Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • گل دوپہری آنکھوں کی ٹھنڈک تحریر: طاہرہ

    گل دوپہری آنکھوں کی ٹھنڈک تحریر: طاہرہ

    گرمیوں میں دھوپ کی تپش سے بے حال ہوتے ماحول کو اگر ہریالی کی زرا بھی جھلک نظر آجائے تو دل، دماغ اور آنکھوں میں ٹھنڈک اتر آتی ہے خالق کائنات نے خوبصورت پھولوں کا وجود بھی انسان کے سکون اور صحت کیلئے پیدا کیا ہے.پودوں کا وجود انسانی زندگی پر بہت اچھے اثرات پیدا کرتا ہے.

    پھول نا صرف نظروں کو سکون اور راحت عطا کرتے ہیں بلکہ آپ کے گھروں کو خوبصورتی بھی بخشتے ہیں ایسے میں اگر گرمیوں کے عروج میں وہ پھول لگائے جائیں جو تپش میں ہر طرف ہریالی بکھیر دیں تو کمال ہی ہوجاتا.

    جی ہاں میں بات کررہی ہوں گل دوپہری کی خوبصورت پھولوں سے حامل اس پودے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ انتہا سے زیادہ گرمی میں بھی افزائش پاجاتے گل دوپہری کو دوپہری اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے پھول دوپہر میں کھلتے ہیں جب کہ شام میں بند ہوجاتے ہیں. اگر آپ کسی ایسے پودے کی تلاش میں ہے کہ جو آپ کی جیب پر ہلکے بھی پڑیں اور دوپہر کے وقت آپ کے آنگن کو ٹھنڈک کا احساس بھی بخشیں تو گل دوپہری آپ کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں.

    محض پچاس ساٹھ کی لاگت میں ملنے والا یہ پودا بہت جلدی پھیلتا ہے آپ اسے زمین پر بھی لگاسکتے اور خوبصورت گملوں میں بھی یا پھر خوبصورت بوتلوں میں قید گل دوپہری آپ دیواروں پر بھی لٹکا سکتے کہ جس کی وجہ سے آپ کی دیواریں خوبصورت رنگ برنگی گل دوپہری سے مزین نظر آئیں گی اور گرمیوں کی دوپہر میں ایک فرحت بخش احساس پیدا کریں گی

    گرمیوں میں جتنی تپش ہوگی گل دوپہری کے پھول اتنی ہی تعداد میں کھلیں گے مختلف رنگ گلابی شاکنگ لال سفید پیلے نارنگی اس کی بارہ سے زائد قسمیں آپ کے آنگن میں بہار اتار سکتی ہیں اسکو لگانا انتہائی آسان ہے بس پنیری لگائی اور پھول شروع بس ایک یہ احتیاط لازمی کریں کہ پانی کم دیں یہی وجہ ہے کہ بارش اس کو نقصان پہنچادیتی ہے.

    گھریلو باغبانی کے شوقین افراد کیلئے گل دوپہری ایک نعمت سے کم نہیں ہے

  • میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟ . تحریر : فرزانہ شریف

    میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟ . تحریر : فرزانہ شریف

    میرا تعلق ایک پڑھے لکھے مذہبی گھرانے سے ہے بچپن سے ہی ہمارے گھر میں اخبار آرہا تھا اور جیسے ہی جوڑ توڑ کرکے اوردو پڑھنی آئی اخبار بہت شوق سے پڑھنی شروع کی پھر جب اردو ٹھیک سے پڑھنی اگی تو بچوں کا کوئی رسالہ ایسا نہیں جو میں نے پڑھا نہ ہو عمروعیار سے لیکر ٹارزن تک نونہال سے لیکر ننھی کلیاں تک ہر رسالہ پڑھا پھر تھوڑی بڑی ہوئی 6th میں تو عنبر ناگ ماریا ایک ناول ہوتا تھا قسط وار اور اس کی کئی سو قسطیں میں نے پڑھ لی تھیں پھر ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ سٹڈی کے ساتھ ساتھ میرا فیورٹ مشغلہ بچوں کے ناول پڑھنا تھا پھر عمران سیریز بھی بہت پڑھا میری دونوں باجیاں شعاع خواتین ڈائجسٹ پڑھتی تھیں ان سے چوری چھپے ان کے ڈائجسٹ بھی پڑھنے شروع کردیے تھے سمجھ اتنی نہیں آتی تھی پھر بھی اچھا لگتا تھا پڑھنا ۔ پھر باجیاں دونوں مدرسے چلی گئیں پڑھنے کیلئے یوں ڈائجسٹ پڑھنے کا سلسلہ وقتی طور پرختم ہوگیا اخبار آنا بھی بند ہوگیا کیونکہ گھرمیں میں اور میرے بڑے بھائی تھے بھائی جان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنی پریکٹس کے علاوہ کچھ کرسکیں ۔یوں ہمارے گھر اخبار آنا بند ہوگیا اخبار جہاں بھی آتا تھا وہ بھی بند ہوگیا والد صاحب بیرون ملک تھے ۔لیکن پھر میرا پڑھنے کا سلسلہ رک نہیں سکا تھا سکول کے راستے پر ایک پولٹری فارم تھا وہاں ایک بزرگ نما انکل وہ باقاعدگی سے اخبار لیتے تھے ان سے بولا کہ اخبار کے ساتھ جو بچوں کا ہفتہ وار میگزین آتا ہے وہ مجھے دے دیا کریں وہ انکل اتنے اچھے تھے سکول واپسی پر میرے لیے سنبھالا ہوا وہ میگزین مجھے دے دیتے تھے یوں یہ سلسلہ چلتا رہا پھر میں نے بچوں کے اخبار میں لکھنا شروع کیا بہت پذیرائی ملنے لگی ہر دوسرے ہفتے میری کہانی چھپی ہوتی تھی بھائی جان کو جب پتہ چلا میری کہانیاں بچوں کے میگزین میں چھپنی شروع ہوگی ہیں تو بہت خوش ہوئے آدھے صفحے کی کہانی ہوتی تھی لیکن فیلنگز ایسی ہوتی تھیں جیسے بہت بڑا معرکہ مار لیا ہو بھائی جان نے مشورہ دیا کہ اپنی کہانیاں کاٹ کر ایک رجسٹر پر چسپاں کرتی جاو ۔میں نے ایسا ہی کیا جب خوش ہونا ہوتا تھا وہ رجسٹر نکال کر اپنی لکھی کہانیاں پڑھتی رہتی تھی ۔ایسا معصوم بچپن تھا.

    پھر جب اور بڑی ہوئی اپنی پاکٹ منی سے پیسے بچا کر ڈائجسٹ اور ہسٹری کی بکس لے کر پڑھنی شروع کی امی جی سے چوری چھپے امی جی تعلیمی نصاب کے علاوہ ڈائجسٹ پڑھنے کے سخت خلاف تھیں ان کا خواب تھا کہ ان کی سب اولاد اعلی تعلیم یافتہ ہو۔یوں سٹڈی کے ساتھ چوری چھپے اتنی بکس پڑھیں کہ نام گنوانے شروع کروں تو ختم نہ ہوں پھر پاکستان سے بیرون ملک اگی اپنی فیملی کے ساتھ اور یہاں آکر اتنی بیزی ۔گھر کی الماری بکس سے بھری لیکن پڑھنے کا وقت ہی نہیں اب بس بچپن میں لکھنے والا جنون واپس آچکا ہے یوں آجکل آپ میرے آرٹیکل پڑھ رہے ہیں اور جو میری حوصلہ افزائی کررہے ہیں خاص طور پر باغی ٹی وی جس نے مجھے لکھنے کا موقع دیا میری کزنز میرے بہین بھائی اور آپ سب اللہ سبحانہ وتعالئ ” سب کو صحت و تندرستی عطا فرمائے، اور جو بیمار ہیں انکو شِفا کاملہ نصیب فرمائیں آمین اللھم آمین ‘
    "اللہ تبارک و تعالئ آپ سب کی جائز حاجات اپنی رحمت کے صدقے اپنی آعلئ صفات کے صدقے
    .اپنے "حبیب حضرت محمد مصطفئ صلی اللہ علیہ والہ وسلم” کے طفیل قبول و مقبول فرمائیں آمین اللھم آمین

    @Farzana99587398

  • جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی  تحریر:  محمد آصف شفیق

    جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    آجکل ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی برائیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک جھوٹ بھی ہے آئیں آج ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جھوٹ سے بچنے کے حوالے سے ہمیں کیا فرمایا ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤوں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، اس وقت آپ ﷺتکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے، پھر (سیدھے ہوکر ) بیٹھ گئے اور فرمایا سن لو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپ ﷺاسی طرح (بار بار) فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ آپﷺ خاموش نہ ہوں گے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 936

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا: یا آپﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کا (ناحق) قتل کرنا، والدین کی نافرمانانی کرنا، پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں اور فرمایا کہ جھوٹ بولنا یاجھوٹی گواہی دینا، شعبہ نے کہا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے جھوٹی گواہی فرمایا۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 937
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی ہدایت کرتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدیق ہوجاتا ہے اور جھوٹ بدکاری کی طرف اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کاذبین میں لکھا جاتا ہے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1047
    سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ شخص جس کو تم نے معراج کی رات میں دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جا رہے تھے وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں وہ پھیل جاتی تھیں قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1048

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1049

    مسدد نے بواسطہ بشر اس طرح حدیث بیان کی، کہ آپﷺ تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ سن لو جھوٹ سے بچو اور اس کو بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1227
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، اور جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔ یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1801
    ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو توڑ ڈالے جب وعدہ کرے تو وعدے کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہو جائے سفیان کی حدیث میں یوں ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی علامت ہو گی۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 212
    حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 261
    ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چائیے اور کوشش کرنی چائیے کہ کبھی بھی کسی بھی وجہ سے جھوٹ نہ بولیں
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں جھوٹ سے بچنے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

    جدہ ۔ سعودیہ
    @mmasief

  • جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    آج کا موضوع دو جڑواں بہنوں پہ ہے جو ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہیں جی ہاں! بالکل الٹ بات ہو رہی ہے دیانت اور بد دیانتی کی کہ یہ کیسے ہمارے معاملات زندگی میں اثر انداز ہوتی ہیں
    ذندگی میں ہمارا مخلتف لوگوں کےساتھ واسطہ پڑتا ہے اور ہمیں مختلف قسم کے معاملات کرتے ہوئے زندگی گزارنی پڑتی ہے یہ معاملات یا معاہدات کسی بھی نوعیت کے ہو سکتے ہیں جیسا کہ سیاسی ،سماجی یا معاشی نوعیت کے اور یہ معاملات ہر حالت میں اکثر دونوں طرف کے لوگوں کےلیے آزمائش ہوتے ہیں کیونکہ یہاں جب اپنے نفع کو سامنے رکھا جاتا ہے تو وہیں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ دوسرے انسان کا میری وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو یہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ دوسرے فریق کو ممکنہ فائدہ ہو
    دیانت داری،ایمانداری کبھی بھی شکست نہیں کھائی سکتی اور وہیں جو بندہ خیانت کرتا ہے اسکی خیانت کبھی بھی پروان نہیں چڑھتی
    خیانت سے کمایا ہوا رزق یا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں نقصاندہ ثابت ہوجاتا ہے
    جب ہم اپنی اردگرد چیزوں کا بغور معائنہ کرتے ہیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دیانت کو فرار نہیں اور خیانت کو قرار نہیں
    مثلاً :ایک بندہ خیانت کرتا ہے حرام مال کماتا ہے اپنا معیار زندگی بلند کرتا ہے اپنے بچوں کو اعلی سکول میں پڑھاتا ہے اسکے برعکس ایک انسان رزق حلال کماتا ہے اپنے بچوں کو چھوٹے سکول میں پڑھاتا ہے اور انہیں حسب توفیق کھلاتا ہے تو اکثر دیکھنے کو یہ نتائج ملتے ہیں کہ خیانت کے مال سے معیارِ زندگی بلند کرنے والے کی اولاد بڑے سکولوں میں پڑھنے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتی اور اس غریب مگر دیانت دار اور حلال کمانے ،کھلانے والے کی اولاد پڑھ لکھ اور سنور جاتی ہے
    جو لوگ بددیانتی،دھوکہ دہی اور خیانت سے پیسہ بناتے ہیں انہیں زندگی میں کبھی بھی قرار حاصل نہیں ہوتا انکی زندگی سے سکون چلا جاتا ہے وہ اِدھر اُدھر بھٹکتے ہی رہتے ہیں جبکہ ایک دیانت دار انسان اپنے آپ کو منوا کر رہتا ہے
    جب کوئی انسان خیانت سے مال کماتا ہے یا رشتوں میں خیانت کرتا ہے تو وہ خیانت اسکی ذات پہ بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے بددیانتی،عدم سچائی اور دھوکہ دہی اسکےلیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں جیساکہ سائنسی ضابطہ ہے ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے تو یہ بات ہمارے جسم سے نکلنے والے اور ہم سے سرزد ہونے والے اعمال پر بھی پوری اترتی ہے جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ حشر کے روز سب کو ان کے اعمال کی سزا ملے کی اور جزا بھی لیکن یہ سلسلہ صرف وہیں کے لیے محدود نہیں اس پہ تو عمل دنیا میں ہی شروع ہو جاتا ہے اور انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے برے اعمال کی جو فصل بوئی تھی وہ پک کر کٹنےکو تیار ہو چکی ہے
    بد دیانتی اور دھوکہ دہی سے کام کرنے والا انسان کچھ بھی کر لے خود کو مضر اثرات سے نہ نہیں بچا سکتا کیونکہ کوئی بھی انسان قدرت کے بنائے ہوئے قوانین سے بالاتر نہیں ہوسکتا
    چونکہ دیانت اور بد دیانتی جڑواں بہنیں ضرور ہیں لیکن ہمیشہ ایک دوسرے کے الٹ کام کرتی ہیں اور انکے نتائج بھی ایسے ہی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اسلیے انکی طرف راستے بھی مختلف جاتے ہیں اور انعام بھی اب اوپر لکھی گئی مثال سے آپ لوگوں نے سمجھا ہوگا کہ دیانت کا راستہ بظاہر بہت تکلیف اور جدوجہد والا ہے جبکہ اسکا انعام دائمی خوشی ،آرام اور سکون ہے جبکہ بددیانتی کی طرف جانے والا راستہ بظاہر آسان،خوبصورت اور پر تعیش ہے جبکہ اسکا انجام رسوائی ،پریشانی اور احساسِ جرم ہے اب یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ کونسا راستہ چنتے ہیں اور ان جڑواں بہنوں میں سے کسے پسند کرتے ہیں.
    Twitter: @HusnHere

  • صنعت اور کتابت میں فرق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    صنعت اور کتابت میں فرق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    آج کا موضوع پاکستان میں موجود نظام تعلیم کے ایک مخصوص حصہ سے متعلق ہے. جس پر توجہ وقت کی اشد ضرورت ہے. پاکستان میں ہر شعبہ زندگی کے لیے نصاب تو موجود ہے لیکن اس ہر ریسرچ کے مواقع اور ورکشاپس کی شدید قلت ہے. جس سے آنے والی پڑھی لکھی قوم انڈسٹری میں جاتے ہی اپنا مقام حاصل نہیں کر پاتی. ایک طویل عرصہ اور تجربہ اس زمدہ میں درکار ہوتا ہے. المختصر جو تعلیم حاصل کی جاتی ہے یا جو اعدادوشمار سیکھے جاتے ہیں اس کا حقیقی زندگی میں یا انڈسٹریل زبان میں استعمال موجود ہی نہیں ہوتا. نصاب کے اندر دی گئ ریسرچ پر جب عملی ورکشاپس میں تجربہ کیا جاتا ہے تو وہ حقیقت سے قدرے مختلف دکھائی جاتے ہیں. 16 سے 18 سال بچے تو تعلیم حاصل کرتے گزرتے ہیں لیکن وہ اپنے اصل مقصد میں کامیاب نہیں ہو پاتا. شعبہ انجینئرنگ میں جو تحقیقات اور ان پر جو پریکٹس کروائی جاتی ہے عملی زندگی میں اس میں بہت فرق ہوتا ہے. جس سے نت نئی ایجادات اور نت نئے طریقے متعارف کروانے کی بجائے پچھلی تصحیحات کو سمجھنے میں کئی قیمتی سال ضائع ہو جاتے ہیں. اور جو وقت بچتا ہے اس میں طالب علم اپنی نوکری کو پکا کرنے کے گر سیکھنے اور آزمانے میں وقت گزار دیتا ہے.
    پاکستان میں ریسرچ اور نت نئی ایجادات کے فقدان کی ایک بہت بڑی وجہ نصاب کا انڈسٹریل ضرورت کے مطابق نا ہونا ہے. ریاضی کے انگنت ایسے باب جن کا عملی زندگی میں آج تک سراغ نہ مل سکا.
    انجینئرنگ کے قوانین جو پاور اور ہیٹ سے متعلقہ ہیں عملی زندگی سے بہت مختلف ہیں. الغرض پڑھی گئی چیزوں کو من و عن اگر عمل پیرا کر دیا جائے تو کتابوں کی ریسرچ پر بنی ہوئی عمارت گرنے لگے. پاور سٹیشن کی ٹربائن گھومنے سے انکار کر دے. بوائلر اور اس جیسے تھرمل آلات گرم ہونے کی بجائے ٹھنڈک دیں اور تو اور کولنگ سٹیشن اور ٹھنڈک کے آلات آگ سیکنے کے کام آئیں. حقیقتاً یہ مزاق لگتا ہو گا لیکن حقیقت کچھ ایسی ہی ہے. یہاں کانسٹنٹ اور فیکٹر کے نام پر ایسی ایسی بلاوں سے واسطہ پڑتا ہے جنہیں سمجھنے سالوں لگ جاتے ہیں.
    ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ اس نے زندگی کے 18 میں سے کوئی کم از کم 7 سے 8 سال ضائع کئے ہیں.
    وقت کی ضرورت ہے کہ انڈسٹریل کانسٹنٹ اور فیکٹرز پر ریسرچ کر کہ انہیں نصاب کا حصہ بنایا جائے. تعلیم کے نصاب میں اصطلاحات لائی جائیں. ہر شعبہ ہائے سے متعلق ایک بورڈ تشکیل دیا جائے جو عملی طور پر نصاب میں موجود کمی کو دور کرے اور اسے اپگریڈ کرے. تاکہ پڑھنے والے طلبہ اور طالبات کمرہ جماعت سے ہے حقیقی عمل سے قریب تر ہو کر روشناس ہوں اور صنعت اور تجربہ گاہ کے علم میں موجود اس فرق کو کم سے کم کر کے ریسرچ کی راہ ہموار کی جا سکے.
    پاکستان میں زیادہ سے زیادہ ریسرچ سینٹر قائم ہوں جن کو جدت اور انڈسٹری کے تعاون سے اس قدر فعال کیا جائے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انڈسٹری کی فوری ضرورت کو پورا کیا جا سکے. جب کوئی شعبہ صنعت متعارف کرایا جاتا ہے تو اس سے متعلق نصاب پر ریسرچ شروع تو ہو جاتی ہے. لیکن اس صنعت کے حقیقی علم اور کتابی مفروضات میں فاصلہ بڑھتا جاتا ہے. حتیٰ کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اس صنعت کے لیے خاص فائدہ مند ثابت نہیں رہتا. نصاب تو چھپتے ہیں لیکن ہوتے ہوتے حقیقت سے کہیں مختلف ہو جاتے ہیں. اس فرق کو کم کرنے کی ضرورت ہے. ہر شعبہ سے وابسطہ نصاب کو وقت کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں اور صنعت کے جدید قوانین سے متعارف کرانا بہت ضروری ہے. تاکہ صنعت اور کتابت کے اس فرق کو حتیٰ الامکان ختم کیا جا سکے.

    @EngrMuddsairH

  • اظہار محبت تحریر : شفقت سجاد دشتی

    یقیناً محبت اظہار مانگتی ہے مگر افسوس کہ ہم خالی اقرار کو اظہار سمجھ لیتے ہیں۔

    دراصل دور حاضر میں کوئی ایسی عام یا خاص درس گاہ نہیں جہاں محبت کا سبق کم از کم پڑھایا ہی جاتا ہو۔

    بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فلموں ڈراموں اور قصہ کہانیوں میں جو ہوس دکھائی دے رہی ہے ہم اسی کو محبت مان کر چل رہے ہیں۔ اس وجہ سے شاید معاشرے میں بگاڑ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

    مگر محبت تو بڑا جذبہ ہے۔ یہ بے لوث عقیدت ہے۔
    محبت چاہے والدین سے کی جائے یا اولاد سے، خواہ اساتذہ سے خواہ اپنے روزگار و کاروبار سے، خواہ کسی محبوب یا محبوبہ سے یا پھر حقیقی محبت حق تعالٰی اور اسکے محبوب مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی ذات پاک سے کی جائے۔ اس میں بے لوث ہونا تو فرض ہے۔

    یعنی محب اپنے لیئے کچھ نہ چاہے اور ہر اس حال میں کلمہ شکر پڑھے جس حال میں اسکا محبوب اس سے راضی ہو۔ اور وہ خود محبوب کے لیئے ہر طرح سے خیر بن جائے۔

    بیدم شاہ وارثی فرما گئے
    "یہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے
    جسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے”

    مطلب محب کے لیئے محبوب کے در کی خاک بن جانا ہی بڑی عزت، تسلی اور تشفی کا مقام ہے کہ جب محبوب وہاں سے گزرے تو اپنے قدم مجھ پر رکھ کر گزرے۔

    اب بھائی اس کے بعد تو مجھے نہیں لگتا کہ میں نے جاگتی آنکھوں سے کچھ زیادہ محبت کرنے والے دیکھے ہیں۔ ہاں بہت قلیل بے حد قلیل دیکھے ہیں۔

    افسوس کہ اس جہاں میں بے انتہا اکثریت خود پرست باقی ہیں۔ تو پھر انہیں خدا کیسے سمجھ میں آ سکتا ہے۔

    بابا بلہے شاہ علیہ رحمتہ فرما گئے کہ
    "”جیں دل وچ پیار دی رمز نہیں، بس اوں دل کوں ویران سمجھ،””
    یعنی اندھیرا اور تاریکی ہے ایسے دل میں اور روشنی و نور کی گنجائش ہی نہیں۔

    آگے فرماتے ہیں،
    "”جیں کوں پیار دی جانڑ سنجانڑ نہیں، اوں بندے کوں نادان سمجھ،””
    نادان کا مطلب تو دانائی سے عاری۔ تو واقعی ظلمت اور حکمت ایک ہی بت میں یکجا تو نہیں ہو سکتی ہے۔

    "”ایہو پیار ہے درس ولی یاں دا، اے مسلک پاک نبی یاں دا،””
    اب اس شعر کی اس سے زیادہ آسان تشریح میں کیا کروں؟ بھائی یہ محبتیں بانٹنا اللہ والوں کا کام ہے۔

    "”انمول پیار دی دولت ای یہ، ایں کوں عقبا دا سامان سمجھ،
    ہیں پیار دی خاطر عرش بنڑے، ہیں پیار دی خاطر فرش بنڑے،
    خد پیار خدا وچ وسدا ہے، میں سچ اہداں قران سمجھ،”
    یہاں تو میری عقل کی حد ختم ہی سمجھیں، محبت کو عاقبت کی تیاری بھی کہہ دیا گیا اور اسکو تخلیق جہاں کی وجہ بھی بتا دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ اللہ پاک خود بھی پیار اور محبت کرنے والا رب ہے کہ یہی سبق قرآن بھی دے رہا ہے۔

    "”ناں چاونڑ پیار دا سوکھا اے، ہیں کوں طوڑ نبھاونڑ اوکھا ہے،
    معراج تھیندن ایندے سولیاں تے، کئی چڑھدے نوک سنان سمجھ،””
    ہاں یہ بات بالکل درست ہے کہ محبت کا نام لینا یا دعوی کرنا تو واقعی بہت آسان ہے لیکن نبھانے والے مر مر کے جیتے اور کٹ کٹ کر مرتے ہیں۔

    "”ایہو پیار تاں رب ملوا ڈیندے،
    سُتے لیکھ نظیر جگا ڈیندے،””
    فرماتے ہیں کہ یہی محبت بالآخر رب ذالجلال سے جوڑ دیتی ہے اور خوشبختی و خوش نصیبی کی آمد کا ذریعہ بنتی ہے۔

    "”جیں دل وچ پیار دے دیرے ہن، بس ہوں دل کوں عرفان سمجھ،””
    اچھا اب عرفان تو کہتے ہیں معرفت رکھنے والے کو، یعنی کہ جو اللہ کو پہچاننے والا ہو۔ گویا محبت و سوز رکھنے والا دل یقیناً اللہ کا عارف ہے۔

    اب بھلا ایسے بزرگوں کے عارفانہ کلام سے ہٹ کر کوئی کیا سیکھے یا سکھائے گا عشق و محبت کے اسرار و رموز۔

    اللہ اکبر!

    دعا کریں خدا محبت کرنے والا بنا دے تاکہ مرنے سے پہلے ہم بھی اللہ کو پیارے ہو جائیں۔ آمین

    @balouch_shafqat

  • عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    آج کل ہمارے معاشرے میں آپس کی ناچاقیں و نفرتیں عروج پر ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو معاف کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ ہم جتنی بھی بڑی سے بڑی غلطی کریں چھوٹی لگتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سامنے والا بندہ ہمیں فوری طور پر معاف کرے اگر وہ معاف نہ کرے تو ہم اسے مغرور سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ہم اسے معاف کریں اس کی غلطی ہمیں گناہ کبیرہ لگتی ہے آنا کا مسلہ بنا دیا جاتا ہے۔ جی ہاں گناہ کبیرہ لگتی ہے اب ایسا کیوں؟ کیوں ہمیں اپنی غلطی غلطی نہیں لگتی کیوں ہم اسے آنا کا مسلہ بنا لیتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے؟

    ایسا اس لیے کیوں کہ ہم نے نبی آخروالزماں سرور کونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میرے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر معاف کرنے سے تمہاری عزت میں کمی آئے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا”

    آج کل ہم کہاں کھڑے ہیں ہم تو اسلام سے بہت دور ہو گئے ہیں بلکہ ہم تو اسلام کی مخالف سمت میں سفر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم جتنا بڑا گناہ کر لیں ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دیں لیکن اگر کسی انسان سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے معاف نہیں کریں گے کیوں بھائی اگر اللّٰہ تعالیٰ سے معافی کی امید رکھتے ہیں تو اس کے بندوں کو بھی معاف کرنا سیکھیں تب جا کے اللّٰہ تعالیٰ معاف کریں گے۔ غلطی انسان کی فطرت میں شامل ہے انسان نے غلطی کرنی ہے۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے سگے چچا کے قاتل کو بھی معاف کر دیا تھا۔بھائی غلطی انسان سے ہوتی ہے اپنی غلطی تسلیم کرنے والا بڑا ہے اور معاف کرنے والا اس سے بھی بڑا ہے۔ معاف کرنے سے یا معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا اس لیے دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کریں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کے گناہ معاف فرمائیں آپ کی غلطیاں معاف کریں تو دوسروں کو بھی معاف کرنا سیکھیں دوسروں کی غلطی کو انا کا مسلہ نہ بنایا کریں۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق معاف کرنا سیکھیں اللّٰہ تعالیٰ بھی آپ کو معاف کریں گے۔

    اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو معاف کرنا سیکھیں۔ درگزر کرنا سیکھیں انشاء اللہ زندگی حسین ہو جائے گی اور معاف کرنے سے جو خوشی ملتی ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو معاف کریں تو دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں۔

    @Imtiazahmad_pti

  • موجودہ دور میں پاکستانی ڈراموں کا معیار  تحریر: سید محمد مدنی

    موجودہ دور میں پاکستانی ڈراموں کا معیار تحریر: سید محمد مدنی

    میں ان میں سے ہوں جس نے موجود دور کے ایک یا دو ڈرامے مشکل سے دیکھے ہوں گے اب پاکستانی ڈرامے سبق آموز نہیں بلکہ نوجوان نسل کو بگاڑتا اور انھیں نت نئے فسادات کروانے پر اکساتا ہے آپ نوے کی دہائی میں جائیں یا اس سے بھی پہلے تو آپ کو بہترین ڈرامے دیکھنے کو ملتے تھے اور سبق آموز ہؤا کرتے تھے اب صرف بے باکی ریپ تشدد گلیمر عشق دولت ساس بہو ناچاقی نند بھاوج کی لڑائی دیور بھابی جیسے مقدس رشتے کو غلط رمگ دے کر عشق دکھانا بس اس پر توتوجہ دی جاتی ہے
    کیا وجہ ہے کہ ترکی کا ایک ڈرامہ ارطغرل اتنا مشہور ہؤا ہے پاکستان میں بھی برصغیر پاک و ہند پر ڈرامے بنے ایک بہت پرانا ڈرامہ تعبیر بنا تھا بہت عمدہ تھا مگر اب نوجوان نسل کو اول فول چیزوں کا اتنا دلدادہ بنا دیا گیا ہے کہ وہ کچھ اور پسند ہی نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ تو بورنگ ڈرامہ ہے معین اختر مرحوم کا ایک ڈرامہ روزی آیا جسے بہترین انداز میں بنایا گیا میری ناقص معلومات کے مطابق معین اختر نے عورت کا روپ دھارنے والا ایک ہی ڈرامہ کیا بظاہر انھوں نے ایک عورت کا روپ دھارا لیکن اس ڈرامے میں ایک سبق تھا کہ عورت ہونا اور اس کے لئے زندگی کا مقابلہ کرنا کتنا سخت مرحلہ ہے اورچروزی روٹی کے لیے کتنی مشکلات آتی ہیں مگر آج کل کے دور میں آپ جب تک بے ہودگی نا دکھائیں آپ کا ڈرامہ مکمل ہی نہیں ہوتا اور اب اس بے ہودگی کو فیشن اور ماڈرنیزم کا نام دے دیا گیا ہے آپ شائد مجھ سے ایگری نہ کریں مگر اب کے ڈراموں کا اثر بہت حد تک اور بہت جلدی پڑتا ہے کیا وجہ ہے کہ ہمارے ڈرامے ایک دور میں بھارت میں مقبول تھے اور اب ہم نے ان کی کاپی کرنا شروع کر دی ہے افسوس ہمارا معیار اب وہ نہیں رہا جب تک ہم اپنا کھویا ہؤا معیار واپس نہیں لاتے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے
    آپ اپنے ڈراموں میں اپنی تاریخ کے حوالے سے بتائیں جیسے کے پاکستان جب آزاد ہؤا تو کس کس طرح سے بھارت سے لوگ بھاگے جب پاکستان آزاد ہو رہا تھا تو اس الگ ملک کا خواب دیکھنے والے بھارت سے بھاگ کر پاکستان پہنچنے کی کوشش کرنے لگے لیکن راستے میں جو ان کے ساتھ ظلم ہوتا وہ بیان کرنا بہت مشکل ہے انھوں نے بہت تکلیفیں اٹھائیں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ اپنی ثقافت اپنا کلچر اور اپنی روایات کے مطابق ہی ڈرامے بنانے چاہئیں ورنہ ہم اپنا کھویا ہؤا مقام واپس حاصل نہیں کر سکتے
    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کمی بس بہترین ڈرامے لکھنے کی ہے پہلے جب پاکستانی ڈرامے آیا کرتے تھے تو لوگ اس دن کی تاریخ پر شادی بیاہ کا فنکشن تک نا رکھتے تھے اور جب وارث ڈرامہ آتا تھا تو سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں یہ میں نے اپنے والد والدہ سے سنا اور پھر ٹی وی کے بہترین کردار اور ایکٹرز ایکٹریسز سے بھی ہماری تاریخ واقعات سے بھری پڑی ہے اگر عسکری حوالے سے دیکھا جائے تو کتنے اہم واقعات ہوئے پاکستان آرمی کے حوالے سے بھی بہترین ڈرامے بنے ہیں جیسے سنہرے دن ایلفا براوو چارلی لیکن مزید ڈراموں کی شدت سے ضرورت ہے تحریک پاکستان اور آزادی پھر کارگل کی جنگ، ٦٥ اور ٧١ کی جنگ ان سب سے متعلق اور بھی ڈرامے بننے چاہئیں پرانے دور میں کچھ ڈرامے بنے تو تھے مگر اب ناپید ہوچکے ہیں اسی طرح پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے حوالے سے بھی کچھ ڈرامے بنے مگر اب نظر نہیں آتے ہمیں اپنہ تاریخ دکھانی ہے نا کہ دوسرے ملک کے ڈراموں کو پروموٹ کرنا ہے

    پاکستانی ڈراموں کو بہترین بنائیں تاکہ ہماری نسلیں کچھ سبق حاصل کر سکیں اور اس پر عمل بھی کر سکیں
    بس یہی میں کہنا چاہتا تھا

    @ M1Pak

  • والدین معاشرتی بگاڑ روکیں  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    والدین معاشرتی بگاڑ روکیں تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بچے من کے سچے ہوتے ہیں عقل کے بھولے ہوتے ہیں اور زہن کے کچے بھی ہوتے ہیں. بچوں کے معاملات میں بچپن سے ہی احتیاط ضروری ہوتی ہے. کیونکہ جب کوئی انوکھی چیز بچے کے زہن میں اترتی ہے تو اس کے دو اثرات ہوتے ہیں. ایک اسکے زہں میں اس حرکت واقع یا چیز کے بارے کئی نے سوالات جنم لیتے ہیں تو دوسرا اس تحقیقی عمل کو بچہ ہمیشہ کے لیے اپنے زہن میں محفوظ کر لیتا ہے. اسی وجہ سے بچوں کی پرورش میں بچپن کا دور انتہائی معنی رکھتا ہے.

    فی زمانہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کا زمہ سکول یا کوچنگ سنٹر پر ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں جو کہ قطعاً درست نہیں. دوسرا بچوں کو رواج اور فیشن میں انکی پسند پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے. دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے والدین رواج اور فیشن میں بچے کو اچھائی برائی کی پہچان کے بجائے خود اس کے پہناوے اور صحبت کو نظر انداز کرتے ہیں.
    حدیث شریف میں حضور اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے.
    تو بچے کی قربت رکھنا اور اس کی قربت میں رہنے والوں کی معلومات رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کس سے کس قسم کا اور کس حد تک تعلق اور میل جول ہے.
    فیشن انڈسٹری نے پاکستان میں جس رفتار سے پنجے گاڑے ہیں اور جس بے دردی سے موجودہ جوان نسل اور چھوٹے بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کی تیاری میں مصروف ہے آج کل کے ماں باپ اس پر توجہ دینے کی بجائے الزام تراشی اور معاشرے پر اس کا زمہ ٹھراتے اور خود کی زمہ داری سے نظریں چرا رہے ہیں.
    بچہ جب چھالیہ یا سپاری کھاتا ہے تو ماں باپ یہ کہ کر ٹال دیتے ہیں چلو ابھی بچہ ہی تو ہے. وہی بچہ عمر کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ جب سگریٹ نوشی تک ترقی پاتا ہے تو والدین کہتے ہیں زمانہ خراب ہے. بھئ زمانہ تو تب بھی ایسا ہی تھا جب اس نے چھالیہ کھایا. تب آپ اگر مطمئن تھے تو اب زمانے کو مت کوسئیے. بچے جب سکولوں میں رقص کرتے والدین شوق سے تصویریں کھنچواتے ہیں. یاد رکھیں یہ وہی تربیت کل اس کو جوانی میں بھی نچواے گی. زمانہ تو اب بھی ویسا ہی ہے تب بھی ایسا ہی ہو گا. زمانہ ایسا بنیا کس نے؟ آپ کی غیر زمہ داری نے.
    متوسط طبقہ کے ماں باپ یہ کہکر بچوں کو چست لباس پہنا دیتے کہ آج کل بازار میں ہے ہی یہی کیا کیا جائے. جس بچی کو آپ نے آج سے ہی بنا بازو شرٹ پہنا دی ہے وہ اس کے زہن میں نقش ہو چکی ہے صاحب. کل کو اسے نافرمانی کے طعنے دینے کی بجاے اپنی غلطی پر ندامت کیجئے کیوں کہ یہ سب آپ نے ہی تو سکھایا ہے.

    یاد رکھیں ایک عادت جو بچپن کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بدلتی خصوصی طور پر ہر وہ عادت جسے خود فروغ دیا جائے.
    فحاشی کا لباس بازاروں میں بکتا رہا. دوکاندار کو منافع خوری سے غرض، مل مالکان کو منافع خوری کی ہوس. کپڑے کا معیار گھٹیا سے گھٹیا کر دیا کی جسم کی رنگت دکھائی دیتی ہے. فیشن کے نام پر آدھا بدن ننگا کر دیا گیا. ایسا منافع دنیا میں بھی بیماریوں میں خرچ ہوتاہے اور آخرت میں بھی زوال کا باعث ہو گا. کیونکہ
    اس بارے سخت وعید موجود ہے.
    جو شخص چاہے قوم میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے.

    کل کو یہی نسل جو بچپن سے بے حیائی کا لباس پہنتی آئی ہو گی آج بھی پہنے گی اور اس کی نظر میں اس میں کوئی برائی والی بات نہیں. اس کی مثال حالیہ وزیراعظم عمران خان کے فحاشی کےبیان پر تلملاتے لبرل فسادیوں کی بکواسیات سے لگایا جا سکتا ہے.
    خدارا اپنی نسلوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر برباد ہونے سے بچائیے

    والدین معاشرتی بگاڑ کو روکیں اور اپنی زمہ داری نبھائیں
    1. بچوں کی صحبت پر نظر رکھیں.
    2. کردار پر نظر رکھیں.
    3. لباس پر نظر رکھیں خود سلا لیں لیکن مناسب پہنائیں اور مستقبل کی ندامت اور شرمندگی سے بچیں. تاکہ کل کو آپ کو اپنی اولاد سے لاتعلقی والی بیان بازی نہ کرنی پڑے.
    4. اپنے والدین اپنے بہن بھائیوں کا ادب سکھائیں. ان سے تعلق کیسا ہونا چاہیے سکھائیں.
    بلوغت میں یہ زمہ داری بھائی کے زمہ بھی آتی ہے کہ ماں باپ کی تربیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے.
    بہنوں کو بھی چاہیے کہ بحیثیت بیٹی باپ کی عزت، بحیثیت بہن بھائی کی غیرت بحیثیت بیوی شوہر کے وقار اور بحیثیت ماں بچوں کے مستقبل کی محافظ رہے.
    یاد رکھئیے!
    ایک مرد کا سدھرنا ایک فرد کا سدھرنا اور ایک عورت کا سدھرنا ایک نسل کا سدھرنا ہے کیونکہ عورت اپنی نسل کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے.
    حضور نبی اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل بروز قیامت عورت اپنے ساتھ چار مرد جہنم میں لے کر جاے گی. باپ بھائی شوہر اور بیٹا کہ مجھے اس نے مجھے گناہ سے نہیں روکا.
    فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔  تحریر: طیبہ

    حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔ تحریر: طیبہ

    حسد عربی ذبان کا لفظ ہے
    جسکے معنی ہیں جلن، کینہ پروری ،بدخواہی کے ہیں۔ اگر اس کے مفہوم کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی کی کامیابی اور خدادا صلاحیتوں کو برداشت نا کرنے کا نام ہے۔ اور دل میں یہ خیال آنا کے اس کو ہی یہ سب کچھ کیوں مل رہا ہے کیا مجھ میں ایسی کوئی کمی ہے جیسا کے کسی کی شہرت،دولت ، علم، کامیابی کو دیکھ کر جلنا کہ یہ سب میرے پاس کیوں نہیں ہے۔اصل میں ایمان کی کمزوری ہی انسان کو حسد کی طرف لے کر جاتی ہے دنیاوی چیزوں کی ہوس اور لالچ انسان کو تباہ کر دیتی ہے ۔اللہ تعالی کی دی ہوئی صلاحیتوں سے جلن کرنا بے حد بیوقوفی کی علامت ہے۔ اس طرح کے متعد سوالات جہنم لیتے ہیں جس سے دل میں بدخوی پیدا ہو جاتی ہے اور انسان حسد کرنے لگ جاتا ہے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ۔اج کل معاشرے میں حسد جیسی برائی عام ہو چکی ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا رحجان پیدا ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہتان اور الزام تراشی بھی بڑھ رہی ہے ۔زاتی زندگیوں کو نشانہ بنا یا جاتا ہے کریکٹر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس طرح کے رحجان سے معاشرے میں انتہا کی جہالت پھیل چکی ہے۔ ایک دوسرے سے سبقت لیے جانےمیں یہ بھول چکے ہیں کہ اخلاقی رویہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے ۔اسی لیے اسلام میں بھی اس پہ ذور دیا گیا ہے کہ حسد سے بچیں عقل کو کھا جاتا ہے دوسروں کا نقصان کرتے کرتے اپنا نقصان ہو جاتا ہے۔یہ بھول جاتاہے کہ عزت وذلت اور ترقی و تنزل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ۔
    اللہ تعالیٰ نے بہت صاف اور واضح طورپر ارشاد فرمایاہے
    کہو : اے اللہ! ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔(اٰل عمران
    )3:26)
    اللہ تعالی ہی کی زات ہے جو انسان کو صلاحیتوں سے نوازتی ہے ۔جس کی قدرت کیے بغیر ایک پتا تک نہیں ہل سکتا ہے ۔زوال اور عروج انسان کی زندگیوں سے جڑے ہیں۔ کبھی نعمتیں چھن بھی جاتی ہے اور کبھی انسان کے گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ کچھ مل جاتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے ۔حسد اخلاقی برائیوں کی ایک قسم ہے جس سے انسان کی شخصیت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔حسد کرنا ذہنی پستی کی علا مت ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک بہت مشہور حدیث ہے کہ ایک بار غریب و مفلس مہاجرین کی ایک جماعت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ عرض کی: یارسول اللہ! مال دارو خوش حال لوگ مرتبے میں ہم سے آگے بڑھتے جارہے ہیں۔ وہ لوگ ہماری ہی طرح نمازیں پڑھتے ہیں، ہماری ہی طرح روزے رکھتے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ چوں کہ وہ ارباب ثروت ہیں، اس لیے وہ حج بھی کرلیتے ہیں، عمرہ بھی کرلیتے ہیں اور جب جہادکا وقت آتاہے تو وہ مال و دولت سے بھرپور مدد کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر غریبوں،مفلسوں اور حاجت مندوں کی بھی امداد کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ ہم ان پر سبقت نہیں حاصل کرسکتے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی اْس جماعت کی بات سنی اور ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتادوں، جس سے تم بھی ان سب کے برابر ہوجاؤ، تم اپنے پیچھے رہنے والوں سے بہت آگے بڑھ جاؤ، اور تمھاری برابری اْن لوگوں کے سوا کوئی نہ کرسکے جو وہی عمل کریں، جو میں تمھیں بتانا چاہتاہوں؟ سب نے خوشی خوشی بہ یک زبان کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولؐ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوق وطلب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد 33، 33 مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ اور 34مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (بخاری، مسلم، بیہقی، کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقول بعد السلام، حدیث: 348)
    حسد سے بچنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اخلاقی رویوں کو درست کر نا ہے برداشت پیدا کرنی ہے ۔دوسروں کی کامیابی اور خوشیوں پہ خوش ہونا ہے ان کی خوشی میں شامل ہونا چاہیے۔جس سے انسان کے اندر مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ انسان خود بھی خوش رہتا ہے مایوسی سے بچ سکتا ہے۔اللہ تعالی پہ کامل اور بھروسے سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم محنت اور لگن سے جو چاہتے ہیں حاصل کر سکتے ہیں کوئی انسان بھی کسی سے کم نہیں ہے اللہ تعالی نے سب کو ایک جیسا دماغ دیا ہوا ہے اس کا صحیح اور درست استمال کیا جائے تو ہم تو وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتےہیں ۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    تم سے پچھلی امتوں کی بیماریوں میں سے بغض و حسد کی بیماری تمھارے اندر سرایت کرگئی ہے۔ کیا میں تمھیں کوئی ایسی چیز نہ بتاؤں، جو تمھارے اندر محبت پیداکردے؟ وہ یہ ہے کہ تم باہم سلام کو عام کرو۔

    @JeeTaiba