Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • رب سے گفتگو  تحریر :محمد شفیق

    رب سے گفتگو تحریر :محمد شفیق

    انسان ،زمیں پہ خدا کا پیامبر ،اشرف المخلوقات ،جو ارد گرد موجود ہر چیز پہ دسترس پانے کا ہنر رکھتا ہے جب حالات کی چکی میں پستا ہے تو کندن بن کر نکلتا ہے لیکن کبھی حالات اس نہج پر چلے جاتے ہیں کہ انسان کندن بننے کی بجائے مایوسی کی چادر اوڑھ لیتا ہے ۔
    رکیے،زندگی ایک بار ہی ملتی ہے اسے مایوسی اور نا امیدی کی نظر مت کیجیے ،مایوسی سے بچنے کا بہت آسان طریقہ ہے رب سے اپنے تعلقات استوار کیجیے
    یہ زندگی ،زندگی کی رعنائیاں ،جس پروردگار کی عطا کردہ ہیں اس سے ملاقات کیلیے بھی وقت نکالا کریں ۔۔
    بالکل ایسے ہی جیسے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بناتے ہیں۔۔۔۔
    دعوتوں پر جانے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔۔۔۔
    کام پر جانے کیلئے وقت کا خیال رکھتے ہیں۔۔۔۔
    اب آپ لوگ کہیں گے، رب سے ملاقات کیلئے نماز پڑھتے تو ہیں ہم۔۔۔ پتا ہے کے نماز سبھی پڑھتے ہیں مگر نماز میں جو خشوع وخضوع ضروری ہوتا ہے وہ ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا یہ بھی نصیب والوں کو ملتا ہے۔۔۔ ہم جیسے تو بس سجدے کر کے اٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔
    اللّٰہ پاک سے ملاقات کا وقت رکھیں۔ ٹائم مقرر کر لیں ایک، اس میں اچھے سے صاف ستھرے ہو کے صرف اللّٰہ پاک کیلئے خود کو پیارا بنائیں۔۔۔ بہت اہتمام سے اسکے سامنے حاضری دیں۔ کچھ نہیں کرنا آپ نے کوئی نفل نہیں پڑھنے کوئی لمبی لمبی تسبیحات نہیں کرنی۔۔۔۔ بس خود کو اپنے رب کیلئے پیارا سا بنائیں، جائے نماز بچھائیں اور بیٹھ جائیں۔۔۔۔
    اللّٰہ پاک کو اپنا حال چال سنائیں، اپنی مشکلات بتائیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے اپنے کسی جگری دوست کو بتاتے ہیں۔۔۔ رونا ہے تو رو لیں اسکے سامنے۔۔۔ خوش ہونا ہے تو خوش ہو لیں۔۔۔ اس کو وہ توقعات بتائیں جو آپ نے اپنے رب سے امید کی ہوئیں ہیں۔۔۔ دوسروں سے جو شکوے شکایات اپنے رب کو بتائیں۔۔۔ اپنی کمزوریوں ،کوتاہیوں ،لغزشوں کا عتراف اس ہستی کے سامنے کریں جو طعنہ نہی دیتی جو کسی دوسرے پہ آپ کے راز آپ کے عیب عیاں نہی کرتی ۔۔۔ وہ جو غفور الرحیم ہے نا اس سے اپنی نادانیوں پہ معافی مانگو ۔ جو دل کرتا ہے جیسے کرتا ہے ویسے اس خالق سے گفتگو کریں ۔۔۔اور جب ملاقات ختم کر کے جائے نماز اٹھانے لگے تو بالکل ویسے ہی اٹھیں جیسے ایک دوست سے گلے لگ کر پیار محبت سے رخصت کرتے ہیں۔۔۔ آپ اللّٰہ پاک سے ایسے ہی رخصت ہوں۔۔۔
    پھر۔۔۔۔ پھر آپ سکون سے بھر جائیں گے۔۔۔ پتا جو شکایات آپ اللّٰہ پاک سے کر کے آئیں ہوں گے نا ،وہ خودبخود ختم ہونے لگیں گی۔۔۔ شکر بڑھ جائے گا۔۔۔ دل صاف ہونے لگے گا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر اللّٰہ پاک کی ذات کے ساتھ ہونے کا احساس رہنے لگے گا ۔۔۔ آپ تنہا ہو کر بھی تنہا نہیں ہوں گے۔۔۔۔ آپ کے پاس بیٹھنے والے لوگ بھی سکون محسوس کریں گے۔۔۔ اور پتہ کیا آپکو اپنے رب سے بہترین دوست کہیں نہیں ملے گا۔۔۔ تو اپنے رب سے دوستی کریں۔۔
    @Ik_fan01

  • بچوں کی اچھی تربیت تحریر : ارشاد حسین

    بچوں کی اچھی تربیت تحریر : ارشاد حسین

    میری بہنو اور بھائیو بچے ایک پھول کی مانند کی طرح ہوتے ہیں والدین پر فرض ہے ان کی اچھی تربیت کریں آج ہم اپنے بچوں کی جیسی تربیت کریں گے وہ اس پر عمل کریں گے جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو وہ اپنی اولاد کی بھی اچھی تربیت کریں گے یعنی ہماری اچھی تربیت سے ہماری نسلیں سنور جائیں گی تو آج اپنے بچوں کی تربیت صرف زبانی نصیحت نہ کریں آج جو عمل ہم کریں گے ہمارے بچے بھی ہمیں فالو کرتے ہیں اگر آج ہم اچھے عمل کریں قرآن مجید نماز پڑھیں تو ہمارے بچے ہمارے ساتھ آ کے نماز پڑھنا شروع ہو جاتے ہیں اگر ہم اپنے گھروں میں گالم گلوچ کرتے ہیں تو بچوں میں یہی عادتیں پروان چڑھتی ہیں اور جن گھروں میں دینداری کا ماحول ہوتا ہے اچھایاں ہوتی ہیں ایک ایک کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی ہوتی ہے بچوں میں بھی یہی عادتیں صفات ہوتی ہیں آپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو کم از کم ان کے سامنے اچھے عمل کرنے کی کوشش کریں اور برائیوں سے دور ہوجائیں اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم بھی دیں تعلیم سے انسان شعور سیکھتا ہے چھوٹے بڑے سے بات کرنے تہذیب ہوتی ہے اپنے بچوں کے ذہن میں اچھے خیال ڈالیں نماز اور قرآن مجید بڑھائیں۔ اپنے بچوں کو سمجھائیں ہمارے دین اسلام میں غلط کام کرنا کتنا بڑا گناہ ہے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بچوں کو دور رکھیں جس طرح یہ لوگ ہمارے بچوں کی تعلیم کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں ایک مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے اور یہ بھی ضروری ہے نو عمر بلوغت کے قریب پہنچنے والی بچیوں اور بچوں کو اپنے وجود میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنا ہو گا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر سے بچوں کو اس چیز کی مناسب تعلیم نہ ملے تو وہ باہر سے لیں گے جو کہ گمراہی اور فتنہ کا باعث بنے گا کچھ لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے گھروں میں بہت سے والدین پریشان ہیں والدین اگر اس پریشانی سے نجات چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کو گھر میں زیادہ دیر تک اکیلا نہ چھوڑا کریں کیونکہ آج کل ہر گھر میں ٹی وی اور موبائل عام ہیں تنہائی میں انسان کو شیطان گمراہ کرتا ہے جس سے بچوں کے ذہن میں منفی خیالات آتے ہیں اور پھر وہ غلط کاموں کا شکار ہو جاتے ہیں اپنے بچوں پر نظر رکھیں وہ کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اپنے دوستوں میں کیا وہ اچھے انسان ہیں یا برے کیونکہ آپ کے بچوں کا کسی برے انسان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے تو وہ بھی غلط کاموں میں لگ جائے گا اس سے بہتر ہے اپنے بچوں پر نظر رکھیں میں متحدہ عرب امارات میں رہتا ہوں پچھلے چھ سال سے عرب لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہت اچھی تربیت بھی کرتے ہیں ہم جب بھی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں بچے اپنے والدین کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں یہاں ہر بچہ نماز پڑھتا ہے ان کو کسی بڑے سے بات کرنے کی تہذیب ہے عرب لوگ اپنی چھوٹے بچوں کو غلط کام کرنے سے منع کرتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    twitter.com/ir_Pti
    @ir_Pti

  • ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اساتذہ ہمارے معاشرے کے سب سے اہم ممبر ہیں۔ وہ بچوں کو مقصد دیتے ہیں ، انہیں ہماری دنیا کے شہری کی حیثیت سے کامیابی کے لئے مرتب کرتے ہیں ، اور ان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ آج کے بچے کل کے قائد ہیں ، اور اساتذہ وہ نازک نکتہ ہیں جو کسی بچے کو اپنے مستقبل کے لئے تیار کرتا ہے۔ اساتذہ کیوں اہم ہیں؟
    بچے پوری زندگی میں جو کچھ انھیں سکھایا جاتا ہے وہ پوری زندگی میں وہی کرتے ہیں جو وہ سیکھتے ہیں ۔ وہ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ معاشرے کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ آج کا نوجوان کل کے قائد بن جائے گا ، اور اساتذہ کو ان کے سب سے زیادہ متاثر کن سالوں میں نوجوانوں کو تعلیم دینے کی سہولت ہے – چاہے وہ پری اسکول کی تعلیم ، غیر نصابی تعلیم ، کھیلوں یا روایتی کلاسوں کی تعلیم ہو ۔ اساتذہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ معاشرے کے لئے مستقبل کے رہنماؤں کی تشکیل کے لئے بہترین اور موثر مستقبل کی نسلوں کی تشکیل کریں اور اسی وجہ سے معاشرے کو مقامی اور عالمی سطح پر ڈیزائن کریں۔ حقیقت میں ، اساتذہ کا دنیا میں سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو معاشرے کے بچوں پر اثر ڈالتے ہیں وہ زندگی کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ نہ صرف خود ان بچوں کے لئے ، بلکہ سب کی زندگیوں کے لئے ۔ عظیم اساتذہ کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے کہ وہ زندگی کو بہتر سے بہتر بناسکیں۔ اساتذہ امدادی نظام کی حیثیت سے کام کر سکتے ہیں جس میں طلبہ کی زندگیوں میں کہیں اور کمی نہیں ہے۔ وہ ایک رول ماڈل اور آگے بڑھنے اور بڑے خواب دیکھنے کے لئے ایک تحریک بن سکتے ہیں۔ وہ طلبا کو اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے لئے جوابدہ ٹھہراتے ہیں اور اچھے اساتذہ اپنے ہونہار طلبا کو اپنی پوری صلاحیتوں کے مطابق نہ رہنے دیتے ہیں۔ ہر شعبہ ہائے زندگی اور مضامین کے اساتذہ قابلیت کی تشکیل کرنے اور معاشرے ، زندگی اور ذاتی اہداف کے بارے میں نظریات کی تشکیل میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اساتذہ طلباء کی حدود کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ تعلیم دینا کا ایک مشکل کام ہے ، لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کسی اور شخص کی زندگی میں سب سے زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔ اساتذہ طلبا کے لئے حتمی رول ماڈل ہیں۔ اس حقیقت کی حقیقت یہ ہے کہ طلباء اپنے تعلیمی کیریئر میں متعدد مختلف قسم کے اساتذہ کے ساتھ رابطے میں آجاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ امکان نہیں ، ایک ایسا استاد ہوگا جو ان سے بات کرے۔ اساتذہ طلباء کا ربط کچھ طلباء کے لئے انمول ہے ، جن میں دوسری صورت میں استحکام نہیں ہوسکتا ہے۔ اساتذہ اپنے طلبا کے لئے مثبت رہیں گے یہاں تک کہ چیزیں بھیانک محسوس ہوسکتی ہیں۔ ایک عظیم استاد ہمیشہ اپنے طلباء کے لئے ہمدردی ، اپنے طلباء کی ذاتی زندگی کو سمجھنے اور ان کے تعلیمی اہداف اور کامیابیوں کے لئے تعریف کرتا ہے۔ اساتذہ بچوں کے مثبت ہونے ، ہمیشہ زیادہ محنت کرنے اور ستاروں تک پہنچنے کے لئے رول ماڈل ہیں۔ علم اور تعلیم ہی ان تمام چیزوں کی اساس ہیں جو زندگی میں پوری ہوسکتی ہیں۔ اساتذہ آج کے نوجوانوں کو تعلیم کی طاقت فراہم کرتے ہیں ، جس سے انہیں بہتر مستقبل کا امکان مل جاتا ہے۔ اساتذہ کمپلیکس کو آسان بناتے ہیں ، اور خلاصہ تصورات کو طلباء تک قابل رسائی بناتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کو ایسے آئیڈیاز اور عنوانات سے بھی روشناس کرتے ہیں جن سے وہ بصورت دیگر سیکھنے میں نہیں آئے تھے۔ وہ مفادات کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنے طالب علموں کو بہتر کام کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اساتذہ ناکامی کو قبول نہیں کرتے ہیں ، اور اسی وجہ سے طلباء کے کامیاب ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اساتذہ جانتے ہیں کہ طلبا کو کب دھکیلنا ہے ، کب صحیح سمت میں ہلکا ہلکا انداز دینا ہے اور کب طالب علموں کو خود ان کا پتہ لگانا ہے۔ لیکن وہ کسی طالب علم کو ہار نہیں ماننے دیں گے۔ اساتذہ ہر طرح کے طلباء کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اساتذہ ہر بچے کی طاقت اور کمزوریوں کو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں اور مدد اور رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں تاکہ یا تو انھیں تیز رفتار سے بڑھایا جائے . یا اس سے زیادہ بلند کیا جاسکے۔ وہ طلبا کی بہترین صلاحیتوں کو ظاہر کرنے اور زندگی کی قیمتی صلاحیتوں جیسے مواصلات ، ہمدردی ، پیش کش ، تنظیم ، مندرجہ ذیل سمتوں اور مزید بہت کچھ سکھانے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ تحریک الہامی اور محرک کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ اساتذہ طلبا کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں ، اور انہیں محنت سے کام کرنے اور اپنے تعلیمی اہداف کو راستے پر رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ تعلیم کسی ملک کی ترقی کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ اگر معاشرے کے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں تو مستقبل پیدا ہوتا ہے۔ اساتذہ ایسی تعلیم مہیا کرتے ہیں جس سے معیار زندگی بہتر ہوتا ہے ، لہذا مجموعی طور پر افراد اور معاشرے دونوں میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ اساتذہ طلباء کی پیداوری اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور اس وجہ سے آئندہ کارکنوں کی جب طلبا کو تخلیقی اور نتیجہ خیز بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے تو ، ان کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ کاروباری ہوں اور تکنیکی ترقی کریں ، اور آخر کار یہ کسی ملک کی معاشی ترقی کا باعث بنیں۔

    Twitter handle :
    ‎@Maqbool_hussayn

  • بس خواب ہی یا جینا بھی ہے! تحریر:مریم صدیقہ

    بس خواب ہی یا جینا بھی ہے! تحریر:مریم صدیقہ

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ اپنی ساری زندگی ایک ہی معمول کے مطابق گزار دیں اور آپ ” آفس پلانکٹن” بن جائیں پھر کیا ہو گا؟ کیا آپ اپنی زندگی کو اس قدر بورنگ کر کے گزارنا چاہتے ہیں کہ تمام تر زندگی خواب اور محض خواب دیکھنے میں ہی گزر جائے؟ اگر نہیں! تو ابھی رک جائیں اور سوچیں کہ جو خواب آپ دیکھ رہے ہیں انہیں پورا کرنے کے لیے کیا بدلا جا سکتا ہے اور زندگی کو جینے کا اصل مزہ کیسے لے سکتے ہیں؟
    لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زندگی میں ہم میں سے ہر شخص کم از کم ایک بار ضرور خوابوں کی دنیا میں کھو جاتا اور حقیقت سے کہیں بہت دور نکل جاتا ہے، ہم رات و رات سپر سٹارز بننے کا خواب کا دیکھنے لگتے ہیں اور سب کی توجہ کا مرکز بننے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔مگر ایسا صرف ہم اپنی سوچوں میں کررہے ہوتے ہیں کبھی سوچا کہ حقیقت میں اس کے لیے کیا کیا اب تک؟ بہت سے لوگ اب کہیں گے کہ خواب سچے ہوتے ہیں تو انہیں بتاتی چلوں خواب سچے ہوتے نہیں ہیں انہیں سچا بنانا پڑتا ہے، خواب پورے کرنے پڑتے ہیں، محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور خواب تب سچے ہوتے ہیں جب آپ رکتے نہیں ہیں ، جب آپ ہار نہیں مانتے اور پوری لگن کے ساتھ ان کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ جب آپ خوابوں کو جینا شروع کرتے ہیں۔
    اب وقت ہے جینا شروع کریں!!
    اپنی زندگی میں تاخیر سے کام لینا بند کریں۔فلموں اور پریوں کی کہانیوں پہ یقین کرنا چھوڑ دیں ، ان میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔ یہ سب جھوٹ ہوتا ہے، ان میں یہ بھی جھوٹ ہے ہوتا ہے کہ آپ کو بس صبر سے کام لینا ہےاور انتظار کرنا ہے سب کچھ ایک دن خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسے کیسے ٹھیک ہو جائے گا جب آپ نے اس کے لیے کبھی کوشش کی ہی نہیں! اس وہم کو اپنے دل و دماغ سے نکال دیں کہ جب آپ پریکٹکل زندگی میں قدم رکھیں گے تو خود بہ خود ایک مشروط مقام تک پہنچ جائیں گےجس کے خواب بچپن سے اب تک دیکھتے آئے۔اسے افسانہ سمجھیں – ایک ہوریزون لائن کی طرح جسے منزل کے قریب پہنچنے پہ ہٹا دیا جاتا ہے۔یہ بس ایک پوائنٹ ہے۔ اور اس کے پیچھے سوائے خاموشی اور اندھیرے کے کچھ نہیں ہے اور جہاں رکنے سے بہت دیر ہو سکتی ہے۔ آگے بڑھیں اور منزل کو پا لیں!
    جیو! ابھی جیو! خود کو محسوس کرو ، اپنی گزری ہوئی زندگی پہ نظر ڈالو۔ لمبی لمبی سانس لہں اور وقت کی گردش کو محسوس کریں یا پھر اسے رکنے دیں، آپ پہ منحصر ہے۔ہر اس چیز کو رستے سے ہٹا دو جو آپ کو منزل کی طرف بڑھنے سے روک رہی ہے، اپنے لیے آسانیاں اور سکون کے رستے ہموار کریں۔ اپنے سمارٹ فونز میں سے دوسروں کی زندگیوں، ان کے حقائق اور خوابوں کو دیکھنا چھوڑیں، لوگ جیسے سوشل میڈیا پہ خود کو دیکھاتے وہ اصل زندگی میں ویسے نہیں ہوتے۔ اپنی زندگی بنایں ، کچھ ایسا کر جایں کہ دنیا آپ کا نام سرچ کرے آنے والے دنوں میں۔
    پرانی باتیں، نفرتیں، ناکامیابیاں سب بھول کر محسوس کریں کہ آپ ہیں ! آپ کے پاس کودآپ ہیں ۔ جی آپ! مکمل، بلکل مکمل اور جب آپ ہیں تو کسی اور کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچ یقینا آپ کو آپ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں کافی فائدہ مند ثابت ہو گی۔
    جان لیں کہ آپ اپنے خوابوں کے تخلیق کار ہیں۔یہ زندگی آپ کی ہے، اس میں ہر خوشی ، ہر دکھ ، ہر جیت اور ہر ہار کے آپ ذمہ دار ہیں۔ صرف آپ! اب یہ آپ کا کام ہے کہ سوچیں اب تک آپ کیا تھے اور آگے آپ کو کیا بننا ہے۔ سب کچھ آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔اپنے دل کی آواز سنیں اور چل پڑیں اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے۔سکون کا سانس لیں! پیار کریں! خوشیاں بانٹیں اور عمل کرنا شروع کریں۔جو بھی کرنا ہے یا زندگی میں جو بھی کچھ آپ کو چاہیے ابھی وقت ہے حاصل کر لیں، اسےمزید ملتوی نہ کریں۔
    آپ کے پاس ہر وہ چیز پہلے سے موجود ہے جس کی اپنے خوابوں کی تکمیل میں آپ کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔خوش رہیں اور شکر گزار بنیں۔ آپ اندر سے کون ہیں اس سے خوفزدہ نہ ہوں۔ خودکو خودسے پوشیدہ نہ رکھیں۔اپنے ٹیلنٹ کو کھل کے سامنے آنے کا موقع دیں۔ اور اب جینا شروع کریں!

    @MS_14_1

  • لمحہ موجود میں جینا  تحریر:حُسنِ قدرت

    لمحہ موجود میں جینا تحریر:حُسنِ قدرت

    ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو ہر وقت ماضی کا رونا روتا رہتے ہیں کہ ماضی میں ہماری پاس یہ یہ راحتیں اور نعمتیں تھیں مگر اب نہیں ہیں یہ سوچ کر وہ بہت کڑھتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مستقبل کو سوچ کر خوفزدہ ہوتے ہیں انہیں مستقبل سے خدشات ہوتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ ہر نیا روز کوئی نئی آفت لے کر آئے گا لیکن یہ ایک انتہائی فضول رویہ ہے کیونکہ ماضی میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ اچھا ہے یا برا اسے ہم چاہ کر بھی تبدیل نہیں کر سکتے لہذا کوئی بھی عقل مند انسان اپنے حال کو ماضی کا نوحہ کرکے ضائع نہیں کرے گا اور اسی طرح جو انسان اپنے مستقبل کو سوچ سوچ کر فکر مند ہوتا ہے وہ بھی اپنے حال سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ ان دونوں حالتوں میں مبتلا رہنا کسی بڑی بے وقوفی سے کم نہیں ان دونوں حالتوں میں انسان اپنے حال سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
    حال وہ لمحہ ہے جو کہ زندگی میں سب سے اہم ہے دنیا کبھی بھی کسی انسان کے بارے میں یہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتی کہ اسکا ماضی کیا تھا یا مستقبل کیا ہوگا وہ صرف حال کو دیکھتی ہے
    جیسا کہ ایک ریٹائرڈ افسر لوگ جب اس سے ملیں گے اگر وہ ریٹائر ہونے کے بعد بہت سخت مزاج اور جھگڑالو ہو جائیں تو لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ یہ کتنے بڑے عہدے سے ریٹائرڈ افسر ہیں اور نہ یہ دیکھیں گے کہ مسقبل میں انہوں نے کتنا بڑا بزنس کرنا ہے لوگ صرف اور صرف یہ دیکھیں گے کہ یہ ایک جھگڑالو انسان ہے
    ہمارے ماضی یا مسقبل کی کیفیت کسی بھی انسان کے لیے اہم نہیں ہوتی کوئی بھی شخص یا ادارہ کبھی بھی ہمارے حال کو نظر انداز کرکےمحظ ہمارے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہمیں مدد یا حفاظت فراہم نہیں کرے گا چنانچہ یہ ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے حال پہ قابو پائیں اور لمحہ موجود میں جینا سیکھیں اپنے حال پہ قابو پا کر اور درست منصوبہ بندی کرکے نہ صرف ہم اپنے مستقبل کو بہترین بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی ماضی میں کی گئی کوتاہیوں کا مداوا بھی احسن طریقے سے کر سکتے ہیں
    اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان پہ توجہ دی جائے نہ کہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کو بار بار دہرایا جائے اور ان پہ پشیمان ہوا جائے ہماری زندگی میں مختلف عوامل ہوتے ہیں اور لاتعداد پہلو اسلیے یہ ضروری نہیں کہ اپنی توجہ کو بس ایک ہی پہلو پہ موقوف کرلیا جائے ماضی سے صرف سیکھنے کا کام لیا جائے اس سے زیادہ ماضی کی اہمیت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اصل زندگی تو حال ہی ہے جو ہم آبھی وقت گزار رہےہیں یہ دن گزرنے کے بعد ہمارا ماضی بن جائے گا اور یہ لمحہ موجود ہم جسطرح سے گزاریں گے ویسا ہی ہمارا مستقبل ہوگا
    لمحہ موجود پہ یقین رکھنے والا شخص اپنی امیدوں اور کامیابیوں کو ان بے شمار چیزوں سے منسلک کرتا ہے جو اس کے لیے بہت زیادہ اہم ہوتی ہیں وہ اپنے ہر ایک لمحے کو بھرپور جیتا ہے کیونکہ جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ ہر دن اک نئی زندگی ہے ویسے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر لمحہ ایک نئی زندگی ہے
    اسلیے حال پہ یقین رکھنے والا انسان بہت کم پریشان ہوتا ہے اور لمحہ موجود پہ یقین رکھتے ہوئے کامیابی کی راہیں طے کرتا جاتا ہے
    لمحہ موجود صرف خوشی ہے اور آپ لوگوں نے یہ سن رکھا ہوگا خوشی کی سمت کوئی راستہ نہیں جاتا کیونکہ خوشی خود ایک راستہ ہے
    لمحہ موجود پہ یقین رکھنے والے اور جینے والے اسے محسوس کرتے ہیں
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • لفظوں کی حکومت تحریر : مدثر حسن

    لفظ، الفاظ ہمارے خیالات ،سوچ ضرورت کے اظہار کا ذریعہ ہیں ان کے ذریعے انسان دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اور اپنی ضرورت کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے

    کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کے منہ سے ادا ہوئے لفظ بھی اپنی تائثر رکھتے ہیں اور یہ الفاظ ہی دوسرے انسان کے دل ودماغ پر حکومت کرتے ہیں

    اب آپ سوچیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟
    جب ہم کسی سے اچھے الفاظ میں بات کرتے ہیں یا اس کے لیے اچھے اچھے الفاظ بولتے ہیں تو وہ اس انسان کو خوشی دیتے ہیں اسی طرح جب ہم برے یا کھردرے لفظ سے بات کرتے ہیں تو وہ انسان کو دکھی کر دیتے ہیں
    لفظ انسان کی پہچان کرواتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا پر جہاں ہم ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن ان کی وجہ سے ہم اپنے خاندان کا اپنی تربیت کا بتاتے ہیں
    آج کل کے لوگ بنا سوچے سمجھے کسی کو بھی کچھ کہہ دیتے ہیں یا سوچے بغیر کہ ان کے کہے الفاظ سے کسی کی شخصیت ،کسی کی زندگی ،کسی ک کیریئر ،کسی کا کردار مشکوک ہوسکتا ہے کہنے والا تو کہہ کر چلا جاتا ہے جو ان الفاظ کو اور ان کی وجہ سے بھگتاتا ہے یہ وہ جانتا ہے کہ اس پر کیا گزری ۔۔۔۔

    انسان کے الفاظ اس کی وہ طاقت ہیں جس سے وہ کسی کو بھی زندگی بخش سکتا ہے کوئی کتنا بھی دکھی کیوں نہ ہو آپ اس کو اچھے الفاظ میں تسلی دیں گے تو اس کی آدھی پریشانی وہیں ختم ہو جائے گی
    برے لفظ بہت کھردرے اور نوکدار ہوتے ہیں جو اگلے انسان کے دل و دماغ کی دنیا کو تہہ وبالا کر دیتے ہیں

    اگر آپ مالی طور پر اتنے مظبوط نہیں ہیں تو ذہنی طور پر اتنے مظبوط اور امیر ضرور ہوں کہ کسی کو اپنے بہترین الفاظ سے اس کی تکلیف کم کرسکیں
    آج کے اس دور میں جب سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دکھی کرنے میں مصروف ہیں تو کوشش کریں آپ مسیحا بنیں جواپنے الفاظ سے دوسرے کی تکلیف پر مرہم رکھتاہے
    خوش کلامی زبان کا صدقہ ہے
    خوش کلامی انسان کو صراط مستقیم کی طرف لے جاتی ہے
    خوش کلامی انسان کی طاقت ہے
    خوش کلامی تقاضائے ایمان ہے
    اور بطور مسلمان ہمارا یقین ہونا چاہیے کہ

    "قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں خوش اخلاقی سے بڑھ کر کوئی چیز بھاری نہ ہوگی”

    (حدیث مبارکہ )

    @MudasirWrittes

  • زمانہ نازک ہے تحریر: آفاق حسین خان

    زمانہ نازک ہے” یہ فقرہ غالبا ہر صدی اور دہائی میں اپنے عروج پر رہا ہے- ہم نے اپنے بزرگوں سے اور بڑوں سے ہمیشہ یہی کہتے سنا- ہرعمرمیں ہرانسان یہ فقرہ دہراتا رہا- ہو سکتا ہے ہردورمیں زمانہ نازک رہا ہوں- یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہردورکا ہر انسان فرشتہ ہو اور زمانہ ان کے لئے خراب ہو- اس دنیا میں تقریبا سات ارب لوگ ہیں- سات ارب کی اس دنیاوی آبادی میں تقریبا ہزاروں کی تعداد میں ثقافتی روآیآت پائی جاتی ہیں- چھ ہزارسے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں- اوراگرپاکستان کی بات کی جائے تویہاں تقریبا اکیس کروڑ لوگ رہتے ہیں- سترسے زائد مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں- مختلف علاقے میں مختلف زبانیں اور مختلف روایات پائی جاتی ہی- جیسے ایک گھر میں رہنے والے اورایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچوں کی سوچ عادت ذہنیت اور پیشہ مختلف ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر جگہ کی ثقافت اور روایات مختلف ہیں- ہرانسان دوسرے انسان سے مختلف ہے- ہر انسان کی سوچ , طرز زندگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے- یہاں تک کہ اگرایک گھرمیں رہنے والے سب بہن بھائیوں کے کمرے دیکھنے کا اتفاق ہو توسب کمروں میں آپ کو مختلف ماحول دیکھنے کو ملے گا- ہرانسان خود میں ایک ثقافت ہے لیکن ظاہر ہے بہت سی چیزیں انسان پیدا ہونے کے بعد اپنے بڑوں سے, استاد سے اورارد گرد کے ماحول سے سیکھتا ہے- لیکن ان سب سے بڑھ کر بہت سی صلاحیتیں ایسی ہوتی ہیں جو خدا کی طرف سے انسان کو دی جاتی ہیں جو کہ پیدائشی کہلاتی ہیں مثلا بہت سے لوگ قابل دماغ ہوتے ہیں بہت سے لوگ دلیر ہوتے ہیں, بہت سے لوگ محنتی ہوتے ہیں اور یہ سب صلاحیتیں انسان میں پیدائشی پائی جاتی ہے- ہرانسان کا زمانے کودیکھنے, سوچنے اورسمجھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے- زمانہ نازک کیوں ہے ایسی کون سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ہرعمرکے شخص کی زبان پر اکثریہ جملے سننے کو ملتے ہیں کیا واقعی زمانہ نازک ہے یا یہ محض ایک سنی سنائی بات ہے –
    آج کے جدید دورمیں سوشل میڈیا ہرانسان کی ضرورت بنتا جا رہا ہے اورہر شخص اس پر مصروف دکھائی دیتا ہے- زمانہ روزبروزبدل رہا ہے ہرچھوٹی سے چھوٹی بات بھی جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے- ہرچیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اورایک برا, بلکل اسی طرح جہاں سوشل میڈیا کے بہت سارے فوائد ہیں وہاں چند نقصانات بھی پائے جاتے ہیں- سوشل میڈیا بالاخرکیا چیزہے جواس ہرانسان اپنا قیمتی وقت دینے کو تیارہے- اس میں ایسا کیا ہے جوہرشخص اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کراس پروقت گزارتا ہے- میرے نزدیک سوشل میڈیا کے تین طرزہیں- کچھ لوگ اس کوصرف انٹرٹینمنٹ کے لیےاستعمال کرتے ہیں ایک پرانا محاورہ ہے “نیکی کر دریا میں ڈال” جس کو اگرہم آج کے دورمیں موڈیفائیڈ کریں تو بن جائے گا جو بھی کر سوشل میڈیا پر ڈال- سوشل میڈیا کے دوسرے پہلوکی بات کی جائے جو سب سے بہترین پہلو ہے تو وہ ہے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال جبکہ سوشل میڈیا کا تیسرا روخ دیکھا جائے تواس میں کچھ عناصرایسے ہیں جوسوشل کا منفی استعمال کرتے ہیں جوکہ انتہائی افسوسناک بات ہے –
    چندہ دہائیاں پہلے کسی کے گھرمیں ٹیلی ویژن کا ہونا ایک بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی یہ زیادہ پرانی بات نہیں محض تیس چالیس سال پرانی بات ہے اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس زمانے میں انٹرٹینمنٹ نہیں تھی- بالکل تھی لوگ اپنے فارغ وقت میں پارک وغیرہ یا سینما گھروں کا رخ کرتے تھے- لیکن آج کل کہیں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سب کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سنیما موجود ہے جس کو آپ اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں اورانٹرٹینمنٹ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں- پرانے وقت میں لوگ خود مطالعہ کرنا پسند کرتے تھے جس میں اخبارات, کتابیں اور میگزین شامل ہیں لیکن آج کل بڑی تعداد میں لوگ سنی سنائی بات پرعمل کرلیتے ہیں اورخود سے اس کہانی یا آرٹیکل کو پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے- سوشل میڈیا آج بہت بڑا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے جہاں ہر کوئی آزادی سے اپنے خیالات کا اظہارکرسکتا ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند عناصرایسے ہیں جو غلط انفارمیشن کو پرموٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے چونکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں اسی وجہ سے ایسے غلط مواد کی روک تھام کرنا ایک مشکل عمل بن جاتا ہے- دوسری طرف اگردیکھا جائے توسوشل میڈیا کے ان گنت فوائد بھی ہیں- ہرعام شہری اپنے مسائل یا اپنی رائے کا اظہار باآسانی کرسکتا ہے اورلوگوں تک پہنچا سکتا ہے- بہت سے لوگوں کو سوشل میڈیا پرنیوکسٹمرملتے ہیں جس کی بدولت ان کا کاروباردن دگنی رات چگنی ترقی کرتا- سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک بہترین سہولت ہے جس کے مثبت استعمال سے ہم سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے –

    Twitter: @AfaqHussainKhan

  • بچوں کی تعلیم اور والدین کی زبردستی  تحریر: عتیق الرحمن

    بچوں کی تعلیم اور والدین کی زبردستی تحریر: عتیق الرحمن

    ہمارے معاشرے میں بچے تب تک والدین پر انحصار کرتے ہیں جب تک وہ خود کمانے لائق نہیں ہوجاتے
    یہاں تک کے جوائنٹ فیملی سسٹم میں تو روزگار کمانے کے بعد بھی انکی زندگی کے فیصلے والدین ہی کررہے ہوتے ہیں۔ یہ بات بلکل درست ہے کہ والدین اپنی اولاد کے بارے میں جو سوچیں گے وہ بہترین ہوگا کیونکہ واحد والدین ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ انکی اولاد ان سے بھی زیادہ خوشحال زندگی گزارے اور بہترین مقام حاصل کرے
    لیکن بچوں کی تعلیم کے فیصلے میں والدین اکثر غلطی کرتے ہیں اور اسکا خمیازہ اولاد پھر مستقبل میں بھگتتی رہتی ہے۔ معاشرے کو دیکھ کر یا کسی کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنتا دیکھ کر والدین کی خواہش ہوتی کہ انکا بچہ بھی ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے جو کہ ایک غلط راستہ ہے
    اللّہ نے سب کو دماغ ضرور ایک جیسا دیا ہے مگر اسکو استعمال کرنے کا طریقہ ہر انسان کا مختلف ہے اور بعض و اقات اس کے ذہن بننے میں اس سوسائٹی اور اردگرد کے لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے جہاں وہ رہتا ہے۔ اسکا دماغ ویسے ہی تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے سوچنے کے زاویے سے جیسا وہ دوسروں کو دیکھتا ہے
    اب ایک بچے کی دلچسپی اگر اکاؤنٹنگ میں ہے تو اسے سائنس کے مضامین بہت مشکل لگیں گے۔ اسکی تازہ مثال میرے سامنے ایک روم میٹ ہے اور وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ میں ڈاخلہ بجھوا چکا اور بھرپور تیاری سے پڑھ بھی رہا تھا کہ اچانک اسے گھر سے کال آتی ہے
    وہ فون کے بعد پریشان دکھائی دیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا اس کے گھر والے اب اسے میڈیکل کالج میں داخلے کا کہہ رہے اور ساتھ یہ بھی کہہ رہے کہ جو داخلہ بجھوایا ہے اسے وہیں چھوڑ دو اور میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرو۔ تھوڑا پوچھنے پر معلوم ہوا کے اسکے ماموں کا بیٹا ڈاکٹر ہے تو اس وجہ سے ابھی اسکی والدہ بھی چاہتی کہ وہ بھی ڈاکٹر بنے جو کہ اس لڑکے کا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ اسے یہ فیصلہ منظور نہیں اور وہ کہہ رہا تھا کہ میں نہ اب اس امتحان کی تیاری کرنی ہے جس کا داخلہ بجھوایا اور نہ ہی یہ ٹیسٹ مجھ سے پاس ہونا ہے
    نتیجہ کیا ہوا؟ سال برباد ہجائے گا اور وہ بچہ ذہنی دباؤ کا شکار بھی۔ اگر والدین پہلے اس سے پوچھ لیتے کہ تم کیا بننا چاہتے ہو تو کتنا اچھا ہوتا۔ تعلیم کے معاملے میں بچوں پر اپنا فیصلہ زبردستی مسلط کرنا انتہائی غلط ہے اور مستقبل تباہ ہونے کا خدشہ ہوتا۔ عدم دلچسپی کے باعث فیل ہونے سے بہتر ہے اسے وہ امتحان دینے دیا جائے جو وہ پاس کرلے
    رزق تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی تعلیم رائیگاں نہیں جاتی۔ اس لئے خدارا تعلیم کے معاملے میں پہلے اپنے بچے کی ذہنی حالت کا تعین کرلیں کہ جس تعلیم کی ڈگری حاصل کرنے کا اسے کہا جا رہا ہے وہ اتنا قابل بھی ہے۔ یا پھر کسی فوجی کو بنا ٹریننگ یا بندوق پر محاذ پر لڑنے بھیج دیا جائے تو لڑنے کی بجائے خود بچنے پر زیادہ فوکس کرے گا
    بچے کے تعلیمی مراحل کا انتخاب کرتے وقت اسکے ذوق کو مد نظر رکھیں . اپنی پسند یا کسی پیشے کی مالی منفعت کے باعث اسے زبردستی کے مضامین اختیار کرنے پر مجبور نہ کریں . اپنے ذوق کے مطابق تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان ہمیشہ اپنے فن میں یکتا ثابت ہوتے ہیں ۔ اپنے فن میں یہ مہارت اور دلچسپی نہ صرف انہیں مالی مسائل سے دوچار نہیں ہونے دیتی بلکہ وہ کام کر کے بھی ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں اور یہی ذہنی سکون انسان کا کل سرمایہ ہوتا ہے ۔

    @AtiqPTI_1

  • اردو زبان   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اردو زبان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ایک زبان کسی خاص ملک یا برادری میں انسانی مواصلات کا طریقہ ہے ، جس میں بولی یا تحریری شکل ہوتی ہے ، جس کی ساخت الفاظ استعمال پر مشتمل ہوتی ہے اور روایتی طریقہ انسانی زبان میں پیداواری صلاحیت ، تکرار اور بے گھر ہونے کی خصوصیات ہیں اور یہ مکمل طور پر معاشرتی کنونشن اور سیکھنے پر انحصار کرتی ہے ۔ دنیا میں زبانوں کی تعداد کے اندازوں میں مختلف ہے۔ تاہم ، ایتھنولوج میں 7،106 جاننے والی زبانوں پر معلومات موجود ہیں۔ یہ ایک ایسا جامع حوالہ ہے جو ریاست میں تمام معروف زندہ زبانوں کی فہرست دیتا ہے آج دنیا میں درج بہت سی زبانیں ہیں جو تکنیکی طور پر بولی جاتی ہے نہ کہ الگ زبانیں۔ وہ الگ الگ درج ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں باہمی سمجھے جانے کے لئے کافی ہے ۔ اردو زبان آس پاس کے بہت سارے ممالک میں لوگوں کے ذریعہ بولی جانے والی زبان دنیا بھر میں اور پوری دنیا میں پاکستانی کمیونٹیوں میں وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ، رومن-اردو ٹیکسٹ پروسیسنگ میں پاکستان کے مختلف سوشل نیٹ ورک پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ ہند یوروپیئن کی کچھ دوسری ریاستوں میں انگریزی زبان کی بورڈ استعمال کرکے صارفین کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ بہرحال ، رومن-اردو ٹیکسٹ پروسیسنگ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کوئی معیاری لغت نہیں ہے ، اس کے نتیجے میں اردو میں ایک لفظ کی ہجے مختلف ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی وجہ سے ، نیشنل لینگویج آف پاکستان (NLP) محقق کی برادری کے ذریعہ اردو زبان میں کم سے کم کام کی اطلاع دی جاتی ہے۔ اس مطالعے کا مقصد رومن اردو اور اردو زبان پر جامع جائزہ پیش کرنا ہے ، جو اس علاقے میں مصنفین کے ذریعہ گذشتہ کاموں کا احاطہ کرتا ہے۔ مزید ، ہم اردو زبانوں کی گرائمٹیکل ڈھانچہ ، قبل از پروسیسنگ تکنیک ، سافٹ ویئر ٹولز اور رومن اردو اور اردو زبان میں استعمال ہونے والے ڈیٹا بیس پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ مزید برآں ، پرفارمنس میٹرکس ، الگورتھم تکنیک کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ آخر میں ، اختتام پر ، تحقیقی نتائج اور آئندہ سمتوں کو اجاگر کیا گیا تاکہ اس شعبے میں ناول کے نظریات پیش کیے جاسکیں۔
    این ایل پی کے کاموں میں شکلیاتی تجزیہ ، اسپیچ کے حصے (پی او ایس) ٹیگنگ ، اسٹاپ الفاظ کو ختم کرنا ، تجزیہ کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ انگریزی زبان کے لئے این ایل پی کافی پختہ ہے ، لیکن اردو کے ساتھ ساتھ رومن اردو زبان میں بھی کام کرنے کے سلسلے میں بہت فرق ہے۔ اردو میں کل پندرہ حرف ہیں ، تاہم ، کسی خاص حرف کی وضاحت کرنے کے لئے ، اردو میں مختلف اشخاص کے نشانات مرتب کیے گئے ہیں جو کسی حرف کے اوپر یا نیچے ہیں جو ایک خاص حرف کی وضاحت کرتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر چار ڈایئریکٹک ہیں جو فوٹوونکس کی نمائندگی کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر ، جدول 1 میں حرف ‘بی’ کے اس طرح کے امتزاج کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ، رومان اردو کو دوسری زبانوں میں نقل کرنے کا بھی ترجمہ گوگل ٹرانسلیٹ API کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لہذا ، لغت پر مبنی نقل حرفی کام کرنے کی مزید ضرورت نہیں ہے. پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں کم از کم چھ بڑی زبانیں اور 58 معمولی زبانیں ہیں۔ اردو قومی زبان ہے اور انگریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔ قومی زبان اردو ، کے 11 ملین سے زیادہ مادری زبان بولنے والے ہیں جبکہ جو لوگ اسے دوسری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ 105 ملین سے زیادہ ہوسکتے ہیں ۔ فلولوجسٹ کہتے ہیں کہ آج ملک میں 300 سے زیادہ بولی اور زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اردو کو قوم کی شناختی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور کسی بھی خطے میں جہاں مادری زبانیں موجود ہیں وہاں اس کی مخالفت نہیں کی جاتی ہے ۔ اردو کو شامل کرکے ، شمالی ہندوستان میں ، بولی جانے والی (خاروبولی – پراکرت) زبان سے تشکیل دیا گیا ہے اسے فارسی اور عربی الفاظ بڑے پیمانے پر منعقد کیے جانے والی غلط فہمی کے برخلاف ، یہ مغل فوجوں کے کیمپ میں نہیں تشکیل پایا ۔ لیکن اردو لفظ اسی سے ماخوذ ہے ترکی کا لفظ آرڈو (فوج) جس نے انگریزی کو بھیڑ دی ہے۔ تاہم ، اردو میں ترکی کے قرضے کم سے کم ہیں ، اور جو الفاظ ترکی اور عربی سے اردو نے لیا ہے وہ فارسی کے ذریعے لیا گیا ہے ، اور اسی وجہ سے اصل الفاظ کا فارسی زبان میں ورژن ہے۔ نام اردو کو سب سے پہلے سن 1780 کے آس پاس شاعر غلام حمادانی مشفی نے استعمال کیا ہے۔ اگرچہ انگریزی زیادہ تر اشرافیہ حلقوں میں استعمال کی جاتی ہے ، اور پنجابی زبان بولنے والوں کی کثرت ہے ، صرف 7٪ پاکستانیوں کو ہی اردو کو اپنی مادری زبان سمجھتے ہیں ، لیکن اردو پورے پاکستان میں سمجھی جاتی ہے۔ یہ تعلیم ، ادب ، دفتر اور عدالت کے کاروبار میں مستعمل ہے۔ یہ اپنے آپ میں ملک کے ثقافتی اور معاشرتی ورثے کا ذخیرہ رکھتی ہے ۔ اردو کی ترقی میں ابتدائی لسانی اثرات غالبا سندھ کی مسلم فتح خصوصا محمد بن قاسم کی فتح سے شروع ہوئے تھے۔ 94 ھ / 712 ء میں 11 ویں صدی کے بعد برصغیر پاک و ہند پر حملے کے دوران ، زبان فارسی اور عربی رابطوں سے تیار ہونا شروع ہوگئی۔ دہلی سلطنت (1206-1526) اور مغل سلطنت (1526-1858) کے دوران اردو میں فیصلہ کن ترقی ہوئی۔ جب دہلی سلطنت جنوب میں دکن مرتفع تک پھیل گئی تو ادبی زبان جنوب میں بولی جانے والی زبانوں اور عدالت کے استعمال سے متاثر ہوئی۔ ابتدائی آیت 15 ویں صدی کی ہے اور اردو شاعری کا سنہری دور 18 ویں تھا -19 ویں صدیوں میں اردو مذہبی نثر متعدد صدیوں سے پیچھے ہے ، جبکہ سیکولر تحریر 19 ویں صدی سے اگلی عروج پر ہے۔ 14 ویں اور 15 ویں صدی کے دوران ، اردو میں بہت زیادہ شاعری اور ادب لکھنا شروع ہوئے۔ ابھی حال ہی میں ، اردو بنیادی طور پر برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے ساتھ جڑی ہوی ہے ، لیکن آج بھی اردو ادب کے بہت سے بڑے کام ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد برصغیر کی تاریخ کا ایک قابل ذکر واقعہ تھا۔ اس نے لوگوں کی معاشرتی زندگی کے تقریبا تمام شعبوں کو متاثر کیا۔ فن تعمیر ، مصوری اور خطاطی ، کتاب کی مثال ، موسیقی اور یہاں تک کہ رقص سمیت مسلمانوں کی اپنی ثقافت اور تہذیب میں شاندار شراکت تھی۔ مسلمانوں نے ہمیشہ زندگی کی تاریخ ، سوانح حیات اور سیاسی تاریخ میں دلچسپی لی تھی۔ لہذا ، اس میدان میں بھی ان کا عمدہ شراکت تھا۔ تاہم ، ان کی سب سے نمایاں شراکت اردو زبان کا تحفہ ہے۔ اگرچہ مسلمان تین صلاحیتوں میں برصغیر میں آئے ، بطور تاجر یا کاروباری افراد ، بطور کمانڈر اور سپاہی یا فاتح اور تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے مبلغین کی حیثیت سے ، لیکن اردو کے ارتقاء اور ترقی میں ان کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ جدید اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور دنیا کے بہت سے لاکھوں لوگوں کے ذریعے بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد ، اردو کو نئے ملک کی قومی زبان منتخب کیا گیا۔ پاکستان میں اردو زیادہ تر پہلی زبان کے طور پر سیکھی جاتی ہے اور پاکستان کی زیادہ تر آبادی اردو کے علاوہ اپنی مادری زبانیں بھی رکھتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے کے دوران ، مسلمان برصغیر میں تین صلاحیتوں ، جیسے تاجروں یا کاروباری افراد ، بطور کمانڈر اور سپاہی یا فاتح آئے۔ اردو کی اصل برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور رہائش سے متعلق ہے ، اور وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لاتے تھے۔ یہ صرف فاتحین اور فاتحین کے باہمی رابطے کی وجہ سے وجود میں آئی ، اور عربی ، فارسی اور ترکی کے ساتھ مقامی زبانوں میں یکجا ہونے کی وجہ سے اردو جیسی متضاد زبان ابھری۔ ایک ابتدائی مرحلے میں ، ابتدائی اسلامی مذہبی مبلغین نے اپنی تبلیغ کے کام کو انجام دینے کے لئے مقامی بولیوں کے ساتھ ساتھ معاصر ادبی روایات اور خصوصیات کو بھی اپنایا۔ بہر حال ، تبلیغی فرائض کی انجام دہی کے دوران انہوں نے اردو کی ترقی اور ترقی میں بہت خدمات انجام دیں۔ اسی طرح اردو کے ان ترقی یافتہ اور ترقی میں محب وطن نظموں ، نثروں ، ناولوں اور افسانوں کو لکھ کر شاعری کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے اردو شاعروں کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ مزید یہ کہ اردو گانوں کے مصنفین اور گیت نگاروں نے اس کو ایک بہت ہی بہتر اصلاح پسند ادبی زبان بنا دیا جس کی ہر قسم کے اظہار کے قابل ہے۔ مزید برآں ، اردو لکھاریوں نے مزاحیہ کالم ، مضامین اور مختلف نیوز پیپرز اور رسالوں میں مباحثے بھی لکھے جو آن لائن دستیاب ہیں ، اور لوگوں کو اس زبان کو جاننے کے لئے متحرک کرنے میں بہت مدد فراہم کرتے ہیں۔ ثقافتی مواصلات ، زبان کی منصوبہ بندی اور زبان کی پالیسی ، زبان کی نشوونما ، زبان کے تعلقات ، اور زبانوں کے بارے میں عمومی تجسس کے ساتھ سب کے لئے یہ معلومات ہر ایک کے لئے قیمتی ہوں گی۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • میری باتیں تحریر: سمیرا راجپوت

    میری باتیں تحریر: سمیرا راجپوت

    یہ بات تو سب نے ہی سنی ہوگی کہ جس کے پاس جو ہوگا وہ اپنے معیار کے مطابق اپکو وہی دے گا ۔۔۔یہ بات بلکل درست ہے اور میں اس پر یقین بھی رکھتی ہوں کیونکہ تجربات ہی کچھ ایسے ہیں ۔۔
    ہم زندگی میں ہر کسی چیز کا گلا کر رہے ہوتے ہیں لوگوں کے برے رویوں کا، لوگوں کے دہرے معیار کا، اور ہر قسم کی بد عنوانی کا مگر ہم سوائے خود کے دوسروں کو جج کرنے پر ترجیح دیتے ہیں مگر ایسا کرنا نا تو ہمارے لیے ٹھیک ہے اور نا ہی معاشرے کے لیے جو کام ہم اپنے لیے منتخب کرتے ہیں پھر کسی دوسرے کو اسی کام پر غلط ٹہرایا جانا ایک جہالت ہے اسی طرح بہت سے لوگ دین کے بارے میں دوسرے لوگوں کو تلقین کرتے دیکھائی دیتے ہیں مگر خود کا عمل نا ہونے کے برابر ہوتا ہے اس وجہ سے پھر وہ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں ہمیں دوسروں کی جو باتیں نا پسند ہیں پہلے ہمیں خود کے اندر سے انہیں ختم کرنا ہوگا اسکے بعد ہم معاشرے کو سنوار سکتے ہیں ۔۔۔

    ہمیشہ خوش رہنا سیکھ لیں کیونکہ آپ کے اداس رہنے سے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر لوگوں کے درمیان خوشیاں بانٹنے سے انکے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے سے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔۔

    زندگی کا ایک اصول اپنا لیں کہ کبھی کسی کا برا نا چاہے اور نا ہی برا سوچیں یقین کریں اس پاک پروردگار کی ذات اپکو اس قدر نوازیں گی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے انسانیت کا بھلا چاہنا ایک ایسی نیکی ہے جس کا اجر آپ کو دنیا میں ہی مل جائے گا ۔ بلکل اسی طرح خاموشی بھی انسان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور ایک خاموشی ہی تو ہوتی ہے جسکا کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ورنہ اس جہاں میں تو ہر الفاظ کے سو مطلب نکلتے ہیں خاموش رہنے سے آپ کئی غلطیوں سے بچ سکتے ہیں کیونکہ الفاظوں کا منہ سے نکلنا ایسا ہے جیسے گویا کمان سے تیر کا نکلنا جیسے کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں جاتا ،جیسے گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا اسی طرح منہ سے نکلی ہوئی بات کبھی واپس نہیں جاسکتی اگر کبھی ہمارے منہ سے برے الفاظ ادا ہوئے ہوں تو اسکے سنگین نتائج آپکی زندگی میں مرکب ہوتے رہتے ہیں پھر کئی مشکلات کا سامنہ ہوتا ہے ۔۔

    اچھی کتابی باتیں صرف کتاب تک نا رکھیں اسے عملی طور پر اپنی زندگی میں شامل کر کے دیکھیے زندگی کتنی حسین ،خوش و خرم نظر آئے گی میرا ایک تجربہ ہے اگر انسان درگزر کرنا سیکھ لے وہ بہت بڑا فائٹر بن جاتا ہر طرح کے حالات کا سامنہ کرنے والا بہادر فائٹر

    مخلصی اپنائے مگر ایک حد تک حد سے زیادہ مخلصی بھی آپکی دشمن بن سکتی ہے مخلصی ایک کوالٹی سے ایک کمزروی بننے میں وقت نہیں لگاتی لہذا اپنے آپ کو پہچانیے اور اپنی زندگی اور لوگوں سے محبت کیجے ۔۔

    شکریہ