استاد محترم نے بھٹی کا ہاتھ تھپ تھپایہ اور کہا کہ بیٹا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مجھے افسوس ہے کہ میں نے بے خبری میں تمھیں ہرٹ کیا اور دکھ پہنچایا لیکن میں کیا کرتا مجھے آپ کے سوال Contact اور connection کا جواب دینا تھا۔

    سنو ان دو لفظوں کا فرق یہ ہے کہ تمھارا contact یا رابطہ تو تمھارے والد صاحب سے ہے مگر connection یا تعلق والد صاحب سے۔نہیں رہا یا کمزور ہے کیونکہ تعلق یا کنکشن دلوں کے درمیان ہوتا ہے جب کنکشن یا تعلق ہوتا ہے تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اور پھر ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے ہیں گلے سے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام خوشی خوشی کرتے ہیں۔

    بلکل ٹھیک ایسے جیسے ایک معصوم بچے کی ماں اس کو سینے سے لگا کر رکھتی ہے، بوسہ کرتی ہے بغیر مانگے دودھ پلا دیتی ہے بچے کی گرمی سردی کا خیال رکھتی ہے جب وہ بچہ چلنا شروع کرتا ہے تو سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتی ہے کہہ کہیں گر نہ جائے کوئی غلط چیز نہ کھا لے۔

    تو بیٹا آپ کے والد اور بہن بھائیوں کے ساتھ صرف contact ہے مگر آپ کے درمیان connection نہیں ہے۔

    بھٹی نے اپنے آنسو رومال سے صاف کیے اور استاد محترم کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا سر آپ نے مجھے آج ایک بہت بڑا سبق پڑھا دیا جو زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

    بد قسمتی سے آج ہمارے وطن عزیز میں یہی حال ہے کہ ہمارے آپس میں بڑے رابطے ہیں مگر کنکشن بالکل نہیں۔ آج ٹویٹر ، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہمارے پانچ ہزار فرینڈز ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایک بھی نہیں۔ ہم صبح سویرے بزاروں دوستوں کو گڈ مارننگ کہہ کر بغیر خوشبو کے پھول بھیجتے ہیں۔

    حقیقی زندگی میں ایک پھول کی پتی بھی نہیں ملتی ہم تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
    کسی اپنے کے بچھڑنے کے بعد چند تعزیتی الفاظ اور رشتوں کے سارے تقاضے پورے کر کے ہم سرخرو ہو رہے ہوتے ہیں۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • اردو، زوال کا شکار.  تحریر: احسان الحق

    اردو، زوال کا شکار. تحریر: احسان الحق

    کہتے ہیں کہ جسمانی غلامی سے ذہنی غلامی بڑی لعنت ہے. جسمانی غلام قوم ایک نہ ایک دن آزاد ہو جاتی ہے مگر ذہنی طور پر غلام قوم نسل در نسل غلام ہی رہتی ہے. ان کے ذہنوں سے غلامی کبھی ختم نہیں ہوتی. پاکستان نے جسمانی طور پر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی مگر بدقسمتی سے آج تک انگریزی زبان کی ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکا۔ وطن عزیز میں انگریزی زبان ہی پڑھے لکھے ہونے کا معیار چانچنے کا پیمانہ بن چکی ہے. آپ اردو یا اپنی مادری زبان میں جتنی زیادہ انگریزی کی ملاوٹ کریں گے آپ اتنے ہی زیادہ پڑھے لکھے تصور کئیے جائیں گے. لوگوں پر رعب ڈالنے یا متاثر کرنے کے لئے بھی اردو میں انگریزی الفاظ کی زبردستی ملاوٹ کی جاتی ہے. دنیا میں جتنے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے انگریزی پر اپنی مقامی اور قومی زبانوں کو ترجیح دی. چین، جاپان، روس، عرب ممالک اور کوریا سمیت دنیا کے ترقی یافتہ اور بڑے ممالک اپنی قومی زبان کو بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے اور سرکاری اور قومی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں.

    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی قومی زبان اردو ہے. اردو پاکستانیوں کی صرف قومی زبان ہی نہیں بلکہ بزرگوں کی شان، شناخت اور غیرت بھی ہے. بزرگوں کی اس لئے کیوں کہ نوجوان نسل اب اردو بولنے لکھنے میں عار محسوس کرتے ہیں. اب پاکستانیوں کا خیال ہے کہ علم و فراست اور پڑھے لکھے کی نشانی یہی ہے کہ بندہ اردو کی جگہ زیادہ سے زیادہ انگریزی کا استعمال کرے. یقین جانیں ہم بھی اسی کو زیادہ پڑھا لکھا سمجھتے ہیں جو انگریزی بولنا جانتا ہو، حالانکہ انگریزی علم نہیں بلکہ زبان ہے. خاکسار کے نزدیک موجودہ میڈیا اور انٹرنیٹ کی ترقی کے دور میں خالص اردو بولنا مشکل کام ہے بلکہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے.

    سقوط ڈھاکہ میں سب سے اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. خاکسار کے مطابق پاکستان کے دو لخت ہونے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. پہلی بار ڈھاکہ میں11 مارچ 1948 کو اردو کے مقابلے میں، بنگالی زبان کے حق میں اور اردو کے خلاف ایک جلوس نکالا گیا جس کی منزل وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین کا دفتر تھی. جلوس شرکاء کا مطالبہ تھا کہ اردو کی جگہ بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے.

    اردو کی مخالفت میں مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہوتے جا رہے تھے. اسی لئے 21 مارچ 1948 کو بانی پاکستان جناب حضرت قائداعظمؒ ڈھاکہ میں تشریف لے گئے اور ریس کورس میں ایک عظیم مجمعے میں کھلے الفاظ میں فرمایا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اردو ہی رہے گی البتہ بنگال صوبائی سطح پر سرکاری زبان کے طور پر "بنگالی” زبان اختیار کر سکتا ہے. حضرت قائداعظمؒ نے فرمایا کہ
    "میں آپ سب پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ پاکستان کی قومی اور ریاستی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی، کوئی دوسری زبان نہیں. کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے اہم ہے کہ اس کی زبان ایک ہو”
    قائداعظمؒ کے رعب دار خطاب سے بنگالی خاموش اور کسی حد تک مطمئن ہو گئے. 26 جنوری 1952 میں خواجہ ناظم الدین نے بھی ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہی ہوگی. حالانکہ خواجہ ناظم الدین کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور وہ خود بنگالی تھے.

    بدقسمتی سے اب ہماری عزت، غیرت اور شناخت اردو پاکستان میں زوال پذیر ہے. ہم آہستہ آہستہ اپنی غیرت کا گلہ گھونٹ رہے ہیں. خدانخواستہ اردو جس طرح پستی کی طرف جا رہی ہے اگلی نسلیں اردو کا تذکرہ کتابوں میں پڑھیں گی کہ اردو زبان بھی ہوا کرتی تھی. ہماری آئینی، سرکاری، سیاسی، عدالتی حتیٰ کہ چھوٹے سے چھوٹے ادارے اور محکمے کی زبان انگریزی ہے. سونے پہ سہاگہ ہمارے انتہائی غیر معیاری اور کسی حد تک غیر اخلاقی ڈرامے بھی اردو کا ستیا ناس کر رہے ہیں. ایک زمانہ تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ثقافت سے بھی بھرپور ہوتے تھے جس میں اردو کے الفاظ کا بہترین انداز میں استعمال کیا جاتا اور خیال کیا جاتا تھا. مگر اب ایسا نہیں ہے. ہم نے صرف انگریزوں سے آزادی حاصل کی مگر بدقسمتی سے انگریزی سے نہیں. ہم انگریزی سے کب آزادی حاصل کریں گے؟ اردو زبان کو ہم پاکستانی عزت نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟

    @mian_ihsaan

  • ہمارے ذہن حقائق کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ہیں۔؟  تحریر: زاہد کبدانی

    ہمارے ذہن حقائق کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ہیں۔؟ تحریر: زاہد کبدانی

    بہت سے تجربات کیے گئے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ ہم ایسی معلومات کو ڈھونڈتے اور مانتے ہیں جو اس بات کی تائید کرتی ہے جو ہم پہلے سے درست سمجھتے ہیں ، یہاں تک کہ جب اس کے برعکس ٹھوس حقائق پیش کیے جائیں۔ سائنس میں اسے تصدیقی تعصب کہا جاتا ہے ، اور تحقیق کے طریقے اس طرح کے ہونے سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں ، کچھ اس رجحان کو "مائی سائیڈ” تعصب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور ، جب متضاد معلومات کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے ، تو اکثر دلیل یا بحث جیتنا اس سے زیادہ اہم ہوتا ہے جتنا کہ ہم جو کچھ مانتے ہیں اس سے مختلف حقائق کو سننا ، یہ دیکھنا کہ کیا ہم کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں۔ ماہر معاشیات ، جے کے گالبریتھ نے اس کا اظہار اس طرح کیا: "کسی کا ذہن بدلنے اور یہ ثابت کرنے کے درمیان انتخاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، تقریبا ہر کوئی ثبوت کے ساتھ مصروف ہو جاتا ہے۔

    الزبتھ کولبرٹ نے ٹھیک کہا ہے ، "وجہ کی وجہ سے انسانی صلاحیت کا سیدھا سوچنے کے بجائے جیتنے والے دلائل سے زیادہ تعلق ہوسکتا ہے۔ "لوگ حقیقی خوشی کا تجربہ کرتے ہیں ، ڈوپامائن کا رش ہوتا ہے جب معلومات پر کارروائی ہوتی ہے جو ان کے عقائد کی حمایت کرتی ہے۔ "اپنی بندوقوں پر قائم رہنا اچھا لگتا ہے چاہے ہم غلط ہوں۔” لیو ٹالسٹائی کے مطابق ، "سب سے مشکل مضامین سب سے سست ذہن والے آدمی کو سمجھایا جا سکتا ہے اگر اس نے پہلے سے ان کے بارے میں کوئی خیال نہیں بنایا ہے۔ لیکن سب سے ذہین آدمی کے لیے سب سے آسان بات واضح نہیں کی جا سکتی اگر اسے مضبوطی سے قائل کیا جائے کہ وہ پہلے سے جانتا ہے ، بغیر کسی شک کے ، اس کے سامنے کیا رکھا ہے۔ انسان سماجی مخلوق ہیں ، اور حقائق اور درستگی صرف وہی چیزیں نہیں ہیں جو انسانی ذہن کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم تعلق رکھنے کی گہری خواہش رکھتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر یہ "حقیقت میں غلط ، لیکن معاشرتی طور پر درست” کو قبول کرنے کی قیمت پر ہے۔
    جیمز کلیئر ، کتاب ، جوہری عادات ‘کے مصنف نے ایک بار لکھا ، "بہت سے حالات میں ، معاشرتی رابطہ دراصل آپ کی روز مرہ کی زندگی کے لیے کسی خاص حقیقت یا خیال کی حقیقت کو سمجھنے سے زیادہ مددگار ہوتا ہے۔” ہارورڈ کے ماہر نفسیات اسٹیون پنکر نے اس طرح کہا ، "لوگوں کو ان کے عقائد کے مطابق قبول کیا جاتا ہے یا ان کی مذمت کی جاتی ہے ، لہذا دماغ کا ایک کام اعتقاد کو برقرار رکھنا ہوسکتا ہے جو عقیدہ رکھنے والے کو اتحادیوں ، محافظوں یا شاگردوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں لاتا ہے۔ ایسے عقائد سے زیادہ جو سچ ہونے کے امکانات ہیں سماجی ماحول میں ، جب ہمیں دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ، لوگ اکثر حقائق اور درستگی پر دوستوں اور خاندان کا انتخاب کرتے ہیں۔ کسی کو اپنا ذہن بدلنے کے لیے قائل کرنا واقعی اسے اپنے قبیلے کو تبدیل کرنے کے لیے قائل کرنے کا عمل ہے۔ اگر وہ اپنے عقائد کو ترک کردیتے ہیں تو وہ سماجی روابط ختم ہونے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ اگر آپ ان کی کمیونٹی کو بھی چھین لیتے ہیں تو آپ کسی سے ان کی سوچ بدلنے کی توقع نہیں کر سکتے۔ آپ نے انہیں کہیں جانا ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ان کا عالمی نظریہ ٹوٹ جائے اگر تنہائی نتیجہ ہے۔ ہمارا مذہبی پس منظر اس پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہم کس طرح سوچتے ہیں ، اور یہ ہمارے عالمی نقطہ نظر کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ جو لوگ گہری مذہبی پرورش رکھتے ہیں انہیں محض دنیا کو اپنی روحانی عینک سے دیکھنے سے محتاط رہنا چاہیے۔ روحانیت استدلال کے خلاف نہیں ہے۔ ہمیں اپنی سوچ اور عقائد میں روحانی طور پر ہٹ دھرم نہیں ہونا چاہیے کہ ہم عقلی اور منطقی استدلال کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    مجموعی طور پر ، میٹاکجنیٹیو سوچ پر عمل کریں۔ اپنی سوچ کے معیار سے آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ کیا کوئی عقیدہ ہے جو آپ کو روکتا ہے؟ کیا آپ کے ماضی کی تکلیف دہ یادیں ہیں جو اب بھی آپ کے آگے بڑھنے کے لیے خوف پیدا کرتی ہیں؟ ان چیزوں پر غور کرنے کے لیے وقت نکالیں تبدیلی خود آگاہی سے شروع ہوتی ہے۔

    @Z_Kubdani